تحریک منہاج القرآن کا تصور دین

ہمارا تصور دین

دوسرا نکتہ جو سمجھانا چاہتا ہوں اور جس پیغام کو آپ لے کر جائیں اور آگے پھیلائیں وہ یہ ہے کہ منہاج القرآن کیا تصورِ دین دیتا ہے؟ دین کا ویژن کیا دیتا ہے؟ ہمارے دین کی تمام تعلیمات کن بنیادی تصورات (basic concepts) پر مبنی ہیں؟ یاان کی basic foundations اور بنیادی روح کیا ہے؟

درج ذیل پانچ چیزوں سے ہمارے دین کا vision قائم ہوتا ہے اور یہ تحریک منہاج القرآن کی انفرادیت ہے :

  1. محبت و مودت
  2. امن و سلامتی
  3. ادب و احترام
  4. علم و معرفت
  5. خدمت و فتوت

یعنی ان پانچ اشیاء پر ہمارا تصور دین قائم ہے۔

1۔ محبت و مودت

جب ہم محبت کی بات کرتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ ہم ہر تعلق۔ جو دین میں ہے۔ کی اساس محبت کو بنائیں گے۔ اس کو آپ نے اپنی عملی زندگی میں لانا ہے۔ اب یہ کہنا بھی اچھا ہے مگر عملی زندگی میں اس کو جاری و ساری کرنا، نافذ کرنا، پھر تنظیمات میں جاری کرنا، پھر نظامتوں میں جاری کرنا، پھر قیادتوں کا اسی پر عمل کرنا، پھر قیادت جس سطح پر بھی ہے اور اس کے کارکن کے درمیان جو ربط ہے اس کو اسی پر قائم کرنا اور بالآخر تحریک کا پورا ماحول اِسی پر استوار کرنا ہے؛ کیونکہ یہ کریں گی تو آپ اپنے اس قول میں سچی ثابت ہوں گی۔

اللہ تعالیٰ سے بندے کا تعلق محبت پر قائم ہے۔ رسول اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے امتی کا تعلق محبت پر قائم ہے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم اور اہل بیت رضی اللہ عنہم سے تعلق محبت پر قائم ہے۔ اولیاء و صالحین سے تعلق محبت پر قائم ہے۔ بڑوں سے تعلق محبت پر قائم ہے، چھوٹوں سے تعلق شفقت و محبت قائم ہے۔ اللہ کی مخلوق سے تعلق محبت پر قائم ہے۔ اب محبت کی مختلف شکلیں ہوتی ہیں۔ کوئی محبت، ادب و تعظیم میں بدل جاتی ہے۔ کہیں محبت، شفقت و رحمت میں بدل جاتی ہے۔ کہیں محبت، مودت اور اخوت میں بدل جاتی ہے۔ جس طرح کا رشتہ اور نسبت ہوتی ہے تو وہ محبت اسی طرح کے روپ دھار لیتی ہے۔ اس کی تفصیلات میرے خطابات و کتب میں ہیں، وہاں ملاحظہ کر لیں۔ یہاں میں مختصراً سمجھانا چاہتا ہوں کہ ہمارے تصور دین کا پہلا عنصر اور رُکن محبت ہے۔ اسے ہم محبت و مودّت بھی کہ سکتے ہیں کیوں کہ میاں بیوی کے درمیان بھی اﷲ تعالیٰ نے مودّت قائم کی ہے۔ اﷲ کے نیک بندوں اور اولیاء و صالحین کے لیے لوگوں کے دلوں میں اﷲ نے محبت و مودّت قائم کی ہے اور پھر اﷲ تبارک وتعالیٰ اور اس کے حبیب مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے بھی محبت ہے۔

2۔ امن و سلامتی

دوسری میں نے امن و سلامتی کی بات کی تو اس کا معنی یہ ہے کہ تحریک منہاج القرآن کی فکر میں اور اس کی تعبیرِ دین میں اور دین کے تصور اور دین کے ویژن میں کسی سطح پر انتہا پسندی (extremism) اور دہشت گردی (terrorism) نہیں ہے۔ جب یہ دونوں چیزیں نہیں تو صاف ظاہر ہے کہ پھر تشدد کہاں سے آئے گا! تحریک منہاج القرآن روئے زمین پر اُمتِ مسلمہ اور دینی جماعتوں میں extremism اور terrorism کی سب سے بڑی دشمن ہے۔ کسی مرحلے اور کسی سطح پر ہمیں انتہا پسندی گوارا نہیں ہے، ہم اس کو دین کے خلاف سمجھتے ہیں، خواہ اِنتہا پسندی سوچ میں ہو یا آپس کے معاملات میں۔ یہ بات اس لیے بتارہا ہوں کہ عقیدہ اور فکر دو الگ چیزیں ہیں اور ان دونوں کو درست کرنا چاہیے۔ عقیدہ (faith اور belief) سے theology بنتی ہے اور سوچ و فکر (thought) سے idealogy بنتی ہے۔ آپ کو اپنی theology اور اپنی idealogy میں clear ہونا چاہیے۔ دونوں کو جمع کریں تو یہ آپ کا فلسفہ بنتا ہے۔

کوئی آپ سے پوچھے کہ تحریک منہاج القرآن کی philosophy کیاہے؟ تو بتائیں کہ ہمارا اِعتقادی اور فکری و نظریاتی فلسفہ اَمن و سلامتی پر قائم ہے۔ ہر جگہ اور ہر ایک تعلق میں امن و رحمت ہے، ایک دوسرے کے حقوق کی ادائیگی ہے۔ ایک دوسرے کا ادب و احترام ہے۔ چھوٹے کے ساتھ شفقت و محبت ہے حتی کہ غیر مسلموں کے ساتھ بھی ہمارا تعلق امن و سلامتی اور بھلائی کے ساتھ قائم ہے۔ ہمارا تصور وہ ہے جو آقا علیہ الصلوۃ والسلام نے دیا ہے کہ غیر مسلموں کے جان و مال کی قدر و قیمت اسی طرح ہے جیسے مسلمان کی۔ نہ ان کی جائیداد کو تلف کرسکتے ہیں اور نہ ان کے مال کو لوٹ سکتے ہیں کہ مسلمانوں کی سوسائٹی میں اگر غیر مسلموں کے گھر خنزیر اور شراب رکھی ہے اور کوئی مسلمان اس خنزیر کو مار دے اور شراب کو انڈیل دے یا برتن توڑ کر نقصان پہنچا دے تو اس مسلمان پر تاوان واجب ہے۔ غیر مسلموں کو اس کا جرمانہ اور قیمت ادا کی جائے گی(1) حالاں کہ اسلام میں یہ چیزیں نجس اور حرام ہیں مگر نجس اور حرام کا حکم اُن کے لیے نہیں تھا، اُن کی تو property اور مال تھا۔ اگر مسلمان کے پاس ہو تو یہ مال ہی شمار نہیں ہوتا یعنی اگر کسی مسلمان نے (معاذ اللہ) خنزیر پال رکھا ہو یا (اللہ نہ کرے) کسی مسلمان نے گھر میں شراب رکھی ہو اور کوئی اسے توڑ دے اور خنزیر کو مار دے تو اس کا کوئی تاوان نہیں کیوں کہ شریعت اس کو مال ہی نہیں مانتی۔

(1) 1. ابن الأثير، الکامل فی التاريخ، 3 : 218
2. حصکفی، الدرالمختار، 2 : 223
3. شامی، رد المحتار، 3 : 273

آپ نے دیکھا کہ کتنا امن و سلامتی والا دین ہے کہ جو دین غیر مسلموں کے لیے بھی ان کے خنزیر اور شراب کو تلف کرنے کی اجازت نہیں دیتا وہ ان کی دیگر مال و جان اور properties کو کس طرح تلف کرے گا۔ ہماری societies میں جہالت ہے اور جہالت بھی انتہا پسندی کا سبب بنتی ہے کیوں کہ جب مکمل علم نہیں ہوتا تو جہالت کی وجہ سے پیدا ہونے والے علم کے اِس خلاء کو انتہاء پسندی پُر کر دیتی ہے۔ تحریک منہاج القرآن کا فکر بڑا واضح اور امن و سلامتی پر قائم ہوا ہے۔ دین اسلام میں جانوروں کے ساتھ بھی امن و سلامتی کا رشتہ ہے، جانوروں کو مارنے کی اجازت نہیں۔ آپ اِس موضوع پر میری پوری کتاب پڑھیں : اَلْوَفَا فِي رَحْمَةِ النَّبِيِّ الْمُصْطَفٰی صلی الله عليه وآله وسلم (جمیع خلق پر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحمت و شفقت)۔ اسی طرح ’’اِسلام دین اَمن و رحمت ہے‘‘ کے موضوع پر تینتیس خطابات کی پوری سیریز سنیں جو کہ Qtv پر بھی چلی ہے۔ ’’دہشت گردی اور فتنہ خوارِج‘‘ کے موضوع پر شائع ہونے والے فتویٰ میں بھی اس موضوع پر اَبواب ہیں جن سے امن و سلامتی کا تصور اُجاگر ہوتا ہے۔ اسلام سراسر دین رحمت ہے جس کا اندازہ یہاں سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس کے تین درجے ہیں : اسلام، ایمان اور احسان؛ اور تینوں لفظوں کے اندر امن و سلامتی کا معنی پایا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ یہ امن و سلامتی اسلام کا بھی معنی ہے، ایمان کا بھی معنی ہے اور احسان کا بھی۔ خیر کا معنی ہے : ہمیشہ شر کو دور کرنا اور سَيِّئَة (برائی) کو حَسَنَة (اچھائی) سے دور کرنا، ظلم کو احسان کے ساتھ دور کرنا، یہ امن و سلامتی کا concept ہے جسے آپ نے عملی زندگی میں نافذ کرنا ہے۔ آپ اس کا پیکر بنیں۔ ایسا نہ ہو کہ تقریر اسی موضوع پر کر رہی ہوں تو کوئی عورت اٹھ بیٹھ رہی ہو یا اس کا بچہ رو رہا ہو تو اسے کوسنا شروع کر دیں کہ کس کا بچہ ہے؟ محفل کے آداب کا خیال نہیں ہے؟ میری تقریر disturb کردی ہے۔ امن و سلامتی کی تقریر میں اس طرح غصہ نکالنا امن و سلامتی نہ ہوا بلکہ یہ دھوکہ بازی ہے۔ امن و سلامتی تو یہ ہے کہ پھر طبیعتیں امن و سلامتی والی بن جائیں، مزاج بھی پرامن بن جائیں جس سے دوسروں کو تکلیف نہ ہو۔ اس message کو پھیلائیں بھی اور اپنے اندر بھی پیدا کریں تاکہ لوگ جب آپ سے ملیں تو ان کو ٹھنڈک، قرار اور سکون ملے۔ وہ امن و سلامتی محسوس کریں کہ کسی سلامتی والے بندے یا کسی سلامتی والی خاتون سے مل کے آرہے ہیں۔

3۔ ادب و احترام

تیسری چیز ہمارے vision of Islam میں ادب ہے۔ اس کی جمع آداب (etiquettes) اور manners ہیں، ہر ایک کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔ ہم اس ادب کو ملحوظ رکھنا دین کی روح سمجھتے ہیں۔ بہت سے لوگ ہیں جو پروا ہی نہیں کرتے مگر ہم ادب کو علم پر بھی مقدم جانتے ہیں۔ ادب کے لیے تربیت ہے اور علم کے لیے تعلیم ہے اور تربیت تعلیم پر مقدم ہے۔ اس تربیت میں بڑا اہم کردار صحبت کا ہوتا ہے۔ صحبت جسمانی اور روحانی بھی ہوتی ہے۔ دور کی صحبت بھی ہے جیسے یہ کیسٹس ہیں، CDs اور DVDs ہیں، ویڈیو کانفرنسز ہیں، ٹی وی چینلز ہیں، آپ سامنے بیٹھی ہیں اور گفتگو ہورہی ہے، خطاب ہورہے ہیں؛ یہ سب صحبت کی شکلیں ہیں۔ پہلے زمانے میں صحبت اختیار کرنے کے لیے لوگ لمبے سفر کرکے مجلس میں بیٹھتے تھے۔ اب موجودہ دور میں اتنی ترقی ہوگئی ہے کہ آپ اگر خطاب کی DVD لگا کر بیٹھ جائیں تو ایسے ہی ہے جیسے سامنے صحبت میں آکر بیٹھ گئے ہوں۔

صحبت اختیارکرنے کے لیے آپ کو ایک conceptual direction پیدا کرنی ہے اور ایک جہت (dimension) بنانی ہے، ایک نیت اور دھیان قائم کرنا ہے۔ اور یہ بھی یاد رکھیں کہ صحبت کا مقصد تربیت ہونی چاہیے، محض حصول برکت نہیں۔ ہمارے ہاں صحبت کا مقصد صرف حصولِ برکت رہ گیا ہے جب کہ صحبت کا اصل مقصد تربیت ہے۔ جس نے تربیت حاصل نہیں کی گویا اس نے صحبت اختیار نہیں کی۔ آقا علیہ الصلوۃ والسلام کی بارگاہ میں ابوجہل، ابولہب اور کفار و مشرکین بھی آتے اور بیٹھتے تھے اور مدینہ طیبہ میں حضور علیہ السلام کی مجالس میں کئی سالوں تک منافقین بھی بیٹھتے رہے۔ وہ منافقین سفر و حضر میں بھی ساتھ ہوتے تھے اور پیچھے کھڑے ہو کر نماز بھی پڑھتے تھے لیکن قرآن حکیم نے ان کے بارے میں فرمایا :

وَاِذَا قَامُوْا اِلَی الصَّلٰوةِ قَامُوْا کُسَالٰيلا يُرَآءُوْنَ النَّاسَ.

النساء، 6 : 142

اور جب وہ نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو سستی کے ساتھ (محض) لوگوں کو دکھانے کے لیے کھڑے ہوتے۔

اب نماز سے بڑھ کر ظاہری صحبت کیا ہوسکتی ہے مگر مذکورہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے اسے صحبت نہیں مانا کیونکہ اُس ساتھ کو صحبت کہتے ہیں جس سے بندہ تربیت حاصل کرے اور اپنی زندگی میں اس کو منعکس اور منتقل کرے۔ اِس تربیت کا مقصود ہے کہ وہ باادب بنے۔ اب ادب کئی طرح کا ہے : اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ادب ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم و اہل بیت اطہار رضی اللہ عنہم کا ادب ہے، اولیاء و صالحین کا ادب ہے، بڑوں اور والدین کا ادب ہے، رشتہ داروں اور پڑوسیوں کا بھی ادب ہے اور چھوٹے بچوں اور اولاد کا ادب ہے۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ بچوں کا ادب کیا ہے؟ یاد رکھ لیں! ادب کا تصور بڑا وسیع ہے اور یہ حقوق کی ادائیگی کو کہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حیوانات و نباتات اور جمادات کا بھی ادب ہے۔ جس کے ساتھ آپ dealing اور behave کر رہے ہیں اس کا جو حق آپ کے ذمے بنتا ہے اس کو صحیح طریقے سے ادا کرنے کو ادب کہتے ہیں، جیسے اللہ تعالیٰ کا جو حق بنتا ہے اس کی ادائیگی ادب ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جو حق اُمت پر ہے اس کی ادائیگی ادب ہے۔ بڑوں کا چھوٹوں پر جو حق ہے اس کی ادائیگی ادب ہے۔ چھوٹوں کا بڑوں پر جو حق ہے اس کی ادائیگی ادب ہے۔ پڑوسیوں کا پڑوسیوں پر جو حق ہے اسے ادا کرنا ادب ہے۔ مخلوقِ خدا سمجھ کر جانوروں اور پرندوں کے حقوق ادا کرنا ادب ہے تاکہ انہیں اذیت دی جائے نہ بھوکا پیاسا رکھا جائے۔

میں کہا کرتا ہوں کہ دین سارا ادب کا نام ہے، یہ علم نہیں ہے بلکہ ادب ہے۔ اگر دین اصلاً علم ہوتا تو اس کی بنیاد ایمان بالغیب پر نہ رکھی جاتی۔ ایمان بالغیب یعنی بن دیکھے مان لینے میں علم کی نفی ہے جو source of knowledge ہے یعنی پڑھنا، لکھنا، سیکھنا، سمجھنا؛ اس کے بغیر ماننا ادب ہے اور دیکھ بھال اور سمجھ کے ماننا علم ہے جب کہ اللہ تعالیٰ نے ایمان اور دین کی بنیاد ایمان بالغیب پر رکھی ہے۔ اولیاء اللہ کہا کرتے ہیں کہ دین سارا ادب ہے۔ اِسی لیے وہ زندگی کا طویل زمانہ ادب سیکھنے میں صرف کرتے۔ اس لیے آقا علیہ الصلوۃ والسلام نے جو امت کی تربیت فرمائی اور قرآن حکیم میں بھی اللہ تعالیٰ نے فرائض نبوت میں تربیت یعنی ادب سیکھنے کو پہلے اور علم کو بعد میں ذکر کیا ہے :

کَمَآ اَرْسَلْنَا فِيْکُمْ رَسُوْلًا مِّنْکُمْ يَتْلُوْا عَلَيْکُمْ اٰيٰتِنَا وَيُزَکِّيْکُمْ وَيُعَلِّمُکُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَةَ وَيُعَلِّمُکُمْ مَّا لَمْ تَکُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَo

البقرة، 2 : 151

اسی طرح ہم نے تمہارے اندر تمہیں میں سے (اپنا) رسول بھیجا جو تم پر ہماری آیتیں تلاوت فرماتا ہے اور تمہیں (نفساً و قلباً) پاک صاف کرتا ہے اور تمہیں کتاب کی تعلیم دیتا ہے اور حکمت و دانائی سکھاتا ہے اور تمہیں وہ (اسرار معرفت و حقیقت) سکھاتا ہے جو تم نہ جانتے تھےo

اس آیت کریمہ میں واضح طور پر فرمایا گیا کہ رسول مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہلے تم پر ہماری آیتیں تلاوت فرماتے ہیں تاکہ اس سے تم میں نور پیدا ہو اور اس نور سے تمہیں شعور ملے، ایک تڑپ پیدا ہو؛ پھر تزکیہ کرتے ہیں یعنی صحبت کے ذریعے تمہیں ادب دیتے ہیں تاکہ تمہیں باادب بنائیں؛ پھر کتاب و حکمت کی تعلیم سے نوازتے ہیںا ور پھر اسرار و رموز اور معرفت سکھاتے ہیں۔

ان steps میں ادب مقدم ہے اور علم مؤخر۔ اس لیے جس علم سے پہلے ادب نہ آیا وہ علم ہمیشہ بندے کو گمراہ کرتا ہے۔ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ جو لوگ گمراہ ہوگئے ان کے پاس علم نہیں تھا؟ ان کے پاس بھی علم تھا اور جو آج کے زمانے میں گمراہ ہیں ان کے پاس بھی علم ہے مگر ادب نہیں ہے۔ ادب، علم کو نور میں بدل دیتا ہے، ادب، علم کو نافع بناتا ہے اور ادب بندے کو عاجزی و انکساری کا پیکر بناتا ہے۔

4۔ علم و معرفت

ہمارے ویژن میں چوتھی چیز علم و معرفت ہے۔ علم والے اور بغیر علم والے کبھی برابر نہیں ہوتے۔ قرآن حکیم کا فرمان ہے :

قُلْ هَلْ يَسْتَوِی الَّذِيْنَ يَعْلَمُوْنَ وَالَّذِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ.

الزمر، 39 : 9

فرما دیجیے : کیا جو لوگ علم رکھتے ہیں اور جو لوگ علم نہیں رکھتے (سب) برابر ہوسکتے ہیں؟

تحریک منہاج القرآن اسی علم کے لیے آپ کو کبھی عرفان القرآن کورس میں بلواتی ہے، کبھی سات روزہ چھوٹے تربیتی کورس میں اور کبھی طویل کورسز کے لیے۔ یہ امر باعث افسوس ہے کہ تعلیم و تربیت کے اِصطلاح ہمارے ہاں ایک لفظی اور صوتی ترتیب بن گئی ہے مگر حقیقت میں پہلے تربیت ہے پھر تعلیم یعنی تربیت و تعلیم۔ ایک خاص نکتہ بتا دوں کہ اگر تعلیم کو پہلے لے لیں تو تعلیم مکمل کرنے کے بعد کبھی تربیت نہ ہوگی کیونکہ وہ تعلیم، بڑائی اور تکبر پیدا کردیتی ہے جو تربیت کے بغیر ہو۔ پھر بندہ سمجھتا ہے کہ مجھے سارا پتہ چل گیا ہے۔

یہاں آپ کو دلچسپ اور لطیف نکتہ بتاؤں کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے جب کعبہ تعمیر کیا اور پھر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کی التجا کی اور دعا کی کہ باری تعالیٰ! ایسا رسول نبی آخرالزمان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھیج کہ وہ یہ یہ کام کرے۔ تو جو ترتیب سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی زبان مبارک سے نکلی وہ یہ ہے :

رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِکَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَةَ وَ يُزَکِّيْهِمْ.

البقرة، 2 : 129

اے ہمارے رب ان میں انہی میں سے (وہ آخری اور برگزیدہ) رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مبعوث فرما جو ان پر تیری آیتیں تلاوت فرمائے اور انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دے (کر داناے راز بنادے) اور ان (کے نفوس و قلوب) کو خوب پاک صاف کردے۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دعا میں تعلیم کی بات پہلے عرض کی اور تزکیہ کی بات بعدمیں لیکن جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس دعا کو قبول کیا تو تزکیہ یعنی تربیت کو پہلے رکھا پھر تعلیم کو رکھا۔ ارشاد فرمایا :

کَمَآ اَرْسَلْنَا فِيْکُمْ رَسُوْلًا مِّنْکُمْ يَتْلُوْا عَلَيْکُمْ اٰيٰتِنَا وَيُزَکِّيْکُمْ وَيُعَلِّمُکُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَةَ.

البقرة، 2 : 151

اسی طرح ہم نے تمہارے اندر تمہیں میں سے (اپنا) رسول بھیجا جو تم پر ہماری آیتیں تلاوت فرماتا ہے اور تمہیں (نفساً و قلباً) پاک صاف کرتا ہے اور تمہیں کتاب کی تعلیم دیتا ہے اور حکمت و دانائی سکھاتا ہے۔

جب قبولیت کا message آیا تو اللہ تعالیٰ نے ترتیب کی اِصلاح کرتے ہوئے اسے تبدیل کردیا اور فرمایا : نہیں! ابراہیم، وہ تزکیہ و تربیت پہلے کرے گا اور کتاب و حکمت کی تعلیم بعد میں دے گا۔ یہی وجہ ہے کہ اسی تربیت سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور اہل بیت عظام رضی اللہ عنہم بنے۔ اگر پہلے تعلیم ہوتی اور تربیت رہ جاتی تو پھر یہ جماعت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور اہل بیت رضی اللہ عنہم کے کامل نمونے تیار نہ ہوتے۔ جب ہم آقا علیہ السلام کی سیرتِ طیبہ کا مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ مکی زندگی کے پہلے تیرہ سال تربیت کے ہیں اور مدنی زندگی میں تعلیم دی گئی۔ تعلیم و تعلم کے حوالے سے قرآن حکیم میں مذکور بہت زیادہ subjects مکی زندگی میں نہیں اترے بلکہ کثرتِ عبادات و معاملات اور مالیات کے سارے subjects مدنی زندگی میں اترے۔ گویا تربیت مکہ معظمہ میں ہوئی او تعلیم مدینہ طیبہ میں ہوئی۔ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کو مبعوث فرمایا تو ایسی society کو نہیں چنا جو بہت زیادہ تعلیم یافتہ اور فلسفی ہو کیونکہ ان کو اپنے علم پر بڑا ناز ہوتا ہے۔ اگر تعلیم یافتہ لوگوں میں مبعوث کیا جاتا تو پھر یونان میں یا Roman Empire میں کیا جاتا کیونکہ اس وقت یہ سائنس کی civilization تھی۔ لیکن قرآن پاک کی رُو سے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کو اَن پڑھ لوگوں میں مبعوث کیا گیا۔ ارشاد ربانی ہے :

هُوَ الَّذِيْ بَعَثَ فِی الْاُمِّيّنَ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ.

الجمعة، 62 : 2

وہی ہے جس نے اَن پڑھ لوگوں میں انہی میں سے ایک (باعظمت) رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو۔

اَن پڑھوں کا مطلب یہ ہے کہ ان کے پاس تعلیم نہیں تھی کیونکہ ان لوگوں کے پاس گھمنڈ نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ آقا علیہ الصلوۃ والسلام نے پہلے ان کی تربیت کرکے اچھا انسان بنایا پھر ان کو تعلیم دی کیونکہ تربیت کے بعد تعلیم انسان کو کمال عطا کرتی ہے۔ شعور ہمیشہ تربیت سے ملتا ہے۔ بعض اوقات بہت کم تعلیم یافتہ لوگوں کا شعور زیادہ ہوتا ہے اور بعض اوقات لوگ اعلیٰ ڈگریاں لے لیتے ہیں یہاں تک کہ PhD کرلیتے ہیں مگر شعور کا فقدان ہوتا ہے۔ پاکستانی معاشرے میں زیادہ پڑھ لکھ جانے والے لوگ خود اس بات کا عملی نمونہ اور شہادت ہیں۔ کئی لوگ اَن پڑھ اور سادہ ہوتے ہیں مگر پتے کی بات انہیں معلوم ہوتی ہے اور سادہ سادہ باتوں میں شعور کی بات کر جاتے ہیں۔

5۔ خدمت و فتوت

پانچویں چیز خدمت اور فتوت (اُخوت و بھائی چارہ) ہے یعنی ہر ایک کے ساتھ حسن خلق سے پیش آنا، ایثار کرنا، دوسرے کی تکلیف دور کرنا، ہر ایک کی خدمت کرنا۔ اپنے حقوق دوسرے پر قربان کرنا، خود تکلیف اٹھانا اور دوسرے کی تکلیف رفع کرنا، ہر لمحہ اپنے بھائیوں بہنوں اور والدین کی خدمت کرنا، تحریک منہاج القرآن کے گوشہ درود میں آنے والوں کی خدمت کرنا بلکہ وہ اِن کی خدمت کریں اور یہ اُن کی خدمت کریں یعنی سب ایک دوسرے کی خدمت کریں۔ اس کی ایک مثال دیتا ہوں۔ اولیاء کرام کا واقعہ ہے، وہ فرماتے ہیں : ہم چالیس افراد کی جماعت کسی ولی اللہ کے پاس ملاقات کے لیے گئے۔ انہوں نے ہمارے لیے کھانا تیار کروایا لیکن کھانا چالیس آدمیوں کے لیے تھوڑا تھا۔ انہوں نے دستر خوان لگاکر رکھ دیا، سب نے دیکھ لیا پھر میزبان نے چراغ گل کر دیے اور کہا کہ بسم اللہ کریں۔ اب کافی دیر تک برتنوں کی آواز آتی رہی مگر جب چراغ جلایا گیا تو ساری پلیٹیں اور ڈونگے بھرے پڑے تھے، کسی ایک نے بھی کھانا نہیں کھایا جب کہ ہر کوئی اپنے ہاتھ مار کر ظاہر کرتا رہا کہ میں کھا رہا ہوں اور کھایا اس لیے نہیں کہ ہر ایک کا خیال تھا کہ کھانا چوں کہ کم ہے لہٰذا میں نے کھالیا تو دوسرا بھوکا نہ رہ جائے۔ یہ ایثار اور قربانی کا عظیم عملی مظاہرہ تھا۔ یہ تصور خدمت ہے۔ اسی کو فتوت یعنی اخوت کہتے ہیں اور خدمت کا یہ تصور سلوک و تصوف سے ہے۔

Copyrights © 2020 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved