روزہ اور قیام اللیل کی فضیلت پر منتخب آیات و احادیث

رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں تلاش لیلۃ القدر کا بیان

فَصْلٌ فِي تَحَرِّي لَیْلَةِ الْقَدْرِ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ

رمضان کے آخری عشرہ میں تلاشِ لیلۃ القدر کا بیان

اَلآیَاتُ الْقُرْآنِیَّةُ

وَوٰعَدْنَا مُوْسٰی ثَـلٰثِیْنَ لَیْلَةً وَّاَتْمَمْنٰهَا بِعَشْرٍ فَتَمَّ مِیْقٰتُ رَبِّهٖٓ اَرْبَعِیْنَ لَیْلَةًج وَقَالَ مُوْسٰی لِاَخِیْهِ هٰـرُوْنَ اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ وَاَصْلِحْ وَلاَ تَتَّبِعْ سَبِیْلَ الْمُفْسِدِیْنَo

(الأعراف، 7: 142)

’’اور ہم نے موسیٰ(علیہ السلام) سے تیس راتوں کا وعدہ فرمایا اور ہم نے اسے (مزید) دس (راتیں) ملاکر پورا کیا، سو ان کے رب کی (مقرر کردہ) میعاد چالیس راتوں میں پوری ہوگئی۔ اور موسیٰ(علیہ السلام) نے اپنے بھائی ہارون(علیہ السلام) سے فرمایا: تم (اس دوران) میری قوم میں میرے جانشین رہنا اور (ان کی) اصلاح کرتے رہنا اور فساد کرنے والوں کی راہ پر نہ چلنا (یعنی انہیں اس راہ پر نہ چلنے دینا)۔‘‘

اَلأَحَادِیْثُ النَّبَوِیَّةُ

1. عَنْ عَائِشَةَ رضي اﷲ عنھا أَنَّ رَسُوْلَ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم: قَالَ: تَحَرَّوْا لَیْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْوِتْرِ مِنَ الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ، وفي روایۃ: فِي السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ. مُتَّفَقٌ عَلَیْهِ.

أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب صلاة التراویح، باب تحري لیلة القدر في الوتر من العشر الأواخر، 2/710، الرقم: 1913، ومسلم في الصحیح، کتاب الصیام، باب فضل لیلة القدر والحث علی طلبها وبیان محلها وأرجی أوقات طلبها، 2/823، الرقم: 1165/ 1169، والترمذي في السنن، کتاب الصوم عن رسول اﷲ صلی الله علیه وآله وسلم، باب ما جاء في لیلة القدر، وقال حدیث عائشة رضي اﷲ عنها حدیث حسن صحیح، 3/158، الرقم: 792، وأبوداود في السنن، کتاب الصلاة، باب من روی في السبع الأواخر، 2/53، الرقم: 1385، ومالک في الموطأ، 1/319.320، الرقم: 693-694.

’’حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شبِ قدر کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کیا کرو اور ایک روایت میں ہے کہ رمضان کی آخری سات طاق راتوں میں تلاش کیا کرو۔‘‘ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

2. عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضي اﷲ عنہما أَنَّ رِجَالًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلی الله علیه وآله وسلم أُرُوْا لَیْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْمَنَامِ فِي السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ. فَقَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم: أَرَی رُؤْیَاکُمْ قَدْ تَوَاطَأَتْ فِي السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ فَمَنْ کَانَ مُتَحَرِّیهَا فَلْیَتَحَرَّهَا فِي السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ. مُتَّفَقٌ عَلَیْهِ.

2: أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب الصوم، باب قول النبي صلی الله علیه وآله وسلم: إذا رأیتم الہلال فصوموا وإذا رأیتموہ فأفطروا، 2/709، الرقم: 1911، ومسلم في الصحیح، کتاب الصیام، باب فضل لیلة القدر والحث علی طلبہا وبیان محلہا وأرجی أوقات طلبہا، 2/822، الرقم: 1165، ومالک في الموطأ، 1/321، الرقم: 697، وأحمد بن حنبل في المسند، 2/17، الرقم: 4671، والنسائي في السنن الکبری، 2/272، الرقم: 3399.

’’حضرت عبد اللہ ابن عمر رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعض اصحاب کو شب قدر خواب میں آخری سات راتوں کے اندر دکھائی گئی۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں دیکھتا ہوں کہ تمہارے خواب آخری سات راتوں پر متفق ہو گئے ہیں، لہٰذا جو تم میں سے اسے تلاش کرنا چاہے تو وہ آخری سات راتوں میں تلاش کرے۔‘‘

یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

3. عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِیْهِ رضی الله عنه قَالَ: رَأَی رَجُلٌ أَنَّ لَیْلَةَ الْقَدْرِ لَیْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِیْنَ. فَقَالَ النَّبِيُّ صلی الله علیه وآله وسلم: أَرَی رُؤْیَاکُمْ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ فَاطْلُبُوهَا فِي الْوِتْرِ مِنْهَا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَأَبُوْ یَعْلٰی.

3: أخرجه مسلم في الصحیح، کتاب الصیام، باب فضل لیلة القدر والحث علی طلبها وبیان محلها وأرجی أوقات طلبها، 2/823، الرقم: 1165، وأبو یعلی في المسند، 9/293، الرقم: 5419، والبیهقي في السنن الکبری، 4/308، الرقم: 8313، وابن حزم في المحلی، 7/34.

’’حضرت عبد اللہ ابن عمر رضی اﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے رمضان کی ستائیسویں شب میں لیلۃ القدر کو خواب میں دیکھا، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں دیکھتا ہوں کہ تمہارا خواب آخری دس دنوں میں واقع ہوا ہے۔ پس لیلۃ القدر کو آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔‘‘ اس حدیث کو امام مسلم اور ابویعلی نے روایت کیا ہے۔

4. قَالَ أَبُوْ سَعِیْدٍ اعْتَکَفْنَا مَعَ النَّبِيِّ صلی الله علیه وآله وسلم الْعَشْرَ الْأَوْسَطَ مِنْ رَمَضَانَ فَخَرَجَ صَبِیْحَةَ عِشْرِیْنَ فَخَطَبَنَا وَقَالَ: إِنِّي أُرِیْتُ لَیْلَةَ الْقَدْرِ ثُمَّ أُنْسِیْتُهَا أَوْ نُسِّیْتُهَا فَالْتَمِسُوْهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ فِي الْوِتْرِ وَإِنِّي رَأَیْتُ أَنِّي أَسْجُدُ فِي مَائٍ وَطِیْنٍ فَمَنْ کَانَ اعْتَکَفَ مَعَ رَسُوْلِ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم فَلْیَرْجِعْ فَرَجَعْنَا وَمَا نَرَی فِي السَّمَائِ قَزَعَةً فَجَائَ تْ سَحَابَةٌ فَمَطَرَتْ حَتَّی سَالَ سَقْفُ الْمَسْجِدِ وَکَانَ مِنْ جَرِیْدِ النَّخْلِ وَأُقِیْمَتِ الصَّلَاةُ فَرَأَیْتُ رَسُوْلَ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم یَسْجُدُ فِي الْمَائِ وَالطِّیْنِ حَتَّی رَأَیْتُ أَثَرَ الطِّیْنِ فِي جَبْهَتِهِ.

رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَأَبُوْ یَعْلٰی.

أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب صلاة التراویح، باب التماس لیلة القدر في السبع الأواخر، 2/709، الرقم: 1912، وأبو یعلی في المسند، 2/462، الرقم: 1280، وأحمد بن حنبل في المسند، 3/24، 60، الرقم: 11202، 11597.

’’حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رمضان کے درمیانی عشرے میں اعتکاف کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیس تاریخ کی صبح کو باہر تشریف لے گئے اور خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: مجھے شب قدر دکھائی گئی لیکن میں اُسے بھول گیا یا وہ مجھے بھلا دی گئی۔ پس اُسے رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو اور میں نے دیکھا کہ میں پانی اور مٹی میں سجدہ کر رہا ہوں۔ پس جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اعتکاف کیا ہے اسے لوٹ جانا چاہیے۔ ہم لوٹ گئے اور ہمیں آسمان میں کوئی بادل نظر نہیں آتا تھا۔ چنانچہ ایک بدلی آئی اور برسنے لگی۔ یہاں تک کہ مسجد کی چھت ٹپکنے لگی جو کھجور کی شاخوں کی تھی۔ نماز قائم کی گئی تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پانی اور مٹی میں سجدہ کرتے ہوئے دیکھا۔ یہاں تک کہ مٹی کا نشان میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشانی میں دیکھا۔‘‘ اِس حدیث کو امام بخاری اور ابویعلی نے روایت کیا ہے۔

5. عَنْ عَائِشَةَ رضي اﷲ عنہا قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم یُجَاوِرُ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ وَیَقُوْلُ: تَحَرَّوْا لَیْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَالتِّرْمِذِيُّ.

أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب صلاة التراویح، باب التماس لیلة القدر في السبع الاوخر، 2/709، الرقم: 1916، والترمذي في السنن، کتاب الصوم، باب ما جاء في لیلة القدر، 3/158، الرقم: 792، وابن راہویہ في المسند، 2/170، الرقم: 670.

’’حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف بیٹھتے تھے اور فرمایا کرتے تھے: شب قدر کو رمضان کے آخری عشرے میں تلاش کیا کرو۔‘‘

اِس حدیث کو امام بخاری اور ترمذی نے روایت کیا ہے۔

6. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي اﷲ عنہما أَنَّ النَّبِيَّ صلی الله علیه وآله وسلم قَالَ: الْتَمِسُوْهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ لَیْلَةَ الْقَدْرِ فِي تَاسِعَةٍ تَبْقَی، فِي سَابِعَةٍ تَبْقَی، فِي خَامِسَةٍ تَبْقَی. رَوَاهُ الْبُخَاريُّ وَالْبَیْهَقِيُّ.

6: أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب صلاۃ التراویح، باب التماس لیلة القدر في السبع الأواخر، 2/709، الرقم: 1917، والبیهقي في شعب الإیمان، 3/328، الرقم: 3680، والطیالسي في المسند، 1/78، الرقم: 576، والشوکاني في نیل الأوطار، 4/370.

’’حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اُسے (شبِ قدر کو) رمضان کے آخری عشرے میں تلاش کرو۔ شب قدر نو راتیں باقی رہنے پر ہے یا سات باقی رہنے پر یا پانچ باقی رہنے پر۔‘‘

اس حدیث کو امام بخاری اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔

7. عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَیْشٍ یَقُوْلُ: سَأَلْتُ أُبَيَّ بْنَ کَعْبٍ رضی الله عنه فَقُلْتُ: إِنَّ أَخَاکَ ابْنَ مَسْعُوْدٍ یَقُوْلُ: مَنْ یَقُمْ الْحَوْلَ یُصِبْ لَیْلَةَ الْقَدْرِ فَقَالَ: رَحِمَهُ ﷲُ أَرَادَ أَنْ لَا یَتَّکِلَ النَّاسُ أَمَا إِنَّهُ قَدْ عَلِمَ أَنَّهَا فِي رَمَضَانَ وَأَنَّهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ وَأَنَّهَا لَیْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِیْنَ ثُمَّ حَلَفَ لَا یَسْتَثْنِي أَنَّهَا لَیْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِیْنَ. فَقُلْتُ: بِأَيِّ شَیْئٍ تَقُوْلُ ذَلِکَ یَا أَبَا الْمُنْذِرِ؟ قَالَ: بِالْعَلَامَةِ أَوْ بِالْآیَةِ الَّتِي أَخْبَرَنَا رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم: أَنَّهَا تَطْلُعُ یَوْمَئِذٍ لَا شُعَاعَ لَهَا. رَوَاهُ مُسْلِم.

7: أخرجه مسلم في الصحیح، کتاب الصیام، باب فضل لیلة القدر والحث علی طلبها وبیان محلها وأرجی أوقات طلبها، 2/828، الرقم: 762، والترمذی في السنن، کتاب تفسیر القرآن، باب ومن سورۃ القدر، 5/445، الرقم: 3351، وأحمد بن حنبل في المسند، 5/130، الرقم: 21231، والنسائي في السنن الکبری، 2/274، الرقم: 3406، وابن حبان في الصحیح، 8/444، الرقم: 3689، وابن خزیمة في الصحیح، 3/331، الرقم: 2191.

حضرت زر بن حبیش علیہ الرحمۃ (جو اکابر تابعین میں سے ہیں) بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ کے بھائی عبد اﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جو شخص تمام سال قیام کرے گا وہ لیلۃ القدر کو پالے گا۔ حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ابن مسعود رضی اللہ عنہ پر رحم فرمائے، ان کا ارادہ یہ تھا کہ کہیں لوگ ایک رات پر تکیہ کر کے نہ بیٹھ جائیں ورنہ وہ خوب جانتے تھے کہ لیلۃ القدر رمضان میں ہے اور رمضان کے آخری عشرے میں ہے اور اغلب طور پر وہ رمضان کی ستائیسویں شب ہے، پھر انہوں نے بغیر اِن شاء اللہ کہے قسم کھا کر کہا کہ لیلۃ القدر رمضان کی ستائیسویں شب ہی ہے۔ میں نے کہا: اے ابو المنذر! تم یہ بات اتنے یقین سے کس وجہ سے کہہ رہے ہو ؟ انہوں نے کہا اس دلیل یا اس نشانی کی بنا پر جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں بتائی ہے اور وہ یہ ہے کہ اس رات کے بعد جب سورج طلوع ہوتا ہے تو اس میں شعائیں نہیں ہوتیں۔‘‘

اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

8. عَنْ أَبِي سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ رضی الله عنه قَالَ: إِنَّ رَسُوْلَ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم اعْتَکَفَ الْعَشْرَ الْأَوَّلَ مِنْ رَمَضَانَ ثُمَّ اعْتَکَفَ الْعَشْرَ الْأَوْسَطَ فِي قُبَّةٍ تُرْکِیَّةٍ عَلَی سُدَّتِهَا حَصِیْرٌ قَالَ: فَأَخَذَ الْحَصِیْرَ بِیَدِهِ فَنَحَّاهَا فِي نَاحِیَةِ الْقُبَّةِ ثُمَّ أَطْلَعَ رَأْسَهُ فَکَلَّمَ النَّاسَ فَدَنَوْا مِنْهُ فَقَالَ: إِنِّي اعْتَکَفْتُ الْعَشْرَ الْأَوَّلَ أَلْتَمِسُ هَذِهِ اللَّیْلَةَ ثُمَّ اعْتَکَفْتُ الْعَشْرَ الْأَوْسَطَ ثُمَّ أُتِیْتُ فَقِیْلَ لِي: إِنَّهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ فَمَنْ أَحَبَّ مِنْکُمْ أَنْ یَعْتَکِفَ فَلْیَعْتَکِفْ فَاعْتَکَفَ النَّاسُ مَعَهُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَابْنُ حِبَّانَ.

أخرجه مسلم في الصحیح، کتاب الصیام، باب فضل لیلة القدر والحث علی طلبها وبیان محلها وأرجی أوقات طلبها، 2/825، الرقم: 1167، وابن حبان في الصحیح، 8/439، الرقم: 3684، والبیهقي في السنن الکبری، 4/314، الرقم: 8350، والشوکاني في نیل الأوطار، 4/368.

’’حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رمضان المبارک کے پہلے عشرے میں اعتکاف کیا، پھر ایک ترکی خیمہ میں رمضان کے درمیانی عشرے میں اعتکاف کیا، جس کے دروازے پر چٹائی لگی ہوئی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے وہ چٹائی ہٹائی اور خیمہ کے ایک کونے میں کر دی، پھر خیمہ سے سر باہر نکالا اور لوگوں سے مخاطب ہوئے۔ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: میں اس رات کی تلاش میں پہلے عشرے میں اعتکاف کرتا تھا، پھر میں درمیانی عشرہ میں اعتکاف بیٹھا، پھر میرے پاس کوئی (فرشتہ) آیا، میری طرف وحی کی گئی کہ یہ آخری عشرے میں ہے تم میں سے جس شخص کو پسند ہو وہ اعتکاف کرے، لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اعتکاف کیا۔‘‘ اس حدیث کو امام مسلم اور ابن حبان نے روایت کیا ہے۔

9. عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: قَالَ ذُکِرَتْ لَیْلَةُ الْقَدْرِ عِنْدَ أَبِي بَکْرَةَ فَقَالَ: مَا أَنَا مُلْتَمِسُهَا لِشَیْئٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُوْلِ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم إِلَّا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ فَإِنِّي سَمِعْتُهُ یَقُوْلُ: الْتَمِسُوْهَا فِي تِسْعٍ یَبْقَیْنَ أَوْ فِي سَبْعٍ یَبْقَیْنَ أَوْ فِي خَمْسٍ یَبْقَیْنَ أَوْ فِي ثَـلَاثِ أَوَاخِرِ لَیْلَةٍ. قَالَ: وَکَانَ أَبُو بَکْرَةَ یُصَلِّي فِي الْعِشْرِیْنَ مِنْ رَمَضَانَ کَصَلَاتِهِ فِي سَائِرِ السَّنَةِ. فَإِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ اجْتَهَدَ.

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَحْمَدُ، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِیْثٌ حَسَنٌ صَحِیْحٌ.

أخرجه الترمذي في السنن، کتاب الصوم، باب ما جاء في لیلة القدر، 3/160، الرقم: 794، وأحمد بن حنبل في المسند، 3/71، الرقم: 11697.

’’عینیہ بن عبد الرحمن فرماتے ہیں مجھ سے میرے والد نے بیان کرتے ہوئے فرمایا: میں نے ابوبکرہ کے پاس لیلۃ القدر کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا: میں اسے تلاش نہیں کرتا کیونکہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک بات سنی (آپ نے فرمایا) آگاہ رہو! وہ رمضان کے آخری عشرہ میں ہے، نیز میں نے سنا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے تلاش کرو جب نو یا سات یا پانچ یا تین راتیں یا آخری رات باقی رہ جائے۔ عبدالرحمن کہتے ہیں: ابوبکرہ، رمضان کے پہلے بیس دنوں میں عام دنوں کی طرح نماز پڑھتے، جب آخری دس دن شروع ہوتے تو معمول سے ہٹ کر زیادہ عبادت میں مشغول ہو جاتے۔‘‘

اس حدیث کو امام ترمذی اور احمد نے روایت کیا ہے اور امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

10. عَنْ عَائِشَةَ رضي اﷲ عنہا قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم یُجَاوِرُ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ وَیَقُوْلُ: تَحَرَّوْا لَیْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَان.

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: حَدِیْثُ عَائِشَةَ حَدِیثٌ حَسَنٌ صَحِیْحٌ.

أخرجه الترمذي في السنن، باب ما جاء في لیلة القدر، 3/159، الرقم: 792

’’حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان شریف کے آخری دس دنوں میں اعتکاف بیٹھتے اور ارشاد فرماتے رمضان کے آخری عشرہ میں لیلۃ القدر کو تلاش کرو۔‘‘

اس حدیث کو امام ترمذی نے روایت کیا اور امام ترمذی فرماتے ہیں: حدیث عائشہ حسن صحیح ہے۔

11. عَنْ مُعَاوِیَةَ بْنِ أَبِي سُفْیَانَ رضي اﷲ عنهما عَنِ النَّبِيِّ صلی الله علیه وآله وسلم فِي لَیْلَةِ الْقَدْرِ قَالَ: لَیْلَةُ الْقَدْرِ لَیْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِیْنَ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالْبَیْهَقِيُّ.

أخرجه أبو داود في السنن، کتاب الصلاة، باب من قال سبع وعشرین، 2/53، الرقم: 1386، وابن حبان في الصحیح، 8/436، الرقم: 3680، والبیهقي في السنن الکبری، 4/312، الرقم: 8338، والهیثمي في موارد الظمآن، 1/231، الرقم: 925.

’’حضرت معاویہ بن ابو سفیان رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ شب قدر ستائیسویں رات کی ہوتی ہے۔‘‘

اِس حدیث کو امام ابو داود اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔

12. عَنْ أَبِي سَعِیْدٍ الْخُدْرِيِّ رضی الله عنه قَالَ: اعْتَکَفْنَا مَعَ رَسُوْلِ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم الْعَشْرَ الْأَوْسَطَ مِنْ رَمَضَانَ فَقَالَ: إِنِّي أُرِیْتُ لَیْلَةَ الْقَدْرِ فَأُنْسِیْتُهَا فَالْتَمِسُوْهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ فِي الْوِتْرِ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه وَابْنُ أَبِي شَیْبَةَ.

أخرجه ابن ماجہ في السنن، کتاب الصیام، باب في لیلة القدر، 1/561، الرقم: 1766، وابن أبي شیبة في المصنف، 2/326، الرقم: 9539، والمقدسي في فضائل الأعمال، 1/53، الرقم: 219.

’’حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ہم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رمضان کے درمیانی عشرہ میں اعتکاف بیٹھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے لیلۃ القدر دکھائی گئی تھی لیکن میں اسے بھول گیا ہوں، اسے آخری عشرہ میں تلاش کیا کرو۔‘‘

اس حدیث کو امام ابن ماجہ اور ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے۔

13. عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رضی الله عنه أَنَّهُ قَالَ: یَا رَسُوْلَ ﷲِ! أَخْبِرْنَا عَنْ لَیْلَةِ الْقَدْرِ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم: هِيَ فِِي رَمَضَانَ الْتَمِسُوْهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ فَإِنَّهَا وِتْرٌ فِي إِحْدَی وَعِشْرِیْنَ أَوْثَـلَاثٍ وَعِشْرِیْنَ أَوْخَمْسٍ وَعِشْرِیْنَ أَوْسَبْعٍ وَعِشْرِیْنَ أَوْ تِسْعٍ وَعِشْرِیْنَ أَوْ فِي آخِرِ لَیْلَةٍ فَمَنْ قَامَهَا إِیْمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ.

أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 5/318، 321، 324، الرقم: 22765، 22793، 22815، والطبراني في المعجم الأوسط، 2/71، الرقم: 1284، والمنذري في الترغیب والترهیب، 2/65، الرقم: 1507، والهیثمي في مجمع الزوائد، 3/ 175-176.

’’حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اﷲ! ہمیں شبِ قدر کے بارے میں بتائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ (رات) ماہِ رمضان کے آخری عشرے میں اکسویں، تیئسویں، پچیسویں، ستائیسویں، انتیسویں یا رمضان کی آخری رات ہوتی ہے۔ جو بندہ اس میں ایمان و ثواب کے ارادہ سے قیام کرے اس کے اگلے پچھلے (تمام) گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۔‘‘

اس حدیث کو امام احمد اور طبرانی نے روایت کیا ہے۔

14. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي اﷲ عنہما: أَنَّ رَجُلًا أَتَی نَبِيَّ اﷲ صلی الله علیه وآله وسلم فَقَالَ: یا نَبِيَّ ﷲِ، إِنِّي شَیْخٌ کَبِیْرٌ عَلِیْلٌ یَشُقُّ عَلَيَّ الْقِیَامُ، فَأْمُرْنِي بِلَیْلَةٍ لَعَلَّ اﷲَ یُوَفِّقُنِي فِیْهَا لِلَیْلَةِ الْقَدْرِ، فَقَالَ: عَلَیْکَ بِالسَّابِعَةِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ.

أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 1/240، الرقم: 2149، والطبراني في المعجم الکبیر، 11/311، الرقم: 11836، والبیهقي في السنن الکبری، 4/312، الرقم: 8340، وابن عبد البر في التمهید، 21/213، وأبو نعیم في حلیۃ الأولیائ، 9/230.

’’حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اﷲ کے نبی میں ایک ضعیف اور بیمار آدمی ہوں، میرے لئے (طویل) قیام بہت مشکل ہے لہٰذا میرے لیے کسی ایسی رات میں قیام کا حکم فرمائیں کہ جس میں اﷲ تعالی مجھے لیلۃ القدر عطا فرما دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (پھر تو) تیرے لئے (رمضان کے آخری عشرہ کی) ساتویں رات جاگنا ضروری ہے۔ ‘‘

اِس حدیث کو امام احمد نے روایت کیا ہے۔

15. عَنْ عِکْرَمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي اﷲ عنہما أَنَّ رَسُوْلَ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم قَالَ فِي لَیْلَةِ الْقَدْرِ: لَیْلَةٌ سَمْحَةٌ طَلْقَةٌ لَا حَارَّةٌ وَلَا بَارِدَةٌ تُصْبِحُ شَمْسُهَا صُبَیْحَهَا ضَعِیْفَةً حَمْرَائَ. رَوَاهُ ابْنُ خُزَیْمَةَ وَالْبَیْهَقِيُّ.

أخرجه ابن خزیمة في الصحیح، 3/331، الرقم: 2192، والبیهقی في شعب الإیمان، 3/334، الرقم: 3693

’’حضرت عکرمہ حضرت ابن عباس رضی اﷲ عنہما روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شبِ قدر کے بارے میں ارشاد فرمایا: یہ ایک خوشگوار و معتدل کھلی کھلی (گھٹن سے محفوظ) رات ہے نہ گرم نہ سرد اس کی صبح سورج کمزور شعاعوں کے ساتھ سرخ طلوع ہوتا ہے۔‘‘ اس حدیث کو امام ابن خزیمہ اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔

Copyrights © 2019 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved