الاربعین فی فضائل النبی الامین

حضور ﷺ کے ذاتی شرف و کمال اور حسب و نسب کی افضلیت کا بیان

فَصْلٌ فِي کَوْنِهِ صلی الله علیه وآله وسلم خَیْرَ الْخَلْقِ نَفْساً وَبَیْتًا

حضو صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذاتی شرف و کمال اور حسب و نسب کی افضلیت کا بیان

13/1. عَنْ أَبِي هُرَیْرَةَ رضی الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم قَالَ: بُعِثْتُ مِنْ خَیْرِ قُرُوْنِ بَنِي آدَمَ قَرْنًا فَقَرْنًا، حَتّٰی کُنْتُ مِنَ الْقَرْنِ الَّذِي کُنْتُ فِیْهِ.

رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَأَحْمَدُ.

 أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب المناقب، باب صفة النبي صلی الله علیه وآله وسلم، 3/1305، الرقم: 3364، وأحمد بن حنبل في المسند، 2/373، الرقم: 8844، 9381، وأبو یعلی في المسند، 11/431، الرقم: 6553، والبیهقي في شعب الإیمان، 2/139، الرقم: 1392، وفي دلائل النبوة، 1/175، وابن سعد في الطبقات الکبری، 1/24، وابن حبان في طبقات المحدثین بأصبهان، 4/275،والقاضي عیاض في الشفا، 1/125، وابن عساکر في تاریخ مدینة دمشق، 43/95، وابن کثیر في تفسیر القرآن العظیم، 2/174، وفي البدایة والنهایة، 2/256، والقیسراني في تذکرة الحفاظ، 4/1254.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے نوعِ انسانی کے بہترین زمانہ میں مبعوث کیا گیا۔ زمانوں پر زمانے گزرتے رہے یہاں تک کہ مجھے اس زمانہ میں رکھا گیا جس میں، میں اب موجود ہوں۔‘‘

اس حدیث کو امام بخاری اور احمد نے روایت کیا ہے۔

14/2. عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ رضی الله عنه قَالَ: جَاءَ الْعَبَّاسُ إِلَی رَسُوْلِ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم فَکَأَنَّهُ سَمِعَ شَیْئًا، فَقَامَ النَّبِيُّ صلی الله علیه وآله وسلم عَلَی الْمِنْبَرِ فَقَالَ: مَنْ أَنَا؟ فَقَالُوْا: أَنْتَ رَسُوْلُ ﷲِ عَلَیْکَ السَّلَامُ، قَالَ: أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ ﷲِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، إِنَّ ﷲَ خَلَقَ الْخَلْقَ فَجَعَلَنِي فِي خَیْرِهِمْ فِرْقَةً، ثُمَّ جَعَلَهُمْ فِرْقَتَیْنِ فَجَعَلَنِي فِي خَیْرِهِمْ فِرْقَةً، ثُمَّ جَعَلَهُمْ قَبَائِلَ، فَجَعَلَنِي فِي خَیْرِهِمْ قَبِیْلَةً، ثُمَّ جَعَلَهُمْ بُیُوْتًا فَجَعَلَنِي فِي خَیْرِهِمْ بَیْتًا وَخَیْرِهِمْ نَفْسًا.

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَحْمَدُ. وَقَالَ أَبُوْ عِیْسَی: هَذَا حَدِیْثٌ حَسَنٌ.

 أخرجه الترمذي في السنن، کتاب المناقب، باب في فضل النبي صلی الله علیه وآله وسلم، 5/584، الرقم:3608، وأحمد بن حنبل في المسند، 1/210، الرقم: 1788 والبیهقي في دلائل النبوة، 1/149، والدیلمي في مسند الفردوس، 1/41، الرقم: 95، والقاضي عیاض في الشفا، 1/126، والحسیني في البیان والتعریف، 1/178، الرقم: 466، والهندي في کنز العمال، 11/415، الرقم: 31950.

’’حضرت مطلب بن ابی وداعہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ایسا لگ رہا تھا گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (اس وقت کافروں سے) کوئی ناگوار بات سنی تھی (اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت جلال کی حالت میں تھے، پس واقعہ پر مطلع ہو کر) حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہوئے اور فرمایا: میں کون ہوں؟ صحابہ کرام ث نے عرض کیا: آپ پر سلامتی ہو، آپ رسولِ خدا ہیں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں (رسولِ خدا تو ہوں ہی اس کے علاوہ نسبًا میں) محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب ہوں۔ جب خدا نے مخلوق کو پیدا کیا تومجھے بہترین خلق (یعنی انسانوں) میں پیدا کیا، پھر مخلوق کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا (یعنی عرب و عجم)، تو مجھے بہترین طبقہ (یعنی عرب) میں رکھا۔ پھر ان کے مختلف قبائل بنائے تو مجھے بہترین قبیلہ (یعنی قریش) میں پیدا کیا، پھر ان کے گھرانے بنائے تو مجھے (ان میں سے) بہترین گھرانہ میں پیدا کیا اور ان میں سے بہترین نسب والا بنایا، (اس لئے میں ذاتی شرف اور حسب و نسب کے لحاظ سے تمام مخلوق سے افضل ہوں)۔‘‘

اس حدیث کو امام ترمذی اور احمد نے روایت کیا ہے، نیز امام ابو عیسی نے فرمایا کہ یہ حدیث حسن ہے۔

15/3. عَنْ رَبِیْعَةَ بْنِ الْحَرَثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رضی الله عنه قَالَ: بَلَغَ النَّبِیَّ صلی الله علیه وآله وسلم أَنَّ قَوْمًا نَالُوْا مِنْهُ فَغَضِبَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم ثُمَّ قَالَ: أَیُّهَا النَّاسُ، إِنَّ ﷲَ خَلَقَ خَلْقَهُ فَجَعَلَهُمْ فِرْقَتَیْنِ فَجَعَلَنِي فِي خَیْرِ الْفِرْقَتَیْنِ ثُمَّ جَعَلَهُمْ قَبَائِلَ فَجَعَلَنِي فِي خَیْرِهِمْ قَبِیْلًا ثُمَّ جَعَلَهُمْ بُیُوْتًا فَجَعَلَنِي فِي خَیْرِهِمْ بَیْتًا ثُمَّ قَالَ رَسُوْل ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم: أَنَا خَیْرُکُمْ قَبِیْلًا وَخَیْرُکُمْ بَیْتًا.

رَوَاهُ الْحَاکِمُ.

 أخرجه الحاکم في المستدرک، 3/275، الرقم: 5077، والسیوطي في الدر المنثور، 4/330

’’حضرت ربیعہ بن حرث بن عبد المطلب سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ اطلاع ملی کہ کچھ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس پر انگلی اٹھائی ہے۔ پس حضور علیہ الصلاۃ والسلام غصہ ہوئے فرمایا: اے لوگو! جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا فرمایا تو اسے دو حصوں میں تقسیم فرمایا (یعنی عرب و عجم) تو مجھے ان دونوں میں سے بہترین گروہ (بھی عرب) میں رکھا پھر ان کے مختلف قبائل بنائے تو مجھے بہترین قبیلہ (یعنی قریش) میں پیدا فرمایا۔ پھر ان کے گھرانے بنائے تو مجھے (ان میں سے) بہترین گھرانہ میں پیدا کیا۔ پھر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تم میں سے بہترین قبیلہ اور بہترین گھرانہ والا ہوں۔‘‘

اس حدیث کو امام حاکم نے روایت کیا ہے۔

16/4. عَنْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ رَبِیْعَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم: أَیُّهَا النَّاسُ مَنْ أَنَا؟ قَالُوْا: أَنْتَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم قَالَ: أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ ﷲِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ. قَالَ: فَمَا سَمِعْنَاهُ قَطُّ یَنْتَمِي قَبْلَهَا، أَلَا إِنَّ ﷲَ تعالیٰ خَلَقَ خَلْقَهُ، فَجَعَلَنِي مِنْ خَیْرِ خَلْقِهِ، ثُمَّ فَرَّقَهُمْ فِرْقَتَیْنِ فَجَعَلَنِي مِنْ خَیْرِ الْفِرْقَتَیْنِ، ثُمَّ جَعَلَهُمْ قَبَائِلَ فَجَعَلَنِي مِنْ خَیْرِهِمْ قَبِیْلَةً، ثُمَّ جَعَلَهُمْ بُیُوْتًا فَجَعَلَنِي مِنْ خَیْرِهِمْ بَیْتًا، وَأَنَا خَیْرُکُمْ بَیْتًا وَخَیْرُکُمْ نَفْسًا.

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَالْحَاکِمُ وَأَبُوْ نُعَیْمٍ وَابْنُ أَبِي شَیْبَةَ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِیْحِ.

 أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 4/165، والطبراني في المعجم الکبیر، 20/286، الرقم: 675-676، والحاکم في المستدرک، 3/275، الرقم: 5077، وأبو نعیم في دلائل النبوة، 1/58، الرقم: 16، وابن أبي عاصم في السنة، 2/632، الرقم: 1497، وابن أبي شیبة في المصنف، 6/303، الرقم: 31639، والشیباني في الآحاد والمثاني، 1/318، الرقم: 439، وابن کثیر في تفسیر القرآن العظیم، 2/174، والسیوطي في الدر المنثور، 3/ 294-295، 4/ 128-201.

’’حضرت عبد المطلب بن ربیعہ بن حارث بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے لوگو! میں کون ہوں؟ انہوں نے عرض کیا: آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں محمد بن عبد اﷲ بن عبد المطلب ہوں۔ راوی نے بیان کیا کہ (پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:) جان لو، بے شک اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوقات کو پیدا فرمایا تو مجھے اپنی بہترین مخلوق (بنی نوع انسان) میں پیدا فرمایا، پھر ان میں دو گروہ (عرب و عجم) بنائے تو مجھے ان دو میں سے بہترین گروہ (عربوں) میں پیدا کیا، پھر اس نے ان کے قبائل بنائے تو مجھے ان میں سے بہترین قبیلہ (قریش) میں پیدا کیا، پھر ان میں خاندان بنائے تو مجھے ان میں سے بہترین گھرانہ (بنو ہاشم) میں پیدا کیا، جان لو! کہ میں تم میں سے گھرانے اور نسب دونوں حوالوں سے بہترین ہوں۔‘‘

اس حدیث کو امام احمد، طبرانی، حاکم، ابو نعیم اور ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے اور اس کے رجال صحیح حدیث کے رجال ہیں۔

17/5. عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ وَعَنْ أَبِي بَکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ رضي اﷲ عنهما قَالَا: بَلَغَ النَّبِيَّ صلی الله علیه وآله وسلم، أَنَّ رِجَالًا مِنْ کِنْدَةَ یَزْعَمُوْنَ أَنَّهُ مِنْهُمْ، فَقَالَ إِنَّمَا کَانَ یَقُوْلُ ذَاکَ الْعَبَّاسُ، وَأَبُوْ سُفْیَانَ بْنُ حَرْبٍ إِذَا قَدِمَا الْمَدِیْنَةَ لِیَأْمَنَا بِذَلِکَ، وَإِنَّا لَنْ نَنْتَفِيَ مِنْ آبَائِنَا، نَحْنُ بَنُو النَّضْرِ بْنِ کِنَانَةَ. قَالَ: وَخَطَبَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم، فَقَالَ: أَنَا مُحَمَّدُ، بْنُ عَبْدِ ﷲِ، بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، بْنِ هَاشِمِ، بْنِ عَبْدِ مَنَافِ، ابْنِ قُصَيِّ، بْنِ کِلَابِ، بْنِ مُرَّةَ، بْنِ کَعْبِ، بْنِ لُؤَيِّ، بْنِ غَالِبِ، بْنِ فِهْرِ، ابْنِ مَالِکِ، بْنِ النَّضْرِ، بْنِ کِنَانَةَ، بْنِ خُزَیْمَةَ، بْنِ مُدْرِکَةَ، بْنِ إِلْیَاسَ، بْنِ مُضَرَ، بْنِ نِزَارٍ، وَمَا افْتَرَقَ النَّاسُ فِرْقَتَیْنِ إِلَّا جَعَلَنِيَ ﷲُ فِي خَیْرِهِمَا، فَأُخْرِجْتُ مِنْ بَیْنِ أَبَوَیْنِ، فَلَمْ یُصِبْنِي شَيئٌ مِنْ عَهْدِ الْجَاهِلِیَّةِ. وَخَرَجْتُ مِنْ نِکَاحٍ، وَلَمْ أَخْرُجْ مِنْ سِفَاحٍ، مِنْ لَدُنْ آدَمَ، حَتَّی انْتَهَیْتُ إِلَی أَبِي وَأُمِّي، فَأَنَا خَیْرُکُمْ نَفْسًا وَخَیْرُکُمْ أَبًا.

رَوَاهُ الْحَاکِمُ وَالْبَیْهَقيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ وَابْنُ عَسَاکِرَ.

 أخرجه البیهقي في دلائل النبوة، 1/174، وابن عساکر في تاریخ مدینة دمشق، 3/29، والحاکم في معرفة علوم الحدیث، 1/171، والحسیني في البیان والتعریف، 1/294، الرقم: 784، والمناوي في فیض القدیر، 3/37، وابن کثیر في البدایة والنهایة، 2/255.

’’حضرت انس بن مالک اور حضرت ابو بکر بن عبد الرحمن بن حارث بن ہشامث سے مروی ہے وہ دونوں فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خبر پہنچی کہ بنو کندہ کے بعض لوگوں کا خیال ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے قبیلہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس طرح عباس اور ابو سفیان بن حرب بھی کہا کرتے تھے جب وہ مدینہ منورہ آئے تاکہ انہیں اس طرح کہنے سے پناہ ملے، (آگاہ ہو جاؤ) ہم اپنے آباء اجداد سے جدائی اختیار نہیں کرتے، ہم بنو نضر بن کنانہ میں سے ہیں۔ راوی نے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں محمد بن عبد اﷲ بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبد مناف بن قصی بن کلاب بن مُرّہ بن کعب بن لوئ بن غالب بن فہر بن مالک بن نضر بن کنانہ بن خزیمہ بن مدرکہ بن الیاس بن مضر بن نزار ہوں اور جب بھی لوگوں کے دو گروہ بنے تو اﷲ تعالیٰ نے مجھے ان میں سے بہترین گروہ میں رکھا پس میں اپنے والدین سے پیدا ہوا ہوں میری پیدائش میں زمانہ جاہلیت کی بدکاری میں سے ایک ذرہ بھی شامل نہیں۔ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر اپنے والدین تک نسل در نسل میں بطریقِ نکاح پیدا ہوا ہوں نہ کہ بدکاری سے بس میں خاندان اور اصل کے اعتبار سے تم سب سے بہترین ہوں۔‘‘

اس حدیث کو امام حاکم، بیہقی نے مذکورہ الفاظ کے ساتھ اور ابن عساکر نے روایت کیا ہے۔

18/6. عَنْ عَبْدِ ﷲِ بْنِ عُمَرَ رضي اﷲ عنهما قَالَ: إِنَّا لَقُعُوْدٌ بِفَنَاءِ رَسُوْلِ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم فذکر الحدیث إلی أن قال: عَنِ النَّبِيِّ صلی الله علیه وآله وسلم قَالَ: إِنَّ ﷲَ خَلَقَ السَّمَوَاتِ سَبْعًا، فَاخْتَارَ الْعُلْیَا فَسَکَنَهَا وَأَسْکَنَ سَائِرَ سَمَاوَاتِهِ مَنْ شَاءَ مِنْ خَلْقِهِ وَخَلَقَ الْأَرْضِیْنَ سَبْعًا، فَاخْتَارَ الْعُلْیَا وَأَسْکَنَهَا مَنْ شَاءَ مِنْ خَلْقِهِ، ثُمَّ خَلَقَ الْخَلْقَ وَاخْتَارَ مِنَ الْخَلْقِ بَنِي آدَمَ، فَاخْتَارَ مِنْ بَنِي آدَمَ الْعَرَبَ، وَاخْتَارَ مِنَ الْعَرَبِ مُضَرَ، وَاخْتَارَ مِنْ مُضَرَ قُرَیْشًا، وَاخْتَارَ مِنْ قُرَیْشٍ بَنِي هَاشِمٍ، وَاخْتَارَنِي مِنْ بَنِي هَاشِمٍ، فَأَنَا مِنْ خِیَارٍ إِلَی خِیَارٍ، فَمَنْ أَحَبَّ الْعَرَبَ فَلِحُبِّي أَحَبَّهُمْ وَمَنْ أَبْغَضَ الْعَرَبَ فَلِبُغْضِي أَبْغَضَهُمْ.

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْحَاکِمُ وَالْبَیْهَقِيُّ وَأَبُوْ نُعَیْمٍ.

 أخرجه الطبراني في المعجم الأوسط، 6/199، الرقم: 6182، وفي المعجم الکبیر، 12/455، الرقم: 13650، والحاکم في المستدرک، 4/83، الرقم: 6953، وأبو نعیم في دلائل النبوة، 1/25، والبیهقي في شعب الإیمان، 2/139،229، الرقم: 1393، 1606، وفي دلائل النبوة، 1/170، وابن عدي في الکامل، 2/248، الرقم: 422، والحاکم في معرفة علوم الحدیث، 1/166، والهیثمي في مجمع الزوائد، 8/215.

’’حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے کہ ہم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر کے صحن میں بیٹھے ہوئے تھے۔ پھر انہوں نے طویل حدیث بیان کی، یہاں تک کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اﷲ تعالیٰ نے سات آسمانوں کو پیدا فرمایا، تو ان میں سب سے بلند آسمان کو چن لیا اور اس پر (اپنی شان کے لائق) سکونت اختیار کی اور اپنے تمام (دیگر) آسمانوں پر اپنی مخلوق میں سے جسے چاہا قیام بخشا اور اﷲ تعالیٰ نے سات زمینیں پیدا کیں تو ان میں سے سب سے بلند کو چنا اور اس پر اپنی مخلوق میں سے جسے چاہا سکونت بخشی، پھر مخلوقات کو پیدا فرمایا تو مخلوقات میں سے بنی آدم کو منتخب کیا، بنی آدم میں سے عرب کو چنا اور عرب میں سے مضر کو چنا اور مضر میں سے قریش کو چنا اور قریش میں سے بنو ہاشم کو چنا اور بنو ہاشم میں سے مجھے منتخب فرمایا، سو میں نسل در نسل بہترین سے بہترین کی طرف منتقل ہوتا رہا۔ لہٰذا جو عرب سے محبت رکھے وہ میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت رکھے اور جو عرب سے بغض رکھے وہ میری وجہ سے ان سے بغض رکھے۔‘‘

اس حدیث کو امام طبرانی، حاکم، بیہقی اور ابو نعیم نے روایت کیا ہے۔

19/7. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي اﷲ عنهما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم: لَمْ یَلْتَقِ أَبَوَايَ فِي سِفَاحٍ لَمْ یَزَلِ ﷲُ تعالیٰ یَنْقُلُنِي مِنْ أَصْلَابٍ طَیِّبَةٍ إِلَی أَرْحَامٍ طَاهِرَةٍ صَافِیًا مُهَذَّبًا لَا تَتَشَعَّبُ شُعْبَتَانِ إِلَّا کُنْتُ فِي خَیْرِهِمَا.

رَوَاهُ أَبُوْ نُعَیْمٍ.

 أخرجه أبونعیم في دلائل النبوة، 1/24، والکلاعي في الاکتفاء، 1/11، والسیوطي في الدر المنثور، 4/328، والمناوي في فیض القدیر، 3/437.

’’حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے والدین کبھی بھی بغیر نکاح کے نہیں ملے۔ اﷲ تعالیٰ ہمیشہ مجھے پاک پشتوں سے پاکیزہ رحموں میں منتقل فرماتا رہا، جب بھی لوگوں کے دو گروہ ہوئے تو مجھے ان میں سے بہترین گروہ میں رکھا گیا۔‘‘

اس حدیث کو امام ابو نعیم نے روایت کیا ہے۔

20/8. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي اﷲ عنہما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم: خَیْرُ الْعَرَبِ مُضَرُ، وَخَیْرُ مُضَرَ بَنُوْ عَبْدِ مَنَافٍ، وَخَیْرُ بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ، بَنُوْ هَاشِمٍ، وَخَیْرُ بَنِي هَاشِمٍ بَنُوْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَﷲِ، مَا افْتَرَقَ شُعْبَتَانِ مُنْذُ خَلَقَ ﷲُ آدَمَ إِلَّا کُنْتُ فِي خَیْرِهِمَا. رَوَاهُ ابْنُ سَعْدٍ کَمَا قَالَ السُّیُوْطِيُّ.

 أخرجه السیوطي في الدر المنثور، 4/296 وفي الخصائص الکبری، 1/64، والحلبي في السیرة، 1/46.

’’حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عرب میں سے بہترین لوگ مضر ہیں، اور مضر میں سے بہترین لوگ بنو عبد مناف ہیں، اور بنو عبد مناف میں سے بہترین لوگ بنو ہاشم ہیں، اور بنو ہاشم میں سے بہترین لوگ بنو عبد المطلب ہیں اور بخدا! حضرت آدم علیہ السلام کی خلقت سے اب تک کوئی دو گروہ جدا نہیں ہوئے مگر میں ان دونوں میں سے بہترین میں رہا۔‘‘

اسے امام ابن سعد نے روایت کیا ہے، جیسا کہ امام سیوطی نے فرمایا ہے۔

21/9. عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم: إِنَّ ﷲَ اخْتَارَ الْعَرَبَ فَاخْتَارَ مِنْهُمْ کِنَانَةَ ثُمَّ اخْتَارَ مِنْهُمْ قُرَیْشًا ثُمَّ اخْتَارَ مِنْهُمْ بَنِي هَاشِمٍ ثُمَّ اخْتَارَنِي مِنْ بَنِي هَاشِمٍ.

رَوَاهُ ابْنُ سَعْدٍ وَالْبَیْهَقِيُّ.

أخرجه ابن سعد في الطبقات الکبریٰ، 1/20 والبیهقي في السنن الکبریٰ، 7/134، الرقم: 13543، والسیوطي في الدر المنثور، 4/329.

’’حضرت محمد بن علی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے (فضیلت کے اعتبار سے اپنی مخلوقات میں سے) عرب کو چنا اور عرب میں سے قبیلہ کنانہ کو چنا اور کنانہ میں سے قبیلہ قریش کو چنا اور قریش میں سے بنوہاشم کو چنا اور بنو ہاشم میں سے مجھے منتخب کیا۔‘‘

اس حدیث کو امام ابن سعد اور مام بیہقی نے روایت کیا ہے۔

22/10. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي اﷲ عنهما أَنَّ قُرَیْشًا کَانَتْ نُوْرًا بَیْنَ یَدَيِ ﷲِ تَعَالَی قَبْلَ أَنْ یَخْلُقَ الْخَلْقَ بِأَلْفَي عَامٍ یُسَبِّحُ ذَلِکَ النُّوْرُ وَتُسَبِّحُ الْمَـلَائِکَةُ بِتَسْبِیْحِهِ، فَلَمَّا خَلَقَ ﷲُ آدَمَ علیه السلام. أَلْقَی ذَلِکَ النُّوْرَ فِي صُلْبِهِ. قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم: فَأَهْبَطَنِيَ ﷲُ إِلَی الْأَرْضِ فِي صُلْبِ آدَمَ علیه السلام. وَجَعَلَنِي فِي صَُلْبِ نُوْحٍ علیه السلام، وَقُذِفَ بِي فِي صُلْبِ إِبْرَاهِیْمَ علیه السلام ثُمَّ لَمْ یَزَلِ ﷲُ یَنْقُلُنِي مِنَ الْأَصْلَابِ الْکَرِیْمَةِ إِلَی الْأَرْحَامِ الطَّاهِرَةِ حَتَّی أَخْرَجَنِي مِنْ بَیْنِ أَبَوَيَّ لَمْ یَلْتَقِیَا عَلَی سِفَاحٍ قَطُّ.

رَوَاهُ أَبُوْ سَعْدٍ وَالسُّیُوْطِيُّ.

 أخرجه أبو سعد النیشابوري في شرف المصطفی صلی الله علیه وآله وسلم، 1/304، الرقم: 78، والسیوطي في الدر المنثور، 4/298 وفي الخصائص الکبری، 1/66، والحلبي في السیرة، 1/42.

’’حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے کہ بے شک مخلوقات کی پیدائش سے دو ہزار سال قبل قریش اللہ تعالیٰ کے سامنے ایک نور تھا۔ یہ نور (اللہ تعالیٰ کی) تسبیح بیان کیا کرتا اور فرشتے بھی اس کی تسبیح جیسی تسبیح بیان کیا کرتے تھے، سو جب اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا تو اس نور کو ان کی پشت میں منتقل کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کی پشت میں مجھے زمین پر اتار دیا اور مجھے حضرت نوح علیہ السلام کی پشت میں ڈالا گیا۔ پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ مجھے مکرم پشتوں سے پاکیزہ رحموں میں منتقل کیا، یہاں تک کہ مجھے اپنے والدین سے پیدا فرمایا۔ وہ دونوں بدکاری پر کبھی بھی نہیں ملے۔‘‘

اس حدیث کو امام ابو سعد نیشاپوری اورامام سیوطی نے روایت کیا ہے۔

23/11. عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ حُسَیْنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍث: أَنَّ النَّبِيَّ صلی الله علیه وآله وسلم قَالَ: قَسَمَ ﷲُ الْأَرْضَ نِصْفَیْنِ فَجَعَلَنِي فِي خَیْرِهِمَا، ثُمَّ قَسَمَ النِّصْفَ عَلَی ثَـلَاثَةٍ فَکُنْتُ فِي خَیْرِ ثُـلُثٍ مِنْهَا، ثُمَّ اخْتَارَ الْعَرَبَ مِنَ النَّاسِ، ثُمَّ اخْتَارَ قُرَیْشًا مِنَ الْعَرَبِ، ثُمَّ اخْتَارَ بَنِي هَاشِمٍ مِنْ قُرَیْشٍ، ثُمَّ اخْتَارَ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ، ثُمَّ اخْتَارَنِي مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ.

رَوَاهُ ابْنُ سَعْدٍ وَالسُّیُوْطِيُّ.

أخرجه ابن سعد في الطبقات الکبری، 1/20، والسیوطي في الدرالمنثور، 4/329.

’’حضرت محمد بن علی بن حسین بن علی بن ابی طالب ث سے مروی ہے کہ بیشک حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے زمین کو دو حصوں میں تقسیم کیا تو مجھے ان دونوں میں سے بہترین حصہ میں رکھا، پھر اس ایک حصہ کو مزید تین حصوں میں تقسیم کیا تو مجھے ان تینوں میں سے بہترین حصہ میں رکھا، پھر (اللہ تعالیٰ نے) لوگوں میں سے عرب کو پسند کیا، پھر عرب میں سے قریش کو پسند کیا، پھر قریش میں سے بنو ہاشم کو پسند کیا، پھر بنو ہاشم میں سے بنو عبد المطلب کو پسند کیا پھر بنو عبد المطلب میں سے مجھے (اپنا حبیب) چن لیا۔‘‘

اس حدیث کو امام ابن سعد اورامام سیوطی نے روایت کیا ہے۔

24/12. عَنْ عَبْدِ ﷲِ بْنِ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم إِنَّ ﷲَ اخْتَارَ الْعَرَبَ فَاخْتَارَ کِنَانَةَ مِنَ الْعَرَبِ وَاخْتَارَ قُرَیْشًا مِنْ کِنَانَةَ وَاخْتَارَ بَنِي هَاشِمٍ مِنْ قُرَیْشٍ وَاخْتَارَنِي مِنْ بَنِي هَاشِمٍ.

رَوَاهُ ابْنُ سَعْدٍ وَالسُّیُوْطِيُّ.

أخرجه ابن سعد في الطبقات الکبریٰ، 1/21، والسیوطي في الدر المنثور، 4/329.

’’حضرت عبد اللہ بن عبید بن عمیر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے (فضیلت کے اعتبار سے اپنی مخلوقات میں سے) عرب کو چنا اور عرب میں سے قبیلہ کنانہ کو چنا اور کنانہ میں سے قبیلہ قریش کو چنا اور قریش میں سے بنوہاشم کو چنا اور بنو ہاشم میں سے مجھے منتخب کیا۔‘‘

اس حدیث کو امام ابن سعد اور سیوطی نے روایت کیا ہے۔۔

25/13. عَنْ قَتَادَةَ رضی الله عنه قَالَ: ذُکِرَ لَنَا أَنَّ رَسُوْلَ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم قَالَ: إِذَا أَرَادَ ﷲُ أَنْ یَبْعَثَ نَبِیًّا نَظَرَ إِلَی خَیْرِ أَهْلِ الْأَرْضِ قَبِیْلَةً فَیَبْعَثُ خَیْرَهَا رَجُلًا.

رَوَاهُ ابْنُ سَعْدٍ وَالسُّیُوْطِيُّ.

أخرجه ابن سعد في الطبقات الکبریٰ، 1/24، والسیوطي في الدر المنثور، 4/330.

’’حضرت قتادہ روایت کرتے ہیں کہ ہمیں بتلایا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کسی نبی کو مبعوث فرمانے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ زمین میں سے بہترین قبیلہ کو چن لیتا ہے پھر ان کے بہترین فرد کو نبی بنا کر مبعوث فرماتا ہے۔‘‘

اس حدیث کو امام ابن سعد ور سیوطی نے روایت کیا ہے۔

26/14. عَنْ أَبِي هُرَیْرَةَ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم: مَا وَلَدَتْنِي بَغِيٌّ قَطُّ مُذْ خَرَجْتُ مِنْ صُلْبِ أَبِي آدَمَ، وَلَمْ تَزَلْ تُنَازِعُنِيَ الْأُمَمُ کَابِرًا عَنْ کَابِرٍ حَتَّی خَرَجْتُ مِنْ أَفْضَلِ حَیَّیْنِ مِنَ الْعَرَبِ: هَاشِمٌ وَزُهْرَةُ.

رَوَاهُ ابْنُ عَسَاکِرَ وَالسُّیُوْطِي.

أخرجه ابن عساکر في تاریخ مدینة دمشق، 3/226، والسیوطي في الدر المنثور، 4/329 وفي الخصائص الکبری، 1/66.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے (میری اُمہات میں سے کسی) بدکار عورت نے کبھی جنم نہیں دیا جب سے میں حضرت آدم علیہ السلام کی پشت سے پیدا ہوا ہوں، اور میں ہمیشہ (نسل در نسل) اعلیٰ سے اعلیٰ (افراد) کی طرف منتقل ہوتا رہا یہاں تک کہ میں عرب کے سب سے افضل دو قبیلوں ہاشم و زہرہ میں پیدا ہوا۔‘‘

اس حدیث کو امام ابن عساکر اور سیوطینے روایت کیا ہے۔

Copyrights © 2019 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved