سیاست نہیں - ریاست بچاؤ!

تبدیلی کے ممکنہ راستے

تبدیلی کے ممکنہ راستے

(1) تبدیلی لانے کے تین ممکنہ راستے

اب آپ کے ذہنوں میں سوال ہوگا کہ آخر تبدیلی کے راستے کیا ہیں؟ پہلے سے موجود ان راستوں اور طریقوں کی بھی میں وضاحت کر دینا چاہتا ہوں۔

  1. تبدیلی بذریعہ فوج آسکتی ہے؟ اس پر میرا جواب no ہے۔ فوج کے ذریعے کئی بار تبدیلی آئی لیکن فوجی آمریت ملکی مسائل کو نہ کبھی حل کر سکی نہ کبھی کرے گی۔ اُلٹا اس کا نقصان یہ ہے کہ اس سے خود فوج کے ادارہ کی قوم کے دلوں میں ساکھ ختم ہو جاتی ہے۔ چونکہ پوچھنے والا کوئی نہیں ہوتا اس لیے اس میں بھی کرپشن انتہا درجے کی ہوتی ہے ۔ بیرونی طاقتوں کی مداخلت بڑھ جاتی ہے کیونکہ وہ فردِ واحد سے بات کر رہے ہوتے ہیں، پارلیمنٹ سے نہیں۔ اور فردِ واحد سے بات کر کے فیصلہ کروانا ان کے لیے زیادہ آسان ہوتا ہے، خصوصاً military dictatorship بیرونی طاقتوں کے لیے انتہائی سازگار ہوتی ہے جبکہ ملک اور قوم کے لیے اتنی ہی تباہ کن ہے۔ لہٰذا بذریعہ فوج تبدیلی آمریت کا راستہ ہے، یہ تبدیلی کا راستہ ہرگز نہیں ہے۔

  2. دوسرا طریقہ بعض انتہا پسند ذہنوں میں آتا ہے کہ تبدیلی بذریعہ طاقت یا بذریعہ بندوق لائی جائے۔ یہ دہشت گردی کا راستہ ہے، اس پر بھی میرا جواب absolutely no ہے۔ ہم لوگ اس ملک کو دہشت گردی کی آگ میں جلتا دیکھ چکے ہیں کہ اس کے کتنے نقصانات ہوئے، اس لیے ہم اس ملک کو دہشت گردی سے نجات دلانا چاہتے ہیں۔ بندوق قوم کے جوانوں کے ہاتھ سے لے لینا چاہتے ہیں۔ ان کے ہاتھ میں امن اور ترقی کی بندوق دینا چاہتے ہیں اور وہ علم ہے۔ انہیں شعور کا اسلحہ اور اعلیٰ کردار کی طاقت دینا چاہتے ہیں۔ لہٰذا یہ دہشت گردوں کا راستہ ہے، انتہاء پسندوں کا راستہ ہے، یہ militancy ہے۔ یاد رکھیں! militancy اسلام میں جائز ہے نہ پاکستان میں اس کا کوئی مستقبل ہے۔ پاکستان کو ایک moderate، پُراَمن ریاست ہونے کا تاثر دنیا کو پیش کرنا ہے جو tolerance اور patience کی حامل ہو، جس کے اندر progress اور development ہو، جہاں باہمی اِفہام و تفہیم اور گفت و شنید کے ذریعے مسائل حل کیے جائیں، جس کے اندر شفافیت ہو۔ پھر اس کے اندر intra-faith dialogue کی گنجائش ہو اور مسلمانوں کے فرقوں کے اندر بھی ہم آہنگی ہو۔ وہ ایک دوسرے کا گلہ نہ کاٹیں، مسلمانوں کے مختلف فرقے اور مسالک ایک دوسرے کو کافر ہونے کا فتوی نہ دیں، بلکہ بین المسالک ہم آہنگی کی بنیاد پر جسدِ واحد کے طور پر رہیں۔

اسی طرح interfaith harmony کے ذریعے بین المذاہب ہم آہنگی بھی اہم ہے۔ یہ ملک فتح نہیں کیا گیا کہ فتح کرنے کے بعد اقلیتوں کو اَمان اور ذِمّی کا status دیں۔ بلکہ تمام غیر مسلم اقلیتیں پاکستان کے مسلمانوں کی طرح برابر درجے کی شہری ہیں۔ اُنہوں نے بھی قیامِ پاکستان میں اسی طرح حصہ لیا تھا جس طرح یہاں کی مسلم اکثریت نے حصہ لیا تھا۔ مسلم اکثریت اور غیر مسلم اقلیت نے مل کر تقسیم ہند اور قیام پاکستان کی جنگ لڑی تھی۔ وہ برابر درجے کے شہری ہیں، ہر ایک کو اپنی مذہبی آزادی حاصل ہے۔ آقا e نے جب ریاستِ مدینہ قائم کی تو آپ e نے یہود اور ان کے تمام clients کے ساتھ ایک political alliance قائم کیا تھا اور میثاقِ مدینہ کی صورت میں پہلا آئین اور دستور دیا تھا جس میں مسلمانوں اور یہود کو مل کر ایک single nation قرار دیا تھا۔(1)

میثاقِ مدینہ کے آرٹیکل 28 میں آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

إنّ يهُودَ بَنِی عَوْفٍ امّةٌ مَعَ الْمُؤْمِنِينَ، لِلْيَهُودِ دِينُهُمْ وَلِلْمُسْلِمِيْن دِينُهُمْ، مَوَالِيهِمْ وَانْفُسُهُمْ.(2)

بے شک یہودِ بنی عوف، مسلمانوں کے ساتھ مل کر ایک ہی اُمت قرار دیے جاتے ہیں مگر یہود کے لیے ان کا اپنا دین ہوگا اور مسلمانوں کے لیے ان کا اپنا۔ اُمت ہونے میں وہ خود بھی شامل ہوں گے اور دونوں طبقات کے موالی بھی۔

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں ایک قوم اور ایک political entity بنا دیا تھا اور فرمایا کہ ہر کوئی اپنے مذہب میں آزاد ہوگا۔ ہمارا ملک رواداری کا ملک ہے، اسے برداشت اور رواداری کا ملک ہونا چاہیے، بین المذاہب اور بین الفرقہ ہم آہنگی کا ملک ہونا چاہیے، ہم یہاں برداشت کے کلچر کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔ البتہ اقلیتوں کو اکثریت کے جذبات، احساسات، مذہبی نظریات اور متفقہ آئین کی پابندی کرنا ہوگی ورنہ پُرامن بقاے باہمی ناممکن ہوگی۔ لہٰذا تبدیلی کبھی طاقت، بندوق اور انتہا پسندی سے نہیں آئے گی۔ یہ راستہ اسلام دشمن بھی ہے اور عوام دشمن و پاکستان دشمن بھی۔ ہمیں یہاں امن کے ساتھ تبدیلی لانی ہے۔

.3 اب اِس کے بعد تیسرا اور آخری راستہ بچ جاتا ہے جو ذہنوں میں آتا ہے، وہ تبدیلی بذریعہ انتخابات ہے۔ اب یہ بات بڑی اہم ہے۔ ہر شخص آج اس انداز سے سوچتا ہے، یہ ایک سوچ ہے جسے ٹیلی ویژن چینلز پر anchorpersons بھی بہت discuss کر رہے ہیں، اخبارات و رسائل کے آرٹیکلز میں discuss ہورہا ہے۔ جیسے کہ پہلے بیان کر چکا ہوں الیکشن کے نتائج نے نہ اس ملک کو گرداب سے نکالا ہے اور نہ اس کو صحیح قیادت عطا کی ہے، نہ اس ملک کو استحکام دیا ہے اور نہ ہی اس کی معیشت کو مستحکم کیا ہے۔ لہٰذا آئندہ اگر اسی نظام کے تحت یہ الیکشن ہوتے رہے تو اس طریقے سے سو بار الیکشن بھی ملک میں تبدیلی کی ضمانت نہیں دے سکتے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہ انتخابات معروف سیاسی و جمہوری خصوصیات کے حامل ہی نہیں رہے۔ انتخاب بے شک ایک آئیڈیل چیز ہے، میں اس کا قائل ہوں، مگر یاد رکھ لیں محض انتخاب کا نام جمہوریت نہیں ہے۔ جمہوریت ایک بڑی کلیت ہے اور انتخاب اس کا ایک جزو ہے۔ آپ UN اور جنرل اسمبلی کی resolution پڑھیں جس میں انہوں نے جمہوریت کو define کیا ہے۔ انہوں نے صرف ان انتخابات کو حقیقی انتخاب کہا ہے جو درج ذیل دو شرائط کو پورا کرتے ہوں:

  1. الیکشن پراسیس genuine ہو یعنی انتخابات صحیح معنوں میں عدل و انصاف پر مبنی اور شفاف طریقے سے ہوں۔
  2. لوگ اپنا حق رائے دہی آزادانہ طریقے سے استعمال کر سکتے ہوں۔

یہاں آزادانہ حق رائے دہی کہاں ہے؟ ہمارے مروجہ نظام سیاست نے تو 5 سال کے بعد ایک دن کی پولنگ کو جمہوریت کا نام دے رکھا ہے اور اس دن کی حالت بھی یہ ہوتی ہے کہ جتھے اور کنبے بھیڑ بکریوں کی طرح چودھریوں اور ٹھیکے داروں کے ذریعے گاڑیوں پر بٹھا کر پولنگ سٹیشن لائے جاتے ہیں اور سماجی دباؤ کے تحت اپنے اپنے پسندیدہ انتخابی نشان پر مہریں لگوائی جاتی ہیں۔ ووٹ لے کر پھر ان سے کوئی واسطہ تعلق نہیں رہتا۔ اگلے الیکشن تک حکومت جو بھی ظالمانہ، نامنصفانہ، عوام دشمن رویہ اختیار کرے جمہوریت اور جمہوری عمل ہی کہلاتا ہے۔ انتخابات اسی وقت حقیقی تبدیلی کا ذریعہ بن سکتے ہیں جب مندرجہ بالا دونوں شرائط پر پورے اترتے ہوں۔ اس کا طریقہ کار ہم آخر میں بیان کریں گے۔

(2) جمہوریت کی گاڑی

کوئی شک نہیں کہ انتخابات جمہوریت کی ایک گاڑی ہے، قوم اِس میں اس لیے بیٹھتی ہے کہ یہ جمہوریت کی منزل تک لے جائے۔ لیکن اگر گاڑی میں خطرناک قسم کی خرابیاں آجائیں، انجن فیل ہو جائے، یا اس سے تیل بہ کر آگ لگ جائے، یا گاڑی کی بریکس فیل ہو جائیں تو اس سے مہلک حادثہ ہو سکتا ہے اور سواریوں کی ہلاکت اور جان کے تلف ہونے کا ڈر ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ جب گاڑی میں خرابی واقع ہو تو اس کے چلانے پر اصرار نہ کیا جائے بلکہ اسے ورکشاپ بھیجا جاتا ہے تاکہ جو جو خرابیاں موجود ہیں انہیں دور کرکے محفوظ سفر کے لیے تیار کیا جاسکے۔ چنانچہ مرمت کرا کے اس گاڑی کو پھر track پہ ڈالتے ہیں اور سفر پر روانہ کرتے ہیں، تب سلامتی کے ساتھ منزل تک پہنچنے کا امکان ہوتا ہے۔

نظامِ انتخاب کی جس گاڑی کے ذریعے آپ جمہوریت کی آئیڈیل منزل تک پہنچنا چاہتے ہیں اس میں بڑی خطرناک خرابیاں آچکی ہیں۔ یہ خرابیاں موجودہ دور سے نہیں بلکہ پچھلے چالیس پچاس برس سے مسلسل بڑھتی جارہی ہیں اور اب انتہا پر جا چکی ہیں۔ بنابریں اس گاڑی کے اب مزید سلامتی کے ساتھ چلنے اور منزل تک پہنچنے کے کوئی امکانات نہیں رہے۔

اس سیاسی نظام میں شراکت داری کی مثال ان مسافروں کی مانند ہے جو کراچی جانے کے لیے ٹرین میں سوار ہوتے ہیں مگر بدقسمتی سے اس ٹرین کا رُخ پشاور کی طرف ہوتا ہے۔ اب اگر وہ سالوں تک اس پر سوار رہیں مگر منزل پر نہیں پہنچ سکیں گے۔

پاکستان میں موجود نظام انتخاب کے ذریعے قائم ہونے والی اسمبلیوں کی مثال نمک کی کان کی طرح ہے ہر کہ در کان نمک می رود نمک می شود (جو اس میں گیا وہ نمک بن کر رہ گیا)۔ اب اگر 20 یا 25 منتخب افراد حقیقی تبدیلی کے خواہاں بھی ہوں تو چار سو کی اسمبلی میں ان کی آواز کون سنے گا! نتیجہ یہ ہوگا کہ گندے انڈوں میں رہ کر وہ بھی گندے ہو کر غیر مؤثر ہو جائیں گے۔ ان کو یقینا دو میں سے کسی ایک پلڑے میں جانا ہوگا؛ اپنے سیاسی وجود کو قائم رکھنے کے لیے گورنمنٹ میں شامل ہونا ہو گا یا اپوزیشن میں۔ اگر حکومت میں شامل ہوئے تو بس اقتدار تمام تر برائیوں سمیت ان کی منزل ہوگی اور 5 سال اقتدار بچانے پر صرف ہوں گے اور قوم کو کچھ نہیں ملے گا اور اگر اپوزیشن میں ہوں گے تو 5 سال اقتدار پر بیٹھی حکومت کو گرانے پر صرف ہوں گے ۔ اس کے سوا اس اسمبلیوں نے کچھ نہیں دینا۔ میں خود اسمبلی ممبر رہا مگر جب یہ اَمر مجھ پر روزِ روشن کی طرح عیاں ہو گیا تو میں نے اسے چھوڑنے میں ایک لمحے کا توقف نہیں کیا۔

(3) تبدیلی کا عمل کہاں سے شروع ہو؟

اگر خرابی کی شکل میں گاڑی کو ورکشاپ بھیجنے پر آپ متفق ہیں تاکہ مرمت کرانے کے بعد اسے ٹریک پر ڈالا جائے تو میں تجویز کروں گا کہ موجودہ نظامِ انتخابات کی خطرناک حد تک خراب گاڑی کو اِس وقت ٹریک پر چلنے سے روک دیا جائے۔ لیکن سوال یہ پیداہو گا کہ اسے چلنے سے روکے گا کون؟ سیاسی جماعتیں کبھی نہیں روکیں گی، ان کا مفاد اور مستقبل اور ان کی سیاسی زندگی کا تحفظ اور ان کا بزنس غرضیکہ ان کا جینا مرنا انہی انتخابات پر منحصر ہے۔

سیاسی لیڈروں اور سیاسی جماعتوں کا اس مروّجہ سیاسی نظام کے ساتھ گہرا تعلق ہے، اس لیے وہ اس نظام کو بچاتے ہیں اور ہر وقت نظام بچانے کی رٹ لگائے رہتے ہیں کیونکہ یہ نظام اُن کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ ذرا سوچیے! یہ کیسا نظام ہے جہاں عوام دو وقت کی روٹی کو ترس جائیں؟ عزتِ نفس اور بنیادی حقوق تک سے محروم کر دیے جائیں اور جس میں ناانصافی اور ظلم و ستم کا دور دورہ ہو، ملکی سا لمیت اور خود مختاری کا سودا کر دیا جائے، قومی اداروں اور ملکی دولت کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا جائے۔ یہ کیسا نظام ہے جس میں اس حکومت نے اپنے مفادات کی خاطر ہمیں غیروں کے ہاتھوں غلام بنا دیا ہو؟ جب وہ اس نظام کو قائم رکھنے کی بات کرتے ہیں تو دراصل اِس کرپٹ نظام کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔

(4) اگر یہ نظام ہے تو پھر بد نظمی کیا ہوتی ہے؟

لہٰذا وہ نام نہاد پاکستانی نظامِ جمہوریت کے دانش ور جو جمہوریت کا نام لیتے نہیں تھکتے اور پاکستان میں موجودہ نظام کو برقرار رکھنے کے حامی ہیں ان سے سوال ہے کہ وہ بتائیں کہ یہ نظام ہے کیا؟ اگر اسی کا نام نظام ہے تو پھر بد نظمی کسے کہتے ہیں؟ آپ کس نظام کی بات کرتے جو قوم کو کرپشن، فراڈ، ناانصافی، جہالت، قتل و غارت اور لوٹ کھسوٹ دے اور اسے ذلت و رُسوائی سے ہم کنار کرے۔

اِنتخاب کی پہلی شرط یہ ہے کہ ووٹر کو ووٹ ڈالتے ہوئے یہ پتہ ہو کہ میرے ووٹ سے کیا change آسکتی ہے۔ یہ کیسا جمہوری نظام اور طرزِ انتخاب ہے کہ اگر پارٹیوں کی پالیسیز میں کوئی فرق اگر ہے تو وہ گالیوں کا فرق ہے، دنگے فساد کا فرق ہے۔ وہ فرق برادری اِزم اور خاندانی وابستگیاں ہیں۔ لوگوں کی ایک بڑی تعداد مرحوم ذوالفقار علی بھٹو کی شخصیت کو آج تک سیاسی طور پر پوجتے ہوئے ووٹ دیتے چلے آرہے ہیں۔ انہیں کسی منشور سے کوئی غرض نہیں۔ جہاں شعور کا عالم یہ ہو اور یہ بھی کوئی نہ پوچھے اور نہ جانے اور سمجھے کہ ان پارٹیز کی پالیسیز میں کیا فرق ہے تو وہاں کس جمہوریت کی بات کی جاتی ہے؟ پیپلز پارٹی 70ء میں جب پہلی بار آئی تو ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کا دور تھا، مسلم لیگیں اور دوسرے لوگ ایک طرف تھے۔ اس وقت نظریات کا ایک فرق ضرور تھا، بعد میں نتائج کیا آئے یہ الگ بحث ہے۔ کچھ نہ کچھ تبدیلی آئی اور ایک ڈائریکشن بنی، قومی پالیسی کا ایک نقشہ تھا لیکن بدقسمتی سے وہ دور جانے کے بعد آنے والے سب اَدوار دیکھ لیں ان میں سوائے الفاظ کے، نعروں کے، تقریروں کے اور ہے ہی کچھ نہیں۔ اب ترجیحات ہیں نہ پالیسیز ہیں اور نہ ہی پلاننگ۔ صرف ایک دوسرے کو گالی گلوچ، ایک دوسرے پر الزام تراشی اور تہمتیں ہی پارٹیوں کا کل منشور ہے۔

کیا اس نظام سے آپ اِس ملک کو بچانا چاہتے ہیں؟ اِس سیاسی اور انتخابی روِش سے تبدیلی کی اُمید رکھتے ہیں کہ روشن سویرا طلوع ہو؟ خدارا! اِس سازش کو سمجھیں۔ ابھی حالیہ دورانیہ میں جو کچھ آپ کے ساتھ ہوا کیا یہ بھیانک مستقبل کی خبر نہیں دے رہا؟ اب پھر وہی پرانا میلہ لگے گا، ٹکٹیں بکیں گی، پارٹیاں میدان میں کودیں گی، جلسے شروع ہو جائیں گے اور لوگ جوش و خروش سے آجائیں گے، کہیں ایمانی جوش ہوگا تو کہیں جمہوری جوش ہوگا اور کہیں نظریاتی جوش ہوگا۔ بس پوری قوم دوبارہ بے وقوف بنے گی، الیکشن ہوگا، ووٹ ڈالیں گے، جب نتائج آئیں گے تو اِسی طرح کی ایک نئی پارلیمنٹ تمام تر خرابیوں کے ہمراہ دوبارہ آپ کے سامنے کھڑی ہوگی۔ Split mandate کے ساتھ لوٹ کھسوٹ کے لیے پھر جوڑ توڑ شروع ہوجائے گا اور قوم گئی جہنم میں! یہ ہے پاکستان کا نظام جمہوریت اور طرز انتخاب۔ جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ اس نے قوم کو کیا دیا؟ تو جواب ملتا ہے کہ آپ کون ہیں پوچھنے والے، ہمیں قوم نے mandate دیا ہے۔ لوگوں کے ووٹوں سے آئے ہیں۔ اگر ہم نے کچھ نہ دیا تو اگلے الیکشن میں قوم ہمیں مسترد کردے گی۔ اس جملے کے سوا سترہ کروڑ عوام کو کبھی کچھ نہیں ملا۔ حالانکہ الیکشن کیا ہے؟ یہ دراصل 5 سال کے بعد اس قوم کو پھر سے بے وقوف بنانے کا عمل ہے۔ انہیں اس بات کا علم ہے کہ مروّجہ باطل سیاسی نظامِ اِنتخاب کے ہوتے ہوئے کسی میں ان کو مسترد کرنے کی طاقت نہیں۔ تبھی تو دس دس مرتبہ منتخب ہو کر تیس تیس سالوں سے اسمبلی میں بیٹھے ہوئے ہیں۔

اے اہلیانِ پاکستان! جب تک یہ شعور بیدار نہیں ہوگا، ہمیں اپنے اچھے برے کی تمیز نہیں ہوگی اور اپنے حقوق کو حاصل کرنے کا جذبہ بیدار نہیں ہوگا؛ سب کچھ لا حاصل ہے۔

Copyrights © 2020 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved