الاربعین فی فضائل النبی الامین

حضور ﷺ کی مبارک انگلیوں سے پانی کے چشمے پھوٹنے کا بیان

فَصْلٌ فِي نَبْعِ الْمَاءِ مِنْ بَیْنِ أَصَابِعِهِ صلی الله علیه وآله وسلم

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مبارک انگلیوں سے پانی کے چشمے پھوٹنے کا بیان

95/1. عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ ﷲِ رضي ﷲ عنهما قَالَ: عَطِشَ النَّاسُ یَوْمَ الْحُدَیْبِیَةِ، وَالنَّبِيُّ صلی الله علیه وآله وسلم بَیْنَ یَدَیْهِ رِکْوَةٌ فَتَوَضَّأَ، فَجَهِشَ النَّاسُ نَحْوَهُ، فَقَالَ: مَا لَکُمْ؟ قَالُوْا: لَیْسَ عِنْدَنَا مَاءٌ نَتَوَضَّأُ وَلَا نَشْرَبُ إِلَّا مَا بَیْنَ یَدَیْکَ، فَوَضَعَ یَدَهُ فِي الرِّکْوَةِ، فَجَعَلَ الْمَاءُ یَثُوْرُ بَیْنَ أَصَابِعِهِ کَأَمْثَالِ الْعُیُوْنِ، فَشَرِبْنَا وَتَوَضَّأْنَا قُلْتُ: کَمْ کُنْتُمْ؟ قَالَ: لَوْکُنَّا مِائَةَ أَلْفٍ لَکَفَانَا، کُنَّا خَمْسَ عَشْرَةَ مِائَةً.

رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَأَحْمَدُ.

أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب المناقب، باب علامات النبوة في الإسلام، 3/1310، الرقم: 3383، وفي کتاب المغازی، باب غزوة الحدیبیة، 4/1526، الرقم: 3921۔3923، وفي کتاب الأشربة، باب شرب البرکة والماءِ المبارک، 5/2135، الرقم: 5316، وفي کتاب التفسیر/الفتح، باب إِذْ یُبَایِعُوْنَکَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ: (18)، 4/1831، الرقم: 4560، وأحمد بن حنبل في المسند، 3/329، الرقم: 14562، وابن خزیمة في الصحیح، 1/65، الرقم: 125، وابن حبان في الصحیح، 14/480، الرقم: 6542، والدارمی في السنن، 1/21، الرقم: 27، وأبویعلی في المسند، 4/82، الرقم: 2107، والبیهقي في الاعتقاد، 1/272، وابن جعد في المسند، 1/29، الرقم: 82.

’’حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اﷲ عنہما فرماتے ہیں کہ حدیبیہ کے دن لوگوں کو پیاس لگی۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے پانی کی ایک چھاگل رکھی ہوئی تھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے وضو فرمایا: لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف جھپٹے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہیں کیا ہوا ہے؟ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمارے پاس وضو کے لئے پانی ہے نہ پینے کے لئے۔ صرف یہی پانی ہے جو آپ کے سامنے رکھا ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (یہ سن کر) دستِ مبارک چھاگل کے اندر رکھا تو فوراً چشموں کی طرح پانی انگلیوں کے درمیان سے جوش مار کر نکلنے لگا چنانچہ ہم سب نے (خوب پانی) پیا اور وضو بھی کر لیا۔ (سالم راوی کہتے ہیں) میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: اس وقت آپ کتنے آدمی تھے؟ انہوں نے کہا: اگر ہم ایک لاکھ بھی ہوتے تب بھی وہ پانی سب کے لئے کافی ہو جاتا، جبکہ ہم تو پندرہ سو تھے۔‘‘

اس حدیث کو امام بخاری اور احمد نے روایت کیا ہے۔

Copyrights © 2019 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved