اربعین: اسماء و صفات الٰہیہ

اللہ تعالیٰ کی صفات جلیلہ

صِفَاتُهُ تَعَالٰی

اللہ تعالیٰ کی صفاتِ جلیلہ

اَلْقُرْآن

  1. وَاِلٰهُکُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ ج لَآ اِلٰهَ اِلاَّ هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِيْمُo

(البقرة، 2/ 163)

اور تمہارا معبود خدائے واحد ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں (وہ) نہایت مہربان بہت رحم فرمانے والا ہے۔

  1. اِنَّ اللهَ فَالِقُ الْحَبِّ وَالنَّوٰی ط يُخْرِجُ الْحَيَ مِنَ الْمَيِّتِ وَمُخْرِجُ الْمَيِّتِ مِنَ الْحَيِّ ط ذٰلِکُمُ اللهُ فَاَنّٰی تُؤْفَکُوْنَo فَالِقُ الْاِصْبَاحِ ج وَجَعَلَ الَّيْلَ سَکَنًا وَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْبَانًا ط ذٰلِکَ تَقْدِيْرُ الْعَزِيْزِ الْعَلِيْمِo وَهُوَ الَّذِيْ جَعَلَ لَکُمُ النُّجُوْمَ لِتَهْتَدُوْا بِهَا فِيْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ ط قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُوْنَo وَهُوَ الَّذِيْ اَنْشَاَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ فَمُسْتَقَرٌّ وَّمُسْتَوْدَعٌ ط قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰيَاتِ لِقَوْمٍ يَفْقَهُوْنَo وَهُوَ الَّذِيْ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً ج فَاَخْرَجْنَا بِهِ نَبَاتَ کُلِّ شَيْئٍ فَاَخْرَجْنَا مِنْهُ خَضِرًا نُّخْرِجُ مِنْهُ حَبًّا مُّتَرَاکِبًا ج وَمِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِهَا قِنْوَانٌ دَانِيَةٌ وَّجَنّٰتٍ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّالزَّيْتُوْنَ وَالرُّمَّانَ مُشْتَبِهًا وَّغَيْرَ مُتَشَابِهٍ ط اُنْظُرُوْا اِلٰی ثَمَرِهِ اِذَآ اَثْمَرَ وَيَنْعِهِ ط اِنَّ فِيْ ذٰلِکُمْ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُوْنَo وَجَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَکَآءَ الْجِنَّ وَخَلَقَهُمْ وَخَرَقُوْا لَهُ بَنِيْنَ وَبَنٰتٍم بِغَيْرِ عِلْمٍ ط سُبْحٰنَهُ وَتَعٰلٰی عَمَّا يَصِفُوْنَo بَدِيْعُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط اَنّٰی يَکُوْنُ لَهُ وَلَدٌ وَّلَمْ تَکُنْ لَّهُ صَاحِبَةٌ ط وَخَلَقَ کُلَّ شَيْئٍ ط وَهُوَ بِکُلِّ شَيْئٍ عَلِيْمٌo ذٰلِکُمُ اللهُ رَبُّکُمْ ط لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُو َج خَالِقُ کُلِّ شَيْئٍ فَاعْبُدُوْهُ ج وَهُوَ عَلٰی کُلِّ شَيْئٍ وَّکِيْلٌo لَا تُدْرِکُهُ الْاَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِکُ الْاَبْصَارَ ج وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُo

(الانعام، 6/ 95-103)

بے شک اللہ دانے اور گٹھلی کو پھاڑ نکالنے والا ہے وہ مُردہ سے زندہ کو پیدا فرماتا ہے اور زندہ سے مُردہ کو نکالنے والا ہے، یہی(شان والا) تو اللہ ہے پھر تم کہاں بہکے پھرتے ہو۔ (وہی) صبح (کی روشنی) کو رات کا اندھیرا چاک کر کے نکالنے والاہے، اور اسی نے رات کو آرام کے لیے بنایا ہے اور سورج اور چاند کوحساب وشمار کے لیے، یہ بہت غالب بڑے علم والے (ربّ) کا مقررہ اندازہ ہے۔ اور وہی ہے جس نے تمہارے لیے ستاروں کو بنایا تاکہ تم ان کے ذریعے بیابانوں اور دریاؤں کی تاریکیوں میں راستے پا سکو۔ بے شک ہم نے علم رکھنے والی قوم کے لیے (اپنی) نشانیاں کھول کر بیان کر دی ہیں۔ اور وہی (اللہ) ہے جس نے تمہیں ایک جان (یعنی ایک خلیہ) سے پیدا فرمایا ہے پھر (تمہارے لیے) ایک جائے اقامت (ہے) اور ایک جائے امانت (مراد رحم مادر اور دنیا ہے یا دنیا اور قبر ہے)۔ بے شک ہم نے سمجھنے والے لوگوں کے لیے (اپنی قدرت کی) نشانیاں کھول کر بیان کردی ہیں۔ اور وہی ہے جس نے آسمان کی طرف سے پانی اتارا پھر ہم نے اس (بارش) سے ہر قسم کی روئیدگی نکالی پھر ہم نے اس سے سرسبز(کھیتی) نکالی جس سے ہم اوپر تلے پیوستہ دانے نکالتے ہیں اور کھجور کے گابھے سے لٹکتے ہوئے گچھے اور انگوروں کے باغات اور زیتون اور انار (بھی پیدا کیے جو کئی اعتبارات سے)آپس میں ایک جیسے (لگتے) ہیں اور (پھل، ذائقے اور تاثیرات) جداگانہ ہیں۔ تم درخت کے پھل کی طرف دیکھو جب وہ پھل لائے اور اس کے پکنے کو (بھی دیکھو)، بے شک ان میں ایمان رکھنے والے لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ اور ان کافروں نے جِنّات کو اللہ کا شریک بنایا حالانکہ اسی نے ان کو پیدا کیا تھا اور انہوں نے اللہ کے لیے بغیر علم (و دانش) کے لڑکے اور لڑکیاں (بھی) گھڑ لیں۔ وہ ان (تمام) باتوں سے پاک اور بلند و بالا ہے جو یہ (اس سے متعلق) کرتے پھرتے ہیں۔ وہی آسمانوں اور زمینوں کا موجد ہے، بھلا اس کی اولاد کیونکر ہو سکتی ہے حالانکہ اس کی بیوی (ہی) نہیں ہے، اور اسی نے ہر چیز کو پیدا فرمایا ہے اور وہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔ یہی (اللہ) تمہارا پروردِگار ہے اس کے سوا کوئی لائقِ عبادت نہیں (وہی) ہر چیز کا خالق ہے پس تم اسی کی عبادت کیا کرو اور وہ ہر چیز پرنگہبان ہے۔ نگاہیں اس کا احاطہ نہیں کر سکتیںاور وہ سب نگاہوں کا احاطہ کیے ہوئے ہے، اور وہ بڑا باریک بین بڑا باخبرہے۔

  1. وَجَعَلُوْا ِللهِ شُرَکَآءَ الْجِنَّ وَخَلَقَهُمْ وَخَرَقُوْا لَهُ بَنِيْنَ وَبَنٰتٍم بِغَيْرِ عِلْمٍ ط سُبْحٰنَهُ وَتَعٰلٰی عَمَّا يَصِفُوْنَo بَدِيْعُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط اَنّٰی يَکُوْنُ لَهُ وَلَدٌ وَّلَمْ تَکُنْ لَّهُ صَاحِبَةٌ ط وَخَلَقَ کُلَّ شَيْئٍ ط وَهُوَ بِکُلِّ شَيْئٍ عَلِيْمٌo

(الانعام، 6/ 100-101)

اور ان کافروں نے جِنّات کو اللہ کا شریک بنایا حالاں کہ اسی نے ان کو پیدا کیا تھا اورانہوں نے اللہ کے لیے بغیر علم (و دانش) کے لڑکے اور لڑکیاں (بھی) گھڑ لیں۔ وہ ان (تمام) باتوں سے پاک اور بلند و بالا ہے جو یہ (اس سے متعلق) کرتے پھرتے ہیں۔ وہی آسمانوں اور زمینوں کا موجد ہے، بھلا اس کی اولاد کیونکر ہوسکتی ہے حالاں کہ اس کی بیوی (ہی) نہیں ہے، اور اسی نے ہر چیز کو پیدا فرمایا ہے اور وہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔

  1. قُلْ مَنْ يَرْزُقُکُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَالْاَرْضِ اَمَّنْ يَمْلِکُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَ مَنْ يُخْرِجُ الْحَيَ مِنَ الْمَيِّتِ وَ يُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَیِّ وَمَنْ يُدَبِّرُ الْاَمْرَ ط فَسَيَقُوْلُوْنَ اللهُج فَقُلْ اَفَـلَا تَتَّقُوْنَo فَذٰلِکُمُ اللهُ رَبُّکُمُ الْحَقُّ ج فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ اِلاَّ الضَّلٰل ج فَاَنّٰی تُصْرَفُوْنَo کَذٰلِکَ حَقَّتْ کَلِمَتُ رَبِّکَ عَلَی الَّذِيْنَ فَسَقُوْا اَنَّهُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَo قُلْ هَلْ مِنْ شُرَکَآئِکُمْ مَّنْ يَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهُ ط قُلِ اللهُ يَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهُ فَاَنّٰی تُؤْفَکُوْنَo

(یونس، 10/ 31-34)

آپ (ان سے) فرما دیجئے: تمہیں آسمان اور زمین (یعنی اوپر اور نیچے) سے رزق کون دیتا ہے، یا (تمہارے) کان اور آنکھوں (یعنی سماعت و بصارت) کا مالک کون ہے، اور زندہ کو مُردہ (یعنی جاندار کو بے جان) سے کون نکالتا ہے اور مُردہ کو زندہ (یعنی بے جان کو جاندار) سے کون نکالتا ہے، اور (نظام ہائے کائنات کی) تدبیر کون فرماتا ہے؟ سو وہ کہہ اٹھیں گے کہ اللہ، تو آپ فرمائیے: پھرکیا تم (اس سے) ڈرتے نہیں؟۔ پس یہی (عظمت و قدرت والا) اللہ ہی تو تمہارا سچا رب ہے، پس (اس) حق کے بعد سوائے گمراہی کے اور کیا ہو سکتا ہے، سو تم کہاں پھرے جارہے ہو؟۔ اسی طرح آپ کے رب کا حکم نافرمانوں پر ثابت ہوکر رہا کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ آپ (ان سے دریافت) فرمائیے کہ کیا تمہارے (بنائے ہوئے) شریکوں میں سے کوئی ایسا ہے جو تخلیق کی ابتداء کرے پھر (زندگی کے معدوم ہوجانے کے بعد) اسے دوبارہ لوٹائے؟ آپ فرما دیجئے کہ اللہ ہی (حیات کو عدم سے وجود میں لاتے ہوئے) آفرینش کا آغاز فرماتا ہے پھر وہی اس کا اعادہ (بھی) فرمائے گا، پھر تم کہاں بھٹکتے پھرتے ہو۔

  1. قُلْ لَّوْ کَانَ مَعَهُ اٰلِهَةٌ کَمَا يَقُوْلُوْنَ اِذًا لَّابْتَغَوْا اِلٰی ذِی الْعَرْشِ سَبِيْلًاo سُبْحٰـنَهُ وَتَعٰلٰی عَمَّا يَقُوْلُوْنَ عُلُوًّا کَبِيْرًاo

(بنی إسرائيل، 17/ 42-43)

فرما دیجیے: اگر اس کے ساتھ کچھ اور بھی معبود ہوتے جیسا کہ وہ (کفار و مشرکین) کہتے ہیں تو وہ (مل کر) مالکِ عرش تک پہنچنے (یعنی اس کے نظامِ اِقتدار میں دخل اندازی کرنے) کا کوئی راستہ ضرور تلاش کرلیتےo وہ پاک ہے اور ان باتوں سے جو وہ کہتے رہتے ہیں بہت ہی بلند و برتر ہےo

  1. لَوْ کَانَ فِيْهِمَآ اٰلِهَةٌ اِلاَّ اللهُ لَفَسَدَتَا ط فَسُبْحٰنَ اللهِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا يَصِفُوْنَo

(الانبياء، 21/ 22)

اگر ان دونوں (زمین و آسمان) میں اللہ کے سوا اور (بھی) معبود ہوتے تو یہ دونوں تباہ ہو جاتے پس اللہ جو عرش کا مالک ہے ان (باتوں) سے پاک ہے جو یہ (مشرک) بیان کرتے ہیں۔

  1. مَا اتَّخَذَ اللهُ مِنْ وَّلَدٍ وَّمَا کَانَ مَعَهُ مِنْ اِلٰهٍ اِذًا لَّذَهَبَ کُلُّ اِلٰهٍم بِمَا خَلَقَ وَلَعَلَا بَعْضُهُمْ عَلٰی بَعْضٍ ط سُبْحٰنَ اللهِ عَمَّا يَصِفُوْنَo

(المومنون، 23/ 91)

اللہ نے (اپنے لیے) کوئی اولاد نہیں بنائی اور نہ ہی اس کے ساتھ کوئی اور خدا ہے ورنہ ہر خدا اپنی اپنی مخلوق کو ضرور (الگ) لے جاتا اور یقینا وہ ایک دوسرے پر غلبہ حاصل کرتے (اور پوری کائنات میں فساد بپا ہو جاتا)۔ اللہ ان باتوں سے پاک ہے جو وہ بیان کرتے ہیں۔

  1. وَاٰيَةٌ لَّهُمُ الْاَرْضُ الْمَيْتَهُ ج اَحْيَيْنٰهَا وَاَخْرَجْنَا مِنْهَا حَبًّا فَمِنْهُ يَاْکُلُوْنَo وَجَعَلْنَا فِيْهَا جَنّٰتٍ مِّنْ نَّخِيْلٍ وَّ اَعْنَابٍ وَّ فَجَّرْنَا فِيْهَا مِنَ الْعُيُوْنِo لِيَاْکُلُوْا مِنْ ثَمَرِهِلا وَمَا عَمِلَتْهُ اَيْدِيْهِمْ ط اَفَـلَا يَشْکُرُوْنَo سُبْحٰنَ الَّذِيْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ کُلَّهَا مِمَّا تُنْبِتُ الْاَرْضُ وَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَ مِمَّا لَا يَعْلَمُوْنَo وَاٰيَةٌ لَّهُمُ الَّيْلُ ج نَسْلَخُ مِنْهُ النَّهَارَ فَاِذَا هُمْ مُّظْلِمُوْنَo وَالشَّمْسُ تَجْرِيْ لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَا ط ذٰلِکَ تَقْدِيْرُ الْعَزِيْزِ الْعَلِيْمِo وَالْقَمَرَ قَدَّرْنٰهُ مَنَازِلَ حَتّٰی عَادَ کَالْعُرْجُوْنِ الْقَدِيْمِo لَا الشَّمْسُ يَنْبَغِيْ لَهَآ اَنْ تُدْرِکَ الْقَمَرَ وَ لَا الَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ ط وَکُلٌّ فِيْ فَلَکٍ يَسْبَحُوْنَo

(يٰس، 36/ 33-40)

اور اُن کے لیے ایک نشانی مُردہ زمین ہے، جِسے ہم نے زندہ کیا اور ہم نے اس سے (اناج کے) دانے نکالے، پھر وہ اس میں سے کھاتے ہیں۔ اور ہم نے اس میں کھجوروں اور انگوروں کے باغات بنائے اور اس میں ہم نے کچھ چشمے بھی جاری کر دیئے۔ تاکہ وہ اس کے پھل کھائیں اور اسے اُن کے ہاتھوں نے نہیں بنایا، پھر (بھی) کیا وہ شکر نہیں کرتے۔ پاک ہے وہ ذات جس نے سب چیزوں کے جوڑے پیدا کیے، ان سے (بھی) جنہیں زمین اگاتی ہے اور خود اُن کی جانوں سے بھی اور (مزید) ان چیزوں سے بھی جنہیں وہ نہیں جانتے۔ اور ایک نشانی اُن کے لیے رات (بھی) ہے، ہم اس میں سے (کیسے) دن کو کھینچ لیتے ہیں سو وہ اس وقت اندھیرے میں پڑے رہ جاتے ہیں۔ اور سورج ہمیشہ اپنی مقررہ منزل کے لیے (بغیر رکے) چلتا رہتا ہے، یہ بڑے غالب بہت علم والے (رب) کی تقدیر ہے۔ اور ہم نے چاند کی (حرکت و گردش کی) بھی منزلیں مقرر کر رکھی ہیں یہاں تک کہ (اس کا اہلِ زمین کو دکھائی دینا گھٹتے گھٹتے) کھجور کی پرانی ٹہنی کی طرح ہوجاتا ہے۔ نہ سورج کی یہ مجال کہ وہ (اپنا مدار چھوڑ کر) چاند کو جا پکڑے اور نہ رات ہی دن سے پہلے نمودار ہوسکتی ہے، اور سب (ستارے اور سیارے) اپنے (اپنے) مدار میں حرکت پذیر ہیں۔

  1. قُلْ اِنَّمَآ اَنَا مُنْذِرٌق وَّمَا مِنْ اِلٰهٍ اِلاَّ اللهُ الْوَاحِدُ الْقَهَارُo رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا الْعَزِيْزُ الْغَفَّارُo

(ص، 38/ 65-66)

فرما دیجیے: میں تو صرف ڈر سنانے والا ہوں، اور اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو یکتا سب پر غالب ہے۔ آسمانوں اور زمین کا اور جو کائنات اِن دونوں کے درمیان ہے (سب) کا رب ہے بڑی عزت والا، بڑا بخشنے والا ہے۔

  1. قُلِ اللّٰهُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ عٰلِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ اَنْتَ تَحْکُمُ بَيْنَ عِبَادِکَ فِيْ مَا کَانُوْا فِيْهِ يَخْتَلِفُوْنَo

(الزمر، 39/ 46)

آپ عرض کیجئے: اے اللہ! آسمانوں اور زمین کو عدم سے وجود میں لانے والے، غیب اور ظاہر کا علم رکھنے والے، تو ہی اپنے بندوں کے درمیان اُن (امور) کا فیصلہ فرمائے گا جن میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے۔

  1. قُلْ هُوَ اللهُ اَحَدٌo اَللهُ الصَّمَدُo لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْo وَلَمْ يَکُنْ لَّهُ کُفُوًا اَحَدٌo

(الإخلاص، 112/ 1-4)

(اے نبی مکرّم!) آپ فرما دیجیے: وہ اللہ ہے جو یکتا ہے۔ اللہ سب سے بے نیاز، سب کی پناہ اور سب پر فائق ہے۔ نہ اس سے کوئی پیدا ہوا ہے اور نہ ہی وہ پیدا کیا گیا ہے۔ اور نہ ہی اس کا کوئی ہمسر ہے۔

اَلْحَدِيْث

  1. عَنْ عَائِشَةَ رضي الله عنها اَنَّ النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم بَعَثَ رَجُـلًا عَلٰی سَرِيَةٍ وَکَانَ يَقْرَا لِاَصْحَابِهِ فِي صَلَاتِهِمْ، فَيَخْتِمُ بِـ: {قُلْ هُوَ اللهُ اَحَدٌo}فَلَمَّا رَجَعُوْا ذَکَرُوْا ذٰلِکَ لِلنَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم ، فَقَالَ: سَلُوْهُ لِاَيِّ شَيئٍ يَصْنَعُ ذٰلِکَ؟ فَسَاَلُوْهُ، فَقَالَ: لِاَنَّهَا صِفَهُ الرَّحْمٰنِ وَاَنَا احِبُّ اَنْ اَقْرَاَ بِهَا. فَقَالَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم : اَخْبِرُوْهُ، اَنَّ اللهَ يُحِبُّهُ.

مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اخرجه البخاري في الصحيح، کتاب التوحيد، باب ما جاء في دعاء النبي صلی الله عليه وآله وسلم امته إلی توحيد اللہ تبارک وتعالی، 6/ 2686، الرقم/ 6940، ومسلم في الصحيح، کتاب صلاة المسافرين وقصرها، باب فضل قرائة قل هو اللہ، 1/ 557، الرقم/ 813، والنسائي في السنن، کتاب الافتتاح، باب الفضل في قرائة قل هو اللہ احد، 2/ 170، الرقم/ 993.

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک شخص کو فوجی دستے کا امیر بنا کر بھیجا۔ وہ جب اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھاتے تو اُسے سورہ اخلاص پر ختم کرتے۔ جب وہ واپس ہوئے تو لوگوں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اُس (بات) کا ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اُسے پوچھو کہ وہ ایسا کیوں کرتا تھا؟ اُن کے پوچھنے پر صحابی نے کہا: اِس میں خداے رحمن کی صفت ہے، اِس لیے میں اِسے پڑھنا پسند کرتا ہوں۔ اس پر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اُسے بتا دو کہ اللہ تعالیٰ بھی اُس سے محبت کرتا ہے۔

یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

وَفِي رِوَايَةِ اَبِي سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ رضي الله عنه اَنَّ رَجُـلًا سَمِعَ رَجُـلًا يَقْرَا: قُلْ هُوَ اللهُ اَحَدٌ يُرَدِّدُهَا فَلَمَّا اَصْبَحَ جَائَ إِلٰی رَسُوْلِ اللهِ صلی الله عليه وآله وسلم فَذَکَرَ ذٰلِکَ لَهُ وَکَاَنَّ الرَّجُلَ يَتَقَالُّهَا. فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلی الله عليه وآله وسلم : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهَا لَتَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ.

رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَاَحْمَدُ وَاَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ.

اخرجه البخاري في الصحيح، کتاب فضائل القرآن، باب فضل قل هو اللہ احد، 4/ 1915، الرقم/ 4726، واحمد بن حنبل في المسند، 5/ 456، الرقم/ 23858، وابو داود في السنن، کتاب الصلاة، باب في سورة الصمد، 2/ 72، الرقم/ 1461، والنسائي في السنن، کتاب الافتتاح، باب الفضل في قرائة قل هو اللہ احد، 2/ 171، الرقم/ 995، ومالک في الموطا، کتاب القرآن، باب ما جاء في قرائة قل هو اللہ احد وتبارک الذي بيده الملک، 1/ 208، الرقم/ 485.

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے دوسرے آدمی کو {قُلْ هُوَ اللهُ اَحَدٌ} کی تلاوت کرتے ہوئے سنا کہ وہ بار بار اُسے ہی دوہراتا ہے۔ جب صبح ہوئی تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ ماجرا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے (یوں) بیان کیا گویا وہ اِسے غیر اَہم سمجھ رہا تھا۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اُس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! یہ سورت تہائی قرآن کے برابر ہے۔

اِسے امام بخاری، احمد، ابو داود اور نسائی نے روایت کیا ہے۔

  1. عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ قَيْسٍ رضي الله عنه قال: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی الله عليه وآله وسلم : مَا اَحَدٌ اَصْبَرَ عَلٰی اَذًی يَسْمَعُهُ مِنَ اللهِ تَعَالٰی، إِنَّهُمْ يَجْعَلُونَ لَهُ نِدًّا وَيَجْعَلُونَ لَهُ وَلَدًا، وَهُوَ مَعَ ذٰلِکَ يَرْزُقُهُمْ وَيُعَافِيْهِمْ وَيُعْطِيْهِمْ.

مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ وَاللَّفْظُ لِمُسْلِمٍ.

اخرجه البخاري في الصحيح، کتاب الادب، باب الصبر علی الاذی، 5/ 2262، الرقم/ 5748، ومسلم في الصحيح، کتاب صفة القيامة والجنة والنار، باب لا احد اصبر علی اذی من اللہ عزّ وجلّ، 4/ 2160، الرقم/ 2804، واحمد في المسند، 4/ 401، الرقم/ 19604، والنسائي في السنن الکبری، 6/ 395، الرقم/ 11323.

حضرت عبد اللہ بن قیس (ابو موسیٰ اشعری) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اذیت ناک باتوں کو سن کر اللہ تعالیٰ سے زیادہ صبر کرنے والا کوئی ایک بھی نہیں ہے۔ لوگ اللہ تعالیٰ کے لیے شریک ٹھہراتے ہیں اور اس کے لیے بیٹا بناتے ہیں، مگر وہ اس کے باوجود اُنہیں رزق فراہم کرتا ہے، انہیں عافیت سے نوازتا اور انہیں (ان کی مرادیں) عطا کرتا ہے۔

یہ حدیث متفق علیہ ہے اور مذکورہ الفاظ مسلم کے ہیں۔

  1. عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: عَنْ رَسُولِ اللهِ صلی الله عليه وآله وسلم ، قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: کَذَّبَنِي ابْنُ آدَمَ وَلَمْ يَکُنْ يَنْبَغِي لَهُ اَنْ يُکَذِّبَنِي، وَشَتَمَنِي ابْنُ آدَمَ وَلَمْ يَکُنْ يَنْبَغِي لَهُ اَنْ يَشْتُمَنِي، اَمَّا تَکْذِيْبُهُ إِيَايَ، فَقَوْلُهُ: إِنِّي لَا اعِيْدُهُ کَمَا بَدَاتُهُ، وَلَيْسَ آخِرُ الْخَلْقِ بِاَعَزَّ عَلَيَّ مِنْ اَوَّلِهِ. وَاَمَّا شَتْمُهُ إِيَايَ، فَقَوْلُهُ: اتَّخَذَ اللهُ وَلَدًا، وَاَنَا اللهُ، الْاَحَدُ، الصَّمَدُ، لَمْ اَلِدْ وَلَمْ اولَدْ، وَلَمْ يَکُنْ لِي کُفُوًا اَحَدٌ.

رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ حِبَّانَ وَالْبَيْهَقِيُّ وَاللَّفْظُ لِلنَّسَائِيِّ.

اخرجه البخاري في الصحيح، کتاب التفسير، باب تفسير قوله تعالی: {قُلْ هُوَ اللهُ اَحَدٌ}، 4/ 1903، الرقم/ 4690، والنسائي في السنن، کتاب الجنائز، باب ارواح المؤمنين، 4/ 112، الرقم/ 2078، وايضًا في السنن الکبری، 4/ 395، الرقم/ 7667، وابن حبان في الصحيح، 1/ 500، الرقم/ 267، والبيهقي في الاعتقاد/ 217، وشهدة بنت احمد في العمدة من الفوائد والآثار الصحاح والغرائب في مشيخة شهدة/ 117، الرقم/ 55، وعبد الغني المقدسي في التوحيد/ 35، الرقم/ 4.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ابنِ آدم نے میری تکذیب کی حالانکہ اسے میری تکذیب نہیں کرنی چاہیے تھی اور ابنِ آدم نے مجھے گالی دی اور اسے مجھے گالی دینے سے احتراز کرنا چاہیے تھا۔ اس کا مجھے جھٹلانا: اس کا یہ قول ہے کہ میں اسے دوبارہ پیدا نہیں کر سکتا جیسے میں نے اسے پہلی دفعہ پیدا کیا تھا، حالانکہ مخلوق کو دوبارہ پیدا کرنا اسے پہلی دفعہ پیدا کرنے کی نسبت مجھ پر کچھ بھی مشکل نہیں ہے۔ اور ابنِ آدم کا مجھے گالی دینا: اس کا یہ کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کابیٹا ہے حالانکہ میں اللہ ہوں، یکتا ہوں، (ساری مخلوق سے) بے نیاز ہوں، نہ میں نے کسی کو جنا ہے اور نہ ہی میں کسی سے پیدا ہوا ہوں، اور نہ ہی میرا کوئی ہمسر ہے۔

اسے امام بخاری، نسائی، ابنِ حبان اور بیہقی نے روایت کیا ہے، اور مذکورہ الفاظ امام نسائی کے ہیں۔

وَفِي رِوَايَةِ اَبِي ذَرٍّ رضي الله عنه عَنِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم فِيْمَا رَوٰی عَنِ اللهِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی اَنَّهُ قَالَ: يَا عِبَادِي، إِنِّي حَرَّمْتُ الظُّلْمَ عَلٰی نَفْسِي وَجَعَلْتُهُ بَيْنَکُمْ مُحَرَّمًا، فَـلَا تَظَالَمُوْا. يَا عِبَادِي، کُلُّکُمْ ضَالٌّ إِلَّا مَنْ هَدَيْتُهُ، فَاسْتَهْدُوْنِي اَهْدِکُمْ، يَا عِبَادِي، کُلُّکُمْ جَائِعٌ إِلَّا مَنْ اَطْعَمْتُهُ فَاسْتَطْعِمُوْنِي اطْعِمْکُمْ، يَا عِبَادِي، کُلُّکُمْ عَارٍ إِلَّا مَنْ کَسَوْتُهُ فَاسْتَکْسُوْنِي اَکْسُکُمْ، يَا عِبَادِي، إِنَّکُمْ تُخْطِئُوْنَ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَاَنَا اَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا فَاسْتَغْفِرُوْنِي اَغْفِرْ لَکُمْ، يَا عِبَادِي، إِنَّکُمْ لَنْ تَبْلُغُوْا ضَرِّي فَتَضُرُّوْنِي وَلَنْ تَبْلُغُوْا نَفْعِي فَتَنْفَعُوْنِي، يَا عِبَادِي، لَوْ اَنَّ اَوَّلَکُمْ وَآخِرَکُمْ وَإِنْسَکُمْ وَجِنَّکُمْ کَانُوْا عَلٰی اَتْقٰی قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ مِنْکُمْ مَا زَادَ ذٰلِکَ فِي مُلْکِي شَيْئًا. يَا عِبَادِي، لَوْ اَنَّ اَوَّلَکُمْ وَآخِرَکُمْ وَإِنْسَکُمْ وَجِنَّکُمْ کَانُوْا عَلٰی اَفْجَرِ قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ مَا نَقَصَ ذٰلِکَ مِنْ مُلْکِي شَيْئًا. يَا عِبَادِي، لَوْ اَنَّ اَوَّلَکُمْ وَآخِرَکُمْ وَإِنْسَکُمْ وَجِنَّکُمْ قَامُوْا فِي صَعِيْدٍ وَاحِدٍ فَسَاَلُوْنِي فَاَعْطَيْتُ کُلَّ إِنْسَانٍ مَسْاَلَتَهُ مَا نَقَصَ ذٰلِکَ مِمَّا عِنْدِي إِلَّا کَمَا يَنْقُصُ الْمِخْيَطُ إِذَا ادْخِلَ الْبَحْرَ. يَا عِبَادِي، إِنَّمَا هِيَ اَعْمَالُکُمْ احْصِيْهَا لَکُمْ ثُمَّ اوَفِّيْکُمْ إِيَاهَا، فَمَنْ وَجَدَ خَيْرًا فَلْيَحْمَدِ اللهَ وَمَنْ وَجَدَ غَيْرَ ذٰلِکَ فَـلَا يَلُوْمَنَّ إِلَّا نَفْسَهُ.

رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

اخرجه مسلم في الصحيح، کتاب البر والصلة والآداب، باب تحریم الظلم، 4/ 1994، الرقم/ 2577، وذکره المنذري في الترغيب والترهيب، 2/ 312، الرقم/ 2514، والنووي في رياض الصالحين/ 45، الرقم/ 45، وابن رجب الحنبلي في جامع العلوم والحکم، 1/ 221، وابن کثير في تفسير القرآن العظيم، 4/ 461، والمناوي في الاتحافات السنية بالاحاديث القدسية/ 27-28.

حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ عزوجل سے یہ روایت بیان کی: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے میرے بندو! میں نے اپنے اُوپر ظلم کو حرام کیا ہے اور میں نے تمہارے درمیان بھی ظلم کو حرام کر دیا ہے، لہٰذا تم ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو۔ اے میرے بندو! تم سب گمراہ ہو سوائے اُس کے جس کو میں ہدایت عطا کروں، لہذا تم مجھ سے ہدایت طلب کرو، میں تم کو ہدایت عطا کروں گا، اے میرے بندو! تم سب بھوکے ہو، سوائے اُس کے جس کو میں کھانا کھلاؤں، لہٰذا تم مجھ سے کھانا طلب کرو، میں تم کو کھلاؤں گا۔ اے میرے بندو! تم سب بے لباس ہو، سوائے اُس کے جس کو میں لباس پہناؤں، لہٰذا تم مجھ سے لباس مانگو میں تم کو لباس پہناؤں گا۔ اے میرے بندو! تم دن رات گناہ کرتے ہو اور میں تمام گناہوں کو بخشتا ہوں، لہٰذا تم مجھ سے بخشش طلب کرو، میں تم کو بخش دوں گا۔ اے میرے بندو! تم کسی نقصان کے مالک نہیں ہو کہ مجھے نقصان پہنچا سکو اور تم کسی نفع کے مالک نہیں ہو کہ مجھے نفع پہنچا سکو، اے میرے بندو! اگر تمہارے اوّل اور آخر اور تمہارے انسان اور جن تم میں سے سب سے زیادہ متقی شخص کی طرح ہو جائیں تو میری بادشاہی میں کچھ اضافہ نہیں کر سکتے۔ اے میرے بندو! اگر تمہارے اول و آخر اور تمہارے انسان اور جن تم میں سے سب سے زیادہ بدکار شخص کی طرح ہو جائیں تو میری بادشاہی سے کچھ بھی کم نہیں کر سکتے۔ اے میرے بندو! اگر تمہارے اوّل اور آخر اور تمہارے انسان اور جن کسی ایک جگہ کھڑے ہو کر مجھ سے سوال کریں اور میں ہر انسان کا سوال پورا کر دوں تو جو کچھ میرے پاس ہے اس سے صرف اتنا کم ہو گا جس طرح سوئی کو سمندر میں ڈبو کر (نکالنے سے) اس میں کمی واقع ہوتی ہے (محض سمجھانے کے لیے فرمایا وگرنہ اللہ کے خزانوں میں کبھی بھی کمی واقع نہیں ہوتی)۔ اے میرے بندو! یہ تمہارے اعمال ہیں جن کو میں تمہارے لیے جمع کر رہا ہوں، پھر میں تم کو ان کی پوری پوری جزا دوں گا، پس جو شخص کوئی خیر پا لے، وہ اللہ کی حمد کرے اور جس کو خیر کے بجائے کوئی اور چیز (مثلاً آفت یا مصیبت) پہنچے وہ اپنے نفس کے علاوہ اور کسی کو ملامت نہ کرے۔

اِسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

Copyrights © 2020 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved