بد انتظامی یا عذاب الٰہی! نجات کیسے ممکن ہے؟

ہمارا گناہ کیا ہے؟

ہمارا گناہ کیا ہے؟

اب ہمارے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ آخر ہمارا گناہ کیا ہے ؟ اِس سوال کا جواب تلاش کرنے سے قبل یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ گناہ یا اعمال دو طرح کے ہوتے ہیں : ایک وہ جو ہم ذاتی حیثیت میں کرتے ہیں اور ایک وہ جوہم اجتماعی حیثیت میں ملی یا قومی سطح پر کرتے ہیں۔

ہم اپنی زندگی کا جائزہ لیں تو ہماری ذاتی زندگی خدا کی نافرمانی، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات سے رُوگردانی، بے ایمانی، رزقِ حرام، جھوٹ، تکبر، قطع تعلقی، ظلم و جبر، ناانصافی، حق تلفی اور دھوکہ دہی سے عبارت ہے؛ جبکہ اجتماعی طور پر بھی ہماری قوم کم و بیش ان ہی امراض کا شکار ہے۔ یہ گناہ اور اعمال ذاتی حیثیت میں ہوں تو گرفت بھی انفرادی سطح پر ہوتی ہے اور جب یہ اعمال اور گناہ اجتماعی طور پر ہوں تو اللہ کی گرفت بھی اجتماعی طور پر ہوتی ہے۔ یہاں اِجتماعیت سے مراد اکثریت ہے۔ محض چند لوگوں کا نیک ہونا یا اللہ کا فرمانبردار ہونا اس قوم کو عذاب سے نہیں بچا سکتا۔

قوم کو اللہ کی فرمانبرداری، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کی پیروی، اسلامی ماحول کی فراہمی، اسلامی قوانین کی تشکیل، عدل وانصاف کی فراہمی اور قانون کی پاسداری کی تلقین ریاست اور حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ مگر اس حکومت کی تشکیل کے لیے نمائندگان کا چناؤ ہماری رائے سے ہوتا ہے۔ ہم گزشتہ چونسٹھ سال سے جن نمائندگان کو منتخب کرکے اسمبلی میں بھیجوا رہے ہیں کیا اُن کے تمام غلط اقدامات میں ہماری معاونت شامل نہیں؟

آئیے ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ سوچیں اور اپنا محاسبہ کریں کہ حکمرانوں کے ان اعمال میں ہمارا کتنا حصہ ہے۔

  • ملک میں اِسلامی قوانین اور شعائر کا مذاق اڑایا جاتا ہے، لیکن ممبران اسمبلی خاموش۔۔۔
  • ملک میں رائج بدعنوانی کی وجہ سے دنیا میں ہماری پہچان ہی کرپشن کے حوالے سے ہے۔۔۔
  • غریب اپنے بچوں کو فروخت کرنے اور بیٹیاں عزت بیچنے پر مجبور جبکہ لیڈر عیاشیوں میں مشغول۔۔۔
  • ہر طرف قتل وغارت گری اور خون کی ہولی مگر اَرکانِ اَسمبلی خاموش۔۔۔
  • حکمران اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احکامات کے باغی۔۔۔
  • پڑھا لکھا نوجوان بے روزگار اور خودکشی پر مجبور، ان کے لیے کوئی قانون سازی اور منصوبہ بندی نہیں جب کہ حکمرانوں کے بیٹے پیدائشی حکمران۔۔۔
  • غریب عوام بغیر علاج اور اَدویات کے مر جائیں اور لیڈروں کا قومی خزانے سے بیرون ملک علاج۔۔۔
  • غریب آدمی چند روپوں کی چوری کرے تو اس کے لیے جیل، جب کہ حکمران اَربوں روپے لوٹ کر بیرون ملک لے جائیں مگر پھر بھی پارسا۔۔۔
  • قدرتی وسائل سے مالا مال مملکتِ خدادا IMF اور ورلڈ بنک کی مقروض؛ لیڈروں کی عیاشیاںجاری۔۔۔
  • غریب بھوکے مر رہے ہوں، بچے کوڑے کے ڈھیر سے روٹی کے ٹکڑے چن کر کھا رہے ہوں لیکن حکمرانوں کے کتے اور گھوڑے مربہ جات کھائیں۔۔۔
  • ملک و قوم کا درد رکھنے والے باصلاحیت اَفراد اسمبلیوں سے باہر اور انگریزوں کے پٹھو قوم پر مسلط۔۔۔
  • ملک میں شرافت اور ایمان داری ایک طعنہ بن چکی ہے اور بدمعاشی و رشوت خوری کو باعثِ اِعزاز سمجھا جاتا ہے۔۔۔
  • دین اور اچھائی کی بات کرنے والے کا مذاق، بے دینی، بے حیائی کی بات کرنے والے کے لیے داد اور اِعزاز۔۔۔
  • اللہ کے حکم کے خلاف نیکی اور اچھائی میں تعاون کی بجائے برائی میں تعاون میں آگے آگے۔۔۔
  • پاکستان کا مطلب کیا، لا الہ الا اﷲ ۔۔۔ لیکن ہمارے چُنے ہوئے حکمرانوں کا نہ منشور اور نہ طرزِ فکر۔۔۔
  • مظلوم اور بے کس لوگ بے یار و مددگار، حکمرانوں کی طرف سے صرف نعرے اور وعدے۔۔۔
  • غریب کے لیے علاج، تعلیم، پانی، بجلی، گیس میسر نہیں، لیکن حکمرانوں کے ایک روز کے ذاتی اخراجات کروڑوں میں۔۔۔
  • غریب عام شہری کی جان و مال اور عزت تک محفوظ نہیں ۔۔۔ لیکن ہر ایم پی اے و ایم این اے کی حفاظت پر سینکڑوں پولیس اہلکار متعین۔۔۔
  • ملک میں ڈرون حملے، ٹارگٹ کلنگ اور قتل عام، مگر حکمران خاموش اور حکومت بے بس۔۔۔

مندرجہ بالا رویوں اور قومی کردار کا جائزہ لیا جائے تو کیا یہ حقیقت سامنے نہیں آتی کہ ہم سب بالواسطہ یا بلا واسطہ ان خرابیوں کے ذمہ دار ہیں۔۔۔؟ کیونکہ اِس صورتِ حالات میں ہماری ناروا خاموشی، حالات بدلنے کے لیے عملی جد و جہد سے پہلو تہی اور ملک کو اِس تباہی و بربادی سے دو چار کرنے والے سیاست دانوں کو ہر انتخاب میں کامیاب کرانے کا ہمارا معمول اس بات کا غماز ہے کہ ہم سب مندرجہ بالا خرابیوں کے ذمہ دار ہیں۔

ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ آج سے چودہ سو سال قبل حکمرانوں کے چناؤ کا طریقہ بیعت تھی، آج اس کی جدید صورت ووٹنگ ہے۔ ہم اپنے ووٹ کے ذریعے اپنے حکمرانوں کی بیعت کرتے ہیں۔ ووٹ دیتے وقت واقعہ کربلا کو ضرور یاد رکھنا چاہیے جس میں امام حسین علیہ السلام نے اپنی اور اپنے خاندان کی شہادت کا راستہ چنا مگر فاسق و فاجر یزید کی بیعت کے ذریعے ظالم نظام کے قیام میں معاونت سے انکار کر دیا اور میدانِ کربلا میں سرخرو اور کامیاب ہوئے۔

ہمیں یہ مان لینا چاہیے کہ ہم جانے انجانے میں بہت بڑے قومی اور ملی گناہ اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نافرمانی کے مرتکب ہو رہے ہیں اور یہ قدرتی آفات ہمارے اِنہی اَعمال کا نتیجہ ہیں۔ ہمیں اس سے نجات کے لیے عملی اِقدامات کرنا ہونگے۔ ورنہ اﷲ تعالیٰ کا فرمان برحق ہے :

اِنَّ بَطْشَ رَبِّکَ لَشَدِيْدٌo (البروج، 85 : 12)

’’بے شک آپ کے رب کی پکڑ بہت سخت ہےo‘‘

Copyrights © 2020 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved