حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شمائل مبارکہ

حضور (ص) کے قدمین مبارک اور چلنے کا بیان

بَابٌ فِي وَصْفِ قَدَمَيْهِ صلی الله عليه واله وسلم وَمِشْيَتِه

{حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے قدمین مبارک اور چلنے کا بیان}

134 /1. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه قَالَ: کَانَ النَّبِيُّ صلی الله عليه واله وسلم ضَخْمَ الْقَدَمَيْنِ حَسَنَ الْوَجْهِ لَمْ أَرَ بَعْدَه مِثْلَه. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَأَحْمَدُ وَأَبُوْ يَعْلٰی.

1: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب اللباس، باب الجعد، 5 /2212، الرقم: 5568، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 /125، الرقم: 12288، وأبو يعلی في المسند، 5 /256، الرقم: 2875، والطيالسي في المسند، 1 /338، الرقم: 2589.

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے قدم مبارک گوشت سے پُر تھے، چہرہ انور حسین تھا۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بعد آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی مثل کوئی نہیں دیکھا۔‘‘ اِس حدیث کو امام بخاری، احمد اور ابو یعلی نے روایت کیا ہے۔

135 /2. عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رضی الله عنه قَالَ: کَانَ النَّبِيُّ صلی الله عليه واله وسلم … مَنْهُوْسَ الْعَقِبِ.

رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَالتِّرْمِذِيُّ وَاللَّفْظُ لَه، وَقَالَ: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ. وَقَالَ الْحَاکِمُ: هٰذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الإِسْنَادِ.

2: أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب الفضائل، باب في صفة فم النبي صلی الله عليه واله وسلم وعينيه وعقبيه، 4 /1820، الرقم: 2339، والترمذي في السنن، کتاب المناقب، باب في صفة النبي صلی الله عليه واله وسلم ، 5 /603، الرقم: 3646.3647، وأحمد بن حنبل في المسند، 5 /86، 88، 97، 103، الرقم: 20831، 20848، 20950، 21024، وابن حبان في الصحيح، 14 /199، الرقم: 6288، والحاکم في المستدرک، 2 /662، الرقم: 4195.

’’حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی مبارک ایڑیوں پر گوشت کم تھا۔‘‘

اِس حدیث کو امام مسلم اور ترمذی نے مذکورہ الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث حسن صحیح ہے اور امام حاکم نے فرمایا: یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔

136 /3. عَنْ عَلِيٍّ رضی الله عنه قَالَ: لَمْ يَکُنْ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه واله وسلم بِالطَّوِيْلِ وَلَا بِالْقَصِيْرِ، شَثْنَ الْکَفَّيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ.

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَحْمَدُ وَأَبُوْ يَعْلٰی وَالْبَزَّارُ.

3: أخرجه الترمذي في السنن، کتاب المناقب، باب ما جاء في صفة النبي صلی الله عليه واله وسلم ، 5 /598، الرقم: 3637، وأحمد بن حنبل في المسند، 1 /96، 127، الرقم: 746، 1053، وأبو يعلی في المسند، 1 /304، الرقم: 370، والبزار في المسند، 2 /18، الرقم: 474، والحاکم في المستدرک، 2 /662، الرقم: 4194، والبخاري في التاريخ الکبير، 1 /8.

’’حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نہ تو بہت دراز قد تھے اور نہ ہی پست قد، ہتھیلیاں اور قدم مبارک گوشت سے پُر تھے۔‘‘

اِس حدیث کو امام ترمذی، احمد، ابو یعلی اور بزار نے روایت کیا ہے۔

137 /4. عَنْ هِنْدِ بْنِ أَبِي هَالَةَ رضی الله عنه، قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه واله وسلم خُمْصَانَ الأَخْمَصَيْنِ، مَسِيْحَ الْقَدَمَيْنِ، يَنْبُوْ عَنْهُمَا الْمَاءُ، إِذَا زَالَ زَالَ قُلْعًا، يَخْطُوْ تَکَفِّيًا، وَيَمْشِي هَوْنًا، ذَرِيْعَ الْمِشْيَةِ، إِذَا مَشٰی کَأَنَّمَا يَنْحَطُّ مِنْ صَبَبٍ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ فِي الشَّمَائِلِ وَابْنُ حِبَّانَ وَالطَّبَرَانِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ.

4: أخرجه الترمذي في الشمائل المحمدية / 37، الرقم: 8، وابن حبان في الثقات، 2 /145.146، والطبراني في المعجم الکبير، 22 /155.156، الرقم: 414، والبيهقي في شعب الإيمان، 2 /154.155، الرقم: 1430.

’’حضرت ہند بن ابی ہالہ تمیمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاؤں کے تلوے قدرے گہرے تھے، قدمین شریفین ہموار اور نرم تھے اور اُن پر پانی نہیں ٹھہرتا تھا۔ جب چلتے تو متوازن اور مضبوط قدم رکھتے، قدم اُٹھاتے وقت ہلکا سا جھکتے۔ آہستگی سے چلتے اور چلتے وقت دونوں بازو بھی ہلاتے، جب چلتے (تو یوں معلوم ہوتا) گویا بلندی سے اُتر رہے ہیں ۔‘‘

اِس حدیث کو امام ترمذی نے الشمائل المحمدیۃ میں اور ابن حبان، طبرانی اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔

138 /5. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي اﷲ عنهما أَنَّ قُرَيْشًا أَتَوْا امْرَأَةَ کَاهِنَةً فَقَالُوْا لَهَا: أَخْبِرِيْنَا أَشْبَهَنَا أَثَرًا بِصَاحِبِ الْمَقَامِ، فَقَالَتْ: إِنْ أَنْتُمْ جَرَرْتُمْ کِسَاءً عَلٰی هٰذِهِ السِّهْلَةِ، ثُمَّ مَشَيْتُمْ عَلَيْهَا أَنْبَأْتُکُمْ. قَالَ: فَجَرُّوْا کِسَاءً، ثُمَّ مَشَی النَّاسُ عَلَيْهَا، فَأَبْصَرَتْ أَثَرَ رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه واله وسلم . فَقَالَتْ: هٰذَا أَقْرَبُکُمْ إِلَيْهِ شَبَهًا، ثُمَّ مَکَثُوْا بَعْدَ ذَالِکَ عِشْرِيْنَ سَنَةً، أَوْ مَا شَاءَ اﷲُ، ثُمَّ بَعَثَ اﷲُ مُحَمَّدًا صلی الله عليه واله وسلم . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه وَأَحْمَدُ.

5: أخرجه ابن ماجه في السنن، کتاب الأحکام، باب القافة، 2 /787، الرقم: 2350، وأحمد بن حنبل في المسند، 1 /332، الرقم: 3072، وابن عساکر في تاريخ مدينة دمشق، 3 /256، والسيوطي في الخصائص الکبری، 1 /118.

’’حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ قریش کے لوگ ایک کاہنہ عورت کے پاس گئے اور اس سے پوچھا: بتاؤ ہم میں سے کس کا قدم صاحبِ مقام (حضرت ابراہیم علیہ السلام) کے قدم مبارک کے ساتھ زیادہ مشابہت رکھتا ہے؟ اُس عورت نے کہا: تم پہلے ایک چادر سے یہ زمین ہموار کرو پھر اِس پر چلو تب میں بتاؤں گی۔ حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ اُنہوں نے چادر سے اُس زمین کو ہموار کیا اور پھر اس پر چلے۔ اُس عورت نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے قدمین مبارک کے نشانات کو دیکھ کر کہا: یہ شخص حضرت ابراہیم علیہ السلام کے سب سے زیادہ مشابہ ہے۔ اُس واقعہ کے بیس برس بعد یا اِس سے زائد جتنا عرصہ اﷲ تعالیٰ نے چاہا لوگوں نے گزارا یہاں تک کہ اﷲ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو مبعوث فرمایا۔‘‘

اِس حدیث کو امام ابن ماجہ اور احمد نے روایت کیا ہے۔

139 /6. عَنْ مَيْمُوْنَةَ بِنْتِ کَرْدَمٍ رضي الله عنها قَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه واله وسلم بِمَکَّةَ، وَهُوَ عَلٰی نَاقَتِه وَأَنَا مَعَ أَبِي، وَبِيَدِ رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه واله وسلم دِرَّةٌ کَدِرَّةِ الْکُتَّابِ، فَسَمِعْتُ الْأَعْرَابَ وَالنَّاسَ يَقُوْلُوْنَ الطَّبْطَبِيَةَ، فَدَنَا مِنْهُ أَبِي، فَأَخَذَ بِقَدَمِه، فَأَقَرَّ لَه رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه واله وسلم ، قَالَتْ: فَمَا نَسِيْتُ فِيْمَا نَسِيْتُ طُوْلَ أُصْبُعِ قَدَمِهِ السَّبَّابَةِ عَلٰی سَائِرِ أَصَابِعِه. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَيْهَقِيُّ.

6: أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 6 /366، الرقم: 27109، والبيهقي في السنن الکبری، 7 /145، الرقم: 13602، وابن سعد في الطبقات الکبری، 8 /304، والعسقلاني في الإصابة، 8 /133، الرقم: 11786.

’’حضرت میمونہ بنت کردم رضی اللّٰہ عنھا بیان کرتی ہیں کہ میں نے مکہ میں حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی زیارت کی، آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اُونٹنی پر سوار تھے اور میں اپنے والد کے ہمراہ تھی اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دستِ اقدس میں ایک کوڑا تھا جیسا کہ کتابت سکھانے والوں کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ میں نے دیہاتیوں اور دیگر لوگوں کو سنا کہ وہ اُسے عصا کہہ رہے تھے۔ میرے والدِ گرامی نے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاؤں مبارک پکڑ لیے تو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اُنہیں تھام لیا۔ اُس وقت مجھے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے قدمین شریفین کی انگلیوں کی زیارت نصیب ہوئی۔ پس میں آج تک حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاؤں مبارک کی سبابہ (انگوٹھے کے ساتھ والی انگلی) کا دوسری انگلیوں کے مقابلہ میں حسنِ طوالت نہیں بھولی۔‘‘

اِس حدیث کو امام احمد اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔

140 /7. عَنْ سَعِيْدِ بْنِ الْمُسَيَبِ، أَنَّه سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رضی الله عنه يَصِفُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه واله وسلم : کَانَ يَطَأُ بِقَدَمِه جَمِيْعًا، لَيْسَ لَهَا أَخْمَصُ.

رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الأَدَبِ.

7: أخرجه البخاري في الأدب المفرد، باب إذا التفت التفت جميعًا /395، الرقم: 1155، والسيوطي في الخصائص الکبری، 1 /125، والصالحي في سبل الهدي والرشاد، 2 /30.

’’حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اُنہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا حلیہ مبارک یوں بیان کرتے ہوئے سنا: حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم چلتے وقت پورا قدم رکھتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے تلوے زیادہ گہرے نہیں تھے۔‘‘

اِس حدیث کو امام بخاری نے الادب المفرد میں روایت کیا ہے۔

141 /8. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه قَالَ: وَمَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَسْرَعَ فِي مَشْيَتِه مِنْ رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه واله وسلم کَأَنَّمَا الْأَرْضُ تُطْوٰی لَه إِنَّا لَنُجْهِدُ أَنْفُسَنَا وَإِنَّه لَغَيْرُ مُکْتَرِثٍ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَحْمَدُ.

8: أخرجه الترمذي في السنن، کتاب المناقب، باب في صفة النبي صلی الله عليه واله وسلم ، 5 /604، الرقم: 3648، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 /350، 380، الرقم: 8588، 8930، وابن حبان في الصحيح، 14 /215، الرقم: 6309، وابن المبارک في المسند، 1 /17، الرقم: 31.

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے تیز رفتار بھی کوئی نہیں دیکھا، گویا آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے لیے زمین لپیٹ دی جاتی تھی، ہم (آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ چلتے وقت) پوری محنت کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم بلاتکلف چلتے تھے۔‘‘ اِس حدیث کو امام ترمذی اور احمد نے روایت کیا ہے۔

142 /9. عَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ بُرَيْدَةَ رضی الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه واله وسلم کَانَ أَحْسَنَ الْبَشَرِ قَدَمًا. رَوَاهُ ابْنُ سَعْدٍ.

9: أخرجه ابن سعد في الطبقات الکبری، 1 /419، وابن إسحاق في السيرة النبوية، 2 /122، والسيوطي في الجامع الصغير، 1 /25، الرقم: 7، وأيضًا في الخصائص الکبری، 1 /128، والصالحي في سبل الهدي والرشاد، 2 /79.

’’حضرت عبد اللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے قدمین شریفین تمام انسانوں (کے قدموں) سے بڑھ کر خوبصورت تھے۔‘‘

اِس حدیث کو امام ابن سعد نے روایت کیا ہے۔

Copyrights © 2019 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved