حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خصائل مبارکہ

حضور (ص) کے وضو، غسل، مسواک اور بال مبارک صاف کرانے کا بیان

بَابٌ فِي وَصْفِ وُضُوْئِہٖ صلى الله عليه وآله وسلم وَغُسْلِہٖ وَسِوَاکِہٖ وَحَلْقِ شَعَرِہٖ

{حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وضو، غسل، مسواک اور بال مبارک صاف کرانے کا بیان}

152 / 1۔ عَنْ حُمْرَانَ مَوْلٰی عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رضي الله عنه أَنَّہٗ رَأَی عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رضي الله عنه دَعَا بِوَضُوْءٍ، فَأَفْرَغَ عَلٰی یَدَیْہِ مِنْ إِنَائِہٖ فَغَسَلَہُمَا ثَـلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ أَدْخَلَ یَمِیْنَہٗ فِي الْوَضُوْءِ ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَاسْتَنْثَرَ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْہَہٗ ثَـلَاثًا، وَیَدَیْہِ إِلَی الْمِرْفَقَیْنِ ثَـلَاثًا، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِہٖ، ثُمَّ غَسَلَ کُلَّ رِجْلٍ ثَـلَاثًا، ثُمَّ قَالَ : رَأَیْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وآله وسلم یَتَوَضَّأُ نَحْوَ وُضُوْئِي ہٰذَا، وَقَالَ : مَنْ تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوْئِي ہٰذَا ثُمَّ صَلّٰی رَکْعَتَیْنِ لَا یُحَدِّثُ فِیْہِمَا نَفْسَہٗ غَفَرَ اﷲُ لَہٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖ۔ مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ۔

1 : أخرجہ البخاري في الصحیح، کتاب الوضوء، باب المضمضۃ في الوضوء، 1 / 72، الرقم : 162، ومسلم في الصحیح، کتاب الطھارۃ، باب صفۃ الوضوء وکمالہ، 1 / 204، الرقم : 226، والنسائي في السنن، کتاب الطھارۃ، باب المضمضۃ والاستنشاق، 1 / 64، الرقم : 84، وأحمد بن حنبل في المسند، 1 / 59، الرقم : 418، وابن حبان في الصحیح، 3 / 340، الرقم : 1058۔

''حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام حضرت حمران بیان کرتے ہیں کہ اُنہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ اُنہوں نے وضو کے لیے پانی منگوایا۔ پھر اپنے دونوں ہاتھوں پر برتن سے پانی اُنڈیلا اور اُنہیں تین دفعہ دھویا۔ پھر اپنا دایاں ہاتھ پانی میں ڈال کر کلی کی، ناک میں پانی ڈالا اور ناک صاف کیا۔ پھر تین دفعہ اپنے چہرے کو دھویا اور ہاتھوں کو کہنیوں تک تین دفعہ دھویا۔ پھر اپنے سر کا مسح کیا۔ پھر ہر پیر کو تین دفعہ دھویا۔ پھر فرمایا : میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اِسی طریقہ سے وضو فرماتے ہوئے دیکھا ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا : جو کوئی میرے وضو جیسا وضو کرئے، پھر دو رکعتیں پڑھے اس دوران دل میں کوئی اور خیال نہ آنے دے تو اُس کے سابقہ گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔''

یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

153 / 2۔ عَنْ مَیْمُوْنَۃَ رضي اﷲ عنہا قَالَتْ : سَتَرْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وآله وسلم وَہُوَ یَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَۃِ، فَغَسَلَ یَدَیْہِ ثُمَّ صَبَّ بِیَمِیْنِہٖ عَلٰی شِمَالِہٖ، فَغَسَلَ فَرْجَہٗ وَمَا أَصَابَہٗ، ثُمَّ مَسَحَ بِیَدِہٖ عَلَی الْحَائِطِ أَوِ الْأَرْضِ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوْئَہٗ لِلصَّلَاۃِ غَیْرَ رِجْلَیْہِ، ثُمَّ أَفَاضَ عَلٰی جَسَدِہِ الْمَاءَ، ثُمَّ تَنَحَّی فَغَسَلَ قَدَمَیْہِ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِيُّ۔

2 : أخرجہ البخاري في الصحیح، کتاب الغسل، باب مسح الید بالتراب لتکون أنقی، 1 / 108، الرقم : 277، وأیضًا في باب الغسل مرۃ واحدۃ، 1 / 102، الرقم : 254، والبیھقي في السنن الکبری، 1 / 197، الرقم : 905۔

''حضرت میمونہ رضی اﷲ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے پردہ کا اہتمام کیا جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غسل جنابت فرما رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ دھوئے۔ پھر دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالا اور اپنی شرمگاہ اور اُس کے ارد گرد جہاں کوئی چیز لگی تھی اُسے دھویا پھر اپنا ہاتھ دیوار پر یا زمین پر رگڑا۔ پھر نماز جیسا وضو کیا سوائے پیروں کے۔ پھر اپنے جسم پر پانی بہایا۔ پھر دوسری جگہ جا کر اپنے پیر دھوئے۔'' اِس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

154 / 3۔ عَنْ عَائِشَۃَ رضي اﷲ عنہا أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وآله وسلم کَانَ یَغْتَسِلُ مِنْ أَرْبَعٍ مِنَ الْجَنَابَۃِ وَیَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَمِنَ الْحِجَامَۃِ وَمِنْ غُسْلِ الْمَیِّتِ۔

رَوَاہُ أَبُوْ دَاوُدَ وَأَحْمَدُ وَابْنُ خُزَیْمَۃَ۔

3 : أخرجہ أبو داود في السنن، کتاب الطھارۃ، باب في الغسل یوم الجمعۃ، 1 / 96، الرقم : 348، وأیضًا في کتاب الجنائز، باب في الغسل من غسل المیت، 3 / 201، الرقم : 3160، وأحمد بن حنبل في المسند، 6 / 152، الرقم : 25231، وابن خزیمۃ في الصحیح، 1 / 126، الرقم : 256، والحاکم في المستدرک، 1 / 267، الرقم : 582، والبیھقي في السنن الکبری، 1 / 299، الرقم : 1328، والدیلمي في مسند الفردوس، 5 / 541، الرقم : 9029۔

''حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے کہ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چار مواقع پر (خصوصی طور پر) غسل فرمایا کرتے تھے : جنابت کے باعث، جمعہ کے روز، پچھنے لگوانے کے بعد اور میت کو غسل دینے کے بعد۔''

اِس حدیث کو امام ابو داود، احمد اور ابن خزیمہ نے روایت کیا ہے۔

155 / 4۔ عَنْ حُذَیْفَۃَ رضي الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وآله وسلم کَانَ إِذَا قَامَ لِلتَّہَجُّدِ مِنَ اللَّیْلِ یَشُوْصُ فَاہُ بِالسِّوَاکِ۔ مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ۔

4 : أخرجہ البخاري في الصحیح، أبواب التھجد، باب طول القیام في صلاۃ اللیل، 1 / 382، الرقم : 1085، ومسلم في الصحیح، کتاب الطہارۃ، باب السواک، 1 / 220، الرقم : 255، والنسائي في السنن، کتاب الطہارۃ، باب السواک إذا قام من اللیل، 1 / 8، الرقم : 2، وأبوداود في السنن، کتاب الطہارۃ، باب السواک لمن قام من اللیل، 1 / 15، الرقم : 55، وابن ماجہ في السنن، کتاب الطہارۃ وسنتہا، باب السواک، 1 / 105، الرقم : 286، وأحمد بن حنبل في المسند، 5 / 407، الرقم : 23505، وابن حبان في الصحیح، 3 / 354، الرقم : 1072۔

''حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب رات کو تہجد کے لئے اُٹھتے تو اپنا منہ مبارک مسواک سے صاف فرماتے تھے۔''

یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

156 / 5۔ عَنْ أَبِي ہُرَیْرَۃَ رضي الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلى الله عليه وآله وسلم قَالَ : لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلٰی أُمَّتِي أَوْ عَلَی النَّاسِ لَأَمَرْتُہُمْ بِالسِّوَاکِ مَعَ کُلِّ صَلَاۃٍ۔

مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ۔

5 : أخرجہ البخاري في الصحیح، کتاب الجمعۃ، باب السواک یوم الجمعۃ، 1 / 303، الرقم : 847، ومسلم في الصحیح، کتاب الطہارۃ، باب السواک، 1 / 220، الرقم : 252، والترمذي في السنن، کتاب الطہارۃ، باب ما جاء في السواک، 1 / 34، الرقم : 22، والنسائي في السنن، کتاب الطہارۃ، باب الرخصۃ في السواک بالعشي لصائم، 1 / 12، الرقم : 7، وأبو داود في السنن، کتاب الطہارۃ، باب السواک، 1 / 12، الرقم : 47، وابن ماجہ في السنن، کتاب الطہارۃ وسننہا، باب السواک، 1 / 105، الرقم : 287، وابن حبان في الصحیح، 3 / 351، الرقم : 1068۔

''حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اگر مجھے اپنی اُمت یا لوگوں کے مشقت میں پڑ جانے کا خیال نہ ہوتا تو میں اُنہیں ہر نماز کے ساتھ مسواک کرنے کا حکم دیتا۔'' یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

157 / 6۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي اﷲ عنہما قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلى الله عليه وآله وسلم : أُمِرْتُ بِالسِّوَاکِ حَتّٰی ظَنَنْتُ أَوْ حَسِبْتُ أَنْ سَیَنْزِلُ فِیْہِ قُرْآنٌ۔

رَوَاہُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ یَعْلٰی۔

6 : أخرجہ أحمد بن حنبل في المسند، 1 / 237، الرقم : 2125، وأبویعلی في المسند، 4 / 218، الرقم : 2330، والمقدسي في الأحادیث المختارۃ، 9 / 495، الرقم : 481، والدیلمي في مسند الفردوس، 1 / 397، الرقم : 1606۔

''حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اﷲ عنہما روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مجھے مسواک کرنے کا حکم (اِس قدر تاکید کے ساتھ) دیا گیا کہ میں نے گمان کیا اس کے متعلق (مجھ پر) قرآنی احکام نازل ہوں گے۔''

اِس حدیث کو امام احمد اور ابو یعلی نے روایت کیا ہے۔

158 / 7۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضي الله عنه قَالَ : لَمَّا رَمَی رَسُوْلُ اﷲِ صلى الله عليه وآله وسلم الْجَمْرَۃَ وَنَحَرَ نُسُکَہٗ وَحَلَقَ، نَاوَلَ الْحَالِقَ شِقَّہُ الْأَیْمَنَ فَحَلَقَہٗ، ثُمَّ دَعَا أَبَا طَلْحَۃَ الْأَنْصَارِيَّ فَأَعْطَاہُ إِیَّاہٗ، ثُمَّ نَاوَلَـہُ الشِّقَّ الْأَیْسَرَ، فَقَالَ : احْلِقْ فَحَلَقَہٗ، فَأَعْطَاہُ أَبَا طَلْحَۃَ، فَقَالَ : اقْسِمْہُ بَیْنَ النَّاسِ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ۔ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ : ھٰذَا حَدِیْثٌ حَسَنٌ صَحِیْحٌ۔ وَقَالَ الْحَاکِمُ : ھٰذَا حَدِیْثٌ صَحِیْحٌ۔

7 : أخرجہ مسلم في الصحیح، کتاب الحج، باب بیان أن السنۃ یوم النحر أن یرمی ثم ینحر ثم یحلق، 2 / 948، الرقم : 1305، والترمذي فيالسنن، کتاب الحج، باب ما جاء بأي جانب الرأس یبدأ في الحلق، 3 / 255، الرقم : 912، وأبو داود في السنن، کتاب المناسک، باب الحلق والتقصیر، 2 / 203،الرقم : 1981، والنسائي في السنن الکبری، 2 / 449، الرقم : 4114، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 111، الرقم : 12113، وابن حبان في الصحیح، 9 / 191، الرقم : 1743، وابن خزیمۃ في الصحیح، 4 / 299، الرقم : 2928، والحاکم في المستدرک، 1 / 647، الرقم : 1743۔

''حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ جب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مقام جمرہ پر کنکریاں ماریں اور اپنی قربانی کا فریضہ ادا کر کے حلق کرایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سرِ اَنور کا دایاں حصہ حجام کے سامنے کر دیا، اس نے دائیں جانب لی اور اس کا حلق کیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابو طلحہص کو بلایا اور انہیں وہ بال عطا فرمائے، اِس کے بعد حجام کے سامنے (سر انور کی) بائیں جانب کی اور فرمایا : یہ بھی مونڈو، اس نے ادھر کے بال مبارک بھی مونڈ دیئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ بال بھی حضرت ابو طلحہص کو عطا فرمائے اور فرمایا : یہ لوگوں میں تقسیم کر دو۔''

اِس حدیث کو امام مسلم، ترمذی، ابو داود اور نسائی نے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے اور امام حاکم نے بھی فرمایا : اس حدیث کی سند صحیح ہے۔

159 / 8۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضي الله عنه قَالَ : لَقَدْ رَأَیْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلى الله عليه وآله وسلم ، وَالْحَـلاَّقُ یَحْلِقُہٗ وَأَطَافَ بِہٖ أَصْحَابُہٗ، فَمَا یُرِیْدُوْنَ أَنْ تَقَعَ شَعْرَۃٌ إِلَّا فِي یَدِ رَجُلٍ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ وَأَحْمَدُ وَابْنُ حُمَیْدٍ۔

8 : أخرجہ مسلم في الصحیح، کتاب الفضائل، باب قرب النبي صلى الله عليه وآله وسلم من الناس وتبرکھم بہ، 4 / 1812، الرقم : 2325، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 133،137، الرقم : 12423، وعبد بن حمید في المسند، 1 / 380، الرقم : 1273، والبیھقي في السنن الکبری، 7 / 68، الرقم : 13189، وابن سعد في الطبقات الکبری، 1 / 430۔

''حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے دیکھا کہ حجام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر انور کی حجامت بنا رہا تھا اور صحابہ کرام ث، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گرد طواف کر رہے تھے اور ان (میں سے ہر ایک) کی یہ کوشش تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اگر کوئی بال مبارک گرے تو کسی نہ کسی کے ہاتھ پر ہی گرے ۔''

اِس حدیث کو امام مسلم، احمد اور ابن حمید نے روایت کیا ہے۔

160 / 9۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖ رضي الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وآله وسلم کَانَ یَأْخُذُ مِنْ لِحْیَتِہٖ مِنْ عَرْضِہَا وَطُوْلِہَا۔ رَوَاہُ التِّرْمِذِيُّ۔

9 : أخرجہ الترمذي في السنن، کتاب الأدب، باب ما جاء في الأخذ من اللحیۃ، 5 / 94، الرقم : 2762، والعیني في عمدۃ القاري، 22 / 47، والسیوطي في الجامع الصغیر، 1 / 263، الرقم : 464۔

''حضرت عمرو بن شعیب بواسطہ والد اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی داڑھی مبارک کی لمبائی اور چوڑائی سے کچھ حصہ ترشواتے تھے۔''

اِس حدیث کو امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔

161 / 10۔ عَنْ أَبِي ہُرَیْرَۃَ رضي الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلى الله عليه وآله وسلم کَانَ یُقَلِّمُ أَظْفَارَہٗ وَیَقُصُّ شَارِبَہٗ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ قَبْلَ أَنْ یَرُوْحُ إِلَی الصَّلَاۃِ۔

رَوَاہُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَیْھَقِيُّ۔

10 : أخرجہ الطبراني في المعجم الأوسط، 1 / 257، الرقم : 842، والبیھقي في شعب الإیمان، 3 / 24، الرقم : 2763، والھیثمي في مجمع الزوائد، 2 / 170، والبغوي في شرح السنۃ، 12 / 113، الرقم : 3197۔

''حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نمازِ جمعہ کے لئے تشریف لے جانے سے قبل اپنے ناخن مبارک تراشتے تھے اور اپنی مونچھیں کٹواتے تھے۔'' اِس حدیث کو امام طبرانی اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔

Copyrights © 2019 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved