سیرۃ الرسول کی تہذیبی و ثقافتی اہمیت

یورپ میں اسلامی تہذیب و ثقافت کے اثرات و زوال کے اسباب

9۔ یورپ پر اسلامی تہذیب و ثقافت کے اثرات

اسلامی تہذیب و تمدن نے یورپی اقوام پر گہرا اثر ڈالا یورپ وحشت و بربریت اور جہالت کی تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا۔ ہر طرف کوڑے کرکٹ سے بھری ہوئی گلیاں گندے جوہڑ اور گندگی تعفن پھیلا رہی تھی۔ گھنے اور بے راہ جنگلوں میں ڈاکوؤں اور آدم خوروں نے ڈیرے ڈال کھے تھے۔ تہذیب و ثقافت ، سیاست و تمدن اور علوم و فنون کا کوئی تصور نہیں تھا۔ ان گھمبیر حالات میں عرب سے ایک تحریک اٹھی اور صرف نوے (90) برس میں عرب سے بحیرہ اسود اور سمرقند سے ساحل اطلس اور وسط فرانس تک چھا گئی۔ ہر طرف مساجد اور علوم و فنون کے بڑے بڑے مراکز قائم ہوئے عربی علوم یورپی زبانوں میں منتقل ہوئے۔ موسیولیبان لکھتا ہے:

‘‘عربوں نے چند صدیوں میں اندلس کو مالی اور علمی لحاظ سے یورپ کا سرتاج بنا دیا یہ انقلاب صرف علمی و اقتصادی نہ تھا اخلاقی بھی تھا۔ انہوں نے نصاريٰ کو انسانی خصائل سکھائے ان کا سلوک یہود و نصاريٰ کے ساتھ وہی تھا جو مسلمانوں کے ساتھ۔ انہیں سلطنت کا ہر عہدہ مل سکتا تھا۔ مذہبی مجلس کی کھلی اجازت تھی ان کے زمانے میں لاتعداد گرجوں کی تعمیر اس امر کی مزید شہادت ہیں۔’’

موسيوليبان، تمدن عرب: 257

مسلمانوں کے اس رحم دلانہ اور مشفقانہ سلوک سے متاثر ہو کر صرف غرناطہ میں انیس لاکھ سے زائد عیسائیوں نے اسلام قبول کیا۔ مسلمانوں نے وہاں نہایت منصفانہ ، عادلانہ اور عاقلانہ حکومت کے ہزاروں مدارس قائم کئے ملک کو آباد کیا سیکڑوں کارخانے لگائے، نہریں نکالیں اور دیکھتے ہی دیکھتے ساری آبادی کو خوشحال اور آسودہ کر دیا۔ ول ڈیورانٹ لکھتا ہے:

‘‘اندلس پر عربوں کی حکومت اس قدر عادلانہ، عاقلانہ اور مشفقانہ تھی کہ اس کی مثال اس کی تاریخ میں موجود نہیں۔ ان کا نظم و نسق اس دور میں بے مثال تھا۔ ان کے قوانین سے معقولیت و انسانیت ٹپکتی تھی اور ان کے جج نہایت قابل تھے۔ عیسائیوں کے معاملات ان کے اپنے ہم مذہب حکام کے سپرد تھے۔ جو عیسوی قانون کے مطابق فیصلے کرتے تھے۔ پولیس کا انتظام اعليٰ تھا۔ بازار میں وزن اور ماپ کی کڑی نگرانی کی جاتی تھی۔ رومہ کے مقابلے میں ٹیکس کم تھا کسانوں کے لئے عربوں کی حکومت ایک نعمت ثابت ہوئی کہ انہوں نے بڑے بڑے زمینداروں کی زمینیں مزارعین میں تقسیم کر دی تھیں۔’’

Will Durant, صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ge of Faith, p. 297.

اسلامی تہذیب و تمدن کے اثرات دیگر ممالک پر نظریات تک کو محیط تھے۔ مسلمان مشرقی اور وسطی افریقہ، بحر الکاہلی جزائر، ملایا اور چین میں تجارت کے غرض سے گئے تھے مگر اپنی غالب اور پرکشش تہذیب و ثقافت کی وجہ سے وہاں کا نقشہ بدل آئے۔ لہٰذا انڈونیشیا، ملایا، چین اور شرقی و وسطی افریقہ کے کروڑوں مسلمان ان تاجروں کی یاد دلاتے ہیں جو تیرہ سو سال پہلے ان علاقوں میں بغرص تجارت گئے تھے۔ رابرٹ بریفالٹ لکھتا ہے:

‘‘عربوں کے سپین اور سل کی تجارتی و صنعتی سرگرمیوں نے یورپ کی تجارت و صنعت کو جنم دیا۔’’(3)

(3) رابرٹ بریفالٹ، تشکیل انسانیت: 265

مسلمانوں کی علمی خدمات اور مغرب پر احسانات کا اعتراف کرتے ہوئے ایک مصنف لکھتا ہے:

That network, Oriental-Greek-Arabic, is our network. The neglect of Arabic science and the corresponding misunderstanding of our own -mediaeval traditions was partly due to the fact that Arabic studies were considered a part of Oriental studies. The Arabists were left alone or else in the company of other orientalists, such as Sanskrit, Chinese or Malay scholars. That was not wrong but highly misleading. It is true the network, our network, included other Oriental elements than the Arabic or Hebrew, such as the Hindu ones to which reference has already been made, but the largest part for centuries was woven with Arabic threads. If all these threads were plucked out, the network would break in the middle.(1)

(1) George Sarton, A Guide to the History of Science: A First Guide for the Study of the History of Science, with Introductory Essays on Science and Tradition, Chronica Botanica, 1952, p. 29.

‘‘علم کا مشرقی یونانی عربی نظام ہمارا نظام ہے۔ عربی سائنس کو نظر انداز کرنا اور اس کے نتیجے میں ہماری اپنی قرون وسطيٰ کے علمی روایت کی غلط تفہیم کا سبب یہ تھا کہ عرب کی سائنس کا مطالعہ مشرقیات کا ہی حصہ سمجھا گیا۔ اہلِ عرب کو یا تو بالکل چھوڑ دیا گیا یا انہیں مشرقی اہلِ علم مثلاً سنسکرت، چینی اور ملائی اہلِ علم کے ساتھ نتھی کر دیا گیا۔ یہ غلط ہی نہیں بلکہ شدید گمراہ کن تھا، سچ یہ ہے کہ اس علمی نظام یعنی ہمارے نظام میں عربی یا عبرانی کے علاوہ دوسرے مشرقی عناصر بھی شامل تھے۔ مثلاً ہندو عناصر جن کی طر ف پہلے ہی اشارہ کیا جا چکا ہے۔ لیکن صدیوں تک اس کا بڑا حصہ عربی دھاگوں سے بنا گیا، اگر ان سب دھاگوں کو الگ کر دیا جائے تو(آج کی جدید علمی ترقی کا) یہ تمام نیٹ ورک یہیں پر ہی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائے۔’’

وہ مزید لکھتا ہے:

Much in the field of orientalism is definitely exotic as far as we are concerned, but the religious Hebrew traditions and the scientific Arabic ones are not exotic, they are an integral part of our network today, they are part and parcel of our spiritual existence. The Arabic side of our culture cannot even be called Eastern, for a substantial part of it was definitely Western. The Muslim IBN RUSHD and the Jew MAIMONIDES were born in Cordova within a few years of one another (1126, 1135); AL-IDRISI (XII-2), born in Ceuta, flourished in Sicily; IBN KHALDUN (XIV-2), was a Tunisian; IBN BATUTTA (XIV-2), a Moroccan. The list of Moorish scientists and scholars is a very long one. Spain is proud of them but without right, for she treated them, like a harsh stepmother, without justice and without mercy.(1)

(1) George Sarton, A Guide to the History of Science: A First Guide for the Study of the History of Science, with Introductory Essays on Science and Tradition, Chronica Botanica, 1952, p. 29.

‘‘جہاں تک ہمارا تعلق ہے ہمارے لیے مشرقیت کے میدان میں اکثر باتیں بالکل اجنبی ہیں لیکن مذہبی عبرانی روایات اور سائنسی عربی روایات قطعاً بھی اجنبی نہیں۔ وہ ہماری روایات کا لازمی حصہ ہیں، وہ ہمارے روحانی وجود کا جزو لاینفک ہیں، ہمارے کلچر کا عربی پہلو مشرقی نہیں قرار دیا جا سکتا کیونکہ اس کا بڑا حصہ لازمی طور پر مغربی ہے۔ مسلمان ابن الرشد اور یہودی مامون قرطبہ میں چند برس ایک دوسرے کے بعد پیدا ہوئے اور الادریسی کیوٹا میں پیدا ہوا اور سسلی میں پروان چڑھا۔ ابن خلدون تیونس سے تعلق رکھتا تھا اور ابن بطوطہ مراکو سے، شمال مغربی افریقہ کے سائنسدانوں اور اہلِ علم کی ایک طویل فہرست ہے۔ اسپین ان پر بغیر حق کے فخر کر سکتا ہے کیونکہ اسپین نے ان سے ایک ظالم سوتیلی ماں کا سلوک کیا، بغیر کسی انصاف اور رحم کے۔’’

مسلمان جہاں بھی گئے اپنی تہذیب ساتھ لے کر گئے۔ مثلاً مسلمان تاجراپنے مال تجارت کے ہمراہ اپنی تہذیب، فلسفہ اور نظریہ زندگی اپنے ساتھ لے جاتے تھے اور اُن لوگوں کو جو جہالت، بداخلاقی بت پرستی اور باطل اوہام میں مبتلا تھے، خدائے واحد کی پرستش، پاکیزگی اور بلند اخلاقی کا درس دیتے تھے۔ اسلامی تہذیب کو پھیلانے میں صلیبی جنگوں نے بڑی مدد کی۔ اندازاً دو سو برس تک لاکھوں صلیبی مصر، فلسطین، ایشیائے خورد اور شام میں آ کر اسلامی تہذیب و تمدن سے متاثر ہوتے رہے۔ صلیبیوں نے پہلی جنگ 1196ء میں یروشلم لے لیا تھا اور یہاں اَسی (80) برس تک حاکم رہے۔ پہلا بادشاہ عربی لباس پہنتا تھا، اس نے مسلمانوں کی طرح جابجا حمام قائم کئے اور شفا خانے بنائے، یورپی مشنری عربی سیکھنے لگے۔ سامانِ جنگ میں گھوڑوں کی زرہ، تبر طبل اور بارود کا اضافہ ہوا۔ کبوتروں کے ذریعے پیغام رسانی شروع ہوئی، محاصرہ کے عربی طریقے نیز مشرق کے پودے اور کاشت کے طریقے، لذیذ کھانے مثلاً پلاؤ، قورمہ، حلوہ، چٹنیاں، اعليٰ لباس، عطریات، مسالے، مشروبات، نیشکر سے شکر نکالنے کی ترکیب اور دیگر متعدد اشیاء مشرق سے مغرب میں پہنچیں۔ وہاں فرنیچر، برتن اور عمارات مشرقی طرز کی بننے لگیں۔ آرٹ نقاشی یہاں تک کہ جلد بندی پر بھی اسلامی رنگ چڑھ گیا۔ دمشق اور صور (شام کے شہر) کے صنعت شیشہ سازی وینس میں قائم ہوئی، فرانس اور اٹلی میں ریشم بافی ہونے لگی۔ عرب رجز خوانوں سے متاثر ہو کر یورپ کے شعراء نے بھی رجز خوانی شروع کر دی اور لطف یہ کہ بحر، ردیف و قافیہ کے علاوہ تشبیہات واستعارات تک عربوں سے لیے گئے۔ وہی اونٹ، آہو، ریت اور خار مغیلاں کا تذکرہ، وصل و فراق کے قصے اور حسب و نسب پر ناز، عربی ساز مثلاً بنسی، عود ، رباب، طنبورہ اور گٹار بھی یورپ میں جا پہنچے۔ یوں عربوں کی شائستگی کا نور آہستہ آہستہ یورپ میں پھیلتاگیا یہاں تک کہ وہ جاہل اور وحشی لوگ ذہنی مشاغل میں حصہ لینے لگے۔ ان کے لباس چمک اٹھے اور وہ دنیا کی مہذب ترین قوم بن گئے۔

اسلام کے دیے ہوئے شعور کے تحت مسلمانوں نے روزِ اول سے ہی اپنی قومی زندگی کے استحکام کی بنیاد علمی اور فکری ترقی پر رکھی۔ یہی سبب تھا کہ معاصر اقوام مسلمانوں کی اس روایت کی تقلید پر مجبور تھیں:

Muslims had realized the need of science, mainly Greek science, in order to establish their own culture and to consolidate their dominion, even so the Latins realized the need of science, Arabic science, in order to be able to fight Islam with equal arms and vindicate their own aspirations. For the most intelligent Spaniards and Englishmen the obligation to know Arabic was as clear as the obligation to know English, French or German for the Japanese of the Meiji era. Science is power. The Muslim rulers knew that from the beginning, the Latin leaders had to learn it, somewhat reluctantly, but they finally did learn it. The prestige of Arabic science began relatively late in the West, say in the twelfth century, and it increased gradually at the time when Arabic science was already degenerating. The two movements, the Arabic progress and the Latin one, were out of phase. This is a general rule of life, by the way, rather than an exception, and it applies to individuals as well as to nations. A man generally does his best in comparative obscurity and becomes famous only when his vigor is diminishing; that is all right as far as he is concerned, for it is clear that solitude and silence are the best conditions of good, enduring, work.(1)

(1) George Sarton, A Guide to the History of Science: A First Guide for the Study of the History of Science, with Introductory Essays on Science and Tradition, Chronica Botanica, 1952, p. 30.

‘‘مسلمانوں نے سائنس کی ضرورت کو محسوس کر لیا تھا، خصوصاً یونانی سائنس کی، تاکہ وہ اپنا کلچر قائم کر سکیں اور اپنے اقتدار کو مستحکم کر سکیں۔ حتی کہ لاطینیوں نے بھی سائنس یعنی عربی سائنس کی اہمیت اور ضرورت کو محسوس کر لیا۔ تاکہ وہ اسلام کے ساتھ برابری کی بنیادوں پر لڑ سکیں اور اپنے تصورات کی تکمیل کر سکیں۔ سپین اور انگلستان کے جو ذہین ترین لوگ تھے ان سے اکثر کے لئے عربی جاننا بہت ضروری تھا۔ بالکل اس طرح جس طرح انگریزی، فرانسیسی اور جرمن جاننا میجی دور کے جاپانیوں کے لیے ضروری تھا۔ سائنس طاقت ہے اور مسلمان حکمرانوں نے یہ بھی بہت پہلے سے ہی محسوس کر لیا تھا۔ لاطینی لیڈروں نے بھی اسے سیکھا گو کہ بے دلی کے ساتھ، لیکن انجام کار انہوں نے سائنس کو سیکھ لیا۔ عربی سائنس کی عزت اور عظمت کا آغاز مغرب میں قدرے تاخیر سے ہوا یعنی ہم کہہ سکتے ہیں کہ بارہویں صدی میں اور یہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑھتا چلا گیا۔ اس وقت کہ جب عربی سائنس اپنے ہی وطن میں زوال پذیر ہونا شروع ہو گئی تھی، دو تحریکیں یعنی ترقی عرب اور لاطینی کی اب ختم ہو چکی تھیں۔ یہ زندگی کا عمومی اُصول ہے، اور نہ صرف اجتماعی بلکہ اس کا اطلاق افراد پر بھی ہوتا ہے اورقوموں پر بھی، کہ ایک شخص عام طور پر اس وقت ہی اپنی زندگی کے بہترین کارنامے انجام دیتا ہے جب وہ مقابلتاً کم مشہور ہوتا ہے اور وہ مشہور ہونا اس وقت شروع کرتا ہے جب اس کی استعدادِ کار کمزور ہو رہی ہوتی ہے۔ یہ بڑی حد تک ایک فرد کے لیے بھی درست ہے کیوں کہ یہ بات بڑی واضح ہے کہ تنہائی او رخاموشی ہی وہ بہترین حالت ہے جس میں بہترین کام کیا جا سکتا ہے۔’’

مغرب نے مسلمانوں کی سائنسی کامیابیوں سے بہت کچھ حاصل کیا۔ مسلم سائنس کے مغرب میں منتقل ہونے کا بڑا ذریعہ ترجمے تھے۔ مگر مغرب کی علمی پسماندگی کا یہ عالم تھا کہ اکثر تراجم اَغلاط سے پُر تھے:

The scientific tradition as it was poured from Arabic vessels into Latin ones was often perverted. The new translators did not have the advantage which the Arabic translators had enjoyed; the latter had been able to see Greek culture in the perspective of a thousand years or more; the Latin translators could not see the Arabic novelties from a sufficient distance, and they could not always choose intelligently between them. As to the Greek classics they came to them with a double prestige, Greek and Arabic. It is as if the Greek treasures, of which Latin scholars were now dimly conscious, were more valuable in their Arabic form; they had certainly become more glamorous. The translation of the Almagest made c. 1175 by GERARD OF CREMONA from the Arabic, superseded a translation made directly from the Greek in Sicily fifteen years earlier!(1)

(1) George Sarton, A Guide to the History of Science: A First Guide for the Study of the History of Science, with Introductory Essays on Science and Tradition, Chronica Botanica, 1952, p. 30.

‘‘وہ سائنسی روایت جو عربی ظرف سے لاطینی میں منتقل ہوئی اکثر و بیشتر برے اثرات کا باعث بنی۔ کیونکہ جو نئے مترجمین تھے انہیں عربی مترجمین جیسی صلاحتیں حاصل نہ تھیں ۔ موخر الذکر لوگ یونانی کلچر کو ایک ہزار سال کے تناظر یا اس سے زیادہ کے تناظر میں دیکھ رہے تھے جبکہ لاطینی مترجمین عربی ندرت کو کافی اور مناسب حد تک نہیں دیکھ پا رہے تھے۔ اور نہ ہی وہ ترجمہ کرتے ہوئے ذہانت کے ساتھ انتخاب ہی کر سکتے تھے۔ اس طرح یونانی کلاسک ان کے پاس دہری عظمت یعنی یونانی اور عربی کے ساتھ پہنچ رہی تھی۔ یہی معاملہ ان یونانی خزانوں کے ساتھ تھا جن سے لاطینی سکالر بہت کم آگاہ تھے کیونکہ وہ اب عربی میں ہوتے ہوئے زیادہ قدر و قیمت کی حامل تھیں اور یقینی طور پر زیادہ خوشنما بن چکی تھیں۔ المجستی کا وہ ترجمہ جو 1775ء میں عربی سے کیا گیا وہ اس ترجمے سے کہیں زیادہ بہتر تھا جو یونانی سے سسلی میں پندرہ برس پہلے کیا گیا۔’’

To return to the Arabic writings (as distinct from Arabic translations of Greek writings) some of the best were translated such as the works of AL-KHWARIZMI, AL-RAZI, AL-FARGHANI, AL-BATTANI, IBN SINA; others of equal value escaped attention, e.g., some books of ' UMAR ALKHAYYAM, AL-BERUNI, NASSIR AL-DIN AL-TUSI; others still appeared too late to be considered, this is the case of the great Arabic authors of the fourteenth century. By that time Latin science had become independent of the contemporary Arabic writings and contemptuous of them. On the other hand, the Latin (and Hebrew) translations from the Arabic include a shockingly large mass of astrological and alchemical treatises and other rubbish. Some of the astrological and alchemical writings, it should be noted, are valuable or contain valuable materials and are to some extent the forerunners of our own astronomical and chemical literature, but many others are worthless, or rather worse than worthless, dangerous and subversive. Even so we should not be too severe in judging those aberrations, for we have not yet succeeded in overcoming them and but for the control of scientific societies and academies, the incessant criticism coming from the scientific press and the university chairs, our own civilization would soon be overrun and smothered by superstitions and lies.(1)

(1) George Sarton, A Guide to the History of Science: A First Guide for the Study of the History of Science, with Introductory Essays on Science and Tradition, Chronica Botanica, 1952, p. 32.

‘‘عربی تحریروں کی طرف اگر ہم توجہ کریں تو چند ایک اچھی کتابوں کا ترجمہ بھی کیا گیا مثلاً الخوارزمی، الزاری، الفرغانی، البتانی، ابن سینا وغیرہ۔ تاہم بہت سی دوسری کتابیں جو بہت زیادہ اہمیت کی حامل تھیں وہ مترجمین کی توجہ حاصل نہ کر سکیں۔ مثلا عمر خیام، البیرونی، ناصرالدین الطوسی کی تصانیف اور بہت سی کتابیں ایسی بھی تھیں جن کا ترجمہ بہت بعد میں ہو سکا۔ یہی صوتحال چودہویں صدی کے عظیم عربی مصنفین کے ساتھ بھی ہوئی اس وقت تک لاطینی سائنس اپنی معاصر عربی تحریروں سے نہ صرف آزاد ہو چکی تھی بلکہ ان پرتنقید بھی کرنے لگی تھی۔ جبکہ دوسری طرف لاطینی اور عبرانی تراجم جو عربی زبان سے کئے گئے تھے ان میں بڑی تعداد فلکیات اور کیمیائی سائنس سے متعلق مسودات کی تھی اور اکثر و بیشتر ان میں سے ایسے تھے جو بالکل بے وقعت تھے۔’’

یونان کا سارا علمی ورثہ مغرب تک مسلمانوں کی تصانیف کے مغربی زبانوں میں تراجم کے ذریعے پہنچا:

An Archimedian monograph on the regular heptagon was preserved in the Arabic translation of Thabit ibn Qurra (IX-2) and this was discovered in a Cairo MS. and published in 1926 by CARL SCHOY.In other words, lost treatises of ARCHIMEDES were revealed only in 1906 and 1926. It is possible that other lost treatises may still be discovered, chiefly in the second manner. The Greek palimpsests have been pretty. well examined and there is little hope of repeating HEIBERG'S stroke of genius and luck, but there is much hope on the contrary of finding Arabic translations of lost Greek scientific books, because many Arabic libraries are still unexplored and many Arabic MSS, undescribed.(1)

(1) George Sarton, A Guide to the History of Science: A First Guide for the Study of the History of Science, with Introductory Essays on Science and Tradition, Chronica Botanica, 1952, p. 141.

‘‘سات اضلاع کی شکل (ذو سبعۃ الاضلاع) پر ارشمیدس کا ایک مقالہ ثابت بن قرع کے عربی ترجمے میں محفوظ تھا جو حال ہی میں کارلس کوائے کے مسودات میں دریافت ہواہے اور 1926ء میں کارلس کوائے نے اسے شائع کیا۔ دوسرے الفاظ میں ارشمیدس کی گم شدہ تحریریں 1906ء اور 1926ء میں دریافت ہوئیں۔ یہ ممکن ہے کہ بہت سی دوسری گم شدہ تحریریں بھی دریافت ہو جائیں۔ خصوصاً دوسرے طریقے سے۔ یونانی کتبے اس حوالے سے اچھا خیرہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ اور امید ہے کہ ہیبرگ کی ذہانت اور قسمت یہاں دوبارہ دہرائی جائے۔ لیکن بہت زیادہ امید اس کے بالکل برعکس عربی ترجموں میں گمشدہ یونانی سائنسی کتابوں کے پائے جانے کی ہے کیونکہ بہت سی عربی لائبریریاں ابھی تک دریافت نہیں ہوئیں ۔ اور بہت سے عربی مسودات ایسے ہیں جو ابھی تک منظر عام پر نہیں آئے۔’’

مسلمانوں نے جس سائنس کو فروغ دیا وہ انسانی اقدار کی امین تھی جبکہ آج کی مغربی علمی ترقی انسانیت کو اس کی بنیادی اقدار سے دور کر رہی ہے:

Our judgment of mediaeval science in general must always be tempered by the considerations which have just been offered and by due and profound humility. We may be great scientists (I mean, we modern men), but we are also great barbarians. We know, or seem to know, everything, except the essential. We have thrown religion out of doors but allowed superstitions, prejudices and lies to come in through the windows. We drum our chests in the best gorilla fashion saying (or thinking) "We can do this … we can do that … yea, we can even blow the world to smithereens," but what of it? Does that prove that we are civilized? Material power can be as dangerous as it is useful; it all depends on the men using it and on their manner of using it. Good or evil are in ourselves; material power does not create it but can multiply it indefinitely.(1)

(1) George Sarton, A Guide to the History of Science: A First Guide for the Study of the History of Science, with Introductory Essays on Science and Tradition, Chronica Botanica, 1952, p. 32.

‘‘قرون وسطی کی سائنس کے بارے میں ہمارے اندازوں کو ان معروضات کا حامل ہونا چاہئے جنہیں ابھی پورے عجز و انکسار کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ ہاں میری مراد ہے کہ آج کے جدید انسان عظیم ترین سائنسدان ہو سکتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہم بہت بڑے وحشی بھی ہیں۔ ہم جانتے ہیں یا جاننا چاہتے ہیں ہر چیز سوائے اس کے جو جاننا ضروری ہے۔ ہم نے مذہب کو اپنے دروازوں سے باہر پھینک دیا ہے لیکن اپنے گھروں میں توہمات، تعصبات اور جھوٹ کو کھڑکیوں سے اندر آنے کی اجازت دے دی ہے۔ ہم اپنے سینوں کو پھلاتے ہیں اورگوریلے انداز میں یہ کہتے ہوئے اور سوچتے ہوئے کہ ہم یہ کر سکتے ہیں ہم وہ کر سکتے ہیں بلکہ ہم دنیا کو ریزہ ریزہ کر سکتے ہیں، بدل سکتے ہیں لیکن اس کا فائدہ کیا ہے۔ کیا اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہم ایک مہذب قوم ہیں۔ مادی طاقت اتنی ہی خطرناک بھی ہو سکتی ہے جتنی کہ یہ فائدہ مند ہے۔ صرف اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ اس کو استعمال کرنے والے اس کو کس طرح سے استعمال کرتے ہیں۔ اچھائی یا برائی ہمارے اندر ہے۔ ہماری طاقت اسے پیدا نہیں کر سکتی لیکن اسے لازمی طور پر بڑھا ضرور سکتی ہے۔’’

10۔ اِسلامی تہذیب و ثقافت کا زوال اور اُس کے اَسباب

مغربی مفکرین اسلام اور پیغمبر اسلام کے بارے میں اپنے تمام تر تعصبات کے باوجود اسلام کی عظیم الشان تہذیب اور ثقافت کی نفی نہیں کر سکے۔ انہیں برملا اعتراف کرنا پڑا کہ مسلمانوں نے یورپ کو تہذیب کی شائستگی کی دولت ہی سے نہیں نوازا بلکہ شخصیت کی تعمیر و کردار کے لئے بنیادیں فراہم کیں، تاریکی میں ڈوبے ہوئے یورپ کو ثقافت کی روشنی سے ہمکنار کیا، جنگل کے قانون کی جگہ ابن آدم کو شرفِ انسانی کی توقر و احترام کا شعور عطا کیا اور یوں اس کرہ ارضی پر ان مہذب معاشروں کے قیام کی راہ ہموار کی جو آج بھی تاریخ کے ماتھے کا جھومر ہیں۔ جدید علوم اور ٹیکنالوجی مسلمانوں کی اس روایتِ علمی کی مرہون منت ہے جس نے آٹھ سو سال تک اندلس کی سرزمین پرفروغ پایا اور ذہنوں میں شعور و آگہی کے ان گنت چراغ روشن کئے، انسان کی تخلیقی صلاحیتوں کو جلا بخشی اور مظاہرِ فطرت کے سامنے سجدہ ریز ہونے کی بجائے ان کو تسخیر کے لئے انسانیت کو ذہنی طور پر آمادہ کیا لیکن جب بے عملی ہمارا وطیرہ بن گئی، جمود مرگ کو مقدر سمجھ کر ہم نے اپنے سینے سے لگا لیا، اپنی شاندار ثقافتی اقدار کوپس پشت ڈال کر اپنی ملی غیرت کو بھی اغیار کے ہاتھوں گروی رکھ دیا تو زوال و انحطاط کی تاریکیاں ہمارا مقدر بن گئیں۔ زندگی جہد مسلسل کا نام ہے جب ستاروں پر کمندیں ڈالنے کا جذبہ سرد پڑ گیا تو اُمتِ مسلمہ کی سوچ بھی جمود کی دبیز تہہ کے نیچے دفن ہو گئی۔

آج ملت اسلامیہ مقامی اور محدود وابستگیوں کو اپنا معیار شناخت بنانے کے سبب سے اس عالمگیر و ثقافتی وحدت سے محروم ہو چکی ہے جو اس کا مقدر تھی۔ نتیجہ یہ ہے کہ دورِ جدید میں جبکہ بقا کی جنگ ثقافتی میدان میں لڑی جا رہی ہے اسلام کسی موثر کردار سے محروم ہے:

For Huntington, culture worked at the level of motivation. States remained key actors, but civilizational politics became real when states and peoples identified with each other's cultural concerns or rallied around the 'core state' of a civilization. The Orthodox, Hindu, Sinic, and Japanese civilizations were clearly centered in powerful unitary states. The West had a closely linked core that included the United States, Germany, France, and Britain. Islam was without a clear core state, and for this reason experienced much more intra-civilizational conflict as a number of contenders-Turkey, Iran, Iraq, Egypt, Saudi Arabia-competed for influence. The fact that Islam was divided did not refute the idea that a pan-Islamic consciousness existed.(1)

(1) Simon Murden, Culture in World Affairs in John Baylis & Steve Smith's The Globalization of World Politics, OUP, 2001, p. 462.

‘‘ہنٹٹگنٹن کے مطابق کلچر کا ایک ترغیبی کردار ہے۔ ریاستیں کلیدی کردار رکھتی ہیں لیکن اس وقت تہذیبی سیاست حقیقی کردار بن جاتی ہے جب ریاستیں اور لوگ ایک دوسرے کو ثقافتی تحفظات کے ذریعے پہچانتے ہیں یا ایک تہذیب پر مشتمل ریاستی منطقہ سے وابستہ ہوتے ہیں۔ قدیم کلیسا، ہندو، چینی، اور جاپانی تہذیبیں واضح طور پر طاقتور واحدانی وراثتوں میں مرتکز تھیں۔ مغرب میں ایک واضح اندرونی تعلق موجود ہے جن میں امریکہ، جرمنی، فرانس اور برطانیہ شامل ہیں۔ اسلام کسی واضح ریاستی منطقے سے محروم تھا اس لئے اسے کئی بین التہذیبی تنازعات کا سامنا کرنا پڑا۔ کیونکہ کئی مدعیوں مثلاً ترکی، ایران، عراق، مصر اور سعودی عرب میں اثر و رسوخ کے حصول کیلئے مقابلہ بازی جاری رہی۔ (تاہم) یہ حقیقت - کہ اسلام تقسیم تھا - اس تصور کی نفی نہیں کرتی کہ ایک پان اسلامی شعور موجود تھا۔’’

یہ ایک حقیقت ہے کہ تہذیبی اثرات کے تحت ہی قومیں معاصر دنیا میں اپنا مقام متعین کرتی ہیں۔ آج مغربی تہذیب کا غلبہ اس تہذیبی عنصر کی بدولت ہے جس سے آج کی دوسری تہذیبوں خصوصاً اسلام محروم ہے:

Civilizations represent coherent traditions, but are dynamic over time and place. For instance, medieval Christendom drew on ancient and eastern civilizations for many of its philosophical and technological advances; subsequently, Christendom was remolded into a European civilization based around the nation-state and, finally, was expanded and adapted in North America, and re-designated as Western civilization.(2)

(2) Simon Murden, Culture in World Affairs in John Baylis & Steve Smith's The Globalization of World Politics, OUP, 2001, p. 458.

‘‘تہذیبیں مربوط روایات کا اظہار ہوتی ہیں لیکن یہ زماں اور مکان سے زیادہ حرکی ہیں۔ مثلاً قرون وسطيٰ کی عیسائیت کے اثرات قدیم اور مشرقی تہذیبوں اور ان کے فلسفیانہ اور ٹیکنالوجیکل پیش رفت پر ہوئے۔ بعد میں یہی دنیائے عیسائیت یورپی تہذیب میں بدلی جس کی بنیاد قومی ریاست پر قائم ہے۔ اور انجام کار اس کی توسیع ہوئی اور اسے شمالی امریکہ نے اختیار کیا جو مغربی تہذیب کی شکل اختیار کر گئی۔’’

اسلام جب سے علاقائی شناختوں کی تقسیم کا شکار ہوا ہے، نہ صرف عالمگیر تہذیب ہونے کے مقام اور منصب سے محروم ہو گیا بلکہ دنیا پر مثبت اثرات مرتب کرنے کی بجائے ،جو اس کا فرض منصبی تھا، دیگر تہذیبوں کے مقابل مغلوبیت کا شکار ہے:

The Islamic world represents an example par excellence of the experience of almost all non-Western cultures in the modern age. Islamic peoples have had to deal with the geopolitical and cultural hegemony of the West since the eighteenth century. The collapse of the Ottoman empire at the end of the First World War heralded a new era in which the secular, nationalist, and authoritarian state became the dominant form of organization. Modernizers argued that Islam was the cause of backwardness and decline, and that modernization required the imitation of Western forms of culture and organization. In Turkey, the Ottoman Caliphate was abolished in 1924, and Western forms of law, script, and dress enforced. Women were forcibly unveiled. A similar model was adopted in Iran and the Arab world, although the attack on Islam was never quite so thoroughly pursued. Islam was divided by Turkish, Iranian, and Arab nationalism.

Simon Murden, Culture in World Affairs in John Baylis & Steve Smith's The Globalization of World Politics, OUP, 2001, p. 463.

‘‘جدید دور میں غیر مغربی ثقافتوں کے تجربے کی بہترین مثال اسلامی دنیا پیش کرتی ہیں۔ اٹھارویں صدی سے مسلم دنیا کو مغرب کے سیاسی اور ثقافتی غلبے کا سامنا ہے۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد سلطنت عثمانیہ کے زوال سے نئے دور کا آغاز ہوا۔ جس میں سیکولر، قوم پرست اور مقتدر ریاست تنظیم کی غالب شکل میں سامنے آئی۔ جدیدیت پسند یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ اسلام پسماندگی اور زوال کا سبب ہے اور جدیدیت کے لیے ضروری ہے کہ مغربی ثقافت اور تنظیمی ڈھانچے کی پیروی کی جائے۔ 1924ء میں ترکی میں عثمانی خلافت ختم کر دی گئی اور مغربی قانون ، رسم الخط اور لباس نافذ کر دیا گیا۔ عورتوں کے نقاب جبراً اتار لیئے گئے، اس طرح کا طرز عمل ایران اور عرب دنیا میں اپنایا گیا، اگرچہ اسلام پر یہ حملہ کلی طور پر جاری نہ رہا، اسلام ترکی، ایرانی اور عرب قومیت میں تقسیم ہو گیا۔’’

زوال کا یہ عمل ناگہانی آفت بن کر اِس اُمت پر مسلط نہیں ہوا، بلکہ یہ صدیوں کا عمل ہے جو کچھ اسباب اور عوامل کے تحت وقوع پذیر ہوا۔ سیرۃُ الرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ہمیں اس باب میں بھی بڑی واضح رہنمائی ملتی ہے۔ تا ہم یہاں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک بہت ہی جامع ارشاد مبارک بیان کیا جاتاہے جو ان اسباب و علل کا جامع احاطہ کرتا ہے:

من اقتراب الساعة اثنتان وسبعون خصلة إذا رأيتم الناس أماتوا الصلاة وأضاعوا الأمانة وأکلوا الربا واستحلوا الکذب واستخفوا الدماء واستعلوا البناء وباعوا الدين بالدنيا، وتقطعت الأرحام ويکون الحکم ضعفاً والکذب صدقاً والحرير لباسًا وظهر الجور وکثر الطلاق وموت الفجاء ة وائتمن الخائن وخوّن الأمين وصدق الکاذب وکذب الصادق وکثر القذف وکان المطر قيضاً والولد غيضاً وفاض اللئام فيضًا وغاض الکرام غيضًا وکان الأمراء فجرة والوزراء کذبة والأمناء خونة والعرفاء ظلمة والقراء فسقة إذا لبسوا مسوک الضأن قلوبهم أنتن من الجيفة وأمر من الصبر يغشيهم اﷲ فتنة يتهاوکون فيها تهاوک اليهود الظلمةوتظهر الصفراء يعنی الدنانير وتطلب البيضاء يعني الدراهم وتکثر الخطايا وتغل الأمراء وحليت المصاحف وصوّرت المساجد وطولت المنائر وخرّبت القلوب وشربت الخمور وعطلت الحدود وولدت الأمة ربها وتري الحفاة العراة وقد صاروا ملوکاً وشارکت المرأة زوجها في التجارة وتشبه الرجال بالنساء والنساء بالرجال وصله باﷲ أن يستحلف وشهد المرء أن يستشهد وسلم للمعرفة وتفقه لغير الدين وطلبت الدنيا بعمل الآخرة واتخذ المغنم دولاً والأمانة مغنما والزکاة مغرمًا وکان زعيم القوم أرذلهم وعق الرجل أباه وجفا أمه وبر صديقه وأطاع زوجته وعلت أصوات الفسقة في المساجد واتخذت القينات والمعازف وشربت الخمور في الطرق واتخذ الظلم فخرًا وبيع الحکم وکثرت الشرط واتخذ القرآن مزامير صفافاً والمساجد طرقاً ولعن آخر هذه الأمة أولها فليتقوا عند ذالک ريحًا حمراء وخسفًا ومسخًا و آيات.

  1. أبونعيم، حلية الأولياء وطبقات الأصفياء، 3: 358، 359

  2. سيوطي، الدر المنثور فی التفسير بالماثور، 6: 52

‘‘بہتر (72) چیزیں قربِ قیامت کی علامات ہیں: جب تم دیکھو کہ لوگ نمازیں غارت کرنے لگیں، امانت ضائع کرنے لگیں، سود کھانے لگیں، جھوٹ کو حلال سمجھنے لگیں، معمولی بات پر خون ریزی کرنے لگیں، اونچی اونچی بلڈنگیں بنانے لگیں، دین بیچ کر دنیا سمیٹنے لگیں، رشتہ داروں سے بد سلوکی ہونے لگے، انصاف کمزور ہو جائے، جھوٹ سچ بن جائے، لباس ریشم کا ہو جائے، ظلم، طلاق اور ناگہانی موت عام ہو جائے، خیانت کار کو امین اور امانتدار کو خائن سمجھا جائے، جھوٹے کو سچا اور سچے کو جھوٹا کہا جائے، تہمت تراشی عام ہو جائے، بارش کے باوجود گرمی ہو، اولاد غم و غصہ کا موجب ہو، کمینوں کی ٹھاٹھیں ہوں، اور شریفوں کا ناک میں دم آجائے، امیر وزیر جھوٹ کے عادی بن جائیں، امین خیانت کرنے لگیں، سردار ظلم پیشہ ہوں، عالم اور قاری بدکار ہوں گے، جب لوگ بھیڑ کی کھالیں (پوستین) پہننے لگیں، ان کے دل مردار سے زیادہ بدبودار اور لوہے سے زیادہ سخت ہوں، اس وقت اﷲ تعاليٰ انہیں ایسے فتنے میں ڈال دے گا، جس میں وہ یہودی ظالموں کی طرح بھٹکتے پھریں گے اور (جب) سونا عام ہو جائے گا، چاندی کی مانگ ہوگی، گناہ زیادہ ہو جائیں گے، امن کم ہو جائے گا، مصاحف کو آراستہ کیا جائے گا، مساجد میں نقش و نگار کئے جائیں گے، اونچے اونچے مینار بنائے جائیں گے، دل ویران ہونگے، شرابیں پی جائیں گی، شرعی سزاؤں کو معطل کر دیا جائے گا، لونڈی اپنے آقا کو جنے گی، جو لوگ (کسی زمانے میں) برہنہ پا اور ننگے بدن رہا کرتے تھے وہ بادشاہ بن بیٹھیں گے، زندگی کی دوڑ میں اور تجارت میں عورت مرد کے ساتھ شریک ہو جائے گی، مرد، عورتوں کی اور عورتیں مردوں کی نقالی کرنے لگیں گی، غیر اﷲ کی قسمیں کھائی جائیں گی، مسلمان بھی بغیر کہے (جھوٹی) گواہی دینے کو تیار ہو گا، جان پہچان پر سلام کیا جائے گا، غیر دین کے لئے شرعی قانون پڑھا جائے گا، آخرت کے عمل سے دنیا کمائی جائے گی، غنیمت کو دولت، امانت کو غنیمت کا مال اور زکوٰۃ کو تاوان قرار دیا جائے گا، سب سے ذلیل آدمی قوم کا حکمران بن بیٹھے گا، بیٹا اپنے باپ کا نافرمان ہو گا، ماں سے بدسلوکی کرے گا، دوست سے نیکی کرے گا اور بیوی کی اطاعت کرے گا، بدکاروں کی آوازیں مسجدوں میں بلند ہونے لگیں گی، گانے والی عورتیں داشتہ رکھی جائیں گی اور گانے کا سامان رکھا جائے گا، سرِ راہ شرابیں اڑائی جائیں گی، ظلم کو فخر سمجھا جائے گا، انصاف بکنے لگے گا، پولیس کی کثرت ہو جائے گی، قرآن کو نغمہ سرائی کا ذریعہ بنا لیا جائے گا، درندوں کی کھال کے موزے بنائے جائیں گے اور امت کا پچھلا حصہ پہلے لوگوں کو لعن طعن کرنے لگے گا، اس وقت سرخ آندھی، زمین میں دھنس جانے، شکلیں بگڑ جانے اور آسمان سے پتھر برسنے کے جیسے عذابوں کا انتظار کیا جائے۔’’

سیرۃُ الرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روشنی میں اسلام کی تہذیب و ثقافت کا یہ مختصر تجزیہ اس امر کی وضاحت کرتا ہے کہ اُمتِ مسلمہ اپنی تابناک تہذیب کے لئے نہ صرف سیرت الرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رہین منت ہے بلکہ اس کی تہذیبی اور ثقافتی بقا بھی سیرۃُ الرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وابستگی میں ہی مضمر ہے۔

Copyrights © 2019 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved