حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شمائل مبارکہ

حضور (ص) کی چشمان اقدس کا بیان

بَابٌ فِي وَصْفِ عَيْنَيْهِ صلی الله عليه واله وسلم

{حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی چشمانِ اقدس کا بیان}

56 /1. عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رضی الله عنه قَالَ: کَانَ النَّبِيُّ صلی الله عليه واله وسلم ضَلِيْعَ الْفَمِ، أَشْکَلَ الْعَيْنَيْنِ.

رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَالتِّرْمِذِيُّ وَاللَّفْظُ لَه. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ. وَقَالَ الْحَاکِمُ: هٰذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الإِسْنَادِ.

1: أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب الفضائل، باب في صفة فم النبي صلی الله عليه واله وسلم وعينيه وعقبيه، 4 /1820، الرقم: 2339، والترمذي في السنن، کتاب المناقب، باب في صفة النبي صلی الله عليه واله وسلم ، 5 /603، الرقم: 3646.3647، وأيضًا في الشمائل المحمدية / 38.39، الرقم: 9، وأحمد بن حنبل في المسند، 5 /86، 88، 97، 103، الرقم: 20831، 20848، 20950، 21024، وابن حبان في الصحيح، 14 /199، الرقم: 6288، والحاکم في المستدرک، 2 /662، الرقم: 4195.

’’حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم فراخ دہن تھے، آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی آنکھوں میں سرخ رنگ کے ڈورے تھے۔‘‘

اِس حدیث کو امام مسلم اور ترمذی نے مذکورہ الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث حسن صحیح ہے اور امام حاکم نے بھی فرمایا: یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔

57 /2. عَنْ إِبْرَاهِيْمَ بْنِ مُحَمَّدٍ مِنْ وَلَدِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رضی الله عنه قَالَ: کَانَ عَلِيٌّ إِذَا وَصَفَ النَّبِيَّ صلی الله عليه واله وسلم قَالَ: أَدْعَجُ الْعَيْنَيْنِ، أَهْدَبُ الْأَشْفَارِ.

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ أَبِي شَيْبَةَ.

2: أخرجه الترمذي في السنن، کتاب المناقب، باب ما جاء في صفة النبي صلی الله عليه واله وسلم ، 5 /599، الرقم: 3638، وابن أبي شيبة في المصنف، 6 /328، الرقم: 31805، والبيهقي في شعب الإيمان، 2 /149، الرقم: 1415، وابن سعد في الطبقات الکبری، 1 /411، والنميری في أخبار المدينة، 1 /319، الرقم: 968، وابن عبد البر في الاستذکار، 8 /331، وأيضًا في التمهيد، 3 /29، وابن عساکر في تاريخ مدينة دمشق، 3 /261، وابن الجوزي في صفة الصفوة، 1 /153، والفسوي في المعرفة والتاريخ، 3 /303.

’’حضرت ابراہیم بن محمد، جو کہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے ہیں، فرماتے ہیں کہ حضرت علی، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا حلیہ مبارک بیان کرتے ہوئے فرماتے: آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی چشمانِ مقدسہ سیاہ اور پلکیں دراز تھیں۔‘‘

اِس حدیث کو امام ترمذی اور ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے۔

58 /3. عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رضی الله عنه قَالَ: کُنْتُ إِذَا نَظَرْتُ إِلَيْهِ قُلْتُ: أَکْحَلُ الْعَيْنَيْنِ، وَلَيْسَ بِأَکْحَلَ.

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَحْمَدُ وَابْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَالْحَاکِمُ. وَقَالَ الْحَاکِمُ: هٰذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الإِسْنَادِ.

3: أخرجه الترمذي في السنن، کتاب المناقب، باب في صفة النبي صلی الله عليه واله وسلم ، 5 /603، الرقم: 3645، وأحمد بن حنبل في المسند، 5 /97، الرقم: 20955، وابن أبي شيبة في المصنف، 6 /328، الرقم: 31806، والحاکم في المستدرک، 2 /662، الرقم: 4196، وأبو يعلی في المسند، 13 /453، الرقم: 7458، والطبراني المعجم الکبير، 2 /244، الرقم: 2024.

’’حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں جب بھی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی طرف دیکھتا تو کہتا آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی آنکھوں میں سرمہ لگا ہوا ہے حالانکہ سرمہ لگا ہوا نہ ہوتا تھا (یعنی چشمانِ مقدس ہی اِس قدر سرمگیں تھیں)۔‘‘

اِس حدیث کو امام ترمذی، احمد، ابن ابی شیبہ اور حاکم نے روایت کیا ہے۔ امام حاکم نے فرمایا: یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔

59 /4. عَنْ هِنْدِ بْنِ أَبِي هَالَةَ رضی الله عنه، قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه واله وسلم خَافِضَ الطَّرْفِ، نَظَرُه إِلَی الأَرْضِ أَطْوَلُ مِنْ نَظَرِه إِلَی السَّمَاء، جُلُّ نَظَرِهِ الْمُـلَاحَظَةُ، يَسُوْقُ أَصْحَابَه، وَيُبْدِرُ مَنْ لَقِيَ بِالسَّـلَامِ.

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ فِي الشَّمَائِلِ وَابْنُ حِبَّانَ وَالطَّبَرَانِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ.

4: أخرجه الترمذي في الشمائل المحمدية /37، الرقم: 8، وابن حبان في الثقات، 2 /145.146، والطبراني في المعجم الکبير، 22 /155.156، الرقم: 414، وأيضًا في أحاديث الطوال، 1 /245، والبيهقي في شعب الإيمان، 2 /154.155، الرقم: 1430، وابن سعد في الطبقات الکبری، 1 /422، وابن عساکر في تاريخ مدينة دمشق، 3 /277، 338، 344، 348، والهيثمي في مجمع الزوائد، 8 /273.

’’حضرت ہند بن ابی ہالہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نگاہ نیچی رکھنے والے تھے، آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی نگاہ آسمان کی نسبت زمین کی طرف زیادہ رہتی۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا دیکھنا گوشہ چشم سے ہوتا تھا۔ اپنے صحابہ کی قیادت فرماتے اور جس کسی سے ملتے تو سلام میں پہل کرتے۔‘‘

اِس حدیث کو امام ترمذی نے الشمائل المحمدیۃ میں اور ابن حبان، طبرانی اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔

60 /5. عَنْ أُمِّ مَعْبَدٍ رضي اللّٰه عنهما، قَالَتْ: رَأَيْتُ رَجُـلًا…وَسِيْمٌ قَسِيْمٌ، فِي عَيْنَيْهِ دَعَجٌ، وَفِي أَشْفَارِه وَطَفٌ.

رَوَاهُ الْحَاکِمُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ.

5: أخرجه الحاکم في المستدرک، 3 /10، 11، الرقم: 4274، والطبراني في المعجم الکبير، 4 /49، 50، الرقم: 3605، وابن حبان في الثقات، 1 /125127، والهيثمي في مجمع الزوائد، 8 /279، وابن عبد البر في الاستيعاب، 4 /19581960، الرقم: 4215، وابن الجوزي في صفة الصفوة، 1 /139، 140، وابن سعد في الطبقات الکبری، 1 /230، 231.

’’حضرت اُم معبد رضی اللّٰہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ میں نے (آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو) ایک ایسا شخص پایا جو نہایت خوبرو اور حسین تھے۔ آنکھیں سیاہ اور بڑی بڑی تھیں اور پلکیں لمبی تھیں۔‘‘ اسے امام حاکم، طبرانی اور ابن حبان نے الثقات میں روایت کیا ہے۔

61 /6. عَنْ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ رضی اللّٰه عنهما قَالَ: قَالُوْا لِعَلِيٍّ: يَا أَبَا حَسَنَ، إِنْعَتْ لَنَا رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه واله وسلم . فَقَالَ: کَانَ أَبْيَضَ، مُشْرَبٌ بَيَاضُه حُمْرَةً، أَهْدَبَ الْأَشْفَارِ، أَسْوَدَ الْحَدَقَةِ. رَوَاهُ الْمَقْدِسِيُّ وَابْنُ سَعْدٍ وَابْنُ عَسَاکِرَ.

6: أخرجه المقدسي في الاحاديث المختارة، 2 /316، الرقم: 695، وابن سعد في الطبقات الکبری، 1 /412، وابن عساکر في تاريخ مدينة دمشق، 3 /250، والفسوي في المعرفة والتاريخ، 3 /299.

’’حضرت عمر بن علی رضی اللّٰہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے عرض کیا گیا: اے ابو الحسن! ہمارے لئے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا حلیہ مبارک بیان فرمائیے۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا رنگ مبارک سرخی مائل سفید تھا، آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی پلکیں دراز تھیں اور آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی چشمانِ مقدسہ کی پتلی گہری سیاہ تھی۔‘‘

اِس حدیث کو امام مقدسی، ابن سعد اور ابن عساکر نے روایت کیا ہے۔

62 /7. عَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما قَالَ: فَيَقُوْلُ أَبُوْ طَالِبٍ: إِنَّکَ مُبَارَکٌ، کَانَ الصِّبْيَانُ يُصْبِحُوْنَ رُمْصًا شُعْثًا، وَيُصْبِحُ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه واله وسلم ، دَهِيْنًا کَحِيْـلًا. رَوَاهُ ابْنُ عَسَاکِرَ وَابْنُ سَعْدٍ.

7: أخرجه ابن عساکر في تاريخ مدينة دمشق، 3 /86، وابن سعد في الطبقات الکبری، 1 /120، وابن کثير في البداية والنهاية (السيرة)، 2 /283، والسيوطي في الخصائص الکبری، 1 /141، والحلبي في السيرة الحلبية، 1 /189، وملا علی القاري في جمع الوسائل، 1 /31.

’’حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللّٰہ عنہما سے مروی ہے کہ حضرت ابو طالب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے کہتے: بے شک آپ مبارک ہیں، عام طور پر بچے جب نیند سے بیدار ہوتے تو اُن کی آنکھیں بوجھل اور سر کے بال اُلجھے ہوئے ہوتے تھے، لیکن جب حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم بیدار ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے سرِ انور میں تیل اور آنکھوں میں سرمہ لگا ہوتا۔‘‘

اسے امام ابن عساکر اور ابن سعد نے روایت کیا ہے۔

63 /8. عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رضی الله عنه، قَالَ: صَلّٰی رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه واله وسلم عَلٰی قَتْلٰی أُحُدٍ، بَعْدَ ثَمَانِيَ سِنِيْنَ کَالْمُوَدِّعِ لِلْأَحْيَاءِ وَالْأَمْوَاتِ، ثُمَّ طَلَعَ الْمِنْبَرَ، فَقَالَ: إِنِّي بَيْنَ يْدِيْکُمْ فَرَطٌ وَأَنَا عَلَيْکُمْ شَهِيْدٌ، وَإِنَّ مَوْعِدَکُمُ الْحَوْضُ، وَإِنِّي لَأَنْظُرُ إِلَيْهِ مِنْ مَقَامِي هٰذَا. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

8: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب المغازي، باب غزوة أحد، 4 /1486، الرقم: 3816، ومسلم في الصحيح، کتاب الفضائل، باب إثبات حوض نبينا صلی الله عليه واله وسلم وصفاته، 4 /1796، الرقم: 2296، وأبو داود في السنن، کتاب الجنائز، باب الميت يصلي علی قبره بعد حين، 3 /216، الرقم 3224، وأحمد بن حنبل في المسند، 4 /154، والطبراني في المعجم الکبير، 17 /279، الرقم: 768، والبيهقي في السنن الکبری، 4 /14، الرقم: 6601.

’’حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے شہداءِ اُحد پر آٹھ سال بعد (دوبارہ) اس طرح نماز پڑھی گویا زندوں اور مُردوں کو الوداع کہہ رہے ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم منبر پر جلوہ افروز ہوئے اور فرمایا: میں تمہارا پیش رَو ہوں، میں تمہارے اُوپر گواہ ہوں، ہماری ملاقات کی جگہ حوضِ کوثر ہے اور میں اِس جگہ سے حوضِ کوثر کو دیکھ رہا ہوں۔‘‘ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

64 /9. عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَکْرٍ رضي اﷲ عنهما قَالَتْ: فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه واله وسلم حَمِدَ اﷲَ وَأَثْنَی عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: مَا مِنْ شَيئٍ کُنْتُ لَمْ أَرَهُ إِلَّا قَدْ رَيْتُه فِي مَقَامِي هٰذَا، حَتَّی الْجَنَّةَ وَالنَّارِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

9: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب الوضوء، باب من لم يتوضّأ إلّا من الغشي المثقل، 1 /79، الرقم: 182، وأيضًا في کتاب الجمعة، باب صلاة النساء مع الرجال في الکسوف، 1 /358، الرقم: 1005، وأيضًا في کتاب الاعتصام بالکتاب والسنة، باب الاقتداء بسنن رسول اﷲ صلی الله عليه واله وسلم ، 6 /2657، الرقم: 6857، ومسلم في الصحيح، کتاب الکسوف، باب ما عرض علی النبي صلی الله عليه واله وسلم في صلاة الکسوف من أمر الجنة والنار، 2 /624، الرقم: 905، ومالک في الموطأ، 1 /189، الرقم: 447، وأحمد بن حنبل في المسند، 6 /345، الرقم: 26970.

’’حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے کہ (سورج گرہن کے روز) حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم جب (نماز کسوف سے) فارغ ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: کوئی ایسی چیز نہیں جسے میں نے اپنی اِس جگہ سے دیکھ نہ لیا ہو یہاں تک کہ جنت و دوزخ بھی (یہیں مجھ پر پیش کی گئیں)۔‘‘

یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

65 /10. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه واله وسلم قَالَ: هَلْ تَرَوْنَ قِبْلَتِي هَاهُنَا؟ فَوَاﷲِ، مَا يَخْفٰی عَلَيَّ خُشُوْعُکُمْ وَلَا رُکُوْعُکُمْ، إِنِّي لَأَرَاکُمْ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِي. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

10: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب الصلاة، باب عظة الإمام الناس في إتمام الصلاة وذکر القبلة، 1 /161، الرقم: 408، وأيضًا في کتاب الأذان، باب الخشوع في الصلاة، 1 /259، الرقم: 708، ومسلم في الصحيح، کتاب الصلاة، باب الأمر بتحسين الصلاة وإتمامها والخشوع فيها، 1 /259، الرقم: 424، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 /303، 365، 375، الرقم: 8011، 8756، 8864، والبيهقي في دلائل النبوة، 6 /73، والحلبي في السيرة الحلبية، 3 /386، والسيوطي في الخصائص الکبری، 1 /104.

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: کیا تم یہی دیکھتے ہو کہ (دوران نماز) میرا منہ اُدھر ہوتا ہے؟ اللہ کی قسم! مجھ پر نہ تو تمہارا خشوع پوشیدہ ہے نہ ہی تمہارا رکوع، میں تمہیں اپنی پشت پیچھے بھی (اُسی طرح) دیکھتا ہوں (جیسے اپنے سامنے سے دیکھتا ہوں)۔‘‘ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

66 /11. عَنْ ثَوْبَانَ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه واله وسلم : إِنَّ اﷲَ زَوٰی لِيَ الْأَرْضَ، فَرَأَيْتُ مَشَارِقَهَا وَمَغَارِبَهَا، وَإِنَّ أُمَّتِي سَيَبْلُغُ مُلْکُهَا مَا زُوِيَ لِي مِنْهَا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ.

11: أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب الفتن وأشراط الساعة، باب هلاک هذه الامة بعضهم ببعض، 4 /2215، الرقم: 2889، والترمذي في السنن،کتاب الفتن، باب ما جاء في سوال النبي صلی الله عليه واله وسلم ثلاثًا في أمته، 4 /472، الرقم: 2176، وأبو داود في السنن، کتاب الفتن والملاحم ، باب ذکر الفتن ودلائلها، 4 /97، الرقم: 4252، وأحمد بن حنبل في المسند، 5 /278، الرقم: 22448، 22505، والبزار في المسند، 8 /413، الرقم: 3487، والحاکم في المستدرک، 4 /496، الرقم: 8390، وابن أبي شيبة في المصنف، 6 /311، الرقم:31694.

’’حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: بیشک اﷲ تعالیٰ نے زمین کو میرے لئے لپیٹ دیا اور میں نے اس کے مشارق و مغارب کو دیکھا۔ عنقریب میری اُمت کی حکومت وہاں تک پہنچے گی جہاں تک میرے لئے زمین لپیٹی گئی۔‘‘ اِس حدیث کو امام مسلم، ترمذی اور ابو داود نے روایت کیا ہے۔

67 /12. عَنْ أَبِي ذَرٍّ رضی الله عنه قَالَ: سَأَلْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه واله وسلم : هَلْ رَأَيْتَ رَبَّکَ؟ قَالَ: نُوْرٌ أَنّٰی أَرَاهُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَالْبَزَّارُ.

12: أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب الإيمان، باب في قوله: نور أني أراه وفي قوله: رأيت نورًا، 1 /161، الرقم: 178، والبزار في المسند، 9 /362، الرقم: 3931، وابن کثير في تفسير القرآن العظيم، 3 /10، والعسقلاني في فتح الباري، 8 /608.

’’حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے پوچھا: کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نور ہے اور میں نے اُس کو جہاں سے بھی دیکھا وہ نور ہی نور ہے۔‘‘

اِسے امام مسلم اور بزار نے روایت کیا ہے۔

68 /13. عَنْ عُمَرَ رضی الله عنه، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه واله وسلم : إِنَّ اﷲَ قَدْ رَفَعَ لِي الدُّنْيَا فَأَنَا أَنْظُرُ إِلَيْهَا وَإِلٰی مَا هُوَ کَائِنٌ فِيْهَا إِلٰی يَوْمِ الْقِيَامَةِ کَأَنَّمَا أَنْظُرُ إِلٰی کَفِّي هٰذِه.

رَوَاهُ الْهَيْثِمِيُّ وَأَبُوْ نُعَيْمٍ. وَقَالَ الْهَيْثَمِيُّ: رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُه وُثِّقُوْا.

13: أخرجه الهيثمي في مجمع الزوائد، 8 /287، وأبو نعيم في حلية الأولياء، 6 /101، ونعيم بن حماد في الفتن، 1 /27، الرقم: 2.

’’حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے میرے لئے دنیا اُٹھا کر میرے سامنے کر دی۔پس دنیا میں جو واقع ہو رہا ہے اور جو کچھ قیامت تک ہونے والا ہے میں اُسے یوں دیکھ رہا ہوں جیسے میں اپنی اِس ہتھیلی کو دیکھ رہا ہوں۔‘‘

اِس حدیث کو امام ہیثمی اور ابو نعیم نے روایت کیاہے۔ امام ہیثمی نے فرمایا: اِسے امام طبرانی نے روایت کیا ہے اور اِس کے راویوں کو ثقہ کہا گیا ہے۔

69 /14. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه واله وسلم يَرٰی بِاللَّيْلِ فِي الظُّلْمَةِ کَمَا يَرٰی بِالنَّهَارِ مِنَ الضَّوْء.

رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ وَالْهِنْدِيُّ وَالسُّيُوْطِيُّ.

14: أخرجه البيهقي في دلائل النبوة، 6 /75، والهندي في کنز العمال، 7 /160، الرقم: 18519، والمناوي في فيض القدير، 5 /214، والسيوطي في الخصائص الکبری /106، وأيضًا في الشمائل الشريفة /204، والصالحي في سبل الهدی والرشاد، 2 /24، وابن الملقن في غاية السول في خصائص الرسول صلی الله عليه واله وسلم / 77.

’’حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم رات کی تاریکی میں بھی اُسی طرح دیکھتے تھے جس طرح دن کے اُجالے میں دیکھتے تھے۔‘‘

اِسے امام بیہقی، ہندی اور سیوطی نے روایت کیا ہے۔

70 /15. عَنْ حَلِيْمَةَ رضي اﷲ عنها قَالَتْ: فَأَشْفَقْتُ أَنْ أُوْقِظَه مِنْ نَوْمِه لِحُسْنِه وَجَمَالِه، فَدَنَوْتُ مِنْهُ رُوَيْدًا، فَوَضَعْتُ يَدِي عَلٰی صَدْرِه، فَتَبَسَّمَ ضَاحِکاً، فَفَتَحَ عَيْنَيْهِ يَنْظُرُ إِلَيَّ، فَخَرَجَ مِنْ عَيْنَيْهِ نُوْرٌ حَتّٰی دَخَلَ خِـلَالَ السَّمَاءِ. رَوَاهُ النَّبْهَانِيُّ.

15: أخرجه النبهاني في الأنوار المحمدية /29

’’حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اﷲ عنہا (حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی پہلی زیارت کے تاثرات بیان کرتے ہوئے) فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو اُن کے حسن و جمال کی وجہ سے میں نے جگانا مناسب نہ سمجھا۔ پس میں آہستہ سے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے قریب ہوئی۔ میں نے اپنا ہاتھ آپ کے سینہ مبارک پر رکھا تو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم مسکرا کر ہنس پڑے اور آنکھیں کھول کر میری طرف دیکھنے لگے۔ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی آنکھوں سے ایک نور نکلا جو فضاے آسمانی میں داخل ہو گیا۔‘‘ اِسے امام نبہانی نے روایت کیا ہے۔

Copyrights © 2019 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved