تحریک منہاج القرآن کا تصور دین

توحید اور تعلق باللہ

تحریک منہاج القرآن جس عقیدہ کی تعبیر پر زور دیتی ہے اس کی خوبی یہ ہے کہ اس میں عارفانہ توحید۔ جو پورے عقیدہ کی جان، روح اور مرکز و محور ہے۔ کا نور اجاگر ہوتا ہے؛ نزاعی، اختلافی اور مناظرانہ توحید نہیں پنپتی۔ عارفانہ توحید کے ذریعے اللہ کی معرفت، محبت، اطاعت، بندگی اور عبدیت کی قربت اور اس کی حضوری نصیب ہوتی ہے۔ چونکہ آج کے دور میں لوگ اللہ کے وجود اور اس کی وحدانیت میں بھی شکوک و شبہات پیدا کررہے ہیں۔ جوں جوں لادینیت (secularism) اور مادی (materialistic) سوچ آرہی ہے تو مذہب کی ضرورت سے بھی انکار ہوتا جارہا ہے جس کا واضح نتیجہ اللہ کے وجود کا انکار ہے یعنی خود کو اللہ کا بندہ سمجھنے اور اُس کے اَحکام کے تابع سمجھنے کے تصور کا انکار۔ اِس طرح اُلوہیت اور بندے کی عبدیت کے پورے خیال اور مرکزی تصور کی نفی کی جاتی ہے تاکہ بندہ آزاد ہوکر خود خدا بن جائے اور اپنی مرضی سے جو چاہے کرتا رہے، وہ جو چاہے فیصلے کرے یہاں تک کہ اپنی رائے اور اپنی عقل کو ہی وحی کی جگہ بدل بنالے۔ اس لیے جب ہم تعلق باللہ کی بات کرتے ہیں اور نور توحید کو اجاگر کرنے کی بات کرتے ہیں تو اس کا مطلب بندے کو اس کی بندگی کا احساس دلانا ہے کہ وہ زندگی میں جو بھی عمل کرے بندہ ہو کر کرے، خود خدا نہ بنے بلکہ اللہ کی وحی و احکام اور اس کے دین کے تابع ہو اور دین اور مذہب کا پٹا کبھی اپنے گلے سے نہ اتارے۔

Copyrights © 2019 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved