حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خصائل مبارکہ

باب ہفدہم

بَابٌ فِي وَصْفِ نَوْمِہٖ صلى الله عليه وآله وسلم وَقِیَامِہٖ بِاللَّیْلِ

{حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نیند مبارک اور قیام اللیل کا بیان}

170 / 1۔ عَنِ الْأَسْوَدِ رضي الله عنه قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَۃَ رضي اﷲ عنہا کَیْفَ کَانَتْ صَلَاۃُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وآله وسلم بِاللَّیْلِ؟ قَالَتْ : کَانَ یَنَامُ أَوَّلَہٗ وَیَقُوْمُ آخِرَہٗ فَیُصَلِّي، ثُمَّ یَرْجِعُ إِلٰی فِرَاشِہٖ، فَإِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ وَثَبَ، فَإِنْ کَانَ بِہٖ حَاجَۃٌ اغْتَسَلَ وَإِلَّا تَوَضَّأَ وَخَرَجَ۔ مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ۔

1 : أخرجہ البخاري في الصحیح، کتاب الجمعۃ، باب من نام أوّل اللیل وأحیاء آخرہ، 1 / 385، الرقم : 1095، ومسلم في الصحیح، کتاب صلاۃ المسافرین وقصرھا، باب صلاۃ اللیل وعدد رکعات النبي صلى الله عليه وآله وسلم في اللیل، 1 / 510، الرقم : 739، والنسائي في السنن، کتاب قیام اللیل وتطوع النھار، باب وقت الوتر، 3 / 230، الرقم : 1680، والترمذي في الشمائل المحمدیۃ / 223، الرقم : 265، وأحمد بن حنبل في المسند، 6 / 176، الرقم : 25474، وابن حبان في الصحیح، 6 / 364، 365، الرقم : 2638، وأبو یعلی في المسند، 8 / 226، الرقم : 4794۔

''حضرت اسود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے پوچھا : حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رات کی نماز کیسی تھی؟ اُنہوں نے فرمایا : حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کے پہلے حصے میں آرام فرماتے اور آخری حصے میں قیام فرماتے اور نماز پڑھتے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے بستر پر دوبارہ آرام فرماتے پھر جب مؤذن اذان کہتا تو فوراً اُٹھ جاتے، اگر حاجت ہوتی تو غسل فرماتے ورنہ وضو فرما کر (نماز فجر کے لئے) تشریف لے جاتے۔''

یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

171 / 2۔ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ رضي الله عنه قَالَ : کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلى الله عليه وآله وسلم إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَہٗ وَضَعَ کَفَّہُ الْیُمْنَی تَحْتَ شِقِّہِ الأَیْمَنِ، وَقَالَ : رَبِّ، قِنِي عَذَابَکَ یَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَکَ۔ رَوَاہُ النَّسَائِيُّ وَالتِّرْمِذِيُّ فِي الشَّمَائِلِ۔

2 : أخرجہ النسائي في السنن الکبری، کتاب عمل الیوم واللیلۃ، ما یقول إذا أوی إلی فراشہ، 6 / 189، الرقم : 10596، والترمذي في الشمائل المحمدیۃ / 445، الرقم : 254۔

''حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اپنے بستر مبارک پر آرام فرما ہوتے تو اپنا دایاں ہاتھ اپنے دائیں گال کے نیچے رکھتے اور فرماتے : اے میرے رب! مجھے اس دن کے عذاب سے بچا جس دن تو اپنے بندوں کو دوبارہ زندہ کرے گا۔''

اِس حدیث کو امام نسائی اور ترمذی نے الشمائل میں روایت کیا ہے۔

172 / 3۔ عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ رضي الله عنه قَالَ : کَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وآله وسلم إِذَا أَوَی إِلٰی فِرَاشِہٖ قَالَ : بِاسْمِکَ أَمُوْتُ وَأَحْیَا، وَإِذَا قَامَ قَالَ : الْحَمْدُ ﷲِ الَّذِي أَحْیَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَإِلَیْہِ النُّشُوْرُ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِيُّ وَأَحْمَدُ۔

3 : أخرجہ البخاري في الصحیح، کتاب الدعوات، باب ما یقول إذا نام، 5 / 2326، الرقم : 5953، وأیضًا في کتاب التوحید، باب السؤال بأسماء اﷲ تعالی والاستعاذۃ بھا، 6 / 2692، الرقم : 6959، وأحمد بن حنبل في المسند، 5 / 385، الرقم : 23319، واللالکائي في اعتقاد أھل السنۃ، 2 / 208، الرقم : 336۔

''حضرت خدیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بستر مبارک پر جاتے تو یہ دعا کرتے : ''(اے اﷲ!) تیرے نام کے ساتھ سوتا اور جاگتا ہوں۔'' جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہوتے تو یہ کلمات ادا فرماتے : ''اﷲ تعالیٰ کا شکر ہے جس نے ہمیں مرنے کے بعد زندہ کیا اور ہمیں اُسی کی طرف لوٹنا ہے۔''

اِس حدیث کو امام بخاری اور احمد نے روایت کیا ہے۔

173 / 4۔ عَنْ الْمُغِیْرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ رضي الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وآله وسلم صَلّٰی حَتَّی انْتَفَخَتْ قَدَمَاہٗ، فَقِیْلَ لَہٗ : أَتَکَلَّفُ ہٰذَا وَقَدْ غَفَرَ اﷲُ لَکَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَأَخَّرَ، فَقَالَ : أَفَـلَا أَکُوْنُ عَبْدًا شَکُوْرًا۔

مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ وَاللَّفْظُ لِمُسْلِمٍ۔

4 : أخرجہ البخاري في الصحیح، کتاب تفسیر القرآن، باب لیغفر لک اﷲ ما تقدم من ذنبک وما تأخر ویتم نعمتہ علیک، 4 / 1830، الرقم : 4556، وأیضًا في کتاب الرقاق، باب الصبر عن محارم اﷲ، 5 / 2375، الرقم : 6106، ومسلم في الصحیح، کتاب صفۃ القیامۃ والجنۃ والنار، باب إکثار الأعمال والاجتھاد في العبادۃ، 4 / 2171، الرقم : (1)2819، والترمذي في السنن، کتاب الصلاۃ، باب ما جاء في الاجتھاد في الصلاۃ، 2 / 268، الرقم : 412، والنسائي في السنن، کتاب قیام اللیل وتطوع النھار، باب الاختلاف علی عائشۃ في إحیاء اللیل، 3 / 219، الرقم : 1644، وابن ماجہ في السنن، کتاب إقامۃ الصلاۃ والسنۃ فیھا، باب ما جاء في طول القیام في الصلاۃ، 1 / 456، الرقم : 1419۔1420۔

''حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اِس قدر طویل نماز ادا فرمائی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدمین مبارک پر سوجن آ گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا گیا : آپ اتنی تکلیف (کیوں) اُٹھاتے ہیں؟ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے سبب آپ کے اگلوں اور پچھلوں کے گناہ معاف فرما دیئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کیا میں اپنے ربّ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں۔'' یہ حدیث متفق علیہ ہے مذکورہ الفاظ مسلم کے ہیں۔

174 / 5۔ عَنْ أَبِي قَتَادَۃَ رضي الله عنه قَالَ : کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلى الله عليه وآله وسلم إِذَا کَانَ فِي سَفَرٍ فَعَرَّسَ بِلَیْلٍ اضْطَجَعَ عَلٰی یَمِیْنِہٖ وَإِذَا عَرَّسَ قُبَیْلَ الصُّبْحِ نَصَبَ ذِرَاعَہٗ وَوَضَعَ رَأْسَہٗ عَلٰی کَفِّہٖ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَحْمَدُ۔

5 : أخرجہ مسلم في الصحیح، کتاب المساجد ومواضع الصلاۃ، باب قضاء الصلاۃ الفائتۃ واستحباب تعجیل قضائھا، 1 / 476، الرقم : 683، والترمذي في الشمائل المحمدیۃ / 220، الرقم : 261، وأحمد بن حنبل في المسند، 5 / 309، الرقم : 22685، وابن خزیمۃ في الصحیح، 4 / 148، الرقم : 2558، والبیھقي في السنن الکبری، 5 / 256، الرقم : 10124، والنووي في ریاض الصالحین / 242۔

''حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب دورانِ سفر رات کے آخری پہر (استراحت کے لئے) قیام فرماتے تو اپنی دائیں کروٹ لیٹ جاتے۔ لیکن جب صبح کے قریب قیام فرما ہوتے تو اپنی کہنی کو زمین پر رکھ لیتے اور اپنا سرِ انور اپنی ہتھیلی پر رکھ لیتے۔'' اِسے امام مسلم، ترمذی اور احمد نے روایت کیا ہے۔

175 / 6۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي اﷲ عنہما أَنَّہٗ بَاتَ لَیْلَۃً عِنْدَ مَیْمُوْنَۃَ أُمِّ الْمُؤْمِنِیْنَ رضي اﷲ عنہما، وَہِيَ خَالَتُہٗ،... قَالَ : فَنَامَ رَسُوْلُ اﷲِ صلى الله عليه وآله وسلم حَتَّی انْتَصَفَ اللَّیْلُ أَوْ قَبْلَہٗ بِقَلِیْلٍ أَوْ بَعْدَہٗ بِقَلِیْلٍ، اسْتَیْقَظَ رَسُوْلُ اﷲِ صلى الله عليه وآله وسلم فَجَعَلَ یَمْسَحُ النَّوْمَ عَنْ وَجْہِہِ بِیَدِہِ، ثُمَّ قَرَأَ الْعَشْرَ الْآیَاتِ الْخَوَاتِمَ مِنْ سُوْرَۃِ آلِ عِمْرَانَ، ثُمَّ قَامَ إِلٰی شَنٍّ مُعَلَّقَۃٍ فَتَوَضَّأَ مِنْہَا، فَأَحْسَنَ وُضُوْئَہٗ، ثُمَّ قَامَ فَصَلّٰی، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَقُمْتُ فَصَنَعْتُ مِثْلَ مَا صَنَعَ رَسُوْلُ اﷲِ صلى الله عليه وآله وسلم ثُمَّ ذَہَبْتُ فَقُمْتُ إِلٰی جَنْبِہٖ فَوَضَعَ رَسُوْلُ اﷲِ صلى الله عليه وآله وسلم یَدَہُ الْیُمْنَی عَلٰی رَأْسِي وَأَخَذَ بِأُذُنِي الْیُمْنَی یَفْتِلُہَا، فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ، ثُمَّ رَکْعَتَیْنِ، ثُمَّ رَکْعَتَیْنِ، ثُمَّ رَکْعَتَیْنِ، ثُمَّ رَکْعَتَیْنِ، ثُمَّ رَکْعَتَیْنِ، ثُمَّ أَوْتَرَ، ثُمَّ اضْطَجَعَ حَتّٰی جَائَ الْمُؤَذِّنُ فَقَامَ فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ خَفِیْفَتَیْنِ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّی الصُّبْحَ۔ مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ وَاللَّفْظُ لِمُسْلِمٍ۔

6 : أخرجہ البخاري في الصحیح، کتاب تفسیر القرآن، باب {الذین یذکرون اﷲ قیاما وقعودا وعلی جنوبہم ویتفکرون في خلق السماوات والأرض}، 4 / 1666، الرقم : 4294، ومسلم في الصحیح، کتاب صلاۃ المسافرین وقصرھا، باب الدعاء في صلاۃ اللیل وقیامہ، 1 / 526، الرقم : (2) 763، وابن ماجہ في السنن، کتاب إقامۃ الصلاۃ والسنۃ فیھا، باب ما جاء في کم یصلي باللیل، 1 / 433، الرقم : 1363، والنسائي في السنن الکبری، 1 / 161، الرقم : 398، وأحمد بن حنبل في المسند، 1 / 358، الرقم : 3372، وابن حبان في الصحیح، 6 / 326، الرقم : 2592، والترمذي في الشمائل المحمدیۃ / 461465، الرقم : 265۔

''حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما بیان کرتے ہیں ایک رات وہ اپنی خالہ اُمّ المؤمنین حضرت میمونہ رضی اﷲ عنہا کے ہاں رہے... حضرت عبد اﷲ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم استراحت فرما ہو گئے اور نصف شب یا اُس سے کچھ کم یا زیادہ کے بعد بیدار ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نیند کی وجہ سے اپنی آنکھوں کو ہاتھوں سے مل رہے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سورہ آل عمران کی آخری دس آیات تلاوت فرمائیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک لٹکے ہوئے مشکیزہ کے پاس گئے اور اُس سے اچھی طرح وضو کیا پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے۔ حضرت ابن عباس کہتے ہیں کہ میں نے بھی کھڑے ہو کر ایسا ہی کیا جیسا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا تھا، پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو میں کھڑے ہو کر نماز پڑھنی شروع کر دی۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ میرے سر پر رکھا اور (شفقت سے) میرا کان مروڑا، پھر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو رکعت نماز ادا فرمائی، پھر دو رکعت ادا فرمائیں، پھر دو رکعت ادا فرمائیں، پھر دو رکعت ادا فرمائیں، پھر دو رکعت ادا فرمائیں، پھر دو رکعت ادا فرمائیں، پھر وتر پڑھنے کے بعد لیٹ گئے یہاں تک کہ مؤذن آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھڑے ہو کر مختصر طریقہ سے دو رکعت (سنت فجر) پڑھی پھر جا کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازِ فجر ادا فرمائی۔'' یہ حدیث متفق علیہ ہے مذکورہ الفاظ مسلم کے ہیں۔

176 / 7۔ عَنْ عَائِشَۃَ رضي اﷲ عنہا قَالَتْ : کَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وآله وسلم إِذَا لَمْ یُصَلِّ مِنَ اللَّیْلِ مَنَعَہٗ مِنْ ذَالِکَ النَّوْمُ أَوْ غَلَبَتْہٗ عَیْنَاہٗ صَلّٰی مِنَ النَّہَارِ ثِنْتَي عَشْرَۃَ رَکْعَۃً۔

رَوَاہُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ : ہٰذَا حَدِیْثٌ حَسَنٌ صَحِیْحٌ۔

7 : أخرجہ الترمذي في السنن، کتاب الصلاۃ، باب إذا نام عن صلاتہ باللیل صلی بالنھار، 2 / 306، الرقم : 445، والنسائي في السنن، کتاب قیام اللیل وتطوع النھار، باب کم یصلي من نام عن صلاۃ أو منعہ وجع، 3 / 259، الرقم : 1789، وعبد الرزاق في المصنف، 3 / 51، الرقم : 4751، وابن حبان في الصحیح، 6 / 371، الرقم : 2645، وابن عساکر في تاریخ مدینۃ دمشق، 4 / 148۔

''حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا : اگر کبھی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو نیند کے غلبہ کی وجہ سے نماز ادا نہ کر پاتے تو دن کو بارہ رکعات نماز ادا فرماتے۔''

اِس حدیث کو امام ترمذی اور نسائی نے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

177 / 8۔ عَنْ عَائِشَۃَ رضي اﷲ عنہا قَالَتْ : یَا رَسُوْلَ اﷲِ، أَتَنَامُ قَبْلَ أَنْ تُوْتِرَ؟ فَقَالَ : یَا عَائِشَۃُ، إِنَّ عَیْنَيَّ تَنَامَانِ وَلَا یَنَامُ قَلْبِي...الحدیث۔

مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ۔

8 : أخرجہ البخاري في الصحیح، کتاب التھجد، باب قیام النبي صلى الله عليه وآله وسلم باللیل في رمضان وغیرہ، 1 / 385، الرقم : 1096، ومسلم في الصحیح، کتاب صلاۃ المسافرین وقصرھا، باب صلاۃ اللیل وعدد رکعات النبي صلى الله عليه وآله وسلم في اللیل، 1 / 509، الرقم : 738، والترمذي في السنن، کتاب الصلاۃ، باب ما جاء في وصف صلاۃ النبي صلى الله عليه وآله وسلم باللیل، 2 / 302، الرقم : 439، وقال : ھذا حدیث حسن صحیح، وأبو داود في السنن، کتاب الصلاۃ، باب في صلاۃ الیل، 2 / 40، الرقم : 1341، والنسائي في السنن، کتاب قیام اللیل وتطوع النھار، باب کیف الوتر بثلاث، 3 / 234، الرقم : 1697، ومالک في الموطأ، کتاب صلاۃ اللیل، باب صلاۃ النبي صلى الله عليه وآله وسلم في الوتر، 1 / 120، الرقم : 263، وأحمد بن حنبل في المسند، 6 / 36، الرقم : 24119۔

''حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا نے فرمایا : میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ! کیا آپ وتر پڑھنے سے پہلے سو جاتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے عائشہ! بے شک میری آنکھیں سوتی ہیں میرا دل نہیں سوتا...۔'' یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

178 / 9۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضي الله عنه یُحَدِّثُ عَنْ لَیْلَۃِ أُسْرِيَ بِالنَّبِيِّ صلى الله عليه وآله وسلم مِنْ مَسْجِدِ الْکَعْبَۃِ، جَائَہُ ثَـلَاثَۃُ نَفَرٍ قَبْلَ أَنْ یُوْحَی إِلَیْہِ وَہُوَ نَائِمٌ فِي مَسْجِدِ الْحَرَامِ، فَقَالَ : أَوَّلُہُمْ أَیُّہُمْ ہُوَ؟ فَقَالَ أَوْسَطُہُمْ : ہُوَ خَیْرُہُمْ، وَقَالَ آخِرُہُمْ : خُذُوْا خَیْرَہُمْ، فَکَانَتْ تِلْکَ فَلَمْ یَرَہُمْ حَتّٰی جَائُوْا لَیْلَۃً أُخْرَی فِیْمَا یَرَی قَلْبُہٗ وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وآله وسلم نَائِمَۃٌ عَیْنَاہٗ وَلَا یَنَامُ قَلْبُہٗ، وَکَذَالِکَ الْأَنْبِیَائُ تَنَامُ أَعْیُنُہُمْ وَلَا تَنَامُ قُلُوْبُہُمْ، فَتَوَلَّاہٗ جِبْرِیْلُ ثُمَّ عَرَجَ بِہٖ إِلَی السَّمَائِ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِيُّ وَابْنُ مَنْدَہ۔

9 : أخرجہ البخاري في الصحیح، کتاب المناقب، باب کان النبي صلى الله عليه وآله وسلم تنام عینہ ولا ینام قلبہ، 3 / 1308، الرقم : 3377، وابن مندہ في الإیمان، 2 / 715، الرقم : 712، والبیھقي في السنن الکبری، 7 / 62، الرقم : 13165، وابن عساکر في تاریخ مدینۃ دمشق، 3 / 498۔

''حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معراج کا ذکر فرما رہے تھے جو مسجد حرام سے شروع ہوئی تھی۔ حضرت جبریل ں کے آنے سے پہلے تین افراد (فرشتے) آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد حرام کے اندر محو خواب تھے۔ اُن میں سے ایک کہنے لگا : آپ کون ہیں؟ دوسرے فرشتے نے کہا : آپ اُن (انبیاء کرام) میں سب سے بہتر ہیں۔ تیسرا بولا : اُن کے بہتر کو لے لو۔ پھر وہ غائب ہوگئے اور اُنہیں دیکھا نہیں گیا۔ یہاں تک کہ پھر کسی رات میں پہلے کی طرح نظر آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھیں سو رہی تھیں لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قلبِ مبارک نہیں سوتا تھا اور جملہ انبیائے کرام کی آنکھیں سوتی تھیں لیکن دل نہیں سوتا تھا پھر حضرت جبرائیل ں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لے کر آسمان کی طرف تشریف لے گئے۔''

اِس حدیث کو امام بخاری اور ابن مندہ نے روایت کیا ہے۔

Copyrights © 2019 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved