بد انتظامی یا عذاب الٰہی! نجات کیسے ممکن ہے؟

ہمیں کیا کرنا ہے؟

ہمیں کیا کرنا ہے؟

اپنی غلطیوں اور گناہوں کے اِدراک کے بعد ہمیں چاہیے کے ہم اللہ رب العزت کی بارگاہ میں سر بسجود ہو جائیں، گڑگڑا کر اپنے گناہوں کی معافی مانگیں۔ وہ غفور ہے، رحیم ہے، معاف کرنے والا ہے۔ اگر ہم نے اخلاص کے ساتھ توبہ کر لی تو وہ توبہ قبول کرنے والا ہے۔

یاد رکھیں! حقیقی توبہ وہی ہوتی ہے جس میں انسان اس عمل کو دوبارہ نہ دہرائے۔ ساتھ ہی ہمیں یہ عزم و ارادہ اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں یہ وعدہ کرنا ہوگا کہ ہم آئندہ اس گناہ کے مرتکب نہیں ہوں گے۔ اس کے بعد ہمیں اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے احکامات کی پیروی کے لیے تیار کرنا ہو گا، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے اَحکامات کی پیروی کے بغیر ہم کامیاب اور کامران نہیں ہو سکتے۔ اس لیے ہمیں اپنے آپ کو ’اَمر بالمعروف و نہی عن المنکر‘ کے فریضہ کی ادائیگی کے لیے تیار کرنا ہوگا اور عملاً میدان میں نکل کر لوگوں کو اس گناہ سے بچنے کی تلقین کرنا ہوگی تاکہ لوگوں کو ووٹ کے ذریعے گناہوں میں معاونت سے روکا جاسکے اور اس نظامِ انتخاب کے خلاف اُٹھ کھڑا ہونے کے لیے اُبھارا جائے۔

یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ قانون کی پاسداری اور امن و امان کا تحفظ بنیادی اِسلامی تعلیمات ہیں۔ اس لیے ہم کسی طرح کی بھی لاقانونیت یا نقص اَمن کے نہ حامی ہیں اور نہ ہی اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ چونکہ موجودہ نظامِ انتخابات تمام برائیوں کی جڑ ہے۔ اس نظام میں کرپٹ لوگ ہی اسمبلی میں جاسکتے ہیں۔ موجودہ نظام، ظلم، نا انصافی، اقربا پروری، رشوت ستانی اور استحصال پر مبنی ہے۔ اس نظام میں پڑھے لکھے اور با صلاحیت نوجوان ملکی ترقی میں کردار ادا نہیں کرسکتے صرف جاگیردار، بدکردار اور سرمایہ دارانہ سوچ کے حامل چند خاندان ہی ملکی تقدیر کے مالک بنے ہوئے ہیں۔ ہم پر لازم ہے آزادیِ اِظہارِ رائے کے حق کے اِستعمال کرتے ہوئے کرپٹ اور استحصالی نظام کے خلاف پر امن جدوجہد کے لیے اٹھ کھڑے ہوں۔

Copyrights © 2020 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved