حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شمائل مبارکہ

حضور (ص) کے سرِ اَنور اور موئے مبارک کا بیان

بَابٌ فِي وَصْفِ رَأْسِه صلی الله عليه واله وسلم وَشَعَرِه

{حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے سرِ اَنور اور موئے مبارک کا بیان}

44 /1. عَنْ عَلِيٍّ رضي الله عنه قَالَ: لَمْ يَکُنْ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه واله وسلم بِالطَّوِيْلِ وَلَا بِالْقَصِيْرِ، شَثْنَ الْکَفَّيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ، ضَخْمَ الرَّأْسِ.

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَحْمَدُ وَالْحَاکِمُ وَالْبُخَارِيُّ فِي الْکَبِيْرِ.

1: أخرجه الترمذي في السنن، کتاب المناقب، باب ما جاء في صفة النبي صلی الله عليه واله وسلم، 5 /598، الرقم: 3637، وأحمد بن حنبل في المسند، 1 /96، 127، الرقم: 746، 1053، والحاکم في المستدرک، 2 /662، الرقم: 4194، والبخاري في التاريخ الکبير، 1 /8، وأبويعلی في المسند، 1 /304، الرقم: 370، والبزار في المسند، 2 /18، الرقم: 474، والطيالسي في المسند، 1 /24، الرقم: 171، والبيهقي في شعب الإيمان،2 /149، الرقم: 1414.

’’حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نہ تو بہت دراز قد تھے اور نہ ہی پستہ قد، ہتھیلیاں اور قدم مبارک پُرگوشت تھے، سر مبارک (موزونیت کے ساتھ) بڑا تھا۔‘‘

اِس حدیث کو امام ترمذی، احمد، حاکم اور بخاری نے التاریخ الکبیر میں روایت کیا ہے۔

45 /2. عَنْ هِنْدِ بْنِ أَبِي هَالَةَ رضی الله عنه، قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه واله وسلم فَخْمًا مُفَخَّمًا، يَتَـلَأْلَأُ وَجْهُه، تَـلَأْلُوَ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، أَطْوَلُ مِنَ الْمَرْبُوْعِ، وَأَقْصَرُ مِنَ الْمُشَذَّبِ، عَظِيْمُ الْهَامَةِ، رَجِلُ الشَّعَرِ، إِنِ انْفَرَقَتْ عَقِيْقَتُه فَرَّقَهَا وَإِلَّا فَـلَا، يُجَاوِزُ شَعَرُه شَحْمَةَ أُذُنَيْهِ.

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ فِي الشَّمَائِلِ وَابْنُ حِبَّانَ وَالطَّبَرَانِيُّ.

2: أخرجه الترمذي في الشمائل المحمدية /37، الرقم: 8، وابن حبان في الثقات، 2 /145.146، والطبراني في المعجم الکبير، 22 /155.156، الرقم: 414، والبيهقي في شعب الإيمان، 2 /154.155، الرقم: 1430، وابن عساکر في تاريخ مدينة دمشق، 3 /277، 338، 344، 348، وابن سعد في الطبقات الکبری، 1 /422، والهيثمي في مجمع الزوائد، 8 /273.

’’حضرت ہند بن ابی ہالہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم ذی شان، معزز تھے، آپ کا چہرہ اَنور چودہویں رات کے چاند کی طرح چمکتا تھا۔ آپ میانہ قد آدمی سے قدرے لمبے اور دراز قد سے قدرے پست تھے (یعنی میانہ قد تھے)۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا سر مبارک اعتدال کے ساتھ بڑا تھا اور موئے مبارک خم دار تھے۔ اگر سر کی مانگ نکل آتی تو مانگ نکال لیتے ورنہ بغیر مانگ نکالے ہی چھوڑ دیتے۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بال کانوں کی لو سے بڑھے ہوئے ہوتے۔‘‘

اِسے امام ترمذی نے الشمائل المحمدیۃ میں اور ابن حبان اور طبرانی نے روایت کیا ہے۔

46 /3. عَنْ أَنَسٍ رضی الله عنه قَالَ: کَانَ النَّبِيُّ صلی الله عليه واله وسلم ضَخْمَ الْيَدَيْنِ، لَمْ أَرَ بَعْدَه مِثْلَه، وَکَانَ شَعَرُ النَّبِيِّ صلی الله عليه واله وسلم رَجِـلًا، لَا جَعْدَ وَلَا سَبِطَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

3: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب اللباس، باب الجعد، 5 /2212، الرقم : 5566، ومسلم في الصحيح، کتاب الفضائل، باب صفة شعر النبي صلی الله عليه واله وسلم، 4 /1819، الرقم: 2338، وابن سعد في الطبقات الکبری، 1 /412، والبيهقي في دلائل النبوة، 1 /220.

’’حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم بڑے ہاتھوں والے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بعد میں نے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم جیسا اور کوئی نہیں دیکھا اور آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے گیسوئے مبارک خم دار تھے نہ تو مکمل طور پر مڑے ہوئے (گھنگریالے) تھے اور نہ ہی بالکل سیدھے (بلکہ درمیانی نوعیت کے تھے)۔‘‘ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

47 /4. عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رضي اﷲ عنهما قَالَ: کَانَ النَّبِيُّ صلی الله عليه واله وسلم …لَه شَعَرٌ يَبْلُغُ شَحْمَةَ أُذُنَيْهِ، رَأَيْتُه فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ، لَمْ أَرَ شَيْئًا قَطُّ أَحْسَنَ مِنْهُ.

مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

4: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب المناقب، باب صفة النبي صلی الله عليه واله وسلم، 3 /1303، الرقم: 3358، ومسلم في الصحيح، کتاب الفضائل، باب في صفة النبي صلی الله عليه واله وسلم وأنّه کان أحسن الناس وجهًا، 4 /1818، الرقم: 2337، وأبو داود في السنن، کتاب اللباس، باب في الرخصة في ذلک، 4 /54، الرقم: 4072، وأحمد بن حنبل في المسند، 4 /281، الرقم: 18496، والترمذي في الشمائل المحمدية /30، الرقم: 3.

’’حضرت براء بن عازب رضی اﷲ عنہما بیان فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے گیسوئے مبارک کانوں کی لو تک پہنچتے تھے۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو سرخ جبے میں ملبوس دیکھا ہے اور (اِس حال میں) ہرگز کسی کو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے زیادہ حسین و جمیل نہیں دیکھا۔‘‘

یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

48 /5. عَنِ الْبَرَاءِ رضی الله عنه قَالَ: مَا رَأَيْتُ مِنْ ذِي لِمَّةٍ أَحْسَنَ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ مِنْ رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه واله وسلم، شَعْرُه يَضْرِبُ مَنْکِبَيْهِ، بَعِيْدَ مَا بَيْنَ الْمَنْکِبَيْنِ، لَيْسَ بِالطَّوِيْلِ وَلَا بِالْقَصِيْرِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ وَاللَّفْظُ لِمُسْلِمٍ.

5: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب اللباس، باب الجعد، 5 /2211، الرقم: 5561، ومسلم في الصحيح، کتاب الفضائل، باب في صفة النبي صلی الله عليه واله وسلم وأنه کان أحسن الناس وجهًا، 4 /1818، الرقم: 2337، والنسائي في السنن، کتاب الزينة، باب اتخاذ الشعر، 8 /133، الرقم: 5062، وأيضًا في باب اتخاذ الجمة، 8 /183، الرقم: 5233، وأبو داود في السنن، کتاب الترجل، باب ما جاء في الشعر، 4 /81، الرقم: 4183، وأحمد بن حنبل في المسند، 4 /290، الرقم: 18581، والترمذي في الشمائل المحمدية /73، الرقم: 65.

’’حضرت براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے کسی دراز گیسوؤں والے شخص کو سرخ پوشاک پہنے ہوئے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے زیادہ حسین نہیں دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بال مبارک کندھوں تک تھے اور دونوں کندھوں کے درمیان قدرے فاصلہ تھا، نہ تو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا قد مبارک لمبا تھا اور نہ چھوٹا (یعنی میانہ قد تھے) ۔‘‘

یہ حدیث متفق علیہ ہے اور مذکورہ الفاظ مسلم کے ہیں۔

49 /6. عَنْ عَائِشَةَ رضي الله عنها قَالَتْ: کَانَ لَه صلی الله عليه واله وسلم شَعْرٌ فَوْقَ الْجُمَّةِ وَدُوْنَ الْوَفْرَةِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه وَأَحْمَدُ.

6: أخرجه الترمذي في السنن، کتاب اللباس، باب ما جاء في الجمة واتخاذ الشعر، 4 /233، الرقم : 1755، وأبو داود في السنن، کتاب الترجل، باب ما جاء في الشعر، 4 /82، الرقم: 4187، وابن ماجه في السنن، کتاب اللباس، باب اتخاذ الجمة والذوائب، 2 /1200، الرقم: 3635، وأحمد بن حنبل في المسند، 6 /108، الرقم: 24812، والطبراني في المعجم الاوسط، 2 /5، الرقم: 1039، وابن عبد البر في التمهيد، 6 /81، وابن سعد في الطبقات الکبری، 1 /429.

’’حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ عنہا سے مروی ہے آپ بیان فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی زلفیں کانوں اور شانوں کے درمیان ہوا کرتی تھیں۔‘‘

اِس حدیث کو امام ترمذی، ابو داود، ابن ماجہ اور احمد نے روایت کیا ہے۔

50 /7. عَنْ أَبِي رِمْثَةَ رضی الله عنه قَالَ: انْطَلَقْتُ أَنَا وَأَبِي إِلٰی رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه واله وسلم، فَلَمَّا کُنَّا فِي بَعْضِ الطَّرِيْقِ فَلَقِيْنَاهُ، فَقَالَ لِي أَبِي: يَا بُنَيَّ، هٰذَا رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه واله وسلم، قَالَ: وَکُنْتُ أَحْسَبُ أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه واله وسلم لَا يُشْبِهُ النَّاسَ، فَإِذَا رَجُلٌ لَه وَفْرَةٌ بِهَا رَدْعٌ مِنْ حِنَّاءٍ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْنُ حِبَّانَ وَالطَّبَرَانِيُّ.

7: أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 2 /227، الرقم: 7114، وابن حبان في الصحيح، 13 /337، الرقم: 5995، والطبراني في المعجم الکبير، 22 /279، الرقم: 716، والبيهقي في السنن الکبری، 5 /412، الرقم: 9328، وابن سعد في الطبقات الکبری، 1 /438.

’’حضرت ابو رمثہ تمیمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں اور میرے والد حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بارگاہ میں حاضری کے لئے روانہ ہوئے، ہم راستے میں ہی تھے کہ ہماری آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے ملاقات ہو گئی، میرے والد نے مجھے بتایا: اے میرے بیٹے! یہ اﷲ تعالیٰ کے رسول ہیں۔ میرا گمان تھا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم عام لوگوں کے مشابہ نہیں ہوں گے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ایسے شخص تھے کہ جن کی زلفیں شانوں تک تھیں اور اُنہیں مہندی لگی ہوئی تھی۔‘‘ اِسے امام احمد، ابن حبان اور طبرانی نے روایت کیا ہے۔

51 /8. عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه واله وسلم مَرْبُوْعًا، بَعِيْدَ مَا بَيْنَ الْمَنْکَبَيْنِ، وَکَانَتْ جُمَّتُه تَضْرِبُ شَحْمَةَ أُذُنَيْهِ.

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ فِي الشَّمَائِلِ.

8: أخرجه الترمذي في الشمائل المحمدية /48، الرقم: 26.

’’حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم میانہ قد تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دونوں مبارک شانوں کے درمیان فاصلہ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی زلفیں آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے مبارک کانوں کی لو کو چھوتی تھیں۔‘‘

اِس حدیث کو امام ترمذی نے الشمائل المحمدیۃ میں روایت کیا ہے۔

Copyrights © 2019 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved