حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خصائل مبارکہ

حضور (ص) کے خوشبو استعمال فرمانے کا بیان

بَابٌ فِي وَصْفِ تَعَطُّرِہٖ صلى الله عليه وآله وسلم

{حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خوشبو استعمال فرمانے کا بیان}

140 / 1۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضي الله عنه قَالَ : کَانَتْ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وآله وسلم سُکَّۃٌ یَتَطَیَّبُ مِنْہَا۔ رَوَاہُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ فِي الشَّمَائِلِ۔

1 : أخرجہ أبو داود في السنن، کتاب الترجل، باب ما جاء في استحباب الطیب، 4 / 76، الرقم : 4162، والترمذي في الشمائل المحمدیۃ / 178، الرقم : 217، والمقدسي في الأحادیث المختارۃ، 7 / 229، الرقم : 2669، وابن القیم في زاد المعاد، 1 / 178۔

''حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس عطر دان تھا، جس میں سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خوشبو استعمال فرماتے تھے۔''

اِس حدیث کو امام ابو داود اور ترمذی نے الشمائل میں روایت کیا ہے۔

2 : أخرجہ النسائي في السنن، کتاب الزینۃ، باب العنبر، 8 / 150، الرقم : 5116، وأیضًا في السنن الکبری، 5 / 427، الرقم : 9407، وابن سعد في الطبقات الکبری، 1 / 399۔

''حضرت محمد بن علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنھا سے دریافت کیا : کیا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خوشبو استعمال فرماتے تھے؟ اُنہوں نے جواب دیا : ہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مردانہ خوشبو مشک و عنبر استعمال فرماتے تھے۔''

اِس حدیث کو امام نسائی اور ابن سعد نے روایت کیا ہے۔

142 / 3۔ عَنْ أَنَسٍ رضي الله عنه قَالَ : کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلى الله عليه وآله وسلم إِذَا مَرَّ فِي طَرِیْقٍ مِنْ طُرُقِ الْمَدِیْنَۃِ وُجِدَ مِنْہٗ رَائِحَۃُ الْمِسْکِ، قَالُوْا : مَرَّ رَسُوْلُ اﷲِ صلى الله عليه وآله وسلم فِي ھٰذَا الطَّرِیْقِ۔

رَوَاہُ أَبُوْ یَعْلٰی وَالْھَیْثَمِيُّ، وَقَالَ : رِجَالُ أَبِي یَعْلٰی وُثِّقُوْا۔

3 : أخرجہ أبو یعلی في المسند، 5 / 433، الرقم : 3125، والہیثمي في مجمع الزوائد، 8 / 282، والعسقلاني في فتح الباري، 6 / 574، والعیني في عمدۃ القاري، 16 / 109۔

''حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مدینہ طیبہ کے راستوں میں سے کسی راستے سے گزرتے تو اُس راستے سے کستوری کی خوشبو آتی تھی اور (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم) پکار اُٹھتے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گزر اِس راستے سے ہوا ہے۔''

اِس حدیث کو امام ابو یعلی اور ہیثمی نے روایت کیا ہے۔ امام ہیثمی نے فرمایا : ابویعلی کے راویوں کو ثقہ قرار دیا گیا ہے۔

143 / 4۔ عَنْ ثُمَامَۃَ بْنِ عَبْدِ اﷲِ رضي الله عنه قَالَ : کَانَ أَنَسٌ لَا یَرُدُّ الطِّیْبَ، وَقَالَ أَنَسٌ : إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وآله وسلم کَانَ لَا یَرُدُّ الطِّیْبَ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِيُّ وَالتِّرْمِذِيُّ وَاللَّفْظُ لَہٗ وَأَحْمَدُ۔ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ : ہٰذَا حَدِیْثٌ حَسَنٌ صَحِیْحٌ۔

4 : أخرجہ البخاري في الصحیح، کتاب اللباس، باب من لم یرد الطیب، 5 / 2216، الرقم : 5585، والترمذي في السنن، کتاب الأدب، باب ما جاء في کراھیۃ رد الطیب، 5 / 108، الرقم : 2789، وأیضًا في الشمائل المحمدیۃ / 178، الرقم : 218، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 133، 261، الرقم : 12379، 13775، والبیھقي في شعب الإیمان، 5 / 130، 217، الرقم : 6069، 6423، وابن سعد في الطبقات الکبری، 1 / 399۔

''حضرت ثمامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ (ہدیہ میں بھیجی ہوئی) خوشبو واپس نہیں کیا کرتے تھے بلکہ فرماتے تھے کہ بے شک حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خوشبو (کا ہدیہ) واپس نہیں کرتے تھے۔''

اِس حدیث کو امام بخاری، ترمذی نے مذکورہ الفاظ کے ساتھ اور احمد نے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

Copyrights © 2019 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved