حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شمائل مبارکہ

حضور (ص) کے پسینہ مبارک اور جسمِ اَقدس کے خوشبو دار ہونے کا بیان

بَابٌ فِي طِيْبِ عَرَقِـه صلی الله عليه واله وسلم وَرَائِحَةِ جَسَدِه

{حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پسینہ مبارک اور جسم اقدس کے خوشبو دار ہونے کا بیان}

23 /1. عَنْ أَنَسٍ رضی الله عنه قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه واله وسلم أَزْهَرَ اللَّوْنِ، کَأَنَّ عَرَقَهُ اللُّؤْلُؤُ…وَلَا شَمِمْتُ مِسْکَةً وَلَا عَنْبَرَةً أَطْيَبَ مِنْ رَائِحَةِ رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه واله وسلم . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ وَاللَّفْظُ لِمُسْلِمٍ.

وفي رواية عنه للبخاري: قَالَ: وَلَا شَمِمْتُ مِسْکَةً وَلَا عَبِيْرَةً أَطْيَبَ رَائِحَةً مِنْ رَائِحَةِ رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه واله وسلم .

1: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب المناقب، باب صفة النبي صلی الله عليه واله وسلم ، 3 /1306، الرقم: 3368، وأيضًا في کتاب الصوم، باب ما يذکر من صوم النبي وإفطاره صلی الله عليه واله وسلم ، 2 /696، الرقم: 1872، ومسلم في الصحيح، کتاب الفضائل، باب طيب رائحة النبي صلی الله عليه واله وسلم ولين مسه والتبرک بمسحه، 4 /1814، 1815، الرقم: 2330، والترمذي في السنن، کتاب البر والصلة، باب ما جاء في خلق النبي صلی الله عليه واله وسلم ، 4 /368، الرقم: 2015، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 /107، 200، الرقم: 12067.

’’حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا رنگ مبارک سفید چمکدار تھا، آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پسینہ مبارک کے قطرے موتیوں کی طرح چمکتے تھے، میں نے کسی مشک یا عنبر کو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم (کے پسینہ مبارک کی خوشبو) سے زیادہ خوشبو دار نہیں پایا۔‘‘ یہ حدیث متفق علیہ ہے اور مذکورہ الفاظ مسلم کے ہیں۔

’’اور بخاری کی ایک روایت میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے وہ بیان کرتے ہیں: میں نے کسی ایسی مشک اور خوشبوؤں کے کسی مرکب کو نہیں سونگھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم (کے جسم) کی خوشبو سے بڑھ کر ہو۔‘‘

24 /2. عَنْ أَنَسٍ رضی الله عنه أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ رضي اﷲ عنها کَانَتْ تَبْسُطُ لِلنَّبِيِّ صلی الله عليه واله وسلم نِطَعًا، فَيَقِيْلُ عِنْدَهَا عَلٰی ذَالِکَ النِّطَعِ، قَالَ: فَإِذَا نَامَ النَّبِيُّ صلی الله عليه واله وسلم أَخَذَتْ مِنْ عَرَقِه وَشَعَرِه فَجَمَعَتْهُ فِي قَارُوْرَةٍ، ثُمَّ جَمَعَتْهُ فِي سُکٍّ، قَالَ: فَلَمَّا حَضَرَ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ رضی الله عنه الْوَفَاةُ أَوْصٰی إِلَيَّ أَنْ يُجْعَلَ فِي حَنُوْطِه مِنْ ذَالِکَ السُّکِّ، قَالَ: فَجُعِلَ فِي حَنُوْطِه. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

2: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب الاستئذان، باب من زار قومًا فقال عندهم، 5 /2316، الرقم: 5925.

’’حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے لیے حضرت اُم سلیم چمڑے کا گدا بچھایا کرتیں اور آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اُس گدے پر قیلولہ فرمایا کرتے تھے، اُن کا بیان ہے کہ جب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سو جاتے تو وہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا مقدس پسینہ اور موے مبارک اکٹھا کرتیں اور اُنہیں ایک شیشی میں ڈال لیتیں اور پھر اُسے خوشبو میں ملا لیا کرتیں۔ (راوی حدیث) حضرت ثمامہ بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت انس بن مالک کی وفات کا وقت قریب آیا تو اُنہوں نے مجھے وصیت فرمائی کہ وہ خوشبو (بطور تبرک) اُن کے کفن کو لگائی جائے۔ حضرت ثمامہ بیان کرتے ہیں کہ وہی خوشبو اُن کے کفن کو لگائی گئی۔‘‘ اِس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

25 /3. عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی الله عنه قَالَ: دَخَلَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صلی الله عليه واله وسلم فَقَالَ عِنْدَنَا، فَعَرِقَ، وَجَائَتْ أُمِّي بِقَارُوْرَةٍ، فَجَعَلَتْ تَسْلِتُ الْعَرَقَ فِيْهَا، فَاسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صلی الله عليه واله وسلم فَقَالَ: يَا أُمَّ سُلَيْمٍ، مَا هٰذَا الَّذِي تَصْنَعِيْنَ؟ قَالَتْ: هٰذَا عَرَقُکَ نَجْعَلُه فِي طِيْبِنَا وَهُوَ مِنْ أَطْيَبِ الطِّيْبِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَأَحْمَدُ.

3: أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب الفضائل، باب طيب عرق النبي صلی الله عليه واله وسلم والتبرک به، 4 /1815، الرقم: 2331، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 /136، الرقم: 12419، والطبراني في المعجم الکبير، 25،119، الرقم: 289، 297، وأبو نعيم في حلية الأولياء، 2 /61، وابن سعد في الطبقات الکبری، 8 /428، والبيهقي في شعب الإيمان، 2 /154، الرقم: 1429.

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہمارے پاس حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم تشریف لائے اور قیلولہ فرمایا، آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو پسینہ آیا تو میری والدہ ایک شیشی لے آئیں اور آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا پسینہ مبارک پونچھ پونچھ کر اُس میں ڈالنے لگیں، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم بیدار ہوئے، اور دریافت فرمایا: اے امّ سلیم! تم یہ کیا کر رہی ہو؟ اُنہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ آپ کا پسینہ مبارک ہے جسے ہم اپنی خوشبو میں ڈالیں گے، اور یہ سب سے اچھی خوشبو ہے۔‘‘ اِس حدیث کو امام مسلم اور احمد نے روایت کیا ہے۔

26 /4. عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی الله عنه قَالَ: کَانَ النَّبِيُّ صلی الله عليه واله وسلم يَدْخُلُ بَيْتَ أُمِّ سُلَيْمٍ رضي اﷲ عنها فَيَنَامُ عَلٰی فِرَاشِهَا، وَلَيْسَتْ فِيْهِ. قَالَ: فَجَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ فَنَامَ عَلٰی فِرَاشِهَا. فَأُتِيَتْ، فَقِيْلَ لَهَا: هٰذَا النَّبِيُّ صلی الله عليه واله وسلم نَامَ فِي بَيْتِکِ، عَلٰی فِرَاشِکِ. قَالَ: فَجَائَتْ وَقَدْ عَرِقَ، وَاسْتَنْقَعَ عَرَقُه عَلٰی قِطْعَةِ أَدِيْمٍ، عَلَی الْفِرَاشِ. فَفَتَحَتْ عَتِيْدَتَهَا فَجَعَلَتْ تُنَشِّفُ ذَالِکَ الْعَرَقَ فَتَعْصِرُه فِي قَوَارِيْرِهَا. فَفَزِعَ النَّبِيُّ صلی الله عليه واله وسلم فَقَالَ: مَا تَصْنَعِيْنَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ؟ فَقَالَتْ: يَا رَسُوْلَ اﷲِ، نَرْجُوْ بَرَکَتَه لِصِبْيَانِنَا. قَالَ: أَصَبْتِ.

رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَأَحْمَدُ.

4: أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب الفضائل، باب طيب عرق النبي صلی الله عليه واله وسلم والتبرک به، 4 /1815، الرقم: 2331، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 /221، الرقم: 1334 /1339.

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم حضرت اُمّ سُلیم رضی اﷲ عنہا کے گھر تشریف لے جاتے اور اُن کے بچھونے پر سو جاتے جبکہ وہ گھر میں نہیں ہوتی تھیں۔ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم تشریف لائے اور اُن کے بچھونے پر سو گئے، اُن کے پاس جا کر اُنہیں بتایا گیا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم تمہارے گھر میں بچھونے پر آرام فرما ہیں۔ یہ سن کر وہ (فورًا) گھر آئیں تو دیکھا آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم (محو استراحت ہیں اور جسدِ اقدس) پسینے میں شرابور ہے اور وہ پسینہ مبارک چمڑے کے بستر پر جمع ہو گیا ہے۔ حضرت اُمّ سُلیم نے اپنی (خوشبو کی) بوتل کھولی اور پسینہ مبارک پونچھ پونچھ کر بوتل میں جمع کرنے لگیں۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم اچانک اُٹھ بیٹھے اور فرمایا: اے اُمّ سُلیم! کیا کر رہی ہو؟ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم اس (پسینہ مبارک) سے اپنے بچوں کے لئے برکت حاصل کریں گے (اور اسے بطور خوشبو استعمال کریں گے)۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: تو نے ٹھیک کیا ہے۔‘‘ اِس حدیث کو امام مسلم اور احمد نے روایت کیا ہے۔

27 /5. عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه واله وسلم صَلَاةَ الْأُوْلٰی ثُمَّ خَرَجَ إِلٰی أَهْلِه، وَخَرَجْتُ مَعَه فَاسْتَقْبَلَه وِلْدَانٌ، فَجَعَلَ يَمْسَحُ خَدَّي أَحَدِهِمْ وَاحِدًا وَاحِدًا، قَالَ: وَأَمَّا أَنَا فَمَسَحَ خَدِّي، قَالَ: فَوَجَدْتُ لِيَدِه بَرْدًا أَوْ رِيْحًا کَأَنَّمَا أَخْرَجَهَا مِنْ جُوْنَةِ عَطَّارٍ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

5: أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب الفضائل، باب طيب رائحة النبي صلی الله عليه واله وسلم ولين مسه والتبرک بمسحه، 4 /1814، الرقم: 2329، وابن أبي شيبة في المصنف، 6 /323، الرقم: 31765، والطبراني في المعجم الکبير، 2 /228، الرقم: 1944، وابن حجر العسقلاني في فتح الباري، 6 /573، والخطيب البغدادي في تاريخ بغداد، 9 /253.

’’حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اپنے گھر کی طرف تشریف لے چلے، میں بھی آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ چل پڑا، سامنے سے کچھ بچے آئے تو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اُن میں سے ہر ایک کے رخسار پر ہاتھ پھیرا، اور میرے رخسار پر بھی ہاتھ پھیرا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دستِ اقدس کی ٹھنڈک اور خوشبو یوں محسوس کی جیسے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ابھی اُسے عطار کی ڈبیہ سے نکالا ہو۔‘‘ اِس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

28 /6. عَنْ جَابِرٍ رضی الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ صلی الله عليه واله وسلم لَمْ يَسْلُکْ طَرِيْقًا أَوْ لَا يَسْلُکُ طَرِيْقًا فَيَتْبَعُه أَحَدٌ إِلاَّ عَرَفَ أَنَّه قَدْ سَلَکَه مِنْ طِيْبِ عَرَقِه أَوْ قَالَ: مِنْ رِيْحِ عَرَقِه صلی الله عليه واله وسلم . رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ وَالْبُخَارِيُّ فِي الْکَبِيْرِ.

6: أخرجه الدارمي في السنن، المقدمة، باب في حسن النبي صلی الله عليه واله وسلم ، 1 /45، الرقم: 66، والبخاري في التاريخ الکبير، 1 /399، 400، الرقم: 1273.

’’حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کسی بھی راستے پر نہیں چلے یا کسی راستے پر نہیں چلتے تھے جس میں کوئی آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو تلاش کرتا مگر یہ کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پسینہ مبارک کی خوشبو سے پہچان لیتا کہ آپ اِس راستے پر چلے ہیں۔ یا کہا: آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پسینہ مبارک کی مہک سے پہچان لیتا۔‘‘

اِس حدیث کو امام دارمی نے اور امام بخاری نے التاریخ الکبیر میں روایت کیا ہے۔

29 /7. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِيِّ صلی الله عليه واله وسلم فَقَالَ: يَا رَسُوْلَ اﷲِ، إِنِّي زَوَّجْتُ ابْنَتِي وَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ تُعِيْنَنِي بِشَيئٍ، قَالَ: مَا عِنْدِي شَيئٌ، وَلٰـکِنْ إِذَا کَانَ غَدًا فَائْتِنِي بِقَارُوْرَةٍ وَاسِعَةِ الرَّأْسِ وَعُوْدِ شَجَرَةٍ، وَأَيَةٌ بَيْنِي وَبَيْنَکَ أَنْ تَدُقَّ نَاحِيَةَ الْبَابِ، قَالَ: فَلَمَّا کَانَ فِي الْغَدِّ أَتَاهُ بِقَارُوْرَةٍ وَاسِعَةِ الرَّأْسِ، وَعُوْدِ شَجَرَةٍ، فَيَجْعَلُ النَّبِيُّ صلی الله عليه واله وسلم يَسْلِتُ الْعَرَقَ عَنْ ذِرَاعَيْهِ حَتَّی امْتَلأَتِ الْقَارُوْرَةَ، فَقَالَ: خُذْهَا وَأْمُرْ ابْنَتَکَ أَنْ تَغْمِسَ هٰذَا الْعُوْدَ فِي الْقَارُوْرَةِ وَتَطَيَبُ بِه. قَالَ: فَکَانَتْ إِذَا تَطَيَبَتْ شَمَّ أَهْلُ الْمَدِيْنَةِ رَائِحَةَ ذَالِکَ الطِّيْبِ، فَسَمُّوْا بَيْتَ الْمُطَيِّبِيْنَ. رَوَاهُ أَبُوْ يَعْلٰی وَالطَّبَرَانِيُّ وَالْأَصْبَهَانِيُّ.

7: أخرجه أبو يعلی في المسند، 1 /117، الرقم: 118، وأيضًا، 11 /186، الرقم: 6295، والطبراني في المعجم الاوسط، 3 /190، الرقم: 2895، والاصبهاني في دلائل النبوة، 1 /59، الرقم: 41، والخطيب البغدادي في تاريخ بغداد، 6 /23، الرقم: 3055، وابن عساکر في تاريخ مدينة دمشق، 4 /48، والهيثمي في مجمع الزوائد، 4 /256، وأيضًا، 8 /283.

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض کیا: یا رسول اللہ! میری بیٹی کی شادی ہے اور میری یہ خواہش ہے کہ آپ میری مدد فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: اِس وقت تو میرے پاس کچھ نہیں لیکن تم کل ایک کھلے منہ والی شیشی اور ایک لکڑی لے کر آنا اور میرے لئے تمہاری پہچان یہ ہو گی کہ تم دروازے پر دستک دینا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اگلے دن وہ کھلے منہ والی شیشی اور لکڑی لے کر آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے (لکڑی سے) اپنے بازوؤں پر سے پسینہ اکٹھا کر کے اُس شیشی میں ڈالنا شروع کر دیا یہاں تک کہ وہ شیشی بھر گئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اُس شخص سے فرمایا: یہ لے جاؤ اور اپنی بیٹی سے جاکر کہو کہ اِس لکڑی کو اِس شیشی میں ڈبو کر نکالے اور پھر اپنے آپ کو اِس سے خوشبو لگائے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب وہ خوشبو لگاتی تو پورا شہر مدینہ اُس کی خوشبو سے مہک اُٹھتا اور اِسی بناء پر اُنہوں نے اُس گھر کا نام ’’خوشبو والوں کا گھر‘‘ رکھا۔‘‘

اِس حدیث کو امام ابو یعلی، طبرانی اور اصبہانی نے روایت کیا ہے۔

30 /8. عَنْ أَنَسٍ رضی الله عنه قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه واله وسلم إِذَا مَرَّ فِي طَرِيْقٍ مِنْ طُرُقِ الْمَدِيْنَةِ وَجَدُوْا مِنْهُ رَائِحَةَ الطِّيْبِ، وَقَالُوْا: مَرَّ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه واله وسلم مِنْ هٰذَا الطَّرِيْقِ. رَوَاهُ السُّيُوْطِيُّ فِي الْخَصَائِصِ.

8: أخرجه السيوطي في الخصائص الکبری، 1 /67

’’حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم مدینہ منورہ کے جس کسی راستے سے گزر جاتے تو لوگ اُس راہ میں پیاری مہک پاتے اور پُکار اُٹھتے: یہاں سے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا گزر ہوا ہے۔‘‘

اِسے امام سیوطی نے الخصائص الکبری میں روایت کیا ہے۔

Copyrights © 2019 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved