سیاست نہیں - ریاست بچاؤ!

نام نہاد پاکستانی جمہوریت کا بدنما چہرہ

نام نہاد پاکستانی جمہوریت کا بدنما چہرہ

(1) حقیقی جمہوریت اور اُس کے تقاضے

جمہوریت اُس نظام کو کہتے ہیں جس میں محکوم اپنے حکمرانوں کو اور ووٹر اپنے نمائندوں کو کنٹرول کر سکیں۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ حقیقی جمہوریت کیا ہے؟ حقیقی جمہوریت وہ ہوتی ہے جس میں ووٹروں کا اِختیار نمائندگان کے اوپر ہو۔ کیا ہمارے ملک میں محکوم عوام اپنے حکمرانوں اور نمائندوں پر کنٹرول رکھتی ہے؟ آپ کا جواب نفی میںہوگا۔ سو یہ نظام جمہوریت نہیں ہے۔ فقط انتخابات کا ڈھونگ رچانے کا نام جمہوریت نہیں ہے۔ آج کی دنیا میں جمہوریت کی تعریف بدل چکی ہے۔ لوگوں کو اندھیرے میں رکھا گیا ہے۔ قومی ادارے اندھیرے سے نکلیں، اہل فکر و نظر اندھیرے سے نکلیں، اَینکرز اور لکھنے والے غور کریں۔ جمہوریت کے لیے تین بنیادی شرائط ہیں:

  1. شہریوں کا اندازِ نظر جمہوری ہو۔
  2. طریقہ کار جمہوری ہو۔
  3. طرزِ حکمرانی جمہوری ہو۔

پاکستان میں جمہوریت نہیں بلکہ مجبوریت ہے۔ آج جمہوریت پر لکھنے والے اس پر متفق ہیں کہ جس ملک میں غربت انتہا درجے کی ہو، ناخواندگی کی شرح یعنی جہالت انتہا درجے کی ہو اور سماجی عدمِ تحفظ انتہا درجے کا ہو؛ اُس ملک میں عوام جمہوری نہیں ہوتے اور ان کا فیصلہ کبھی جمہوری فیصلہ نہیں ہوتا۔ ہمارے انتخابات کسی لحاظ سے جمہوری انتخابات نہیں ہیں، ہمارا process جمہوری نہیں، ہماری حکومت بھی جمہوری نہیں ہے کیونکہ جمہوریت کے لئے شرط ہے کہ rule of law یعنی قانون کی حکمرانی ہو۔ جس میں صدر، وزیر اَعظم، گورنر، وزیر اعلیٰ، ایم این اے، ایم پی اے اور جملہ افسران کے تحفظات کا کوئی قانون نہ ہو اور آئین طاقت ور ہو، مگریہاں قانون کی کوئی حیثیت نہیں بلکہ شخصیات طاقت ور ہیں۔ ہمارے ہاں طاقت یا طاقت ور کا قانون نافذ ہے۔ جس ملک میںعوام اور طاقت ور طبقے کے درمیان قانون برابر نہیں اس ملک کے نظام کو جمہوریت کا نام نہیں دیا جاسکتا۔

پھرجمہوریت کے لئے ضروری ہے کہ institutions یعنی قومی ادارے مضبوط ہوں۔ اِس ملک میں نہ ریاستی ادارے مضبوط ہیں اور نہ سیاسی جماعتوں کے اندر ادارے ہیں۔

جمہوریت کے لئے ضروری ہے کہ مؤاخذہ بطور نظام قائم ہو مگر ملک تو ایک طرف ہمارے ہاں خود سیاسی جماعتوں کے اندر اپنے لیڈر کے مؤاخذے کاکوئی تصور نہیں۔ چنانچہ جہاں مؤاخذہ نہ ہو اس نظام کو جمہوری نظام نہیں کہا جاسکتا۔

پھر جمہوریت کے لئے ضروری ہے کہ پورے نظام اور حکمتِ عملی (policies) میں شفافیت ہو یعنی ہرشے صاف شفاف اور واضح ہو کہ کون کیاکر رہا ہے۔ یہاں کوئی transparency نہیں جبکہ مغربی اور جمہوری ملکوں میںمکمل شفافیت ہے کہ وہاں نمائندگان کیا کیا مراعات لے رہے ہیں، ان کے اخراجات کیا ہیں؟ اثاثہ جات کیا ہیں؟ اختیارات و کارکردگی کیا ہے؟ مغربی ملکوں کی جمہوریت میں پارلیمنٹ کی ویب سائٹس ہوتی ہیں جس پر ہر ایم پی اے اور ایم این اے کے بارے میں مکمل معلومات دست یاب ہوتی ہیں۔ ہر شہری کو حق ہے کہ وہ خود دیکھ سکے کہ اس کے حلقے کے ایم این اے نے کیا کمایا، کتنی مراعات لیں، کیا اخراجات کیے اور کیا اثاثہ جات جمع کیے۔ پاکستان میں کتنے لوگ ہیں جنہیں انٹرنیٹ کا علم ہے اور ان کے پاس کمپیوٹر ہے؟ کتنوں کو ان معلومات تک رسائی ہے؟ ذرا اندرونِ سندھ کا نقشہ ذہنوں میں لائیے جہاں ننگے پاؤں پھرنے والے غریب لوگ زندگی کی بھیک مانگنے نظر آتے ہیں؛ بلوچستان میں غریب دو وقت کی روٹی کے محتاج ہیں؛ خیبر پختونخواہ اور پنجاب کے اندر برادریوں کے پیچھے چلنے والے محروم لوگ ہیں جنہیں دو وقت کا کھانا نہیں ملتا اور ان کے پاس بل ادا کرنے کے پیسے نہیں ہیں۔ یہ جو زندگی سے تنگ ہیں، وہ کسی کے اثاثہ جات کیا دیکھیں گے؟ ان کو معلومات ہی نہیں ہیں۔ جب ووٹرز کو صحیح معلومات ہی نہ ہوں توان کا ووٹ جمہوری ووٹ نہیں کہلاتا۔ نتیجتاً آزادیِ رائے نہیں رہتی۔ کیا اسے نظامِ جمہوریت کہہ سکتے ہیں؟

(2) ’جمہوریت‘ یا ’مجبوریت‘

مملکتِ خداداد میں ’جمہوریت‘ کی بجائے ’مجبوریت‘ کا نظام نافذ ہے۔ جمہوریت تو در حقیقت کاروبارِ حکومت میں عوام کی شراکت کا نام ہے لیکن یہاں جمہوریت عوام کو کاروبار حکومت میں شراکت سے محروم اور دور رکھنے کی ایک ساز باز کا نام ہے۔ یہ جمہوریت ایک فیصد لوگوں کے لیے ان کی عیاشی اور کاروبار کا ذریعہ ہے۔ ملک کے تمام وسائل و ذرائع اور مال و دولت پر گنے چنے مخصوص لوگوں پر مشتمل مافیا قابض ہے۔ اس ملک کے غریب اٹھارہ انیس کروڑ عوام کے لیے نہ روزگار ہے نہ کوئی ذریعہ معاش، نہ وسائل نہ معیشت، نہ عدل و انصاف ہے، نہ جان و مال کا تحفظ۔ عوام کو یہاں حقوق حاصل ہیں نہ ان کی عزت و آبرو محفوظ ہے، حتی کہ ملک کے اٹھارہ کروڑ عوام کو جینے کا حق بھی حاصل نہیں رہا۔ ملکی حالات اس قدر گھمبیر و دگرگوں ہو چکے ہیں کہ لوگ اب یہ بحث کرنے اور سوچنے لگ پڑے ہیں کہ پاکستان کا قیام کہیں غلط فیصلہ تو نہیں تھا۔ معاذ اللہ! استغفر اﷲ! کیا یہ ملک عوام کی بجائے صرف خاص اشرافیہ اور ایک مخصوص طبقہ کے لیے بنایا گیا تھا؟ یہ صرف بڑے بڑے مال دار لوگوں کے تحفظ کے لیے بنا تھا یا اس ملک کا قیام اس ملک کے غریب اور پسے ہوئے مجبور لوگوں کے لیے بھی تھا؟ کیا مزدوروں، کسانوں، چھوٹے ملازمت پیشہ لوگوں اور ان کی اولادوں کو اس ملک میں جینے کا کوئی حق نہیں؟ کیا یہ ملک ان سفید پوش لوگوں کے لیے بھی ہے جو رزق حلال پر زندہ رہنا چاہتے ہیں؟ سوچنے کی بات ہے کہ کیا یہ ملک اٹھارہ کروڑ عوام کے لیے بنا ہے یا صرف ان چند ہزار خاندانوں کے لیے کہ مال و دولت، سیاست و معیشت، ذرائع و وسائل غرضیکہ ہر چیز پر ان کا قبضہ ہو اور اُن کے سوا اٹھارہ کروڑ عوام میں کسی کا کوئی حق نہ ہو؟ عوام کا حق صرف جل کے مر جانا یا سڑکوں پر ٹائر جلاکر احتجاج کرنا ہے۔ عوام کا حق صرف لٹتے رہنا اور مہنگائی و محرومیت کی آگ میں جھلستے رہنا ہے۔ یہ ساری زندگی عدالتوں کے دھکے کھاتے ہیں۔ مایوس اور بے بس نگاہوں کے ساتھ جلتے مستقبل کو دیکھتے رہنے کے سوا ان کے پاس کچھ نہیں ہے۔ نام نہاد سیاسی لٹیروں کا یہ کہنا کہ ہم عوام کے نمائندے ہیں اور عوام کے بھیجے ہوئے ہیں، سب فراڈ ہے؛ یہ سب ان کا دجل و فریب ہے، مکاری ہے، کذب بیانی ہے۔ یہ سارا دجالی نظام ہے جو ظلم و ستم، جبر و بربریت اور کرپشن پر قائم ہے۔ اس نظام میں شریف اور کم زور کی عزت و آبرو کے ساتھ زندہ رہنے کی کوئی گنجائش نہیں۔ حقیقت یہ ہے اس نظام میں ان کمزور عامۃ الناس کے لیے کوئی جگہ ہی نہیں جو اس ملک کا مستقبل روشن دیکھنا چاہتے ہیں۔

(3) جمہوریت کی مضبوطی کے تین طریقے

  1. اوّلاً جمہوریت کی بنیاد مستحکم آئینی و قانونی روایات اور اَقدار ہوتی ہیں اور وہ روایات اتنی مضبوط ہوتی ہیں کہ اگربددیانتی اور کرپشن کا کوئی الزام لگ جائے یا کوئی ایسا واقعہ پیش آجائے تو وزیراعظم اور وزراء خود مستعفی ہوجاتے ہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کوئی خود بھی مستعفی ہو۔ پوری قوم چیخ اُٹھے، نہ کوئی خود آکے اپنی صفائی دیتا ہے اور نہ کسی کے چہرے پر شرم و حیا کا اثر ہی دکھائی دیتا ہے۔

  2. دوسری صورت مضبوط check and balance کے نظام کا ہوناہے۔ ادارے مستحکم بنیادوں پر قائم ہوتے ہیں۔ ان کے اندر آئینی، قانونی، اِنتظامی، جمہوری اور سیاسی check and balance کا نظام اتنا سخت ہوتا ہے کہ کوئی بچ کے جا نہیں سکتا۔ عدالتوں تک معاملہ جاتا ہے نہ ضرورت پڑتی ہے۔ ہمارے ملک میں طاقت ور لوگوں کے لئے کوئی check and balance نہیں ہے۔ طاقت ور آدمی جو چاہے کر لے یا کروا لے اس پر کوئی گرفت نہیں۔ عدالت بھی اس کے آگے بے اختیار ہے۔

  3. جمہوریت کی کامیابی کا تیسرا راز یہ ہے کہ انہوں نے عدلیہ کو سپریم بنا دیا ہے۔ اتنا طاقت ور بنا دیا ہے کہ وہ پارلیمنٹ کے پاس کیے ہوئے ایکٹ کو بھی چیلنج کرسکتی ہے۔ یہاں حساب الٹ ہے۔ آئے دن بیان بازی ہوتی ہے کہ پارلیمنٹ سپریم ہے، پارلیمنٹ فوقیت رکھتی ہے۔ یعنی ہمارا پورا نظام ہی الٹ سمت چل رہا ہے۔

پاکستان میں کسی بھی حلقے میں ایم این اے اپنی مرضی کا ڈی سی لگواتا ہے۔ شفافیت کہاں رہی؟ ایس پی، ڈی ایس پی اور ایس ایچ او اپنی مرضی کا لگواتا ہے۔ Rul of law کہاں کا رہا؟ Equity یعنی قانون کی برابری کہاں کی رہی؟ علاقے میں ایم این اے ڈسٹرکٹ جج اور مجسٹریٹ اپنی مرضی کا لگواتا ہے۔ بتائیے قانون کی برابری کہاں رہی؟ آزادی رائے اور قانون کی برابری کہاں گئی؟ اس نظام کو آپ جمہوریت کا نام دیتے ہیں؟ اس سے بڑا دھوکہ اٹھارہ کروڑ عوام کے ساتھ اور کیا ہو گا؟ عوام نے اگر آج بھی آنکھیں نہ کھولیں تو اگلے پانچ چھ سال کے لئے پھر پچھتائیں گے۔ ہمارے ملک میں تھانے پر ایم پی اے اور ایم این اے کا حکم چلتا ہے اور تحصیل و ضلع کا ناظم ہو تو اس کا حکم چلتا ہے۔ کچہری میں اس کا اثر رسوخ ہے، لوگوں کی نوکریوں کا کوٹہ اس کے پاس ہے۔ ڈویلپمنٹ ساری ایم پی اے اور ایم این اے کے پاس ہے، ان کے ہاتھوں میں کروڑوں روپے بجٹ ہیں۔ یہ سارا کرپشن کا نظام ہے، جمہوریت کا نہیں۔ ایسے حالات میں مجبور و بے بس طبقہ کس کا مواخذہ کرے؟ یہی حالات رہے تو اِنہی حالات میں قیامت آجائے گی لیکن پاکستان کا مقدر نہیں بدلے گا۔ پاکستان کی جمہوریت بھی کیسی نرالی اور انوکھی ہے!

(4) ترقی یافتہ ممالک میں جمہوریت کا سفر

واضح رہے کہ تمام مغربی ملکوں نے جمہوریت کا سفر دو اڑھائی صدیوں میںطے کیا ہے۔ انہوں نے اپنی قوم کو تعلیم دی ہے، شعور و آگہی (awareness) اور قومی مسائل کو سمجھنے کی صلاحیت دی ہے۔ انہوں نے نہ صرف ادارے بنائے ہیں بلکہ وہ ادارے مستحکم، فعال اور مضبوط ہوئے ہیں۔ قانون کی حکمرانی (rule of law) قائم ہوئی ہے، لوگوں کو صحیح آزادی کا مفہوم سمجھ میں آیا ہے اور تمام طاقت ور طبقات کے اثرات ختم ہوئے ہیں۔

بدقسمتی کی انتہا ہے کہ 65 سال گزر گئے، ہم نے حقیقی جمہوریت کے لئے ایک قدم بھی نہیں اٹھایا۔ نہ تعلیم پر خرچ کیا ہے اور نہ صحت پر، نہ آزادی دی اور نہ شعور و آگہی ہوئی اور نہ قانون کی برابری لائے۔ ہمارے سارے طور طریقے انتہائی انفرادی جبر کے ہیں لیکن نام جمہوریت رکھ دیا ہے۔ ہم نے موٹر کار میں ہوائی جہاز کا انجن فٹ کردیا ہے اور اڑنے کی امید بھی رکھے ہوئے ہیں۔ ہماری پوری قوم کی مثال اُن سواریوں کی سی ہے جو تانگے پر جا رہی ہیں مگر پچھلی سیٹ پر بیٹھی ہوں جنہیں آگے کچھ نظر نہیں آتا۔ جب تانگہ گزر جاتا ہے تو پھر دکھائی دیتا ہے۔ خدانخواستہ ہماری بے خبری میں تانگہ گڑھے میں گر گیا اور قوم کے ساتھ accident ہوگیا تو سوائے ہلاکت کے ہمارے نصیب میں کچھ نہ ہوگا۔ واضح رہے کہ ماحول کے جمہوری ہوئے بغیر جمہوریت نہیں پنپتی۔ معاشرہ جمہوری نہ ہو تو جمہوریت نہیں بنتی۔ جمہوریت گھر سے شروع ہوتی ہے۔ جہاں شوہر بیوی بچوں کو قتل کر رہا ہو؛ بات بات پر خون بہائے جا رہے ہوں؛ دہشت گردی، خوف و ہراس، جہالت، بیروزگاری اور محتاجی ہو وہاں کیسے جمہوریت آسکتی ہے!

ہمیں جمہوریت کو اصل حال میں بحال کرنا ہوگا۔ موجودہ سیاسی نظام اور انتخابی نظام اس حقیقی جمہوریت کو بحال نہیں کرسکتا۔ اگر ساٹھ سال میں حقیقی جمہوریت عوام کے ہاتھ میں نہیں آئی تو اگلے پانچ سال میں بھی نہیں آسکتی کیونکہ ہم نے جمہوریت کے ابتدائی تقاضے ہی ابھی تک پورے نہیں کیے۔

(5) جمہوریت کی ضروری شرائط

بین الاقوامی ادارے اور ماہرین ایک concept پر متفق ہیں کہ جمہوریت صرف انتخاب کا نام نہیں بلکہ پورے نظام کا نام ہے۔

  1. اس کی پہلی شرط یہ ہے کہ الیکشن صحیح معنوں میں شفاف ہو۔ پاکستان میں ووٹنگ کی credibility ہمیشہ مشکوک رہی ہے سابقہ الیکشن میں کاسٹ کیے گئے ووٹوں میں سے پونے چار کروڑ ووٹوں کو الیکشن کمیشن نے جعلی declare کر دیا ہے۔ اس ملک میں الیکشن کی شفافیت کہاں تلاش کی جا سکتی ہے جو کہ جمہوریت کی پہلی شرط ہے۔

  2. لوگوں کی participation یعنی شراکت بھی شفاف ہو اور grass root level سے کر top level تک عوام کی شراکت کے تسلسل سے جمہوریت وجود میں آتی ہے۔ ترقی پذیر جمہوری ممالک میں اس سے مراد یہ ہے کہ ملک کے پالیسی سازوں پر عوام کو مواخذے کا حق ہو اور پالیسی ساز جب بھی پالیسیاں بنائیں تو ان پالیسیوں کو عوام چیلنج کر سکیں اور اگر ان کے مقاصد پورے نہ ہوں تو مؤاخذہ کر کے انہیں withdraw کروا سکیں۔ چنانچہ جمہوری ترقی پذیر ممالک میں عوام کی گرفت اور مؤثریت اتنی سخت ہوتی ہے کہ پارٹیز کو ایکشن لینا پڑ جاتا ہے۔ بسا اوقات کورٹس کو بھی ایکشن لینا پڑ جاتا ہے؛ تو یہ جمہوریت کی حقیقی تعریف ہے۔

  3. جمہوری نظام تب کامیاب ہوتا ہے جب اس میں جمہوری حکمرانی ہو۔ اگر یہ نہ ہو تو وہ نظام جمہوری نہیں۔ جمہوری حکمرانی کے لیے لازم ہے کہ جان و مال کے تحفظ سمیت تمام human rights کی گارنٹی قوم کو حاصل ہو اور good governance قوم کو ملے۔ بین الاقوامی طور پر یہ امر طے شدہ ہے کہ اگر انتخاب کے نتیجے میں جمہوری حکمرانی وجود میں نہ آئے تو وہ جمہوریت نہیں ہے۔ جمہوریت کا معنی شراکت (participation) یعنی عوام کی شراکت ہے۔ اس لیے جمہوریت کا economic democracy ہونا ضروری ہے، social democracy ہونا ضروری ہے تب ہی political democracy وجود میں آئے گی۔ ان تمام طبقات کی شراکت کو یقینی بنانا جمہوریت کے لوازِم میں سے ہے۔ پاکستان کے نظامِ جمہوریت میں عوام کی شراکت کہاں ہے؟ پانچ سال کے اندر ایک دفعہ ووٹ ڈالنے کو جمہوریت نہیں کہا جا سکتا۔ عوام کی سیاسی نظام میں مکمل (full fledge) شراکت چاہیے۔ جمہوری حکومت میں قانون کی حکمرانی چاہیے، جبکہ اس ملک میں قانون صرف غریب کے لیے بنتا ہے۔ اُمراء، اراکینِ اسمبلی اور صاحبانِ اِقتدار قانون سے ماوراء ہیں۔ یہ اس لیے کہ طاقت ور حکمران طبقات کے بالمقابل قانون کمزور ہے۔ ان کے پاس قانون کو by pass کرنے کے ہزار ہتھ کنڈے ہیں۔ پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ لاکھ بار فیصلہ دے، کمیٹیاں اور کمیشن بنا دے۔ حکومت سالہا سال انہیں لٹکاتی چلی جائے گی۔ دس دس سال تک فیصلے pending پڑے رہتے ہیں اس لیے کہ ملک میں قانون کمزور ہے۔ عدلیہ کی آزادی کی سبھی باتیں کرتے ہیں مگر ہمارے ملک کی سیاست صرف نعرے دیتی ہے۔

  4. اگلی شرط شفافیت (transparaency) ہے جن ملکوں میں جمہوریت ہے وہاں میڈیا اور پرنٹ میڈیا کے ذریعے ہر ایک کو ایک ایک چیز کی خبر ہوتی ہے کہ کیا فیصلے ہوئے ہیں، کیا پالیسیز ہیں اور یہاں کیا حد بندیاں ہیں۔ پھر اس حد کو کوئی کراس نہیں کرتا تا کہ کسی کے مفاد کو نقصان نہ پہنچے۔ نظام بھی شفاف ہوتا ہے اور سیاسی نمائندے بھی اسے پراگندہ کرنے کی جسارت نہیں کرتے۔

  5. اس کے برعکس ہمارے حکمرانوں کی اَوّلیں کوشش یہ ہوتی ہے کہ حقائق کسی طرح بھی عوام تک نہ پہنچیں۔ ظاہر کچھ کرتے ہیں جبکہ پس پردہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہوتی ہے۔ الیکشن ہوں یا اہم قومی معاملات حقائق ہمیشہ چھپائے جاتے ہیں۔ یہاں کرکٹ میچ تک fixed ہوتے ہیں۔ قوم کو ان تمام حقائق سے بے خبر رکھا جاتا ہے تاکہ ان کی لوٹ کھسوٹ اور ناانصافی پر مبنی نظام چلتا رہے۔ جبکہ شفاقیت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ اِحتساب کا ایک مضبوط نظام قائم ہو اور عدل و انصاف ہر جگہ نظر آئے تاکہ عوام حکومتوں کا احتساب کر سکے۔ جمہوری نظام کا ایک حصہ آزادیِ رائے بھی ہے۔ مغربی دنیا میں شوہر کو معلوم نہیں ہوتا کہ اس کی بیوی کس کو ووٹ دینے جا رہی ہے، شوہر کسی اور پارٹی کو ووٹ دیتا ہے عورت کسی اور کو، والدین کسی کو دے رہے ہیں اور اولاد کسی کو؛ یعنی اس حد تک اظہارِ رائے میں آزادی اور خودمختاری ہے۔ ایک شخص دوسرے کی رائے پر اثر انداز نہیں ہوتا، نہ پولیس اثر انداز ہوتی، نہ میڈیا، نہ اسٹیبلشمنٹ اور نہ طاقت ور لیڈرز اور نہ ان کے نمائندے۔ وہاں بندوق کے زور پر ووٹ لینے کا کوئی تصور نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جمہوری حکومت کے بغیر جمہوریت کا کوئی وجود نہیں۔ اس کے لیے لازم ہے کہ لوگوں کو حقوق ملیں۔ طاقت اداروں کے ہاتھوں میں ہو۔ عام لوگوں کو بنیادی سہولیات ملیں۔ بجلی، گیس، ہیلتھ، تعلیم، روزگار، عدل و انصاف وغیرہ سب جمع ہوں تو پھر جمہوری حکومت بنتی ہے۔

(6) جمہوریت یا طاقتور گھوڑوں کا مقابلہ؟

آپ اپنے ایمان سے کہیے کہ جس ملک میں ننانوے فیصد افراد قوم کے وکلاء، تاجر، پروفیسرز، intelligentsia، پڑھا لکھا نوجوان، سائنٹسٹ، تعلیم یافتہ سفید پوش افراد یعنی جن طبقات کے پاس حرام کے ذرائع سے کمائے ہوئے کروڑوں روپے الیکشن میں جھونکنے کے لیے نہیں، وہ الیکشن میں کیسے حصہ لے سکتے ہیں؟ پھر ان موجودہ سیاسی جماعتوں میں خواہ وہ پیپلز پارٹی ہو یا درجنوں مسلم لیگز ہوں یا کوئی اور یہ تمام سیاسی جماعتیں اپنے نظریاتی کارکنوں کو جو ایم۔ اے ہوں، PhDs ہوں، ماہر scientists ہوں، economists ہوں، social sciences میں ماہر ہوں، financial management میں ماہر ہوں، مگر ہوں بالکل متوسط سفید پوش طبقہ سے۔ بفرض محال ان کو ٹکٹ دے دیں تو کیا وہ الیکشن جیت سکیں گے؟ سادہ جواب ہے: No۔ جو جماعت بھی ان باکردار، تعلیم یافتہ کارکنوں کو سیٹوں کے لیے ٹکٹ دے گی وہ جماعت الیکشن ہار جائے گی۔ سوال پھر یہ پیدا ہوا کہ دشمن کون ہوا: جماعت یا monopolistic electoral system؟ اس الیکشن میں باکردار، سفید پوش اور تعلیم یافتہ آدمی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ حالانکہ یہی لوگ اپنے علم، تجربے اور پلاننگ سے حقیقی طور پر اس ملک کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔ اس الیکشن کے نظام میں ایسا کوئی شخص انتخاب نہیں لڑسکتا۔

حقیقت یہ ہے کہ صالح اور نظریاتی کارکنوں کو مروّجہ نظامِ سیاست قبول ہی نہیں کرتا۔ یہی وجہ ہے آپ جب سیاسی جماعتوں سے بات کرتے ہیں کہ آپ پھر انہی کو ٹکٹ دے رہے ہیں جن سے قوم مایوس ہے تو ہر سیاست دان یہی جواب دیتا ہے کہ ’کیا کریں ان کے بغیر الیکشن نہیں لڑا جا سکتا!‘ بس یہاں جا کر ساری کہانی ختم ہو جاتی ہے۔ یہی اس انتخابی نظام کی سب سے بڑی خرابی ہے۔ چنانچہ یہ نظامِ انتخاب ہی عوام کا سب سے بڑا دشمن ہے جس نے اسے سر سے پاؤں تک لوہے کی بیڑیوں سے جکڑ رکھا ہے۔ اس نظام میں جو جیتنے کے قابل ہیں ان کو winning horses کہتے ہیں، ان کو ہی put کریں گے تو آپ جیتیں گے۔ ایک پڑھے لکھے آدمی کے پاس کیا ہے؟ اُس کے پاس علم ہے، دیانت ہے، سفید پوشی ہے اور ملک و قوم کا درد ہے۔ اس کے پاس دماغ ہے، صلاحیت ہے، deliver کرنے کی capability بھی ہے یعنی وہ سارا کچھ ہے جس پر قوم فخر کر سکتی ہے۔ لیکن اس انتخابی نظام کے سامنے ان کی تمام صلاحیتیں صفر ہیں۔ حالانکہ اس ملک کی عوام میں talent کی کمی نہیں۔ اس میں امریکی قوم سے بھی بہتر talent ہے۔ خدا کا فضل ہے اس سرزمین پاکستان پر کہ یہاں کے ڈاکٹرز، انجینئرز، قانون دان، economists، sociologists وغیرہ مغربی اور یورپی اقوام سے کسی طرح پیچھے نہیں۔ میں مجموعی طور پر بات کر رہا ہوں، کسی شعبے میں ہم دنیا کی کسی قوم سے پیچھے نہیں لیکن نظام ہم سب کے پاؤں کی زنجیر بنا ہوا ہے۔ یہاں تو سیاست وہی کر سکتا ہے جس کے پاس طاقت ور گھوڑے یعنی winning horses ہوں۔ جہاں حکومت سازی کے لیے گھوڑوں کی سی مار دھاڑ پر مبنی طاقت درکار ہو وہاں دانش و حکمت اور علم و بصیرت وغیرہ کی کیا قدر ہوگی؟ فکر کی صلاحیت اور ذہنی قابلیت کو کتنا weight مل سکے گا؟

(7) اسٹیبلشمنٹ کی دخل اندازی

پاکستانی جمہوریت کی ایک برائی establishmentکا عمل دخل ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کی بھی ہمارے ہاں مکمل اجارہ داری ہے۔ یہ ملکی سیاست پر کبھی اقتدار کو بلاواسطہ اور کبھی بالواسطہ کنٹرول کرتی ہے۔ بظاہر دیکھنے میں سیاست دانوں اور اسٹیبلشمنٹ کی جو باہم جنگ نظر آتی ہے وہ محض ایک نورا کشتی ہوتی ہے کیونکہ تمام سیاسی پارٹیاں ۔ جو اِس وقت ملک میں موجود ہیں ۔ one way or the other اسٹیبلشمنٹ کی ہی پیداوار ہیں۔ اسی نے حسب ضرورت اِن کی پرورش کی ہے۔ ہر دور کی فوجی آمریت نے اپنے سائے کے نیچے سیاست دانوں کو تیار کیا ہے اور ایک نئی جماعت کو جنم دیا ہے۔ دس دس سال لگا کے ان کو launch کیا اور بعد ازاں جب وہ جماعتیں مضبوط ہو جاتی ہیں تو پھر وہ جمہوریت کے حق میں فوجی آمریت کے خلاف نعرہ بلند کرنے نکل کھڑی ہوتی ہیں کیونکہ اس وقت سیاسی و جمہوری دور آچکا ہوتا ہے۔ فوجی آمریت کے دور میں یہ لوگ ان سے مل کر ساز باز کرتے ہیں، لبیک کہتے ہیں اور جب سیاسی دور آجاتا ہے تو ان میں سے بہت سے لوگ indirectly اسٹیبلشمنٹ کے کنٹرول میں ہوتے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ کا اثر و رسوخ کبھی ختم نہیں ہوتا، اِس کی ایک مضبوط، مستحکم اور مؤثر اجارہ داری ہے۔

(8) Split مینڈیٹ اور حکومتی پارٹیوں کا مفاداتی ایجنڈا

Split مینڈیٹ جتنا زیادہ آتا ہے اسٹیبلشمنٹ کو اُسی قدر کھیلنے کا موقع ملتا ہے اور ملکی سیاست کے جوڑ توڑ میں اس کا عمل دخل بہت بڑھ جاتا ہے۔ وہ اپنی مرضی سے لوگوں کو جوڑتے ہیں، ملاتے ہیں اور اگر ان کی براہِ راست مداخلت اتنی نہ بھی ہو تو بہر حال گورنمنٹ تو چونکہ بنانی ہے جب اکثریت کسی کے پاس نہیں ہوتی تو مختلف دھڑے وجود میں آتے ہیں اور ان کا اتحاد مفادات کا اتحاد ہوتا ہے۔ قومی ترجیحات کی انہیں کیا پرواہ! اس میں کرپشن کی راہ ہموار ہوتی ہے۔ چنانچہ بلا تخصیص چھوٹے بڑے علی الاعلان دونوں ہاتھوں سے قومی دولت سمیٹتے ہیں۔

سب برسرِ اقتدار سیاسی جماعتیں دراصل کسی واضح منشور کے بغیر بس یک نکاتی ایجنڈے ۔ اقتدار و مفادات ۔ کے تحت حکومت میں آتی ہیں اس لیے قومی فلاحی منصوبے ان کے ایجنڈے پر کبھی نہیں ہوتے۔ ان کا ایجنڈا صرف اقتدار ہوتا ہے۔ حکومت میں شامل سارے گروپ اقتدار کو شیئر کرتے رہتے ہیں۔ یہ تعلق ان کو اکٹھا رکھتا ہے، وہ اس کو بچانے کی فکر میں 5 سال گزار دیتے ہیں؛ اور اپوزیشن اس کے برعکس یہ پانچ سال ان کو گرانے میں لگا دیتی ہے۔ اس لیے میں یہ بات categorically کہہ رہا ہوں کہ اس کرپٹ نظامِ اِنتخاب سے مثبت تبدیلی کی امید رکھنا عبث ہے۔ یہ تبدیلی کا راستہ ہرگز نہیں ہے۔

Copyrights © 2020 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved