الجہاد الاکبر

حجِ بیت اللہ بھی جہاد ہے

اَلْبَابُ الثَّامِنُ: حَجُّ بَيْتِ اﷲِ تَعَالٰی جِهَادٌ

{حجِ بیت اﷲ بھی جہاد ہے}

56 /1. عَنْ عَائِشَةَ اُمِّ الْمُوْمِنِينَ رضی الله تعالیٰ عنها، قَالَتْ: اسْتَاْذَنْتُ النَّبِيَّ صلیٰ الله عليه وآله وسلم فِي الْجِهَادِ، فَقَالَ: جِهَادُکُنَّ الْحَجُّ. وَقَالَ عَبْدُ اﷲِ بْنُ الْوَلِيدِ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بِهٰذَ.

رَوَهُ الْبُخَارِيُّ وَأَحْمَدُ.

56: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب الجهاد والسير، باب جهاد النساء، 3 /1054، الرقم /2720، وأحمد بن حنبل في المسند، 6 /165، الرقم /25364، وعبد الرزاق في المصنف، 5 /8، الرقم /8811، وإسحاق بن راهويه في المسند، 2 /447، الرقم /1015.

اُمّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جہاد کی اجازت طلب کی تو آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارا جہاد حج ہے۔ عبد اللہ بن الولید نے کہا: ہمیں سفیان نے حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی اس طرح روایت کیا ہے۔

اِسے امام بخاری اور احمد نے روایت کیا ہے۔

57 /2. عَنْ عَائِشَةَ اُمِّ الْمُوْمِنِينَ رضی الله تعالیٰ عنها، اَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اﷲِصلیٰ الله عليه وآله وسلم، نَرَی الْجِهَادَ اَفْضَلَ الْعَمَلِ، اَفَلَا نُجَاهِدُ؟ قَالَ: لَا، لٰـکِنَّ اَفْضَلَ الْجِهَادِ حَجٌّ مَبْرُورٌ.

رَوَهُ الْبُخَارِيُّ وَاَبُو يَعْلٰی وَالْبَيْهَقِيُّ.

57: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب الحج، باب فضل الحج المبرور، 2 /553، الرقم /1448، وايضا في کتاب الجهاد والسير، باب فضل الجهاد والسير، 3 /1026، الرقم /2632، وابو يعلی في المسند، 8 /166، الرقم /4717، والبيهقي في السنن الکبری، 9 /21، الرقم /17583.

اُمّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک بار وہ عرض گزار ہوئیں: یا رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم! ہم جہاد کو افضل عمل سمجھتے ہیں تو کیا ہم بھی جہاد کیا کریں؟ آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اَفضل جہاد مقبول حج ہے (جو برائیوں سے پاک ہو)۔

اسے امام بخاری، ابو یعلی اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔

58 /3. عَنْ اُمِّ سَلَمَةَ رضی الله تعالیٰ عنه، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اﷲِ صلیٰ الله عليه وآله وسلم: اَلْحَجُّ جِهَادُ کُلِّ ضَعِيْفٍ.

رَوَهُ اَحْمَدُ وَابْنُ مَاجَه وَابْنُ اَبِي شَيْبَةَ وَاَبُو يَعْلٰی وَابْنُ الْجَعْدِ وَالطَّبَرَانِيُّ.

58: أخرجه احمد في المسند، 6 /294، 303، 314، الرقم /26563، 26627، 26716، وابن ماجه في السنن، کتاب المناسک، باب الحج جهاد النساء، 2 /968، الرقم /2902، وابن ابي شيبة في المصنف، 3 /122، الرقم /12656، وابو يعلی في المسند، 12 /347، 458، الرقم /6916، 7029، وابن الجعد في المسند /486، الرقم /3380، والطبراني في المعجم الکبير، 23 /292، الرقم /647.

حضرت اُم سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حج ہر کمزور شخص کا جہاد ہے۔

اسے امام احمد، ابن ماجہ، ابن ابی شیبہ، ابو یعلی، ابن الجعد اور طبرانی نے روایت کیا ہے۔

59 /4. عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اﷲِ رضی الله تعالیٰ عنه، اَنَّـهُ سَمِعَ رَسُولَ اﷲِ صلیٰ الله عليه وآله وسلم يَقُولُ: اَلْحَجُّ جِهَادٌ وَالْعُمْرَهُ تَطَوُّعٌ.

رَوَهُ ابْنُ مَاجَه وَالطَّبَرَانِيُّ.

59: أخرجه ابن ماجه في السنن، کتاب المناسک، باب العمره، 2 /995، الرقم /2989، والطبراني في المعجم الأوسط، 7 /171، الرقم /6723.

حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: حج (مشقت میں مثل) جہاد ہے اور عمرہ (ثواب میں مثل) نفل ہے۔

اسے امام ابن ماجہ اور طبرانی نے روایت کیا ہے۔

60 /5. عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله تعالیٰ عنه، عَنْ رَسُوْلِ اﷲِ صلیٰ الله عليه وآله وسلم، قَالَ: جِهَادُ الْکَبِيْرِ وَالصَّغِيْرِ وَالضَّعِيْفِ وَالْمَرْاَةِ: اَلْحَجُّ وَالْعُمْرَهُ.

رَوَهُ النَّسَائِيُّ وَذَکَرَهُ الْمَقْدِسِيُّ وَالْمَغْرِبِيُّ وَالْهَيْثَمِيُّ وَالسُّيُوطِيُّ وَالْهِنْدِيُّ. وَقَالَ الْهَيْثَمِيُّ: رَوَهُ اَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيْحِ.

60: اخرجه النسائي في السنن، کتاب مناسک الحج، باب فضل الحج، 5 /113، الرقم /2626، وذکره المقدسي في الفروع، 1 /417، وابو عبد اﷲ المغربي في مواهب الجليل، 2 /480، والهيثمي في مجمع الزوائد، 3 /206، والعيني في عمدة القاري، 9 /134، والسيوطي في جامع الاحاديث، 4 /200، الرقم /11069، والهندي في کنز العمال في سنن الاقوال والافعال، 5 /7، الرقم /11845.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بڑے، چھوٹے، کمزور اور عورت کا جہاد ’حج‘ اور ’عمرہ‘ ہے۔

اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے جب کہ مقدسی، مغربی، ہیثمی، سیوطی اور ہندی نے بھی بیان کیا ہے۔ ہیثمی نے فرمایا: اسے امام احمد نے روایت کیا ہے اور اس کے رجال صحیح (مسلم) کے رجال ہیں۔

Copyrights © 2019 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved