فضائل قرآن پر چالیس احادیث مبارکہ

الآحادیث النبویۃ

اَلأَحَادِيْثُ النَّبَوِيَةُ

1. عَنْ عُثْمَانَ رضی الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ : خَيْرُکُم مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

وفي رواية : قَالَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم : إِنَّ أَفْضَلَکُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرآنَ وَعَلَّمَهُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب فضائل القرآن، باب خير کم من تعلم القرآن وعلمه، 4 / 1919، الرقم : 4739- 4740.

’’حضرت عثمان (بن عفان) رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم میں سے بہتر شخص وہ ہے جو (خود) قرآن حکیم سیکھے اور (دوسروں کو بھی) سکھائے۔ ‘‘

اس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

ایک روایت میں ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بے شک تم میں سے افضل شخص وہ ہے جو (خود) قرآن سیکھے اور (دوسروں کو بھی) سکھائے۔‘‘

اس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

2. عَنْ عَائِشَةَ رضي اﷲ عنها قَالَتْ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : اَلْمَاهِرُ بِالْقُرْآنِ مَعَ السَّفَرَةِ الْکِرَامِ الْبَرَرَةِ، وَالَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَيَتَتَعْتَعُ فِيْهِ، وَهُوَ عَلَيْهِ شَاقٌّ لَهُ أَجْرَانِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ، وَاللَّفْظُ لِمُسْلِمٍ.

أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب التفسير، باب سورة عبس، 4 / 1882، الرقم : 4653، ومسلم في الصحيح، کتاب صلاة المسافرين وقصرها، باب فضل الماهر في القرآن والذي يتتعتع فيه، 1 / 549، الرقم : 798.

’’حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنھا روایت فرماتی ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : قرآن مجید کا ماہر معزز و محترم فرشتوں اور معظم و مکرّم انبیاء علیہم السلام کے ساتھ ہو گا اور وہ شخص جو قرآن پڑھتا ہو لیکن اس میں اٹکتا ہو اور (پڑھنا) اُس پر (کند ذہن یا موٹی زبان ہونے کی وجہ سے) مشکل ہو اُس کے لیے بھی دوگنا اجر ہے۔‘‘ یہ حدیث متفق علیہ ہے، مذکورہ الفاظ امام مسلم کے ہیں۔

3. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ : لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ رَجُلٌ عَلَّمَهُ اﷲُ الْقُرْآنَ فَهُوَ يَتْلُوْهُ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَائَ النَّهَارِ فَسَمِعَهُ جَارٌ لَهُ فَقَالَ : لَيْتَنِي أُوْتِيْتُ مِثْلَ مَا أُوْتِيَ فُـلَانٌ فَعَمِلْتُ مِثْلَ مَا يَعْمَلُ. وَرَجُلٌ آتَاهُ اﷲُ مَالًا فَهُوَ يُهْلِکُهُ فِي الْحَقِّ، فَقَالَ رَجُلٌ : لَيْتَنِي أُوْتِيْتُ مِثْلَ مَا أُوْتِيَ فُـلَانٌ فَعَمِلْتُ مِثْلَ مَا يَعْمَلُ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب فضائل القرآن، باب اغتباط صاحب القرآن، 4 / 1919، الرقم : 4738، ومسلم في الصحيح، کتاب صلاة المسافرين وقصرها، باب فضل من يقوم بالقرآن، 1 / 558، الرقم : 815.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : حسد (رشک) تو بس دو آدمیوں سے ہی کرنا جائز ہے۔ پہلا وہ شخص جسے اﷲ تعاليٰ نے قرآن (پڑھنا و سمجھنا) سکھایا تو وہ رات اور دن کے اوقات میں اس کی تلاوت (اور اس میں غور و فکر) کرتا ہے۔ اس کا پڑوسی اسے قرآن پڑھتے ہوئے سنتا ہے تو کہہ اٹھتا ہے کہ کاش مجھے بھی اس کی مثل قرآن عطا کیا جاتا تو میں بھی اسی طرح عمل کرتا جس طرح یہ کرتا ہے۔ اور دوسرا وہ شخص جسے اﷲ تعاليٰ نے مال بخشا ہے اور وہ اسے اﷲ تعاليٰ کی راہ میں صرف کرتا ہے۔ دوسرا شخص اسے دیکھ کر کہتا ہے کہ کاش مجھے بھی اتنا مال ملتا جتنا اسے ملا ہے تو میں بھی اسی طرح صرف کرتا جس طرح یہ کرتا ہے۔‘‘ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

4. عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اﷲِ رضي اﷲ عنهما قَالَ : کَانَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم يَجْمَعُ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ مِنْ قَتْلٰی أُحُدٍ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، ثُمَّ يَقُوْلُ : أَيُهُمْ أَکْثَرُ أَخْذًا لِلْقُرْآنِ؟ فَإِذَا أُشِيْرَ لَهُ إِلٰی أَحَدِهِمَا قَدَّمَهُ فِي اللَّحْدِ، وَقَالَ : أَنَا شَهِيْدٌ عَلٰی هٰؤُلَاءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.

رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَالتِّرْمِِذِيُّ.

أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب الجنائز، باب الصلاة علی الشهيد، 1 / 450، الرقم : 1278، والترمذي في السنن، کتاب الجنائز، باب ما جاء في ترک الصلاة علی الشهيد، 3 / 354، الرقم : 1036.

’’حضرت جابر بن عبد اﷲ رضی اﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شہداء اُحد (کی تدفین کے وقت ان) میں سے دو، دو صحابہ کرام کو ایک کپڑے (یعنی کفن) میں جمع فرماتے اور دریافت فرماتے کہ ان میں سے قرآن مجید کسے زیادہ یاد ہے؟ جب اُن دونوں میں سے ایک کی طرف اشارہ کیا جاتا تو اُسے قبر میں پہلے اُتارتے اور فرماتے : میں قیامت کے دن اِن سب پر گواہ ہوں گا۔‘‘

اس حدیث کو امام بخاری، ترمذی، ابو داود اور نسائی نے روایت کیا ہے۔

5. عَنْ مَالِکٍ رضی الله عنه أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ : تَرَکْتُ فِيْکُمْ أَمْرَيْنِ لَنْ تَضِلُّوْا مَا تَمَسَّکْتُمْ بِهِمَا : کِتَابَ اﷲِ وَسُنَّةَ نَبِيِّهِ.

رَوَاهُ مَالِکٌ وَالْحَاکِمُ وَابْنُ عَبْدِ الْبَرِّ.

أخرجه مالک في الموطأ، کتاب القدر، باب النهي عن القول بالقدر، 2 / 899، الرقم : 1594، والحاکم في المستدرک (عن أبي هريرة رضی الله عنه)، 1 / 172، الرقم : 319، وابن عبد البر في التمهيد، 24 / 331، الرقم : 128، وأيضًا في جامع بيان العلم وفضله، 2 / 24، 110.

’’امام مالک رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ ان تک یہ روایت پہنچی کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں تمہارے پاس دو چیزیں چھوڑے جاتا ہوں اگر انہیں تھامے رکھو گے تو کبھی گمراہ نہ ہوگے یعنی اللہ کی کتاب اور اُس کے نبی کی سنت.‘‘

اس حدیث کو امام مالک، حاکم اور ابن عبد البر نے روایت کیا ہے۔

6. عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ رضی الله عنه قَالَ : قَامَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَوْمًا فِيْنَا خَطِيْبًا. بِمَائٍ يُدْعٰی خُمًّا (بَيْنَ مَکَّةَ وَالْمَدِيْنَةِ) فَحَمِدَاﷲَ وَأَثْنٰی عَلَيْهِ، وَوَعَظَ وَذَکَّرَ. ثُمَّ قَالَ : أَنَا تَارِکٌ فِيْکُمْ ثَقَلَيْنِ أَوَّلُهُمَا : کِتَابُ اﷲِ فِيْهِ الْهُدٰی وَالنُّوْرُ فَخُذُوْا بِکِتَابِ اﷲِ وَاسْتَمْسِکُوا بِهِ. فَحَثَّ عَلٰی کِتَابِ اﷲِ وَرَغَّبَ فِيْهِ. ثُمَّ قَالَ : وَأَهْلُ بَيْتِي، أُذَکِّرُکُمُ اﷲَ فِي أَهْلِ بَيْتِي، أُذَکِّرُکُمُ اﷲَ فِي أَهْلِ بَيْتِي، أُذَکِّرُکُمُ اﷲَ فِي أَهْلِ بَيْتِي… الحديث. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَالدَّارِمِيُّ وَأَحْمَدُ.

وفي رواية له زاد : کِتَابُ اﷲِ فِيْهِ الْهُدٰی وَالنُّوْرُ. مَنِ اسْتَمْسَکَ بِهِ وَأَخَذَ بِهِ، کَانَ عَلَی الْهُدٰی. وَمَنْ أَخْطَأَهُ ضَلَّ.

رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَابْنُ خُزَيْمَةَ.

وفي رواية : أَنَّهُ قَالَ : أَلاَ وَإِنِّي تَارِکٌ فِيْکُمْ ثَقَلَيْنِ أَحَدُهُمَا : کِتَابُ اﷲِ ل هُوَ حَبْلُ اﷲ،ِ مَنِ اتَّبَعَهُ کَانَ عَلَی الْهُدٰی. وَمَنْ تَرَکَهُ کَانَ عَلٰی ضَلَا لَةٍ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَالنَّسَائِيُّ.

أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب فضائل الصحابة رضی الله عنهم، باب من فضائل علي بن أبي طالب رضی الله عنه، 4 / 1873، الرقم : 2408، والنسائي في السنن الکبری، 5 / 51، الرقم : 8175، وأحمد بن حنبل في المسند، 4 / 366، الرقم : 19285، والدارمي في السنن، 2 / 524، الرقم : 3316، وابن خزيمة في الصحيح، 4 / 62، الرقم : 2357.

’’حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک دن حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں خطبہ دینے کے لیے (مکہ و مدینہ) کے درمیان اس تالاب پر کھڑے ہوئے جسے خُم کہتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اﷲتعاليٰ کی حمد وثناء کے بعد فرمایا : میں تم میں دو عظیم چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں، ان میں سے پہلی اﷲتعاليٰ کی کتاب ہے جس میں ہدایت و نورہے۔ اﷲتعاليٰ کی کتاب پرعمل کرو اور اسے مضبوطی سے تھام لو، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کتاب اﷲ (کے احکامات پر عمل کرنے پر) ابھارا اور اس کی طرف ترغیب دلائی اور پھر فرمایا : دوسری چیز میرے اہل بیت ہیں میں تمہیں اپنے اہل بیت کے متعلق اﷲ سے ڈراتا ہوں، میں تمہیں اپنے اہل بیت کے متعلق اﷲ سے ڈراتا ہوں، میں تمہیں اپنے اہل بیت کے متعلق اﷲ سے ڈراتا ہوں۔‘‘

اس حدیث کو امام مسلم، دارمی اور احمد نے روایت کیا ہے۔

’’ان ہی سے مروی ایک روایت میں ان الفاظ کا اضافہ ہے : (یہ) اﷲ تعاليٰ کی کتاب ہے جس میں ہدایت اور نور ہے جس نے اس کتاب کو مضبوطی سے تھام لیا اور اس کے احکامات پر عمل کیا وہ ہدایت یافتہ ہو گا اور جس نے اسے چھوڑ دیا وہ گمراہ ہو گیا. اس حدیث کو امام مسلم اور ابن خزیمہ نے روایت کیا ہے۔

’’ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : سنو! میں تم میں دو عظیم چیزیں چھوڑ کر جارہا ہوں، ایک اﷲ ل کی کتاب ہے،جواﷲ کی رسی ہے جو اس کی اتباع کرے گا وہ ہدایت یافتہ ہوگا اور جو اس کو ترک کردے گا وہ گمراہی پر ہو گا۔‘‘

اس حدیث کو امام مسلم اور نسائی نے روایت کیا ہے۔

7. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي اﷲ عنهما قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : إِنَّ الَّذِي لَيْسَ فِي جَوْفِهِ شَيئٌ مِنَ الْقُرْآنِ، کَالْبَيْتِ الْخَرِبِ.

رَوَاهُ التِّرْمِِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ وَأَحْمَدُ. وَقَالَ التِّرْمِِذِيُّ : هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ، وَقَالَ الْحَاکِمُ : هٰذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الإِسْنَادِ.

أخرجه الترمذي في السنن، کتاب فضائل القرآن، باب : (18)، 5 / 177، الرقم : 2913، والدارمي في السنن، کتاب فضائل القرآن، باب فضل من قرأ القرآن، 2 / 521، الرقم : 3306، وأحمد بن حنبل في المسند، 1 / 223، الرقم : 1947، والحاکم في المستدرک، 1 / 741، الرقم : 2037، والبيهقي في شعب الإيمان، 2 / 328، الرقم : 1943.

’’حضرت (عبد اللہ) بن عباس رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : وہ شخص جس کے دل میں قرآن کریم کا کچھ حصہ بھی نہیں وہ ویران گھر کی طرح ہے۔‘‘

اِس حدیث کو امام ترمذی، دارمی اور احمد نے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اور حاکم نے بھی اسے صحیح الاسناد کہا ہے۔

8. عَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ مَسْعُوْدٍ رضی الله عنه يَقُوْلُ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : مَنْ قَرَأَ حَرْفًا مِنْ کِتَابِ اﷲِ فَلَهُ بِهِ حَسَنَةٌ، وَالْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا، لاَ أَقُوْلُ الۤــمۤ حَرْفٌ، وَلٰـکِنْ أَلِفٌ حَرْفٌ، وَلاَمٌ حَرْفٌ، وَمِيْمٌ حَرْفٌ.

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالْبَزَّارُ وَابْنُ أَبِي شَيْبَةَ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ : هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ.

أخرجه الترمذي في السنن، کتاب فضائل القرآن، باب ما جاء فيمن قرأ حرفا من القرآن ما له من الأجر، 6 / 175، الرقم : 2910، والبزار في المسند، 7 / 192، الرقم : 2761، وابن أبي شيبة في المصنف، 6 / 118، الرقم : 29933.

’’حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جس نے اﷲ تعاليٰ کی کتاب سے ایک حرف پڑھا، اس کے لیے اس کے بدلہ میں ایک نیکی ہے اور یہ ایک نیکی دس نیکیوں کے برابر ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ آلمۤ ایک حرف ہے بلکہ الف ایک حرف ہے، لام ایک حرف ہے اور میم ایک حرف ہے۔ (گویا صرف آلمۤ پڑھنے سے تیس نیکیاں مل جاتی ہیں).‘‘

اس حدیث کو امام ترمذی، بزار اور ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

9. عَنْ أَبِي سَعِيْدٍ رضی الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : يَقُوْلُ الرَّبُّ ل : مَنْ شَغَلَهُ الْقُرْآنُ وَذِکْرِي عَنْ مَسْأَلَتِي أَعْطَيْتُهُ أَفْضَلَ مَا أُعْطِيَ السَّائِلِيْنَ وَفَضْلُ کَلَامِ اﷲِ عَلٰی سَائِرِ الْکَلاَمِ کَفَضْلِ اﷲِ عَلٰی خَلْقِهِ.

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ وَابْنُ أَحْمَدَ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ : هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ غَرِيْبٌ.

أخرجه الترمذي فيالسنن، کتاب فضائل القرآن، باب (25)، 5 / 184، الرقم : 2926، والدارمي في السنن، 2 / 533، الرقم : 3356، وعبد اﷲ بن أحمد في السنة، 1 / 149، الرقم : 128.

’’حضرت ابو سعید (خُدری) رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اللہ ربّ العزت فرماتاہے : جس شخص کو قرآن اور میرا ذکر اتنا مشغول کردے کہ وہ مجھ سے کچھ مانگ بھی نہ سکے۔ تو میں اسے مانگنے والوں سے بھی زیادہ عطا فرما دیتا ہوں اور تمام کلاموں پر اﷲ تعاليٰ کے کلام (قرآن حکیم) کی فضیلت اسی طرح ہے جس طرح اﷲ تعاليٰ کی ( فضیلت) اپنی مخلوق پر ہے۔‘‘

اس حدیث کو امام ترمذی، دارمی، عبد اﷲ بن احمد نے روایت کیا ہے۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے۔

10. عَنْ عَبْدِ اﷲ بْنِ عَمْرٍو رضي اﷲ عنهما قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : يُقَالُ لِصَاحِبِ الْقُرْآنِ : إِقْرَأ وَارْتَقِ وَرَتِّلْ کَمَا کُنْتَ تُرَتِّلُ فِي الدُّنْيَا، فَإِنَّ مَنْزِلَتَکَ عِنْدَ آخِرِ آيَةٍ تَقْرَأُ بِهَا.

رَوَاهُ التِّرْمِِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه. وَقَالَ التِّرْمِِذِيُّ : هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ.

أخرجه الترمذي في السنن ، کتاب فضائل القرآن، باب : (18)، 5 / 177، الرقم : 2914، وأبو داود في السنن، کتاب الصلاة، باب استحباب الترتيل في القرائة، 2 / 73، الرقم : 1464، وابن ماجه (عن أبي سعيد الخدري) في السنن، کتاب الأدب، باب ثواب القرآن، 2 / 1242، الرقم : 3780، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 / 192، الرقم : 6799، وابن حبان في الصحيح، 3 / 43، الرقم : 766، وابن أبي شيبة في المصنف، 6 / 131، الرقم : 3056.

’’حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اﷲ عنہما روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : (روزِ قیامت) قرآن مجید پڑھنے والے سے کہا جائے گا : قرآن مجید پڑھتا جا اور جنت میں منزل بہ منزل اُوپر چڑھتا جا اور یوں ترتیل سے پڑھ، جیسے تو دنیا میں ترتیل سے پڑھا کرتا تھا، تیرا ٹھکانا جنت میں وہاں پر ہوگا جہاں تو آخری آیت تلاوت کرے گا۔‘‘

اس حدیث کو امام ترمذی، ابو داود اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

11. عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رضی الله عنه قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم : مَا أَذِنَ اﷲُ لِعَبْدٍ فِي شَيئٍ أَفْضَلَ مِنْ رَکْعَتَيْنِ يُصَلِّيْهِمَا وَإِنَّ الْبِرَّ لَيُذَرُّ عَلٰی رَأسِ الْعَبْدِ مَا دَامَ فِي صَلَاتِهِ وَمَا تَقَرَّبَ الْعِبَادُ إِلَی اﷲِ بِمِثْلِ مَا خَرَجَ مِنْهُ يَعْنِي الْقُرْآنَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ.

أخرجه الترمذي في السنن، کتاب فضائل القرآن، باب : (17)، 5 / 176، الرقم : 2911، وأحمد بن حنبل في المسند، 5 / 268، الرقم : 22360، والطبراني في المعجم الکبير، 8 / 151، الرقم : 7657.

’’حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اﷲ تعاليٰ نے بندے کو دو رکعتوں سے، جنہیں وہ ادا کرتا ہے، زیادہ فضیلت والی کسی چیز کا حکم نہیں دیا. بندہ جب تک نماز میں رہتاہے، نیکی اُس کے سر پر سایہ فگن رہتی ہے اور بندے کسی عمل سے اتنا قربِ الٰہی نہیں پا سکتے جتنا قرب کلامِ الٰہی یعنی قرآن مجید (کی تلاوت) سے پا سکتے ہیں۔‘‘

اِس حدیث کو امام ترمذی، احمد اور طبرانی نے روایت کیا ہے۔

12. عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ رضی الله عنه، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم : إِنَّکُمْ لَنْ تَرْجِعُوْا إِلَی اﷲِ بِأَفْضَلَ مِمَّا خَرَجَ مِنْهُ يَعْنِي الْقُرْآنَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

أخرجه الترمذي في السنن، کتاب فضائل القرآن، باب : (17)، 5 / 177، الرقم : 2912.

’’حضرت جبیر بن نفیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بیشک تم قرآن مجید سے افضل کوئی شے لے کر اللہ تعاليٰ کی طرف نہیں لوٹو گے۔‘‘ اِس حدیث کو امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔

13. عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ الْجُهَنِيِّ رضی الله عنه عَنْ أَبِيْهِ أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ : مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ وَعَمِلَ بِمَا فِيْهِ أُلْبِسَ وَالِدَاهُ تَاجًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ

ضَوْئُهُ أَحْسَنُ مِنْ ضَوْئِ الشَّمْسِ فِي بُيُوْتِ الدُّنْيَا لَو کَانَتْ فِيْکُمْ فَمَا ظَنُّکُمْ بِالَّذِي عَمِلَ بِهٰذَا.

رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَأَحْمَدُ وَأَبُوْ يَعْلٰی. وَقَالَ الْحَاکِمُ : صَحِيْحُ الإِسْنَادِ.

أخرجه أبو داود في السنن، کتاب الصلاة، باب في ثواب قرأة القرآن، 2 / 70، الرقم : 1453، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 440، وأبو يعلی في المسند، 3 / 65، الرقم : 1493، والحاکم في المستدرک، 1 / 756، الرقم : 2085.

’’حضرت سہل بن معاذ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جس نے قرآن پاک پڑھا اور اس پر عمل بھی کیا اس کے ماں باپ کو قیامت کے دن ایک ایسا تاج پہنایا جائے گا جس کی روشنی اس دنیا میں لوگوں کے گھروں میں چمکنے والے سورج کی روشنی سے زیادہ حسین ہو گی. تو اس کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جس نے خود اس پر عمل کیا؟ (یعنی اس کے ماں باپ کو تو تاج پہنایا جائے گا اور اس کا اپنا مقام تو اﷲ تعاليٰ ہی خوب جانتا ہے).‘‘

اس حدیث کو امام ابو داود، احمد اور ابو یعلی نے روایت کیا ہے۔ اور امام حاکم نے فرمایا : صحیح الاسناد ہے۔

14. عَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رضي اﷲ عنهما قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : مَنْ قَامَ بِعَشْرِ آيَاتٍ لَمْ يُکْتَبْ مِنَ الْغَافِلِيْنَ، وَمَنْ قَامَ بِمِائَةِ آيَةٍ کُتِبَ مِنَ الْقَانِتِيْنَ، وَمَنْ قَامَ بِأَلْفِ آيَةٍ کُتِبَ مِنَ الْمُقَنْطِرِيْنَ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ حِبَّانَ.

وفي رواية لِلدَّيْلِمِيِّ : مَنْ قَامَ بِأَلْفِ آيَةٍ کُتِبَ مِنَ الْمُتَفَکِّرِيْنَ.

أخرجه أبو داود في السنن، کتاب الصلاة، باب تحزيب القرآن، 2 / 57، الرقم : 1398، وابن حبان في الصحيح، 6 / 310، الرقم : 2572، والديلمي في مسند الفردوس، 3 / 492، الرقم : 5528.

’’حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے، اُنہوں نے بیان کیا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جس شخص نے دس آیات (کی تلاوت) کے ساتھ قیام کیا وہ غافل بندوں میں نہیں لکھا جائے گا. اور جس شخص نے سو آیات (کی تلاوت) کے ساتھ قیام کیا وہ اطاعت گزار بندوں میں لکھا جائے گا، اور جس شخص نے ہزار آیات (کی تلاوت) کے ساتھ قیام کیا وہ (بے حد و حساب) ثواب پانے والوں میں لکھا جائے گا۔‘‘

اِس حدیث کو امام ابو داود اور ابن حبان نے روایت کیا ہے۔

اور دیلمی کی روایت میں ہے : ’’جس شخص نے ہزار آیات (کی تلاوت) کے ساتھ قیام کیا وہ (اللہ تعاليٰ کی نشانیوں میں) غور و فکر کرنے والا لکھا گیا۔‘‘

15. عَنْ أَنَسٍ رضی الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : إِنَّ ِﷲِ أَهْلِيْنَ مِنَ النَّاسِ. قَالُوْا : مَنْ هُمْ يَا رَسُوْلَ اﷲِ؟ قَالَ : أَهْلُ الْقُرْآنِ، هُمْ أَهْلُ اﷲِ وَخَاصَّتُهُ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه وَالنَّسَائِيُّ وَأَحْمَدُ.

أخرجه ابن ماجه في السنن، المقدمة، باب فضل من تعلم القرآن وعلمه، 1 / 78، الرقم : 215، والنسائي في السنن الکبری، 5 / 17، الرقم : 8031، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 127، الرقم : 12301، والحاکم في المستدرک، 1 / 743، الرقم : 2046، وقال الحاکم : وقد روی هذا حديث من ثلاثه أوجه عن أنس رضی الله عنه هذا أمثلها.

’’حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : لوگوں میں سے کچھ اہل اللہ ہوتے ہیں۔ صحابہ کرام ث نے عرض کیا : یا رسول اللہ! وہ کون (خوش نصیب) ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : قرآن والے، وہی اللہ والے اور اُس کے خواص ہیں۔‘‘

اِس حدیث کو امام ابن ماجہ، نسائی اور احمد نے روایت کیا ہے۔

16. عَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ عَمْرٍو رضي اﷲ عنهما أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ : اَلصِّيَامُ وَالْقُرْآنُ يَشْفَعَانِ لِلْعَبْدِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ. يَقُوْلُ الصِّيَامُ : أَي رَبِّ، مَنَعْتُهُ الطَّعَامَ وَالشَّهَوَاتِ بِالنَّهَارِ فشَفِّعْنِي فِيْهِ. وَيَقُوْلُ الْقُرْآنُ : مَنَعْتُهُ النَّومَ بِاللَّيْلِ فَشَفِّعْنِي فِيْهِ. قَالَ : فَيُشَفَّعَانِ.

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْحَاکِمُ وَابْنُ الْمُبَارَکِ وَالْبَيْهَقِيُّ. وَقَالَ الْحَاکِمُ : هٰذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ عَلٰی شَرْطِ مُسْلِمٍ. وَقَالَ الْمُنْذِرِيُّ وَالْهَيْثَمِيُّ : وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيْحِ.

أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 2 / 174، الرقم : 6626، والحاکم في المستدرک، 1 / 740، الرقم : 2036، وابن المبارک في الزهد، 1 / 114، الرقم : 385، والبيهقي في شعب الإيمان، 2 / 346، الرقم : 1994، والمنذري في الترغيب والترهيب، 2 / 50، 230، الرقم : 1455، 2205، والهيثمي في مجمع الزوائد، 3 / 181.

’’حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : روزِ قیامت روزہ اور قرآن دونوں بندہ کے لیے شفاعت کریں گے۔ روزہ کہے گا : اے میرے ربّ! میں نے اس شخص کو دن کے وقت کھانے (پینے) اور (دوسری) نفسانی خواہشات سے روکے رکھا سو تو اس شخص کے متعلق میری شفاعت قبول فرما. اور قرآن کہے گا : اے میرے ربّ! میں نے اس شخص کو رات کے وقت جگائے رکھا سو اس کے متعلق میری شفاعت کو قبول فرما. آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تو ان دونوں کی شفاعت قبول کی جائے گی.‘‘

اس حدیث کو امام احمد، حاکم، ابن مبارک اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔ اور امام حاکم نے فرمایا : یہ حدیث امام مسلم کی شرائط پر صحیح ہے۔ امام منذری اور ہیثمی نے بھی کہا : اس کے رجال صحیح حدیث کے رجال ہیں۔

17. عَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ عَمْرٍو رضي اﷲ عنهما، عَنْ رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم أَنَّهُ قَالَ : الْقُرْآنُ أَحَبُّ إِلَی اﷲِ مِنَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيْهِنَّ.

رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ.

أخرجه الدارمي في السنن، کتاب فضائل القرآن، باب فضل کلام اﷲ علی سائر الکلام، 2 / 533، الرقم : 3358، والديلمي في مسند الفردوس، 3 / 230، الرقم : 4679.

’’حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اﷲ عنہما، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بے شک قرآن اللہ تبارک و تعاليٰ کو آسمانوں، زمین اور ان کے اندر موجود ہر ایک شے سے زیادہ پیارا ہے۔‘‘

اِس حدیث کو امام دارمی نے روایت کیا ہے۔

وفي رواية : عَنْ عَبْدِ اﷲِ رضی الله عنه قَالَ : مَنْ أَحَبَّ الْقُرْآنَ فَلْيُبْشِرْ.

رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ. وفي رواية لابْنِ أَبِي شَيْبَةَ : مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فَلْيُبْشِرْ.

أخرجه الدارمي في السنن، کتاب فضائل القرآن، باب فضل من قرأ القرآن، 2 / 525، الرقم : 3323.3324، وابن أبي شيبة في المصنف، 6 / 133، الرقم : 30080.

’’ایک روایت میں حضرت عبد اللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ خوشخبری ہو اس شخص کے لیے جو قرآن سے محبت کرتا ہے۔‘‘

اِسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔

ابن ابی شیبہ سے مروی روایت کے الفاظ ہیں : ’’خوشخبری ہو اُس شخص کے لیے جس نے قرآن پڑھا۔‘‘

18. عَنْ عَبْدِ اﷲِ رضی الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ : إِنَّ هٰذَا الْقُرْآنَ مَأدُبَةُ اﷲِ فَأَقْبِلُوْا مِنْ مَأدُبَتِهِ(1) مَا اسْتَطَعْتُمْ، إِنَّ هٰذَا الْقُرْآنَ حَبْلُ اﷲِ، وَالنُّوْرُ الْمُبِيْنُ، وَالشِّفَائُ النَّافِعُ عِصْمَةٌ لِمَنْ تَمَسَّکَ بِهِ، وَنَجَاةٌ لِمَنِ اتَّبَعَهُ، لَا يَزِيْغُ(2) فَيُسْتَعْتَبُ(3) وَلَا يَعْوَجُّ(4) فَيُقَوَّمُ، وَلَا تَنْقَضِي عَجَائِبُهُ، وَلَا يَخْلَقُ مِنْ کَثْرَةِ الرَّدِّ، اتْلُوْهُ فَإِنَّ اﷲَ يَاجُرُکُمْ عَلٰی تِلَاوَتِهِ کُلَّ حَرْفٍ عَشْرَ حَسَنَاتٍ، أَمَا إِنِّي لَا أَقُوْلُ : الۤمۤ حَرْفٌ، وَلٰـکِنْ أَلِفٌ وَلَامٌ وَمِيْمٌ.

رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ وَابْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ وَالْحَاکِمُ وَاللَّفْظُ لَهُ. وَقَالَ الْحَاکِمُ : هٰذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الإِسْنَادِ.

(1) المأدبة : الطعام يدعی إليه الناس، يقصد منافع القرآن وفوائده العظيمة. (النهاية)

(2) الزيغ : البعد عن الحق، والميل عن الاستقامة. (النهاية)

(3) يستعتب : يتوب ويطلب رضا اﷲ ل ومغفرته. (النهاية)

(4) الاعوجاج : الميل والانحراف والزيغ. (النهاية)

أخرجه الحاکم في المستدرک، کتاب فضائل القرآن، باب أخبار في فضائل القرآن جملة، 1 / 741، الرقم : 2040، والدارمي في السنن، کتاب فضائل القرآن، باب فضل من قرأ القرآن، 2 / 523، الرقم : 3315، وابن أبي شيبة في المصنف، 6 / 125، الرقم : 30008، وعبد الرزاق في المصنف، 3 / 375، الرقم : 6017، والطبراني في المعجم الکبير، 9 / 130، الرقم : 8646، والبيهقي في السنن الصغری، 1 / 541، الرقم : 983، وأيضًا في شعب الإيمان، 2 / 342، الرقم : 1985، والمنذري في الترغيب و الترهيب، 2 / 231، الرقم : 2208.

’’حضرت عبد اﷲ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بیشک یہ قرآن اﷲ تعاليٰ کا دسترخوان (عطیہ و نعمت) ہے۔ جہاں تک ممکن ہو اس کے دستر خوان میں سے حاصل کر لو. یہ قرآن اﷲ تعاليٰ کی رسی، چمکتا دمکتا نور اور (ہر روگ و پریشانی کا) نفع بخش علاج ہے۔ جو اس پر عمل کرے اس کے لیے (باعثِ) حفاظت اور جو اس کی پیروی کرے اس کے لیے (باعثِ) نجات ہے۔ یہ جھکتا نہیں کہ اس کو کھڑا کرنا پڑے۔ ٹیڑھا نہیں ہوتا کہ اسے سیدھا کرنا پڑے۔ اس کے عجائب (رموز و اسرار، نکات و حِکم) کبھی ختم نہ ہوں گے اور بار بار کثرت سے پڑھتے رہنے سے بھی پرانا نہیں ہوتا (یعنی اس سے دل نہیں بھرتا) اس کی تلاوت کیا کرو کیوں کہ اﷲ تعاليٰ اس کی تلاوت پر تمہیں ہر حرف کے عوض دس نیکیوں کا اجر عطا فرماتا ہے۔ یاد رکھو! میں یہ نہیں کہتا کہ الۤم ایک حرف ہے۔ بلکہ الف (ایک حرف ہے)، لام (ایک حرف ہے) اور میم (ایک حرف ہے گویا صرف الۤم پڑھنے سے ہی تیس نیکیاں مل جاتی ہیں).‘‘

اس حدیث کو امام دارمی، ابن ابی شیبہ، عبد الرزاق اور حاکم نے مذکورہ الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے۔ نیز حاکم نے اس حدیث کے بارے میں فرمایا ہے کہ اس کی سند صحیح ہے۔

19. عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ رضی الله عنه أَنَّهُ کَانَ يَقْرَأُ وَهُوَ عَلٰی ظَهْرِ بَيْتِهِ وَهُوَ حَسَنُ الصَّوْتِ، فَجَائَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم ، فَقَالَ : بَيْنَا أَقْرَأُ إِذْ غَشِيَنِي شَيئٌ کَالسَّحَابِ وَالْمَرْأَةُ فِي الْبَيْتِ وَالْفَرَسُ فِي الدَّارِ فَتَخَوَّفْتُ أَنْ تَسْقُطَ الْمَرْأَةُ، وَتَنْفَلِتَ الْفَرَسُ فَانْصَرَفْتُ، فَقَالَ لَهُ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : اقْرَأ يَا أُسَيْدُ، فَإِنَّمَا هُوَ مَلَکٌ اسْتَمَعَ الْقُرْآنَ.

رَوَاهُ الْحَاکِمُ وَالْبَزَّارُ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ وَالطَّبَرَانِيُّ. وَقَالَ الْحَاکِمُ : هٰذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ.

أخرجه الحاکم في المستدرک، کتاب فضائل القرآن، 1 / 739، الرقم : 2033.2034، وأيضًا، 3 / 326، الرقم : 5259، والبزار في المسند، 8 / 178، الرقم : 3209، وعبد الرزاق في المصنف، 2 / 486، الرقم : 4182، والطبراني في المعجم الکبير، 1 / 207، الرقم : 563.

’’حضرت اُسید بن حضیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ اپنے گھر کی چھت پر قرآن پڑھا کرتے تھے اور وہ بہت خوبصورت آواز والے تھے سو وہ (اسید) حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : (یا رسول اللہ!) جب میں قرآن پڑھتا ہوں تو بادلوں کی طرح کوئی چیز مجھے گھیر لیتی ہے اور میرے گھر میں میری بیوی ہے اور ایک گھوڑا ہے تو میں ڈر جاتا ہوں کہ میری بیوی (خوف سے) گر نہ پڑے اور گھوڑا (ڈر کر) بھاگ نہ جائے لهٰذا میں جلدی سے (تلاوت سے) ہٹ جاتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُنہیں فرمایا : اے اُسید! تم اِسے پڑھتے رہا کرو، بیشک یہ ایک فرشتہ ہے جو قرآن کو (بہت شوق سے) سنتا ہے۔‘‘

اِس حدیث کو امام حاکم، بزار، عبد الرزاق اور طبرانی نے روایت کیا ہے۔ امام حاکم نے فرمایا : یہ حدیث صحیح ہے۔

20. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : فَضْلُ الْقُرْآنِ عَلٰی سَائِرِ الْکَلَامِ کَفَضْلِ الرَّحْمٰنِ عَلٰی سَائِرِ خَلْقِهِ.

رَوَاهُ أَبُوْ يَعْلٰی وَالْبَيْهَقِيُّ.

أخرجه أبو يعلی في المعجم، 1 / 240، الرقم : 294، والبيهقي في شعب الإيمان، 2 / 404، الرقم : 2208.

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : قرآن مجید کی فضیلت تمام کلاموں پر ایسے ہی ہے جیسے (خود اس) رحمن کی فضیلت اُس کی تمام مخلوقات پر ہے۔‘‘

اِس حدیث کو امام ابو یعلی اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔

21. عَنِ الْحَسَنِ رضی الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : لَا فَاقَةَ لِعَبْدٍ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَلَا غِنٰی لَهُ بَعْدَهُ. رَوَاهُ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَالْقُضَاعِيُّ.

أخرجه ابن أبي شيبة في المصنف، کتاب فضائل القرآن، باب في فضل من قرأ القرآن، 6 / 120، الرقم : 29954، والقضاعي في مسند الشهاب، 2 / 46، الرقم : 855.

’’حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اُس شخص کو (کبھی) فاقہ نہیں ہو گا جو قرآن مجید پڑھتا ہے اور اُس (قرآن مجید) کے بعد اُس کے لیے (اُس سے بڑی) کوئی غنا (دولتمندی) نہیں ہے۔‘‘

اِس حدیث کو امام ابن ابی شیبہ اور قضاعی نے روایت کیا ہے۔

وفي رواية : عَنْ سَلَامٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي مُطِيْعٍ قَالَ : کَانَ قَتَادَةُ رضی الله عنه يَقُوْلُ : أُعْمُرُوْا بِهِ قُلُوْبَکُمْ وَاعْمُرُوْا بِهِ بَيُوْتَکُمْ قَالَ : أُرَاهُ يَعْنِي الْقُرْآنَ. رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ.

أخرجه الدارمي في السنن، کتاب فضائل القرآن، باب في تعاهد القرآن، 2 / 530، الرقم : 3342.

’’حضرت سلام ابن ابی مطیع بیان کرتے ہیں کہ حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کیاکرتے تھے : قرآن کے ذریعے اپنے دلوں اور گھروں کو آباد کیا کرو.‘‘

اِسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔

22. عَنْ عَائِشَةَ رضي اﷲ عنها قَالَتْ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : عَدَدُ دَرَجِ الْجَنَّةِ عَلٰی عَدَدِ آيِ الْقُرْآنِ، فَمَنْ دَخَلَ الْجَنَّةَ مِنْ أَهْلِ القُرْآنِ فَلَيْسَ فَوْقَهُ دَرَجَةٌ. رَوَاهُ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَالْبَيْهَقِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ.

أخرجه ابن أبي شيبة موقوفًا في المصنف، کتاب فضائل القرآن، باب في فضل من قرأ القرآن، 6 / 120، الرقم : 29952، والبيهقي في شعب الإيمان، 2 / 347، الرقم : 1998، والديلمي في مسند الفردوس، 3 / 58، الرقم : 4158، والمنذري في الترغيب والترهيب، 2 / 228، الرقم : 2199.

’’حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جنت کے درجات قرآن کی آیات کی تعداد کے برابر ہیں۔ سو جب قرآن والوں میں سے کوئی جنت میں داخل ہوگا تو اُس کے اوپر کسی اور کا درجہ نہیں ہوگا۔‘‘

اِس حدیث کو امام ابن ابی شیبہ اوربیہقی نے مذکورہ الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے۔

23. عَنْ أَبِي سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ رضی الله عنه، أَنَّ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم أَتَوْا عَلٰی حَيٍّ مِنْ أَحْيَائِ الْعَرَبِ، فَلَمْ يَقْرُوْهُمْ، فَبَيْنَمَا هُمْ کَذَالِکَ إِذْ لُدِغَ سَيِّدُ أُوْلٰئِکَ، فَقَالُوْا : هَلْ مَعَکُمْ مِنْ دَوَائٍ أَوْ رَاقٍ؟ فَقَالُوْا : إِنَّکُمْ لَمْ تَقْرُوْنَا وَلَا نَفْعَلُ حَتّٰی تَجْعَلُوْا لَنَا جُعْـلًا، فَجَعَلُوْا لَهُمْ قَطِيْعًا مِنَ الشَّائِ، فَجَعَلَ يَقْرَأُ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَيَجْمَعُ بُزَاقَهُ وَيَتْفِلُ فَبَرَأَ فَأَتَوْا بِالشَّائِ، فَقَالُوْا : لَا نَأخُذُهُ حَتّٰی نَسْأَلَ النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم فَسَأَلُوْهُ، فَضَحِکَ، وَقَالَ : وَمَا أَدْرَاکَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ خُذُوْهَا وَاضْرِبُوْا لِي بِسَهْمٍ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب الطب، باب الرقي بفاتحة الکتاب، 5 / 2166، الرقم : 5404، ومسلم في الصحيح، کتاب السلام، باب جواز أخذ الأجرة علی الرقية بالقرآن والأذکار، 4 / 1727، الرقم : 2201.

’’حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب میں سے کچھ حضرات قبائل عرب میں سے ایک قبیلے میں گئے تو اُنہوں نے اُن کی ضیافت نہ کی. اِسی اثنا میں اُن کے سردار کو کسی موذی جانور نے کاٹ کھایا تو وہ (ان کے پاس آکر)کہنے لگے : کیا آپ کے پاس کوئی دوا یا دم کرنے والا ہے؟ اُنہوں نے کہا : چونکہ تم نے ہماری ضیافت نہیں کی لہٰذا ہم اُس وقت تک کچھ نہیں کریں گے جب تک تم ہمارے ساتھ کچھ (معاوضہ) مقرر نہ کرلو. سو اُنہوں نے (بدلے میں) کچھ بکریاں دینا منظور کیا چنانچہ (اُن میں سے ایک نے) سورہِ فاتحہ پڑھی اور تکلیف والی جگہ پر تھوک دیا.اُس کی تکلیف دور ہوگئی وہ بکریاں لے کر آئے تو اُن صحابہ نے کہا : ہم اُس وقت تک نہیں لیں گے جب تک حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اِس کے متعلق پوچھ نہ لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے انہوں نے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہنس پڑے اور فرمایا : تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ یہ (سورہِ فاتحہ) دم کرنے کی چیز ہے؟ خیر بکریاں لے لو اور اُن میں میرا حصہ بھی رکھو.‘‘

یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

24. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ : لَا تَجْعَلُوْا بُيُوْتَکُمْ مَقَابِرَ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَنْفِرُ مِنَ الْبَيْتِ الَّذِي تُقْرَأُ فِيْهِ سُوْرَةُ الْبَقَرَةِ.

رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَأَحْمَدُ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ : هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ.

أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب صلاة المسافرين وقصرها، باب استحباب صلاة النافلة في بيته وجوازها في المسجد، 1 / 539، الرقم : 780، والترمذي في السنن، کتاب فضائل القرآن، باب ما جاء في فضل سورة البقرة وآية الکرسي، 5 / 157، الرقم : 2877، والنسائي في السنن الکبری، 5 / 13، الرقم : 8015، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 / 388، الرقم : 9030.

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اپنے گھروں کو قبرستان نہ بنائو، بے شک شیطان اُس گھر سے بھاگتا ہے جس میں سورہِ بقرہ کی تلاوت کی جاتی ہے۔‘‘

اِس حدیث کو امام مسلم، ترمذی، نسائی اور احمد نے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

25. عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ رضی الله عنه قَالَ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ : اقْرَئُوْا الْقُرْآنَ فَإِنَّهُ يَأتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ شَفِيْعًا لِأَصْحَابِهِ. اقْرَئُوا الزَّهْرَاوَيْنِ : الْبَقَرَةَ وَسُوْرَةَ آلِ عِمْرَانَ، فَإِنَّهُمَا تَأتِيَانِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ کَأَنَّهُمَا غَمَامَتَانِ أَوْ کَأَنَّهُمَا غَيَايَتَانِ أَوْ کَأَنَّهُمَا فِرْقَانِ مِنْ طَيْرٍ صَوَافَّ تُحَاجَّانِ عَنْ أَصْحَابِهِمَا. اقْرَئُوْا سُوْرَةَ الْبَقَرَةِ فَإِنَّ أَخْذَهَا بَرَکَةٌ وَتَرْکَهَا حَسْرَةٌ وَلَا تَسْتَطِيْعُهَا الْبَطَلَةُ.

رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَالدَّارِمِيُّ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ وَأَحْمَدُ.

أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب صلاة المسافرين وقصرها، باب فضل قرائة القرآن وسورة البقرة، 1 / 553، الرقم : 804، والدارمي (عن بريدة) في السنن، کتاب فضائل القرآن، باب في فضل سورة البقرة وآل عمران، 2 / 543، الرقم : 3391، وعبد الرزاق في المصنف، 3 / 365، الرقم : 5991، وأحمد بن حنبل في المسند، 5 / 249، الرقم : 22200.

’’حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : قرآن مجید پڑھا کرو کیوں کہ وہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کا شفیع بن کر آئے گا، اور دو روشن سورتیں ’’سورہِ بقرہ اور سورہِ آل عمران‘‘ پڑھا کرو کیوں کہ وہ قیامت کے دن اس طرح آئیں گی جس طرح دو بادل ہوں یا دو سائبان ہوں یا اُڑتے ہوئے پرندوں کے دو جُھنڈ ہوں اور وہ اپنے پڑھنے والوں کی وکالت کریں گی. سورہِ بقرہ پڑھا کرو، اس کا پڑھنا برکت ہے اور نہ پڑھنا حسرت ہے، جادوگر اس (کی برکات) کے حصول کی استطاعت نہیں رکھتے۔‘‘

اِس حدیث کو امام مسلم، دارمی، عبد الرزاق اور احمد نے روایت کیا ہے۔

26. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : لِکُلِّ شَيئٍ سَنَامٌ وَإِنَّ سَنَامَ الْقُرْآنِ سُوْرَةُ الْبَقَرَةِ، وَفِيْهَا آيَةٌ هِيَ سَيِّدَةُ آيِ الْقُرْآنِ، هِيَ آيَةُ الْکُرْسِيِّ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ.

وفي رواية : سُوْرَةُ الْبَقَرَةِ فِيْهَا آيَةٌ سَيِّدُ آيِ الْقُرْآنِ، لَا يُقْرَأُ فِي بَيْتٍ وَفِيْهِ شَيْطَانٌ إِلَّا خَرَجَ مِنْهُ : آيَةُ الْکُرْسِيِّ.

رَوَاهُ الْحَاکِمُ، وَقَالَ : صَحِيْحُ الإِسْنَادِ.

أخرجه الترمذي في السنن، کتاب فضائل القرآن، باب ما جاء في فضل سورة البقرة وآية الکرسي، 5 / 145، الرقم : 2878، وعبد الرزاق في المصنف، 3 / 376، الرقم : 6019، والحاکم في المستدرک، 1 / 748، الرقم : 2058، 2059، والحميدي في المسند، 2 / 437، الرقم : 994.

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہر چیز کی ایک بلندی ہے اور بے شک قرآن کی بلندی سورہِ بقرہ ہے اوراس میں ایک آیت (یعنی) آیت الکرسی، تمام قرآنی آیات کی سردار ہے۔‘‘

اِس حدیث کو امام ترمذی اور عبد الرزاق نے روایت کیا ہے۔

ایک اور روایت میں ہے : ’’بے شک قرآن کی بلندی سورہِ بقرہ ہے اوراس میں ایک آیت تمام قرآنی آیات کی سردار ہے۔ جس گھر میں بھی یہ آیت پڑھی جائے شیطان اُس گھر سے نکل جاتا ہے۔ وہ آیت الکرسی ہے۔‘‘

اِس حدیث امام حاکم نے روایت کیا اور فرمایا : یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔

27. عَنْ أَبِي مَسْعُوْدٍ الْبَدْرِيِّ رضی الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : الْآيَتَانِ مِنْ آخِرِ سُوْرَةِ الْبَقَرَةِ مَنْ قَرَأَهُمَا فِي لَيْلَةٍ کَفَتَاهُ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب فضائل القرآن، باب فضل سورة البقرة، 4 / 1914، الرقم : 4722، ومسلم في الصحيح، کتاب صلاة المسافرين وقصرها، باب فضل الفاتحة وخواتيم سورة البقرة، 1 / 554، الرقم : 806.

’’حضرت ابو مسعود بدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : سورہِ البقرہ کی آخری دو آیتیں جو بھی رات کو پڑھ لے تو وہ اُسے کفایت کریں گی.‘‘ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

28. عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيْرٍ رضی الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ : إِنَّ اﷲَ کَتَبَ کِتَابًا قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضَ بِأَلْفَي عَامٍ أَنْزَلَ مِنْهُ آيَتَيْنِ خَتَمَ بِهِمَا سُوْرَةَ الْبَقَرَةِ وَلَا يُقْرَآنِ فِي دَارٍ ثَـلَاثَ لَيَالٍ فَيَقْرَبُهَا شَيْطَانٌ.

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَالدَّارِمِيُّ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ : هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ غَرِيْبٌ. وَقَالَ الْحَاکِمُ : صَحِيْحٌ عَلٰی شَرْطِ مُسْلِمٍ.

أخرجه الترمذي في السنن، کتاب فضائل القرآن، باب ما جاء في آخر سورة البقرة، 5 / 147، الرقم : 2882، والدارمي في السنن، کتاب فضائل القرآن، باب فضل أوّل سورة البقرة وآية الکرسي، 2 / 542، الرقم : 3387، والنسائي في السنن الکبری، 6 / 240، الرقم : 10802، وابن حبان في الصحيح، 3 / 61، الرقم : 782، والحاکم في المستدرک، 1 / 750، الرقم : 2065، والبزار في المسند، 8 / 236، الرقم : 3296، والطبراني في المعجم الکبير، 7 / 285، الرقم : 7146.

’’حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعاليٰ نے زمین و آسمان کے پیدا کرنے سے دو ہزار سال پہلے ایک کتاب لکھی جس میں سے دو آیتیں اُتاریں یہی آیتیں سورہِ بقرہ کا آخر ہیں جس گھر میں یہ آیات تین دن پڑھی جائیں، شیطان اس کے قریب نہیں آتا۔‘‘

اِس حدیث کو امام ترمذی، نسائی اور دارمی نے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے۔ حاکم نے فرمایا : امام مسلم کی شرائط پر صحیح ہے۔

29. عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ رضی الله عنه، أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ : إِنَّ اﷲَ خَتَمَ سُوْرَةَ الْبَقَرَةِ بِآيَتَيْنِ أُعْطِيْتُهُمَا مِنْ کَنْزِهِ الَّذِي تَحْتَ الْعَرْشِ فَتَعَلَّمُوْهُنَّ وَعَلِّمُوْهُنَّ نِسَائَکُمْ، فَإِنَّهُمَا صَلَاةٌ وَقُرْآنٌ وَدُعَائٌ.

رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالْحَاکِمُ. وَقَالَ الْحَاکِمُ : صَحِيْحٌ عَلٰی شَرْطِ الْبُخَارِيِّ.

2 أخرجه الدارمي في السنن، کتاب فضائل القرآن، باب فضل أوّل سورة البقرة وآية الکرسي، 2 / 542، الرقم : 3390، وأبو داود في المراسيل / 120، الرقم : 91، والحاکم في المستدرک، 1 / 750، الرقم : 2066، والبيهقي في شعب الإيمان، 2 / 461، الرقم : 2403.

’’حضرت جبیر بن نفیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیںکہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بے شک اﷲ تعاليٰ نے سورہِ بقرہ کا اختتام دو ایسی آیتوں کے ذریعے کیا ہے جو اُس نے مجھے اپنے عرش کے نیچے رکھے ہوئے خزانے سے دی ہیں، تم اُنہیں خود بھی سیکھو اور اپنی عورتوں کو بھی سکھاؤ، یہ دونوں نماز بھی ہیں، قرآن بھی اور دعا بھی.‘‘

اِس حدیث کو امام دارمی، ابو داود اور حاکم نے روایت کیا ہے۔ امام حاکم نے فرمایا : یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے۔

30. عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ رضی الله عنه قَالَ : کَانَ رَجُلٌ يَقْرَأُ سُوْرَةَ الْکَهْفِ، وَإِلٰی جَانِبِهِ حِصَانٌ مَرْبُوْطٌ بِشَطَنَيْنِ، فَتَغَشَّتْهُ سَحَابَةٌ، فَجَعَلَتْ تَدْنُوْ، وَتَدْنُوْ وَجَعَلَ فَرَسُهُ يَنْفِرُ، فَلَمَّا أَصْبَحَ أَتَی النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم فَذَکَرَ ذَالِکَ لَهُ، فَقَالَ : تِلْکَ السَّکِيْنَةُ تَنَزَّلَتْ بِالْقُرْآنِ.

مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب فضائل القرآن، باب فضل سورة الکهف، 4 / 1914، الرقم : 4724، ومسلم في الصحيح، کتاب صلاة المسافرين وقصرها، باب نزول السکينة لقراء ة القرآن، 1 / 547، الرقم : 795.

’’حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی سورہِ کہف پڑھ رہا تھا اور اُس کے پاس ہی دو رسیوں کے ساتھ ایک گھوڑا بندھا ہوا تھا، پس اُس آدمی کے اوپر بادل چھاگیا اور وہ اُس کے نزدیک سے نزدیک تر ہوتا گیا، یہاں تک کہ اُس کا گھوڑا بدکنے لگا. جب صبح کے وقت وہ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اِس واقعہ کا ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : وہ سکینہ (یعنی فرشتہ) ہے جس کا تلاوتِ قرآن کے باعث نزول ہوا۔‘‘

یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

31. عَنْ أَبِي الدَّرْدَائِ رضی الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ : مَنْ حَفِظَ عَشْرَ آيَاتٍ مِنْ أَوَّلِ سُوْرَةِ الْکَهْفِ عُصِمَ مِنَ الدَّجَّالِ. وفي رواية : مِنْ آخِرِ سُوْرَةِ الْکَهْفِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ.

أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب صلاة المسافرين وقصرها، باب فضل سورة الکهف وآية الکرسي، 1 / 555556، الرقم : 809، وأبو داود في السنن، کتاب الملاحم، باب خروج الدجال، 4 / 117، الرقم : 4323، والنسائي في السنن الکبری، 5 / 15، الرقم : 8025.

’’حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو شخص سورہِ کہف کی پہلی دس آیات یاد کر لے گا وہ دجال (کے شر) سے محفوظ رہے گا۔‘‘ ایک روایت میں ہے : ’’سورہِ کہف کے آخر سے (دس آیات).‘‘

اِس حدیث کو امام مسلم، ابو داود اور نسائی نے روایت کیا ہے۔

32. عَنِ الْقَاسِمِ صلی الله عليه وآله وسلم، عَنِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم ، قَالَ : اسْمُ اﷲِ الْأَعْظَمُ الَّذِي إِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ فِي سُوَرٍ ثَـلَاثٍ : الْبَقَرَةِ وَآلِ عِمْرَانَ وَطٰهَ.

رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه وَالطَّبَرَانِيُّ.

قاسم بن عبد الرحمن الدمشقي (م 112ه) وثقة.

أخرجه ابن ماجه في السنن، کتاب الدعائ، باب اسم اﷲ الأعظم، 2 / 1267، الرقم : 3856، والطبراني في المعجم الأوسط، 8 / 192، الرقم : 8371.

’’حضرت قاسم رضی اللہ عنہ، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مروی روایت بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعاليٰ کا وہ اسم اعظم جس کے ذریعے اگر دعا کی جائے تو قبول ہوتی ہے۔ اِن تین سورتوں میں ہے۔ سورہِ البقرہ، سورہِ آل عمران اور سورہِ طہ.‘‘ اِس حدیث کو امام ابن ماجہ اور طبرانی نے روایت کیا ہے۔

33. عَنْ أَنَسٍ رضی الله عنه قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم : إِنَّ لِکُلِّ شَيئٍ قَلْبًا وَقَلْبُ الْقُرْآنِ يٰسۤ، وَمَنْ قَرَأَ يٰسۤ کَتَبَ اﷲُ لَهُ بِقِرَائَتِهَا قِرَائَةَ الْقُرْآنِ عَشْرَ مَرَّاتٍ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ.

أخرجه الترمذي في السنن، کتاب فضائل القرآن، باب ما جاء في فضل يۤس، 5 / 149150، الرقم : 2887، والدارمي في السنن، 2 / 548، الرقم : 3416، وعبد الرزاق في المصنف، 3 / 372، الرقم : 6009.

’’حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہر چیز کا ایک دل ہے اور قرآن کا دل سورہِ يٰس ہے، جس نے سورہِ يٰس پڑھی اللہ تعاليٰ اس کے لیے دس مرتبہ (مکمل) قرآن پڑھنے کا ثواب لکھے گا۔‘‘

اِس حدیث کو امام ترمذی، دارمی اور عبد الرزاق نے روایت کیا ہے۔

وفي رواية : عَنْ مَعْقَلِ بْنِ يَسَارٍ رضی الله عنه قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم : اقْرَأُوْا يۤس عَلٰی مَوْتَاکُمْ.

رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه وَالنَّسَائِيُّ وَأَحْمَدُ.

أخرجه أبو داود في السنن، کتاب الجنائز، باب القراء ة عند الميت، 3 / 191، الرقم : 3121، وابن ماجه في السنن، کتاب الجنائز، باب ما جاء في ما يقال عند المريض إذا حضر، 1 / 466، الرقم : 1448، والنسائي في السنن الکبری، 6 / 265، الرقم : 10913، وأحمد بن حنبل في المسند، 5 / 27، الرقم : 20329.

’’حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اپنے وفات پانے والوں کے پاس ’’سورہِ يٰس‘‘ پڑھا کرو.‘‘

اِس حدیث کو امام ابو داود، ابن ماجہ، نسائی اور احمد نے روایت کیا ہے۔

34. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : مَنْ قَرَأَ حٰمۤ الدُّخَّانَ فِي لَيْلَةِ الْجُمُعَةِ غُفِرَ لَهُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ وَأَبُوْ يَعْلٰی.

أخرجه الترمذي في السنن، کتاب فضائل القرآن، باب ما جاء في فضل حٰمۤ الدخان، 5 / 163، الرقم : 2889، والدارمي (عن عبد اﷲ بن عيسی) في السنن، 2 / 550، الرقم : 3421، وأبو يعلی في المسند، 11 / 93، الرقم : 6224، والمنذري في الترغيب والترهيب، 1 / 298، الرقم : 1099.

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جس شخص نے جمعہ کی رات سورۃ حمۤ الدخان کی تلاوت کی اُسے بخش دیا جاتا ہے۔‘‘

اِس حدیث کو امام ترمذی، دارمی اور ابو یعلی نے روایت کیا ہے۔

35. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ : إِنَّ سُوْرَةً مِنَ الْقُرْآنِ ثَـلَاثُوْنَ آيَةً، شَفَعَتْ لِرَجُلٍ حَتّٰی غُفِرَ لَهُ، وَهِيَ سُوْرَةُ تَبَارَکَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْکُ.

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ : هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ. وَقَالَ الْحَاکِمُ : هٰذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الإِسْنَادِ.

أخرجه الترمذي في السنن، کتاب فضائل القرآن، باب ما جاء في فضل سورة الملک، 5 / 151، الرقم : 2891، وأبو داود في السنن، کتاب شهر رمضان، باب في عدد الآي، 2 / 57، الرقم : 1400، وابن ماجه في السنن، کتاب الأدب، باب ثواب القرآن، 2 / 1244، الرقم : 786، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 / 299، الرقم : 7962، والحاکم في المستدرک، 1 / 753، الرقم : 2075.

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : قرآن مجید میں ایک ایسی سورت ہے جس کی تیس آیات ہیں۔ اُس نے ایک (پڑھنے والے) آدمی کی سفارش کی اور وہ بخش دیا گیا اور یہ سورہِ الملک - تَبَارَکَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْکُ ہے۔‘‘

اِس حدیث کو امام ترمذی، ابو داود اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن ہے۔ امام حاکم نے بھی اسے صحیح الاسناد قرار دیا ہے۔

36. عَنْ عَبْد اﷲِ بْنِ مَسْعُوْدٍ رضی الله عنه، قَالَ : مَنْ قَرَأَ {تَبَارَکَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْکُ} کُلَّ لَيْلَةٍ، مَنَعَهُ اﷲُ بِهَا مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَکُنَّا فِي عَهْدِ رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم نُسَمِّيْهَا الْمَانِعَةَ، وَإِنَّهَا فِي کِتَابِ اﷲِ سُوْرَةٌ، مَنْ قَرَأَ بِهَا فِي کُلِّ لَيْلَةٍ، فَقَدْ أَکْثَرَ وَأَطَابَ.

رَوَاهُ النَّسَائِيُّ وَالطَّبَرَانِيُّ.

أخرجه النسائي في السنن الکبری، کتاب عمل اليوم والليلة، الفضل في قرائة تبارک الذي بيده الملک، 6 / 179، الرقم : 10547، والطبراني في المعجم الأوسط، 6 / 212، الرقم : 6216.

’’حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جو شخص ہر رات سورہِ {تَبَارَکَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْکُ} پڑھے گا، اﷲ تعاليٰ اُس سے عذابِ قبر کو روک دے گا. ہم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں اُسے (عذابِ قبر کو) روکنے والی کہا کرتے تھے۔ یہ اﷲ تعاليٰ کی کتاب کی ایسی سورت ہے کہ جس نے ہر رات اِس کی تلاوت کی اُس نے بہت زیادہ اور اچھا عمل کیا۔‘‘

اِسے امام نسائی اور طبرانی نے روایت کیا ہے۔

37. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي اﷲ عنهما قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : إِذَا زُلْزِلَتْ تَعْدِلُ نِصْفَ الْقُرْآنِ، وَقُلْ هُوَ اﷲُ أَحَدٌ تَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ، وَقُلْ يَا أَيُهَا الْکَافِرُوْنَ تَعْدِلُ رُبُعَ الْقُرْآنِ.

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالْحَاکِمُ وَالطَّبَرَانِيُّ. وَقَالَ الْحَاکِمُ : هٰذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الإِسْنَادِ.

أخرجه الترمذي في السنن، کتاب فضائل القرآن، باب ما جاء في إذا زلزلت، 5 / 166، الرقم : 2894، والحاکم في المستدرک، 1 / 754، الرقم : 2078، والطبراني في المعجم الکبير، 12 / 405، الرقم : 13493.

’’حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : سورہِ زلزال، نصف قرآن، سورہِ اخلاص تہائی قرآن اور سورہِ کافرون چوتھائی قرآن کے برابر ہے۔‘‘

اِس حدیث کو امام ترمذی، حاکم اور طبرانی نے روایت کیا ہے۔ امام حاکم نے فرمایا : یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔

38. عَنْ أَبِي سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ رضی الله عنه أَنَّ رَجُلًا سَمِعَ رَجُلًا يَقْرَأُ : قُلْ هُوَ اﷲُ أَحَدٌ يُرَدِّدُهَا فَلَمَّا أَصْبَحَ جَائَ إِلٰی رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم فَذَکَرَ ذَالِکَ لَهُ وَکَأَنَّ الرَّجُلَ يَتَقَالُّهَا. فَقَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهَا لَتَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ.

رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَمَالِکٌ.

أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب فضائل القرآن، باب فضل قل هو اﷲ أحد، 4 / 1915، الرقم : 4726، وأبو داود في السنن، کتاب الصلاة، باب في سورة الصمد، 2 / 72، الرقم : 1461، والنسائي في السنن، کتاب الافتتاح، باب الفضل في قرائة قل هو اﷲ أحد، 2 / 171، الرقم : 995، ومالک في الموطأ، کتاب القرآن، باب ما جاء في قرائة قل هو اﷲ أحد وتبارک الذي بيده الملک، 1 / 208، الرقم : 485.

’’حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے دوسرے آدمی کو {قُلْ هُوَ اﷲُ أَحَدٌ} کی تلاوت کرتے ہوئے سنا اور یہ کہ وہ بار بار اُسے دہراتا ہے۔ جب صبح ہوئی تو وہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ ماجرا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ذکر کیا گویا کہ وہ اِسے معمولی سمجھ رہا تھا. تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مجھے اُس ذات کی قسم جس کے قبضہِ قدرت میں میری جان ہے! یہ سورت تہائی قرآن کے برابر ہے۔‘‘

اِس حدیث کو امام بخاری، ابو داود اور نسائی نے روایت کیا ہے۔

39. عَنْ أَبِي الدَّرْدَائِ رضی الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ : أَيَعْجِزُ أَحَدُکُمْ أَنْ يَقْرَأَ فِي لَيْلَةٍ ثُلُثَ الْقُرْآنِ، قَالُوْا : وَکَيْفَ يَقْرَأُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ؟ قَالَ : {قُلْ هُوَ اﷲُ أَحَدٌ} تَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ.

رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَالنَّسَائِيُّ وَالدَّارِمِيُّ وَأَحْمَدُ وَأَبُوْ يَعْلٰی.

وفي رواية قال : إِنَّ اﷲَ جَزَّأَ الْقُرْآنَ ثَـلَاثَةَ أَجْزَائٍ فَجَعَلَ قُلْ هُوَ اﷲُ أَحَدٌ جُزْئًا مِنْ أَجْزَائِ الْقُرْآنِ.

3 أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب صلاة المسافرين وقصرها، باب فضل قرأة قل هو اﷲ، 1 / 556، الرقم : 811، والنسائي في السنن الکبری، 6 / 172، 176، الرقم : 10511، 10537، والدارمي في السنن، کتاب فضائل القرآن، باب في فضل قل هو اﷲ أحد، 2 / 552، الرقم : 3431، وأحمد بن حنبل في المسند، 6 / 447، الرقم : 27562، وابن حبان في الصحيح، 6 / 314، الرقم : 2576، وأبو يعلی (عن أبي سعيد) في المسند، 2 / 295، الرقم : 1018.

’’حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کیا تم میں سے کوئی شخص ہر رات تہائی قرآن مجید نہیں پڑھ سکتا؟ صحابہ کرام نے عرض کیا : (یا رسول اﷲ!) تہائی قرآن مجید کیسے پڑھے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : سورہ قُل هُوَ اﷲ اَحَد تہائی قرآن مجید کے برابر ہے۔‘‘

اِس حدیث کو امام مسلم، نسائی، دارمی، احمد اور ابو یعلی نے روایت کیا ہے۔

’’ایک اور روایت میں ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعاليٰ نے قرآن مجید کے تین حصے کیے اور سورہِ قُل هُوَ اﷲ اَحَد اُن میں سے ایک حصہ ہے۔‘‘

وفي رواية قال : عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ : مَنْ قَرَأَ کُلَّ يَوْمٍ مِائَتَي مَرَّةٍ قُلْ هُوَ اﷲُ أَحَدٌ مُحِيَ عَنْهُ ذُنُوْبُ خَمْسِيْنَ سَنَةً إِلَّا أَنْ يَکُوْنَ عَلَيْهِ دَيْنٌ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ.

أخرجه الترمذي في السنن، کتاب فضائل القرآن، باب ما جاء في سورة الإخلاص، 5 / 154155، الرقم : 2898، والدارمي في السنن، 2 / 553، الرقم : 3438.

’’ایک روایت میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو شخص روزانہ دو سو مرتبہ سورہِ اخلاص پڑھے اُس سے پچاس سال کے گناہ مٹا دیے جاتے ہیں سوائے اِس کے کہ اُس پر قرض ہو.‘‘

اِس حدیث کو امام ترمذی اور دارمی نے روایت کیا ہے۔

40. عَنْ عَائِشَةَ رضي اﷲ عنها أَنَّ النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم کَانَ يَنْفُثُ عَلٰی نَفْسِهِ فِي الْمَرَضِ الَّذِي مَاتَ فِيْهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ، فَلَمَّا ثَقُلَ کُنْتُ أَنْفُثُ عَلَيْهِ بِهِنَّ وَأَمْسَحُ بِيَدِ نَفْسِهِ لِبَرَکَتِهَا. فَسَأَلْتُ الزُّهْرِيَّ : کَيْفَ يَنْفُثُ؟ قَالَ : کَانَ يَنْفُثُ عَلٰی يَدَيْهِ ثُمَّ يَمْسَحُ بِهِمَا وَجْهَهُ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب الطب، باب الرقي بالقرآن والمعوذات، 5 / 2165، الرقم : 5403، ومسلم في الصحيح، کتاب السلام، باب رقية المريض، 4 / 1723، الرقم : 2192.

’’حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے اس مرض میں جس کے اندر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال ہوا معوذات پڑھ کر اپنے اوپر دم کیا کرتے تھے، جب تکلیف زیادہ ہو گئی تو میں یہی سورتیں پڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر دم کیا کرتی تھی اور بابرکت ہونے کے باعث آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا (اپنا) دست اقدس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (جسم مبارک) پر پھیرا کرتی تھی. میں (معمر) نے ( ابن شہاب) زہری سے پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دم کس طرح کیا کرتے تھے؟ فرمایا : سورتیں پڑھ کر اپنے ہاتھوں پر پھونک مارتے پھر اُنہیں اپنے چہرے پر پھیر لیا کرتے۔‘‘

یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

41. وفي رواية : عَنْ عَائِشَةَ رضي اﷲ عنها قَالَتْ : کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم إِذَا مَرِضَ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِهِ، نَفَثَ عَلَيْهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ، فَلَمَّا مَرِضَ مَرَضَهُ الَّذِي مَاتَ فِيْهِ. جَعَلْتُ أَنْفُثُ عَلَيْهِ وَأَمْسَحُهُ بِيَدِ نَفْسِهِ لِأَنَّهَا کَانَتْ أَعْظَمَ بَرَکَةً مِنْ يَدِي. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ واللَّفْظُ لِمُسْلِمٍ.

أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب فضائل القرآن، باب فضل المعوذات، 4 / 1916، الرقم : 4728، ومسلم في الصحيح، کتاب السلام، باب رقية المريض بالمعوذات والنفث، 4 / 1723، الرقم : 2192.

’’حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا روایت کرتی ہیں کہ جب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل میں سے کوئی بیمار ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم {قُلْ أَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ} اور {قُلْ أَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ} پڑھ کر اُس پر دم کرتے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مرضِ وصال میں مبتلا تھے تو میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر دم کرتی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ کو آپ (کے جسدِ اقدس) پر پھیرتی، کیوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ میرے ہاتھ سے زیادہ بابرکت تھے۔‘‘یہ حدیث متفق علیہ ہے اور مذکورہ الفاظ مسلم کے ہیں۔

Copyrights © 2019 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved