سیرۃ الرسول کی تہذیبی و ثقافتی اہمیت

ثقافت اور معاشرتی اقدار و ثقافت اور تہذیب کا باہمی تعلق

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرتِ مبارکہ نے ملتِ اسلامیہ کی زندگی کے ہر پہلو کے لئے راہنمائی فراہم کی۔ ان میں ایک پہلو ثقافتی اور تہذیبی بھی ہے۔ دنیا کی تمام تہذیبوں اور ثقافتوں کے مقابل اسلام کی تہذیب و ثقافت بالکل منفرد اور امتیازی خصوصیات کی حامل ہے۔ اس کی بنیادی وجہ وہ اُصول و ضوابط اور افکار و نظریات ہیں جو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اُسوہ حسنہ کے ذریعے اُمتِ مسلمہ کو عطا فرمائے۔ ثقافت کی تمام ترجہات میں اُسوہ حسنہ سے ہمیں ایسی جامع راہنمائی میسر آتی ہے جس سے بیک وقت نظری، فکری اور عملی گوشوں کا احاطہ ہوتا ہے۔ ایسی جامعیت دنیا کی کسی دوسری تہذیب یا ثقافت میں موجود نہیں ہے۔

قبل اس کے کہ سیرت مبارکہ کی ثقافتی و تہذیبی اہمیت پر روشنی ڈالیں، اس امر کی وضاحت کی جاتی ہے کہ ثقافت فی نفسہ کیا ہے؟ ماہرین کے مطابق ثقافت معاشرتی وراثت کے مختلف عناصر میں سے ایک عنصر ہے۔ اس کا تعلق ان افکار و نظریات کے ساتھ ہے جنہیں معاشرے کے افراد اختیار کرتے ہیں اور یہ افکار و نظریات ان کی عملی زندگی میں مختلف صورتوں میں ظاہر ہوتے ہیں۔ انسانی معاشرے میں آنے والی سماجی اور معاشرتی تبدیلیوں میں ایک محرک ثقافت بھی رہا ہے۔ ثقافت معاشرتی اور سماجی تبدیلی کا موجب ہوتی ہے، اگر وسیع تر تناظر میں ثقافت کے مفہوم و معنی کاتعین کیا جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ ثقافت معاشرے کا ایک ایسا پہلو ہے جس کا تعلق ان انسانی سرگرمیوں کے ساتھ ہے جو انسانی معاشرے میں انجام پاتی ہیں اس طرح ثقافت میں علوم، فنون اور عقائد سب شامل ہو جاتے ہیں اور اس میں معاشرے کے مختلف افراد کے وہ اسباب زندگی بھی شامل ہیں جن کے تحت وہ زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔ یعنی ثقافت معاشرے کے اعتقادی، فکری اور معاشرتی پہلوؤں سے عبارت ہے۔ تاہم ثقافت کے محتویات کے باب میں ماہرین کی آرا مختلف ہیں:

The term culture is often used to cover the whole range of man's activities when these are viewed psychologically. The anthropologist applies the term to the work of primitive man in making tools, baskets, boats and the like; these are referred to as forms of material culture. The popular mind thinks of culture in terms of polite society, where it connotes good manners and grammatical speech. The crude person who lacks these, even though he be far superior to the savage with his "culture", is referred to as "uncultured", meaning unrefined. Just as the term animal is used to cover various fauna from a tiny insect to a large mammal, so the term culture is often extended to the glimmerings of intelligence in primitive men and the graces of those who move in the best circles of urban society. It will be seen at once that we cannot make headway in the analysis of cultural types among modern nations if we apply the term so indiscriminately.(1)

(1) Charles Gray Shaw, Trends of Civilization and Culture, p. 75.

‘‘ثقافت کی اِصطلاح انسانی زندگی کی تمام سرگرمیوں کا احاطہ کرنے کے لئے استعمال کی جاتی ہے، جب انہیں نفسیاتی طور پر دیکھا جائے۔ علم البشریات کے ماہرین اس اصطلاح کو ابتدائی انسان کے کام مثلاً اوزار بنانا، ٹوکریاں، کشتیاں اور اس طرح کی دوسری چیزیں جو مادی ثقافت کی مختلف شکلیں ہیں، کی اصطلاح کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ عام ذہن ثقافت کو مہذب معاشرہ کی اصطلاح سمجھتا ہے جہاں یہ اچھے آداب و اطوار اور مہذب علمی گفتگو کا مظہر ہوتی ہے۔ ایک غیر مہذب فرد کوجو ان اوصاف سے محروم ہو اور چاہے وہ اپنی صحرائی اور وحشی ثقافت میں فائق تر ہی کیوں نہ ہو اسے غیر تہذیب یافتہ یعنی غیر شائستہ سمجھا جاتا ہے بالکل اس طرح جیسے لفظ، جانور ایک معمولی کیڑے مکوڑے سے بڑے جانوروں تک تمام نوع حیوانات کا احاطہ کرتا ہے۔ اس طرح لفظ ثقافت میں ابتدائی انسان کی ذہانت کی معمولی جھلملاہٹ سے لے کر جدید شہری آبادی کے شکوہ تک سب شامل ہیں۔’’

بعض ان میں صرف معرفت، عقائد، فنون اوراخلاق کو شامل کرتے ہیں، جب کہ بعض کے نزدیک اس میں دین، خاندان، جنگ، امن جیسے ضابطے بھی شامل ہیں جو انسانی نفسیات اور حیاتیات تک کا احاطہ کیے ہوتے ہیں۔ تاہم اگر ہم مشرق اور مغرب کے تصورِ ثقافت کو دیکھیں تو اسلام اور غیر اسلامی دنیا کے تصورِ ثقافت میں بنیادی فرق تصورِ دین کا ثقافت کا عنصر ہونا ہے۔ کیوں کہ مغربی نظریات میں دین سے مراد ایک ما بعد الطبیعاتی نکتہ نظر ہے جس کا تعلق علوم و فنون سے ہو سکتا ہے۔ لیکن یہ زندگی کی زندہ اور عملی قدر نہیں جبکہ اسلامی نکتہ نظر میں دین ما بعد الطبیعاتی اور فلسفیانہ حقیقت نہیں ہے بلکہ زندگی کی ایک ایسی زندہ حقیقت ہے جس سے زندگی کا کوئی گوشہ خارج اور باہر نہیں ہے کیونکہ جب دین کو محض ایک فلسفیانہ مسئلہ سمجھ لیا جائے تو اس سے عقیدہ اخلاقی اقدار اور زندگی کے عملی معاملات سے بالاتر ہو کر ایک مجرد تصور رہ جاتا ہے۔ جس کا زندگی پر کوئی اثر نہیں رہتا۔ زندگی اخلاقی اقدار سے محروم ہوتی چلی جاتی ہے۔ جس کا مظہر آج کا مغربی معاشرہ ہے۔ جبکہ اسلام کے معاشرتی نظام میں دین کو زندہ قدر قرار دیا گیا ہے۔ زندگی کی کوئی بھی حقیقت اور کوئی بھی معاملہ چاہے اس کا تعلق سماجیات سے ہو، معاشرتی اُمور، سیاسیات یا اقتصادیات سے ہو، قومی، ملکی یا بین الاقوامی اُمور سے ہو، یہ سب کے سب دین میں داخل ہیں۔ دین کے فراہم کردہ اُصولوں کی روشنی میں ان اُمور کو چلایا جا سکتا ہے۔ جبکہ دنیوی مقاصد اور مفادات کبھی بھی کسی بھی صورت میں دینی اقدار اور معیارات سے آزاد، الگ اور خود مختار نہیں رہتے۔

1۔ ثقافت اور معاشرتی اَقدار

ثقافت معاشرتی اقدار کے تعین میں بنیادی اور کلیدی کردار ادا کرتی ہے:

Wherever human beings form communities, a culture comes into existence. Cultures may be constructed on a number of levels: in village or city locations, or across family, clan, ethnic, and national groups. All communities produce a linguistic, literary, and artistic genre, as well as beliefs and practices that characterize social life and indicate how society should be run. Culture transcends ideology, and is about the substance of identity for individuals in a society. An awareness of a common language, ethnicity, history, religion, and landscape represent the building blocks of culture.(1)

(1) Simon Murden, Culture in World Affairs in John Baylis & Steve Smith's The Globalization of World Politics, p. 457.

‘‘جہاں کہیں بنی نوع انسان کوئی بستی تشکیل دیتے ہیں کلچر وجود میں آ جاتا ہے۔ کلچر کئی سطحوں پر تشکیل پاتا ہے مثلاً گاؤں یا شہر میں یا خاندان، قبیلہ، نسلی اور قومی گروہوں میں تمام گروہ ایک لسانیاتی، ادبی اور فنی صنف تخلیق کرتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ عقیدے اور اعمال بھی جو اس کی سماجی زندگی کے مظہر ہوتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ معاشرے کو کیسے چلانا ہے۔ کلچر (اپنی جامعیت کے لحاظ سے) نظرئیے پر فائق ہوتا ہے اور معاشرے میں افراد کی شناخت کا باعث بھی ایک مشترک زبان، نسلیت، تاریخ، مذہب اور معاشرے کا زمینی منظر کلچر کے تشکیلی عناصر ہیں۔’’

کسی بھی قوم کی ثقافت کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایسی اقدار پر قائم ہو جس کا تعلق عقیدہ، فکر، طرزِ زندگی اور زندگی کے مقصد کے تعین کے ساتھ ہو، اس طرح ثقافت روحانی، نفسیاتی اور معاشرتی اثاثہ قرار پاتی ہے جو تاریخ کا ایک ایسا مرکز و محور ہوتی ہے جس سے کسی بھی قوم کی تاریخ کے مختلف پہلو اور گوشے جنم لے رہے ہوتے ہیں۔ تاہم اگر ثقافت مثبت معاشرتی اقدار کو جنم نہ دے یا وہ اپنی اساس کے لحاظ سے مستقل اور آفاقی اُصولوں سے محروم ہو تو ایسی ثقافت کھوکھلی اور اُدھوری ثقافت قرار پائے گی۔ جو کوئی بھی بڑی تہذیب تشکیل دینے میں ایک فعال کردار ادا نہیں کر سکتی۔ اس لیے ضروری ہے کہ ثقافت معاشرے میں ایسی بنیادی اقدار کی صحیح اور موثر تعبیر اور ترجمانی کرے جو اقدار معاشرے کے مثبت اور اہم خدوخال کا تعین کریں اور معاشرے کی ترقی اور نشوونما کی حرکت کو منظم کریں اور اس کے لیے ایک جامع فکر کا تعین کریں۔ کیوں کہ کلچر کسی بھی معاشرے کے اجتماعی طرز عمل کا مظہر ہوتا ہے:

Culture can help us understand why humans act in the way they do, and what similarities and differences exist amongst them. The world is divided into distinct communities, and a taxonomy of belonging and exclusion is the vital job that cultural analysis can undertake.(1)

(1) Simon Murden, Culture in World Affairs in John Baylis & Steve Smith's The Globalization of World Politics, p. 457.

‘‘کلچر ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ لوگ ایک مخصوص طرز عمل کا اظہار کیوں کرتے ہیں اور ان میں کیا مشابہتیں اور اختلافات پائے جاتے ہیں۔ دنیا واضح آبادیوں میں تقسیم ہے اور متعلق اور غیر متعلق کی تقسیم کرنا وہ اہم کام ہے جو ثقافتی تجزیہ سے کیا جا سکتا ہے۔’’

اگر ثقافت مذکورہ صفات کی حامل بنیادی اقدار سے خالی ہے تو اس کے اثرات معاشرے پر ہوں گے۔ نتیجتاً معاشرہ مختلف قسم کے بحرانوں کا شکار ہو جائے گا اور اس میں کسی بھی قسم کا تحرک پیدا نہیں ہو سکے گا۔ بالآخر مختلف انواع اور مسائل کے معاشرے میں در آنے سے معاشرہ افتراق اور انتشار کا شکار ہو جائے گا۔

کسی معاشرے کی ثقافت کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس قدر موثر ہو کہ اقدار کا دائرہ کار متعین کرے اور انہیں مضبوط بنائے۔ کیونکہ کسی بھی معاشرے میں اقدار ہی وہ معیار ہیں جو معاشرے کو مضبوط بناتی ہیں اور اسے زندہ رکھتی ہیں۔ اقدار ہی معاشرے میں اچھی روایات کو فروغ دیتی ہیں۔ اس طرح معاشرہ مستقبل کی ایک ایسی مثالی تصویر پیش کرتا ہے جس کی بنیاد دیرپا اور آفاقی انسانی اقدار پر مبنی ہوتی ہے۔

اقدار اور ثقافت کا باہمی تعلق اس بات کا متقاضی ہے کہ ہم اپنی اقدار کا بنظر غائر جائزہ لیں۔ وہ اسلامی اقدار جن سے ہماری ثقافت موثر اور فعال رہتی ہے، ہمارے معاشرے کو امتیازی خدوخال فراہم کرتی ہیں۔ معاشرے میں خیر و شر کے مابین فرق و امتیاز کا تعین کرتی ہیں۔ اسلامی اقدار کا مرکز و محور واقعاتی معیارات نہیں یعنی ایسے معیارات نہیں جو کسی رنگ، نسل، عصبیت، دولت یا دنیوی برتری سے متعلق ہوں کیونکہ یہ وہ معیارات ہیں جو انسان کو فکری اور شعوری اعتبار سے اقدار کی طرف لے جاتے ہیں جو دورِ جاہلیت میں رائج تھیں۔ اس کے نتیجے میں انسان اسلام کے اصلی اور حقیقی منھاج سے دور ہوتا چلا گیا اور مختلف معاشرتی مسائل کا شکار ہوا۔ جبکہ اسلام انسانیت کی فلاح و خیر کی بات کرتا ہے۔ اسلام کے اسی تصور ثقافت سے ایسی اسلامی اقدار جنم لیتی ہیں جو انسانی بھلائی اور عزت و تکریم کی ضامن ہیں۔

دعوت و تبلیغ اسلامی معاشرے کا ایک لازمی خاصا رہا ہے۔ اگر ہم اسلام کے نظام دعوت و تبلیغ کا جائزہ لیں تو یہ محض دین یا مذہب کے مابعد الطبیعاتی عقائد کے ابلاغ کا نام نہیں ہے بلکہ اس سے مراد اسلامی اقدار معاشرے میں متعارف کروانا ہے۔ اسلام کی دعوت و تبلیغ کا بنیادی مقصد اسلامی اقدار کو معاشرے کے افراد کے قلب و روح میں اس طرح جاں گزیں کرنا ہے کہ وہ تمام رسوم و رواج جن کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں معاشرے سے ختم کر دی جائیں اور ان اسلامی اقدار کو عام کرنے کے لیے ضروری ہے کہ معاشرے کے افراد ایمان، استقامت اور صبر جیسی صفات حسنہ سے اپنے آپ کو مزین کریں۔ تاکہ افرادِ معاشرہ ان اقدار کی حقیقی تصویر پیش کریں۔ قرآن حکیم جہاں ہمیں دنیا و آخرت کے حوالے سے کامیاب زندگی کا نقشہ دکھاتا ہے ان میں بنیادی ضابطہ یہ ہے کہ یہ اللہ کا طے کردہ ایک آفاقی اصول ہے کہ دنیا کی کوئی بھی کامیابی ضبط اور انقیاد کے بغیر نصیب نہیں ہو سکتی۔ اسلامی معاشرے میں ضبط و انقیاد کا اصول عبادات، عقائد اور معاملات میں جاری و ساری نظر آتا ہے۔ یہ ضابطہ جہاں اقدار کی ہیئت اور نوعیت کو متعین کرتا ہے وہاں انسانی معاشرے کی ان مستقل جہات کا تعین بھی کر دیتا ہے جس کے نتیجے میں اسلامی معاشرے کی ہیئت، اس کی شکل و صورت اور خدوخال دنیا کے کسی بھی تہذیبی اور ثقافتی تصادم سے دوچار ہوتے ہوئے مسخ نہیں ہو سکتے۔

2۔ ثقافت اور تہذیب کا باہمی تعلق

ثقافت اور تہذیب باہم متعلق حقیقتیں ہیں:

The confusion in the use of the term culture is that which arises when it is closely associated with civilization, so closely associated as to be identified with it. The term when it is used in its most general sense is often made to include both culture and civilization.(1)

(1) Charles Gray Shaw, Trends of Civilization and Culture, American Book, 1931, p. 76.

‘‘لفظ کلچر کی وضاحت اس وقت مشکل ہو جاتی ہے جب یہ تہذیب کے ساتھ بہت گہرا وابستہ ہوتا ہے گویا کہ اسے تہذیب کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ جب کلچر کی اصطلاح کو عمومی معنی میں استعمال کیا جائے تو اس میں تہذیب اور ثقافت دونوں شامل ہوتی ہیں۔’’

جب کہ بعض محققین کے نزدیک تہذیب اور ثقافت دو مختلف حقیقتیں ہیں ان کے نزدیک ثقافت کا تعلق معنوی اُمور سے ہے جبکہ تہذیب کا تعلق مادی اُمور سے ہے۔ تاہم صفات کے اس فرق کے باوجود جہاں تک بنیادی نوعیت کا تعلق ہے تہذیب اور ثقافت ایک دوسرے سے باہم مربوط ہیں۔ ثقافت کا تعلق صرف معنوی اور روحانی اُمور سے ہے جبکہ تہذیب کا تعلق وسائل اور جدید چیزوں سے ہے، جن سے معاشرے میں ترقی اور آسانیاں پیدا ہو رہی ہیں اور اس طرح اس سے مراد وہ نظام حیات ہے جو ایک معاشرہ اپنی معاشرتی ساخت کو مضبوط کرنے اور اس کو ترقی پذیر کرنے کیلئے وضع کرتا ہے۔ اگر لغوی اعتبارسے دیکھا جائے تو اس سے مراد شہروں اور گاؤں میں سکونت پذیر لوگوں کی مختلف معاشرتی و ملکی سرگرمیاں ہیں۔ چونکہ اسلامی تمدن کے مختلف مادی و معنوی پہلو ہیں جن کے معرض وجود میں آنے کا سبب انسان کی یہی وہ بنیادی سرگرمیاں ہیں جو اس کرہ ارض پر اس کی بقا کے تسلسل اور حصول رزق سے متعلق ہیں۔ یعنی ثقافت انسانی اذہان کی معرفت سے عبارت ہے اور یہ حقیقت ہے کہ انسانی اذہان کی ترقی و معرفت اور ان کے افکار و نظریات کی اسی وقت نشوونما ہو سکتی  ہے جب کسی خطہ ارضی پر شہروں کی شکل میں سکونت اور استقامت میسر ہو۔

اس ساری بحث سے یہ امر واضح ہو جاتا ہے کہ ثقافت اور تہذیب باہم لازم و ملزوم ہیں، تہذیب یعنی معاشرہ اور اس کی ثقافت یعنی اقدار، افکار و نظریات اور نظام حیات سے عبارت ہے۔ بالفاظ دیگر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ خصوصیات جن سے اُمت کو امتیازی حیثیت ملتی ہے وہ تہذیب یا ثقافت کی خصوصیات ہی ہیں۔ ماہرین کے نزدیک تہذیب کے مفہوم کا اطلاق اس چیز پر ہوتا ہے جو انسان سر انجام دیتا ہے اور ان کا تعلق انسان کے عقلی، مادی، روحانی، دینی اور دنیاوی تمام پہلوؤں کے ساتھ ہوتا ہے۔ یعنی تہذیب ایک طویل انسانی تاریخ سے عبارت ہے جو انسان مختلف زمانوں میں تخلیق کرتا رہتا ہے، اس کا تعلق کسی گروہ یا قوم کے ساتھ ہو سکتا ہے یا وہ اس گروہ یا قوم کی میراث ہوتی ہے جس کی بنا پر وہ قوم دیگر قوموں پر امتیازی حیثیت اختیار کر لیتی ہے۔ پس اس معنی و مفہوم کے اعتبار سے تہذیب ثقافت سے زیادہ عموم کی حامل ہے اس کا اطلاق روحانی اور فکری پہلو پر کیا جاتا ہے۔ جبکہ تہذیب معنوی و مادی دونوں پہلوؤں پر محیط ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس امر کا مشاہدہ کیا گیا ہے کہ تہذیب و تمدن کا گہوارہ قرار دیئے جانے والے شہروں میں سرگرمیاں نسبتاً زیادہ رہتی ہیں۔ یعنی تہذیب انسانی تقدم و تطور، سائنسی علوم، دینی علوم ادب اور علماء و محققین کی ان کاوشوں کا مظہر ہے جن کو وہ مختلف زمانوں میں سر انجام دیتے رہے ہیں۔ جہاں تک اسلامی تہذیب کا تعلق ہے اس نے بھی اپنے جملہ پہلوؤں کا احاطہ کیا ہے مگر یہ تعین صرف ایک مرتبہ وجود میں آیا ہے۔ اس تعین کے بعد قرآنِ حکیم کی روشنی میں اس کے خدوخال متعین کیے گئے ہیں جنہوں نے دورِ جاہلیت کے تمام نظریات کی نفی کر دی اور اسلامی معاشرہ کے افکار و نظریات کا منہاج متعین کیا جو ایجابی طریقہ کار کے مطابق مستقبل کی جانب پیش قدمی کرتا ہے اور یہی طریقہ کار ملت کے تشخص کے تحفظ و سلامتی کا ضامن ہے۔

Copyrights © 2019 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved