اربعین: اسماء و صفات الٰہیہ

بڑائی اللہ تعالیٰ کا اوڑھنا اور عظمت اس کی چادر ہے

کَوْنُ الْکِبْرِيَاءِ رِدَائَهُ تَعَالٰی والْعَظَمَةِ إِزَارَهُ

بڑائی اللہ تعالیٰ کا اوڑھنا اور عظمت اُس کی چادر ہے

اَلْقُرْآن

  1. وَسِعَ کُرْسِيُهُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ ج وَلَا يَؤُوْدُهُ حِفْظُهُمَا ج وَهُوَ الْعَلِيُ الْعَظِيْمُo

(البقرة، 2/ 255)

اس کی کرسئ (سلطنت و قدرت) تمام آسمانوں اور زمین کو محیط ہے، اور اس پر ان دونوں (یعنی زمین و آسمان) کی حفاظت ہرگز دشوار نہیں، وہی سب سے بلند رتبہ بڑی عظمت والا ہے۔

  1. عٰلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ الْکَبِيْرُ الْمُتَعَالِo

(الرعد، 13/ 9)

وہ ہر نہاں اور عیاں کو جاننے والا ہے سب سے برتر (اور) اعلیٰ رتبہ والا ہے۔

  1. وَقُلِ الْحَمْدُ ِللهِ الَّذِيْ لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا وَّلَمْ يَکُنْ لَّهُ شَرِيْکٌ فِی الْمُلْکِ وَلَمْ يَکُنْ لَّهُ وَلِیٌّ مِّنَ الذُّلِّ وَکَبِّرْهُ تَکْبِيْرًاo

(بني إسرائيل، 17/ 111)

اور فرمائیے کہ سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے نہ تو (اپنے لیے) کوئی بیٹا بنایا اور نہ ہی (اس کی) سلطنت و فرمانروائی میں کوئی شریک ہے اور نہ کمزوری کے باعث اس کا کوئی مدد گار ہے (اے حبیب!) آپ اسی کو بزرگ تر جان کر اس کی خوب بڑائی (بیان) کرتے رہیے۔

  1. فَالْحُکْمُ ِللهِ الْعَلِیِّ الْکَبِيْرِo

(غافر، 40/ 12)

پس (اب) اللہ ہی کا حکم ہے جو (سب سے) بلند و بالا ہےo

  1. کَذٰلِکَ يُوْحِيْ اِلَيْکَ وَاِلَی الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِکَ لا اللهُ الْعَزِيْزُ الْحَکِيْمُo لَهُ مَا فِيْ السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ ط وَهُوَ الْعَلِيُ الْعَظِيْمُo

(الشوریٰ، 42/ 3-4)

اسی طرح آپ کی طرف اور اُن (رسولوں) کی طرف جو آپ سے پہلے ہوئے ہیں اللہ وحی بھیجتا رہا ہے جو غالب ہے بڑی حکمت والا ہےo جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اسی کا ہے، اور وہ بلند مرتبت، بڑا با عظمت ہے۔

  1. فَلِلّٰهِ الْحَمْدُ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَرَبِّ الْاَرْضِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَo وَلَهُ الْکِبْرِيَآءُ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ص وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَکِيْمُo

(الجاثية، 45/ 36/ - 37)

پس اللہ ہی کے لیے ساری تعریفیں ہیں جو آسمانوں کا رب ہے اور زمین کا مالک ہے، سب جہانوں کا پروردگار (بھی) ہے۔ اور آسمانوں اور زمین میں ساری کبریائی (یعنی بڑائی) اسی کے لیے ہے اور وہی بڑا غالب بڑی حکمت والا ہے۔

  1. هُوَ اللهُ الَّذِيْ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ج اَلْمَلِکُ الْقُدُّوْسُ السَّلٰمُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيْزُ الْجَبَّارُ الْمُتَکَبِّرُ ط سُبْحٰنَ اللهِ عَمَّا يُشْرِکُوْنَo

(الحشر، 59/ 23)

وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، (حقیقی) بادشاہ ہے، ہر عیب سے پاک ہے، ہر نقص سے سالم (اور سلامتی دینے والا) ہے، امن و امان دینے والا (اور معجزات کے ذریعے رسولوں کی تصدیق فرمانے والا) ہے، محافظ و نگہبان ہے، غلبہ و عزّت والا ہے، زبردست عظمت والا ہے، سلطنت و کبریائی والا ہے، اللہ ہر اُس چیز سے پاک ہے جسے وہ اُس کا شریک ٹھہراتے ہیں۔

  1. وَاِنَّهُ لَحَسْرَةٌ عَلَی الْکٰفِرِيْنَo وَاِنَّهُ لَحَقُّ الْيَقِيْنِo فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّکَ الْعَظِيْمِo

(الحاقة، 69/ 50-52)

اور واقعی یہ کافروں کے لیے (موجبِ) حسرت ہے۔ اور بے شک یہ حق الیقین ہے۔ سو(اے حبیبِ مکرّم!) آپ اپنے عظمت والے رب کے نام کی تسبیح کرتے رہیں۔

  1. وَ رَبَّکَ فَکَبِّرْo

(المدثر، 74/ 3)

اور اپنے رب کی بڑائی (اور عظمت) بیان فرمائیں۔

اَلْحَدِيْث

  1. عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ قَيْسٍ رضي الله عنه عَنِ النَّبِيِّ صلی الله علیه وآله وسلم قَالَ: جَنَّتَانِ مِنْ فِضَّةٍ آنِيَتُهُمَا وَمَا فِيْهِمَا، وَجَنَّتَانِ مِنْ ذَهَبٍ آنِيَتُهُمَا وَمَا فِيْهِمَا، وَمَا بَيْنَ الْقَوْمِ وَبَيْنَ اَنْ يَنْظُرُوا إِلٰی رَبِّهِمْ إِلَّا رِدَاءُ الْکِبْرِ عَلٰی وَجْهِهِ فِي جَنَّةِ عَدْنٍ.

مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اخرجه البخاري في الصحيح، کتاب التفسير، باب قوله: {ومن دونهما جنتانo}، 4/ 1848، الرقم/ 4597، وايضًا في کتاب التوحيد، باب قول اللہ تعالی: {وجوه يومئذ ناضرةo إلی ربها ناظرةo}، 6/ 2710، الرقم/ 7006، ومسلم في الصحيح، کتاب الإيمان، باب إثبات رؤية المؤمنين في الآخرة ربهم سبحانه تعالی، 1/ 163، الرقم/ 180، واحمد بن حنبل في المسند، 4/ 411، الرقم/ 19697، وابن ماجه في السنن، المقدمة، باب فيما انکرت الجهمية، 1/ 66، الرقم/ 186۔

حضرت عبد اللہ بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دو جنتیں ہیں کہ ان کے برتن اور ان کی ہر ایک چیز چاندی کی ہے، اور دو جنتیں ہیں کہ ان کے برتن اور جو کچھ ان کے اندر ہے وہ بھی سونے کا ہے۔ جنت عدن میں ان لوگوں کے اور ان کے رب کے دیدار کے درمیان کچھ (حائل) نہ ہوگا، سوائے اس کے چہرہ اقدس پر کبریائی کی چادر کے۔

یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

  1. عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلی الله عليه وآله وسلم : قَالَ اللهُ: اَلْکِبْرِيَاءُ رِدَائِي، وَالْعَظَمَهُ إِزَارِي، فَمَنْ نَازَعَنِي وَاحِدًا مِنْهُمَا قَذَفْتُهُ فِي النَّارِ.

رَوَاهُ اَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَاللَّفْظُ لَهُ وَابْنُ مَاجَه.

اخرجه احمد بن حنبل في المسند، 2/ 376، الرقم/ 8881، وابو داود في السنن، کتاب اللباس، باب ما جاء في الکبر، 4/ 59، الرقم/ 4090، وابن ماجه في السنن، کتاب الزهد، باب البرائة من الکبر والتواضع، 2/ 1397، الرقم/ 4174.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: کبریائی میری چادر ہے عظمت میرا لباس ہے، جو شخص ان میں سے ایک بھی چھیننے کی کوشش کرے گا (یعنی تکبر کرے گا اور نخوت و بڑائی کا اظہار کرے گا) میں اسے دوزخ میں پھینک دوں گا۔

اِسے امام احمد، ابو داود نے مذکورہ الفاظ سے اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔

Copyrights © 2020 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved