جمیع خلق پر حضور نبی اکرم ﷺ کی رحمت و شفقت

حضور ﷺ کی غلاموں، لونڈیوں اور خدام پر رحمت و شفقت

بَابٌ فِي رَحْمَتِه صلی الله عليه وآله وسلم وَمُـلَاطَفَتِه بِالْعَبِيْدِ وَالإِمَاءِ وَالْخُدَّامِ

{حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی غلاموں، لونڈیوں اور خدّام پر رحمت و شفقت}

112 /1. عَنْ أَبِي ذَرٍّرضی الله عنه قَالَ: قَالَ لِي النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم : إِخْوَانُکُمْ خَوَلُکُمْ جَعَلَهُمُ اﷲُ تَحْتَ أَيْدِيْکُمْ فَمَنْ کَانَ أَخُوْهُ تَحْتَ يَدِه فَلْيُطْعِمْهُ مِمَّا يَأْکُلُ وَلْيُلْبِسْهُ مِمَّا يَلْبَسُ وَلَا تُکَلِّفُوْهُمْ مَا يَغْلِبُهُمْ فَإِنْ کَلَّفْتُمُوْهُمْ فَأَعِيْنُوْهُمْ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

1: أخرجه البخاري في الصحيح،کتاب الإيمان، باب المعاصي من أمر الجاهلية، 1 /20، الرقم: 30، وأيضًا فيکتاب العتق، باب قول النبي صلی الله عليه وآله وسلم : العبيد إخوانکم فأطعموهم مما تأکلون، 2 /899، الرقم: 2407، ومسلم في الصحيح،کتاب الأيمان، باب إطعام المملوک مما يأکل وإلباسه مما يلبس ولا يکلفه ما يغلبه، 3 /1283، الرقم: 1661، والبزار في المسند، 9 /402، الرقم: 3996، وأبو عوانة في المسند، 4 /73، الرقم: 6072، والطحاوي في شرح معاني الآثار، 4 /356، والبيهقي في السنن الکبری، 8 /7، الرقم: 15555، وأيضًا في شعب الإيمان، 6 /371، الرقم: 8558، والمنذري في الترغيب والترهيب، 3 /149، الرقم: 3445.

’’حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے غلام بھی تمہارے بھائی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے تمہارے ماتحت کیا ہے، سو جو تم خود کھاتے ہو اُنہیں بھی وہی کھلاؤ اور جو خود پہنتے ہو اُنہیں بھی وہی پہنائو۔ اُنہیں اُن کی طاقت سے بڑھ کر کسی کام کا مکلف نہ ٹھہراؤ اور اگر ایسا کوئی کام اُن کے ذمہ لگاؤ تو اُس کام میں خود بھی اُن کی مدد کرو۔‘‘ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

113 /2. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَرضی الله عنه قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ: مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً أَعْتَقَ اﷲُ بِکُلِّ عُضْوٍ مِنْهُ عُضْوًا مِنَ النَّارِ حَتّٰی يُعْتِقَ فَرْجَه بِفَرْجِه. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ وَاللَّفْظُ لِمُسْلِمٍ.

2: أخرجه البخاري في الصحيح،کتاب العتق، باب ما جاء في العتق وفضله، 2 /891، الرقم: 2381، ومسلم في الصحيح،کتاب العتق، باب في فضل العتق، 2 /1147، الرقم: 1509، والترمذي في السنن،کتاب النذور والأيمان، باب ما جاء في ثواب من أعتق رقبة، 4 /114، الرقم: 1541، والنسائي في السنن الکبری، 3 /168، الرقم: 4874، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 /420، الرقم: 9431، وأبو عوانة في المسند، 3 /242، الرقم: 4823، وابن أبي شيبة في المصنف، 3 /118، الرقم: 12633، والبيهقي في السنن الکبری، 10 /272، الرقم: 21096.

’’حضرت ابوہریرہرضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سنا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی مسلمان غلام کو آزاد کرے گا اللہ تعالیٰ اُس غلام کے ہر عضو کے بدلہ میں اُس (آزاد کرنے والے شخص) کے ہر عضو کو جہنم کی آگ سے آزاد کر دے گا حتی کہ غلام کی شرمگاہ کے بدلہ میں اُس کی شرمگاہ کو آزاد کر دے گا (یعنی ایک ایک عضو کے بدلے میں اجر عطا ہو گا )۔‘‘ یہ حدیث متفق علیہ ہے مذکورہ الفاظ مسلم کے ہیں۔

114 /3. عَنْ أَبِي مُوْسَی الأَشْعَرِيِّرضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : ثَـلَاثَةٌ لَهُمْ أَجْرَانِ: رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْکِتَابِ أمَنَ بِنَبِيِّه وَأمَنَ بِمُحَمَّدٍ صلی الله عليه وآله وسلم ، وَالْعَبْدُ الْمَمْلُوْکُ إِذَا أَدَّی حَقَّ اﷲِ وَحَقَّ مَوَالِيْهِ، وَرَجُلٌ کَانَتْ عِنْدَه أَمَةٌ فَأَدَّبَهَا فَأَحْسَنَ تَأْدِيْبَهَا وَعَلَّمَهَا فَأَحْسَنَ تَعْلِيْمَهَا ثُمَّ أَعْتَقَهَا فَتَزَوَّجَهَا فَلَه أَجْرَانِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

3: أخرجه البخاري في الصحيح،کتاب العلم، باب تعليم الرجل أمته وأهله، 1 /48، الرقم: 97، وأيضًا في الأدب المفرد /80، الرقم: 203، ومسلم في الصحيح،کتاب الإيمان، باب وجوب الإيمان برسالة نبينا محمد صلی الله عليه وآله وسلم إلی جميع الناس ونسخ الملل بملته، 1 /134، الرقم: 154، والترمذي في السنن،کتاب النکاح، باب ما جاء في الفضل في ذلک، 3 /424، الرقم: 1116، والنسائي في السنن،کتاب النکاح، باب عتق الرجل جاريته ثم يتزوجها، 6 /115، الرقم: 3344، وابن ماجه في السنن،کتاب النکاح، باب الرجل يعتق أمته ثم يتزوجها، 1 /629، الرقم: 1956، وأحمد بن حنبل في المسند، 4 /395، 402، 414، وابن منده في الإيمان، 1 /504، الرقم: 395، وابن حبان في الصحيح، 9 /360، الرقم: 4053.

’’حضرت ابو موسیٰ اشعریرضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین آدمیوں کے لیے دو اجر ہیں: ایک وہ اہلِ کتاب جو اپنے نبی پر بھی ایمان لایا اور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بھی ایمان لایا۔ دوسرا وہ غلام جو اللہ تعالیٰ کا حق بھی بجا لائے اور اپنے آقا کے حقوق بھی پورے کرے۔ تیسرا وہ شخص جس کے پاس لونڈی ہو وہ اُسے بہترین ادب سکھائے اور اُسے بہترین تعلیم دے، پھر آزاد کر کے اُس سے نکاح کر لے تو اُس کے لئے بھی دوہرا اجر ہے۔‘‘ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

115 /4. عَنْ أَبِي الْيَسَرِرضی الله عنه عَنِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ:…أَطْعِمُوْهُمْ مِمَّا تَأْکُلُوْنَ، وَأَلْبِسُوْهُمْ مِمَّا تَلْبَسُوْنَ، وَکَانَ أَنْ أَعْطَيْتُه مِنْ مَتَاعِ الدُّنْيَا أَهْوَنَ عَلَيَّ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ مِنْ حَسَنَاتِي يَوْمَ الْقِيَامَة.

رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَالطَّحَاوِيُّ وَالْبُخَارِيُّ فِي الأَدَبِ.

4: أخرجه مسلم في الصحيح،کتاب الزهد، باب حديث جابر الطويل وقصة أبي اليسر، 4 /2303، الرقم: 3007، والبخاري في الأدب المفرد / 75، الرقم: 187، والطحاوي في شرح معاني الآثار، 4 /356، والطبراني في المعجم الکبير، 19 /169، الرقم: 379، والقضاعي في مسند الشهاب، 1 /283، الرقم: 462.

’’حضرت ابو الیسررضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے غلاموں کو وہی چیز کھلائو جو تم خود کھاتے ہو اور اُنہیں وہی کپڑا پہنائو جو تم خود پہنتے ہو۔ میں اُسے دنیا کا سامان دے دوں یہ میرے لیے اس سے زیادہ آسان ہے کہ وہ قیامت کے دن میری نیکیاں لے لے۔‘‘

اِس حدیث کو امام مسلم، طحاوی اور بخاری نے ’الادب المفرد‘ میں روایت کیا ہے۔

116 /5. عَنْ أَبِي مَسْعُوْدٍ الْبَدْرِيِّ رضی الله عنه قَالَ: کُنْتُ أَضْرِبُ غُـلَامًا لِي بِالسَّوْطِ فَسَمِعْتُ صَوْتًا مِنْ خَلْفِي: اعْلَمْ أَبَا مَسْعُوْدٍ، فَلَمْ أَفْهَمِ الصَّوْتَ مِنَ الْغَضَبِ، قَالَ: فَلَمَّا دَنَا مِنِّي إِذَا هُوَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم ، فَإِذَا هُوَ يَقُوْلُ: اعْلَمْ أَبَا مَسْعُوْدٍ، اعْلَمْ أَبَا مَسْعُوْدٍ، قَالَ: فَأَلْقَيْتُ السَّوْطَ مِنْ يَدِي، فَقَالَ: اعْلَمْ أَبَا مَسْعُوْدٍ، أَنَّ اﷲَ أَقْدَرُ عَلَيْکَ مِنْکَ عَلٰی هٰذَا الْغُـلَامِ، قَالَ: فَقُلْتُ: لَا أَضْرِبُ مَمْلُوْکًا بَعْدَه أَبَدًا.

رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ.

وفي رواية أبي داود: فَقُلْتُ: يَا رَسُوْلَ اﷲِ، هُوَ حُرٌّ لِوَجْهِ اﷲِ تَعَالٰی. قَالَ: أَمَا إِنَّکَ لَوْ لَمْ تَفْعَلْ لَلَفَحَتْکَ النَّارُ أَوْ لَمَسَّتْکَ النَّارُ.

5: أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب الأيمان، باب صحبة المماليک وکفارة من لطم عبده، 3 /1281، الرقم: 1659، والترمذي في السنن، کتاب البر والصلة، باب النهي عن ضرب الخدم وشتمهم، 4 /335، الرقم: 1948، وأبو داود في السنن،کتاب الأدب، باب في حق المملوک، 4 /340، الرقم: 5159، وعبد الرزاق في المصنف، 9 /439، 446، الرقم: 17933، 17959، والطبراني في المعجم الکبير، 17 /245، الرقم: 684، وعبد بن حميد في المسند، 1 /107، الرقم: 239، والمنذري في الترغيب والترهيب، 3 /147، الرقم: 3438، والبيهقي في شعب الإيمان، 6 /373، الرقم: 8569.

’’حضرت ابو مسعود بدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں اپنے ایک غلام کو چابک سے مار رہا تھا کہ اچانک میں نے اپنے پیچھے سے ایک آواز سنی، اے ابو مسعود! جان لو! میں غصے کی وجہ سے اُس آواز کو پہچان نہ سکا۔ جب وہ (آواز دینے والا) میرے قریب ہوا تو میں نے پہچانا کہ وہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے: اے ابو مسعود! جان لو، اے ابو مسعود! جان لو، حضرت ابو مسعودرضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنے ہاتھ سے چابک پھینک دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو مسعود! جان لو کہ جتنا تم اِس غلام پر قادر ہو اللہ تعالیٰ تم پر اُس سے زیادہ قادر ہے۔ حضرت ابو مسعودرضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: میں آئندہ کسی غلام کو کبھی بھی نہیں ماروں گا۔‘‘

اِس حدیث کو امام مسلم، ترمذی اور ابو داود نے روایت کیا ہے۔

ابو داود کی ایک روایت میں ہے: ’’(حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:) میں عرض گزار ہوا: یا رسول اﷲ! یہ اﷲ کی رضا کے لیے آزاد ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم ایسا نہ کرتے تو آگ تمہیں چمٹ جاتی یا فرمایا: آگ تم سے لپٹ جاتی۔‘‘

117 /6. عَنْ هِـلَالِ بْنِ يَسَافٍ قَالَ: عَجِلَ شَيْخٌ فَلَطَمَ خَادِمًا لَه، فَقَالَ لَه سُوَيْدُ بْنُ مُقَرِّنٍ: عَجَزَ عَلَيْکَ إِلَّا حُرُّ وَجْهِهَا، لَقَدْ رَأَيْتُنِي سَابِعَ سَبْعَةٍ مِنْ بَنِي مُقَرِّنٍ مَا لَنَا خَادِمٌ إِلَّا وَاحِدَةٌ، لَطَمَهَا أَصْغَرُنَا، فَأَمَرَنَا رَسُولُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم أَنْ نُعْتِقَهَا.

رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ.

6: أخرجه مسلم في الصحيح،کتاب الأيمان، باب صحبة المماليک وکفارة من لطم عبده، 3 /1279، الرقم: 1658، والترمذي في السنن،کتاب النذور والأيمان، باب ما جاء في الرجل يلطم خادمه، 4 /114، الرقم: 1542، وأبو داود في السنن،کتاب الأدب، باب في حق المملوک، 4 /342، الرقم: 5166، والنسائي في السنن الکبری، 3 /194، الرقم: 5013، وأحمد بن حنبل في المسند، 5 /444، الرقم: 23793، وابن أبي شيبة في المصنف، 3 /115، الرقم: 12614، والحاکم في المستدرک، 4 /409، الرقم: 8103، والطبراني في المعجم الکبير، 7 /86، الرقم: 6451.

’’حضرت ہلال بن یساف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے جلدی میں اپنے غلام کے منہ پر ایک تھپڑ مار دیا، حضرت سوید بن مقرن رضی اللہ عنہ نے اُن سے کہا تمہیں (تھپڑ مارنے کے لیے) اِس کے چہرے کے علاوہ اور کوئی جگہ نہیں ملی تھی؟ مجھے یاد ہے کہ میں بنو مقرن کا ساتواں بیٹا تھا، اور ہمارے پاس ایک غلام کے سوا اور کوئی خادم نہیں تھا، ہم میں سب سے چھوٹے نے اُس غلام کو تھپڑ مارا تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اُس غلام کو آزاد کرنے کا حکم دے دیا تھا۔‘‘

اِس حدیث کو امام مسلم، ترمذی، ابو داود اور نسائی نے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

118 /7. عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی الله عنه قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم إِذَا صَلَّی الْغَدَاةَ جَاءَ خَدَمُ الْمَدِيْنَةِ بِآنِيَتِهِمْ فِيْهَا الْمَاءُ فَمَا يُؤْتَی بِإِنَاءٍ إِلَّا غَمَسَ يَدَه فِيْهَا فَرُبَّمَا جَائُوْهُ فِي الْغَدَاةِ الْبَارِدَةِ فَيَغْمِسُ يَدَه فِيْهَا.

رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَأَحْمَدُ وَابْنُ حُمَيْدٍ.

7: أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب الفضائل، باب قرب النبي صلی الله عليه وآله وسلم من الناس وتبرکهم به، 4 /1812، الرقم: 2324، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 /137، الرقم: 12424، وعبد بن حميد في المسند، 1 /380، الرقم: 1274، والبيهقي في شعب الإيمان، 2 /154، الرقم: 1429.

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب صبح کی نماز سے فارغ ہوتے تو مدینہ منورہ کے خدام پانی سے بھرے اپنے اپنے برتن لے آتے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اُن برتنوں میں اپنا ہاتھ ڈبو دیتے، بسا اوقات وہ (سخت) سردیوں کی صبح پانی لے کر آتے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پھر بھی اُس میں اپنا ہاتھ (انہیں برکت عطا کرنے کے لئے) ڈبو دیتے۔‘‘ اِس حدیث کو امام مسلم، احمد اور ابن حمید نے روایت کیا ہے۔

119 /8. عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی الله عنه قَالَ: إِنْ کَانَتِ الْأَمَةُ مِنْ إِمَاءِ أَهْلِ الْمَدِيْنَةِ لَتَأْخُذُ بِيَدِ رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم فَتَنْطَلِقُ بِه حَيْثُ شَائَتْ.

رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَأَحْمَدُ.

8: أخرجه البخاري في الصحيح،کتاب الأدب، باب الکبر، 5 /2255، الرقم: 5724، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 /98، الرقم: 11960، وأبو نعيم في حلية الأولياء، 7 /202، والنووي في رياض الصالحين /171، الرقم: 171.

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مدینہ طیبہ کی لونڈیوں میں سے اگر کوئی لونڈی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہاتھ پکڑ کر (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے کسی مسئلہ کے حل کے لئے) کہیں لے جانا چاہتی تو لے جا سکتی تھی۔‘‘

اِس حدیث کو امام بخاری اور احمد نے روایت کیا ہے۔

120 /9. عَنْ رَبِيْعَةَ بْنِ کَعْبٍ الْأَسْلَمِيِّ رضی الله عنه قَالَ: کُنْتُ أَبِيْتُ مَعَ رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم فَأَتَيْتُه بِوَضُوْئِه وَحَاجَتِه فَقَالَ لِي: سَلْ. فَقُلْتُ: أَسْأَلُکَ مُرَافَقَتَکَ فِي الْجَنَّة. قَالَ: أَوْ غَيْرَ ذَالِکَ؟ قُلْتُ: هُوَ ذَاکَ. قَالَ: فَأَعِنِّي عَلٰی نَفْسِکَ بِکَثْرَةِ السُّجُوْدِ.

رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ.

9: أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب الصلاة، باب فضل السجود والحث عليه، 1 /353، الرقم: 489، وأبو داود في السنن، کتاب الصلاة، باب وقت قيام النبي صلی الله عليه وآله وسلم من الليل، 2 /35، الرقم: 1320، والنسائي في السنن، کتاب التطبيق، باب فضل السجود، 2 /227، الرقم: 1138، وأيضًا في السننن الکبری، 1 /242، الرقم: 724، والطبراني في المعجم الکبير، 5 /56، الرقم: 4570، وأبو عوانة في المسند، 1 /499، الرقم: 1861، والبيهقي في السنن الکبری، 2 /486، الرقم: 4344.

’’حضرت ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رات حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں گزارتا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وضو اور حاجت (وغیرہ) کے لیے پانی لاتا تھا۔ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: (اے ربیعہ) مانگو! میں نے عرض کیا: (یا رسول اللہ!) میں جنت میں آپ کی رفاقت مانگتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے علاوہ اور کچھ ؟ میں نے عرض کیا: مجھے یہی کافی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر کثرت سجود کے ذریعے اپنی ذات کے معاملے میں میری مدد کرو۔‘‘

اِس حدیث کو امام مسلم، ابو داود اور نسائی نے روایت کیا ہے۔

121 /10. عَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ عُمَرَ رضي اﷲ عنهما قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم فَقَالَ: يَا رَسُوْلَ اﷲِ، کَمْ أَعْفُوْ عَنِ الْخَادِمِ؟ فَصَمَتَ عَنْهُ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم ثُمَّ قَالَ: يَا رَسُوْلَ اﷲِ، کَمْ أَعْفُوْ عَنِ الْخَادِمِ؟ فَقَالَ: کُلَّ يَوْمٍ سَبْعِيْنَ مَرَّةً.

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وََأَحْمَدُ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ.

10: أخرجه الترمذي في السنن،کتاب البر والصلة، باب ما جاء في العفو عن الخادم، 4 /336، الرقم: 1949، وأبو داود في السنن،کتاب الأدب، باب في حق المملوک، 4 /341، الرقم: 5164، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 /111، الرقم: 5899، وأبو يعلی في المسند، 10 /133، الرقم: 5760، والمنذري في الترغيب والترهيب، 3 /151، الرقم: 3458.

’’حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص بارگاہِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں اپنے خادم کو کتنی بار معاف کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش رہے، اُس نے پھر عرض کیا: یا رسول اللہ! میں اپنے خادم کو کتنی بار معاف کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر روز ستر مرتبہ۔‘‘

اِس حدیث کو امام ترمذی، ابو داود اور احمد نے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث حسن ہے۔

122 /11. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَرضی الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ: عُرِضَ عَلَيَّ أَوَّلُ ثَـلَاثَةٍ يَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ شَهِيْدٌ وَعَفِيْفٌ مُتَعَفِّفٌ وَعَبْدٌ أَحْسَنَ عِبَادَةَ اﷲِ وَنَصَحَ لِمَوَالِيْهِ.

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَحْمَدُ وَابْنُ خُزَيْمَةَ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ.

11: أخرجه الترمذي في السنن،کتاب فضائل الجهاد، باب ما جاء في ثواب الشهداء، 4 /1767، الرقم: 1642، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 /425، الرقم: 9488، وابن خزيمة في الصحيح، 4 /8، الرقم: 2249، وابن أبي شيبة في المصنف، 7 /268، الرقم: 35969، وابن حبان في الصحيح، 10 /151، الرقم: 4312، والطيالسي في المسند، 1 /334، الرقم: 9567.

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے سامنے سب سے پہلے جنت میں داخل ہونے والے تین شخص پیش کیے گئے، شہید، پاک دامن اور حرام و شبہات سے بچنے والا شخص اور وہ غلام جو اللہ تعالیٰ کی عبادت بھی اچھی طرح کرتا ہے اور اپنے مالکوں کی خیر خواہی بھی۔‘‘

اِس حدیث کو امام ترمذی، احمد اور ابن خزیمہ نے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث حسن ہے۔

123 /12. عَنْ سَلَّامِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم : أَرِقَّاؤُکُمْ إِخْوَانُکُمْ، فَأَحْسِنُوْا إِلَيْهِمْ، (وفي رواية: أَوْ فَأَصْلِحُوْا إِلَيْهِمْ) وَاسْتَعِيْنُوْهُمْ عَلٰی مَا غَلَبَکُمْ، وَأَعِيْنُوْهُمْ عَلٰی مَا غُلِبُوْا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الأَدَبِِ وَأَحْمَدُ وَأَبُوْ يَعْلٰی.

12: أخرجه البخاري في الأدب المفرد /76، الرقم: 190، وأحمد بن حنبل في المسند، 5 /58، 371، الرقم: 20600، 23196، وأبو يعلی في المسند، 2 /221، الرقم: 920.

’’حضرت سلام بن عمرو، صحابی رسول رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں اُنہوں نے بیان کیا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے غلام تمہارے بھائی ہیں۔ اُن کے ساتھ حسن سلوک کیا کرو۔ اور ایک روایت میں ہے: جو کام تمہارے لئے مشکل ہوں اُس میں اُن کی مدد لو اور جو کام اُن کے لئے مشکل ہوں اُن (کاموں) میں اُن کی مدد کیا کرو۔‘‘

اِس حدیث کو امام بخاری نے ’الادب المفرد‘ میں، اور احمد و ابو یعلی نے روایت کیا ہے۔

124 /13. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَرضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : اَلْمَمْلُوْکُ أَخُوْکَ فَإِذَا صَنَعَ لَکَ طَعَامًا فَأَجْلِسْهُ مَعَکَ فَإِنْ أَبَی فَأَطْعِمْهُ وَلَا تَضْرِبُوْا وُجُوْهَهُمْ.

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّيَالِسِيُّ وَاللَّفْظُ لَه وَالْبَيْهَقِيُّ بِإِسْنَادٍ حَسَنٍ.

13: أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 2 /505، الرقم: 10574، والطيالسي في المسند، 1 /312، الرقم: 2369، والبيهقي في شعب الإيمان، 6 /373، الرقم: 8567.

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: غلام بھی تمہارا بھائی ہے، جب وہ تمہارے لئے کھانا تیار کرے تو (کھانے میں) اُسے بھی اپنے ساتھ شریک کرو اگر وہ کھانے سے انکار کرے تو پھر بھی اُسے کھلاؤ اور(اگر ان سے کوئی خطا بھی ہو جائے تو) اُن کے چہروں پر نہ مارو۔‘‘

اِس حدیث کو امام احمد، طیالسی نے مذکورہ الفاظ کے ساتھ اور بیہقی نے اسنادِ حسن کے ساتھ روایت کیا ہے۔

125 /14. عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ رضي اﷲ عنهما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : مَا مِنْ رَجُلٍ يَضْرِبُ عَبْدًا لَه إِلَّا أُقِيْدَ مِنْه يَوْمَ الْقِيَامَة.

رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَأَبُوْ نُعَيْمٍ. وَقَالَ الْمُنْذِرِيُّ: رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرُوَاتُه ثِقَاتٌ، وَقَالَ الْهَيْثَمِيُّ: رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُه ثِقَاتٌ.

14: أخرجه البزار في المسند، 4 /237، الرقم: 1399، وأبو نعيم في حلية الأولياء، 4 /378، والمنذري في الترغيب والترهيب، 3 /148، الرقم: 3441، والهيثمي في مجمع الزوائد، 10 /353.

’’حضرت عمار بن یاسر رضی اﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے بھی اپنے غلام کو (بلا جواز) مارا تو روزِ قیامت اُس سے اِس کا حساب لیا جائے گا۔‘‘

اِس حدیث کو امام بزار اور ابو نعیم نے روایت کیا ہے۔ امام منذری نے فرمایا: اِس حدیث کو امام طبرانی نے روایت کیا ہے اور اِس کے راوی ثقہ ہیں اور امام ہیثمی نے بھی فرمایا: اِس حدیث کو امام بزار نے روایت کیا ہے اور اِس کے رجال ثقہ ہیں۔

126 /15. عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ رضی الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ: مَا خَفَّفْتَ عَنْ خَادِمِکَ مِنْ عَمَلِه کَانَ لَکَ أَجْرًا فِي مَوَازِيْنِکَ.

رَوَاهُ ابْنُ حِبَّانَ وَأَبُوْ يَعْلٰی وَابْنُ حُمَيْدٍ.

15: أخرجه ابن حبان في الصحيح،کتاب العتق، باب صحبة المماليک، 10 /153، الرقم: 4314، وأبو يعلی في المسند، 3 /50، الرقم: 1472، وعبد بن حميد في المسند، 1 /119، الرقم: 284، والبيهقي في شعب الإيمان، 6 /378، الرقم: 8589، والهيثمي في موارد الظمآن، 1 /293، الرقم: 1204.

’’حضرت عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے خادم کی ذمہ داریوں میں جتنی تخفیف کرو گے، اُس کے بدلہ میں اتنا ہی تمہارے نامہ اعمال کے پلڑے میں اُس کا اجر ہو گا۔‘‘

اِس حدیث کو امام ابن حبان، ابو یعلی اور ابن حمید نے روایت کیا ہے۔

Copyrights © 2019 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved