فلسفہ صوم

پیش لفظ

مذہب کا اصل مقصد درحقیقت تصفیہ عقائد‘ تزکیہ نفس و روح اور اخلاق حسنہ کی ترویج ہے۔ اسی لئے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بعثت کا مقصد ہی یہ بیان فرمایا ’’بعثت لاتمم مکارم الاخلاق‘‘ کہ مجھے مکارم اخلاق کی تکمیل کے لئے بھیجا گیا ہے۔ اس لحاظ سے انسانیت کا نصب العین اخلاقِ حسنہ کی تکمیل ہے جو تزکیہ نفس کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔

مذاہب عالم کے مطالعہ سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ دنیا کا ہر مذہب کسی نہ کسی صورت میں تزکیہ نفس اور روحانی طہارت کی اہمیت کو اجاگر کرتارہا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کے ہاں اس کے انداز مختلف اور طریقے علیحدہ ہیں مثلاً ہندوؤں کے ہاں پوجا کا تصور ہے‘ عیسائیوں کے ہاں رہبانیت کا رجحان‘ یونان کے مفکرین نے اس سلسلے میں ترک دنیا کو ضروری قرار دیا اور بدھ مت کے ہاں جملہ خواہشات کو قطعاً فنا اور ختم کر دینا لازمی قرار دیا گیا ہے‘ لیکن اسلام ایک ایسا سادہ اور آسان دین ہے، جو ان تمام خرافات اور افراط و تفریط سے پاک ہے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں تقوی اور تزکیہ نفس کے لئے ارکان اسلام کی صورت میں ایک ایسا پانچ نکاتی لائحہ عمل عطا کر دیا، جو فطرۃً انسان سے ہم آہنگ ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت آسان او ر قابلِ عمل بھی ہے۔

انہیں ارکان اسلام میں سے روزہ ایک اہم ترین ہے، جو تزکیہ نفس کے لئے اکسیر کی حیثیت رکھتا ہے۔

اس میں شک نہیں کہ روزہ کا تصور کم و بیش ہر مذہب اور ہر قوم میں موجود رہا ہے اور اب بھی ہے، مگر اسلام میں روزے کا تصور یکسر جداگانہ‘ منفرد اور مختلف ہے۔ اس سلسلے میں اختصار کے پیش نظر ہم صرف دو انگریزی اقتباسات کا اردو ترجمہ بطور شہادت نقل کرتے ہیں۔ انسائیکلوپیڈیا آف جیوز میں اس طرح لکھا ہے:

’’یہودی اور عیسائی روزہ بطور کفارئہ گناہ یا توبہ کی خاطر یا پھر ان سے بھی تنگ تر مقاصد کے لئے رکھتے تھے اور ان کا روزہ محض رسمی نوعیت کا ہوتا تھا یا پھر قدیم تر ایام میں روزہ ماتم کے نشان کے طور پر رکھاجاتا تھا۔‘‘

یعنی اس وقت روزے کی اصل مقصدیت سے صرفِ نظر کرتے ہوئے ان لوگوں نے اپنے مخصوص مفادات کے لئے روزے کو محدود کر لیا تھا، مگر اسلام نے اس میدان میں بھی انسانیت کو روزے کے ذریعے ایک نظام تربیت دیا۔ مذکورہ بالا کتاب میں اس حقیقت کا اعتراف یوں کیا گیا ہے:

’’یہ اسلام ہی ہے جس نے روزے کے بارے میں اپنا زاویہ نگاہ اور دائرہ کار وسیع کر دیا اور روزہ کے اغراض و مقاصد کو بلند کر دیا۔ زندگی کی وہ تمنائیں اور خواہشات نفسانیہ جو عام طور پر جائز ہیں اسلامی روزہ میں ان پر بھی معین عرصہ کے لئے پابندی عائد کر دی جاتی ہے اور اسلام کا ماننے والا ان پابندیوں کو اپنی دلی رغبت و مسرت کے ساتھ اپنے اوپر عائد کر لیتا ہے۔ یہ چیزیں جسم و روح دونوں کے لئے ایک مفید ورزش ہے۔‘‘

علاوہ ازیں مختلف مذاہب میں روزہ رکھنے کے مکلف بھی مختلف طبقات میں موجود ہے‘ مثلاً پارسیوں کے ہاں صرف مذہبی پیشوا‘ ہندوؤں میں برہمن اور یونانیوں کے ہاں صرف عورتیں روزے رکھنے کی پابند ہیں، جبکہ ان کے اوقاتِ روزہ میں بھی اختلاف اور افراط و تفریط پائی جاتی ہے لیکن اسلام کے پلیٹ فارم پر دنیا کے ہر خطے میں رہنے والے عاقل‘ بالغ مسلمان مرد و عورت کے ایک ہی وقت میں ماہ رمضان کے روزے فرض کئے گئے ہیں۔

ارشاد فرمایا گیا:

فَمَنْ شَهِدَ مِنْکُمُ الشَّهْرَ فَلْیَصُمْهُ.

(البقرة‘ 2: 185)

پس تم میں سے جو کوئی اس مہینہ کو پالے تو وہ اس کے روزے ضرور رکھے۔

ماہِ رمضان ہر سال رحمتوں‘ برکتوں اور مغفرتوں کے انمٹ خزانے لے کر سایہ فگن ہو جاتا ہے۔ اس ماہ مبارک کے کچھ ایسے تقاضے اور ذمہ داریاں بھی توجہ طلب ہیں، جن سے عہدہ برآ ہونا ہر خاص و عام کا دینی فریضہ ہے۔

اس میں شک نہیں کہ مسلمان خواہ دیارِ غیر میں ہو یا کسی اسلامی ریاست کا باشندہ تقویٰ اس کا انفرادی عمل ہے، مگر غیر مسلم معاشروں میں اسلام کے نام لیواؤں کے لئے یہ ماہِ مقدس دوسرے مسلمانوں سے نسبتاً زیادہ صبر آزما‘ ضبط نفس اور ایمانی امتحان کی رزمگاہ ہے جہاں قدم قدم پر بدکاری‘ عریانی و فحاشی سے رچے ہوئے بازار اور محافلِ شباب و شراب کی دلآویزیاں‘‘ ہر آن انہیں اپنی طرف متوجہ کرتی ہیں۔ انہیں خِرمنِ ایمان و تقویٰ جلانے کی ہزارہا شیطانی کوششوں کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔ ایسے میں جلوئہ دانش فرنگ سے خیرہ نہ ہونے والی آنکھیں اور محتاط دل ہی یقینا تقویٰ کے مطلوبہ معیار پر پورا اتر سکتے ہیں۔

علاوہ ازیں روزہ بھوک پیاس کے احساس کے ذریعے ہمیں اپنے اردگرد مسلمان بھائیوں کی حاجتوں کی طرف بھی متوجہ کرتا ہے۔ ہم میں سے کتنے صاحبِ ثروت حضرات ایسے ہیں جو روزہ ٹھنڈے دفاتر‘ ائرکنڈیشنڈ گھروں اور گاڑیوں میں گزار کر شام کو انواع و اقسام کے کھانوں‘ رنگا رنگ پھلوں اور نوع بنوع مشروبات سے چنے ہوئے دسترخوان پر بیٹھتے وقت باہر گلیوں اور سڑکوں پر بیٹھے ہوئے غریب و مفلس روزہ دار مسلمان بھائیوں کی ضرورتوں کا احساس بھی کرتے ہیں۔ عین ممکن ہے ہمارے پڑوس میں کوئی خالی پیٹ پانی کے گھونٹ سے روزہ رکھ رہا ہو اور شام کے کھانے کے لئے کسی کے ہاتھوں کی طرف دیکھ رہا ہو۔ لہذا روزہ ہمیں یہ تعلیم بھی دیتا ہے کہ ہم خود ہی پرتکلف کھانوں اور ٹھنڈے میٹھے مشروبات سے شکم سیر نہ ہوں، بلکہ اپنے نادار‘ مفلس‘ فاکہ کش اور تنگ دست مسلمان بھائیوں کی ضرورتوں کا بھی خیال رکھیں، جن کے پاس اتنی طاقت نہیں کہ وہ لباس و طعام خرید کر اپنا اور اپنے بیوی بچوں کا تن ڈھانپ سکیں اور پیٹ پال سکیں۔

یہ ماہ مقدس ہمارے لئے یہی پیغام لاتا ہے کہ ہم جہاں بھی ہوں‘ جس حالت میں بھی ہوں، ایک دوسرے کے لئے رحمت و شفقت کا پیکر بن جائیں‘ دوسروں کی ضرورتوں کا بھی اسی طرح احساس کریں، جس طرح اپنی ضرورتوں کو محسوس کرتے ہیں۔ اپنی خوشیوں میں معاشرے کے ستم رسیدہ حضرات ‘ یتیموں اور بیواؤں کو بھی شامل کریں کہ یہی اصل عید ہے۔ اپنے معاشرے کو پرکیف روحانی ماحول فراہم کرنے کے لئے رمضان شریف کا یہ پیغام گھر گھر اور گلی گلی پہنچائیں۔ مسلمانوں کو رمضان المبارک میں قرآنی تعلیمات کی تفہیم کے مواقع دیں۔ گھروں میں قرآن خوانی اور قرآن فہمی کی ترغیب دیں‘ اپنے قول و فعل سے تمام غیر اسلامی اور ناپسندیدہ شعائر کی مذمت کریں۔ ریاکاری‘ بدکاری‘ غیبت‘ عیب جوئی‘ مکر و فریب‘ تعصب‘ بغض و حسد اور جھوٹ جیسے روحانی امراض سے خود کو بچائیں اور ان کے مہلک اثرات سے دوسروں کو بھی آگاہ کریں۔ یہی تقویٰ کا تقاضا‘ اسلامی تعلیمات کا مدعا‘ روزے کا مقصد اور تحریک منہاج القرآن کا پیغام ہے۔

روزہ کی حکمت و فلسفہ پر مشتمل یہ مختصر کتاب ارکان اسلام کے ضمن میں دیئے گئے خطبات جمعہ کا مرتبہ مجموعہ ہے، جس میں قائد انقلاب پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہرالقادری مدظلہ نے انتہائی عام فہم انداز میں جدید سائنسی تحقیقات کے حوالے سے روزے کی بعض حکمتیں سمجھائی ہیں۔ بالخصوص تزکیہ نفس جیسی روزہ کی بنیادی حکمت کو جس انوکھے اور جدید علمی انداز میں زیر بحث لایا گیا ہے‘ اس کی شاید ہی کہیں نظیر مل سکے۔

خاکِ رہ صلحا

علی اکبر قادری

Copyrights © 2019 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved