وحدت و اجتماعیت اور ہماری تحریکی زندگی

پیش لفظ

یہ دور ملتِ اسلامیہ کے لیے زوال و انحطاط کا دورہے۔ دورِ زوال کی ایک اہم بات یہ ہے کہ جب کوئی قوم اپنے مقام سے گرنا شروع ہوتی ہے تو پھر مکمل زوال تک اس کی واپسی ممکن نہیں ہوتی۔ زوال جب اپنی انتہا کو پہنچتا ہے تو پھر عروج کے سفر کا آغاز ہوتا ہے۔ اس کی مثال اس قدیم شکستہ عمارت کی سی ہوجاتی ہے کہ اس کی جگہ نئی عمارت اس وقت تک تعمیر نہیں کی جاسکتی جب تک کہ پہلی دیمک زدہ شکستہ بنیادوں کو ختم کرکے جڑ سے اکھاڑا نہ جائے۔

عالمی سطح پر مختلف اسلامی تحریکیں عالم گیر غلبۂ اسلام کی جدوجہد میں مصروفِ عمل ہیں۔ کسی بھی انقلابی تحریک سے مراد زوال پذیر معاشرے میں اجتماعی سطح پر اعلیٰ قدروں کے احیاء و تجدید کے لئے کی جانے والی وہ عظیم اور مثالی جد و جہد ہے جو ایک طرف اعلیٰ قدروں کے فروغ و نفوذ کا باعث بنتی ہے جب کہ دوسری جانب یہ ان عناصر کی بیخ کنی بھی کرتی ہے جو حق کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ یہ سارا عمل اس وقت تک ممکن نہیں ہو سکتا جب تک قوم کی مؤثر افرادی قوت شعوری اور عملی طور پر اس امر کی انجام دہی کے لیے تیار نہ ہوجائے۔ جب ایک مقصد کے حصول کے لیے وابستگان متحرک ہو کر اپنی منزل کے حصول کے لئے جد و جہد میں ہمہ تن ہو کر مصروفِ عمل ہو جاتے ہیں، تب کہیں جا کر وہ مشن ایک تحریک کی شکل اختیار کرکے چار دانگ عالم میں اپنی اہمیت دکھاتا ہے۔

اِنقلابی تحریک ایک واضح نصب العین کا نام ہے جو اپنے وابستگان سے مثالی سیرت و کردار کا تقاضا کرتی ہے۔ قول و فعل اور نظریہ کی ہم آہنگی کے بغیر کسی تحریک کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ۔ تحریک کا دوسرا نام ہر لمحے مقصد کے حصول کے لئے بے قرار رہنا ہے۔ یہ صرف موہوم امیدوں اور جذباتی نعروں کا نام نہیں ہے بلکہ یہ ایک دائمی اور مسلسل عمل ہے جو زمینی حقائق کے تحت زیر و بم کے ساتھ بلا اِنقطاع جاری رہتا ہے۔ یہ ایسا جان گسل سفر ہے جس میں روانی زندگی ہے اور ٹھہراؤ موت۔ انقلابی تحریک کا دیگر سیاسی تنظیموں اور جماعتوں سے موازنہ نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اس کے تقاضے روایتی سیاست جیسے نہیں بلکہ آفاقی طرز کے ہوتے ہیں۔ منظم اور تربیت یافتہ، انقلابی فکر کے حامل کارکن اس کا ہراول دستہ ہوتے ہیں جو اپنی ساری توانائیاں اور صلاحیتیں حصولِ مقصد کے لیے صرف کر تے ہیں۔ اگرچہ ہر کام کا انجام اور ہر عظیم فریضہ کی توفیق اللہ مالکِ کل نے اپنے ہاتھ میں رکھی ہے مگر یاد رہے کہ اللہ رب العزت نے کامیابی کو جد و جہد سے مشروط رکھاہے۔ اس روزِ روشن کی طرح عیاں حقیقت کے تحت تحریک عزم و ہمت اور یقین کے ساتھ ہم آہنگ ہوکر آگے بڑھتی ہے۔

اللہ رب العزت نے سورہ آل عمران کی آیت نمبر 144 میں مسلسل جد و جہد کرنے اور نا اُمید نہ ہونے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:

وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ ج قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ ط اَفَاْئِنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰٓی اَعْقَابِکُمْ ط وَمَنْ یَّنْقَلِبْ عَلٰی عَقِبَیْہِ فَلَنْ یَّضُرَّ الله شَیْئًا ط وَسَیَجْزِی اللهُ الشّٰکِرِیْنَo

اور محمد (ﷺ بھی تو) رسول ہی ہیں (نہ کہ خدا)، آپ سے پہلے بھی کئی پیغمبر (مصائب اور تکلیفیں جھیلتے ہوئے اس دنیا سے) گزر چکے ہیں، پھر اگر آپ (ﷺ) وفات فرما جائیں یا شہید کر دیے جائیں تو کیا تم اپنے (پچھلے مذہب کی طرف) الٹے پائوں پھر جائو گے؟ (یعنی کیا ان کی وفات یا شہادت کو معاذ اللہ دین اسلام کے حق نہ ہونے پر یا ان کے سچے رسول نہ ہونے پر محمول کرو گے)، اور جو کوئی اپنے الٹے پائوں پھرے گا تو وہ اللہ کا ہرگز کچھ نہیں بگاڑے گا، اور اللہ عنقریب (مصائب پر ثابت قدم رہ کر) شکر کرنے والوں کو جزا عطا فرمائے گاo

جوں جوں انقلابی تحریک حصولِ مقصد کی طرف بڑھتی ہے توں توں نئے نئے سوالات اور شبہات پیدا ہوتے ہیں لیکن تحریک کے داعی حق کے معاملے میں کسی نکتہ چیں کی کڑوی کسیلی کو کبھی خاطر میں نہیں لاتے۔ اس ضمن میں تحریک کے قائدین کی ذمہ داری ہے کہ ایسے ہر سوال اور شک و شبہ کا بر وقت ازالہ کیا جائے تاکہ کارکنوں پر بے یقینی کا سایہ بھی نہ پڑنے پائے۔ اسی طرح مشن کی ترویج اور تحریکی امور کے فروغ کے لیے جدید ذرائع یعنی انٹرنیٹ، الیکٹرانک میڈیا اور تحریر و تصنیف کی اہمیت اور افادیت سے قطعاً انکار نہیں کیا جا سکتا۔ تحریکِ منہاج القرآن احیاء اسلام کی عالم گیر تحریکوں میں سے ایک مؤثر مصطفوی انقلاب کی داعی آفاقیتحریک ہے۔ ہر تحریک کا ایک خاص طریقہ کار اور مزاج ہوتا ہے۔ تحریک منہاج القرآن کا لائحہ عمل - جیساکہ نام سے واضح ہے - قرآن حکیم کے منہاج سے تعبیر ہے۔ اگر ہم قرآنی نقطۂ نظر سے اپنی زندگی میں انقلاب لانا چاہتے ہیں تو ہمیں قرآن ہی سے رجوع کرنا چاہیے کہ اُم الکتاب نے کسی بھی تحریک کی کامیابی کا انحصار کن بنیادوں پر استوار رکھا ہے۔

اس تصنیف کا مقصد فلسفۂ وحدت و اجتماعیت پر روشنی ڈالتے ہوئے مصطفوی کارکنوں کی قرآنی اصولوں پر تربیت ہے۔ اس کے پہلے باب میں فلسفۂ وحدت و اجتماعیت کی اہمیت بیان کی گئی ہے۔ دوسرے باب میں کارکنوں کو قرآنی تمثیل کے ذریعے شہد کی مکھی کی سخت کوشی، پاکیزہ اوصاف، دیانت داری، وفا داری اور اپنے مشن کی تکمیل کو ہر شے پر مقدم رکھنے کے اوصاف اختیار کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ تیسرے باب میں حضرت ذو القرنین کے قرآنی واقعہ کی روشنی میں عظیم انقلابی قائد کے اوصاف بیان کرتے ہوئے دلائل کی روشنی میں ثابت کیا گیا ہے کہ دورِ حاضر کا ذوالقرنین کون ہے؟ چوتھے باب میں حضرت سلیمان علیہ السلام اور ہدہد والے واقعہ کے تناظر میں قیادت کی وسیع القلبی، ترغیب اور امورِ نگہبانی کو بطور مثال پیش کیا گیا ہے۔

یہ تصنیف دراصل مصطفوی انقلاب کی تحریک کے کارکنوں کے لیے قرآنی انوار سے منور ایک ہدایت نامہ ہے۔ قابلِ ذکر بات ہے کہ فلسفہ کے تناظر میں لکھی گئی ایک تصنیف ہے، مگر سلاست، روانی اور دل چسپ اندازِ تحریر نے اسے آسان اور زود فہم بنا دیا ہے۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ہمیں تحریکی حوالے سے اپنے حقوق و فرائض پوری تن دہی سے سرانجام دینے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین بجاہ سید المرسلین ﷺ)

ڈاکٹر حسن محی الدین قادری
یکم رمضان 1438ھ

Copyrights © 2020 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved