اربعین: اسماء و صفات الٰہیہ

اللہ تعالیٰ سمیع ہے

إِنَّهُ تَعَالٰی سَمِيْعٌ

اللہ تعالیٰ سمیع ہے

اَلْقُرْآن

  1. وَاِذْ يَرْفَعُ اِبْرٰهِمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ وَاِسْمٰعِيْلُ ط رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا ط اِنَّکَ اَنْتَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُo

(البقرة، 2/ 127)

اور (یاد کرو) جب ابراہیم اور اسماعیل (علیھم السلام) خانہ کعبہ کی بنیادیں اٹھا رہے تھے (تو دونوں دعا کر رہے تھے) کہ اے ہمارے رب! تو ہم سے (یہ خدمت) قبول فرما لے، بے شک تو خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے۔

  1. فَمَنْم بَدَّلَهُ بَعْدَ مَا سَمِعَهُ فَاِنَّمَآ اِثْمُهُ عَلَی الَّذِيْنَ يُبَدِّلُوْنَهُ ط اِنَّ اللهَ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌo

(البقرة، 2/ 181)

پھر جس شخص نے اس (وصیّت) کو سننے کے بعد اسے بدل دیا تو اس کا گناہ انہی بدلنے والوں پر ہے، بے شک اللہ بڑا سننے والا خوب جاننے والا ہے۔

  1. وَلاَ تَجْعَلُوا اللهَ عُرْضَةً لِّـاَيْمَانِکُمْ اَنْ تَبَرُّوْا وَتَتَّقُوْا وَتُصْلِحُوْا بَيْنَ النَّاسِ ط وَاللهُ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌo

(البقرة، 2/ 224)

اور اپنی قَسموں کے باعث اللہ (کے نام) کو (لوگوںکے ساتھ) نیکی کرنے اور پرہیز گاری اختیار کرنے اور لوگوں میں صلح کرانے میں آڑ مت بناؤ، اور اللہ خوب سننے والا بڑا جاننے والا ہے۔

  1. لَآ اِکْرَاهَ فِی الدِّيْنِ قف قَدْ تَّبَيَنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَیِّ ج فَمَنْ يَکْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَيُوْمِنْم بِاللهِ فَقَدِ اسْتَمْسَکَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقیٰ لَا انْفِصَامَ لَهَا ط وَاللهُ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌo

(البقرة، 2/ 256)

دین میں کوئی زبردستی نہیں، بے شک ہدایت گمراہی سے واضح طور پر ممتاز ہو چکی ہے، سو جو کوئی معبودانِ باطلہ کا انکار کر دے اور اللہ پر ایمان لے آئے تو اس نے ایک ایسا مضبوط حلقہ تھام لیا جس کے لیے ٹوٹنا (ممکن) نہیں، اور اللہ خوب سننے والا جاننے والا ہے۔

  1. اِنَّ اللهَ اصْطَفٰی اٰدَمَ وَنُوْحًا وَّاٰلَ اِبْرٰهِيْمَ وَاٰلَ عِمْرٰنَ عَلَی الْعٰـلَمِيْنَo ذُرِّيَةًم بَعْضُهَا مِنْم بَعْضٍ ط وَاللهُ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌo

(آل عمران، 3/ 33-34)

بے شک اللہ نے آدم (علیہ السلام) کو اور نوح (علیہ السلام) کو اور آلِ ابراہیم کو اور آلِ عمران کو سب جہان والوں پر (بزرگی میں) منتخب فرما لیاo یہ ایک ہی نسل ہے ان میں سے بعض بعض کی اولاد ہیں، اور اللہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے۔

  1. وَ اِمَّا يَنْزَغَنَّکَ مِنَ الشَّيْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللهِ ط اِنَّهُ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌo

(الاعراف، 7/ 200)

اور (اے انسان!) اگر شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ (ان امور کے خلاف) تجھے ابھارے تو اللہ سے پناہ طلب کیا کر، بے شک وہ سننے والا، جاننے والا ہے۔

  1. وَمِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ يَتَّخِذُ مَا يُنْفِقُ مَغْرَمًا وَّيَتَرَبَّصُ بِکُمُ الدَّوَآئِرَ ط عَلَيْهِمْ دَآئِرَهُ السَّوْءِ ط وَاللهُ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌo

(التوبة، 9/ 98)

اور ان دیہاتی گنواروںمیں سے وہ شخص (بھی) ہے جو اس (مال) کو تاوان قرار دیتا ہے جسے وہ (راهِ خدا میں) خرچ کرتا ہے اور تم پر زمانہ کی گردشوں(یعنی مصائب و آلام) کا انتظار کرتا رہتا ہے، (بَلا و مصیبت کی) بری گردش انہی پر ہے، اور اللہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے۔

  1. خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِرُهُمْ وَتُزَکِّيْهِمْ بِهَا َوصَلِّ عَلَيْهِمْ ط اِنَّ صَلٰوتَکَ سَکَنٌ لَّهُمْ ط وَاللهُ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌo

(التوبة، 9/ 103)

آپ ان کے اموال میں سے صدقہ (زکوٰۃ) وصول کیجیے کہ آپ اس (صدقہ) کے باعث انہیں (گناہوں سے) پاک فرمادیں اور انہیں (ایمان و مال کی پاکیزگی سے) برکت بخش دیں اور ان کے حق میں دعا فرمائیں، بے شک آپ کی دعا ان کے لیے (باعثِ) تسکین ہے، اور اللہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے۔

  1. يٰـاَيُهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّيْطٰنِ ط وَمَنْ يَتَّبِعْ خُطُوٰتِ الشَّيْطٰنِ فَاِنَّهُ يَاْمُرُ بِالْفَحْشَآءِ وَالْمُنْکَرِ ط وَلَوْ لَا فَضْلُ اللهِ عَلَيْکُمْ وَرَحْمَتُهُ مَا زَکٰی مِنْکُمْ مِّنْ اَحَدٍ اَبَدًالا وَّلٰـکِنَّ اللهَ يُزَکِّيْ مَنْ يَشَآءُ ط وَاللهُ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌo

(النور، 24/ 21)

اے ایمان والو! شیطان کے راستوں پر نہ چلو، اور جو شخص شیطان کے راستوں پر چلتا ہے تو وہ یقینا بے حیائی اور برے کاموں (کے فروغ) کا حکم دیتا ہے، اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم میں سے کوئی شخص بھی کبھی (اس گناہِ تہمت کے داغ سے) پاک نہ ہو سکتا لیکن اللہ جسے چاہتا ہے پاک فرما دیتا ہے، اور اللہ خوب سننے والا جاننے والا ہے۔

  1. يٰاَيُهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُقَدِّمُوْا بَيْنَ يَدَیِ اللهِ وَرَسُوْلِهِ وَاتَّقُوا اللهَ ط اِنَّ اللهَ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌo

(الحجرات، 49/ 1)

اے ایمان والو! (کسی بھی معاملے میں) اللہ اور اس کے رسول ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) سے آگے نہ بڑھا کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو (کہ کہیں رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بے ادبی نہ ہوجائے)، بے شک اللہ (سب کچھ) سننے والا خوب جاننے والا ہے۔

اَلْحَدِيْث

  1. عَنْ اَبِي مُوْسَی الْاَشْعَرِيِّ رضي الله عنه قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللهِ صلی الله عليه وآله وسلم فَکُنَّا إِذَا اَشْرَفْنَا عَلٰی وَادٍ هَلَّلْنَا وَکَبَّرْنَا، ارْتَفَعَتْ اَصْوَاتُنَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم : يَا اَيُهَا النَّاسُ، ارْبَعُوا عَلٰی اَنْفُسِکُمْ فَإِنَّکُمْ لَا تَدْعُوْنَ اَصَمَّ وَلَا غَائِبًا، إِنَّهُ مَعَکُمْ، إِنَّهُ سَمِيْعٌ قَرِيْبٌ، تَبَارَکَ اسْمُهُ، وَتَعَالٰی جَدُّهُ.

مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اخرجه البخاري في الصحيح، کتاب الجهاد والسير، باب ما يکره من رفع الصوت في التکبير، 3/ 1091، الرقم/ 2830، ومسلم في الصحيح، کتاب الذکر والدعاء والتوبة والاستغفار، باب استحباب خفض الصوت بالذکر، 4/ 2076، الرقم/ 2704، واحمد في المسند، 4/ 417، الرقم/ 19760.

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ (سفر پر) تھے۔ جب ہم کسی وادی میں داخل ہوتے تو بلند آواز سے لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ اور اَللهُ أَکْبَرُ کہتے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے لوگو! اپنی جانوں پر ترس کھاؤ، کیونکہ تم کسی بہرے یا غائب کو نہیں پکار رہے ہو، بلکہ (جسے تم پکار رہے ہو) وہ تو تمہارے ساتھ ہے، یقینا وہ سننے والا ہے اور (تمہارے) قریب ہے۔ اُس کا اسم مبارک بڑی برکت والا ہے اور اُس کی شان بہت بلند ہے۔

یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

  1. عَنْ عَائِشَةَ اَنَّهَا قَالَتْ: اَلْحَمْدُ ِللهِ الَّذِي وَسِعَ سَمْعُهُ الْاَصْوَاتَ، لَقَدْ جَائَتْ خَوْلَهُ إِلٰی رَسُوْلِ اللهِ صلی الله عليه وآله وسلم تَشْکُو زَوْجَهَا، فَکَانَ يَخْفٰی عَلَيَّ کَلَامُهَا، فَاَنْزَلَ اللهُ عزوجل: {قَدْ سَمِعَ اللهُ قَوْلَ الَّتِيْ تُجَادِلُکَ فِيْ زَوْجِهَا وَتَشْتَکِيْ اِلَی اللهِ وَاللهُ يَسْمَعُ تَحَاوُرَکُمَا} [المجادلة، 58/ 1].

رَوَاهُ اَحْمَدُ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَه وَاللَّفْظُ لِلنَّسَائِيِّ.

اخرجه احمد بن حنبل في المسند، 6/ 46، الرقم/ 24241، النسائي في السنن، کتاب الطلاق، باب الظهار، 6/ 168، الرقم/ 3460، وابن ماجه في السنن، المقدمة، باب فيما انکرت الجهمية، 1/ 67، الرقم/ 188، وعبد بن حميد في المسند/ 438، الرقم/ 1514.

اُمّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ فرماتی ہیں کہ تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہیں جس کی سماعت تمام آوازوں پر حاوی ہے۔ حضرت خولہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئیں اور اپنے خاوند کا شکوہ کرنے لگیں۔ (حتیٰ کہ) اس کی گفت گو مجھ سے بھی مخفی تھی (مگر اللہ تعالیٰ ہر حال سے واقف ہے۔) اللہ تعالیٰ نے آیتِ مبارکہ نازل فرمائی: {قَدْ سَمِعَ اللهُ قَوْلَ الَّتِيْ تُجَادِلُکَ فِيْ زَوْجِهَا وَتَشْتَکِيْ اِلَی اللهِق وَاللهُ يَسْمَعُ تَحَاوُرَکُمَا} ’بے شک اللہ نے اس عورت کی بات سن لی ہے جو آپ سے اپنے شوہر کے بارے میں تکرار کر رہی تھی اور اللہ سے فریاد کر رہی تھی، اور اللہ آپ دونوں کے باہمی سوال و جواب سن رہا تھا‘۔

اِسے امام احمد، نسائی اور ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ مذکورہ الفاظ نسائی کے ہیں۔

  1. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما قَالَ: جَاءَ إِبْرَاهِيْمُ عليه السلام فَوَجَدَ إِسْمَاعِيْلَ يُصْلِحُ لَهُ بَيْتًا مِنْ وَرَائِ زَمْزَمَ فَقَالَ لَهُ إِبْرَاهِيْمُ: يَا إِسْمَاعِيْلُ، إِنَّ رَبَّکَ قَدْ اَمَرَنِي بِبِنَاءِ الْبَيْتِ. فَقَالَ لَهُ إِسْمَاعِيْلُ: فَاَطِعْ رَبَّکَ فِيْمَا اَمَرَکَ. قَالَ فَاَعِنِّي عَلَيْهِ. قَالَ: فَقَامَ مَعَهُ فَجَعَلَ إِبْرَاهِيْمُ يَبْنِيْهِ وَإِسْمَاعِيْلُ يُنَاوِلُهُ الْحِجَارَةَ وَيَقُوْلَانِ: {رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّاط اِنَّکَ اَنْتَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُo}، [البقرة، 2/ 127].

رَوَاهُ الْحَاکِمُ وَالطَّبَرِيُّ. وَقَالَ الْحَاکِمُ: هٰذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ.

اخرجه الحاکم في المستدرک، 2/ 601، الرقم/ 4025، والطبري في جامع البيان، 1/ 550، 13/ 232، وايضًا في تاريخ الامم والملوک، 1/ 156.

حضرت (عبد اللہ) بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام تشریف لائے تو حضرت اسماعیل علیہ السلام کو آبِ زمزم کے اس پار اپنے گھر کی مرمت کرتے ہوئے پایا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا: اے اسماعیلـ! بے شک تمہارے رب نے مجھے بیت اللہ کی تعمیر کا حکم دیا ہے۔ یہ سن کر حضرت اسماعیل علیہ السلام نے عرض کیا: آپ اپنے رب کے حکم پر عمل درآمد فرمائیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا: تم اس کام میں میری مدد کرو۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام آپ کے ساتھ کھڑے ہو گئے، حضرت ابراہیم علیہ السلام بیت اللہ کی تعمیر کرنے لگے اور حضرت اسماعیل علیہ السلام آپ کو پتھر پکڑانے لگے۔ وہ دونوں اسی دوران یہ دعا کرتے رہے: رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا ط اِنَّکَ اَنْتَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُo ’اے ہمارے رب! تو ہم سے (یہ خدمت) قبول فرما لے، بے شک تو خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے۔‘

اِسے امام حاکم اور طبری نے روایت کیا ہے۔ نیز امام حاکم نے فرمایا کہ یہ حدیث صحیح ہے۔

Copyrights © 2020 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved