تخلیق کائنات

باب اول - فصل دوم

فصل دُوُم: سِتارے اور کہکشائیں

کروڑوں، اربوں ستاروں، گرد و غبار اور گیسوں پر مشتمل سحابیوں (Nebulae) کے نظام کو کہکشاں کہتے ہیں۔ ہماری اپنی کہکشاں کے علاوہ دُوربین کی مدد سے اب تک 10 ارب کہکشاؤں کا سراغ لگایا جا چکا ہے، جن میں سے صرف تین ننگی آنکھ سے دِکھائی دیتی ہیں۔٭

سِتارے

ہمارے سورج سمیت تمام ستارے گیسوں سے مرکّب گولے ہیں، جو نیوکلیائی دھماکوں (Nuclear Fusions) سے پیدا شدہ توانائی کا اِخراج کرتے ہیں۔ چھوٹے سے چھوٹے ستارے کی کمیّت شمسی کمیّت کا 0.06 واں حصہ جبکہ سب سے بڑی جسامت کے ستارے کی کمیّت شمسی کمیّت سے 100 گنا زیادہ تک ہوتی ہے۔ واضح رہے کہ ایک شمسی کمیّت سورج کی کمیّت کے برابر ہوتی ہے۔ کسی ستارے کی خصوصیات اور اُس کی گردِش کے راستوں کا اِنحصار کافی حد تک اُس کی کمیّت پر ہوتا ہے۔

ستارے گرد اور گیس کے اُن بادلوں میں تشکیل پاتے ہیں جنہیں ’سحابیہ‘ (Nebula) کہتے ہیں۔ سحابیئے میں موجود گیس اور گرد و غبار باہمی کشش کی وجہ سے آپس میں ٹکرا کر اندھیرے علاقوں کو جنم دیتے ہیں، جنہیں’پروٹو سٹار‘ (Protostar) کہا جاتا ہے٭۔ جوں جوں ’پروٹو سٹار‘ باہم ٹکراتے جاتے ہیں وہ کثیف اور شدید گرم ہوتے جاتے ہیں۔ آخر کار وہ اِتنے گرم ہو جاتے ہیں کہ نیوکلئیر فیوژن (خود کار ایٹمی دھماکوں) کا آغاز کر سکیں اور یوں وہ مکمل طور پر ستارہ بن جاتے ہیں۔

کہکشاں

امریکی ماہرِفلکیات ایڈوِن ہبل (Edwin Hubble) نے کہکشاؤں کی درجہ بندی کیلئے ایک نظام وضع کیا تھا جو ابھی تک زیرِ استعمال ہے۔ اُس نے کہکشاؤں کی بنیادی اَقسام کے تین گروپ تشکیل دیئے:

  1. بیضوی کہکشائیں (Elliptical Galaxies)
  2. چکردار کہکشائیں (Spiral Galaxies)
  3. بے قاعدہ کہکشائیں (Irregular Galaxies)

1۔ بیضوِی کہکشاں

بیضوِی کہکشاؤں کی مُتعدّد اَقسام ہیں، وہ بالکل گول شکل (E0) سے لے کر اِنتہائی چپٹی (E7) تک پائی جاتی ہیں۔

2۔ چکردار کہکشاں

یہ کہکشائیں ایس اے، ایس بی اور ایس سی (Sa, Sb, Sc) طرز پر مختلف اَقسام پر مشتمل ہیں۔ اِن کی یہ تقسیم اِس بات پر منحصر ہے کہ کسی کہکشاں کے (ستاروں سے بھرے) بازُو کس قدر سختی کے ساتھ لِپٹے ہوئے ہیں۔ کچھ کہکشاؤں کے بازُو مرکزی سلاخ کے آخری سِرے سے نکلے ہوئے دِکھائی دیتے ہیں۔ اِن مزاحمت شدہ کہکشاؤں کو ایس بی اے، ایس بی بی، اور ایس بی سی (Sba, Sbb, Sbc) جیسے ناموں سے پکارا جاتا ہے۔

3۔ بے قاعدہ کہکشاں

جن کہکشاؤں کی شکل بیضوِی یا چکردار نہ ہو بے قاعدہ کہکشائیں کہلاتی ہیں۔

ہماری کہکشاں

ہماری اپنی کہکشاں جس میں ہماری زمین اور نظامِ شمسی واقع ہے، ملکی وے (Milky Way) کہلاتی ہے۔ (اسے عربی میں ’مجرّہ‘ اور ہندی میں ’آکاس گنگا‘ کہتے ہیں) یہ تقریباً 10 ارب ستاروں پر مشتمل ایک معمولی درجے کی ’چکردار کہکشاں‘ ہے، جس کے ایک بازو (Orion Arm) میں ہمارا سورج (اپنے معروف نظامِ شمسی سمیت) واقع ہے۔اُس کا قطر تقریباً ایک لاکھ نوری سال ہے اور سورج اُس کے مرکز سے 30 ہزار نوری سال دُور واقع ہے۔ سورج سے قریب ترین ستارہ ’پروگزیما سنچری‘ (Proxima Centauri) اُس سے 4.2 نوری سال کی مسافت پر ہے۔ ہماری کہکشاں (اپنے تمام ستاروں اور اُن کے نظام ہائے سیارگان سمیت) گردِش میں ہے اور سورج اپنی گردِش کا ایک چکر تقریباً 22 کروڑ 50 لاکھ سال میں مکمل کرتا ہے۔ اِس دَورانیئے کو بعض اَوقات ’ کائناتی سال‘ (Cosmic Year) کے نام سے بھی موسوم کیا جاتا ہے۔

کچھ کہکشائیں اِنتہائی مُستعد ہوتی ہیں اور بڑی مِقدار میں شعاع ریزی(Radiation) بھی کرتی ہیں۔ اُن میں سے ایک طاقتور ریڈیائی کہکشاں Centaurus A. ہے۔ ٭

قواسرز

قواسرز بہت بعید اور اِنتہائی رَوشن اَجرامِ سماوِی ہیں۔اُن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ مُتحرّک و مُستعِد کہکشاؤں کے مرکز (Nuclei) ہیں۔ اُن کی بے پناہ طاقت شائد اُن کے مرکز میں موجود بڑے بڑے سیاہ شگافوں (Black Holes) کی وجہ سے ہو۔ اب تک کا دریافت شدہ سب سے بڑا قواسر’پی کے ایس2000 منفی 300‘ ہے، خیال کیا جاتا ہے کہ وہ زمین سے 13 ارب نوری سال دُور واقع ہے۔٭

ثنائی، مُتکثّراور مُتغیّرستارے

ستاروں کی 75فیصد سے زائد اکثریت ثنائی اور متکثّر نظامِ ثوابت (Binary & Multiple Star System) میں شامل ہے۔

1۔ ثنائی ستارے

اِن سے مُراد دو ستاروں کا ایسا جوڑاہوتا ہے جس میں دونوں باہمی کشش کے مُشترکہ مرکز (Centre Mass) کے گِرد مدار میں آگے پیچھے گردِش کرتے ہیں۔ دونوں ستارے اپنی ہر ایک گردِش کے دَوران ایک بار دُوسرے کو اپنے پیچھے چھپا کر اُس کی روشنی کو زمین کی طرف آنے سے روک دیتے ہیں ، جس کی وجہ سے اُن کی روشنی میں مُسلسل کمی و بیشی ہوتی رہتی ہے۔ پہلے پہل ثنائی ستاروں کی دریافت اِسی وجہ سے عمل میں آئی تھی۔

2۔ مُتکثّر ستارے

کچھ ستارے (دو کی بجائے) بہت سے ستاروں کا مجموعہ ہوتے ہیں ، اُنہیں ’مُتکثّر ستارے‘(Multiple Stars)کہتے ہیں۔ مِثال کے طور پر بُرج جوزا (Gemini Constellation) میں موجود ستارہ ’کیسٹر‘ (Castor) (اِسی طرح کے) 6مختلف حصوں (ستاروں) پرمشتمل ہے۔٭

3۔ مُتغیّر ستارے

اکثر ستارے اپنی مُستقل چمک رکھتے ہیں جبکہ کچھ ستاروں کی چمک میں کمی و بیشی ہوتی رہتی ہے، انھیں ’متغیر ستارے‘ (Variable Stars)کہا جاتا ہے۔ ممکن ہے کہ اُن کی روشنی میں یہ تغیّر ہمارے زاویۂ نگاہ کی وجہ سے ہو جیسا کہ ثنائی ستاروں کے ایک دُوسرے کو اپنے پیچھے چھپانے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ دیگراَسباب میں یہ بھی ممکن ہے کہ ایسا ستارے کی اندرونی تبدیلیوں اور توانائی کے اِخراج میں کمی کے سبب ہو۔ مُتغیّر ستاروں میں تبدیلی کا یہ عمل چند گھنٹوں سے لے کر کئی سال تک محیط ہو سکتا ہے۔

سِتاروں کا اِرتقاء اور سیاہ شگاف

کسی ستارے کا نشوونما پانے کا طریق اُس کی کمیّت پر منحصر ہوتا ہے۔ ایسے ’پروٹوسٹارز‘ (Protostars) جن کی کمیّت ہمارے سورج کی نسبت صرف 0.06 فیصد ہوتی ہے، کبھی بھی اِتنے گرم نہیں ہو سکتے کہ اُن میں نیو کلیائی ردِّعمل شروع ہو سکے٭۔ 0.06 فیصد سے 1.4 فیصد تک کی کمیّت پر مشتمل ستارے تیزی سے اصلی (نیوکلیائی) تسلسل کی طرف چلے آتے ہیں، جو کم از کم 10 ارب سال تک جاری رہ سکتا ہے۔ جب ہائیڈروجن کا میسر ذخیرہ اِستعمال ہو چکا ہوتا ہے تو سِتارے کا مرکز سکڑتا ہے، جس کے نتیجے میں اُس کا درجۂ حرارت 10 کروڑ سینٹی گریڈ (18کروڑ فارن ہائیٹ) تک بڑھ جاتا ہے۔ اِس قدر حرارت کے ردِّعمل میں ہیلئم فیوژن شروع کر دیتی ہے اور سِتارہ پھول کر ’سرخ ضخّام‘ (Red Giant) بن جاتا ہے٭٭۔ عام (طور پر) سرخ ضخّام (پھول کر) ہمارے سورج کی نسبت سائز میں 100 گنا (بڑے) ہو جاتے ہیں۔ آخرکار سِتارے کی بیرونی تہیں متحرک سحابیئے (Planetary Nebula) کو تشکیل دے کر تحلیل ہو جاتی ہیں۔ پھر سِتارے کا مرکزہ سکڑ کر سفید بونے تارے (White Dwarf) میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ سفید بونا تارہ عام طور پر ہمارے سورج سے 100 گنا چھوٹا ہوتا ہے۔٭٭٭

وہ ستارے جن کی کمیّت سورج کے مقابلے میں %1.4 سے %4.2 کے درمیان ہوتی ہے، نسبتاً زیادہ تیزی سے نشو و نما پاتے ہیں اور کم عمری میں ہی مرجاتے ہیں٭۔ ’سرخ ضخّام‘ کا مرحلہ شروع ہونے سے قبل تقریباً 10 لاکھ سال وہ معمول کے سِتاروں کی طرح زندگی گزارتے ہیں۔ درجۂ حرارت میں مسلسل اِضافہ ہوتا رہتا ہے جس کی بناء پر بھاری عناصر تشکیل پانے لگتے ہیں، تآنکہ 70کروڑ سینٹی گریڈ (ایک ارب 26 کروڑ فارن ہائیٹ) درجۂ حرارت پر لوہا بھی پیدا ہو جاتا ہے۔ تب ستارہ ایک ’عظیم نوتارہ‘ (Supernova) کے دھماکے کے ذریعے ٹکڑے ٹکڑے ہو کر گردوغبار اور گیس کے عظیم پھیلتے ہوئے بادل کی صورت اِختیار کر لیتا ہے٭٭۔

اُس بادل کے مرکز میں 10 سے 20کلومیٹر (6سے 10میل) قطر پر مشتمل ایک چھوٹا نیوٹران سِتارہ باقی بچ رہتا ہے۔٭ یہ ستارہ اِنتہائی تیز محورِی گردِش کرتا ہے اور اُس کی کمیّت ناقابلِ یقین حد تک بڑھ جاتی ہے، زمین کے مقابلے میں اُس کی کمیّت 10ہزار کھرب گنا زیادہ ہوتی ہے۔ ان (4.2 گنا شمسی) کمیّت سے بڑے سِتاروں کا اِرتقاء اِس سے بھی زیادہ حیران کن ہوتا ہے۔ اُن کی زندگی کا اِنجام عموماً ’سیاہ شگاف‘ (Black Hole) کی صورت میں ہوتا ہے، جو اِس قدر کثیف ہوتا ہے کہ روشنی بھی اُس سے فرار اِختیار نہیں کر سکتی ٭٭۔ سیاہ شگافوں کا علم آس پاس کی اَشیاء پر اُ ن کی کشش کے اَثرات کے باعث ممکن ہو سکا ہے۔

ایکس ریز کا منبع Cygnus X۔1 شاید ایک بڑے ستارے اور ایک سیاہ شگاف پر مشتمل ہو٭۔ مادّہ اُس ستارے سے سیاہ شگاف کی طرف کھنچتا چلا جاتا ہو گا اور گرم بھی ہو جاتا ہو گا (اور اُس کھنچاؤ کے ساتھ ساتھ) وہ شعاعیں بھی خارِج کرتا ہو گا۔

Copyrights © 2019 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved