اربعین: اسماء و صفات الٰہیہ

اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی کو یاد کرنے کی فضلیت

فَضْلُ إِحْصَاءِ اَسْمَاءِ اللهِ الْحُسْنٰی

اللہ تعالیٰ کے اَسمائے حسنیٰ کو یاد کرنے کی فضیلت

اَلْقُرْآن

  1. وَ ِلله الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰی فَادْعُوْهُ بِهَا وَذَرُوا الَّذِيْنَ يُلْحِدُوْنَ فِيْ اَسْمَآئِهِ ط سَيُجْزَوْنَ مَا کَانُوْا يَعْمَلُوْنَo

(الاعراف، 7/ 180)

اور اللہ ہی کے لیے اچھے اچھے نام ہیں، سو اسے ان ناموں سے پکارا کرو اور ایسے لوگوں کو چھوڑ دو جو اس کے ناموں میں حق سے اِنحراف کرتے ہیں، عنقریب انہیں ان (اَعمالِ بد) کی سزا دی جائے گی جن کا وہ ارتکاب کرتے ہیں۔

  1. قُلِ ادْعُوا اللهَ اَوِ ادْعُوا الرَّحْمٰنَ ط اَدًّامَّا تَدْعُوْا فَلَهُ الْاَسْمَاءُ الْحُسْنٰی.

(الإسراء، 17/ 110)

فرما دیجیے کہ اللہ کو پکارو یا رحمان کو پکارو، جس نام سے بھی پکارتے ہو (سب) اچھے نام اسی کے ہیں۔

  1. اَللهُ لَا اِلٰهَ اِلاَّ هُوَ ط لَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰیo

(طٰه، 20/ 8)

اللہ (اسی کا اسمِ ذات) ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں (گویا تم اسی کا اثبات کرو اور باقی سب جھوٹے معبودوں کی نفی کر دو) اس کے لیے (اور بھی) بہت خوبصورت نام ہیں (جو اس کی حسین و جمیل صفات کا پتہ دیتے ہیں)

  1. هُوَ اللهُ الَّذِيْ لَا اِلٰهَ اِلَّا هُوَج عٰلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ج هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِيْمُo هُوَ اللهُ الَّذِيْ لَا اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ج اَلْمَلِکُ الْقُدُّوْسُ السَّلٰمُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيْزُ الْجَبَّارُ الْمُتَکَبِّرُ ط سُبْحٰنَ اللهِ عَمَّا يُشْرِکُوْنَo هُوَ اللهُ الْخَالِقُ الْبَارِء الْمُصَوِّرُ لَهُ الْاَسْمَاءُ الْحُسْنٰی ط يُسَبِّحُ لَهُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ج وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَکِيْمُo

(الحشر، 59/ 22-24)

وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، پوشیدہ اور ظاہر کو جاننے والا ہے، وہی بے حد رحمت فرمانے والا نہایت مہربان ہے۔ وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، (حقیقی) بادشاہ ہے، ہر عیب سے پاک ہے، ہر نقص سے سالم (اور سلامتی دینے والا) ہے، امن و امان دینے والا (اور معجزات کے ذریعے رسولوں کی تصدیق فرمانے والا) ہے، محافظ و نگہبان ہے، غلبہ و عزّت والا ہے، زبردست عظمت والا ہے، سلطنت و کبریائی والا ہے، اللہ ہر اُس چیز سے پاک ہے جسے وہ اُس کا شریک ٹھہراتے ہیں۔ وہی اللہ ہے جو پیدا فرمانے والا ہے، عدم سے وجود میں لانے والا (یعنی ایجاد فرمانے والا) ہے، صورت عطا فرمانے والا ہے۔ (الغرض) سب اچھے نام اسی کے ہیں، اس کے لیے وہ (سب) چیزیں تسبیح کرتی ہیں جو آسمانوں اور زمین میں ہیں، اور وہ بڑی عزت والا ہے بڑی حکمت والا ہے۔

  1. وَاذْکُرِ اسْمَ رَبِّکَ بُکْرَةً وَّاَصِيْلًاo وَمِنَ الَّيْلِ فَاسْجُدْ لَهُ وَسَبِّحْهُ لَيْلًا طَوِيْلًاo

(الدهر، 76/ 25-26)

اور صبح و شام اپنے رب کے نام کا ذکر کیا کریں۔ اور رات کی کچھ گھڑیاں اس کے حضور سجدہ ریزی کیا کریں اور رات کے (بقیہ) طویل حصہ میں اس کی تسبیح کیا کریں۔

  1. قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَکیّٰo وَذَکَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلّٰیo

(الاعلٰی، 87/ 14-15)

بے شک وہی بامراد ہوا جو (نفس کی آفتوں اور گناہ کی آلودگیوں سے) پاک ہوگیا۔ اور وہ اپنے رب کے نام کا ذکر کرتا رہا اور (کثرت و پابندی سے) نماز پڑھتا رہا۔

  1. وَ ِللهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ فَاَيْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اللهِ ط اِنَّ اللهَ وَاسِعٌ عَلِيْمٌo

(البقرة، 2/ 115)

اور مشرق و مغرب (سب) اللہ ہی کا ہے، پس تم جدھر بھی رخ کرو ادھر ہی اللہ کی توجہ ہے (یعنی ہر سمت ہی اللہ کی ذات جلوہ گر ہے)، بے شک اللہ بڑی وسعت والا سب کچھ جاننے والا ہے۔

  1. بَدِيْعُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط وَاِذَا قَضٰی اَمْرًا فَاِنَّمَا يَقُوْلُ لَهُ کُنْ فَيَکُوْنُo

(البقرة، 2/ 117)

وہی آسمانوں اور زمین کو وجود میں لانے والا ہے، اور جب کسی چیز (کے ایجاد) کا فیصلہ فرما لیتا ہے تو پھر اس کو صرف یہی فرماتا ہے کہ ’تو ہو جا‘ پس وہ ہو جاتی ہے۔

  1. اِنَّ اللهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِيْمٌo

(البقرة، 2/ 143)

بے شک اللہ لوگوں پر بڑی شفقت فرمانے والا مہربان ہے۔

  1. اِلاَّ الَّذِيْنَ تَابُوْا وَاَصْلَحُوْا وَبَيَنُوْا فَاُولٰـئِکَ اَتُوْبُ عَلَيْهِمْ ج وَاَنَا التَّوَّابُ الرَّحِيْمُo

(البقرة، 2/ 160)

مگر جو لوگ توبہ کر لیں اور (اپنی) اصلاح کر لیں اور (حق کو) ظاہر کر دیں تو میں (بھی) انہیں معاف فرما دوں گا، اور میں بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا مہربان ہوں۔

  1. اَللهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَج الْحَيُ الْقَيُوْمُ ج لَا تَاْخُذُهُ سِنَةٌ وَّلَا نَوْمٌ ط لَهُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ ط مَنْ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَهُ اِلَّا بِاِذْنِهِ ط يَعْلَمُ مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ ج وَلَا يُحِيْطُوْنَ بِشَيْئٍ مِّنْ عِلْمِهِ اِلَّا بِمَا شَآءَ ج وَسِعَ کُرْسِيُهُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ ج وَلَا يَؤُوْدُهُ حِفْظُهُمَا ج وَهُوَ الْعَلِيُ الْعَظِيْمُo

(البقرة، 2/ 255)

اللہ، اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے (سارے عالم کو اپنی تدبیر سے) قائم رکھنے والا ہے، نہ اس کو اُونگھ آتی ہے اور نہ نیند، جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے، کون ایسا شخص ہے جو اس کے حضور اس کے اِذن کے بغیر سفارش کر سکے، جو کچھ مخلوقات کے سامنے (ہو رہا ہے یا ہو چکا) ہے اور جو کچھ ان کے بعد (ہونے والا) ہے (وہ) سب جانتا ہے، اور وہ اس کی معلومات میں سے کسی چیز کا بھی احاطہ نہیں کر سکتے مگر جس قدر وہ چاہے، اس کی کرسئ (سلطنت و قدرت) تمام آسمانوں اور زمین کو محیط ہے، اور اس پر ان دونوں (یعنی زمین و آسمان) کی حفاظت ہرگز دشوار نہیں، وہی سب سے بلند رتبہ بڑی عظمت والا ہے۔

  1. قُلِ اللّٰهُمَّ مٰلِکَ الْمُلْکِ تُؤْتِی الْمُلْکَ مَنْ تَشَآءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْکَ مِمَّنْ تَشَآءُ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَآءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَآءُ ط بِيَدِکَ الْخَيْرُ ط اِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَيْئٍ قَدِيْرٌo

(آل عمران، 3/ 26)

(اے حبیب! یوں) عرض کیجیے: اے اللہ! سلطنت کے مالک! تُو جسے چاہے سلطنت عطا فرما دے اور جس سے چاہے سلطنت چھین لے اور تُو جسے چاہے عزت عطا فرما دے اور جسے چاہے ذلّت دے، ساری بھلائی تیرے ہی دستِ قدرت میں ہے، بے شک تُو ہر چیز پر بڑی قدرت والا ہے۔

  1. اَلَّذِيْنَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ اِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوْا لَـکُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ اِيْمَانًا ق وَّقَالُوْا حَسْبُنَا اللهُ وَنِعْمَ الْوَکِيْلُo

(آل عمران، 3/ 173)

(یہ) وہ لوگ (ہیں) جن سے لوگوںنے کہا کہ مخالف لوگ تمہارے مقابلے کے لیے (بڑی کثرت سے) جمع ہو چکے ہیں سو ان سے ڈرو تو (اس بات نے) ان کے ایمان کو اور بڑھا دیا اور وہ کہنے لگے: ہمیں اللہ کافی ہے اور وہ کیا اچھا کارساز ہے۔

  1. وَکَفٰی بِاللهِ حَسِيْبًاo

(النساء، 4/ 6)

اور حساب لینے والا اللہ ہی کافی ہے۔

  1. اِنَّ اللهَ کَانَ عَلٰی کُلِّ شَيْئٍ شَهِيْدًاo

(النساء، 4/ 33)

بے شک اللہ ہر چیز کا مشاہدہ فرمانے والا ہے۔

  1. وَکَانَ اللهُ عَلٰی کُلِّ شَيْئٍ مُّقِيْتًاo

(النساء، 4/ 85)

اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

  1. اِنَّ اللهَ کَانَ عَلٰی کُلِّ شَيْئٍ حَسِيْبًاo

(النساء، 4/ 86)

بے شک اللہ ہر چیز پر حساب لینے والا ہے۔

  1. قُلْ اَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللهِ مَا لَا يَمْلِکُ لَکُمْ ضَرًّا وَّلَا نَفْعًا ط وَاللهُ هُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُo

(المائدة، 5/ 76)

فرما دیجیے:کیا تم اللہ کے سوا اس کی عبادت کرتے ہو جو نہ تمہارے لیے کسی نقصان کا مالک ہے نہ نفع کا، اور اللہ ہی تو خوب سننے والا اور خوب جاننے والا ہے۔

  1. قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلٰی اَنْ يَبْعَثَ عَلَيْکُمْ عَذَابًا مِّنْ فَوْقِکُمْ اَوْ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِکُمْ.

(الانعام، 6/ 65)

فرما دیجیے: وہ اس پر قادر ہے کہ تم پر عذاب بھیجے (خواہ) تمہارے اوپر کی طرف سے یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے۔

  1. اِنَّ رَبَّکَ حَکِيْمٌ عَلِيْمٌo

(الانعام، 6/ 83)

بے شک آپ کا رب بڑی حکمت والا خوب جاننے والا ہےo

  1. لَا تُدْرِکُهُ الْاَبْصَارُز وَهُوَ يُدْرِکُ الْاَبْصَارَج وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُo

(الانعام، 6/ 103)

نگاہیں اس کا احاطہ نہیں کر سکتیں اور وہ سب نگاہوں کا احاطہ کیے ہوئے ہے، اور وہ بڑا باریک بین بڑا باخبرہےo

  1. اَفَغَيْرَ اللهِ اَبْتَغِيْ حَکَمًا وَّهُوَ الَّذِيْ اَنْزَلَ اِلَيْکُمُ الْکِتٰبَ مُفَصَّلاً.

(الانعام، 6/ 114)

(فرما دیجیے:) کیا میں اللہ کے سوا کسی اور کو حاکم (و فیصل) تلاش کروں حالانکہ وہ (اللہ) ہی ہے جس نے تمہاری طرف مفصّل (یعنی واضح لائحہ عمل پر مشتمل) کتاب نازل فرمائی ہے۔

  1. اِنَّ اللهَ قَوِیٌّ شَدِيْدُ الْعِقَابِo

(الانفال، 8/ 52)

بے شک اللہ قوت والا سخت عذاب دینے والا ہے۔

  1. فَذٰلِکُمُ اللهُ رَبُّکُمُ الْحَقُّ ج فَمَا ذَا بَعْدَ الْحَقِّ اِلاَّ الضَّلٰلُ ج فَاَنّٰی تُصْرَفُوْنَo

(يونس، 10/ 32)

پس یہی (عظمت و قدرت والا) اللہ ہی تو تمہارا سچا رب ہے، پس (اس) حق کے بعد سوائے گمراہی کے اور کیا ہوسکتا ہے، سو تم کہاں پھرے جا رہے ہو؟

  1. اِنَّ رَبِّيْ قَرِيْبٌ مُّجِيْبٌo

(هود، 11/ 61)

بے شک میرا رب قریب ہے دعائیں قبول فرمانے والا ہےo

  1. اِنَّ رَبَّکَ هُوَ الْقَوِيُ الْعَزِيْزُo

(هود، 11/ 66)

بے شک آپ کا رب ہی طاقت ور غالب ہے۔

  1. اِنَّهُ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌo

(هود، 11/ 73)

بے شک وہ قابلِ ستائش (ہے) بزرگی والا ہے۔

  1. اِنَّ اللهَ عَزِيْزٌ ذُو انْتِقَامٍo

(إبراهيم، 14/ 47)

سو اللہ کو ہرگز اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی کرنے والا نہ سمجھنا، بے شک اللہ غالب، بدلہ لینے والا ہے۔

  1. وَ اِنَّا لَنَحْنُ نُحْی وَنُمِيْتُ وَنَحْنُ الْوَارِثُوْنَo

(الحجر، 15/ 23)

اور بے شک ہم ہی جلاتے ہیں اور مارتے ہیں اور ہم ہی (سب کے) وارث (و مالک) ہیں۔

  1. اِنَّ رَبَّکَ هُوَ الْخَلّٰقُ الْعَلِيْمُo

(الحجر، 15/ 86)

بے شک آپ کا رب ہی سب کو پیدا فرمانے والا خوب جاننے والا ہے۔

  1. وَکَانَ اللهُ عَلٰی کُلِّ شَيْئٍ مُّقْتَدِرًاo

(الکهف، 18/ 45)

اور اللہ ہر چیز پر کامل قدرت والا ہے۔

  1. فَتَعٰلَی اللهُ الْمَلِکُ الْحَقُّ ط وَلَا تَعْجَلْ بِالْقُرْاٰنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ يُقْضٰی اِلَيْکَ وَحْيُهُ ز وَقُلْ رَّبِّ زِدْنِی عِلْمًاo

(طٰه، 20/ 114)

پس اللہ بلند شان والا ہے وہی بادشاہِ حقیقی ہے، اور آپ قرآن (کے پڑھنے) میں جلدی نہ کیا کریں قبل اس کے کہ اس کی وحی آپ پر پوری اتر جائے، اور آپ (رب کے حضور یہ) عرض کیا کریں کہ اے میرے رب! مجھے علم میں اور بڑھا دے۔

  1. ذٰلِکَ ج وَمَنْ عَاقَبَ بِمِثْلِ مَا عُوْقِبَ بِهِ ثُمَّ بُغِيَ عَلَيْهِ لَيَنْصُرَنَّهُ اللهُ ط اِنَّ اللهَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌo

(الحج، 22/ 60)

(حکم) یہی ہے، اور جس شخص نے اتنا ہی بدلہ لیا جتنی اسے اذیت دی گئی تھی پھر اس شخص پر زیادتی کی جائے تو اللہ ضرور اس کی مدد فرمائے گا۔ بے شک اللہ در گزر فرمانے والا بڑا بخشنے والا ہے۔

  1. وَاَنَّ اللهَ هُوَ الْعَلِيُ الْکَبِيْرُo

(الحج، 22/ 62)

اور یقینًا اللہ ہی بہت بلند بہت بڑا ہے۔

  1. لَهُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ ط وَاِنَّ اللهَ لَهُوَ الْغَنِيُ الْحَمِيْدُo

(الحج، 22/ 64)

اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، اور بے شک اللہ ہی بے نیاز قابلِ ستائش ہے۔

  1. اَللهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ.

(النور، 24/ 35)

اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔

  1. وَکَفٰی بِرَبِّکَ هَادِيًا وَّنَصِيْرًاo

(الفرقان، 25/ 31)

اور آپ کا رب ہدایت کرنے اور مدد فرمانے کے لیے کافی ہے.

  1. وَاللهُ يَعْلَمُ مَا فِيْ قُلُوْبِکُمْ ط وَکَانَ اللهُ عَلِيْمًا حَلِيْمًاo

(الاحزاب، 33/ 51)

اور اللہ جانتا ہے جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے، اور اللہ خوب جاننے والا بڑا حِلم والا ہے.

  1. وَکَانَ اللهُ عَلٰی کُلِّ شَيْئٍ رَّقِيْبًاo

(الاحزاب، 33/ 52)

اور اللہ ہر چیز پر نگہبان ہے.

  1. وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُکِّرَ بِاٰيٰتِ رَبِّهِ ثُمَّ اَعْرَضَ عَنْهَا ط اِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِيْنَ مُنْتَقِمُوْنَo

(السجدة، 32/ 22)

اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوسکتا ہے جسے اس کے رب کی آیتوں کے ذریعے نصیحت کی جائے پھر وہ اُن سے منہ پھیرلے، بے شک ہم مُجرموں سے بدلہ لینے والے ہیں۔

  1. وَرَبُّکَ عَلٰی کُلِّ شَيْئٍ حَفِيْظٌo

(سبا، 34/ 21)

اور آپ کا رب ہر چیزپر نگہبان ہے۔

  1. يٰـاَيُهَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ اِلَی اللهِج وَاللهُ هُوَ الْغَنِيُ الْحَمِيْدُo

(فاطر، 35/ 11)

اے لوگو! تم سب اللہ کے محتاج ہو اور اللہ ہی بے نیاز، سزاوارِ حمد و ثنا ہے۔

  1. اَمْ عِنْدَهُمْ خَزَآئِنُ رَحْمَةِ رَبِّکَ الْعَزِيْزِ الْوَهَابِo

(ص، 38/ 9)

کیا ان کے پاس آپ کے رب کی رحمت کے خزانے ہیں جو غالب ہے بہت عطا فرمانے والا ہے؟o

  1. قُلْ اِنَّمَآ اَنَا مُنْذِرٌ ق وَّمَا مِنْ اِلٰهٍ اِلاَّ اللهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُo رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا الْعَزِيْزُ الْغَفَّارُo

(ص، 38/ 65-66)

فرما دیجیے: میں تو صرف ڈر سنانے والا ہوں، اور اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو یکتا سب پر غالب ہےo آسمانوں اور زمین کا اور جو کائنات اِن دونوں کے درمیان ہے (سب) کا رب ہے بڑی عزت والا، بڑا بخشنے والا ہے۔

  1. لَوْ اَرَادَ اللهُ اَنْ يَتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفٰی مِمَّا يَخْلُقُ مَا يَشَآء سُبْحٰنَهُ ط هُوَ اللهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُo

(الزمر، 39/ 4)

اگر اللہ ارادہ فرماتا کہ (اپنے لیے) اولاد بنائے تو اپنی مخلوق میں سے جِسے چاہتا منتخب فرما لیتا، وہ پاک ہے، وہی اللہ ہے، جو یکتا ہے سب پر غالب ہے۔

  1. وَاللهُ يَقْضِيْ بِالْحَقِّ ط وَالَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهِ لَايَقْضُوْنَ بِشَيْئٍ ط اِنَّ اللهَ هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُo

(المومن، 40/ 20)

اور اللہ حق کے ساتھ فیصلہ فرماتا ہے، اور جن (بتوں) کو یہ لوگ اللہ کے سوا پوجتے ہیں وہ کچھ بھی فیصلہ نہیں کر سکتے، بے شک اللہ ہی سننے والا، دیکھنے والا ہے۔

  1. اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهِ اَوْلِيَآءَ ج فَاللهُ هُوَ الْوَلِيُ وَهُوَ يُحْیِ الْمَوْتٰی ز وَهُوَ عَلٰی کُلِّ شَيْئٍ قَدِيْرٌo

(الشورٰی، 42/ 9)

کیا انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر بتوں کو اولیاء بنا لیا ہے، پس اللہ ہی ولی ہے (اسی کے دوست ہی اولیاء ہیں) اور وہی مُردوں کو زندہ کرتا ہے اور وہی ہر چیز پر بڑا قادر ہے۔

  1. فَاطِرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط جَعَلَ لَکُمْ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ اَزْوَاجًا وَّمِنَ الْاَنْعَامِ اَزْوَاجًا ج يَذْرَوُکُمْ فِيْهِ ط لَيْسَ کَمِثْلِهِ شَيْئٌ ج وَهُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُo

(الشورٰی، 42/ 11)

آسمانوں اور زمین کو عدم سے وجود میں لانے والا ہے، اسی نے تمہارے لیے تمہاری جنسوں سے جوڑے بنائے اور چوپایوں کے بھی جوڑے بنائے اور تمہیں اسی (جوڑوں کی تدبیر) سے پھیلاتا ہے، اُس کے مانند کوئی چیز نہیں ہے اور وہی سننے والا دیکھنے والا ہے۔

  1. اَللهُ لَطِيْفٌم بِعِبَادِهِ يَرْزُقُ مَنْ يَشَاءُ ج وَهُوَ الْقَوِيُ الْعَزِيْزُo

(الشورٰی، 42/ 19)

اللہ اپنے بندوں پر بڑا لطف و کرم فرمانے والا ہے، جسے چاہتا ہے رِزق و عطا سے نوازتا ہے اور وہ بڑی قوت والا بڑی عزّت والا ہے۔

  1. اِنَّ اللهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِيْنُo

(الذاريات، 51/ 58)

بے شک اللہ ہی ہر ایک کا روزی رساں ہے، بڑی قوت والا ہے، زبردست مضبوط ہے۔ (اسے کسی کی مدد و تعاون کی حاجت نہیں)۔

  1. اِنَّا کُنَّا مِنْ قَبْلُ نَدْعُوْهُ ط اِنَّهُ هُوَ الْبَرُّ الرَّحِيْمُo

(الطور، 52/ 28)

بے شک ہم پہلے سے ہی اُسی کی عبادت کیا کرتے تھے، بے شک وہ احسان فرمانے والا بڑا رحم فرمانے والا ہے۔

  1. اِنَّ الْمُتَّقِيْنَ فِيْ جَنّٰتٍ وَّنَهَرٍo فِيْ مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِيْکٍ مُّقْتَدِرٍo

(القمر، 54/ 54-55)

بے شک پرہیزگار جنتوں اور نہروں میں (لطف اندوز) ہوں گےo پاکیزہ مجالس میں (حقیقی) اقتدار کے مالک بادشاہ کی خاص قربت میں (بیٹھے) ہوں گے۔

  1. کُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍo وَّيَبْقٰی وَجْهُ رَبِّکَ ذُو الْجَلٰلِ وَالْاِکْرَامِo

(الرحمٰن، 55/ 26-27)

ہر کوئی جو بھی زمین پر ہے فنا ہو جانے والا ہےo اور آپ کے رب ہی کی ذات باقی رہے گی جو صاحبِ عظمت و جلال اور صاحبِ انعام و اکرام ہےo

  1. تَبٰـرَکَ اسْمُ رَبِّکَ ذِی الْجَلٰلِ وَالْاِکْرَامِo

(الرحمٰن، 55/ 78)

آپ کے رب کا نام بڑی برکت والا ہے، جو صاحبِ عظمت و جلال اور صاحبِ اِنعام و اِکرام ہے۔

  1. فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّکَ الْعَظِيْمِo

(الواقعة، 56/ 74)

سو اپنے ربِّ عظیم کے نام کی تسبیح کیا کریں۔

  1. سَبَّحَ ِللهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ج وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَکِيْمُo لَهُ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ج يُحْی وَيُمِيْتُ ج وَهُوَ عَلٰی کُلِّ شَيْئٍ قَدِيْرٌo هُوَ الْاَوَّلُ وَالْاٰخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ ج وَهُوَ بِکُلِّ شَيْئٍ عَلِيْمٌo

(الحديد، 57/ 1-3)

اللہ ہی کی تسبیح کرتے ہیں جو بھی آسمانوں اور زمین میں ہیں، اور وہی بڑی عزت والا بڑی حکمت والا ہے۔ اسی کے لیے آسمانوں اور زمین کی بادشاہت ہے، وہی جِلاتا اور مارتا ہے، اور وہ ہر چیز پر بڑا قادر ہے۔ وہی (سب سے) اوّل اور (سب سے) آخر ہے اور (اپنی قدرت کے اعتبار سے) ظاہر اور (اپنی ذات کے اعتبار سے) پوشیدہ ہے، اور وہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔

  1. يُسَبِّحُ ِللهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ الْمَلِکِ الْقُدُّوْسِ الْعَزِيْزِ الْحَکِيْمِo

(الجمعة، 62/ 1)

(ہر چیز) جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اللہ کی تسبیح کرتی ہے۔ (جو حقیقی) بادشاہ ہے، (ہر نقص و عیب سے) پاک ہے، عزت و غلبہ والا ہے بڑی حکمت والا ہے۔

  1. اِنْ تُقْرِضُوا اللهَ قَرْضًا حَسَنًا يُضٰعِفْهُ لَکُمْ وَيَغْفِرْلَکُمْ ط وَاللهُ شَکُوْرٌ حَلِيْمٌo

(التغابن، 64/ 17)

اگر تم اللہ کو (اخلاص اور نیک نیتی سے) اچھا قرض دوگے تو وہ اسے تمہارے لیے کئی گنا بڑھا دے گا اور تمہیں بخش دے گا، اور اللہ بڑا قدر شناس ہے بُردبار ہے۔

  1. اَ لَا يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ ط وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُo

(الملک، 67/ 14)

بھلا وہ نہیں جانتا جس نے پیدا کیا ہے؟ حالاں کہ وہ بڑا باریک بین (ہر چیز سے) خبردار ہے۔

  1. وَاذْکُرِ اسْمَ رَبِّکَ وَتَبَتَّلْ اِلَيْهِ تَبْتِيْلًاo رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَآ اِلٰهَ اِلاَّ هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَکِيْلاًo

(المزمل، 73/ 8-9)

اور آپ اپنے رب کے نام کا ذِکر کرتے رہیں اور (اپنے قلب و باطن میں) ہر ایک سے ٹوٹ کر اُسی کے ہو رہیںo وہ مشرق و مغرب کا مالک ہے، اُس کے سواکوئی معبود نہیں، سو اُسی کو(اپنا) کارساز بنالیں۔

  1. يٰـاَيُهَا الْاِنْسَانُ مَا غَرَّکَ بِرَبِّکَ الْکَرِيْمِo

(الانفطار، 82/ 6)

اے انسان! تجھے کس چیز نے اپنے ربِ کریم کے بارے میں دھوکے میں ڈال دیا۔

  1. وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الْوَدُوْدُo

(البروج، 85/ 14)

اور وہ بڑا بخشنے والا بہت محبت فرمانے والا ہے۔

  1. سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلَیo الَّذِيْ خَلَقَ فَسَوّٰیo وَالَّذِيْ قَدَّرَ فَهَدٰیo وَالَّذِيْ اَخْرَجَ الْمَرْعٰیo فَجَعَلَهُ غُثَآءً اَحْوٰیo

(الاعلٰی، 87/ 1-5)

اپنے رب کے نام کی تسبیح کریں جو سب سے بلند ہے۔ جس نے (کائنات کی ہر چیز کو) پیدا کیا پھر اسے (جملہ تقاضوں کی تکمیل کے ساتھ) درست توازن دیا۔ اور جس نے (ہر ہر چیز کے لیے) قانون مقرر کیا پھر (اسے اپنے اپنے نظام کے مطابق رہنے اور چلنے کا) راستہ بتایا۔ اور جس نے (زمین سے) چارہ نکالا۔ پھر اسے سیاہی مائل خشک کردیا۔

  1. اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِيْ خَلَقَo خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍo اِقْرَاْ وَرَبُّکَ الْاَکْرَمُo

(العلق، 96/ 1-5)

(اے حبیب!) اپنے رب کے نام سے (آغاز کرتے ہوئے) پڑھیے جس نے (ہر چیز کو) پیدا فرمایا۔ اس نے انسان کو (رحمِ مادر میں) جونک کی طرح معلق وجود سے پیدا کیا۔ پڑھیے اور آپ کا رب بڑا ہی کریم ہے۔

  1. قُلْ هُوَ اللهُ اَحَدٌo اَللهُ الصَّمَدُo

(الإخلاص، 112/ 1-2)

(اے نبی مکرّم!) آپ فرما دیجیے: وہ اللہ ہے جو یکتا ہے۔ اللہ سب سے بے نیاز، سب کی پناہ اور سب پر فائق ہے۔

اَلْحَدِيْث

  1. عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ: إِنَّ ِللهِ تِسْعَةً وَتِسْعِيْنَ اسْمًا: مِائَةً إِلَّا وَاحِدًا، مَنْ اَحْصَاهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ {اَحْصَيْنَاهُ} حَفِظْنَاهُ.

مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ

أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب التوحيد، باب إن ﷲ مائة اسم إلا واحدا، 6/ 2691، الرقم/ 6957، وايضًا في کتاب الشروط، باب ما يجوز من الاشتراط والثنيا في الإقرار والشروط، 2/ 981، الرقم/ 2585، ومسلم في الصحيح، کتاب الذکر والدعاء والتوبة والاستغفار، باب في اسماء اللہ تعالٰی وفضل من احصاها، 4/ 2063، الرقم/ 2677، والترمذي في السنن، کتاب الدعوات، باب ما جاء في عقد التسبيح باليد، 5/ 532، الرقم/ 3508، وابن ماجه في السنن، کتاب الدعاء، باب اسماء اللہ، 2/ 1269، الرقم/ 3860.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ننانوے (99) اسماء مبارکہ ہیں یعنی سو سے ایک کم۔ جس نے ان سب کو یاد رکھا وہ جنت میں داخل ہوا۔ راوی کہتے ہیں (قرآن مجید میں) اَحْصَيْنَاهُ (سے مراد ہے )ہم نے اُسے محفوظ کر لیا۔

یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهُ رضي الله عنه، قَالَ: ِللهِ تِسْعَةٌ وَتِسْعُوْنَ اسْمًا، مِائَةٌ إِلَّا وَاحِدًا، لَا يَحْفَظُهَا اَحَدٌ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ وَهُوَ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ.

مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اخرجه البخاري في الصحيح، کتاب الدعوات، باب ﷲ مائة اسم غير واحدة، 5/ 2354، الرقم/ 6047، ومسلم في الصحيح، کتاب الذکر والدعاء والتوبة والاستغفار، باب في اسماء اللہ تعالٰی وفضل من احصاها، 4/ 2062، الرقم/ 2677، واحمد بن حنبل في المسند، 2/ 258، الرقم/ 7493، وابو يعلی في المسند، 11/ 160، الرقم/ 6277۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے: اللہ تعالیٰ کے ننانوے اسماء مبارکہ ہیں، یعنی سو سے ایک کم۔ جس نے اُنہیں یاد رکھا وہ جنت میں داخل ہو گا۔ (یہ اسمائے مبارکہ جفت کی بجائے طاق اس لیے ہیں کہ) اللہ تعالیٰ وتر (یکتا) ہے اور وتر (یکتائی) کو پسند فرماتا ہے۔

یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

وَفِي رِوَايَةِ زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ اَبَائِهِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلی الله عليه وآله وسلم : ِللهِ تِسْعَةٌ وَتِسْعُوْنَ اسْمًا مَنْ اَحْصَاهَا وَاَخْلَصَ بِهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ.

رَوَاهُ اَبُوْ نُعَيْمٍ.

اخرجه ابو نعيم في جزء فيه طرق حديث إن ﷲ تسعة وتسعين اسما/ 170، الرقم/ 92.

حضرت زید بن علی اپنے آباء سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں، جس نے اِنہیں یاد کیا اور ان اسماء کے ذریعے اللہ سے خالص محبت کی وہ جنت میں داخل ہوگا۔

اِسے امام ابو نعیم نے روایت کیا ہے۔

  1. عَنْ عَبْدِ اللهِ رضي الله عنه قَالَ: کُنَّا نُصَلِّي خَلْفَ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم فَنَقُوْلُ: اَلسَّلَامُ عَلَی اللهِ. فَقَالَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم : إِنَّ اللهَ هُوَ السَّلَامُ وَلٰـکِنْ قُوْلُوْا: اَلتَّحِيَاتُ ِللهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْکَ اَيُهَا النَّبِيُّ، وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَکَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِيْنَ اَشْهَدُ اَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَاَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُوْلُهُ.

مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

2: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب التوحيد، باب قول اللہ تعالٰی: السلام المومن، 6/ 2688، الرقم/ 6946، وايضًا في کتاب الدعوات، باب الدعاء في الصلاة، 5/ 2331، الرقم/ 5969، ومسلم في الصحيح، کتاب الصلاة، باب التشهد في الصلاة، 1/ 301، الرقم/ 402، واحمد بن حنبل في المسند، 1/ 464، الرقم/ 4422، والنسائي في السنن، کتاب التطبيق، باب کيف التشهد الاول، 2/ 240، الرقم/ 1168، والطبراني في المعجم الکبير، 10/ 41، الرقم/ 9890، والدار قطني في السنن، 1/ 350، الرقم/ 4.

حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ (آغازِ اسلام میں) ہم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتدا میں نماز پڑھتے تو کہا کرتے: اللہ تعالیٰ پر سلام ہو۔ اس پر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ خود سلام ہے، بلکہ تم یوں کہا کرو: (ہماری) تمام زبانی اور بدنی و مالی عبادتیں اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہیں۔ اے نبی! آپ پر سلام ہو اور اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اُس کی برکتیں ہوں۔ سلام ہو ہم پر اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں پر۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) اُس کے بندے اور رسول ہیں۔

یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

وَفِي رِوَايَةِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ رضي الله عنه قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صلی الله عليه وآله وسلم يَقُولُ: قَالَ اللهُ: اَنَا الرَّحْمٰنُ، وَهِيَ الرَّحِمُ، شَقَقْتُ لَهَا اسْمًا مِنِ اسْمِي، مَنْ وَصَلَهَا وَصَلْتُهُ وَمَنْ قَطَعَهَا بَتَتُّهُ.

رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَاَحْمَدُ وَاَبُو دَاوُدَ وَاللَّفْظُ لَهُ وَالتِّرْمِذِيُّ.

اخرجه البخاري في الصحيح عن ام المومنين عائشة، کتاب الادب، باب من وصل وصله اللہ، 5/ 2232، الرقم/ 5643، واحمد في المسند، 1/ 194، الرقم/ 1680، وابو داود في السنن، کتاب الزکاة، باب في صلة الرحم، 2/ 133، الرقم/ 1694، والترمذي في السنن، کتاب البر والصلة، باب ما جاء في قطيعة الرحم، 4/ 315، الرقم/ 1907.

ایک روایت میں حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میرا نام رحمن ہے اور یہ رَحِم (سے مشتق) ہے، میں نے اِس کا نام اپنے نام سے مشتق کیا ہے۔ پس جو اسے (یعنی شکمِ مادر اور رحم کے رشتوں کو) جوڑے گا، میں اسے جوڑوں گا؛ اور جو اسے توڑے گا، میں اسے توڑ دوں گا۔

اِسے امام بخاری نے، احمد نے مذکورہ الفاظ کے ساتھ اور ابو داود و ترمذی نے روایت کیا ہے۔

  1. عَنْ اَبِي سَعِيْدٍ رضي الله عنه اَنَّ جِبْرِيْلَ اَتَی النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، اشْتَکَيْتَ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، قَالَ: بِاسْمِ اللهِ اَرْقِيْکَ مِنْ کُلِّ شَيْئٍ يُوْذِيکَ، مِنْ شَرِّ کُلِّ نَفْسٍ اَوْ عَيْنِ حَاسِدٍ. اللهُ يَشْفِيْکَ. بِاسْمِ اللهِ اَرْقِيْکَ.

رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَاَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَه.

اخرجه مسلم في الصحيح، کتاب السلام، باب الطب والمرضی والرقی، 4/ 1718، الرقم/ 2186، واحمد بن حنبل في المسند، 3/ 28، الرقم/ 11241، والترمذي في السنن، کتاب الجنائز، باب ما جاء في التعوذ للمريض، 3/ 303، الرقم/ 972، والنسائي في السنن الکبری، 4/ 393، الرقم/ 7660، وابن ماجه في السنن، کتاب الطب، باب ما عوذ به النبي وما عوذ به، 2/ 1164، الرقم/ 3523.

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہو کر عرض کیا: اے محمد! کیا آپ علیل ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں! جبرائیل علیہ السلام نے (بغرضِ دم یہ کلمات) کہے: {بِاسْمِ اللهِ اَرْقِيْکَ مِنْ کُلِّ شَيْئٍ يُوْذِيکَ، مِنْ شَرِّ کُلِّ نَفْسٍ اَوْ عَيْنِ حَاسِدٍ. اللهُ يَشْفِيْکَ. بِاسْمِ اللهِ اَرْقِيْکَ.} ’اللہ کے نام کے ساتھ میں آپ کو ہر تکلیف پہنچانے والی چیز اور ہر نفس اور حاسد کی آنکھ کے شر سے (حفاظت کے لیے) دم کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو شفا عطا فرمائے۔ میں آپ کو اللہ کے نام کے ساتھ دم کرتا ہوں‘۔

اِسے امام مسلم، احمد، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔

  1. عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی الله عليه وآله وسلم : إِنَّ لِلّٰهِ تَعَالٰی تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا، مِائَةً غَيْرَ وَاحِدٍ، مَنْ اَحْصَاهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ. هُوَ اللهُ الَّذِي لَا إِلٰهَ إِلَّا هُوَ، الرَّحْمٰنُ، الرَّحِيمُ، الْمَلِکُ، الْقُدُّوسُ، السَّلَامُ، الْمُوْمِنُ، الْمُهَيْمِنُ، الْعَزِيزُ، الْجَبَّارُ، الْمُتَکَبِّرُ، الْخَالِقُ، الْبَارِیُ، الْمُصَوِّرُ، الْغَفَّارُ، الْقَهَارُ، الْوَهَابُ، الرَّزَّاقُ، الْفَتَّاحُ، الْعَلِيمُ، الْقَابِضُ، الْبَاسِطُ، الْخَافِضُ، الرَّافِعُ، الْمُعِزُّ، الْمُذِلُّ، السَّمِيعُ، الْبَصِيرُ، الْحَکَمُ، الْعَدْلُ، اللَّطِيفُ، الْخَبِيرُ، الْحَلِيمُ، الْعَظِيمُ، الْغَفُورُ، الشَّکُورُ، الْعَلِيُّ، الْکَبِيرُ، الْحَفِيظُ، الْمُقِيتُ، الْحَسِيبُ، الْجَلِيلُ، الْکَرِيمُ، الرَّقِيبُ، الْمُجِيبُ، الْوَاسِعُ، الْحَکِيمُ، الْوَدُودُ، الْمَجِيدُ، الْبَاعِثُ، الشَّهِيدُ، الْحَقُّ، الْوَکِيلُ، الْقَوِيُّ، الْمَتِينُ، الْوَلِيُّ، الْحَمِيدُ، الْمُحْصِي، الْمُبْدِیُ، الْمُعِيدُ، الْمُحْيِي، الْمُمِيتُ، الْحَيُّ، الْقَيُومُ، الْوَاجِدُ، الْمَاجِدُ، الْوَاحِدُ، الصَّمَدُ، الْقَادِرُ، الْمُقْتَدِرُ، الْمُقَدِّمُ، الْمُوَخِّرُ، الاَوَّلُ، الآخِرُ، الظَّاهِرُ، الْبَاطِنُ، الْوَالِي، الْمُتَعَالِي، الْبَرُّ، التَّوَّابُ، الْمُنْتَقِمُ، الْعَفُوُّ، الرَّئُ وفُ، مَالِکُ الْمُلْکِ، ذُو الْجَلَالِ وَالإِکْرَامِ، الْمُقْسِطُ، الْجَامِعُ، الْغَنِيُّ، الْمُغْنِي، الْمَانِعُ، الضَّارُّ، النَّافِعُ، النُّورُ، الْهَادِي، الْبَدِيعُ، الْبَاقِي، الْوَارِثُ، الرَّشِيدُ، الصَّبُورُ.

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ حِبَّانَ وَالْبَيْهَقِيُّ.

اخرجه الترمذي في السنن، کتاب الدعوات، 5/ 530، الرقم/ 3507، وابن حبان في الصحيح، 3/ 88، الرقم/ 808، والبيهقي في شعب الإيمان، 1/ 114-115، الرقم/ 102، وايضا في الاعتقاد والهداية إلي سبيل الرشاد/ 50.

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ننانوے اَسماء ہیں، جو انہیں یاد کرے گا جنت میں داخل ہوگا۔ وہ اَسماء یہ ہیں: بے شک وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہ الرَّحْمٰنُ (نہایت مہربان)، الرَّحِيْمُ (ہمیشہ رحم فرمانے والا)، الْمَلِکُ (بادشاہ)، القُدُّوْسُ (جملہ نقائص و عیوب سے پاک)، السَّلَامُ (سلامتی دینے والا)، الْمُؤْمِنُ (امان بخشنے والا)، الْمُهَيْمِنُ (نگہبانی اور حفاظت فرمانے والا)، الْعَزِيْزُ (عزت، بزرگی اور غلبہ والا)، الْجَبَّارُ (بہت زبردست، عظمت والا)، الْمُتَکَبِّرُ (سب سے اعلیٰ و اَرفع، بڑائی والا)، الْخَالِقُ (پیدا کرنے والا)، الْبَارِئُ (عدم سے وجود میں لانے والا)، الْمُصَوِّرُ (شکل و صورت اور امتیازی شان عطا کرنے والا)، الْغَفَّارُ (بہت بخشنے والا)، الْقَهَّارُ (سب پر غالب)، الْوَهَّابُ (بہت عطا فرمانے والا)، الرَّزَّاقُ (رزق دینے والا)، الْفَتَّاحُ (بڑا مشکل کشا، بند راستے کھولنے والا)، الْعَلِيْمُ (بہت جاننے والا)، الْقَابِضُ (روزی تنگ کرنے والا)، الْبَاسِطُ (روزی میں فراخی دینے والا)، الْخَافِضُ (منکرین و متکبرین کو پست کرنے والا)، الرَّافِعُ (بلند کرنے والا)، الْمُعِزُّ (عزت دینے والا)، الْمُذِلُّ (ذلت دینے والا)، السَّمِيْعُ (بہت زیادہ سننے والا)، الْبَصِيْرُ (سب کچھ دیکھنے والا)، الْحَکَمُ (فیصلہ فرمانے والا)، الْعَدْلُ (خوب انصاف کرنے والا)، اللَّطِيْفُ (بہت لطف و کرم فرمانے والا)، الْخَبِيْرُ (ہر چیز کی خبر رکھنے والا)، الْحَلِيْمُ (بردبار اور حلم والا)، الْعَظِيْمُ (عظمت و بزرگی کا مالک)، الْغَفُوْرُ (بے انتہا بخشش و مغفرت فرمانے والا)، الشَّکُوْرُ (شکر کا بدلہ دینے والا، قدر دان)، الْعَلِيُّ (سب سے بلند و برتر)، الْکَبِيْرُ (بہت بڑا)، الْحَفِيْظُ (محافظ و نگہبان)، الْمُقِيْتُ (قوت دینے والا اور روزی عطا کرنے والا)، الْحَسِيْبُ (جمیع امور میں کفایت کرنے والا، ہر چیز کا حساب رکھنے والا)، الْجَلِيلُ (بلند مرتبہ اور بزرگی والا)، الْکَرِيْمُ (بہت کرم کرنے والا)، الرَّقِيْبُ (بڑا نگہبان)، الْمُجِيْبُ (ہر ایک کی دعا کو قبول کرنے والا)، الْوَاسِعُ (وسعت و فراخی عطا کرنے والا)، الْحَکِيْمُ (حکمت و تدبر والا)، الْوَدُوْدُ (بہت محبت کرنے والا)، الْمَجِيْدُ (عالی مرتبت اور بزرگی والا)، الْبَاعِثُ (موت کے بعد زندگی عطا کرنے والا)، الشَّهِيْدُ (حاضر و موجود، اور مشاہدہ فرمانے والا)، الْحَقُّ (سچا، سچائی اور حق کا مالک)، الْوَکِيْلُ (جملہ اُمور میں کارساز)، الْقَوِيُّ (بہت طاقت ور)، الْمَتِيْنُ (بہت مضبوط اور شدید قوت والا)، الْوَلِيُّ (دوست اور حمایت فرمانے والا)، الْحَمِيْدُ (لائقِ تعریف، اچھی خوبیوں والا)، الْمُحْصِي (کائنات کی ہر شے کو شمار میں رکھنے والا)، المُبْدِئُ (آفرینش کی ابتداء کرنے والا)، الْمُعِيْدُ (دوبارہ پیدا کرنے والا)، الْمُحْيِي (زندگی عطا کرنے والا)، الْمُمِيْتُ (موت دینے والا)، الْحَيُّ (ہمیشہ زندہ رہنے والا)، الْقَيُوْمُ (سب کو اپنی تدبیر سے قائم رکھنے والا)، الْوَاجِدُ (وجود عطا فرمانے والا)، الْمَاجِدُ (عظمت اور بزرگی والا)، الْوَاحِدُ (یکتا)، الصَّمَدُ (بے نیاز، سب کا مرکز نیاز)، الْقَادِرُ (قدرت و طاقت والا)، الْمقْتَدِرُ (قدرتِ کاملہ کا مالک)، الْمُقَدِّمُ (آگے کرنے والا/ بڑھانے والا)، الْمُؤَخِّرُ (پیچھے رکھنے والا)، الْاَوَّلُ (سب مخلوقات اور موجودات سے پہلے)، الآخِرُ (سب موجودات کے فنا ہونے کے بعد بھی باقی رہنے والا)، الظَّاهِرُ (اپنی قدرت کے اعتبار سے ظاہر)، الْبَاطِنُ (اپنی ذات کے اعتبار سے پوشیدہ)، الْوَالِي ( تصرف اور اختیار کا مالک)، الْمُتَعَالِي (بلند و برتر)، الْبَرُّ (اچھائی اور بھلائی فرمانے والا)، التَّوَّابُ (زیادہ توبہ قبول کرنے والا)، الْمُنْتَقِمُ (بدلہ لینے والا)، الْعَفُوُّ (معاف فرمانے والا)، الرَّئوْفُ (نہایت مہربان)، مَالِکُ الْمُلْکِ (سب سلطنت اور حکمرانی کا مالک)، ذُوالْجَلَالِ وَالإِکْرَامِ (عظمت اور بزرگی والا)، الْمُقْسِطُ (عدل و انصاف کرنے والا)، الْجَامِعُ (جمع کرنے والا)، الْغَنِيُّ (بے پرواہ و بے نیاز)، الْمُغْنِي (بے نیاز کر دینے والا)، الْمَانِعُ (روکنے والا)، الضَّارُّ (نقصان کا مالک)، النَّافِعُ (نفع کا مالک، نفع عطا فرمانے والا)، النُّورُ (نور)، الْهَادِي (ہدایت دینے والا)، الْبَدِيْعُ (بے مثال موجد، عدم سے وجود میں لانے والا)، الْبَاقِي (ہمیشہ رہنے والا)، الْوَارِثُ (وارث و مالک)، الرَّشِيْدُ (نیکی اور راستی کرنے والا) اور الصَّبُوْرُ (بہت زیادہ مہلت دینے والا) ہے۔

اسے امام ترمذی، ابن حبان، طبرانی اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔

وَفِي رِوَايَةِ اَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ: إِنَّ ِللهِ تِسْعَةً وَتِسْعِيْنَ اسْمًا، مِائَةً إِلَّا وَاحِدًا، إِنَّهُ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ، مَنْ حَفِظَهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَهِيَ: اللهُ، الْوَاحِدُ، الصَّمَدُ، الْاَوَّلُ، الْآخِرُ، الظَّاهِرُ، الْبَاطِنُ، الْخَالِقُ، الْبَارِيئُ، الْمُصَوِّرُ، الْمَلِکُ، الْحَقُّ، السَّلَامُ، الْمُوْمِنُ، الْمُهَيْمِنُ، الْعَزِیزُ، الْجَبَّارُ، الْمُتَکَبِّرُ، الرَّحْمٰنُ، الرَّحِيْمُ، اللَّطِيْفُ، الْخَبِيْرُ، السَّمِيْعُ، الْبَصِيْرُ، الْعَلِيْمُ، الْعَظِيْمُ، الْبَارُّ، الْمُتْعَالِ، الْجَلِيْلُ، الْجَمِيْلُ، الْحَيُّ، الْقَيُوْمُ، الْقَادِرُ، الْقَاهِرُ، الْعَلِيُّ، الْحَکِيْمُ، الْقَرِيْبُ، الْمُجِيْبُ، الْغَنِيُّ، الْوَهَابُ، الْوَدُوْدُ، الشَّکُوْرُ، الْمَاجِدُ، الْوَاجِدُ، الْوَالِي، الرَّاشِدُ، الْعَفُوُّ، الْغَفُوْرُ، الْحَلِيْمُ، الْکَرِيْمُ، التَّوَّابُ، الرَّبُّ، الْمَجِيْدُ، الْوَلِيُّ، الشَّهِيْدُ، الْمُبِيْنُ، الْبُرْهَانُ، الرَّئُوْفُ، الرَّحِيْمُ، المُبْدِئُ، الْمُعِيْدُ، الْبَاعِثُ، الْوَارِثُ، الْقَوِيُّ، الشَّدِيْدُ، الضَّارُّ، النَّافِعُ، الْبَاقِي، الْوَاقِي، الْخَافِضُ، الرَّافِعُ، الْقَابِضُ، الْبَاسِطُ، الْمُعِزُّ، الْمُذِلُّ، الْمُقْسِطُ، الرَّزَّاقُ، ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِيْنُ، الْقَائِمُ، الدَّائِمُ، الْحَافِظُ، الْوَکِيْلُ، الْفَاطِرُ، السَّامِعُ، الْمُعْطِي، الْمُحْيِي، الْمُمِيْتُ، الْمَانِعُ، الْجَامِعُ، الْهَادِي، الْکَافِي، الْاَبَدُ، الْعَالِمُ، الصَّادِقُ، النُّوْرُ، الْمُنِيْرُ، التَّامُّ، الْقَدِيْمُ، الْوِتْرُ، الْاَحَدُ، الصَّمَدُ، الَّذِي لَمْ يَلِدْ، وَلَمْ يُولَدْ، وَلَمْ يَکُنْ لَهُ کُفُوًا، اَحَدٌ.

قَالَ زُهَيْرٌ: فَبَلَغَنَا مِنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ اَهْلِ الْعِلْمِ اَنَّ اَوَّلَهَا يُفْتَحُ بِقَوْلِ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيْکَ لَهُ، لَهُ الْمُلْکُ وَلَهُ الْحَمْدُ، بِيَدِهِ الْخَيْرُ، وَهُوَ عَلٰی کُلِّ شَيئٍ قَدِيْرٌ. لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ، لَهُ الْاَسْمَاء الْحُسْنٰی.

رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه وَالطَّبَرَانِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ.

اخرجه ابن ماجه في السنن، کتاب الدعاء، باب اسماء اللہ، 2/ 1269- 1270، الرقم/ 3861، والطبراني في الدعاء/ 51، الرقم/ 111، والبيهقي في السنن الکبری، 10/ 27، الرقم/ 19602، وايضا في الدعوات الکبير، 2/ 30-31، الرقم/ 262، وايضا في الاعتقاد والهداية إلی سبيل الرشاد/ 50، وذکره الغزالي في المقصد الاسنٰی في شرح اسماء اللہ الحسنٰی/ 60.

ایک اور روایت میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں اور چونکہ وہ طاق (یکتا) ہے (اس لیے) یکتائی کو پسند کرتا ہے۔ جو ان اسماء مبارکہ کو یاد کرے گا جنت میں داخل ہو گا۔ وہ اسماء مبارکہ یہ ہیں: اللہ، اَلوَاحِدُ (یکتا)، الصَّمَدُ (بے نیاز)، الْاَوَّلُ (سب مخلوق سے پہلے)، الآخِرُ (سب مخلوقات کے فنا ہونے کے بعد بھی باقی رہنے والا)، الظَّاهِرُ (اپنی قدرت کے اعتبار سے ظاہر)، الْبَاطِنُ (اپنی ذات کے اعتبار سے پوشیدہ)، الْخَالِقُ (پیدا کرنے والا)، الْبَارِیُ (عدم سے وجود میں لانے والا)، الْمُصَوِّرُ (شکل و صورت اور امتیازی شان عطا کرنے والا)، الْمَلِکُ (بادشاہ)، الْحَقُّ (سچا، سچائی اور حق کا مالک)، السَّلَامُ (سلامتی عطا کرنے والا)، الْمُؤمِنُ (امن اور ایمان بخشنے والا)، الْمُهَيْمِنُ (نگہبان)، الْعَزِيْزُ (عزت، بزرگی اور مکمل غلبے والا)، الجَبَّارُ (بہت زبردست، عظمت والا، شکستہ دلوں کو حوصلہ عطا کرنے والا)، الْمُتَکَبِّرُ (سب سے اعلیٰ و ارفع، بڑائی والا)، الرَّحْمٰنُ (نہایت مہربان)، الرَّحِيْمُ (ہمیشہ رحم فرمانے والا)، اللَّطِيْفُ (بہت لطف و مہربانی فرمانے والا)، الْخَبِيْرُ (ہر چیز سے واقف اور خبر رکھنے والا)، السَّمِيْعُ (بہت زیادہ سننے والا)، الْبَصِيْرُ (سب کچھ دیکھنے والا)، الْعَلِيْمُ (بہت جاننے والا)، الْعَظِيْمُ (عظمت و بزرگی کا مالک)، الْبَارُّ (اچھائی اور بھلائی فرمانے والا)، الْمُتَعَالِ (بلند و برتر)، الْجَلِيْلُ (بلند مرتبہ اور بزرگی والا)، الْجَمِيْلُ (صاحبِ جمال)، الْحَيُّ (ہمیشہ زندہ رہنے والا)، الْقَيُوْمُ (سب کو اپنی تدبیر سے قائم رکھنے والا)، الْقَادِرُ (قدرت و طاقت والا) الْقَاهِرُ (سب پر غالب)، الْعَلِيُّ (بہت بلند و برتر)، الْحَکِيْمُ (عظیم حکمت والا)، الْقَرِيْبُ (قربت والا)، المُجِيْبُ (دعا قبول کرنے والا)، الْغَنِيُّ (بے پرواہ و بے نیاز)، الْوَهَابُ (بہت عطا فرمانے والا)، اَلْوَدُوْدُ (بہت محبت کرنے والا)، الشَّکُوْرُ (قدر دان، شکر کی جزا دینے والا)، الْمَاجِدُ (عظمت اور بزرگی والا)، الْوَاجِدُ (وجود عطا فرمانے والا)، الْوَالِيُّ (کارساز)، الرَّاشِدُ (نیکی اور سچائی پسند کرنے والا)، العَفُوُّ (معاف فرمانے والا)، الْغَفُوْر (بے انتہا بخشش و مغفرت فرمانے والا)، الْحَلِيْمُ (بے حد بردبار اور حلم والا)، الْکَرِيْمُ (بہت کرم کرنے والا)، التَّوَّابُ (زیادہ توبہ قبول کرنے والا)، الرَّبُّ (پالنے والا)، الْمَجِيْدُ (عالی مرتبت اور بزرگی والا)، الْوَلِيُّ (دوست اور حمایت فرمانے والا)، الشَّهِيْدُ (حاضر و موجود، گواہ اور مشاہدہ فرمانے والا)، الْمُبِيْنُ (واضح فرمانے والا)، الْبُرْهَانُ (دلیل قاطع)، الرَّئوْفُ (نہایت مہربان)، الْمُبْدِئُ (پیدائش کی ابتداء کرنے والا)، الْمُعِيْدُ (دوبارہ پیدا کرنے والا)، الْبَاعِثُ (موت کے بعد زندگی عطا کرنے والا)، الْوَارِثُ (وارث و مالک)، الْقَوِيُّ (بہت طاقت ور)، الشَّدِيْدُ (بڑی/ عظیم قوت والا) الضَّارُّ (نقصان کا مالک)، النَّافِعُ (نفع کا مالک)، الْبَاقِي (ہمیشہ رہنے والا)، الْوَاقِي بچانے والا)، الْخَافِضُ (متکبرین کو پست کرنے والا)، الرَّافِعُ (بلند کرنے والا)، الْقَابِضُ (روزی تنگ کرنے والا)، الْبَاسِطُ (روزی میں فراخی دینے والا)، الْمُعِزُّ (عزت دینے والا)، الْمُذِلُّ (ذلت دینے والا)، الْمُقْسِطُ (عدل و انصاف کرنے والا)، الرَّزَّاقُ (رزق دینے والا)، ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِيْنُ (مضبوط اور شدید قوت والا)، الْقَائِمُ (ہمیشہ قائم رہنے والا)، الدَّائِمُ (ہمیشہ رہنے والا)، الْحَافِظُ (حفاظت فرمانے والا)، الْوَکِيلُ (کارساز)، الْفَاطِرُ (عدم سے وجود میں لانے والا)، السَّامِعُ (سب کی سننے والا)، الْمُعْطِي (عطا فرمانے والا)، الْمُحْيِي (زندگی دینے والا)، الْمُمِيْتُ م(موت دینے والا)، الْمَانِعُ (روکنے والا)، الْجَامِعُ (جمع کرنے والا)، الْهَادِي (ہدایت دینے والا)، الْکَافِي (کفایت کرنے والا)، الْاَبَدُ (ہمیشہ رہنے والا)، الْعَالِمُ (تمام علوم کا مالک)، الصَّادِقُ (سچا ترین)، النُّوْرُ (نور)، الْمُنِيْرُ (روشن فرمانے والا)، اَلتَّامُّ (کامل) الْقَدِيْمُ (قدیم)، الْوِتْرُ (یکتا)، الْاَحَدُ (یکتا)، الصَّمَدُ (سب سے بے نیاز)، الَّذِي لَمْ يَلِدْ (جس نے کسی کو نہیں جنا)، وَلَمْ يُولَدْ (اور نہ ہی وہ پیدا کیا گیا ہے)، وَلَمْ يَکُنْ لَهُ کُفُوًا اَحَدٌ (اور نہ ہی اس کا کوئی ہمسر ہے)۔

زہیر نے کہا ہے: ہمیں کئی اہل علم سے یہ خبر پہنچی ہے کہ بے شک جنت کا سب سے پہلا دروازہ اِن کلمات کے ذریعے کھولا جائے گا: {لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيْکَ لَهُ، لَهُ الْمُلْکُ وَلَهُ الْحَمْدُ، بِيَدِهِ الْخَيْرُ، وَهُوَ عَلٰی کُلِّ شَيئٍ قَدِيْرٌ. لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ، لَهُ الْاَسْمَاءُ الْحُسْنٰی} ’اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ سب بادشاہت اُسی کی ہے اور تمام تعریفیں اُسی کے لیے ہیں۔ تمام خیر اُسی کے دستِ قدرت میں ہے اور وہ ہر شے پر قادر ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ سب اچھے نام اُسی کے ہیں۔‘

اِسے امام ابن ماجہ، طبرانی اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔

Copyrights © 2020 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved