سیاست نہیں - ریاست بچاؤ!

سیاست یا ریاست؟

سیاست یا ریاست؟

اب ایک ہی چوائس ہے: سیاست بچائیے یا ریاست بچائیے۔ یہ ملک ہمارے بزرگوں نے سیاست کی اس خود غرضانہ مشق کے لیے نہیں بنایا تھا، لہٰذا نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ آگے آئیں اور اس ملک کی سیاست نہیں بلکہ ریاست بچائیں، اس کے آئین و دستور کو بچائیں۔ اس نظامِ اِنتخابات کے خلاف جد و جہد ہی تبدیلی کا واحد راستہ ہے۔اِس نظامِ سیاست و اِنتخابات کو مسترد کریں اور پوری قوم سڑکوں پر آجائے۔ جب پوری قوم سڑکوں پر آجائے گی اور کہے گی کہ یہ نظام ہمیں نہیں چاہیے تو سپریم کورٹ قوم کی آواز پر ایکشن لینے کی پابند ہو جائے گی۔ قومی اتفاق رائے سے (جس کا طریقہ موجود ہے) ایک غیر سیاسی اور غیر فوجی قومی حکومت تشکیل دی جائے جس میں اعلیٰ کردار کی بے داغ سیاسی شخصیات یا عدلیہ کے اچھی شہرت کے ایماندار ریٹائرڈ جج صاحبان، فوجی، سماجی حلقوں کے صالح اور اعلیٰ انتظامی صلاحیتوں کے حامل اَشخاص اور مذہبی حلقوں سے خوفِ خدا رکھنے والے مصلحین شامل ہوں جو مل بیٹھ کر آئین پاکستان کے تابع ایک نیا social contract وضع کریں؛ جو ملک سے برائیوں کا قلع قمع کریں۔ کرپشن اور لوٹ مار کی اندھیر نگری کو روکیں اور مقروض معیشت کو بہتری کی طرف گام زن کریں اور تمام برائیوں سے پاک ایسا نظام اِنتخاب تشکیل دیں جس میں غریب کا بچہ بھی الیکشن لڑ سکے، پی ایچ ڈی، ماہر معیشت، جرنلسٹ، انجینئر، ڈاکٹر غرضیکہ ہر پڑھا لکھا شخص بھی الیکشن لڑ سکے، اور الیکشن پر اٹھنے والے بے پناہ اخراجات پر مکمل پابندی لگا دی جائے۔ یہی وہ واحد طریقہ ہے جس کے ذریعے حقیقی جمہوری طریق پر ایسے ایمان دار، مخلص اور دردِ دل رکھنے والے اَرکانِ اسمبلی کا چناؤ عمل میں لایا جاسکتا ہے ملک کی تقدیر بدل کر رکھ دیں۔

پاکستان جس مہلک مرض میں مبتلا اور گرفتار ہے اس کی ہم نے تشخیص کر دی کہ ہمارا دشمن کوئی فرد نہیں، کوئی جماعت نہیں بلکہ ہمارا دشمن یہ نظام ہے۔ ایک سٹیج سجا ہے جس پر مختلف لوگ تبدیلی کا نام لے کر آرہے ہیں مگر سارے وہی پرانے لوگ ہیں جو ہر دور میں رہے ہیں۔ ایک بار پھر مختلف جماعتوں میں شامل ہورہے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کی مجبوری ہے ان کے بغیر الیکشن نہیں لڑا جاسکتا۔ ان کے بغیر سیٹیں نہیں جیتی جاسکتیں۔ جب تک نظام نہیں بدلتا حالات نہیں بدل سکتے۔

لوگو! اُٹھو! پاکستان کو بچانے کے لیے میدانِ عمل میں کود جاؤ! یہی ملک کو بچانے اور اس میں ’حقیقی تبدیلی (change)‘ لانے کی واحد سبیل ہے۔ میڈیا اور قوم اس نقطہ نظر پر مباحث کا آغاز کریں تاکہ ایک قومی اتفاق رائے develop ہو۔ اس سے قوم کے اندر شعور پیدا ہوگا اور وہ تبدیلی کے لیے تیار ہوں گے۔ اس موقع پر میڈیا کے سامنے یہ وضاحت کرنا چاہتا ہوں کہ ہمارا یہ انقلاب ہرگز سول نافرمانی کی کوئی تحریک نہیں ہے اور نہ ہی ریاستی مشینری کے خلاف کوئی کوشش ہوگی۔ یہ ایک پُرامن اِنقلابی جدوجہد ہے تاکہ قوم خوابِ غفلت سے بیدار ہو اور نظامِ اِنتخابات کو مسترد کردے۔ قوم کے متحد ہو کر گھروں سے باہر نکلنے کی دعوت یہ ثابت کردے کہ اسے یہ باطل، غیر منصفانہ اور ظالمانہ نظامِ سیاست ناپسند ہے اور وہ تبدیلی چاہتی ہے۔ اِس سے اِنقلاب انگیز تبدیلی کا آغاز ہوگا، ایک نئی تحریک پاکستان کا آغاز ہوگا، ایک نیا سوشل کنٹریکٹ جنم لے گا اور ایک نئے پاکستان کی بنیاد رکھی جائے گی: ایک آزاد و خود مختار، روشن، خوش حال، مستحکم، مضبوط، متحد اور فلاحی پاکستان ایک ایسا پاکستان جہاں ہر شہری کو مساوی مواقع میسر ہوں، سب کے حقوق محفوظ ہوں، جہاں اِنصاف کا بول بالا ہو، قانون کی حکمرانی ہو، معاشی مساوات ہو، یکساں نظامِ تعلیم رائج ہو، عوام آزاد ہوں، حکمران قوم کے حقیقی خادم ہوں، سب کی جان و مال کو مکمل تحفظ حاصل ہو، دہشت گردی و اِنتہاء پسندی کا نام و نشان نہ ہو اور ہر پاکستانی کو صحیح معنوں میں پاکستانی ہونے پر فخر ہو۔

ایک حقیقی اِسلامی فلاحی جمہوری پاکستان!!!

Copyrights © 2020 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved