بد انتظامی یا عذاب الٰہی! نجات کیسے ممکن ہے؟

بدانتظامی یا عذاب الٰہی؟

بد انتظامی یا عذاب الٰہی؟

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ آفات و مصائب محض بد انتظامی کا نتیجہ ہیں اور وہ اس کو عذاب تصور نہیں کرتے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ برے منتظم بھی عذاب الٰہی کی ایک صورت ہیں پھر بھی ہمارا ان سے سوال ہے کہ :

  • 2005ء کا زلزلہ کس بد انتظامی کی وجہ سے آیا تھا؟ انسان طاقت کے باوجود بے بس کیوں تھا؟
  • 2010ء کے سیلاب سے پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی تباہی ہوئی۔ ایسے مقامات اور بلندیوں پر بھی سیلاب نے نقصان کیا جہاں کبھی زندگی بھر لوگوں نے سیلاب دیکھا نہیں تھا۔ تمام انسانی وسائل اور ذرائع بے بس کیوں ہوگئے؟
  • 2011ء میں تو دریاؤں میں پانی نہیں تھا محض چند دنوں کی بارشوں نے سندھ کے ایک کروڑ سے زائد لوگوں کو متاثر کیا۔ طاقت کے باوجود حکومتی مشینری اور انسانی ذرائع بے بس کیوں تھے ؟
  • ڈینگی بخار اور ملیریا کی وباء کو روکنے کے لیے اربوں روپے خرچ ہوئے۔ تمام وسائل جھونک دیے گئے، تمام حکومتی مشینری میدان میں اُتر آئی، ہسپتالوں میں ہنگامی صورت حال کا اعلان کر دیا گیا مگر ایک چھوٹے سے مچھر نے تباہی مچا دی اور ابھی تک کنٹرول نہیں ہو رہا۔

دوسرا سوال یہ کہ اس کی کیا وجہ ہے کہ گنداپانی ہو تو ملیریا کا مچھر پروان چڑھتا ہے اور لوگوں کو بیمار کرتا ہے، اگر صاف پانی ہو تو ڈینگی مچھر پلتا ہے اور انسانوں کی جان لے لیتا ہے۔ کیا یہ محض اتفاق ہے؟

جن قوموں پر عذاب آئے ہیں ان کے مدبرین نے بھی بہت سے انتظامی اقدامات کیے تھے مگر ذہن نشین رہے کہ جب اﷲ تعالیٰ کی طرف سے گرفت ہوتی ہے تو انسانی سوچ ختم کر دی جاتی ہے۔ کثیر سرمایہ خرچ کرنابھی بے فائدہ ہو جاتا ہے۔ تمام مشینری بھاگتی دوڑتی ہے مگر رزلٹ نہیں نکلتا اور ایک چھوٹا سا مچھر کروڑوں لوگوں کو لاچار اور حکومتوں کو بے بس کر دیتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ تمام قدرتی آفات ہمارے اَعمال کا نتیجہ اور اﷲ تعالیٰ کی گرفت ہیں۔

Copyrights © 2020 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved