نصاب اعتکاف

عبادات : خاموشی اور کم گوئی

معزز شرکاء اعتکاف یہ مضامین محض آپ کے علم میں اضافے کے لئے شاملِ نصاب نہیں کئے گئے بلکہ عمل میں ڈھالنے کے لئے پڑھائے جا رہے ہیں، لہٰذا ایک ایک جملہ یوں سماعت کریں جیسے یہ دل میں اُتر رہا ہو۔

خاموشی کا مفہوم

خاموشی کے لفظی معنی چپ رہنے کے ہیں مگر اہلِ تصوف کے نزدیک خاموشی باطنی توجہ کو کہتے ہیں اور اس سے مراد یہ ہے کہ ایسی بات کہی جائے جس کی ضرورت ہو اور ہر اس بات سے بچا جائے جس میں کوئی دینی و دُنیوی منفعت کا پہلو موجود نہ ہو۔

’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ ہمیں ایسا عمل بتائیں جس سے ہم جنت میں داخل ہوجائیں۔ آپ علیہ السلام نے خاموش رہنے کی تلقین فرمائی۔ لوگوں نے کہا کہ ایسا تو بہت مشکل ہے۔ اس پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے جواب دیا کہ صرف بھلائی کی بات کی جائے۔‘‘ (غزالی، احیاء علوم الدین، 3 : 246)

خاموشی کی اقسام

شیخ اکبر علامہ ابن عربی (م 638ھ) نے خاموشی کی دو اقسام بیان فرمائی ہیں :

  1. زبان کی خاموشی
  2. دل کی خاموشی

1۔ زبان کی خاموشی یہ ہے کہ زبان ان باتوں کو چھوڑ دے جن کا تعلق غیر اﷲ کے ساتھ ہو، خاموشی کی یہ قسم عوام اور راہِ طریقت کے سالکین کی منزل ہے۔

2۔ دل کی خاموشی یہ ہے کہ دل میں شیطانی وسوسہ کسی وقت بھی پیدا نہ ہو۔ خاموشی کی یہ قسم مقربین، اہل مشاہدہ اور صاحبانِ حال کی منزل ہے۔

جو شخص زبان کا خاموش ہو لیکن دل کا خاموش نہ ہو تو اس کے گناہوں کا وزن ہلکا ہوتا ہے۔ جس شخص کا دل خاموش ہو لیکن زبان خاموش نہ ہو تو وہ جب بھی بولے گا حکمت و دانائی کی بات کرے گا۔ جس شخص کی زبان اور دل دونوں خاموش ہوں اس پر مخفی اسرار کھلتے اور تجلیاتِ رباّنی وارد ہوتی ہیں۔ ایسا شخص جس کی نہ زبان خاموش رہے اور نہ دل، شیطان کا غلام اور تابع ہوتا ہے۔ حضور داتا گنج بخش علیہ الرحمۃ (م 470ھ) اپنی کتاب ’’کشف المحجوب‘‘ میں لکھتے ہیں :

’’کلام کی دو اقسام ہیں۔ ایک کلامِ حق ہے اور دوسرا کلامِ باطل، سکوت بھی دو طرح کے ہیں۔ ایک سکوت حصولِ مقصد کے لیے اور دوسرا سکوت غفلت کی وجہ سے ہے۔

حضرت علی ہجویری علیہ الرحمۃ اس حوالے سے ایک حکایت نقل کرتے ہیں کہ ایک روز ابوبکر شبلی علیہ الرحمۃ بغداد کے ایک محلہ میں جا رہے تھے کہ ایک شخص کہہ رہا تھا۔

اَلسُّکُوْتُ خَيْرٌ مِّنَ الْکَلَامِ

’’خاموش رہنا بولنے سے اچھا ہے۔‘‘

حضرت شبلی رحمۃ اللہ علیہ نے اسے ٹوکا اور فرمایا : تیرا خاموش رہنا بولنے سے اچھا ہے اور میرا بولنا خاموش رہنے سے بہتر ہے، کیونکہ تیرا بولنا لغو ہے اور تیری خاموشی ہزل (بیہودہ بات) ہے، جبکہ میرا کلام میرے سکوت سے یوں بہتر ہے کہ میرا سکوت حلم ہے اور میرا کلام علم ہے۔ اگر نہ کہوں تو حلیم ہوں اور اگر کہوں تو علیم ہوں۔‘‘ (علی ہجویری، کشف المحجوب : 514)

خاموشی کی فضیلت و اہمیت

خاموشی بہت بڑی نعمت کا پیش خیمہ ہے۔ اس کے باعث اﷲ تعالیٰ اپنے بندے کو صحیح علم اور راہِ نجات کا شعور عطا فرماتا ہے۔ اس سے درست قول و عمل کی توفیق نصیب ہوتی ہے۔ اس کا مقصد دنیوی گفتگو سے پرہیز کرنا اور جو کلام اﷲ تعالیٰ کے ذکر سے غافل کر دے اس سے بچنا ہے۔

(1) خاموشی نعمتِ خداوندی کے حصول کا ذریعہ ہے

خاموشی اختیار کرنا انعاماتِ خداوندی سے بہرہ ور ہونا ہے۔ اس بات پر خود قرآنِ حکیم شاہد ہے۔ اﷲ نے جب حضرت زکریا علیہ السلام کو بیٹے کی صورت میں بہت بڑی نعمت عطا کرنا چاہی تو انہیں خاموش رہنے کی تلقین فرمائی اور اس کے ساتھ صبح و شام تسبیح کرنے کا بھی حکم فرمایا، ارشادِ باری تعالیٰ ہے :

قَالَ آيَتُكَ أَلاَّ تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ إِلاَّ رَمْزًا وَاذْكُر رَّبَّكَ كَثِيرًا وَسَبِّحْ بِالْعَشِيِّ وَالْإِبْكَارِO

(آل عمران، 3 : 41)

’’(اﷲ تعالیٰ نے) فرمایا : تمہارے لئے نشانی یہ ہے کہ تم تین دن تک لوگوں سے سوائے اشارے کے بات نہیں کر سکو گے، اور اپنے رب کو کثرت سے یاد کرو اور شام اور صبح اس کی تسبیح کرتے رہو۔‘‘

(2) خاموشی اہلِ معرفت کا شیوہ

اہلِ معرفت کا شیوہ ہے کہ وہ اپنے کلام پر خاص نگران ہوتے ہیں، اگر تمام کلام حق ہو توکہہ دیتے ہیں ورنہ خاموش رہتے ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ ہماری ہر بات کو اﷲ تعالیٰ براہِ راست سن رہا ہے بلکہ وہ ہماری آپس کی پوشیدہ باتوں اور سرگوشیوں سے بھی واقف ہے اور فرشتے اس کا تحریری ریکارڈ رکھنے پر مامور ہیں، وہ انسان کے منہ سے نکلا ہوا ہر لفظ ضبطِ تحریر میں لاتے ہیں جو لوگ اس حقیقت سے منہ پھیرتے ہیں قرآن ان کے متعلق فرماتا ہے :

أَمْ يَحْسَبُونَ أَنَّا لَا نَسْمَعُ سِرَّهُمْ وَنَجْوَاهُم بَلَى وَرُسُلُنَا لَدَيْهِمْ يَكْتُبُونَO

(الزخرف، 43 : 80)

’’کیا وہ گمان کرتے ہیں کہ ہم ان کی پوشیدہ باتیں اور اُن کی سرگوشیاں نہیں سنتے کیوں نہیں (ضرور سنتے ہیں) اور ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے بھی اُن کے پاس لکھ رہے ہوتے ہیں۔‘‘

(3) خاموشی : ادبِ بارگاہِ نبوت

کوئی بارگاہ ایسی بھی ہوتی ہے کہ جہاں خاموشی کلام سے ہزارہا درجہ بہتر ہوتی ہے۔ اس کی مثال بارگاہِ نبوت و رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے کہ وہاں کثرتِ کلام انسان کی نیکیوں کی بربادی اور اﷲ تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب بنتی ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم کا شیوہ تھا کہ وہ آپ کی بارگاہ میں خاموش نہ رہتی اور ان سے طرح طرح کے سوالات کرتی رہتی۔ سورہ البقرہ میں مذکور گائے کا واقعہ اس کی ایک قابل ذ کر مثال ہے۔ اﷲ تعالی نے امت محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا :

أَمْ تُرِيدُونَ أَن تَسْأَلُواْ رَسُولَكُمْ كَمَا سُئِلَ مُوسَى مِن قَبْلُ وَمَن يَتَبَدَّلِ الْكُفْرَ بِالإِيمَانِ فَقَدْ ضَلَّ سَوَاءَ السَّبِيلِO

(البقره، 2 : 108)

’’(اے مسلمانو!) کیا تم چاہتے ہو کہ تم بھی اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح سوالات کرو جیسا کہ اس سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) سے سوال کیے گئے تھے تو جو کوئی ایمان کے بدلے کفر حاصل کرے پس وہ واقعتاً سیدھے راستے سے بھٹک گیا۔‘‘

اس آیتِ کریمہ میں بارگاہِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آداب سکھائے گئے ہیں۔ یہ فرمایاگیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قوم موسیٰ علیہ السلام کی طرح بے جا سوالات نہ کئے جائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نورِ نبوت سے تمہارے مسائل کو تم سے بہتر جانتے ہیں۔ وہ تمہارے سوال کئے بغیر ہی ان کے بارے میں تمہاری رہنمائی فرما دیں گے۔ لہٰذا بارگاہِ رسالت میں ادب کے ساتھ خاموش بیٹھے رہو۔ اسی میں تمہارے ایمان کی سلامتی ہے۔

(4) مومن وہ ہے جو اچھی بات کہے یا خاموش رہے

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

مَنْ کَانَ يُؤمِنُ بِاﷲِ وَالْيَوْمِ الآخِرِفَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ.

’’جو اﷲ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہئے کہ اچھی بات منہ سے نکالے یا خاموش رہے۔‘‘

(بخاری، الصحيح، کتاب الأدب، باب مَنْ کَانَ يُؤمِنُ بِاﷲِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، 5 : 2240، رقم : 5672)

(5) زبان کے فتنوں سے حفاظت کی تلقین

حضرت عبد اﷲ الثقفي رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا : یا رسول اﷲ! آپ کو ہم پر کس بات کا زیادہ ڈر ہے؟

فَأَخَذَ رَسُولُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم بِلِسَانِ نَفْسِهِ، ثُمَّ قَالَ : هَذَا.

’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی زبان پکڑ کر فرمایا اس کا۔‘‘

(ابن ماجة، السنن، کتاب الفتن، باب کفِّ اللِّسَانِ فی الْفِتْنَةِ، 4 : 382، رقم : 3972)

(6) تمام اعضا زبان سے کم گوئی کی درخواست

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’جب انسان صبح کرتا ہے تو اس کے تمام اعضا جھک کر زبان سے کہتے ہیں :

اِتقِ اﷲَ فِيْنَا فَإِنَّمَا نَحْنُ بِکَ، فَإِنِ اسْتَقَمْتَ اسْتَقَمْنَا وَإِنِ اعْوَجَجْتَ اعْوَجَجْنَا.

(ترمذی، الجامع الصّحيح، أبواب الزّهد، باب ماجاء في حفظ اللّسان، 4 : 208، رقم : 2407)

’’ہمارے بارے میں اﷲ سے ڈر کیونکہ ہم تجھ سے متعلق ہیں اگر تو سیدھی رہے گی ہم بھی سیدھے رہیں گے اور اگر تو ٹیڑھی ہوگی تو ہم بھی ٹیڑھے ہو جائیں گے۔‘‘

(7) زبان پر قابو رکھنے والے کو جنت کی ضمانت

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

مَنْ يَضْمَنْ لِي مَا بَيْنَ لَحْيَيْهِ وَمَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ أَضْمَنْ لَهُ الْجَنَّة.

(بخاری، الصحيح، کتاب الرقاق، باب حِفْظِ اللِّسَانِ، 5 : 2376، رقم : 6109)

’’جو مجھے اس کی ضمانت دے جو دونوں جبڑوں کے درمیان ہے (یعنی زبان کی) اور اس کی جو دونوں ٹانگوں کے درمیان ہے (یعنی شرم گاہ کی) تو میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔‘‘

(8) اعمال کے ترازو میں سب سے بھاری چیز

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے ابوذر! میں تجھے ایسی باتیں نہ بتاؤں جو نہایت سبک (کم وزن) اور ہلکی ہیں لیکن اعمال کے ترازو میں بہت بھاری ہیں؟ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : جی ہاں ضرور فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

طُوْلُ الصَّمْتِ وَحُسْنُ الْخُلُقِ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا عَمْلُ الْخَلَائِقِ بِمِثْلِهمَا.

(بيهقی، شعب الإيمان، 6 : 239، 8006)

’’طویل خاموشی اور خوش خلقی، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ان دو خصلتوں سے بہتر مخلوق کے لئے کوئی کام نہیں ہے۔‘‘

(9) کثرتِ کلام، اﷲ عزوجل سے دوری کا باعث

حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

’’اﷲ تعالیٰ کے ذکر کے سوا زیادہ گفتگو نہ کرو کیونکہ ذکرِ الٰہی کے بغیر کثرتِ کلام دل کی سختی (کا باعث ہے) اور سخت دل آدمی اﷲ تعالیٰ سے بہت دور رہتا ہے۔‘‘

(ترمذی، الجامع الصحيح، أبواب الزهد، باب ماجاء في حِِفْظ للِّسان، 4 : 211، رقم : 2411)

(10) ساٹھ سال کی عبادت سے بہتر عبادت

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

مَقَامُ الرَّجُلِ لِلصَّمْتِ أَفْضَلُ مِنْ عِبَادَةِ سِتِّينَ سَنَةً.

(بيهقی، شعب الإيمان، 4 : 245، رقم : 4953)

’’مرد کا خاموش رہنا (اور خاموشی پر ثابت قدم رہنا) ساٹھ سال کی عبادت سے بہتر ہے۔‘‘

ان قرآنی آیات، احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اقوال صلحاء کی روشنی میں یہ واضح ہو گیا کہ ہمارے لئے خاموشی بولنے سے بہتر ہے۔ یہ اجتماعی اعتکاف زبان کی خاموشی کے ساتھ ساتھ دل کی خاموشی تربیت لینے کا ذریعہ ہے۔ تعجب ہے اس شخص پر جو گھر بار بیوی بچے، دوست، رشتہ دار چھوڑ کر مولا کی رضا کے حصول کے لئے سینکڑوں میل سفر کر کے اللہ کے گھر میں آ جائے لیکن رب کی بارگاہ میں بیٹھ کر ذکر دنیا کرتا رہے، حیرت ہے اس بندے پر جو جسم کی زبان کو تو بند نہ کرے لیکن قلب کی خاموشی اور سکون طلب کرے، معزز معتکفین آئیں یہ دس دن جسم کی زبانیں بند رکھیں شاید قلب و روح کی زبان مولا سے ہم کلام ہو جائے۔

(اَخلاقیات)

خدمتِ خلق

انسانی معاشرہ باہمی تعاون اور محبت سے قائم ہوتا ہے او راسی رشتے کے مضبوط ہونے سے مستحکم ہوتا ہے، اگر افراد معاشرہ کے درمیان پیار ومحبت اور مددونصرت کا تعلق نہ رہے تو یہی معاشرہ خود غرضی اور نفرت وانتقام کا نمونہ بن سکتا ہے۔ اسلام بھی اپنے پیروکاروں کے درمیان اسی پیار و محبت اور مددو نصرت کا ایک ماحول پیدا کرنا چاہتا ہے کہ جس میں ایک مسلمان نہ صرف دوسرے مسلمان کی عزت، جان ومال کا محافظ بن جائے بلکہ وہ ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں ایسے شریک ہوں کہ وہ سب ایک جسم نظر آئیں۔

مخلوق خدا کی خدمت اور ان سے پیار نہ صرف بے پناہ اجر و ثواب کا مستحق بناتی ہے بلکہ اس عمل کو از خود عبادت و بندگی کا درجہ حاصل ہے اور اس کے صلے میں رب اپنے بندے سے محبت و پیار کرتا ہے۔

مخلوق خدا سے پیار کرنے کا صلہ

ہم جس معاشرے میں زندگی گزار رہے ہیں یہ نفرت وانتقام کا معاشرہ ہے اس معاشرے میں اللہ کے لئے محبت کا وجود ختم ہو چکا ہے۔ حرص وہوس اور مفادات نے خلوص اور پیار کا جنازہ نکال دیا ہے، ایک دوست دوسرے دوست کے لئے دنیا خرچ نہ کرے، اپنے بھائی کے لئے کسی مصیبت اور تکلیف کو برداشت نہ کرے، بلکہ محض اس سے اللہ کے لئے محبت کرے۔ اس عمل پر اللہ کی ذات کس قدر خوش ہوتی ہے اور اپنے بندے کو جو اجرعطا کرتی ہے، اگر ہمیں اس اجر کی حقیقت کا علم ہو جائے تو نفرت کا وجود مٹ جائے۔ ہر کوئی دوسرے سے اللہ کے لئے محبت کرتا ہوا دکھائی دے۔ انسان کی انسان سے محبت اسے محبوب خدا بنا سکتی ہے۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَة رضی الله عنه عَنِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم : أَنَّ رَجُلًا زَارَ أَخًا لَهُ فِي قَرْيَةٍ أُخْرَی. فَأَرْصَدَ اﷲُ لَهُ عَلَی مَدْرَجَتِهِ مَلَکاً. فَلَمَّا أَتَی عَلَيْهِ قَالَ : أَيْنَ تُرِيْدُ؟ قَالَ : أُرِيْدُ أَخًا لِي فِي هَذِهِ الْقَرْيَةِ. قَالَ : هَلْ لَکَ عَلَيْهِ مِنْ نِعْمَةٍ تَرُبُّهَا؟ قَالَ : لَا غَيْرَ أَنِّي أَحْبَبْتُهُ فِي اﷲِ عزوجل قَالَ : فَإِنِّي رَسُوْلُ اﷲِ إِلَيْکَ بِأَنَّ اﷲَ قَدْ أَحَبَّکَ کَمَا أَحْبَبْتَهُ فِيْهِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَأَحْمَدُ وَابْنُ حِبَّانَ.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ایک شخص اپنے بھائی سے ملنے کے لئے ایک دوسری بستی میں گیا، اﷲ تعالیٰ نے اس کے راستے میں ایک فرشتہ کو بھیج دیا، جب اس شخص کا اس فرشتے کے پاس سے گزر ہوا تو فرشتے نے پوچھا : کہاں جانے کا ارادہ ہے؟ اس شخص نے کہا : اس بستی میں میرا ایک (دینی) بھائی ہے اس سے ملنے کا ارادہ ہے۔ فرشتہ نے پوچھا : کیا تمہارا اس پر کوئی احسان ہے جس کی تکمیل مقصود ہے؟ اس نے کہا : اس کے سوا اور کوئی بات نہیں کہ مجھے اس سے صرف اﷲ تعالیٰ کے لئے محبت ہے، تب اس فرشتہ نے کہا کہ میں تمہارے پاس اﷲ تعالیٰ کا یہ پیغام لایا ہوں کہ جس طرح تم اس شخص سے محض اﷲتعالیٰ کے لیے محبت کرتے ہو اﷲتعالیٰ بھی تم سے محبت کرتا ہے۔‘‘

انسانیت سے پیار افضل ترین عمل ہے۔

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ کے لئے لوگوں سے محبت رکھنے کو سب سے افضل عمل قرار دیا ہے۔

عَنْ أَبِي ذَرٍّ رضی الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : أَفْضَلُ الْأَعْمَالِ (وفي رواية لأحمد : أَحَبَ الْأَعْمَالِ. وفي رواية للبزار : أَفْضَلُ الْعِلْمِ) الْحُبُّ فِي اﷲِ وَالْبُغْضُ فِي اﷲِ. رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَأَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ.

’’حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : (اﷲ عزوجل کے نزدیک) اعمال میں سب سے افضل عمل (اور احمد کی روایت میں ہے کہ سب سے پیارا عمل اور بزار کی روایت میں ہے کہ سب سے افضل علم) اﷲ عزوجل کیلئے محبت رکھنا اور اﷲ عزوجل ہی کے لئے دشمنی رکھنا ہے۔‘‘

روز حشر سایہ عرش کا انعام

روز حشر دنیا اپنی بخشش ومغفرت کے لئے سہارا تلاش کرے گی، نفسا نفسی کا عالم ہو گا ایسے میں اللہ اپنی خاطر لوگوں سے پیار کرنے والوں کو پکارے گا، میری خاطر محبت کرنے والے کہاں ہیں؟

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : إِنَّ اﷲَ تَعَالَی يَقُوْلُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ : أَيْنَ الْمُتَحَابُّوْنَ بِجَلَالِي؟ الْيَوْمَ أُظِلُّهُمْ فِي ظِلِّي يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلِّي. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَأَحْمَدُ وَابْنُ حِبَّانَ.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائے گا : میری عظمت کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کرنے والے آج کہاں ہیں؟ میں انہیں اپنے سائے میں جگہ دوں کیونکہ آج میرے سائے کے علاوہ کوئی اور سایہ نہیں ہے۔‘‘

انسانیت کی خدمت کا صلہ نصرت ربانی

انسان اگر لوگوں کی خدمت کرے تو رب بندے کے اس عمل پر اسقدر خوش ہوتا ہے کہ لوگوں کی مدد کرنے والے کی رب خود مدد فرماتا ہے۔

عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رضی الله عنه عَنْ رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ : لَا يَزَالُ اﷲُ فِي حَاجَةِ الْعَبْدِ مَا دَامَ فِي حَاجَةِ أَخِيْهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادٍ جَيِّدٍ.

’’حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ اس وقت تک اپنے بندے کے کام میں (مدد کرتا) رہتا ہے جب تک بندہ اپنے (مسلمان) بھائی کے کام میں (مدد کرتا) رہتا ہے۔‘‘

ایک اور مقام پر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه عَنِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ : مَنْ نَفَّسَ عَنْ مُؤْمِنٍ کُرْبَةً مِنْ کُرَبِ الدُّنْيَا نَفَّسَ اﷲُ عَنْهُ کُرْبَةً مِنْ کُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَمَنْ يَسَّرَ عَلَی مُعْسِرٍ يَسَّرَ اﷲُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اﷲُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَاﷲُ فِي عَوْنِ الْعَبْدِ مَا کَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ أَخِيْهِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَالتِّرْمِذِيُّ.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو شخص کسی مسلمان کی کوئی دنیاوی تکلیف دور کرے گا اﷲ تعالیٰ اس کی قیامت کے دن کی مشکلات میں سے کوئی مشکل حل کرے گا جو شخص دنیا میں کسی تنگ دست کے لئے آسانی پیدا کرے گا اﷲ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کے لئے آسانی پیدا فرمائے گا اور جو شخص دنیا میں کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا اﷲ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔ اﷲ تعالیٰ (اس وقت تک) اپنے بندے کی مدد کرتا رہتا ہے۔ جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے۔‘‘ یہ حدیث مبارکہ انسان کی معاشرتی زندگی کی اصلاح کے لئے کافی ہے انسان رب کے بندوں سے جو سلوک کرے گا وہ اللہ کی ذات سے اپنے لئے بھی اسی سلوک کی امید رکھے۔

بندوں سے نفرت ایمان سے اِخراج

جہاں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انسانیت سے پیار کرنے کا حکم دیا ہے وہاں اس امر کی بھی وضاحت فرما دی ہے کہ اگر کوئی دوسروں کو دکھ دے گا۔ اس کے لئے اذیت اور تکلیف کا باعث ہوگا ایسے شخص کا ایمان سے کوئی رشتہ نہیں ہو گا۔

عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ رضی الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ : وَاﷲِ لَا يُؤْمِنُ، وَاﷲِ لَا يُؤْمِنُ، وَاﷲِ لَا يُؤْمِنُ، قِيْلَ : مَنْ يَا رَسُوْلَ اﷲِ؟ قَالَ : الَّذِي لَا يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَائِقَهُ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

’’حضرت ابو شُریح رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : خدا کی قسم! وہ مومن نہیں، خدا کی قسم وہ مومن نہیں، خدا کی قسم وہ مومن نہیں۔ عرض کیا گیا : یا رسول اللہ! کون (مومن نہیں)؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جس کا پڑوسی اس کی ایذا رسانی سے محفوظ نہیں۔‘‘

(فقہی مسائل)

وضو

اِصطلاحِ شریعت میں خاص اعضاء جیسے چہرہ، ہاتھ اور پاؤں وغیرہ کو مخصوص طریقے سے پانی کے ساتھ دھونا وضو کہلاتا ہے۔

فرائض وضو :

اﷲ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے :

يَاَ ايهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا اِذَا قُمْتُمْ اِلَی الصَّلٰوةِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْهَکُمْ وَ اَيْدِيْکُمْ اِلَی الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوْا بِرَءُ وْسِکُمْ وَاَرْجُلَکُمْ اِلَی الْکَعْبَيْنِO

’’اے ایمان والو! جب (تمہارا) نماز کے لئے کھڑے (ہونے کا ارادہ) ہو تو اپنے چہروں کو اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھو لو اور اپنے سروں کا مسح کرو اور اپنے پاؤں (بھی) ٹخنوں سمیت دھو لو۔‘‘

اس آیت کریمہ میں فرائض وضو بیان کئے گئے ہیں ان کی وضاحت ذیل میں دی جا رہی ہے۔ وضو کے چار رکن ہیں اور وہی اس کے فرائض ہیں :

  1. چہرے کا دھونا (چہرے کی حد پیشانی کے اوپر کے حصہ سے ٹھوڑی کے نیچے تک ہے اور چوڑائی کے لحاظ سے وہ تمام حصہ جو دونوں کانوں کی لوؤں کے درمیان ہے۔)
  2. دونوں ہاتھوں کا کہنیوں سمیت دھونا۔
  3. چوتھائی سر کا مسح کرنا۔
  4. پیروں کا ٹخنوں سمیت دھونا۔

وضو کی سنتیں :

  1. وضو کی نیت کرنا۔
  2. شروع میں بسم اﷲ الرحمن الرحیم پڑھنا۔
  3. شروع میں مسواک کرنا، اگر مسواک نہ ہو تو انگلی سے دانتوں کی صفائی کرنا۔
  4. دونوں ہاتھوں کا کلائیوں تک دھونا۔
  5. تمام اعضاء کو دائیں طرف سے شروع کرنا۔
  6. انگلیوں کا خلال کرنا۔
  7. تین مرتبہ کلی کرنا۔
  8. تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالنا۔
  9. غیر روزہ دار کے لئے مبالغہ کرنا یعنی خوب اچھی طرح کلی کرنا اور ناک کی نرم ہڈی تک پانی پہنچانا۔
  10. داڑھی کے نیچے کی جانب سے پانی کے چلو کے ساتھ گھنی داڑھی کا خلال کرنا۔
  11. ہر عضو کا تین تین دفعہ دھونا۔
  12. مَلنا اور پے در پے وضو کرنا۔
  13. ایک مرتبہ پورے سر کا مسح کرنا۔
  14. کانوں کا مسح کرنا۔
  15. سر کے پانی سے کانوں کا مسح کرنا۔
  16. انگلیوں کا سروں (پوروں) کی طرف سے شروع کرنا اور سر کے اگلے حصہ سے شروع کرنا۔
  17. گردن کا مسح کرنا۔
  18. وضو کے بعد یہ دعا کرنا۔

اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنِيْ مِنَ التَّوَّابِيْنَ وَاجْعَلْنِی مِنَ الْمُتَطَهِّرِيْنَ.

’’اے اﷲ مجھے ان لوگوں میں کر دے جو بہت توبہ کرنے والے اور پاکیزگی والے ہیں۔‘‘

مکروہات وضو :

وضو کرنے کے لئے چھ چیزیں مکروہ ہیں :

  1. پانی میں اسراف (فضول خرچی)۔
  2. ضرورت سے کم پانی استعمال کرنا۔
  3. چہرے پر پانی کو مارنا (جس سے چھینٹیں اڑیں)۔
  4. دنیاوی بات چیت کرنا۔
  5. بلاعذر وضوء میں دوسروں سے مدد لینا۔
  6. نئے پانی سے تین مرتبہ مسح کرنا۔

کن اُمور کے لیے وضو فرض ہے :

درج ذیل صورتوں میں وضو کرنا فرض ہے :

  1. ہر نماز کیلئے اگرچہ نفل ہی ہو
  2. نماز جنازہ کیلئے
  3. سجدۂ تلاوت کے لئے
  4. قرآن پاک کو چھونے کیلئے، اگرچہ ایک ہی آیت ہو۔

نواقضِ وضو :

درج ذیل چیزیں وضوء کو توڑ دیتی ہیں :

  1. وہ چیز جو سبیلین (پیشاب یا پاخانے کی راہ) سے نکلے۔
  2. ہر ناپاکی جو سبیلین کے علاوہ بدن کے کسی حصہ سے بہنے لگے مثلاً خون، پیپ۔
  3. کھانے یا پانی یا خون بستہ یا پت کی قے جبکہ منہ بھر کر ہو یعنی اتنی ہو کہ بلاتکلف منہ بند نہ ہو سکے۔
  4. وہ خون جو تھوک پر غالب ہو یا اس کے برابر ہو۔
  5. ایسی نیند کہ اس میں مقعد (پاخانہ کا مقام) زمین پر نہ ٹکا ہو مثلاً کروٹ سے سویا ہو۔
  6. سونے والے کی مقعد (پاخانہ کا مقام) کا جاگنے سے پہلے اوپر کو اٹھ جانا اگرچہ وہ گرا نہ ہو۔ مثلاً بے ہوشی، جنون اور نشہ کی وجہ سے
  7. بالغ، بیدار شخص کا ایسی نماز میں قہقہہ لگانا، جو رکوع اور سجدہ والی ہو، اگرچہ اُس نے (اُس قہقہہ سے) نماز سے خارج ہونے کا اِرادہ ہی کیا ہو۔

وضو نہ توڑنے والی چیزیں

درج ذیل نو چیزیں وضو کو نہیں توڑتیں :

  1. خون کا ظاہر ہونا جو اپنی جگہ سے بہا نہ ہو۔
  2. کیڑے کا زخم سے یا کان سے یا ناک سے نکلنا۔
  3. معمولی قے جو منہ کو نہ بھرے۔
  4. بلغم کی قے اگرچہ بلغم زیادہ ہو۔
  5. سونے والے کا جھکنا (اس طرح کہ زمین سے) مقعد کے ہٹ جانے کا اِحتمال ہو (یقین نہ ہو)۔
  6. اس شخص کی نیند جس کی سرین زمین پر جمی ہوئی ہو، اگرچہ وہ کسی ایسی چیز پر سہارا لگائے ہوئے ہو کہ اگر اُس چیز کو ہٹا دیا جائے تو وہ گر جائے۔
  7. نماز پڑھنے والے کا سو جانا اگرچہ وہ رکوع یا سجدہ کی حالت میں ہو۔

(خد مت دین)

تحریکِ منہاجُ القرآن کا تجدیدی کردار

ہر تحریک، جماعت اور گروہ اِس بات کا اِعلان کرتا ہے کہ وہ حق پر ہے، وہ دورِحاضر میں تجدید و اِحیاءِ دین کا فریضہ سرانجام دے رہا ہے؛ مگر جب حقیقت پسندی سے معاشرے میں موجود تحریکوں اور جماعتوں کو اِن شرائط پر پرکھتے ہیں تو ہمیں تحریکِ منہاجُ القرآن نہ صرف ولایت رحمٰن کی امین دِکھائی دیتی ہے بلکہ ان سب میں نمایاں اور ممتاز دکھائی دیتی ہے۔ یہ تحریک دین کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرنے کے اعتبار سے یکتا ہے۔ تحریکِ منہاجُ القرآن کی پچیس سالہ کارکردگی اِس کی تجدیدی خدمات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ منہاجُ القرآن کی کارکردگی کا اِحاطہ اس مختصر کتابچہ میں ممکن نہیں ہے۔ یہاں ہم مذکورہ بالا شرائط کی روشنی میں تحریکِ منہاجُ القرآن کی بعض خدمات کا مختصراً تذکرہ کرتے ہیں :

  1. اَمر بالمعروف و نہی عن المنکر
  2. تجدید و اِحیاء دین
  3. ذات و اُسوۂ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پختہ تعلق

1۔ اَمر بالمعروف و نہی عن المنکر

تحریکِ منہاجُ القرآن سراپا امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی تحریک ہے۔ طبقاتِ معاشرہ میں ہر سطح پر اِصلاحِ اَحوال کی جدوجہد ہو یا روحانی اَقدار کا اِحیاء، غیرمسلم معاشرے میں نوجوانانِ ملت کی کردار سازی کا مرحلہ ہو یا ملک بھر میں قرآنی فکر کو عام کرنے کی کوشش؛ بدعقیدگی اور اِنتہا پسندی کے طوفان کا مقابلہ ہو یا اِسلام کے خلاف کفر کی تہذیبی و ثقافتی یلغار کا جدید ذرائع سے دفاع؛ تحریکِ منہاج ُالقرآن نیکی کے فروغ کے ہر محاذ پر مصروفِ عمل دکھائی دیتی ہے۔ ذیل میں ہم تحریکِ منہاجُ القرآن کی امر بالمعروف کی جدوجہد کا مختصر جائزہ لیتے ہیں۔

اِصلاحِ اَحوالِ اُمت

اسلام کے وسیع تر فروغ، امت مسلمہ کے احیاء و اتحاد اور اصلاح احوال کے لیے قرآن و سنت کے عظیم فکر پر مبنی مصطفوی اِنقلاب کی ایسی عالم گیر جدوجہد، جو ہر سطح پر باطل، طاغوتی، اِستحصالی اور منافقانہ قوتوں کے اثر کا خاتمہ کر دے۔ یہ وہ بنیادی مقصد ہے جس کے حصول کے لیے تحریکِ منہاجُ القرآن کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اس منزل کے حصول کے لیے ضروری تھا کہ عالم گیر سطح پر لاکھوں اَفراد پر مشتمل ایک منظم تحریک بپا کی جائے جو دیوانہ وار اِجتماعی جدوجہد سے نہ صرف (امر بالمعروف و نہی عن المنکر) کے ذریعے اِصلاح اَحوالِ اُمت کا فریضہ سر انجام دے بلکہ دین کو غالب کرنے کے لئے قرآن و سنت کی فکر پر مبنی پُرامن انقلاب کے راستے کو بھی ہموار کرے۔

تحریکِ منہاج القرآن نے اِسی ضرورت کے پیش نظر نہ صرف ملک کے ہر ہر ضلع، تحصیل، یونین کونسل اور وارڈ سطح تک تنظیمات کا جال بچھایا، بلکہ دُنیا بھر کے 80 سے زائد ممالک میں دعوتی نیٹ ورک بھی قائم کیا۔ دنیا بھر میں قائم ان تمام مراکز میں دروسِ قرآن، محافلِ ذکر، محافلِ میلاد، شب بیداریوں، اِجتماعی مسنون اِعتکاف، تنظیمی تربیتی اِجتماعات اور لائبریریوں کے قیام کی شکل میں صبح و شام اِصلاحِ اَحوالِ اُمت کا کام کیا جا رہا ہے۔

معاشرے میں علماء کے وقار کی بحالی

علماء کرام معاشرے کا اہم اور مؤثر ترین طبقہ ہیں، جو معاشرے میں تبلیغِ دین کی ذِمّہ داری سنبھالے ہوئے اَمر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا حقیقی فریضہ سر انجام دیتے ہیں۔ علماء کرام کو اس مشن میں شامل کرنے اور ان کی اِنفرادی جدوجہد کو عالمی سطح پر غلبہ دین حق کی بحالی کی جدوجہد کا حصہ بنانے کے لیے ’’منہاجُ القرآن علماء کونسل‘‘ کا قیام عمل میں لایا گیا۔ 1989ء میں منہاج القرآن علماء کونسل کے زیر اِہتمام ملکی تاریخ کا علماء کا سب سے بڑا کنونشن منعقد ہوا، جس میں ہزاروں علما نے شرکت کی۔ اِس وقت ملک بھرکے متعدد اَضلاع اور تحصیلوں میں علماء کونسل کی تنظیمات قائم ہیں اور اِصلاحِ اَحوالِ اُمت اور غلبۂ دینِ حق کی بحالی کی جدوجہد میں مصروفِ عمل ہیں۔

نوجوانوں کی عملی تربیت

نوجوانوں کے کردار اور اَہمیت کو کسی بھی معاشرے میں نظر اَنداز نہیں کیا جاسکتا۔ یہ وہ طبقہ ہے جو معاشرے کی ڈگر کو مکمل طور پر بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ نوجوانوں کو اِس عظیم تحریک کا حصہ بناتے ہوئے اُن کی صلاحیتوں کو مثبت سمت دکھانے کے لیے منہاجُ القرآن یوتھ لیگ کا باقاعدہ آغاز 30 نومبر 1988ء کو ہوا۔ منہاجُ القرآن یوتھ لیگ تحریکِ منہاجُ القرآن کا ہراول دستہ ہے۔ یوتھ لیگ دعوتی و تنظیمی، علمی و رُوحانی اور تعلیمی و تربیتی پلیٹ فارم پر اُمت مسلمہ کے نوجوانوں کو ایمان اور عملِ صالح کے ساتھ ساتھ تحریکی اور انقلابی بنیادوں پر قوم کی رہنمائی کا فریضہ سر انجام دینے کے لیے تیار کر رہی ہے۔ اس سے وابستہ نوجوان اپنی تعلیمی و تدریسی اور معاشی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ غلبۂ دینِ حق کی بحالی اور اُمتِ مسلمہ کے اِتحاد و اِحیاء کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

اِس فورم کے قیام کا مقصدِ اَوّلیں نوجوانوں کے سیرت و کردار کو اِس طرح تعمیر کرنا ہے کہ وہ دنیا کی اِمامت و قیادت کا فریضہ ادا کر سکیں اور معاشرے سے باطل، طاغوت، اِستحصال اور ظلم پر مبنی نظام کا خاتمہ کر دیں اور اُن کی جدوجہد کے نتیجے میں بالآخر پرامن مصطفوی اِنقلاب کا سویرا طلوع ہو جائے۔

طلباء کی مثبت تعمیری رہنمائی

ملک کی ترقی میں طلباء بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ اُنہیں تشدّد اور غیر اَخلاقی سرگرمیوں سے محفوظ رکھنے اور اُن کے جذبات کو مثبت سمت فراہم کرنے کے لیے مصطفوی سٹوڈنٹس موومنٹ (MSM) کے نام سے طلباء تنظیم کا قیام عمل میں لایا گیا۔ یہ تنظیم طلباء کی فلاح و بہبود، محفوظ اور روشن مستقبل کے لیے ملک گیر سطح پر یونیورسٹیز، کالجز، اسکولوں اور دینی مدارس میں سرگرمِ عمل ہے۔ ملک سے جہالت کے خاتمے اور علم کا نور عام کرنے، منشیات کے اِستعمال کی حوصلہ شکنی، بے راہ روی، فحاشی، عریانی اور مغربی تہذیب و ثقافت کے فروغ پذیر رُجحانات کو ختم کرنے اور طلباء کی توجہ تشددانہ طلبہ سیاست سے ہٹاکر تعلیمی، ملی اور قومی مقاصد کی جانب مبذول کرانا موومنٹ کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

خواتین میں دینی جدوجہد

ایک صالح اور پاکیزہ معاشرے کے قیام میں خواتین کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ اِسلا م کی نظر میں اَمر بالمعروف و نہی عن المنکر مرد و خواتین دونوں کا فریضہ ہے۔ موجودہ دور میں باطل طاقتوں کے مسلسل فریب اور پروپیگنڈے کے ذریعے مسلم خواتین کو اسلام کی عظیم روحانی، اَخلاقی اور اِنقلابی اَقدارسے دور کیا جارہا ہے، حقوقِ نسواں اور جدت پسندی کے نام پر نہ صرف ہمارے عائلی نظام کی بنیادوں کو گرایا جا رہا ہے بلکہ اُمت کی سطح پر مسلم معاشرہ تنزلی کا شکار ہے۔ مغرب کے اِس پوشیدہ حملے سے خواتین کو محفوظ رکھنا یقیناً اُمتِ مسلمہ کی ذمہ داری ہے۔

عالمِ کفر کے اِن حملوں کے علاوہ ہمارے معاشرے میں مساجد میں جمعۃ المبارک کے اجتماعات اور مذہبی پروگراموں میں خواتین کو شرکت کے مواقع میسر نہیں، عورتوں کے لیے دینی تعلیمی اِدارے پورے ملک میں نہایت قلیل ہیں، عوامی مذہبی اِجتماعات میں بھی باپردہ شرکت کا اِہتمام نہیں کیا جاتا، الغرض نہ صرف خواتین دین سیکھنے کے مواقع سے محروم ہیں بلکہ بالعموم مذہبی طبقہ ایسے مواقع پیدا کرنے کے بھی خلاف رہا ہے۔

موجودہ دورِ زوال کے درپیش چیلنجز کے پیشِ نظر خواتین کے کردار کی اَہمیت اور اُنہیں اُن کی ذمہ داریوں کا اِحساس دلانے کے لیے منہاج القرآن ویمن لیگ کا قیام عمل میں لایا گیا تاکہ خواتین میں یہ شعور اُجاگر ہو کہ اِسلامی اَقدار کا تحفظ ہی اُن کے تحفظ کی ضمانت ہے اور اِسی صورت میں اِصلاحِ اَحوالِ اُمت، اِحیائے اِسلام اور تجدیدِ دین کا خواب شرمندۂ تعبیر ہوسکتا ہے۔

تحریکِ منہاجُ القرآن نے ویمن لیگ کے ذریعے ملک بھر میں خواتین کو دینی تعلیمات کے نور سے آراستہ کرنے کے جدوجہد کا آغاز کیا۔ 1994ء میں تحریک کی زیرنگرانی ’منہاج کالج برائے خواتین‘ کی بنیاد رکھی گئی۔ 13 سال کے عرصے میں جہاں اس کالج کے شعبۂ حفظِ قرآن، ماڈل سکول، اور ووکیشنل اِنسٹیٹیوٹ میں سینکٹروں طالبات تعلیم حاصل کر چکی ہیں، وہیں اس کالج کی فیکلٹی آف شریعہ اور آرٹس سے سینکٹروں طالبات ایف اے سے لے کر ایم ا ے علوم شریعہ تک تعلیم حاصل کر کے فارغ التحصیل ہو چکی ہیں۔ تعلیمی اِداروں کے قیام کے ساتھ ساتھ منہاج القرآن ویمن لیگ خواتین کے لیے مذہبی محافل کا صبح و شام اِنعقاد کر تی ہے۔ اِس کے علاوہ نمازِ جمعہ سے لے کر ہر سطح کی مردوں کی مذہبی تقاریب میں باپردہ شرکت کا اِہتمام کر کے اُن کے دین سمجھنے کے راستے کو آسان کیا گیا ہے۔ منہاجُ القرآن ویمن لیگ کی نظامتِ دعوت کے تحت اِسلامی اَقدار کے فروغ اورخواتین میں قرآن فہمی کا شعور پیدا کر کے اُنہیں دین کے مختلف پہلوؤں سے رُوشناس کروانے کے لیے ’حلقہ ہائے عرفان القرآن‘ کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس وقت ملک بھر میں بیسیوں مقامات پر حلقہ جات ہو رہے ہیں، جن میں سینکڑوں طالبات زیرِ تعلیم ہیں اور قرآن و سنت کی تعلیم کے ساتھ ساتھ فکری، نظریاتی، روحانی اور اَخلاقی تربیت بھی حاصل کر رہی ہیں۔

اِسلامی قانون کی بالادستی کی جدوجہد

جس معاشرے میں ملکی قوانین اِیمان، حیاء اور اَخلاقی اَقدار کی حفاظت نہیں کرتے وہاں امربالمعروف اور نہی عن المنکر کی دعوت اثرپذیری کھو دیتی ہے۔ لہٰذا ملک کے حساس طبقے ’وکلاء‘ میں ملکی قوانین کو اِسلامی سانچے میں ڈھالنے اور قرآن و سنت کے نظامِ قانون کی بالادستی کا شعور پیدا کرنے کے لئے قائد تحریک ڈاکٹر محمد طاہرالقادری (سابق پروفیسر پنجاب یونیورسٹی لاء کالج) کی قیادت میں مؤرّخہ 20 فروری 1997ء کو تحریکِ منہاجُ القرآن کے لائرز فورم اور پاکستان عوامی تحریک کے لائرز ونگ ’’عوامی لائرز موومنٹ پاکستان (PALM)‘‘ کا قیام عمل میں لایا گیا۔

اِنسانی فلاح و بہبود کی جدوجہد

تحریکِ منہاج القرآن بنیادی اِنسانی ضروریات سے محروم اور مجبور طبقات کی ہر ممکن مدد کرنے اور اہلِ ایمان کو غریبوں، یتیموں، مسکینوں اور مستحق اَفراد کی مدد کرنے کی ترغیب دینے کو بھی امر بالمعروف کا حصہ سمجھتی ہے۔ قرآن مجید میں اِرشاد ہے :

آتَى الْمَالَ عَلَى حُبِّهِ ذَوِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَالسَّآئِلِينَ وَفِي الرِّقَابِ.

(البقره، 2 : 177)

’’(اصل نیکی تو یہ ہے کہ) اللہ کی محبت میں (اپنا) مال قرابت داروں پر اور یتیموں پر اور محتاجوں پر اور مسافروں پر اور مانگنے والوں پر اور (غلاموں کی) گردنیں (آزاد کرانے) میں خرچ کرے۔‘‘

اِس مقصد کے حصول کے لئے منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کی بنیاد رکھی گئی، جس کے قیام کے بنیادی مقاصد درج ذیل ہیں :

  • ملک گیر سطح پر بامقصد، معیاری اور سستی تعلیم کا فروغ
  • صحت کی بنیادی سہولتوں سے محروم اَفراد کے لیے معیاری اور سستی طبی اِمداد کی فراہمی
  • خواتین کے حقوق اور بہبود کے منصوبہ جات کا قیام
  • بچوں کے بنیادی حقوق اور بہبود کے منصوبہ جات کا قیام
  • یتیم اور بے سہارا بچوں کی تعلیم و تربیت اور رہائش کا بہترین بندوبست
  • قدرتی آفات میں متاثرین کی بحالی
  • بنیادی اِنسانی حقوق کے شعور کی بیداری کی عملی کوشش
  • بیت المال کے ذریعے مجبور اور حق دار لوگوں کی مالی اِمداد

اِس وقت تک منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن متعدد شعبوں میں کروڑہا روپے کی اِمداد کر چکی ہے۔

اِصلاحِ اَحوال کی عالمگیر جدوجہد

جاپان سے لے کر امریکہ تک تمام ممالک میں بسنے والے اور خصوصاً ایشیاء سے جا کر آباد ہونے والے مسلمانوں کا سب سے اہم اور پریشان کن مسئلہ غیر مسلم معاشرے میں اپنی اَقدار کا تحفظ اور نئی نسل کے اِیمان کا بچاؤ تھا۔ بدقسمتی سے کافرانہ نظام اور ماحول میں رہنے اور دین اِسلام کے فہم و شعور کے مواقع میسر نہ آنے کے باعث اُن معاشروں میں پروان چڑھنے والی نئی نسل اِیمان کے نور سے محروم ہوتی چلی جا رہی تھی۔ مزید یہ کہ اُن میں سے بعض ممالک میں تبلیغ کا فریضہ سرانجام دینے والی جماعتیں اور علماء مقامی زبانوں اور جدید اندازِ تبلیغ سے عدم واقفیت کی بناء پر مؤثر تبلیغ سے محروم تھے۔

دیارِ مشرق و مغرب میں اِسلامی اَقدار کا اِحیاء

اِن حالات میں تحریکِ منہاج القرآن نے دنیا بھر کے 80 سے زائد ممالک میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی دعوت مضبوط تنظیمی اور دعوتی نیٹ ورک کے ذریعے پہنچائی۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمدطاہر القادری نے اُن ممالک کے دورے کر کے وہاں درسِ قرآن، درسِ حدیث، درسِ تصوف، محافلِ میلاد اور روحانی تربیتی اِجتماعات کے ذریعے مسلمانوں کے سینوں میں اِیمان کی شمع کو روشن رکھا۔ کبھی اِنٹرنیشنل ویمبلے کانفرنس کی شکل میں 33 ممالک کے 150 سے زائد علماء و شیوخ اور نمائندوں کی موجودگی میں یورپ میں روحانی اَقدار کے اِحیاء اور عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کا علم بلند ہوتاہے تو کبھی لندن میں عالمی محفلِ میلاد کے ذریعے دیارِ غیر میں عشقِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شمع روشن کی جاتی ہے، کبھی شیخ الاسلام ڈنمارک کے ’سنگلوز چرچ‘ میں پادریوں کو اِسلام کی حقانیت تسلیم کرواتے ہیں اور کبھی لندن میں ’الہدایہ کیمپ‘ کے نام سے دُنیا بھر سے نوجوانوں کو جمع کرکے کئی روزہ تربیتی کیمپ کے ذریعے اُن کے کردار کو توبہ کے آنسوؤں سے دھوتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ دو دہائیوں سے زائد عرصہ کی مسلسل جدوجہد اور تبلیغِ دین کا اثر ہے کہ آج عالمِ کفر میں بھی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اُمت کا ہر جوان اِسلام کی سربلندی کے لئے مصروفِ عمل دِکھائی دیتا ہے۔

بدعقیدگی اور اِنتہا پسندی سے بچاؤ

دیارِ کفر میں اُمتِ مسلمہ کے نوجوان پر دُوسرا بڑا حملہ بدعقیدگی اور اِنتہا پسندی تھا۔ بہت سی تنظیمیں اور جماعتیں تبلیغ و جہاد کے نام سے ایک طرف حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ اقدس سے قلبی، حبی اور عشقی تعلق کو کاٹ رہی تھیں تو دُوسری طرف کافرانہ معاشرے میں جہاد کا ایسا فلسفہ پیش کر رہی تھیں جس سے اُس معاشرے میں بسنے والے مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان نفرتیں پیدا ہو رہی تھیں اور نوجوانانِ ملت اِنتہا پسندی اور دہشت گردی کی طرف مائل ہو رہے تھے۔ اُن حالات میں شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے ادب و محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایسا درس دیا کہ دیارِ غیر میں آج کا مسلم نوجوان مسلمانوں میں علم کے فروغ اور افرادِ معاشرہ کے کردار کی تعمیر کے لیے اپنی جان ومال سے ایسی جدوجہد کرتا دِکھائی دیتا ہے جس سے اُمتِ مسلمہ اپنا کھویا ہوا وقار بحال کر سکے۔ یہ اسی تبلیغ کا اثر ہے کہ دنیا بھر کے 80 سے زائد ممالک میں موجود تحریک منہاج القرآن کے نوجوانوں کی پہچان امن، پیار اور محبت ہے۔

دُنیا بھر میں اِسلامک سنٹرز کا قیام

تحریکِ منہاج القرآن نے دنیا بھر میں دعوتِ دینِ حق کو فروغ دینے کے لئے صرف جلسے، جلوس، میلاد کانفرنسز اور سیمینارز ہی کا سہارا نہیں لیا بلکہ اُن ممالک میں مستقل بنیادوں پر موجودہ اور آئندہ آنے والی نسلوں کی تعلیم و تربیت کے لئے بیسیوں تعلیمی مراکز، مساجد اور اِسلامک سنٹرز بھی قائم کئے۔ اُن اِسلامک سنٹرز میں نہ صرف باقاعدہ کلاسز کی شکل میں دینی و عصری علوم کی تدرِیس جاری ہے، بلکہ ہزاروں موضوعات پر مشتمل ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی کتب و کیسٹس اور سی ڈیز پر مشتمل لائبریریاں بھی قائم ہیں۔ اِس وقت تک امریکہ، کینیڈا، برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، ہالینڈ، بیلجیئم، ناروے، ڈنمارک، سویڈن، سپین، یونان، جنوبی افریقہ، آسٹریلیا، جاپان، ہانگ کانگ اور جنوبی کوریا سمیت متعدد ممالک میں 45 سے زائد اِسلامک سنٹرز تعلیم و تربیت اور تبلیغِ دین کا فریضہ سر انجام دے رہے ہیں۔

تحریکِ منہاج القرآن کی بیرونِ ممالک خدمات کی تفصیلات جاننے کے لیے www.minhajoverseas.com ملاحظہ فرمائیں۔

رجوع الی القرآن کی ملک گیر مہم

جس دور میں ہمارا تعلق علوم و معرفت کے حقیقی سرچشمے قرآن وحدیث سے ٹوٹ چکا تھا، جب قرآن محض مُردوں کو اِیصالِ ثواب کرنے اور خطابات کے عنوانات کے لیے رہ گیاتھا، جس دور میں دشمن تو دشمن اپنے بھی اِسے محض اَخلاقیات کی کتاب سمجھنے لگے تھے، ایسے دورِ فتن میں تحریکِ منہاجُ القرآن نے دُنیا کے تمام علوم کی قرآن سے تشریح و تبلیغ کا بیڑا اٹھایا۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے نہ صرف اِسلام کے جملہ موضوعات، اِیمانیات، اِعتقادیات، فقہیات، سیاسیات، اَخلاقیات، عمرانیات، اِقتصادیات، نفسیات بلکہ دیگر سائنسی علوم اور موضوعات کو بھی قرآن سے واضح کیا ہے۔

تحریکِ منہاجُ القرآن نے تبلیغ کے لیے قرآن مجید کو ذریعہ اور وسیلہ بنا کر عوام الناس کا قصوں، کہانیوں اور غیرمستند ذرائع علم سے تعلق توڑا اور ہر بحث قرآن سے اَخذ کرکے ثابت کیا کہ قرآن ہر علم و فن کا منبع ہے۔ اِس سلسلے کی اِبتدا 1980ء میں شادمان کی رحمانیہ مسجد میں درسِ قرآن سے ہوئی۔ پھر ملک بھر کے ہر شہر میں دروسِ قرآن کا ایک طویل سلسلہ شروع کیا گیا۔ پاکستان ٹیلی وژن کے پروگرام ’’فہم القرآن‘‘ میں ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے درسِ قرآن نے ملک بھر میں درسِ قرآن اور فہم القرآن دونوں کو پہچان عطا کی۔ 2004ء میں قائدِ تحریکِ منہاجُ القرآن کے حکم سے نظامتِ دعوت نے قرآن کے آفاقی پیغام کو عام کرنے کے لیے ملک بھر میں دروسِ عرفان القرآن کا آغاز کیا۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کے فیض یافتہ اور منہاج یونیورسٹی کے فارغ التحصیل اسکالرز نے ملک بھر میں دروسِ عرفان القرآن کا آغاز کیا اور یوں رجوع اِلی القرآن کی مہم ملک گیر سطح پر تبلیغی تاریخ میں ایک غیرمعمولی باب کی شکل اختیار کی گئی۔ اس وقت اللہ کے فضل و کرم سے ملک بھر میں ایک سو سے زائد تحصیلی مقامات پر ماہانہ بنیادوں پر مخصوص وقت اور مخصوص مقام پر درسِ قرآن کا انعقاد کیا جا رہا ہے، اور اس میں ہر ماہ تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اِن شاء اللہ! آئندہ سال جون تک ان دروسِ قرآن کے پروگراموں کی تعداد دو سو (200) سے زائد ہو جائے گی۔

اِن دروسِ عرفان القرآن میں فنِ خطابت کے جوہر دکھانے کی بجائے باقاعدہ ایک کلاس کی شکل میں تسلسل سے قرآنی فکر پر مبنی درس دیا جاتا ہے۔ ان دروسِ عرفان القرآن میں عوام کی کثیر تعداد شرکت کر رہی ہے۔ اکثر دروسِ عرفان القرآن میں شرکاء کی تعداد ہزار سے بڑھ چکی ہے اور یوں ماہانہ کم و بیش 80 ہزار سے زائد اَفراد تک قرآن کا پیغام پہنچایا جا رہا ہے۔ ان دروس کی خاص بات یہ ہے کہ تمام دروس شہر کے بڑے بڑے ہالوں اور عوامی جگہوں پر منعقد کیے جا رہے ہیں۔ عوام الناس کی کثیر تعداد ان میں شرکت کر رہی ہے۔ ان دروس کی کامیابی کی ایک اہم وجہ صحیح قرآنی فکر کی تبلیغ و اِشاعت کے ساتھ ساتھ ڈیڑھ گھنٹے کا مقررہ دورانیہ ہے۔ ان دروسِ عرفان القرآن میں شیخ الاسلام پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے متعین کردہ نصاب میں سے ترتیب وار دروس دیے جاتے ہیں اور آیاتِ مقدسہ کی روشنی میں عوام الناس کے عقائد کی اِصلاح کے ساتھ ساتھ اُنہیں اَخلاقِ حسنہ کی تعلیمات بھی دی جاتی ہیں۔

ان دروسِ قرآن میں سنی، شیعہ، دیوبندی، اہلِ حدیث اور دیگر تمام مسالک کے لوگ بغیر کسی امتیاز کے کثرت سے شرکت کرتے ہیں۔ ان شا اللہ یہ دروس معاشرے میں اَمن، بھائی چارے اور رواداری کو فروغ دینے میں اَہم سنگِ میل ثابت ہوں گے۔ اِن دروسِ عرفان القرآن میں اِسلامی تعلیمات کے اصل رُخ کو ایسا واضح کیا جا رہا ہے کہ دِلوں سے نفرتیں اور کدُورتیں ختم ہو رہی ہیں اور پیار، محبت اور اَمن و آشتی کو فروغ مل رہا ہے۔ اِس قدر منظم، مربوط، باقاعدہ اور وسیع دائرہ کار میں دروسِ قرآن کا اِنعقاد ملکی تبلیغی تاریخ کا ایک بڑا کارنامہ ہے۔ ان دروسِ قرآن کا اِنعقاد ترجیحاً تحصیلی ہیڈکوارٹر پر کیا جاتا ہے جب کہ بعض تحصیلوں میں مقبولیت کے باعث ایک سے زائد پروگرام بھی جاری ہیں۔

دروسِ قرآن دینے کے لیے خدمتِ دین اور اِشاعتِ اِسلام کے جذبہ سے سرشار نظامتِ دعوت کی ٹیم صبح و شام ہزاروں کلومیٹر کا سفر طے کر کے ملک کی سینکڑوں تحصیلوں میں بروقت درس دے کر ایک نئی تاریخ رقم کر رہی ہے۔ دروسِ قرآن کے ماہانہ شیڈول کے لئے www.minhaj.org ملاحظہ فرمائیں۔

Copyrights © 2019 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved