تخلیق کائنات

پیش لفظ

گزشتہ تین صدیوں سے بالعموم اور موجودہ صدی کے دَوران بالخصوص سائنسی تحقیقات نے اِس کائناتِ ارض و سماء کے طریقِ کار میں پنہاں راز ہائے سربستہ کو کھول کھول کر اِنسانیت کے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ اِن تحقیقات کا دائرۂ کار اِنسانی جسم کے اِرتقاء و عمل سے لے کر ہمارے چار سُو موجود ماحول میں ہر طرف پھیلا ہوا ہے۔ موجودہ دَور کی اِن بیش بہا وسیع و عریض تحقیقات کے مقابلہ میں (آج سے) 14صدیاں قبل نوعِ اِنسانی جہالت کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں بھٹک رہی تھی۔ قرآنِ مجید نے اُس دورِ جاہلیت میں موجودہ سائنسی تحقیقات سے متعلقہ بیشتر حقائق ایسی درُستگی اور صحت کے ساتھ عیاں کئے کہ اُن کے مطالعہ سے عقلِ سلیم اِس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ ایسا کلام خالقِ کائنات ہی کی ذات سے صادِر ہو سکتا ہے۔ قرآنِ مجید نے خالقِ کائنات کی فراست، کریم النفسی اور اِختیار کی طرف اِنسان کی توجہ دِلانے کے لئے اُن قدرتی مظاہر کو بیان کیا ہے۔ جدید سائنس اُن مظاہر کو جس قدر عیاں کرتی ہے اُتنا ہی قرآن کی حقیقت ہم پر واضح ہوتی چلی جاتی ہے۔ اُس وقت جب مختلف سائنسی میادِین کے نام تک معرضِ وُجود میں نہ آئے تھے اُن کے بارے میں اِتنا جامع علم اﷲ بزرگ و برتر کی اُلوہی عقل پر بھروسا کئے بغیر کسی اور ذریعے سے حاصل ہونا ناممکن تھا۔

اِس کتاب میں قرآنی آیات میں جا بجا بکھرے ہوئے سائنسی حقائق کو پیش کیا جا رہا ہے تاکہ اَہلِ اِسلام اور غیرمسلم دونوں (قرآنی علوم کے نور سے) فیضیاب ہو سکیں۔ اِن آیاتِ قرآنیہ کی مدد سے نہ صرف کتابِ اِلٰہی (قرآنِ مجید) کی صداقت عیاں ہوتی ہے بلکہ رحیم و کریم خدائے بزرگ و برتر کے اَوصاف بھی ثابت ہوتے ہیں جو اِس کائناتِ ہست و بود کی بقاء و دوام کا حقیقی باعث ہے۔

یہاں ہم یہ بات واضح طور پر بیان کر دینا چاہتے ہیں کہ ہم سائنسی حقائق کے ساتھ (خواہ مخواہ کی) مطابقت پیدا کرنے کے لئے قرآنی آیات کی تفسیر میں کسی قسم کی بے تکی اور غیرحقیقی تبدیلی کے قائل نہیں ہیں۔ اِس کے ساتھ ساتھ ہم یہ بھی واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ ہماری دانست میں کائنات سے متعلق جدید سائنسی نظریات بھی حتمی اور قطعی حیثیت نہیں رکھتے، کیونکہ سائنسی علوم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مسلسل تبدیلی اور اِرتقاء کے عمل سے گزرتے رہتے ہیں۔ ترقی کے موجودہ دَور میں بھی سائنس کے پاس بہت کم نظریات اِس نقطۂ کمال تک پہنچ پائے ہیں کہ اُنہیں حتمی اور قطعی قرار دیا جا سکے۔ جبکہ دُوسری طرف خالقِ کائنات کا کلام قطعی طور پر حتمی اور صداقت پر مبنی ہے۔ اِتنی بات واضح کر دینے کے بعد ہم یہ سمجھتے ہیں کہ قرآنِ حکیم کو جدید سائنس کی روشنی میں پرکھنے کی بنیادی طور پر دو وُجوہات ہو سکتی ہیں:

1۔ قرآنِ مجید ایک ایسا منبعِ علوم ہے جو مختلفُ الجہات (ہمہ جہت) ہونے کے علاوہ تمام علوم کا جامع بھی ہے۔ قرآنِ مجید کے علاوہ کوئی اِلہامی کتاب (بیک وقت) اِن ہمہ وصف خاصیتوں کی حامل نہیں ہو سکتی۔ سائنسی ترقی کے آغاز سے لے کر ترقی کی موجودہ اَوجِ ثریا تک کے اَدوار میں جب ہم قرآنی تعلیمات اور اِنسانی (کاوشوں کی زائیدہ) سائنس کی دریافتوں اور تجربات کے مابین نسبت قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو قرآنی تعلیمات پر ہمارا اِیمان پہلے سے بھی مضبوط تر ہوتا چلا جاتا ہے۔ مزید برآں قرآنِ حکیم خود اپنی آیات کو بہتر طور پر سمجھنے کے لئے سائنسی بنیادوں پر غور و فکر کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔

2۔ قرآنِ مجید کائنات کے جن حیا تیا تی اور طبعی حقائق کو بیان کرتا ہے، جدید سائنسی علوم کا فیض عام ہونے سے قبل اِنسانیت اُنہیں جاننے سے قاصر تھی۔ اَب جبکہ قرآنِ مجید کے اِن بیانات کی بلا شک و شبہ کاملاً تصدیق میسر آ چکی ہے، لہٰذا کسی بھی غیرمتعصّب شخص کو اِس کی باقی تعلیمات کے قبولنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرنی چاہیئے۔ خاص طور پر جب اِن تعلیمات کی عملی توجیہہ دُنیا میں موجود ہر چیز سے بالا و بَرتر ہے۔

اگرچہ (اِقدام و خطاء کے) اِمکانات اور سائنسی مُشاہدات کی مختلف تعبیرات کا پہلو بھی (شکوک و شبہات پیدا کرتے ہوئے) ذِہن پر چھایا رہتا ہے مگر پھر بھی مذکورہ بالا وُجوہات سائنسی تناظر میں قرآنِ مجید کے مطالعہ کو ناگزیر قرار دیتی ہیں، جس کی وجہ یہ ہے کہ سائنسی مُشاہدات کی تشریح میں پائے جانے والے اِختلافات منطق، گرامر اور دُوسرے لِسانی قواعد کے ماہرین میں پائے جانے والے اِختلافات ہی کی طرح (معمولی نوعیت کے حامل) ہیں۔ اِس مختصر تعارف کے بعد آئیے اب ہم اپنے اصل موضوع کا (ترتیب وار) جائزہ لیتے ہیں۔

Copyrights © 2019 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved