انبیاء و رسل علیہم السلام کے فضائل و مناقب

حصہ دوم

2. فَصْلٌ فِي مَنَاقِبِ أَبِي الْبَشَرِ آدَمَ عليه السلام

{ابوالبشر حضرت آدم علیہ السلام کے مناقب کا بیان}

59/ 1. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه واله وسلم : خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ فِيْهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ فِيْهِ خُلِقَ آدَمُ، وَفِيْهِ أَهْبِطَ، وَفِيْهِ تِيْبَ عَلَيْهِ وَفِيْهِ قُبِضَ، وَفِيْهِ تَقُوْمُ السَّاعَةُ الحديث.

رَوَاهُ النِّسَائِيُّ وَالْحَاکِمُ.

وَقَالَ الْحَاکِمُ: هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ.

الحديث رقم 59: أَخرجه النسائي في السنن، کتاب: الجمعة، باب: ذکر الساعة التی يستجاب فيها الدعاء يوم الجمعة، 3/ 113. 114، الرقم: 1430، والحاکم في المستدرک، 2/ 593، الرقم: 3999، والطبري في تاريخ الأَمم والملوک، 1/ 75.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: بہترین دن جس میں سورج طلوع ہوا جمعہ کا دن ہے۔ اسی دن حضرت آدم علیہ السلام پیدا ہوئے اور اسی دن آپ کو زمین پر اتارا گیا، اور اسی دن آپ کی توبہ قبول ہوئی، اور اسی دن آپ کی روح قبض کی گئی اور اسی دن قیامت ہو گی۔‘‘

اس حدیث کو امام نسائی اور حاکم نے روایت کیا ہے اور امام حاکم نے فرمایا کہ یہ حدیث صحیح ہے۔

60/ 2. عَنْ أَبِي لُبَابَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُنْذِرِ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صلی الله عليه واله وسلم : إِنَّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ سَيِّدُ الْأَيَامِ، وَأَعْظَمُهَا عِنْدَ اﷲِ وَهُوَ أَعْظَمُ عِنْدَ اﷲِ مِنْ يَومِ الْأَضْحَی، وَيَومِ الْفِطْرِ، فِيْهِ خَمْسُ خِلَالٍ: خَلَقَ اﷲُ فِيْهِ آدَمَ إِلَی الْأَرْضِ، وَفِيْهِ تَوَفَّی اﷲُ آدَمَ، وَفِيْهِ سَاعَةٌ لَا يَسْأَلُ اﷲَ فِيْهَا الْعَبْدُ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ مَا لَمْ يَسْأَلْ حَرَامًا، وَفِيْهِ تَقُومُ السَّاعَةُ مَا مِنْ مَلَکٍ مُقَرَّبٍ وَلَا سَمَاءٍ وَلَا أَرْضٍ وَلَا رِيَاحٍ وَلَا جِبَالٍ وَلَا بَحْرٍ إِلَّا وَهُنَّ يُشْفِقْنَ مِنْ يَومِ الْجُمُعَةِ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَةَ وَالشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَالْبُخَارِيُّ فِي الْکَبِيْرِ.

الحديث رقم 60: أَخرجه ابن ماجة في السنن، کتاب: إقامة الصلاة والسنة فيها، باب: في فضل الجمعة، 1/ 344، الرقم: 1084، والشافعي في المسند، 1/ 71، وأَحمد بن حنبل في المسند، 3/ 430، 5/ 284، الرقم: 22510، وابن أَبي شيبة في المصنف، 1/ 477، الرقم: 5516، والبزار عن سعد بن عبادة رضی الله عنه في المسند، 9/ 191، الرقم: 3738، وعبد بن حميد في المسند، 1/ 127، الرقم: 309، والطبراني في المعجم الکبير، 5/ 33، الرقم: 4511، 6/ 19، الرقم: 5376، والبخاري في التاريخ الکبير، 4/ 44، الرقم: 1911، وأَبو نعيم في حلية الأَولياء، 1/ 366، والبيهقي في شعب اليمان، 3/ 91، الرقم: 2973. 2974.

’’حضرت ابولبابہ بن عبد المنذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: بے شک جمعہ کا دن تمام دنوں کا سردار ہے اور باقی دنوں سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے ہاں عظمت والا ہے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی عظمت عیدالاضحی اور عیدالفطر سے بھی بڑھ کر ہے (کیونکہ) اس دن میں پانچ خصلتیں پائی جاتی ہیں: اس دن اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا اور اسی دن انہیں وفات دی اور اس دن میں ایک ساعت ایسی ہوتی ہے جس میں بندہ اللہ تعالیٰ سے جو بھی سوال کرے وہ اسے عطا فرماتا ہے جب تک کہ وہ کسی حرام چیز کا سوال نہیں کرتا، اور اسی دن قیامت بپا ہو گی۔ کوئی مقرب فرشتہ، آسمان، زمین، ہوا، پہاڑ اور سمندر ایسا نہیں جو جمعہ کے دن سے نہ ڈرتا ہو (کیونکہ اس دن قیامت بپا ہو گی)۔‘‘

اس حدیث کو امام ابن ماجہ، شافعی، احمد اور بخاری نے ’’التاریخ الکبیر‘‘ میں بیان کیا ہے۔

61/ 3. عَنْ أَبِي مُوْسَی رضی الله عنه رَفَعَهُ قَالَ: إِنَّ اﷲَ لَمَّا أَخْرَجَ آدَمَ مِنَ الْجَنَّةِ زَوَّدَهُ مِنْ ثِمَارِ الْجَنَّةِ وَعَلَّمَهُ صَنْعَةَ کُلِّ شَيئٍ فَثِمَارُکُمْ هَذِهِ مِنْ ثِمَارِ الْجَنَّةِ غَيْرَ أَنَّ هَذِهِ تَغَيَرُ وَتِلْکَ لَا تَغَيَرُ.

رَوَاهُ الْحَاکِمُ وَالطَّبَرِيُّ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ کَمَا قَالَ الْهَيْثَمِيُّ.

وَقَالَ الْحَاکِمُ: صَحِيْحُ الإِْسْنَادِ.

الحديث رقم: أَخرجه الحاکم في المستدرک، 2/ 592، الرقم: 3996، والطبري في جامع البيان، 1/ 175، وفي تاريخ الأَمم والملوک، 1/ 82، والهيثمي في مجمع الزوائد، 8/ 197، وقال: رواه البزار والطبراني، ورجاله ثقات، وفي کشف الأَستار، الرقم: 2344.

’’حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو جنت سے نکالا تو انہیں جنت کے پھل عطا فرمائے اور ہر چیز کی کاریگری سکھائی (اور فرمایا:) تمہارے یہ (دنیاوی) پھل جنت کے پھلوں میں سے ہیں سوائے یہ کہ یہ (دنیاوی) پھل (ذائقہ میں) بدلتے رہتے ہیں لیکن جنت کے پھل (ذائقہ میں) تبدیل نہیں ہوتے۔‘‘

اس حدیث کو امام حاکم، طبری، بزار اور طبرانی نے روایت کیا ہے جیسا کہ امام ہیثمی نے فرمایا کہ اس حدیث کے رجال ثقہ ہیں اور امام حاکم نے فرمایا کہ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔

62/ 4. عَنْ أَبِي أَمَامَةَ رضی الله عنه: أَنَّ رَجُـلًا قَالَ: يَا رَسُوْلَ اﷲِ، أَنَبِيُّ کَانَ آدَمُ؟ قَالَ: نَعَمْ مُعَلَّمٌ مُکَلَّمٌ قَالَ: کَمْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ نُوْحٍ؟ قَالَ: عَشْرُ قُرُوْنٍ. قَالَ: کَمْ بَيْنَ نُوْحٍ وَإِبْرَاهِيْمَ؟ قَالَ: عَشْرُ قُرُوْنٍ. قَالُوْا: يَا رَسُوْلَ اﷲِ، کَمْ کَانَتِ الرُّسُلُ؟ قَالَ: ثَـلَاثُ مِائَةٍ وَخَمْسَ عَشْرَةَ جَمًّا غَفِيْرً.

رَوَاهُ الْحَاکِمُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيْحِ.

وَقَالَ الْحَاکِمُ: هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ.

الحديث رقم: أَخرجه الحاکم في المستدرک، 2/ 288، الرقم: 3039، والطبراني في المعجم الأَوسط، 1/ 128، الرقم: 403، وفي المعجم الکبير، 8/ 118، الرقم: 7545، والهيثمي في مجمع الزوائد، 1/ 196، 8/ 210، وقال رواه الطبراني، ورجاله رجال الصحيح، غير أَحمد بن خليد الحلبي وهو ثقة.

’’حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اﷲ، کیا حضرت آدمں نبی تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: ہاں اور انہیں (اللہ تعالیٰ کی طرف سے) سکھایا گیا اور اللہ تعالیٰ نے ان سے کلام فرمایا۔ اس شخص نے عرض کیا: حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت نوح علیہ السلام کے درمیان کتنا عرصہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: دس صدیاں۔ اس شخص نے عرض کیا: حضرت نوح علیہ السلام اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے درمیان کتنا عرصہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: دس صدیاں۔ صحا بہ کرام نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کل کتنے رسلِ عظام تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: تین سو پندرہ کا ایک جمِ غفیر تھا۔‘‘

اس حدیث کو امام حاکم اور طبرانی نے روایت کیا اور اس کے رجال صحیح حدیث کے روایوں میں سے ہیں، اور امام حاکم نے فرمایا: یہ حدیث صحیح ہے۔

63/ 5. عَنْ بُرَيْدَةَ رضی الله عنه يَرْفَعُهُ قَالَ: لَوْ کَانَ بُکَاءُ دَاوُدَ عليه السلام وَبُکَاءُ جَمِيْعِ أَهْلِ الْأَرْضِ جَمِيْعًا يُعْدَلُ بِبُکَاءِ آدَمَ عليه السلام مَا عَدَلَهُ.

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ وَأَبُوْ نُعَيْمٍ.

الحديث رقم: أَخرجه الطبراني في المعجم الأَوسط، 1/ 51، الرقم: 143، وأَبو نعيم في حلية الأَولياء، 7/ 257، والهيثمي في مجمع الزوائد، 8/ 198، وقال: رواه الطبراني ورجاله ثقات، والمناوي في فيض القدير، 5/ 308.

’’حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ مرفوعا روایت کرتے ہیں کہ اگر حضرت دائود علیہ السلام اور تمام اہلِ زمین کے رونے کا موازنہ حضرت آدم علیہ السلام کے رونے کے ساتھ کیا جائے تو ان سب کا رونا حضرت آدم علیہ السلام کے رونے کے برابر نہیں ہو سکتا۔‘‘

اس حدیث کو امام طبرانی نے روایت کیا ہے اور آپ کی سند کے رجال ثقہ ہیں اور اسے امام ابو نعیم نے بھی روایت کیا ہے۔

64/ 6. عَنْ أَبَيِّ بْنِ کَعْبٍ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه واله وسلم : إِنَّ آدَمَ غَسَلَتْهُ الْمَـلَائِکَةُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَکَفَّنُوْهُ وَأَلْحَدُوْا لَهُ وَدَفَنُوْهُ، وَقَالُوْا: هَذِهِ سُنَّتُکُمْ يَا بَنِي آدَمَ فِي مَوْتَاکُمْ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ.

وفي روية عنه: قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ آدَمُ غَسَلَتْهُ الْمَلَائِکَةُ بِالْمَاءِ وِتْرًا وَلَحَّدَتْ لَهُ، وَقَالَتْ: هَذِهِ سُنَّةُ آدَمَ وَوَلَدِهِ.

الحديث رقم: أَخرجه الطبراني في المعجم الأَوسط، 9/ 105، الرقم: 9259، والهيثمي في مجمع الزوائد، 8/ 199.

’’حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: بے شک حضرت آدم علیہ السلام کو فرشتوں نے پانی اور بیری کے پتوں کے ساتھ غسل دیا اور انہیں کفن پہنایا اور (قبر میں) ان کے لئے لحد تیار کی اور (پھر) انہیں دفن کر دیا اور فرشتوں نے یہ کہا: اے اولادِ آدم! یہ تمہارے مُردوں (کی تدفین میں) میں تمہاری سنت ہو گی۔‘‘

اس حدیث کو امام طبرانی نے دو سندوں کے ساتھ روایت کیا ہے۔

اور ایک روایت میں آپ ہی سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: ’’جب حضرت آدم علیہ السلام وصال فرما گئے تو فرشتوں نے انہیں طاق بار غسل دیا اور ان کے لئے لحد تیار کی اور کہا کہ یہ حضرت آدم علیہ السلام اور ان کی اولاد کی سنت ہے۔‘‘

3. فَصْلٌ فِي مَنَاقِبِ إِدْرِيْسَ عليه السلام

{حضرت ادریس علیہ السلام کے مناقب کا بیان}

65/ 1. عَنْ أَمِّ سَلَمَةَ رضي اﷲ عنها: أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه واله وسلم قَالَ: إِنَّ إِدْرِيْسَ عليه السلام کَانَ صَدِيْقًا لِمَلَکِ الْمَوْتِ، فَسَأَلَهُ أَنْ يُرِيَهُ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ، فَصَعِدَ بِإِدْرِيْسَ، فَأَرَاهُ النَّارَ، فَفَزِعَ مِنْهَا وَکَادَ يُغْشَی عَلَيْهِ، فَالْتَفَّ عَلَيْهِ مَلَکُ الْمَوْتِ بِجَنَاحِهِ، فَقَالَ مَلَکُ الْمَوْتِ: أَلَيْسَ قَدْ رَأَيْتَهَا؟ قَالَ: بَلَی، وَلَمْ أَرَ کَالْيَوْمِ قَطُّ، ثُمَّ انْطَلَقَ بِهِ حَتَّی أَرَاهُ الْجَنَّةَ فَدَخَلَهَا، فَقَالَ مَلَکُ الْمَوْتِ: انْطَلِقْ فَقَدْ رَأَيْتَهَا، قَالَ: إِلَی أَيْنَ؟ قَالَ مَلَکُ الْمَوْتِ: حَيْثُ کُنْتَ، قَالَ إِدْرِيْسُ: لَا، وَاﷲِ لَا أَخْرُجُ مِنْهَا بَعْدَ أَنْ دَخَلْتُهَا، فَقِيْلَ لِمَلَکِ الْمَوْتِ: أَلَيْسَ أَنْتَ أَدْخَلْتَهُ إِيَاهَا؟ وَإِنَّهُ لَيْسَ لِأَحَدٍ دَخَلَهَا أَنْ يَخْرُجَ مِنْهَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالدَّيْلَمِيُّ.

الحديث رقم: أَخرجه الطبراني في المعجم الأَوسط، 7/ 201، الرقم: 7269، والديلمي في مسند الفردوس، 1/ 224، الرقم: 862، والهيثمي في مجمع الزوائد، 8/ 200.

’’حضرت اُمِ سلمہ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: بے شک حضرت ادریس علیہ السلام ملک الموت (حضرت عزرائیل علیہ السلام ) کے دوست تھے، پس انہوں نے عزرائیل علیہ السلام سے کہا کہ وہ انہیں جنت اور دوزخ کی سیر کرائیں، سو ملک الموت حضرت ادریس علیہ السلام کو لے کر بلند ہوئے اور انہیں دوزخ دکھائی، وہ اس سے خوفزدہ ہو گئے اور قریب تھا کہ وہ بے ہوش ہو جاتے، کہ ملک الموت نے انہیں اپنے پروں کی لپیٹ میں لے لیا۔ ملک الموت نے کہا: کیا آپ نے اسے دیکھا نہیں ہے؟ انہوں نے فرمایا: کیوں نہیں، میں نے کبھی آج کے (خوفناک) دن جیسا دن نہیں دیکھا۔ پھر وہ انہیں لے کر چلا یہاں تک کہ اس نے حضرت ادریس علیہ السلام کو جنت دکھائی، وہ اس میں داخل ہو گئے، پھر ملک الموت نے کہا: اب آگے چلیں؟ آپ نے اِسے دیکھ لیا ہے۔ انہوں نے فرمایا: کہاں جانا ہے؟ ملک الموت نے کہا: جہاں آپ تھے۔ (یعنی واپس دنیا میں) حضرت ادریس علیہ السلام نے کہا: نہیں، خدا کی قسم، میں اس میں داخل ہونے کے بعد اس سے کبھی نہیں نکلوں گا، تو ملک الموت سے (اللہ تعالیٰ کی طرف سے) کہا گیا: کیا تو نے انہیں اس جنت میں داخل نہیں کیا؟ اور یہ ایسی چیز ہے کہ جو اس میں ایک بار داخل ہو جاتا ہے پھر وہ وہاں سے نہیں نکلتا۔‘‘‘

اس حدیث کو امام طبرانی اور دیلمی نے روایت کیا ہے۔

4. فَصْلٌ فِي مَنَاقِبِ نُوْحٍ عليه السلام

{حضرت نوح علیہ السلام کے مناقب کا بیان}

66/ 1. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَنَسٍ رضي اﷲ عنهما، عَنِ النَّبِيِّ صلی الله عليه واله وسلم في حديث الشفاعة: قَالَ: فَيَأَتُوْنَ نُوْحًا فَيَقُولُوْنَ: يَا نُوْحُ، إِنَّکَ أَنْتَ أَوَّلُ الرُّسُلِ إِلَی أَهْلِ الْأَرْضِ. وَقَدْ سَمَّاکَ اﷲُ عَبْدًا شَکُوْرً. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

الحديث رقم: أَخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: تفسير القرآن، باب: ذرية من حملنا مع نوح إنه کان عبدا شکورا، 4/ 1745. 1746، الرقم: 4435، ومسلم في الصحيح، کتاب: اليمان، باب: أَدنی أَهل الجنة منزلة فيها، 1/ 184. 185، الرقم: 194، والترمذي في السنن، کتاب: صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول اﷲ صلی الله عليه واله وسلم، باب: ماجاء في الشفاعة، 4/ 622، الرقم: 2434، وقال: هذا حديث حسن صحيح، والنسائي في السنن الکبری، 6/ 378، الرقم: 11286، وابن أَبي شيبة في المصنف، 6/ 308، الرقم: 31675، وابن أَبي عاصم في السنة، 2/ 380، الرقم: 811، والهناد في الزهد، 1/ 140، الرقم: 183، وأَبو عوانة في المسند، 1/ 147، الرقم: 437، والمنذري في الترغيب والترهيب، 4/ 239، الرقم: 5510.

’’حضرت ابوہریرہ اور حضرت انس رضی اﷲ عنہما، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے مروی حدیث شفاعت میں بیان کرتے ہیں کہ تمام لوگ (روزِ قیامت) حضرت نوح علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور عرض کریں گے: اے نوح! بیشک آپ اہلِ زمین کی طرف سب سے پہلے رسول ہیں اور تحقیق اللہ تعالیٰ نے آپ کو عبدًا شکورًا (شکرگزار بندے) کا لقب عطا کیا۔‘‘‘

یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

67/ 2. عَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ عَمْرٍو رضي اﷲ عنهما يَقُوْلُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اﷲِ صلی الله عليه واله وسلم يَقُولُ: صَامَ نُوْحٌ الدَّهْرَ إِلَّا يَوْمَ الْفِطْرِ وَيَوْمَ الْأَضْحَی.

رَوَاهُ ابْنُ مَاجَةَ.

وفي روية عنه: يَقُوْلُ: صَامَ نُوْحٌ الدَّهْرَ إِلَّا يَومَ الْفِطْرِ وَالْأَضْحَی، وَصَامَ دَاوُدُ نِصْفَ الدَّهْرِ وَصَامَ إِبْرَاهِيْمُ ثَـلَاثَةَ أَيَامٍ مِنْ کُلِّ شَهْرٍ، صَامَ الدَّهْرَ وَأَفْطَرَ الدَّهْرَ. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ وَالطَّبَرَانِيُّ.

الحديث رقم: أَخرجه ابن ماجة في السنن، کتاب: الصيام، باب: ماجاء في صيام نوح عليه السلام، 1/ 547، الرقم: 1714، والبيهقي في شعب اليمان، 3/ 388، الرقم: 3846، والديلمي في مسند الفردوس، 2/ 397، الرقم: 3760، والمنذري في الترغيب والترهيب، 2/ 75، الرقم: 1554، وقال: رواه الطبراني في الکبير، وابن کثير في قصص الأَنبياء، 1/ 92، وقال: رواه الطبراني، والهيثمي في مجمع الزوائد، 3/ 195، وقال: رواه الطبراني في الکبير، والمزي في تهذيب الکمال، 32/ 121.

’’حضرت عبداﷲ بن عمرو رضی اﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ حضرت نوح علیہ السلام نے عید الفطر اور عید قربان کے دنوں کے علاوہ باقی تمام عمر روزہ رکھا۔‘‘

اس حدیث کو امام ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔

اور ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: حضرت نوح علیہ السلام نے تمام عمر روزہ رکھا سوائے عید الفطر اور عید قربان کے دن کے اور حضرت داود علیہ السلام نے آدھی عمر کا روزہ رکھا (یعنی ایک دن روزہ رکھا اور ایک دن افطار کیا) اور حضرت ابراہیم علیہ السلام ہر مہینہ میں تین دن روزہ رکھتے۔ ایک زمانہ آپ نے روزہ رکھا اور ایک زمانہ افطار کیا۔‘‘

اس حدیث کو امام بیہقی اور طبرانی نے روایت کیا ہے۔

68/ 3. عَنْ عَلِيٍّ رضی الله عنه قَالَ: جَمَعَ رَبُّنَا لِنُوْحٍ عِلْمَ کُلِّهِمْ وَأَيَدَهُ بِرُوْحٍ مِنْهُ فَدَعَا قَوْمَهُ سِرًّا وَعَلَانِيَةً تِسْعَ مِائَةٍ وَخَمْسِيْنَ سَنَةً کُلَّهَا مَضَی قَرْنٌ أَتْبَعَهُ قَرْنٌ فَزَادَهُمْ کُفْرًا وَطُغْيَانً. رَوَاهُ الْحَاکِمُ.

وَقَالَ الْحَاکِمُ: هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الإِْسْنَادِ.

الحديث رقم: أَخرجه الحاکم في المستدرک، 2/ 597، الرقم: 4011، وابن حيان في العظمة، 5/ 1605.

’’حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہمارے رب نے حضرت نوح علیہ السلام کے لئے سابقہ تمام لوگوں کا علم جمع فرما دیا اور انہیں اپنی مدد و نصرت سے نوازا، پس انہوں نے اپنی قوم کو مخفی اور اعلانیہ طور پر ساڑھے نو سو سال تک دعوتِ حق دی۔ پس ساڑھے نو سو سالوں میں ایک کے بعد دوسری صدی گزرتی گئی لیکن ان کی قوم کے لوگ (بجائے دعوتِ حق کو قبول کرنے کے) کفر اور سرکشی میں بڑھتے گئے۔‘‘

اس حدیث کو امام حاکم نے روایت کیا ہے نیز امام حاکم نے فرمایا کہ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔

5. فَصْلٌ فِي مَنَاقِبِ هُوْدٍ عليه السلام

{حضرت ھود علیہ السلام کے مناقب کا بیان}

69/ 1. عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ سَابِطٍ قَالَ: إِنَّهُ لَمْ تُهْلَکْ أُمَّةٌ إِلَّا لِحَقِّ نَبِيِّهَا بِمَکَّةَ فَيَعْبُدُ فِيْهَا حَتَّی يَمُوْتَ وَأَنَّ قَبْرَ هُوْدٍ عليه السلام بَيْنَ الْحَجَرِ وَزَمْزَمَ. رَوَاهُ الْحَاکِمُ.

الحديث رقم: أَخرجه الحاکم في المستدرک، 2/ 615، الرقم: 4061.

’’حضرت عبدالرحمن بن سابط بیان کرتے ہیں کہ جو بھی قوم ہلاک کی جاتی ہے وہ مکہ میں اپنے نبی کے حق (میں کوتاہی) کی خاطر ہلاک کی جاتی ہے۔ پس وہ نبی اس (مکہ) میں عبادت کرتا ہے تاآنکہ اس کے وصال کی گھڑی آن پہنچے اور بے شک حضرت ہود علیہ السلام کی قبر مبارک حجر اسود اور چشمہ زمزم کے درمیان ہے۔‘‘

اس حدیث کو امام حاکم نے روایت کیا ہے۔

70/ 2. عَنْ کَعْبٍ رضی الله عنه قَالَ: کَانَ نَبِيُّ اﷲِ هُوْدٌ عليه السلام أَشْبَهَ النَّاسِ بِآدَمَ عليه السلام . رَوَاهُ الْحَاکِمُ.

الحديث رقم: أَخرجه الحاکم في المستدرک، 2/ 616، الرقم: 4064.

’’حضرت کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ کے نبی حضرت ہود علیہ السلام تمام لوگوں سے بڑھ کر حضرت آدم علیہ السلام کے مشابہ تھے۔‘‘

اس حدیث کو امام حاکم نے روایت کیا ہے۔

71/ 3. عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رضی الله عنه يَقُوْلُ لِرَجُلٍ مِنْ حَضْرَمَوْتَ: هَلْ رَأَيْتَ کَثِيْبًا أَحْمَرَ يُخَالِطُهُ مَدْرَةٌ حَمْرَاءُ وَسِدْرٌ کَثِيْرٌ بِنَاحِيَةِ کَذَا وَکَذَا؟ قَالَ: وَاﷲِ، يَا أَمِيْرَ الْمُؤْمِنِيْنَ، إِنَّکَ لَتَنْعَتُهُ نَعْتَ رَجُلٍ قَدْ رَآهُ. قَالَ: لَا، وَلَکِنْ حَدَّثْتُ عَنْهُ. قَالَ الْحَضْرَمِيُّ: وَمَا شَأْنُهُ يَا أَمِيْرَ الْمُؤْمِنِيْنَ؟ قَالَ: فِيْهِ قَبْرُ هُوْدٍ عليه السلام .

رَوَاهُ الْحَاکِمُ وَالطَّبَرِيُّ.

الحديث رقم: أَخرجه الحاکم في المستدرک، 2/ 615، الرقم: 4062، والطبري في جامع البيان، 8/ 217، وابن کثير في تفسير القرآن العظيم، 2/ 225.

’’حضرت ابوطفیل عامر بن واثلہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو حضرموت کے ایک آدمی سے کہتے ہوئے سنا کہ کیا تو نے سرخ رنگ کا ٹیلہ دیکھا ہے جس میں سرخ مٹی کے ڈھیلے اور بہت زیادہ بیری کے درخت ہوں اور یہ فلاں فلاں جگہ پر ہے؟ اس آدمی نے کہا: اﷲ کی قسم، اے امیرالمومنین! بے شک آپ اس ٹیلے کی نشانیاں اس شخص کی طرح بیان کر رہے ہیں جس نے اسے دیکھا ہو۔ آپ نے فرمایا: بلکہ میں تو فقط اس کے بارے میں بات کر رہا ہوں۔ وہ حضرمی شخص بیان کرتا ہے: اے امیرالمومنین! اس جگہ کا کیا معاملہ ہے؟ آپ نے فرمایا: اس میں حضرت ہود علیہ السلام کی قبر ہے۔‘‘

اس حدیث کو امام حاکم اور طبری نے روایت کیا ہے۔

6. فَصْلٌ فِي مَنَاقِبِ إِبْرَاهِيْمَ خَلِيْلِ اﷲِ عليه السلام

{حضرت اِبراہیم خلیل اﷲ علیہ السلام کے مناقب کا بیان}

72/ 1. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي اﷲ عنهما قَالَ: خَطَبَ رَسُولُ اﷲِ صلی الله عليه واله وسلم فَقَالَ: يَأَيُهَا النَّاسُ إِنَّکُمْ مَحْشُوْرُوْنَ إِلَی اﷲِ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا ثُمَّ قَالَ: {کَمَا بَدَأَنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيْدُهُ وَعْدًا عَلَيْنَا إِنَّا کُنَّا فَاعِلَيْنَ} [الأَنبياء، 21:104]، ثُمَّ قَالَ: أَلاَ وَإِنَّ أَوَّلَ الْخَلَائِقِ يُکْسَی يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِبْرَاهِيْمُ الحديث. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ وَهَذَا لَفْظُ الْبُخَارِيِّ.

الحديث رقم: أَخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: تفسير القرآن، باب: وکنت عليهم شهيدا مادمت فيهم، 4/ 1691، الرقم: 4349، ومسلم في الصحيح، کتاب: الجنة وصفة نعيمها وأَهلها، 4/ 2194، الرقم: 2860، والترمذي في السنن، کتاب: صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول اﷲ صلی الله عليه واله وسلم، باب: ماجاء في شأَن الحشر، 4/ 615، الرقم: 2423، وقال: هذا حديث حسن صحيح، والنسائي في السنن، کتاب: الجنائز، باب: البعث، 4/ 114، الرقم: 2081. 2083، وأَحمد بن حنبل في المسند، 1/ 223، الرقم: 1950، وابن حبان في الصحيح، 16/ 323، الرقم: 7328، والدارمي في السنن، 2/ 419، الرقم: 2800.

’’حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک روز حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: اے لوگو! تم روزِ حشر اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں یوں حاضر کیے جاؤ گے کہ برہنہ پا، ننگے جسم اور بغیر ختنہ کے ہو گے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ’’جس طرح ہم نے (کائنات کو) پہلی بار پیدا کیا تھا، ہم (اس کے ختم ہو جانے کے بعد) اسی عملِ تخلیق کو دہرائیں گے۔‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: ساری مخلوق میں سب سے پہلے جنہیں لباس پہنایا جائے گا وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ہوں گے۔‘‘

یہ حدیث متفق علیہ ہے اور الفاظ امام بخاری کے ہیں۔

73/ 2. عَنْ أَمِّ شَرِيْکٍ رضي اﷲ عنها: أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه واله وسلم أَمَرَ بِقَتْلِ الْوَزَغِ وَقَالَ: وَکَانَ يَنْفُخُ عَلَی إِبْرَاهِيْمَ عليه السلام .

رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَأَحْمَدُ.

الحديث رقم: أَخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: الأَنبياء، باب: قول اﷲ تعالی: واتخذ اﷲ إبراهيم خليلا، 3/ 1226، الرقم: 3180، وأَحمد بن حنبل في المسند، 6/ 200، الرقم: 25684، وابن راهويه في المسند، 2/ 530، الرقم: 1113، وعبد بن حميد في المسند، 1/ 450، الرقم: 1559، والبيهقي في السنن الکبری، 8/ 316، والمنذري في الترغيب والترهيب، 3/ 380، الرقم: 4516.

’’حضرت اُمِ شریک رضی اﷲ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے چھپکلی کو مارنے کا حکم دیا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لئے (نمرود کی) جلائی گئی آگ میں (اسے بھڑکانے کے لئے) پھونکیں مارتی تھی۔‘‘

اس حدیث کو امام بخاری اور احمد نے روایت کیا ہے۔

74/ 3. عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی الله عنه قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَی رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه واله وسلم فَقَالَ: يَا خَيْرَ الْبَرِيَةِ فَقَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه واله وسلم : ذَاکَ إِبْرَاهِيْمُ عليه السلام . رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنِّسَائِيُّ وَأَحْمَدُ وَابْنُ أَبِي شَيْبَةَ.

وفي روية لإبن وعساکر: أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صلی الله عليه واله وسلم : يَا خَيْرَ النَّاسِ قَالَ: ذَاکَ إِبْرَاهِيْمُ عليه السلام قَالَ: يَا أَعْبَدَ النَّاسِ، قَالَ: ذَاکَ دَاوُدُ عليه السلام .

الحديث رقم: أَخرجه مسلم في الصحيح، کتاب: الفضائل، باب: من فضائل إبراهيم الخليل عليه السلام، 4/ 1839، الرقم: 2369، وأَبو داود في السنن، کتاب: السنة، باب: في التخيير بين الأَنبياء عليهم السلام، 4/ 218، الرقم: 4672، والنسائي في السنن الکبری، 6/ 520، الرقم: 11692، وأَحمد بن حنبل في المسند، 3/ 178، 184، الرقم: 12849، 12930. 12931، وابن أَبي شيبة في المصنف، 6/ 329، الرقم: 31816، وأَبو يعلی في شعب اليمان، 2/ 183، وابن عساکر في تاريخ دمشق الکبير، 6/ 220، 7/ 86.

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا خیر البریۃ! (اے مخلوق میں سب سے زیادہ بہتر) آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: وہ ابراہیم علیہ السلام ہیں (یعنی یہ ان کا لقب ہے)۔‘‘

اس حدیث کو امام مسلم، ابو داود، نسائی، احمد اور ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے۔

اور ابن عساکر کی روایت میں ہے: ’’ایک آدمی نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا: یا خیر الناس! (اے لوگوں میں سب سے زیادہ بہتر)۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ہیں (یعنی یہ ان کا لقب ہے)۔ پھر اس آدمی نے عرض کیا: یا اَعبد الناس! (یعنی اے سب لوگوں سے بڑھ کر عبادت گزار)۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: وہ حضرت داود علیہ السلام ہیں (یعنی یہ ان کا لقب ہے)۔‘‘

75/ 4. عَنْ عَبْدِ اﷲِ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اﷲِ صلی الله عليه واله وسلم : إِنَّ لِکُلِّ نَبِيٍّ وُلَاةً مِنَ النَّبِيِّيْنَ وَإِنَّ وَلِيِّي أَبِي وَخَلِيْلُ رَبِّي (وفي رواية للحاکم: وَأَنَّ وَلِيِّي، وَخَلِيْلِي، أَبِي إِبْرَاهِيْمُ) ثُمَّ قَرَأَ: {إِنَّ أَوْلَی النَّاسِ بِإِبْرَاهِيْمَ لَلَّذِيْنَ اتَّبَعُوْهُ وَهَذَا النَّبِيُّ وَالَّذِيْنَ آمَنُوْا وَاﷲُ وَلِيُّ الْمُؤْمِنِيْنَ}، [آل عمران، 3: 68]. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَحْمَدُ وَالْحَاکِمُ وَالْبَزَّارُ.

وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا أَصَحُّ، وَقَالَ الْحَاکِمُ: هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ.

الحديث رقم: أَخرجه الترمذي في السنن، کتاب: تفسير القرآن عن رسول اﷲ صلی الله عليه واله وسلم، باب: ومن سورة آل عمران، 5/ 223، الرقم: 2995، وأَحمد بن حنبل في المسند، 1/ 400، 429، الرقم: 3800، 4088، والحاکم في المستدرک، 2/ 320، 603، الرقم: 3151، 4030. 4031، والبزار في المسند، 5/ 345، 351، الرقم: 1973، 1981، وابن منصور في السنن، 3/ 1047، الرقم: 501، سنده صحيح.

’’حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: بے شک ہر نبی کے انبیاء کرام میں سے دوست ہوتے ہیں اور بے شک میرے دوست، میرے والد اور میرے رب کے دوست ہیں (اور حاکم کی روایت میں ہے: اور بے شک میرے دوست اور میرے خلیل میرے والد حضرت ابراہیم علیہ السلام ہیں) پھر آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: (بیشک سب لوگوں سے بڑھ کر ابراہیم ( علیہ السلام ) کے قریب (اور حقدار) تو وہی لوگ ہیں جنہوں نے ان (کے دین) کی پیروی کی ہے اور (وہ) یہی نبی ( صلی اللہ علیہ والہ وسلم ) اور (ان پر) ایمان لانے والے ہیں، اور اللہ ایمان والوں کا مددگار ہے)۔‘‘

اس حدیث کو امام ترمذی، حاکم اور بزار نے روایت کیا ہے نیز امام ترمذی نے فرمایا کہ اس حدیث کی سند صحیح ترین ہے اور امام حاکم نے بھی فرمایا کہ یہ حدیث صحیح ہے۔

76/ 5. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي اﷲ عنهما قَالَ: لَمَّا بَنَی إِبْرَاهِيْمُ الْبَيْتَ أَوْصَی اﷲُ إِلَيْهِ أَنْ أَذِّنْ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ قَالَ: فَقَالَ إِبْرَاهِيْمُ: أَلاَ إِنَّ رَبَّکُمْ قَدِ اتَّخَذَ بَيْتًا وَأَمَرَکُمْ أَنْ تَحُجُّوْهُ فَاسْتَجَابَ لَهُ مَا سَمِعَهُ مِنْ حَجَرٍ، أَوْ شَجَرٍ، أَوْ أَکَمَةٍ، أَوْ تُرَابٍ لَبَّيْکَ اللَّهُمَّ لَبَّيْکَ.

رَوَاهُ الْحَاکِمُ وَالْبَيْهَقِيُّ.

وَقَالَ الْحَاکِمُ: هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الإِْسْنَادِ.

الحديث رقم: أَخرجه الحاکم في المستدرک، 2/ 601، الرقم: 4026، والبيهقي في السنن الکبری، 5/ 176، الرقم: 9613، وفي شعب اليمان، 3/ 439، الرقم: 3998، والطبري في جامع البيان، 17/ 144، وفي تاريخ الأَمم والملوک، 1/ 156، والزيلعي في نصب الرأَية، 3/ 22.

’’حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بیت اللہ کی تعمیر مکمل کر لی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی فرمائی کہ لوگوں میں حج کی ندا دیں۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے پکارا: جان لو! بے شک تمہارے رب نے ایک گھر بنایا ہے اور تمہیں یہ حکم دیا ہے کہ تم اس کی زیارت (حج) کرو۔ پس ان کی ندا پر پتھروں، درختوں، ٹیلوں اور مٹی میں سے جس جس نے اس ندا کو سنا {لَّبيْک اللّٰهمَّ لبَّيْک} ’’اے اللہ ہم حاضر ہیں ہم حاضر ہیں‘‘ کہا۔‘‘

اس حدیث کو امام حاکم اور بیہقی نے روایت کیا ہے نیز امام حاکم نے فرمایا کہ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔

77/ 6. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي اﷲ عنهما قَالَ: الإِْسْلَامُ ثَـلَاثُوْنَ سَهْمًا وَمَا ابْتُلِيَ بِهَذَا الدِّيْنِ أَحَدٌ فَأَقَامَهُ إِلَّا إِبْرَاهِيْمُ عليه السلام قَالَ اﷲُ تَعَالَی: {وَإِبْرَاهِيْمُ الَّذِي وَفّٰی} [النجم، 53:37] فَکَتَبَ اﷲُ لَهُ بَرَائَةً مِنَ النَّارِ.

رَوَاهُ الْحَاکِمُ وَابْنُ أَبِي شَيْبَةَ مُخْتَصَرً.

وَقَالَ الْحَاکِمُ: هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الإِْسْنَادِ.

الحديث رقم: أَخرجه الحاکم في المستدرک، 2/ 602، الرقم: 4027، وابن أَبي شيبة في المصنف، 6/ 331، الرقم: 31829، والطبري في جامع البيان، 1/ 524، وفي تاريخ الأَمم والملوک، ا/ 168، وابن عساکر في تاريخ دمشق الکبير، 6/ 194.

’’حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ اسلام کے تیس حصے ہیں اور کوئی شخص ایسا نہیں جسے اس دین کے ذریعے آزمایا گیا اور وہ اس آزمائش پر پورا اترا ہو سوائے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’اور حضرت ابراہیم علیہ السلام جنہوں نے (اللہ کے ہر امر کو) بتمام و کمال پورا کیا۔‘‘ پس (اسی وجہ سے) اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے آگ سے براء ت مقدر کر دی۔‘‘

اس حدیث کو امام حاکم اور ابن ابی شیبہ نے مختصرا روایت کیا ہے اور امام حاکم نے فرمایا کہ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔

78/ 7. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اﷲِ صلی الله عليه واله وسلم : فَيَقُولُوْنَ: يَا إِبْرَاهِيْمُ، أَنْتَ خَلِيْلُ الرَّحْمٰنِ، قَدَ سَمِعَ بِخُلَّتِکَ أَهْلُ السَّمَاوَاتِ وَأَهْلُ الْأَرْضِ. رَوَاهُ الْحَاکِمُ.

وَقَالَ الْحَاکِمُ: هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ.

الحديث رقم: أَخرجه الحاکم في المستدرک، 2/ 599، الرقم: 4017، والعسقلاني في فتح الباري، 6/ 395، الرقم: 3181.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: (روزِ حشر) لوگ کہیں گے: اے ابراہیم! آپ اللہ تعالیٰ کے دوست ہیں اور آپ کی دوستی کا آسمان والوں اور زمین والوں نے بھی خوب سن رکھا ہے۔‘‘

اس حدیث کو امام حاکم نے روایت کیا ہے۔ اور امام حاکم نے فرمایا کہ یہ حدیث صحیح ہے۔

79/ 8. عَنْ سَمُرَةَ رضی الله عنه قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه واله وسلم يَقُوْلُ: إِنَّ الْأَنْبِيَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ کُلُّ اثْنَيْنِ مِنْهُمْ خَلِيْلَانِ دُوْنَ سَائِرِهِمْ قَالَ: فَخَلِيْلِي مِنْهُمْ يَومَئِذٍ خَلِيْلُ اﷲِ إِبْرَاهِيْمُ عليه السلام . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

الحديث رقم: أَخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 7/ 258، الرقم: 7052، والذهبي في ميزان الاعتدال، 6/ 397، والعسقلاني في لسان الميزان، 6/ 15، والهيثمي في مجمع الزوائد، 8/ 201.

’’حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: بے شک انبیاء کرام علیھم السلام میں سے ہر دو نبی دوسرے تمام لوگوں کے علاوہ روزِ قیامت آپس میں دوست ہوں گے، آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: پس اس دن ان میں سے میرا دوست وہی ہوگا جو اللہ تعالیٰ کا بھی دوست ہے یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام۔‘‘

اس حدیث کو امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔

80/ 9. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه: أَنَّ رَسُولَ اﷲِ صلی الله عليه واله وسلم قَالَ: إِنَّ فِي الْجَنَّةِ قَصْرًا مِنْ دُرٍّ لَا صَدْعَ فِيْهِ وَلَا وَهْنٌ أَعَدَّهُ اﷲُ لِخَلِيْلِهِ إِبْرَاهِيْمَ عليه السلام .

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيْحِ کَمَا قَالَ الْهَيْثَمِيُّ.

الحديث رقم: أَخرجه الطبراني في المعجم الأَوسط، 6/ 329، الرقم: 6543، والهيثمي في مجمع الزوائد، 8/ 201، وقال: ورواه البزار بنحوه، وابن کثير في قصص الأَنبياء، 1/ 179.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: بے شک جنت میں موتیوں سے بنا ہوا ایک محل ہے جس میں نہ تو کوئی شگاف ہے اور نہ ہی کسی قسم کی کوئی کمزوری، اس گھر کو اﷲ تعالیٰ نے اپنے دوست حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لئے تیار کیا ہے۔‘‘

اس حدیث کو امام طبرانی نے روایت کیا ہے اور امام بزار نے بھی اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے اور ان دونوں کے رجال رجالِ صحیح ہیں جیسا کہ امام ہیثمی نے بیان کیا ہے۔

7. فَصْلٌ فِي مَنَاقِبِ إِسْمَاعِيْلَ ذَبِيْحِ اﷲِ عليه السلام

{حضرت اسماعیل ذبیح اﷲ علیہ السلام کے مناقب کا بیان}

81/ 1. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي اﷲ عنهما قَالَ: کَانَ النَّبِيُّ صلی الله عليه واله وسلم يُعَوِّذُ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ وَيَقُولُ: إِنَّ أَبَاکُمَا يُعَوِّذُ بِهَا إِسْمَاعِيْلَ وَإِسْحَاقَ: {أَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اﷲِ التَّامَّةِ مِنْ کُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ وَمِنْ کُلِّ عَيْنٍ وَلَامَّةٍ}. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْدَاوُدَ وَالنِّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَةَ.

الحديث رقم: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: الأنبياء، باب: قول اﷲ تعالی: واتخذ اﷲ إبراهيم خليلا، 3/ 1233، الرقم: 3191، والترمذي في السنن، کتاب: الطب عن رسول اﷲ صلی الله عليه واله وسلم، باب: ماجاء في الرقية من العين، 4/ 396، الرقم: 2060، وقال: هذا حديث حسن، وأبوداود في السنن، کتاب: السنة، باب: في القرآن، 4/ 235، الرقم: 4737، وابن ماجة في السنن، کتاب: الطب، باب: ماعوّذ به النبيّ صلی الله عليه واله وسلم وما عُوّذ به، 2/ 1164، الرقم: 3525، والنسائي في السنن الکبری، 6/ 250، الرقم: 10844، وأحمد بن حنبل في المسند، 1/ 270، الرقم: 2434، وابن أبي شيبة في المصنف، 5/ 47، الرقم: 23577.

’’حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم امام حسن اور حسین علیھما السلام کے لئے (خصوصی طور پر) کلمات تعوّذ کے ساتھ دم کرتے اور فرماتے: تمہارے جد امجد (حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی) اپنے دونوں صاحبزادوں حضرت اسماعیل اور حضرت اسحاق علیھما السلام کو ان ہی کلماتِ تعوذ کے ساتھ دم کیا کرتے تھے: {أَعُوذُ بِکَلِمَاتِ اﷲِ التَّامَّةِ مِنْ کُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ وَمِنْ کُلِّ عَيْنٍ وَلَامَّةٍ} ’’میں اللہ تعالیٰ کے کامل کلمات کے ذریعے ہر (وسوسہ اندازی کرنے والے) شیطان اور بلا سے اور ہر نظر بد سے پناہ مانگتا ہوں۔‘‘

اس حدیث کو امام بخاری، ترمذی، ابوداود، نسائی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔

82/ 2. عَنْ کَعْبٍ رضی الله عنه قَالَ: کَانَ إِسْمَاعِيْلُ بْنُ إِبْرَاهِيْمَ نَبِيُّ اﷲِ الَّذِي سَمَّاهُ اﷲُ صَادِقَ الْوَعْدِ وَکَانَ رَجُلًا فِيْهِ حِدَّةٌ. يُجَاهِدُ أَعْدَاءَ اﷲِ وَيُعْطِيْهِ اﷲُ النَّصْرَ عَلَيْهِمْ وَالظَّفَرَ، وَکَانَ شَدِيْدَ الْحَرْبِ عَلَی الْکُفَّارِ لَا يَخَافُ فِي اﷲِ لَومَةَ لَائِمٍ صَغِيْرَ الرَّأَسِ، غَلِيْظَ الْعُنُقِ، طَوِيْلَ الْيَدَيْنِ وَالرِّجْلَيْنِ. يَضْرِبُ بِيَدَيْهِ رُکْبَتَيْهِ وَهُوَ قَائِمٌ، صَغِيْرَ الْعَيْنَيْنِ، طَوِيْلَ الْأَنْفِ، عَرِيْضَ الْکَتْفِ، طَوِيْلَ الْأَصَابِعِ، بَارِزَ الْخَلْقِ. قَوِيٌّ شَدِيْدٌ، عَنِيْفٌ عَلَی الْکُفَّارِ وَکَانَ يَأَمُرُ أَهْلَهُ بِالصَّـلَاةِ وَالزَّکَاةِ وَکَانَ عِنْدَ رَبِّهِ مَرْضِیًّ. قَالَ: وَکَانَتْ زَکَاتُهُ الْقُرْبَانَ إِلَی اﷲِ مِنْ أَمْوَالِهِمْ وَکَانَ لَا يَعِدُ أَحَدًا شَيْئًا إِلَّا أَنْجَزَهُ فَسَمَّاهُ اﷲُ صَادِقَ الْوَعْدِ وَکَانَ رَسُوْلًا نَبِیًّ.

رَوَاهُ الْحَاکِمُ.

الحديث رقم: أَخرجه الحاکم في المستدرک، 2/ 603، الرقم: 4033.

’’حضرت کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت اسماعیل بن ابراہیم علیہما السلام اللہ تعالیٰ کے وہ نبی تھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے صادق الوعد (یعنی وعدے کے سچے) کا نام دیا اور آپ علیہ السلام ایسے شخص تھے جن میں (حق کے معاملہ میں) سختی پائی جاتی تھی۔ آپ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کے خلاف جہاد کرتے اور اللہ تعالیٰ آپ علیہ السلام کو ان پر فتح و نصرت عطا فرماتا اور آپ علیہ السلام کفار کے خلاف بہت زیادہ لڑائی کرنے والے تھے اور اللہ تعالیٰ کے معاملہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہیں کرتے تھے۔ آپ متناسب سر، بھاری گردن، لمبے ہاتھوں اور لمبی ٹانگوں والے تھے۔ آپ علیہ السلام اپنے ہاتھ حالتِ قیام میں اپنے گھٹنوں پر مار سکتے تھے۔ چھوٹی آنکھوں، لمبی ناک، چوڑے شانوں، لمبی انگلیوں والے اور لوگوں میں سب سے نمایاں دکھائی دیتے تھے۔ آپ علیہ السلام بہت زیادہ طاقتور اور کفار پر بہت زیادہ سخت تھے، آپ علیہ السلام اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰہ کا حکم دیتے تھے اور اپنے رب کے ہاں محبوب تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ آپ علیہ السلام کی زکوٰۃ اپنے اہل کے اموال میں سے اللہ کا قرب حاصل کرنا تھا اور آپ علیہ السلام کسی شخص سے کسی چیز کا وعدہ نہیں فرماتے تھے مگر یہ کہ آپ اس وعدہ کو ضرور پورا کرتے۔ پس اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کا نام صادق الوعد رکھا اور آپ علیہ السلام اللہ کے سچے رسول اور نبی تھے۔‘‘

اس حدیث کو امام حاکم نے روایت کیا۔

83/ 3. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي اﷲ عنهما قَالَ: اَلذَّبِيْحُ إِسْمَاعِيْلُ.

وفي رواية: عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضي اﷲ عنهما: {وَفَدَيْنَاهُ بِذِبْحٍ عَظِيْمٍ} [الصافات، 37: 107]، قَالَ: إِسْمَاعِيْلُ ثُمَّ ذَبَحَ إِبْرَاهِيْمُ الْکَبْشَ.

وفي رواية: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي اﷲ عنهما أَنَّهُ قَالَ: الْمَفْدِيُّ إِسْمَاعِيْلُ وَزَعَمَتِ الْيَهُوْدُ أَنَّهُ إِسْحَاقُ وَکَذَبَتِ الْيَهُوْدُ. رَوَاهُ الْحَاکِمُ وَالطَّبَرِيُّ.

وَقَالَ الْحَاکِمُ: هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ.

الحديث رقم: أَخرجه الحاکم في المستدرک، 2/ 604. 605، الرقم: 4034. 4035، 4037. 4038، والطبري في جامع البيان، 23/ 83. 85، والقرطبي في الجامع لأَحکام القرآن، 15/ 101، وابن کثير في تفسير القرآن العظيم، 4/ 19، والعسقلاني في فتح الباري، 12/  378. 379، والطبري في تاريخ الأَمم والملوک، 1/ 160.

’’حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ذبیح حضرت اسماعیل علیہ السلام ہیں۔

اور ایک روایت میں حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما آیہ مبارکہ: {وَفَدَيْنَاهُ بِذِبْحٍ عَظِيْمٍ} کی وضاحت میں فرماتے ہیں کہ ذبح عظیم سے مراد حضرت اسماعیل علیہ السلام ہیں، پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے (ان کی جگہ جنتی) مینڈھے کو ذبح کیا۔

اور ایک روایت میں حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جس کا فدیہ دیا گیا وہ حضرت اسماعیل علیہ السلام ہیں اوریہود کا یہ گمان ہے کہ وہ حضرت اسحاق علیہ السلام ہیں اور یہود جھوٹے ہیں۔‘‘

اس حدیث کو امام حاکم اور طبری نے روایت کیا ہے۔ اور امام حاکم نے فرمایا کہ یہ حدیث صحیح ہے۔

84/ 4. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي اﷲ عنهما في قوله ل: {وَإِنَّ مِنْ شِيْعَتِهِ لإَِبْرَاهِيْمَ} [الصافات، 37:83]، قَالَ: مِنْ شِيْعَةِ نُوْحٍ إِبْرَاهِيْمُ عَلَی مِنْهَاجِهِ وَسُنَّتِهِ بَلَغَ مَعَهُ السَّعْيَ شَبَّ حَتَّی بَلَغَ سَعْيُهُ سَعْيَ إِبْرَاهِيْمَ فِي الْعَمَلِ: {فَلَمَّا أَسْلَمَا} مَا أَمِرَ بِهِ {وَتَلَّهُ لِلْجَبِيْنِ} [الصافات، 37:103]، وَضَعَ وَجْهَهُ إِلَی الْأَرْضِ فَقَالَ: لَا تَذْبَحُنِي، وَأَنْتَ تَنْظُرُ عَسَی أَنْ تَرْحَمَنِي، فَـلَا تُجَهِزُ عَلَيَّ. ارْبُطْ يَدَيَّ إِلَی رَقْبَتِي، ثُمَّ ضَعْ وَجْهِي عَلَی الْأَرْضِ، فَلَمَّا أَدْخَلَ يَدَهُ لِيَذْبَحَهُ فَلَمْ يَحُکَّ الْمُدْيَةُ حَتَّی نُوْدِيَ: {اَنَّ يَا اِبْرَاهِيْمُ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا}، [الصافات، 37: 104. 105]، فَأَمْسَکَ يَدَهَ وَرَفَعَ، قَوْلُهُ: {وَفَدَيْنَاهُ بِذِبْحٍ عَظِيْمٍ}، [الصافات، 37:107]، بِکَبْشٍ عَظِيْمٍ مُتَقَبَّلٍ، وَزَعَمَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ الذَّبِيْحَ إِسْمَاعِيْلُ.

رَوَاهُ الْحَاکِمُ وَالطَّبَرِيُّ.

وَقَالَ الْحَاکِمُ: هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ.

الحديث رقم: أَخرجه الحاکم في المستدرک، 2/ 468، الرقم: 3612، والطبري في جامع البيان، 23/ 80، وفي تاريخ الأَمم والملوک، 1/ 166، والعسقلاني في تغليق التعليق، 5/ 267، الرقم: 103.

’’حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس قول: ’’بے شک ان کے گروہ میں سے ابراہیم ( علیہ السلام ) (بھی) تھے۔‘‘ کے بارے میں بیان کرتے ہیں کہ اس سے مراد ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کے گروہ میں سے حضرت ابراہیم علیہ السلام تھے جو ان کے راستے اور سنت پر تھے۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ دوڑ کر چل سکنے (کی عمر) کو پہنچ گئے اور جوان ہو گئے یہاں تک کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی عمل میں سعی و کوشش حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سعی و کوشش تک پہنچ گئی۔ پس جب دونوں نے حکم الٰہی کو تسلیم کر لیا جس کا انہیں حکم دیا گیا تھا اور حضرت ابراہیم ( علیہ السلام ) نے انہیں پیشانی کے بل لٹا دیا تو حضرت اسماعیل علیہ السلام نے کہا: آپ مجھے ذبح نہیں کر رہے اور آپ دیکھ رہے ہیں کہ شاید آپ مجھ پر رحم کریں اور نہ ہی مجھے ذبح کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ پس آپ میرے ہاتھ میری گردن کے ساتھ باندھ دیں پھر مجھے پیشانی کے بل لٹا دیں۔ پس جب ابراہیم علیہ السلام نے اپنا ہاتھ چھری نکالنے کے لئے ڈالا تاکہ انہیں ذبح کر سکیں لیکن چھری نہ چلی یہاں تک کہ انہیں ندا دی گئی: ’’اے ابراہیم! واقعی تم نے اپنا خواب (کیا خوب) سچا کر دکھایا۔‘‘ تو انہوں نے اپنا ہاتھ روک لیا (ان کی گردن سے) اٹھا لیا۔

اﷲ تعالیٰ کے قول {وَفَدَيْنَاهُ بِذِبْحٍ عَظِيْمٍ} سے مراد ہے بارگاہِ الٰہی میں مقبول مینڈھے (کی قربانی کے بدلے) اور حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما کے خیال کے مطابق ذبیح سے مراد حضرت اسماعیل علیہ السلام ہیں۔‘‘

اسے امام حاکم اور طبری نے روایت کیا ہے نیز امام حاکم نے فرمایا کہ یہ حدیث صحیح ہے۔

85/ 5. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي اﷲ عنهما قَالَ: أَوَّلُ مَنْ نَطَقَ بِالْعَرَبِيَةِ وَوَضَعَ الْکِتَابَ عَلَی لَفْظِهِ وَمَنْطَقِهِ ثُمَّ جَعَلَ کِتَاباً وَاحِدًا مِثْلُ بِسْمِ اﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ الْمَوْصُوْلِ حَتَّی فَرَّقَ بَيْنَهُ وَلَدُهُ إِسْمَاعِيْلُ بْنُ إِبْرَاهِيْمَ صلوات اﷲ عليهم. رَوَاهُ الْحَاکِمُ وَالْبَيْهَقِيُّ.

وَقَالَ الْحَاکِمُ: هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الإِْسْنَادِ.

الحديث رقم: أَخرجه الحاکم في المستدرک، 2/ 602، الرقم: 4029، والبيهقي في شعب الإيمان، 2/ 233، الرقم: 1617، والعسقلاني في فتح الباري، 6/ 403.

’’حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سب سے پہلے جس شخص نے عربی زبان بولی اور اپنے الفاظ اور منطق (بول چال) پر کتاب کو وضع کی پھر کتاب کو اس طرح ایک کیا کہ وہ آپس میں ملی ہوئی ہو جیسا بسم اﷲ الرحمن الرحیم کی کتابت، یہاں تک کہ اس کتابت کو جدا جدا کیا، (ان تمام امور کو سر انجام دینے والے) حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لختِ جگر حضرت اسماعیل علیہ السلام ہیں۔‘‘

اس حدیث کو امام حاکم اور بیہقی نے روایت کیا ہے اور امام حاکم نے فرمایا کہ یہ حدیث صحیح ہے۔

8. فَصْلٌ فِي مَنَاقِبِ إِسْحَاقَ عليه السلام

{حضرت اسحاق علیہ السلام کے مناقب کا بیان}

86/ 1. عَنْ کَعْبٍ الْأَحْبَارِرضی الله عنه قَالَ: کَانَ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيْمَ الَّذِي جَعَلَهُ اﷲُ نُوْرًا وَضِيَاءً وَقُرَّةَ عَيْنٍ لِوَالِدَيْهِ، فَکَانَ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ وَجْهًا وَأَکْثَرُهُ جَمَالًا وَأَحْسَنُهُ مَنْطِقًا فَکَانَ أَبْيَضَ جَعْدَ الرَّأَسِ وَاللِّحْيَةِ مُشْبَهًا بِإِبْرَاهِيْمَ خَلَقًا وَخُلُقًا وَوُلِدَ ِلإِسْحَاقَ يَعْقُوْبُ وَعَيْصٌ فَکَانَ يَعْقُوْبُ أَحْسَنُهُمَا وَأَنْطَقُهُمَا وَأَکْثَرُهُمَا جَمَالًا وَظَرْفًا الحديث.

رَوَاهُ الْحَاکِمُ.

الحديث رقم: أَخرجه الحاکم في المستدرک، 2/ 607، الرقم: 4043.

’’حضرت کعب الاَحبار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت اسحاق بن ابراہیم علیہما السلام کو اللہ تعالیٰ نے نور، روشنی اور اپنے والدین کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنایا۔ پس آپ علیہ السلام تمام لوگوں سے بڑھ کر خوبصورت چہرے والے تھے اور بہت زیادہ جمال والے اور خوبصورت گفتگو والے تھے۔ آپ علیہ السلام سفید رنگت والے، سر اور داڑھی کے گھنگھریالے بالوں والے تھے۔ آپ ظاہری نقوش میں اور حسنِ خلق میں حضرت ابراہیم علیہ السلام سے مشابہ تھے۔ حضرت اسحاق علیہ السلام کے ہاں حضرت یعقوب علیہ السلام اور حضرت عیص علیہ السلام پیدا ہوئے پس ان دونوں میں سے حضرت یعقوب علیہ السلام زیادہ حسین، زیادہ فصیح و بلیغ اور زیادہ حسن و جمال اور دانائی والے تھے۔‘‘

اس حدیث کو امام حاکم نے روایت کیا ہے۔

87/ 2. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي اﷲ عنهما: {وَبَشَّرْنَاهُ بِإِسْحَاقَ}، [الصافات، 37:112]، قَالَ: بُشْرَی نُبُوَّةٍ بُشِّرَ بِهِ مَرَّتَيْنِ حِيْنَ وُلِدَ وَحِيْنَ نُبِّيئَ. رَوَاهُ الْحَاکِمُ وَالطَّبَرِيُّ.

وَقَالَ الْحَاکِمُ: صَحِيْحُ الإِْسْنَادِ.

الحديث رقم: أَخرجه الحاکم في المستدرک، 2/ 607، الرقم: 4044، والطبري في جامع البيان، 23/ 89، والقرطبي في الجامع لأحکام القرآن، 15/ 112، وابن کثير في تفسير القرآن العظيم، 4/ 20.

’’حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما آیت مبارکہ {وَبَشَّرْنَاهُ بِإِسْحَاقَ} کی تفسیر میں بیان کرتے ہیں کہ اس خوشخبری سے مراد نبوت کی خوشخبری ہے جو انہیں دو مرتبہ دی گئی۔ (پہلی) جب آپ پیدا ہوئے اور (دوسری) جب آپ کو منصبِ نبوت عطا ہوا۔‘‘

اس حدیث کو امام حاکم اور طبری نے روایت کیا ہے اور امام حاکم نے فرمایا کہ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔

9. فَصْلٌ فِي مَنَاقِبِ لُوْطٍ عليه السلام

{حضرت لوط علیہ السلام کے مناقب کا بیان}

88/ 1. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه فِي قَوْلِهِ ل: {أَوْ آوِي إِلَی رُکْنٍ شَدِيْدٍ} [هود، 11: 80]، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اﷲِ صلی الله عليه واله وسلم : رَحِمَ اﷲُ لُوْطًا کَانَ يَأْوِي إِلَی رُکْنٍ شَدِيْدٍ وَمَا بَعَثَ اﷲُ بَعْدَهُ نَبِيًّا إِلَّا فِي ثَرْوَةٍ مِنْ قَوْمِهِ.

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَحْمَدُ وَالْبُخَارِيُّ فِي الأَدَبِ وَابْنُ حِبَّانَ وَالْحَاکِمُ وَاللَّفْظُ لَهُ.

الحديث رقم: أَخرجه الترمذي في السنن، کتاب: تفسير القرآن عن رسول اﷲ صلی الله عليه واله وسلم، باب: ومن سورة يوسف، 5/ 923، الرقم: 3116، وأحمد بن حنبل في المسند، 2/ 332، 384، الرقم:8373، 8975، والبخاري في الأدب المفرد، 1/ 212، الرقم: 605، وابن حبان في الصحيح، 14/ 86. 87، الرقم: 6206. 6207، والحاکم في المستدرک، 2/ 611، 612، الرقم: 4054. 4055، والديلمي في مسند الفردوس، 5/ 263، الرقم: 8133، والطبري في جامع البيان، 12/ 88، والقرطبي في الجامع لأحکام القرآن، 9/ 78، وابن کثير في تفسير القرآن العظيم، 2/ 455.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اﷲ کے اس فرمان: ’’یا میں (آج) کسی مضبوط قلعہ میں پناہ لے سکتا۔‘‘ کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: اﷲ تعالیٰ حضرت لوط علیہ السلام پر رحم فرمائے آپ علیہ السلام مضبوط قلعہ میں پناہ لینے کی بات کرتے تھے اور اﷲ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کے بعد کسی نبی کو نہیں بھیجا مگر ان کی قوم کی کثیر تعداد میں۔‘‘

اس حدیث کو امام ترمذی، احمد، بخاری نے الادب المفرد میں اور ابن حبان اور حاکم نے روایت کیا ہے۔ الفاظ امام حاکم کے ہیں۔

89/ 2. عَنْ کَعْبٍ الْأَحْبَارِ رضی الله عنه قَالَ: کَانَ لُوْطٌ عليه السلام نَبِيَّ اﷲِ وَکَانَ ابْنَ أَخِي إِبْرَاهِيْمَ وَکَانَ رَجُلًا أَبْيَضَ حُسْنَ الْوَجْهِ دَقِيْقَ الْأَنْفِ صَغِيْرَ الْأَذُنِ طَوِيْلَ الْأَصَابِعِ جَيِّدَ الثَّنَايَا أَحْسَنَ النَّاسِ مَضْحَکًا إِذَا ضَحِکَ وَأَحْسَنَهُ وَأَرْزَنَهُ وَأَحْکَمَهُ وَأَقَلَّهُ أَذًی لِقَوْمِهِ وَهُوَ حِيْنَ بَلَغَهَ عَنْ قَوْمِهِ مَا بَلَغَهُ مِنَ الْأَذَی الْعَظِيْمِ الَّذِي أَرَادُوْهُ عَلَيْهِ حَيْثُ يَقُوْلُ: {لَوْ أَنَّ لِي بِکُمْ قُوَّةً أَوْ آوِي إِلَی رُکْنٍ شَدْيِدٍ}. رَوَاهُ الْحَاکِمُ.

الحديث رقم: أَخرجه الحاکم في المستدرک، 2/ 612، الرقم: 4057.

’’حضرت کعب الاحبار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت لوط علیہ السلام اﷲ تعالیٰ کے نبی تھے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بھائی کے بیٹے تھے اور آپ علیہ السلام سفید رنگت والے، خوبصورت چہرے والے، باریک ناک والے، چھوٹے کانوں والے، لمبی انگلیوں والے، خوبصورت دانتوں والے تھے. جب ہنستے تھے تو تمام لوگوں سے بڑھ کر خوبصورت لگتے تھے۔ آپ علیہ السلام لوگوں میں سب سے زیادہ حسین، وقار والے اور حکمت والے اور سب سے کم اپنی قوم کو تکلیف دینے والے تھے اور جب آپ علیہ السلام کو اپنی قوم کی طرف سے تکلیف پہنچی جو بھی پہنچی جس کا آپ کی قوم نے آپ کے لئے ارادہ کیا تھا جیسا کہ آپ نے فرمایا: (اگر مجھ میں تمہارے مقابلہ کی ہمت ہوتی یا میں (آج) کسی مضبوط قلعہ میں پناہ لے سکتا۔)‘‘

اس حدیث کو امام حاکم نے روایت کیا ہے۔

10. فَصْلٌ فِي مَنَاقِبِ يُوْسُفَ عليه السلام

{حضرت یوسف علیہ السلام کے مناقب کا بیان}

90/ 1. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه قَالَ: قِيْلَ: يَا رَسُولَ اﷲِ، مَنْ أَکْرَمُ النَّاسِ؟ قَالَ: أَتْقَاهُمْ. فَقَالُوا: لَيْسَ عَنْ هَذَا نَسْأَلُکَ. قَالَ: فَيُوسُفُ نَبِيُّ اﷲِ بْنُ نَبِيِّ اﷲِ ابْنِ نَبِيِّ اﷲِ ابْنِ خَلِيْلِ اﷲِ. قَالُوا: لَيْسَ عَنْ هَذَا نَسْأَلُکَ قَالَ: فَعَنْ مَعَادِنِ الْعَرَبِ تَسْأَلُونَ خِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَةِ خِيَارُهُمْ فِي الإِسْلَامِ إِذَا فَقُهُوْ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

الحديث رقم: أَخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: الأَنبياء، باب: قول اﷲ تعالی: واتخذ اﷲ إبراهيم خليلا، 3/ 1224، الرقم: 3175، ومسلم في الصحيح، کتاب: الفضائل، باب: من فضائل يوسف عليه السلام، 4/ 1846، الرقم: 2378، والنسائي في السنن الکبری، 6/ 367، الرقم: 11249، وأَحمد بن حنبل في المسند، 2/ 431، الرقم: 9564، والدارمي في السنن، 1/ 84، الرقم: 223، وأَبو يعلی في المسند، 11/ 438، الرقم: 6562، والحاکم في المستدرک، 2/ 623، الرقم: 4083، وقال: هذا حديث صحيح، والبخاري في الأَدب المفرد، 1/ 58، الرقم: 129.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے پوچھا گیا: یا رسول اﷲ! لوگوں میں سب سے زیادہ کریم کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: جو ان میں سب سے زیادہ متقی ہے۔ صحابہ کرام نے عرض کیا: ہم اس کے متعلق آپ سے نہیں پوچھ رہے؟ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: تو پھر سب سے کریم اﷲ تعالیٰ کے نبی حضرت یوسف علیہ السلام ہیں جو اﷲ تعالیٰ کے نبی کے بیٹے اور اﷲ تعالیٰ کے خلیل کے پوتے ہیں۔ صحابہ کرام نے عرض کیا: ہم اس کے بارے میں بھی آپ سے نہیں پوچھ رہے، آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: پھر تم قبائل عرب کے متعلق مجھ سے پوچھ رہے ہو؟ جو لوگ زمانہ جاہلیت میں افضل تھے وہ لوگ اسلام میں بھی افضل ہیں جبکہ وہ دین میں سمجھ بوجھ حاصل کر لیں۔‘‘

یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

91/ 2. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه عَنِ النَّبِيِّ صلی الله عليه واله وسلم : إِنَّ الْکَرِيْمَ بْنَ الْکَرِيْمِ ابْنِ الْکَرِيْمِ ابْنِ الْکَرِيْمِ يُوْسُفُ بْنُ يَعْقُوْبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيْمَ خَلِيْلِ اﷲِ. وَقَالَ الْبَرَاءُ عَنِ النَّبِيِّ صلی الله عليه واله وسلم : أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ.

رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَالتِّرْمِذِيُّ وَحَسَّنَهُ وَأَحْمَدُ.

الحديث رقم: أَخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: المناقب، باب: من انتسب إلی آبائه في الإسلام والجاهلية، 3/ 1298، وعن عبد اﷲ بن عمر رضي اﷲ عنهما، في کتاب: تفسير القرآن، باب: قوله: ويتم نعمته عليک وعلی آل يعقوب، 4/ 1728، الرقم: 4411، والترمذي في السنن، کتاب: تفسير القرآن عن رسول اﷲ صلی الله عليه واله وسلم، باب: ومن سورة يوسف، 5/ 293، الرقم: 3116، وأَحمد بن حنبل في المسند، 2/ 96، الرقم: 5712، 8373، 9369، وابن حبان في الصحيح، 13/ 92، الرقم: 5776، والطبراني في المعجم الأَوسط، 3/ 116، الرقم: 2657، وأَبو يعلی في المسند، 10/ 338، الرقم: 5932، والبخاري في الأَدب المفرد، 1/ 308، الرقم: 896.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: معزز ابن معزز ابن معزز ابن معزز تو صرف یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن حضرت ابراہیم (علی نبینا و علیہم الصلوات والتسلیمات) ہیں اور حضرت براء رضی اللہ عنہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: میں حضرت عبدالمطلب کا بیٹا ہوں۔‘‘

اس حدیث کو امام بخاری، ترمذی اور احمد نے روایت کیا اور امام ترمذی نے اس حدیث کو حسن قرار دیا ہے۔

92/ 3. عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه واله وسلم : أَعْطِيَ يُوْسُفُ عليه السلام شَطْرَ الْحُسْنِ. وفي رواية: أَعْطِيَ يُوْسُفُ وَأَمُّهُ شَطْرَ الْحُسْنِ. رَوَاهَ أَحْمَدُ وَابْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَالْحَاکِمُ وَأَبُويَعْلَی.

وفي رواية: عَنْ عَبْدِ اﷲِ رضی الله عنه قَالَ: أَعْطِيَ يُوْسُفُ عليه السلام وَأَمُّهُ ثُلُثَ حُسْنِ الْخَلْقِ. وفي رواية: ثُلُثَ الْحُسْنِ. رَوَاهُ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ.

الحديث رقم: أَخرجه أَحمد بن حنبل في المسند، 3/ 286، الرقم: 14082، والحاکم في المستدرک، 2/ 622، الرقم: 4082، وابن أَبي شيبة في المصنف، 4/ 42، 6/ 347، الرقم: 31920. 31921، وأَبو يعلی في المسند، 6/ 107، الرقم: 3373، والطبري في جامع البيان، 12/ 207، وابن کثير في تفسير القرآن العظيم، 2/ 477. 478، والهيثمي في مجمع الزوائد، 8/ 203، وقال: ورجاله رجال الصحيح، والعجلوني في کشف الخفاء، 1/ 161، الرقم: 416، وسنده صحيح. .

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: حضرت یوسف علیہ السلام کو کل حسن کا آدھا حصہ عطا ہوا۔‘‘ اور ایک روایت میں ہے کہ انہیں اور ان کی والدہ محترمہ کو کل حسن کا آدھا حصہ عطا ہوا۔‘‘

اس حدیث کو امام احمد، ابن ابی شیبہ، حاکم اور ابو یعلی نے روایت کیا ہے۔

اور ایک روایت میں حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ’’حضرت یوسف علیہ السلام اور آپ کی والدہ ماجدہ کو کل مخلوق کا ایک تہائی حسن نصیب ہوا، اور ایک روایت میں ہے کہ کل حسن کا ایک تہائی حصہ نصیب ہوا۔‘‘

اس حدیث کو امام ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے۔

93/ 4. عَنْ مُحَمَّدٍ بْنِ جَعْفَرٍ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيْهِ قَالَ: کَانَ عِلْمُ اﷲِ وَحِکْمَتُهُ فِي وَرَثَةِ إِبْرَاهِيْمَ فَعِنْدَ ذَلِکَ آتَی اﷲُ يُوْسُفَ بْنَ يَعْقُوْبَ مُلْکَ الْأَرْضِ الْمُُقَدَّسَةِ فَمَلَکَ اثْنَيْنِ وَسَبْعِيْنَ سَنَةً وَذَلِکَ قَوْلُهُ فَلَمَّا أَنْزَلَ مِنْ کِتَابِهِ: {رَبِّ قَدْ آتَيْتَنِي مِنَ الْمُلْکِ وَعَلَّمْتَنِي مِنْ تَأَوِيْلِ الْأَحَادِيْثِ} [يوسف، 12: 101]. رَوَاهُ الْحَاکِمُ.

الحديث رقم: أَخرجه الحاکم في المستدرک، 2/ 624، 631، الرقم: 4089، 4106.

’’حضرت محمد بن جعفر بن محمد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں۔ انہوں نے فرمایا: اﷲ تعالیٰ کا علم اور اس کی حکمت حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ورثاء کو نصیب ہوتی رہی۔ پس اس وقت اﷲ تعالیٰ نے حضرت یوسف بن یعقوب علیہما السلام کو ارضِ مقدسہ کی حکومت عطا فرمائی پس آپ نے 72 سال حکومت کی اور (قرآن پاک میں) حضرت یوسف علیہ السلام کا یہ فرمان ہے: ’’اے میرے رب! تو نے مجھے بادشاہت عطا فرمائی اور مجھے باتوں کی تاویل سکھائی۔‘‘

اس حدیث کو امام حاکم نے روایت کیا۔

94/ 5. عَنْ عَبْدِ اﷲِ رضی الله عنه قَالَ: إِنَّمَا اشْتُرِيَ يُوسُفُ بِعِشْرِيْنَ دِرْهَمًا وَکَانَ أَهْلُهُ حِيْنَ أَرْسِلَ إِلَيْهِمْ وَهُمْ بِمِصْرَ ثَـلَاثُمِائَةٍ وَتِسْعِيْنَ إِنْسَانًا رِجَالُهُمْ أَنْبِيَاءُ وَنِسَاؤُهُمْ صِدِّيْقَاتٌ وَاﷲِ، مَا خَرَجُوْا مَعَ مُوْسَی حَتَّی بَلَغُوْا سِتَّمِائَةِ أَلْفٍِ وَسَبْعِيْنَ أَلْفً.

رَوَاهُ الْحَاکِمُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيْحِ.

وَقََالَ الْحَاکِمُ: هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الإِْسْنَادِ.

الحديث رقم: أَخرجه الحاکم في المستدرک، 2/ 625، الرقم: 4091، والطبراني في المعجم الکبير، 9/ 220، الرقم: 9068، والهيثمي في مجمع الزوائد، 7/ 39، وقال: رواه الطبراني ورجاله رجال الصحيح.

’’حضرت عبداﷲ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بے شک حضرت یوسف علیہ السلام کو بیس درہم میں خریدا گیا اور آپ علیہ السلام کے اہل کی تعداد جب آپ کو مصر میں ان کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا تین سو نوے انسان تھی۔ ان کے مرد انبیاء اور ان کی عورتیں صدیقات تھیں اور اﷲ کی قسم! وہ سارے موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ نہ نکلے یہاں تک کہ ان کی تعداد چھ لاکھ ستر ہزار نہ ہو گئی۔‘‘

اس حدیث کو امام حاکم اور طبرانی نے روایت کیا ہے اور اس کے رجال صحیح حدیث کے رجال ہیں اور امام حاکم نے فرمایا کہ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔

95/ 6. عَنْ أَبِي سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ رضی الله عنه قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اﷲِ صلی الله عليه واله وسلم يَقُوْلُ وَهُوَ يَصِفَ يُوْسُفَ عليه السلام حِيْنَ رَآهُ فِي السَّمَاءِ الثَّالِثَةِ قَالَ: رَأَيْتُ رَجُـلًا صُوْرَتُهُ کَصُوْرَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ فَقُلْتُ: يَا جِبْرِيْلُ، مَنْ هَذَا؟ قَالَ: هَذَا أَخُوْکَ يُوْسُفُ. قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ: وَکَانَ اﷲُ قَدْ أَعْطَی يُوْسُفَ مِنَ الْحُسْنِ وَالْهَيْبَةِ مَا لَمْ يُعْطِ أَحْدًا مِنَ الْعَالَمِيْنَ قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ حَتَّی کَانَ يُقَالُ وَاﷲِ، أَعْلَمُ أَنَّهُ أُعْطِيَ نِصْفُ الْحُسْنِ وَقُسِّمَ النِّصْفُ الآخَرُ بَيْنَ النَّاسِ. رَوَاهُ الْحَاکِمُ.

الحديث رقم: أَخرجه الحاکم في المستدرک، 2/ 623، الرقم: 4087، وابن قتيبة فی تأويل مختلف الحديث، 1/ 321.

’’حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا، اس وقت آپ حضرت یوسف علیہ السلام کا وصف بیان کر رہے تھے جب آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے انہیں (معراج کی رات) تیسرے آسمان پر دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: میں نے ایسا شخص دیکھا جس کی صورت چودھویں رات کے چاند کی طرح تھی۔ پس میں نے پوچھا: اے جبرائیل! یہ کون ہے؟ انہوں نے عرض کیا: یہ آپ کے بھائی حضرت یوسف علیہ السلام ہیں۔ ابن اسحاق کہتے ہیں: اﷲ تعالیٰ نے حضرت یوسف علیہ السلام کو وہ حسن و ہیبت عطا کر رکھی تھی جو عالمین میں سے آپ سے پہلے نہ آپ کے بعد کسی کو عطا کی۔ یہاں تک کہ کہا جاتا تھا کہ اﷲ کی قسم! میں یہ جانتا ہوں کہ حضرت یوسف علیہ السلام کو پورے حسن کا آدھا حصہ اور دوسرا حصہ (تمام) لوگوں کو عطا ہوا۔‘‘

اس حدیث کو امام حاکم نے روایت کیا۔

96/ 7. عَنْ عَبْدِ اﷲِ رضی الله عنه قَالَ: أَعْطِيَ يُوْسُفُ وَأَمُّهُ ثُلُثَيِ الْحُسْنِ مِنْ حُسْنِ النَّاسِ فِي الْوَجْهِ وَالْبَيَاضِ وَغَيْرِ ذَلِکَ وَکَانَتِ الْمَرْأَةُ إِذَا أَتَتْهُ غَطَّی وَجْهَهُ مَخَافَةَ أَنْ تَفْتَتِنَ.

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيْحِ.

الحديث رقم: أَخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 9/ 106، الرقم: 8557، والحکيم الترمذي في نوادر الأَصول، 1/ 297، وابن کثير في تفسير القرآن العظيم، 2/ 478، والهيثمي في مجمع الزوائد، 8/ 203، وقال: رواه الطبراني موقوفا، ورجاله رجال الصحيح.

’’حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت یوسف علیہ السلام اور آپ کی والدہ محترمہ کو لوگوں کے حسن میں سے دو تہائی حسن چہرہ اور سفیدی اور اس کے علاوہ دوسری چیزوں میں عطا ہوا اور جب کوئی عورت آپ کے پاس آتی تو آپ علیہ السلام اپنے چہرے کو ڈھانپ لیتے مبادا وہ عورت کسی فتنہ میں مبتلا نہ ہوجائے۔‘‘

اس حدیث کو امام طبرانی نے روایت کیا ہے اور اس کے رجال، صحیح حدیث کے رجال ہیں۔

11. فَصْلٌ فِي مَنَاقِبِ أَيُوْبَ عليه السلام

{حضرت ایوب علیہ السلام کے مناقب کا بیان}

97/ 1. عَنْ کَعْبٍ رضی الله عنه، قَالَ: کَانَ أَيُوْبُ بْنُ أَمْوَصَ عليه السلام نَبِيَّ اﷲِ الصَّابِرَ الَّذِي جَلَبَ عَلَيْهِ إِبْلِيْسُ إِلَيْهِ سَبِيْـلًا فَأَلْقَی اﷲُ عَلَی أَيُوْبَ السَّکِيْنَةَ وَالصَّبْرَ عَلَی بَلَائِهِ الَّذِي ابْتَـلَاهُ فَسَمَّاهُ اﷲُ: نِعْمَ الْعَبْدُ إِنَّهُ أَوَّابٌ، وَکَانَ أَيُوْبُ رَجُـلًا طَوِيْـلًا جَعْدَ الشَّعْرِ وَاسِعَ الْعَيْنَيْنِ حُسْنَ الْخَلْقِ وَکَانَ عَلَی جَبِيْنِهِ مَکْتُوْبٌ اَلْمُبْتَلَی اَلصَّابِرُ، وَکَانَ قَصِيْرَ الْعُنُقِ عَرِيْضَ الصَّدْرِ غَلِيْظَ السَّاقَيْنِ وَالسَّاعِدَيْنِ وَکَانَ يُعْطِي الْأَرَامِلَ وَيَکْسُوْهُمْ جَاهِدًا نَاصِحًا لِلّٰهِ ل. رَوَاهُ الْحَاکِمُ.

الحديث رقم: أَخرجه الحاکم في المستدرک، 2/ 634، الرقم: 4113.

’’حضرت کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ایوب بن اموص علیہ السلام اﷲ تعالیٰ کے صابر نبی تھے جن کو شیطان نے ایذا دینے کی کوشش کی تو اﷲ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی اس آزمائش پر جس میں اس نے آپ کو مبتلا کیا آپ پر سکون اور صبر نازل کیا اور اﷲ تعالیٰ نے آپ کو {نعم العبد إنه أوّاب} یعنی ’’کیا خوب بندہ تھا، بے شک وہ (ہماری طرف) بہت رجوع کرنے والا تھا۔‘‘ کا نام دیا اور آپ درازقد، گھنگریالے بال، چوڑی آنکھوں، خوبصورت خلقت والے تھے اور آپ کی پیشانی پر (المبتلی الصّابر) ’’آزمودہ صابر‘‘ لکھا ہوا تھا اور آپ چھوٹی گردن، چوڑے سینے، سخت بازوں اور پنڈلیوں والے تھے۔ آپ محتاجوں کو عطا کرنے اور انہیں کپڑے پہنانے والے اور اﷲ تعالیٰ کی خاطر جہاد اور نصیحت کرنے والے تھے۔‘‘

اس حدیث کو امام حاکم نے روایت کیا ہے۔

98/ 2. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي اﷲ عنهما: أَنَّ امْرَأَةَ أَيُوْبَ عليه السلام قَالَتْ لَهُ: وَاﷲِ قَدْ نَزَلَ بِي الْجَهْدُ وَالْفَاقَةُ مَا أَنْ بَعَثَ قَوْمِي بِرَغِيْفٍ فَأَطْعَمْتُکَ فَادْعُ اﷲَ أَنْ يَشْفِيَکَ. قَالَ: وَيْحَکِ کُنَّا فِي النَّعَمَاءِ سَبْعِيْنَ عَامًا فَنَحْنُ فِي الْبَلَاءِ سَبْعَ سِنِيْنَ. رَوَاهُ الْحَاکِمُ وَالْبَيْهَقِيُّ.

الحديث رقم: أَخرجه الحاکم في المستدرک، 2/ 635، الرقم: 4114، والبيهقي في شعب الإيمان، 7/ 147، الرقم: 9794.

’’حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضرت ایوب علیہ السلام کی بیوی نے آپ سے عرض کیا: اﷲ کی قسم! بے شک بھوک اور فاقہ نے ہمارے ہاں گھر کر لیا ہے اور میری قوم نے ایک روٹی تک نہیں بھیجی کہ میں آپ کو کھلاتی۔ پس اﷲ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ آپ کو شفا عطا کرے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا: تمہارا بھلا ہو۔ ہم ستر سال تک ہر آسائشِ زندگی میں تھے۔ اب ہم صرف سات سال سے آزمائش میں ہیں۔ (پس ہمیں ہر حال میں اﷲ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہئے)۔‘‘

اس حدیث کو امام حاکم اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔

99/ 3. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه عَنِ النَّبِيِّ صلی الله عليه واله وسلم، قَالَ: لَمَّا عَافَی اﷲُ أَيُوْبَ أَمْطَرَ عَلَيْهِ جَرَادًا مِنْ ذَهَبٍ فَجَعَلَ يَأَخُذُهُ بِيَدِهِ وَيَجْعَلُهُ فِي ثَوْبِهِ فَقِيْلَ لَهُ: يَا أَيُوبُ، أَمَا تَشْبَعُ؟ قَالَ: وَمَنْ يَشْبَعُ مِنْ رَحْمَتِکَ.

رَوَاهُ الْحَاکِمُ وَالطَّبَرَانِيُّ.

الحديث رقم: أَخرجه الحاکم في المستدرک، 2/ 636، الرقم: 4116، والطبراني فی المعجم الأوسط، 3/ 75، الرقم: 2533، وابن أبي عاصم في کتاب الزهد، 1/ 44، وابن کثير في تفسير القرآن العظيم، 3/ 190.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ جب اﷲ تعالیٰ نے حضرت ایوب علیہ السلام کو صحت و تندرستی عطا فرمائی تو آپ پر سونے کی ٹڈیوں کی بارش کی۔ پس آپ علیہ السلام انہیں اپنے ہاتھ سے اٹھاتے جاتے اور اپنے کپڑے میں ڈالتے جاتے تو انہیں (اللہ تعالیٰ کی طرف سے) کہا گیا: اے ایوب! کیا تم سیر نہیں ہوئے؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا: اے اﷲ تعالیٰ! تیری رحمت سے کون سیر ہوتا ہے (کہ اسے مزید رحمت کی ضرورت نہ رہے)۔‘‘

اس حدیث کو امام حاکم اور طبرانی نے روایت کیا ہے۔

100/ 4. عَنْ قَتَادَةَ رضی الله عنه قَالَ: ابْتُلِيَ أَيُوْبُ سَبْعَ سِنِيْنَ مُلْقًی عَلَی کُنَاسَةِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ. رَوَاهُ الْحَاکِمُ.

الحديث رقم: أَخرجه الحاکم في المستدرک، 2/ 636، الرقم: 4117.

’’حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سات سال تک حضرت ایوب علیہ السلام آزمائش میں مبتلا بیت المقدس کی مٹی پر لیٹے رہے۔‘‘

اس حدیث کو امام حاکم نے روایت کیا ہے۔

12. فَصْلٌ فِي مَنَاقِبِ يُوْنُسَ عليه السلام

{حضرت یونس علیہ السلام کے مناقب کا بیان}

101/ 1. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي اﷲ عنهما عَنِ النَّبِيِّ صلی الله عليه واله وسلم قَالَ: لَا يَنْبَغِي لِعَبْدٍ أَنْ يَقُولَ: أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّی وَنَسَبَهُ إِلَی أَبِيْهِ وَذَکَرَ النَّبِيُّ صلی الله عليه واله وسلم لَيْلَةَ أَسْرِيَ بِهِ فَقَالَ: مُوسَی آدَمُ طُوَالٌ کَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوئَةَ وَقَالَ: عِيْسَی جَعْدٌ مَرْبُوعٌ وَذَکَرَ مَالِکًا خَازِنَ النَّارِ وَذَکَرَ الدَّجَّالَ.

مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ وَهَذَا لَفْظُ الْبُخَارِيِّ.

الحديث رقم: أَخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: الأَنبياء، باب: قول اﷲ تعالی: وهل أَتاک حديث موسی، 3/ 1244، الرقم: 3215، ومسلم في الصحيح، کتاب: الفضائل، باب: في ذکر يونس، 4/ 1846، الرقم: 2377، وأَحمد بن حنبل في المسند، 1/ 342، الرقم: 3179، وابن حبان في الصحيح، 14/ 134، الرقم: 6241، وابن منده في الإيمان، 2/ 735، الرقم: 720، وأَبو عوانة في المسند، 1/ 131، الرقم: 390.

’’حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: کسی بندے کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ یہ کہے: میں حضرت یونس بن متيَ علیہ السلام سے بہتر ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے انہیں ان کے والد کی طرف منسوب فرمایا۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے شبِ اسراء کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: حضرت موسیٰ علیہ السلام دراز قد کے مالک تھے گویا آپ علیہ السلام قبیلہ شنؤہ کے ایک فرد ہیں اور فرمایا: حضرت عیسیٰ علیہ السلام گھنگریالے بالوں والے اور میانہ قد تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے داروغہ جہنم اور دجّال کا ذکر بھی فرمایا۔‘‘

یہ حدیث متفق علیہ ہے اور الفاظ امام بخاری کے ہیں۔

102/ 2. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه عَنِ النَّبِيِّ صلی الله عليه واله وسلم قَالَ: لَا يَنْبَغِي لِعَبْدٍ أَنْ يَقُولَ: أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّی. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وفي رواية لهما: قَالَ: مَنْ قَالَ: أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّی فَقَدْ کَذَبَ.

الحديث رقم: أَخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: الأَنبياء، باب: قول اﷲ تعالی: وإن يونس لمن المرسلين، 3/ 1255، الرقم: 3234، وفي کتاب: تفسير القرآن، باب: قوله: إنا أَوحينا إليک کما أَوحينا إلی نوح، 4/ 1681، الرقم: 4327. 4328، ومسلم في الصحيح، کتاب: الفضائل، باب: في ذکر يونس، 4/ 1846، الرقم: 2376، والترمذي في السنن، کتاب: الصلاة عن رسول اﷲ صلی الله عليه واله وسلم، باب: ماجاء في کراهية الصلاة بعد العصر وبعد الفجر، 1/ 343. 344، الرقم: 183، وفي کتاب: تفسير القرآن عن رسول اﷲ صلی الله عليه واله وسلم، باب: ومن سورة الزمر، 5/ 373، الرقم: 3245، وقال: هذا حديث حسن صحيح، وابن ماجة في السنن، کتاب: الزهد، باب: ذکر البعث، 2/ 1428، الرقم: 4274، والنسائي في السنن الکبری، 6/ 341، الرقم: 11167، وأَحمد بن حنبل في المسند، 1/ 405، الرقم: 9244.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: کسی شخص کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ یہ کہے کہ میں یونس بن متی سے بہتر ہوں۔‘‘

یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

اور متفق علیہ روایت میں ہی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: ’’جو شخص یہ کہے کہ میں یونس بن متی سے بہتر ہوں تو وہ جھوٹا ہے۔‘‘

103/ 3. عَنْ سَعْدٍ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اﷲِ صلی الله عليه واله وسلم : دَعْوَةُ ذِي النُّوْنِ إِذْ دَعَا وَهُوَ فِي بَطْنِ الْحُوْتِ: {لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَکَ إِنِّي کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِيْنَ}، [الأَنبياء، 21:87]، فَإِنَّهُ لَمْ يَدْعُ بِهَا رَجُلٌ مُسْلِمٌ فِي شَيئٍ قَطُّ إِلَّا اسْتَجَابَ اﷲُ لَهُ.

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنِّسَائِيُّ وَأَحْمَدُ وَالْحَاکِمُ وَالْبَيْهَقِيُّ.

الحديث رقم: أَخرجه الترمذي في السنن، کتاب: الدعوات عن رسول اﷲ صلی الله عليه واله وسلم، باب: ما جاء في عقد التسبيح باليد، 5/ 529، الرقم: 3505، والنسائي في السنن الکبری، 6/ 168، الرقم: 10490. 10492، وأحمد بن حنبل في المسند، 1/ 170، الرقم: 1462، وأبويعلی في المسند، 2/ 110، الرقم: 772، والبزار في المسند، 3/ 363، الرقم: 1163، 4/ 25، الرقم: 1186، والحاکم في المستدرک، 2/ 637، الرقم: 4121، والبيهقي في شعب الإيمان، 1/ 432، الرقم: 620، والنسائي في عمل اليوم والليلة، 1/ 416، الرقم: 656، والمقدسي في الأحاديث المختارة، 3/ 234. 235، والديلمي في مسند الفردوس، 2/ 213، الرقم: 3042، والعسقلاني في فتح الباری، 11/ 225، والمنذري في الترغيب والترهيب، 2/ 319، الرقم: 2545، وقال: صحيح الإسناد.

’’حضرت سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: ذوالنون (حضرت یونس) علیہ السلام کی وہ دعا جو آپ علیہ السلام نے مچھلی کے پیٹ میں کی تھی یہ ہے: {لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَکَ إِنِّي کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِيْنَ} ’’اے اﷲ! تیرے سوا کوئی معبود نہیں تیری ذات پاک ہے، بے شک میں ہی (اپنی جان پر) زیادتی کرنے والوں میں سے تھا۔‘‘ پس بے شک جو بھی مسلمان جب بھی کسی چیز کے بارے میں یہ دعا کرتا ہے تو اﷲ تعالیٰ اس کی یہ دعا قبول فرماتا ہے۔‘‘

اس حدیث کو امام ترمذی، نسائی، احمد، حاکم اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔

104/ 4. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي اﷲ عنهما: أَنَّ رَسُولَ اﷲِ صلی الله عليه واله وسلم قَالَ: مَا مِنْ أَحَدٍ مِنْ وَلَدِ آدَمَ إِلَّا قَدْ أَخْطَأَ أَوْ هَمَّ بِخَطِيْئَةٍ لَيْسَ يَحْيَی بْنَ زَکَرِيَا وَمَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَقُولَ: أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّي عليه السلام .

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُويَعْلَی وَالْبَيْهَقِيُّ وَالطَّبَرَانِيُّ.

الحديث رقم: أَخرجه أَحمد بن حنبل في المسند، 1/ 291، 295، 301، 320، الرقم: 2654، 2689، 2736، 2945، وابن أَبي شيبة في المصنف، 6/ 345، الرقم: 31907، وأَبو يعلي في المسند، 4/ 418، الرقم: 2544، والبيهقي في السنن الکبری، 10/ 186، والطبراني في المعجم الکبير، 12/ 216، الرقم: 12933، والعسقلاني في تلخيص الحبير، 4/ 199، الرقم: 2110، وابن الملقن في خلاصة البدر المنير، 2/ 440، الرقم: 2903.

’’حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد میں سے کوئی بھی ایسا نہیں ہے جس نے خطا نہ کی ہو یا خطا کا ارادہ نہ کیا سوائے حضرت یحییٰ بن زکریا علیہ السلام کے اور کسی کے لئے یہ روا نہیں ہے کہ وہ یہ کہے: میں یونس بن متی علیہ السلام سے بہتر ہوں۔‘‘‘

اس حدیث کو امام احمد، ابن ابی شیبہ، ابویعلی، بیہقی اور طبرانی نے روایت کیا ہے۔

105/ 5. عَنِ الْحَسَنِ رضی الله عنه قَالَ: لَمَّا وَقَعَ يُوْنُسُ فِي بَطْنِ الْحُوْتِ ظَنَّ أَنَّهُ الْمَوْتُ فَحَرَّکَ رِجْلَيْهِ فَإِذَا هِيَ تَتَحَرَّکَ فَسَجَدَ وَقَالَ: يَا رَبِّ، اتَّخَذْتُ لَکَ مَسْجِدًا فِي مَوْضِعٍ لَمْ يَسْجُدْ فِيْهِ أَحَدٌ قَطُّ.

رَوَاهُ الْحَاکِمُ وَالطَّبَرِيُّ.

الحديث رقم: أَخرجه الحاکم في المستدرک، 2/ 639، الرقم: 4129، والطبري في جامع البيان، 17/ 81، وابن کثير في تفسير القرآن العظيم، 3/ 193، 4/ 22.

’’حضرت حسن رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں چلے گئے تو آپ کو یہ گمان گزرا کہ وہ فوت ہو گئے ہیں پس (یہ سوچ کر) انہوں نے اپنی ٹانگ کو حرکت دی تو وہ حرکت کرتی تھی۔ پس (وہیں) آپ (خدا کے حضور) سجدہ ریز ہو گئے اور عرض کیا: اے میرے رب! میں نے تیرے لئے ایسی جگہ کو سجدہ گاہ بنایا ہے جہاں کسی شخص نے کبھی سجدہ نہیں کیا۔‘‘

اس حدیث کو امام حاکم اور طبری نے روایت کیا ہے۔

106/ 6. عَنْ کَعْبٍ رضی الله عنه قَالَ: وَکَانَ يُوْنُسُ بْنُ مَتَّی الَّذِي سَمَّاهُ اﷲُ ذَالنُّوْنِ فَقَالَ: {وَذَالنُّونِ إِذْ ذَهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ أَنْ لَنْ نَقْدِرَ عَلَيْهِ فَنَادَی فِي الظُّلُمَاتِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَکَ إِنِّي کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِيْنَ}، [الأَنبياء، 21:87]، فَاسْتَجَابَ اﷲُ لَهُ فَنَجَّاهُ مِنَ الْغَمِّ مِنْ ظُلْمَاتٍ ثَـلَاثٍ: ظُلْمَةُ اللَّيْلِ، وَظُلْمَةُ الْبَحْرِ، وَظُلْمَةُ بَطْنِ الْحُوْتِ الحديث. رَوَاهُ الْحَاکِمُ وَابْنُ أَبِي شَيْبَةَ.

الحديث رقم: أَخرجه الحاکم في المستدرک، 2/ 637، الرقم: 4120، و ابن أبي شيبة في المصنف، 6/ 339، الرقم: 31869، والطبري في جامع البيان، 17/ 80، وفي تاريخ الأمم والملوک، 1/ 377، والقرطبي في الجامع لأحکام القرآن، 11/ 333، 15/ 131، والسيوطي في الجلالين، 1/ 429، الرقم: 87.

’’حضرت کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت یونس بن متی علیہ السلام جنہیں اﷲ تعالیٰ نے ذوالنون (مچھلی والے) کا نام دیا اور فرمایا: ’’اور ذوالنون (مچھلی کے پیٹ والے نبیں کو بھی یاد فرمایئے) جب وہ (اپنی قوم پر) غضبناک ہو کر چل دیئے۔ پس انہوں نے یہ خیال کر لیا کہ ہم ان پر (اس سفر میں) کوئی تنگی نہیں کریں گے۔ پھر انہوں نے تاریکیوں میں (پھنس کر) پکارا کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ تیری ذات پاک ہے۔ بے شک میں ہی (اپنی جان پر) زیادتی کرنے والوں میں سے تھا۔‘‘ پس اﷲ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور انہیں تین تاریکیوں کے غم سے نجات دلائی۔ (اور تین تاریکیاں یہ تھیں:) رات کی تاریکی اور سمندر کی تاریکی اور مچھلی کے پیٹ کی تاریکی الحدیث۔‘‘

اس حدیث کو امام حاکم اور ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے۔

13. فَصْلٌ فِي مَنَاقِبِ شُعَيْبٍ عليه السلام

{ حضرت شعیب علیہ السلام کے مناقب کا بیان}

107/ 1. عَنْ مُحَمَّدٍ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اﷲِ صلی الله عليه واله وسلم إِذَا ذَکَرَ شُعَيْبًا عليه السلام قَالَ: ذَاکَ خَطِيْبُ الأَنْبِيَاءِ لِمُرَاجَعَتِهِ قَوْمَهُ.

رَوَاهُ الْحَاکِمُ وَالْحَکِيْمُ التِّرْمِذِيُّ وَالطَّبَرِيُّ.

الحديث رقم: أَخرجه الحاکم في المستدرک، 2/ 620، الرقم: 4071، والحکيم الترمذي في نوادر الأَصول، 4/ 60، والطبري في جامع البيان، 9/ 4، وفي التاريخ، 1/ 198، والقرطبي في الجامع لأَحکام القرآن، 9/ 90.

’’امام محمد بن اسحاق بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم جب حضرت شعیب علیہ السلام کا تذکرہ کرتے تو فرماتے: شعیب علیہ السلام اپنی قوم کی طرف تبلیغ کی خاطر (بار بار) رجوع کرنے کی بناء پر تمام انبیاء کرام علیھم السلام کے خطیب تھے۔‘‘

اس حدیث کو امام حاکم، حکیم ترمذی اور طبری نے روایت کیا ہے۔

14. فَصْلٌ فِي مَنَاقِبِ مُوْسَی کَلِيْمِ اﷲِ عليه السلام

Copyrights © 2019 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved