العرفان فی فضائل و آداب القرآن

قرآن حکیم اور اسے پڑھنے، سمجھنے والوں کے فضائل

1. عَنْ عُثْمَانَ رضي الله عنه عَنِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ:خَيرُکُم مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ. رواه البخاري.
وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهُ: قَالَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم: إِنَّ أَفْضَلَکُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرآنَ وَعَلَّمَهُ. رواه البخاري.
”حضرت عثمان (بن عفان) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے بہتر وہ شخص ہے جو قرآن حکیم سیکھے اور سکھائے۔
”اور ایک روایت میں ان ہی سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک تم میں سے افضل شخص وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے۔“

2. عَنْ سَعْدٍ رضى الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اﷲِصلی الله عليه وآله وسلم: خِيَارُکُمْ مَّنْ تَعَلَّمَ الْقُرآنَ وَعَلَّمَهُ. قَالَ: وَأَخَذَ بِيَدِي فَأَقْعَدَنِي مَقْعَدِي هَذَا أُقْرِئُ. رواه ابن ماجة وأحمد والدارمي وابن أبي شيبة.
”حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے بہترین لوگ وہ ہیں جو قرآن مجید سیکھیں اور سکھائیں۔ عاصم کہتے ہیں: مصعب نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے اس (اعلیٰ) مقام پر بٹھایا کہ میں (اسے) قرآن پڑھاؤں۔“

3. عَنْ عَائِشَةَ رضي اﷲ عنها قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اﷲِصلی الله عليه وآله وسلم: الْمَاهِرُ بِالْقُرْآنِ مَعَ السَّفَرَةِ الْکِرَامِ الْبَرَرَةِ، وَالَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَيَتَتَعْتَعُ فِيْهِ، وَهُوَ عَلَيْهِ شَاقٌّ لَهُ أَجْرَانِ.
وَفِي رِوايَةٍ: وَالَّذِي يَقْرَأُ وَهُوَ يَشْتَدُّ عَلَيْهِ لَهُ أَجْرَانِ. متفق عليه و هذا لفظ مسلم.
”حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنھا روایت فرماتی ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قرآن مجید کا ماہر معزز و محترم فرشتوں اور معظم و مکرّم انبیاء علیہم السلام کے ساتھ ہوگا اور وہ شخص جو قرآن پڑھتا ہو لیکن اس میں اٹکتا ہو اور (پڑھنا) اس پر (کند ذہن یا موٹی زبان ہونے کی وجہ سے) مشکل ہو اس کے لئے بھی دوگنا اجر ہے۔
”ایک دوسری روایت میں ہے کہ وہ شخص جو قرآن پڑھتا ہے حالانکہ یہ پڑھنا اس کے لئے سخت مشکل ہو، اس کے لئے دو اجر ہیں۔“

4. عَنْ أَبِي مُوسَی الْأَشْعَرِيِّ رضي اﷲ عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اﷲِصلی الله عليه وآله وسلم: مَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ مَثَلُ الْأُتْرُجَّةِ رِيْحُهَا طَيِّبٌ، وَطَعْمُهَا طَيِّبٌ، وَمَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ مَثَلُ التَّمْرَةِ لَا رِيْحَ لَهَا وَطَعْمُهَا حُلْوٌ، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ مَثَلُ الرَّيْحَانَةِ رِيْحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرآنَ کَمَثَلِ الْحَنْظَلَةِ لَيْسَ لَهَا رِيْحٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ.
وَفِي روايَةٍ: بَدَلَ الْمُنَافِقِ الْفَاجِرِ. متفق عليه وهذا لفظ مسلم.
”حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو بندہء مومن قرآن مجید پڑھتا رہتا ہے اس کی مثال مالٹا کی طرح (عرب کے ایک) لذیذ پھل کی سی ہے جس کی خوشبو بھی اچھی اور مزہ بھی خوب اور پاکیزہ ہوتا ہے۔ اور وہ بندہء مومن جو قرآن نہیں پڑھتا اس کی مثال خشک کھجور کی سی ہے جس میں خوشبو تو نہیں ہوتی البتہ ذائقہ شیریں ہوتا ہے۔ اور وہ منافق جو قرآن مجید پڑھتا ہے اس کی مثال ریحانہ (گلاب کے پھول) کی سی ہے کہ اس کی خوشبو اچھی اور ذائقہ کڑوا ہوتا ہے۔ اور اس منافق کی مثال جو قرآن پاک کی تلاوت نہیں کرتا حنظلہ (تمہ) کی سی ہے کہ اس میں خوشبو بالکل نہیں ہوتی اور ذائقہ بھی کڑوا ہوتا ہے۔
”ایک اور روایت میں منافق کی بجائے فاجر (یعنی بدکار) کے الفاظ ہیں۔“

5. عَنْ أَنَسٍ رضى الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم: مَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ مَثَلُ الْأُتْرُجَّةِ رِيْحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا طَيِّبٌ، وَمَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ کَمَثَلِ التَّمْرَةِ طَعْمُهَا طَيِّبٌ وَلَا رِيْحَ لَهَا، وَمَثَلُ الْفَاجِرِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ کَمََثَلِ الرَّيْحَانَةِ رِيْحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ وَمََثَلُ الْفَاجِرِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ کَمَثَلِ الْحَنْظَلَةِ طَعْمُهَا مُرٌّ وَلَا رِيْحَ لَهَا، وَمََثَلُ الْجَلِيْسِ الصَّالِحِ کَمَثَلِ صَاحِبِ الْمِسْکِ إِنْ لَمْ يُصِبْکَ مِنْهُ شَيئٌ أَصَابَکَ مِنْ رِيْحِهِ، وَمَثَلُ جَلِيْسِ السُّوءِ کَمَثَلِ صَاحِبِ الْکِيْرِ إِنْ لَمْ يُصِبْکَ مِنْ سَوَادِهِ أَصَابَکَ مِنْ دُخَانِهِ. رواه أبوداود وأحمد، وأبو يعلی مختصرا.
”حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ مومن بندہ جو تلاوتِ قرآن کرتا ہے اس کی مثال مالٹا کی طرح (عرب کے ایک) لذیذ پھل کی سی ہے کہ اس کی خوشبو بھی خوش کن اور مزہ بھی اچھا ہوتا ہے۔ اور وہ مومن بندہ جو قرآن نہیں پڑھتا اس کی مثال سوکھی کھجور (چھوہارہ) کی طرح ہے جس میں خوشبو تو نہیں ہوتی لیکن ذائقہ شیریں ہوتا ہے۔ اور فاجر (بدکار) جو قرآنِ پاک پڑھتا ہے اس کی مثال ریحانہ (گلاب کے پھول) کی سی ہے کہ اس کی خوشبو اچھی اور ذائقہ کڑوا ہوتا ہے۔ اور قرآن پاک کی تلاوت نہ کرنے والے فاجر کی مثال حنظلہ (تمہ) کی سی ہے کہ اس کا ذائقہ بھی کڑوا ہوتا ہے اور خوشبو بالکل نہیں ہوتی۔ اور نیک صالح شخص کے پاس بیٹھنے والے کی مثال خوشبو فروش (عطار) کے پاس بیٹھنے والے کی سی ہے کہ تجھے اس سے کچھ بھی نہ ملے تو اس کی خوشبو تو تجھے ضرور پہنچے گی۔ اور برے آدمی کے پاس بیٹھنے والے کی مثال بھٹی والے (لوہار) کے پاس بیٹھنے والے کی طرح ہے کہ اگر اس کی کالک تجھے نہ بھی پہنچے تو کم از کم اس کا دھواں تو تیرے ناک میں ضرور داخل ہوگا۔“

6. عَنْ أَبِي أُمَامَهَ رضى الله عنه قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ: اقْرَؤُوا الْقُرْآنَ فَإِنَّهُ يَأتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ شَفِيْعًا لِأَصْحَابِهِ. رواه مسلم.
”حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: قرآن مجید پڑھا کرو، یہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کے لیے شفاعت کرنے والا بن کر آئے گا۔“

7. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضى الله عنه أَنَّ رَسُولَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ: لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ: رَجُلٌ عَلَّمَهُ اﷲُ الْقُرْآنَ فَهُوَ يَتْلُوهُ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ فَسَمِعَهُ جَارٌ لَهُ، فَقَالَ: لَيْتَنِي أوْتِيتُ مِثْلَ مَا أوْتِيَ فُلَانٌ فَعَمِلْتُ مِثْلَ مَا يَعْمَلُ. وَرَجُلٌ آتَاهُ اﷲُ مَالًا فَهُوَ يُهْلِکُهُ فِي الْحَقِّ، فَقَالَ رَجُلٌ: لَيْتَنِي أوْتِيْتُ مِثْلَ مَا أوْتِي فُلَانٌ فَعَمِلْتُ مِثْلَ مَا يَعْمَلُ. متفق عليه. وهذا لفظ البخاري.
”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حسد (رشک) تو بس دو آدمیوں سے ہی کرنا جائز ہے: پہلا وہ شخص جسے اﷲ تعالیٰ نے قرآن (پڑھنا و سمجھنا) سکھایا تو وہ رات اور دن کے اوقات میں اس کی تلاوت کرتا ہے اس کا پڑوسی اسے قرآن پڑھتے ہوئے سنتا ہے تو کہہ اٹھتا ہے کہ کاش! مجھے بھی اس کی مثل قرآن عطا کیا جاتا تو میں بھی اسی طرح عمل کرتا جس طرح یہ کرتا ہے؛ اور دوسرا وہ شخص جسے اﷲ تعالیٰ نے مال بخشا ہے اور وہ اسے اﷲ تعالیٰ کی راہ میں صرف کرتا ہے۔ دوسرا شخص اسے دیکھ کر کہتا ہے: کاش! مجھے بھی اتنا مال ملتا جتنا اسے ملا ہے تو میں بھی اسی طرح عمل کرتا جس طرح یہ کرتا ہے۔“

8. عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اﷲِ رضي اﷲ عنهما قَالَ: کَانَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم يَجْمَعُ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ مِنْ قَتْلَی أُحُدٍ فِي ثَوبٍ وَاحِدٍ، ثُمَّ يَقُولُ: أَيُّهُمْ أَکْثَرُ أَخْذًا لِلْقُرْآنِ؟ فَإِذَا أُشِيْرَ لَهُ إِلَی أَحَدِهِمَا قَدَّمَهُ فِي اللَّحْدِ، وَقَالَ: أَنَا شَهِيْدٌ عَلَی هَؤُلَاءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ. رواه البخاري والترمذي وغيرهم.
”حضرت جابر بن عبد اﷲ رضی اﷲ عنہما نے فرمایا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شہداء اُحد میں سے دو، دو صحابہ کرام کو ایک کپڑے (کفن) میں جمع فرماتے اور پوچھتے کہ ان میں سے قرآن کسے زیادہ یاد ہے؟ جب ان میں سے ایک کی طرف اشارہ کیا جاتا تو اسے قبر میں آگے کر دیتے اور فرماتے: میں قیامت کے دن ان سب پر گواہ ہوں گا۔“

9. عَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ مَسْعُودٍ رضى الله عنهما يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم: مَنْ قَرَأَ حَرْفًا مِنْ کِتَابِ اﷲِ فَلَهُ بِهِ حَسَنَةٌ، وَالْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا، لاَ أَقُوْلُ: الم؛ حَرْفٌ، وَلَکِنْ أَلِفٌ حَرْفٌ، وَلاَمٌ حَرْفٌ، وَمِيْمٌ حَرْفٌ. رواه الترمذي والبزار وابن أبي شيبة والطبراني.
”حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اﷲ تعالیٰ کی کتاب سے ایک حرف پڑھا، اس کے لئے اس کے بدلہ میں ایک نیکی ہے اور یہ ایک نیکی دس نیکیوں کے برابر ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ الم ایک حرف ہے بلکہ الف ایک حرف ہے، لام ایک حرف ہے اور میم ایک حرف ہے۔ (گویا صرف الم پڑھنے سے تیس نیکیاں مل جاتی ہیں)۔“

10. عَنْ أَبِي سَعِيْدٍ رضى الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم: يَقُولُ الرَّبُّ عز وجل: مَنْ شَغَلَهُ الْقُرْآنُ وَذِکْرِي عَنْ مَسْأَلَتِي أَعْطَيْتُهُ أَفْضَلَ مَا أَعْطِي السَّائِلِيْنَ، وَفَضْلُ کَلاَمِ اﷲِ عَلَی سَائِرِ الْکَلاَمِ کَفَضْلِ اﷲِ عَلَی خَلْقِهِ. رواه الترمذي والدارمي والبيهقي. وقال أَبوعيسی: هذا حديث حسن.
”حضرت ابو سعید خُدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ رب العزت فرماتا ہے: جس شخص کو قرآن اور میرا ذکر اتنا مشغول کردے کہ وہ مجھ سے کچھ مانگ بھی نہ سکے تو میں اسے مانگنے والوں سے بھی زیادہ عطا فرما دیتا ہوں۔ اور تمام کلاموں پر اﷲ تعالیٰ کے کلام (قرآن حکیم) کی فضیلت اسی طرح ہے جس طرح اﷲ تعالیٰ کی اپنی مخلوق پر( فضیلت ہے)۔“

11. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي اﷲ عنهما قَالَ: قَالَ رَسُولُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم: إِنَّ الَّذِي لَيْسَ فِي جَوفِهِ شَيْئٌ مِنَ الْقُرْآنِ، کَالْبَيْتِ الْخَرِبِ. رواه الترمذي والدارمي وأحمد. وقال الترمذي: هذا حديث حسن صحيح، وقال الحاکم: هذا حديث صحيح الإسناد.
”حضرت (عبد اللہ) بن عباس رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ شخص جس کے دل میں قرآن کریم کا کچھ حصہ بھی نہیں وہ ویران گھر کی طرح ہے۔“

12. عَنْ عَبْدِ اﷲ بْنِ عَمْرٍو رضي اﷲ عنهما قَالَ: قَالَ رَسُولُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم: يُقَالُ لِصَاحِبِ الْقُرْآنِ: إِقْرَأْ وَارْتَقِ وَرَتِّلْ کَمَا کُنْتَ تُرَتِّلُ فِي الدُّنْيَا، فَإِنَّ مَنْزِلَتَکَ عِنْدَ آخِرِ آيَةٍ تَقْرَأَ بِهَا. رواه الترمذي وأبوداود. وقال: هذا حديث حسن صحيح.
”حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اﷲ عنہما روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قرآن مجید پڑھنے والے سے کہا جائے گا: قرآن پڑھتا جا اور جنت میں منزل بہ منزل اوپر چڑھتا جا، اور یوں ترتیل سے پڑھ جیسے تو دنیا میں ترتیل کیا کرتا تھا، تیرا ٹھکانا جنت میں وہاں پر ہوگا جہاں تو آخری آیت تلاوت کرے گا۔“

13. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ: يَجِيئُ صَاحِبُ الْقُرْآنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيَقُولُ (الْقُرْآنُ): يَا رَبِّ! حَلِّهِ فَيُلْبَسُ تَاجَ الْکَرَامَةِ، ثُمَّ يَقُولُ: يَا رَبِّ! زِدْهُ، فَيُلْبَسُ حُلَّةَ الْکَرَامَةِ، ثُمَّ يَقُولُ: يَا رَبِّ! ارْضَ عَنْهُ، فَيَرْضَی عَنْهُ، فَيُقَالُ لَهُ: اقْرَأ وَارْقَ، وَتُزَادُ بِکُلِّ آيَةٍ حَسَنَةً. رواه الترمذي والحاکم والبيهقي. وقال أبوعيسي: هذا حديث حسن صحيح، وقال الحاکم: هذا حديث صحيح الإسناد.
”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بروزِ قیامت صاحبِ قرآن (قرآن پڑھنے اور اس پر عمل کرنے والا) آئے گا تو قرآن کہے گا: اے رب! اسے زیور پہنا، تو صاحبِ قرآن کو عزت کا تاج پہنایا جائے گا۔ قرآن پھر کہے گا: اے میرے رب! اسے اور بھی (اصلی لباس) پہنا، تو اسے عزت و بزرگی کا لباس پہنا دیا جائے گا۔ پھر قرآن کہے گا: اے میرے مولیٰ! اب اس سے راضی ہو جا (اس کی تمام خطائیں معاف کردے)، تو اﷲ تعالیٰ اس سے راضی ہو جائے گا اور اس سے کہا جائے گا: قرآن پڑھتا جا اور (جنت کے زینے) چڑھتا جا۔ اور ہر آیت کے بدلے میں اس کی نیکی بڑھتی جائے گی۔“

14. عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ الْجُهَنِيِّ عَنْ أَبِيْهِ رضي الله عنه أَنَّ رَسُولَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ: مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ وَعَمِلَ بِمَا فِيْهِ أُلْبِسَ وَالِدَاهُ تَاجًا يَومَ الْقِيَامَةِ،ضَوْءُهُ أَحْسَنُ مِنْ ضَوْءِ الشَّمْسِ فِي بُيُوتِ الدُّنْيَا، لَو کَانَتْ فِيْکُمْ فَمَا ظَنُّکُمْ بِالَّذِي عَمِلَ بِهَذَا. رواه أبو داود وأحمد والحاکم وأبو يعلی. وقال الحاکم: صحيح الإسناد.
”حضرت سہل بن معاذ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے قرآن پاک پڑھا اور اس پر عمل بھی کیا اس کے ماں باپ کو قیامت کے دن ایک ایسا تاج پہنایا جائے گا جس کی روشنی اس دنیا میں لوگوں کے گھروں میں چمکنے والے سورج کی روشنی سے زیادہ حسین ہوگی۔ تو اس کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جس نے خود اس پر عمل کیا؟ (یعنی اس کے ماں باپ کو تو تاج پہنایا جائے گا اور اس کا اپنا مقام تو اﷲ تعالیٰ ہی خوب جانتا ہے)۔“

15. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه يَقُولُ: اقْرَءُوا الْقُرْآنَ فَإِنَّهُ نِعْمَ الشَّفِيعُ يَومَ الْقِيَامَةِ، إِنَّهُ يَقُولُ يَومَ الْقِيَامَةِ: يَا رَبِّ! حَلِّهِ حِلْيَةَ الْکَرَامَةِ، فَيُحَلَّی حِلْيَةَ الْکَرَامَةِ، يَا رَبِّ! اکْسِهِ کِسْوَةَ الْکَرَامَةَ، فَيُکْسَی کِسْوَةَ الْکَرَامَةَ، يَا رَبِّ! أَلْبِسْهُ تَاجَ الْکَرَامَةِ، يَا رَبِّ! ارْضَ عَنْهُ فَلَيْسَ بَعْدَ رِضَاءَکَ شَيئٌ. رواه الدارمي والقضاعي والديلمي.
”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ (اے لوگو!) قرآن پڑھو۔ بیشک قیامت کے روز نہایت ہی اچھا شفاعت کرنے والا ہے۔ قیامت کے روز یہ عرض گزار ہوگا: اے میرے رب! اس شخص (صاحبِ قرآن) کو عزت والا زیور پہنا؛ پس اسے عزت والا زیور پہنایا جائے گا۔ اے میرے رب! اسے عزت والا لباس پہنا؛ تو اسے عزت والا لباس پہنایا جائے گا۔ اے میرے رب! اسے عزت والا تاج پہنا؛ اے رب! اس سے راضی ہوجا۔ بیشک تیری رضا کے بعد کوئی چیز نہیں بچتی (جس کا مطالبہ کیا جائے)۔“

16. عَنْ عَبْدِ اﷲِ رضي الله عنه قَالَ: مَنْ أَحَبَّ الْقُرْآنَ فَلْيُبَشَّرْ. رواه الدارمي وابن منصور.
وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهُ: مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فَلْيُبَشَّرْ. رواه ابن أبي شيبة.
”حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ خوشخبری ہو اس شخص کے لیے جو قرآن سے محبت کرتا ہے۔
”اور آپ ہی سے مروی ایک روایت کے الفاظ ہیں: خوشخبری ہو اس شخص کے لئے جس نے قرآن پڑھا۔“

17. عَنْ عَبْدِ اﷲِ رضي الله عنه کَانَ يَقُولُ: إِنَّ هَذَا الْقُرآنَ مَأْدُبَةُ اﷲِ، فَمَنْ دَخَلَ فِيْهِ فَهُوَ آمِنٌ. رواه الدارمي وابن المبارک.
وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهُ قَالَ: هَذَا الْقُرْآنُ مَأْدُبَةُ اﷲِ فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْکُمْ أَنْ يَتَعَلَّمَ مِنْهُ شَيْئًا فَلْيَفْعَلْ. رواه الطبراني بأسانيد، ورجال هذ الطريق رجال الصحيح.
”حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرمایا کرتے تھے کہ بیشک یہ قرآن اللہ تعالیٰ کا دستر خوان ہے، پس جو اس دستر خوان میں شامل ہوگیا اسے امن نصیب ہو گیا۔“
”اور ایک دوسری روایت میں آپ رضی اللہ عنہ ہی سے مروی ہے، آپ نے فرمایا: یہ قرآن اللہ تبارک و تعالیٰ کا دسترخوان ہے پس تم میں سے جو شخص اس سے سیکھنے کی استطاعت رکھتا ہے اسے چاہیئے کہ وہ اس سے ضرور سیکھے۔“

18. عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رضي الله عنه قَالَ: کَانَ رَجُلٌ يَقْرَأُ سُورَةَ الْکَهْفِ، وَإِلَی جَانِبِهِ حِصَانٌ مَرْبُوطٌ بِشَطَنَيْنِ، فَتَغَشَّتْهُ سَحَابَةٌ، فَجَعَلَتْ تَدْنُو، وَتَدْنُو وَجَعَلَ فَرَسُهُ يَنْفِرُ، فَلَمَّا أَصْبَحَ أَتَی النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم فَذَکَرَ ذَلِکَ لَهُ، فَقَالَ: تِلْکَ السَّکِيْنَةُ تَنَزَّلَتْ بِالْقُرْآنِ. متفق عليه، وهذا لفظ البخاري.
”حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی سورہ کہف پڑھ رہا تھا اور اس کے پاس ہی دو رسیوں کے ساتھ ایک گھوڑا بندھا ہوا تھا۔ پس اس آدمی کے اوپر بادل چھاگیا اور وہ اس کے نزدیک سے نزدیک تر ہوتا گیا، یہاں تک کہ اس کا گھوڑا بدکنے لگا۔ جب صبح کے وقت وہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس واقعہ کا ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ سکینہ (اطمینانِ قلب) ہے جس کا (تمہارے دل پر) تلاوتِ قرآن کے باعث نزول ہوا۔“

19. عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رضى الله عنه قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم: مَا أَذِنَ اﷲُ لِعَبْدٍ فِي شَيئٍ أَفْضَلَ مِنْ رَکْعَتَيْنِ يُصَلِّيْهِمَا وَإِنَّ الْبِرَّ لَيُذَرُّ عَلَی رَأسِ الْعَبْدِ مَا دَامَ فِي صَلَاتِهِ وَمَا تَقَرَّبَ الْعِبَادُ إِلَی اﷲِ بِمِثْلِ مَا خَرَجَ مِنْهُ يَعْنِي الْقُرْآنَ. رواه الترمذي وأحمد والطبراني.
”حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اﷲ تعالیٰ بندے کی کوئی چیز اتنے غور (و محبت) سے نہیں سنتا جتنے غور سے اس کی دو رکعت نماز سنتا ہے۔ بندہ جب تک نماز میں رہتا ہے نیکی اس بندے کے سر پر سایہ فگن رہتی ہے؛ اور بندے کسی عمل سے اتنا قربِ الٰہی نہیں پا سکتے جتنا قرب کلامِ الٰہی یعنی قرآن کے ذریعہ سے پا سکتے ہیں۔“

20. عَنْ أَبِي سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ رضي الله عنه أَنَّ أُسَيْدَ بْنَ حُضَيْرٍ رضي الله عنه بَيْنَمَا هُوَ لَيْلَةً يَقْرَأُ فِي مِرْبَدِهِ إِذْ جَالَتْ فَرَسُهُ، فَقَرَأَ ثُمَّ جَالَتْ أُخْرَی، فَقَرَأَ ثُمَّ جَالَتْ أَيْضًا. قَالَ أُسَيْدٌ: فَخَشِيْتُ أَنْ تَطَأَ يَحْيَی (وَکَانَ ابْنُهُ) فَقُمْتُ إِلَيْهَا، فَإِذَا مِثْلُ الظُّلَّةِ فَوقَ رَأْسِي فِيْهَا أَمْثَالُ السُّرُجِ عَرَجَتْ فِي الْجَوِّ حَتَّی مَا أَرَاهَا، قَالَ: فَغَدَوْتُ عَلَی رَسُولِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اﷲِ! بَيْنَمَا أَنَا الْبَارِحَةَ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ أَقْرَأُ فِي مِرْبَدِي إِذْ جَالَتْ فَرَسِي، فَقَالَ رَسُولُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم: اقْرَأ ابْنَ حُضَيْرٍ. قَالَ: فَقَرَأتُ، ثُمَّ جَالَتْ أَيْضًا، فَقَالَ رَسُولُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم: اقْرَأ ابْنَ حُضَيْرٍ. قَالَ: فَقَرَأتُ، ثُمَّ جَالَتْ أَيْضًا، فَقَالَ رَسُولُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم: اقْرَأ ابْنَ حُضَيْرٍ. قَالَ: فَانْصَرَفْتُ وَکَانَ يَحْيَی قَرِيْبًا مِنْهَا، خَشِيْتُ أَنْ تَطَأَهُ فَرَأَيْتُ مِثْلَ الظُّلَّةِ فِيْهَا أَمثَالُ السُّرُجِ عَرَجَتْ فِي الْجَوِّ حَتَّی مَا أَرَاهَا، فَقَالَ رَسُولُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم: تِلْکَ الْمَلَائِکَةُ کَانَتْ تَسْتَمِعُ لَکَ، وَلَو قَرَأْتَ لَأَصْبَحَتْ يَرَاهَا النَّاسُ مَا تَسْتَتِرُ مِنْهُمْ. متفق عليه، وهذا لفظ مسلم.
ورواه الحاکم بنحوه باختصار وقال فيه: فَالْتَفَتُّ فَإِذَا أَمْثَالُ الْمَصَابِيْحِ. قَالَ: مُدَلَّاةٌ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اﷲِ! وَاﷲِ! مَا اسْتَطَعْتُ أَنْ أَمْضِي. قَالَ: فَقَالَ: تِلْکَ الْمَلَائِکَةُ نَزَلَتْ لِقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ، أَمَا إِنَّکَ لَو مَضَيْتَ لَرَأَيْتَ الْعَجَائِبَ. وقال الحاکم: صحيح علی شرط مسلم.
”حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت اُسید بن حضیر رضی اللہ عنہ ایک رات کھجوروں کے کھلیان میں قرآن پاک پڑھ رہے تھے کہ اچانک ان کا گھوڑا (جو ایک جانب بندھا ہوا تھا) کودنے لگا۔ (وہ تلاوت سے رک گئے تو گھوڑا بھی رک گیا) وہ پھر پڑھنے لگے تو گھوڑا پھر کودنے لگا۔ اسی طرح انہوں نے پھر پڑھا تو گھوڑا پھر کودنے لگا۔ حضرت اُسید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے ڈر ہوا کہیں یہ یحییٰ (ان کے بیٹے تھے جو ایک جانب گھوڑے کے پاس ہی سو رہے تھے) کو کچل نہ دے۔ میں اٹھ کر گھوڑے کے پاس گیا تو اچانک کیا دیکھتا ہوں کہ میرے سر کے اوپر ایک سائبان سا ہے جس میں بہت سے چراغ جل رہے ہیں، (میرے دیکھتے ہی دیکھتے) وہ فضا میں اوپر کو بلند ہوگیا یہاں تک کہ میری نظروں سے اوجھل ہوگیا۔ فرمایا: میں نے صبح حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہو کر عرض کیا: یارسول اﷲ! آج آدھی رات کے وقت میں اپنے کھجوروں کے کھلیان میں تلاوت کر رہا تھا کہ اچانک میرا گھوڑا بدکنے لگا۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابن حضیر! تم پڑھتے رہتے۔ عرض کیا: میں نے پڑھا تو گھوڑا کودنے لگا۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابن حضیر! تمہیں پڑھتے رہنا چاہئے تھا۔ انہوں نے عرض کیا: میں نے پڑھا تو گھوڑا پھر کودنے لگا۔ پھر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے حضیر کے بیٹے! تم پھر بھی پڑھتے رہتے، (تمہیں تلاوت قرآن موقوف نہ کرنی چاہئے تھی)۔ عرض کرنے لگے: میں نے تلاوت موقوف کر دی کیونکہ یحییٰ گھوڑے کے قریب سو رہا تھا، مجھے خوف ہوا کہ کہیں گھوڑا اسے کچل نہ دے۔ پھر میں نے ایک سائبان سا دیکھا جس میں چراغ سے روشن تھے۔ وہ فضا میں بلند ہوگیا یہاں تک کہ پھر مجھے نظر نہ آیا۔ اس پر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ ملائکہ تھے جو تمہاری تلاوت سننے آئے تھے اور اگر تم پڑھتے رہتے تو صبح کے وقت لوگ انہیں اپنی آنکھوں سے دیکھتے ان میں سے کوئی فرشتہ پوشیدہ نہ رہتا۔
”امام حاکم نے بھی اسی طرح مختصراً روایت کیا ہے۔ ان کے الفاظ یہ ہیں: ”میں ان کی طرف متوجہ ہوا تو اچانک چراغوں کی طرح کوئی چیز دیکھی جو کہ آسمانوں اور زمین کے درمیان لٹک رہے تھے۔ پھر عرض کیا: یا رسول اﷲ! اﷲ کی قسم! (اس کے بعد) مجھ میں (تلاوت) جاری رکھنے کی طاقت نہ رہی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ ملائکہ تھے جو قراتِ قرآن (سننے) کے لئے نازل ہوئے تھے، پس اگر تم تلاوت جاری رکھتے تو بہت سے (روحانی اَنوار و عجائبات) کا مشاہدہ کرتے۔“

21. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي اﷲ عنهما قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَی رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم، فَقَالَ: يَا رَسُوْلَ اﷲِ! إِنِّي رَأَيْتُ فِي هذِه اللَّيْلَةِ فِيْمَا يَرَی النَّائِمُ کَأَنِّي أُصَلِّي خَلْفَ شَجَرَةٍ، فَرَأَيْتُ کَأَنِّي قَرَأْتُ سَجْدَةً، فَرَأَيْتُ الشَّجَرَةَ کَأَنَّهَا تَسْجُدُ لِسُجُودِي فَسَمِعْتُهَا وَهِيَ سَاجِدَةٌ، وَهِي تَقُولُ: اللَّهُمَّ! اکْتُبْ لِي عِنْدَکَ أَجْرًا، وَاجْعَلْهَا لِي عِنْدَکَ ذُخْرًا، وَضَعْ عَنِّي بِهَا وِزْرًا وَاقْبَلْهَا مِنِّي کَمَا تَقَبَّلْتَ مِنْ عَبْدِکَ دَاوُدَ. قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَرَأَيْتُ رَسُوْلَ اﷲِصلی الله عليه وآله وسلم قَرَأَ السَّجْدَةَ، فَسَمِعْتُهُ، وَهُوَ سَاجِدٌ يَقُولُ مِثْلَ مَا قَالَ الرَّجُلُ عَنْ کَلَامِ الشَّجَرَةِ. رواه الترمذي وابن ماجة وابن خزيمة وابن حبان واللفظ له. وقال أبوعيسى: هذا حديث حسن، وقال الحاکم: هذا حديث صحيح.
”حضرت (عبد اللہ) بن عباس رضی اﷲ عنھما نے روایت بیان کی کہ ایک آدمی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہو کر عرض کرنے لگا: یا رسول اﷲ! آج رات میں نے خواب دیکھا ہے کہ میں ایک درخت کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہوں۔ میں نے دیکھا گویا میں نے نماز میں سجدہ والی آیت پڑھی (اور سجدہ کیا)، پھر دیکھا کہ وہ درخت بھی میرے سجدے کی وجہ سے سجدہ میں پڑا ہے۔ میں نے سنا کہ درخت سجدے میں پڑے پڑے کہہ رہا ہے: اے میرے پروردگار! اس سجدہ کی برکت سے میرے لئے اپنے پاس اجر لکھ دے، اسے میرے لئے اپنے پاس خزانہ بنا دے، مجھ سے گناہ دور فرما دے اور اسے میری طرف سے ایسے قبول فرما جیسے تو نے اپنے (مکرم) بندے حضرت داؤد علیہ السلام سے قبول فرمایا تھا۔ حضرت ابن عباس رضی اﷲ عنھما فرماتے ہیں: میں نے دیکھا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آیتِ سجدہ تلاوت فرمائی، پھر میں نے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حالتِ سجدہ میں وہی الفاظ ادا فرما رہے تھے جو اس آدمی نے درخت کے کلام سے نقل کئے تھے (یعنی درخت کی دعا)۔“

22. عَنْ جُبَيْرٍ بْنِ نُفَيْرٍ رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم: إِنَّکُمْ لَنْ تَرْجِعُوا إِلَی اﷲِ بِأَفْضَلَ مِمَّا خَرَجَ مِنْهُ يَعْنِي الْقُرْآنَ. رواه الترمذي.
”حضرت جبیر بن نفیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک تم قرآن سے بڑھ کر افضل کسی اور چیز کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی طرف ہرگز نہیں لوٹو گے۔“

23. عَنْ بُرَيْدَةَ رَضي الله عنه، قَالَ: کُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: وَإِنَّ الْقُرْآنَ يَلْقَی صَاحِبَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حِيْنَ يَنْشَقُّ عَنْهُ الْقَبْرُ کَالرَّجُلِ الشَّاحِبِ، فَيَقُولُ لَهُ: هَلْ تَعْرِفُنِي؟ فَيَقُولُ: مَا أَعْرِفُکَ، فَيَقُولُ: أَنَا صَاحِبُکَ الْقُرآنُ الَّذِي أَظْمَأتُکَ فِي الْهَوَاجِرِ و أَسْهَرْتُ لَيْلَکَ، وَإِنَّ کُلَّ تَاجِرٍ مِنْ وَرَاءِ تِجَارَتِهِ وَإِنَّکَ الْيَومَ مِنْ وَرَاءِ کُلِّ تِجَارَةٍ، فَيُعْطَی الْمُلْکُ بِيَمِيْنِهِ وَالْخُلْدُ بِشِمَالِهِ وَيُوضَعُ عَلَی رَأْسِهِ تَاجُ الْوَقَارِ وَيُکْسَی وَالِدَيْهِ حُلَّتَانِ لَا يُقَوَّمُ لَهُمَا الدُّنْيَا، فَيَقُولَانِ: بِمَ کُسِيْنَا هَذَا؟ وَيُقَالُ لَهُمَا: بِأَخْذِ وَلَدِکُمَا الْقُرآنَ. ثُمَّ يُقَالُ لَهُ: اقْرَأ وَاصْعَدْ فِي دَرَجِ الْجَنَّةِ وَغُرَفِهَا، فَهُوَ فِي صُعُودٍ مَا دَامَ يَقْرَأُ هَذًّا کَانَ أَوْ تَرْتِيلًا. رواه ابن ماجة طرفا منه، وأحمد والدارمي، واللفظ له.
”حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا، پس میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ قیامت کے روز قرآن، قرآن پڑھنے والے کو اس وقت ملے گا جب اس کی قبر پھٹے گی (اور وہ قبر سے باہر نکلے گا) ایسے شخص کی شکل میں جس کا رنگ کمزوری اور خوف کی وجہ سے تبدیل ہوچکا ہو، اور کہے گا: کیا تو مجھے پہچانتا ہے؟ تو وہ شخص کہے گا: میں تجھے نہیں پہچانتا، پس قرآن کہے گا: میں تمہارا دوست قرآن ہوں، وہ دوست جس نے دوپہر کے وقت شدید گرمی کے دنوں میں اپنے چشموں سے سیراب کیا اور تیری راتوں کو جگائے رکھا اور بے شک ہر تاجر اپنے کاروبار کے پیچھے بھاگتا ہے اور بے شک تو بھی آج اپنے اس کاروبار کے پیچھے بھاگے گا ( جو تجھے نفع دے)۔ پس اس شخص کو اس کے دائیں ہاتھ میں بادشاہت اور بائیں ہاتھ میں ہمیشہ کی زندگی (یعنی پروانہء جنت) تھما دیا جائے گا اور اس کے سر پر وقار کا تاج سجایا جائے گا اور اس کے والدین کو دو قیمتی لباس پہنائے جائیں گے جن کی قیمت پوری دنیا سے بھی نہیں لگائی جاسکتی۔ پس وہ دونوں کہیں گے: ہمیں کس وجہ سے یہ قیمتی جوڑے پہنائے گئے؟ تو ان سے کہا جائے گا: تمہارے بیٹے کے (دنیا میں) قرآن سیکھنے کی وجہ سے۔ پھر اس صاحب قرآن کو کہا جائے گا کہ جنت کے کمروں اور سیڑھیوں پر اس قرآن کو پڑھتا جا۔ پس وہ اس وقت تک ان (سیڑھیوں) پر چڑھتا رہے گا جب تک وہ قرآن کو پڑھتا رہے گا خواہ اس کا پڑھنا جلدی کے ساتھ ہو یا ٹھہر ٹھہر کر۔“

24. عَنْ أَبِي سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم: يُقَالُ لِصَاحِبِ الْقُرآنِ إِذَا دَخَلَ الْجَنَّةَ: اقْرَأَ وَاصْعَدْ. فَيَقْرَأُ وَيَصْعَدُ بِکُلِّ آيَةٍ دَرَجَةً حَتَّی يَقْرَأَ آخِرَ شَيئٍ مَعَهُ. رواه ابن ماجة وأحمد وأبويعلی.
”حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قرآن مجید کی تلاوت کرنے والے کے لیے (قیامت کے دن) حکم ہوگا جب وہ جنت میں داخل ہوگا کہ قرآن پڑھ اور اوپر چڑھتا چلا جا۔ وہ قرآن مجید پڑھتا چلا جائے گا اور ہر آیت کے بدلے ایک درجہ ترقی کرتا چلا جائے گا یہاں تک کہ جہاں اس کی آخری آیت ہوگی اتنا ہی اس کا (جنت میں بلند) درجہ ہوگا۔“

25. عَنْ أَبِي مُوسَی الْأَشْعَرِيِّ رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم: إِنَّ مِنْ إِجْلَالِ اﷲِ إِکْرَامَ ذِي الشَّيْبَةِ الْمُسْلِمِ، وَحَامِلِ الْقُرْآنِ غَيْرِ الْغَالِي فِيْهِ وَالْجَافِي عَنْهُ، وَإِکْرَامَ ذِي السُّلْطَانِ الْمُقْسِطِ. رواه أبوداود والبخاري في الأدب، وابن أبي شيبة والبزار.
”حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بوڑھے مسلمان کی تعظیم کرنا اﷲ تعالیٰ کی تعظیم کا ایک حصہ ہے، اور قرآن مجید کے عالم کی جو اس میں تجاوز کرتا ہو نہ اس (کی تعلیمات) سے پیچھے ہٹتا ہو (اس کی تعظیم کرنا بھی اللہ تعالیٰ کی تعظیم کا حصہ ہے)، اور اسی طرح عدل کرنے والے حکمران کی تعظیم کرنا (بھی تعظیم اِلٰہی کا ایک حصہ ہے)۔“

26. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم: مَنْ حَافَظَ عَلَی هَؤُلَاءِ الصَّلَوَاتِ الْمَکْتُوبَاتِ لَمْ يُکْتَبْ مِنَ الْغَافِلِيْنَ، وَمَنْ قَرَأَ فِي لَيْلَةٍ مِائَةَ آيَةٍ کُتِبَ مِنَ الْقَانِتِيْنَ. رواه ابن خزيمة والحاکم واللفظ له والبيهقي. وقال الحاکم: هذا حديث صحيح علی شرط الشيخين.
”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ان (پانچ وقت کی) فرض نمازوں کی حفاظت کرے وہ غافلین میں نہیں لکھا جائے گا، اور جس نے رات کو ایک سو آیات تلاوت کی وہ (اﷲ تعالیٰ کے) فرمانبردار بندوں میں لکھا جائے گا۔“

27. عَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رضي اﷲ عنهما، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم: مَنْ قَامَ بِعَشْرِ آيَاتٍ لَمْ يُکْتَبْ مِنَ الْغَافِلِيْنَ، وَمَنْ قَامَ بِمِائَةِ آيَةٍ کُتِبَ مِنَ الْقَانِتِينَ، وَمَنْ قَامَ بِأَلْفِ آيَةٍ کُتِبَ مِنَ الْمُقَنْطِرِيْنَ. رواه أبو داود وابن حبان.
وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهُ: مَنْ قَامَ بِأَلْفِ آيَةٍ کُتِبَ مِنَ الْمُتَفَکِّرِيْنَ. رواه الديلمي.
”حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے دس آیات (کی تلاوت) کے ساتھ قیام کیا وہ غافل بندوں میں نہیں لکھا جائے گا۔ اور جس شخص نے سو آیات (کی تلاوت) کے ساتھ قیام کیا وہ اطاعت گزار بندوں میں لکھا جائے گا، اور جس شخص نے ہزار آیات (کی تلاوت) کے ساتھ قیام کیا وہ (بے حد و حساب) ثواب پانے والوں میں لکھا جائے گا۔“
”اور انہی سے مروی ایک روایت میں ہے کہ ”جس شخص نے ہزار آیات (کی تلاوت) کے ساتھ قیام کیا وہ (اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں) غور و فکر کرنے والا لکھا گیا۔“

28. عَنْ أَنَسٍ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم: إِنَّ ِﷲِ أَهْلِيْنَ مِنَ النَّاسِ. قَالُوْا: مَنْ هُمْ يَا رَسُوْلَ اﷲِ؟ قَالَ: أَهْلُ الْقُرْآنِ، هُمْ أَهْلُ اﷲِ وَخَاصَّتُهُ. رواه النسائي في السنن الکبری وإسناده صحيح.
”حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں میں سے کچھ اللہ والے ہوتے ہیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ کون (خوش نصیب) ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قرآن پڑھنے والے، وہی اللہ والے اور اس کے خواص ہیں۔“

29. عَنْ أَبِي ذَرٍّ رضي الله عنه، قَالَ: قَلْتُ: يَا رَسُوْلَ اﷲِ! أَوْصِنِي؟ قَالَ: أُوْصِيْکَ بِتَقْوَی اﷲِ فَإِنَّهُ رَأسُ الْأَمْرِ کُلِّهِ. قُلْتُ: يَا رَسُولَ اﷲِ! زِدْنِي. قَالَ: عَلَيْکَ بِتِلَاوَةِ الْقُرْآنِ وَذِکْرِ اﷲِ، فَإِنَّهُ نُورٌ لَکَ فِي الْأَرْضِ، وَذُخْرٌ لَکَ فِي السَّمَاءِ ..... الحديث. رواه ابن حبان والطبراني والبيهقي.
”حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اﷲ! مجھے کوئی وصیت فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں اﷲ تعالیٰ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں کہ یہ ہی سارے معاملے کی اصل ہے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اﷲ! مجھے کچھ مزید وصیت فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (اے ابوذر!) تلاوتِ قرآن ضرور کیا کرو کہ یہ زمین میں تمہارے لئے نور اور آسمانوں میں تمہارے لئے (نیکیوں کا) ذخیرہ ہوگا۔“

30. عَنْ سَلاَمٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي مُطِيعٍ، قَالَ: کَانَ قَتَادَةُ رضي الله عنه يَقُولُ: أُعْمُرُوْا بِهِ قُلُوْبَکُمْ وَاعْمُرُوْا بِهِ بَيُوتَکُمْ، قَالَ: أُرَاهُ يَعْنِي الْقُرْآنَ. رواه الدارمي.
”حضرت سلام ابن ابی مطیع بیان کرتے ہیں کہ حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کیا کرتے تھے: قرآن کے ذریعے اپنے دلوں اور گھروں کو آباد کیا کرو۔“

31. عَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رضي اﷲ عنهما: أَنَّ رَسُولَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ: مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فَقَدِ اسْتَدْرَجَ النُّبُوَّةَ بَيْنَ جَنْبَيْهِ غَيْرَ أَنَّهُ لَا يُوحَی إِلَيْهِ لَا يَنْبَغِي لِصَاحِبِ الْقُرْآنِ أَنْ يَجِدَّ مَعَ جِدٍّ، وَلَا يَجْهَلَ مَعَ جَهْلٍ وَفِي جَوفِهِ کَلَامُ اﷲِ تَعَالَی. رواه الحاکم والبيهقي، وقال الحاکم: صحيح الإسناد.
”حضرت عبد اﷲ بن عمرو بن عاص رضی اﷲ عنھما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے قرآن پڑھا، اس نے اپنے دونوں پہلوؤں (یعنی سینے میں ظاہراً عملِ) نبوت رکھ لیا۔ فرق صرف یہ ہے کہ اس کی طرف وحی نازل نہیں ہوتی۔ صاحبِ قرآن کو زیب نہیں دیتا کہ وہ کسی جھگڑنے والے سے جھگڑے، اور نہ ہی یہ مناسب ہے کہ جاہل کے ساتھ جاہلوں کی سی بات کرے حالانکہ اس کے دل میں اﷲ تعالیٰ کا کلام ہے۔“

32. عَنْ عَبْدِ اﷲِ رضى الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ: إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ مَأْدُبَةُ اﷲِ فَأَقْبِلُوا مَأْدُبَتَهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ، إِنَّ هذا الْقُرْآنَ حَبْلُ اﷲِ، وَالنُّورُ الْمُبِهْنُ، وَالشِّفَاءُ النَّافِعُ عِصْمَةٌ لِمَنْ تَمَسَّکَ بِهِ، وَنَجَاةٌ لِمَنِ اتَّبَعَهُ لَا يَزِيْغُ فَيُسْتَعْتَبُ وَلَا يَعْوَجُّ فَيُقَوَّمَ، وَلَا تَنْقِضِي عَجَائِبُهُ، وَلَا يَخْلُقُ مِنْ کَثْرَةِ الرَّدِّ اتْلُوهُ فَإِنَّ اﷲَ يَأْجُرُکُمْ عَلَی تِلَاوَتِهِ بِکُلِّ حَرْفٍ عَشْرَ حَسَنَاتٍ، أَمَا إِنِّي لَا أَقُولُ: الم حَرْفٌ، وَلَکِنْ أَلِفٌ حَرْفٌ، وَلَامٌ حَرْفٌ، وَمِيْمٌ حَرْفٌ. رواه الحاکم والدارمي وابن أبي شيبة وعبد الرزاق والطبراني والبيهقي.
”حضرت عبد اﷲ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک یہ قرآن اﷲ تعالیٰ کا دسترخوان (عطیہ و نعمت) ہے۔ جہاں تک ممکن ہو اس کی دعوت قبول کرو۔ یہ قرآن اﷲ تعالیٰ کی رسی، چمکتا دمکتا نور اور (ہر روگ و پریشانی کا) نفع بخش علاج ہے۔ جو اس پر عمل کرے اس کے لئے (باعثِ) حفاظت اور جو اس کی پیروی کرے اس کے لئے (باعثِ) نجات ہے۔ یہ جھکتا نہیں کہ اس کو کھڑا کرنا پڑے، ٹیڑھا نہیں ہوتا کہ سیدھا کرنا پڑے۔ اس کے عجائب (رموز و اَسرار، نکات و حکم) کبھی ختم نہ ہوں گے اور بار بار کثرت سے پڑھتے رہنے سے بھی پرانا نہیں ہوتا (یعنی اس سے دل نہیں بھرتا)۔ اس کی تلاوت کیا کرو کیونکہ اﷲ تعالیٰ اس کی تلاوت پر تمہیں ہر حرف کے عوض دس نیکیوں کا اجر عطا فرماتا ہے۔ یاد رکھو! میں یہ نہیں کہتا کہ الم ایک حرف ہے بلکہ الف ایک حرف ہے، لام ایک حرف ہے، اور میم ایک حرف ہے (گویا صرف الم پڑھنے سے ہی تیس نیکیاں مل جاتی ہیں)۔“

33. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم کُتِبَتْ عِنْدَهُ سُورَةُ النَّجْمِ، فَلَمَّا بَلَغَ السَّجْدَةَ سَجَدَ وَسَجَدْنَا مَعَهُ وَسَجَدَتِ الدَّوَاةُ وَالْقَلَمُ. رواه البزار بإسناد جيد کما قال المنذري، والطبراني عن عائشة رضي اﷲ عنها مختصرًا.
”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سورۃ النجم لکھی جا رہی تھی، جب آپ آیتِ سجدہ تک پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سجدہ فرمایا۔ ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سجدہ کیا اور دوات اور قلم بھی سجدے میں گرگئے (جس سے اس سورہ کی کتابت کی جارہی تھی)۔“

34. عَنْ جُبَيرِ بْنِ نَوفَلٍ رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم: مَا أَذِنَ اﷲُ لِعَبْدٍ فِي شَيئٍ أَفْضَلَ مِنْ رَکْعَتَيْنِ أَوْ أَکْثَرَ، وَالْبِرُّ يَتَنَاثَرُ فَوْقَ رَأسِ الْعَبْدِ مَا کَانَ فِي صَلَاةٍ، وَمَا عَبْدٌ إِلَی اﷲِ عز وجل بِأَفْضَلَ مِمَّا خَرَجَ مِنْهُ. يَعْنِي الْقُرْآنَ. رواه الطبراني.
”اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ حضرت جبیر بن نوفل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ بندے کو دو رکعت یا زیادہ رکعات والی نماز میں اتنا غور سے سنتا ہے جتنا کہ کسی اور چیز میں نہیں سنتا، اور نیکی انسان کے سر پر اس وقت تک سایہ فگن رہتی ہے جب تک وہ اپنی نماز میں ہوتا ہے۔ اور کوئی بھی شخص اللہ تعالیٰ کے ہاں قرآن سے بڑھ کر افضل نہیں۔“

35. عَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ عَمْرٍو رضي اﷲ عنهما: أَنَّ رَسُولَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ: الصِّيَامُ وَالْقُرْآنُ يَشْفَعَانِ لِلْعَبْدِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ. يَقُولُ: الصِّيَامُ أَيْ رَبِّ! مَنَعْتُهُ الطَّعَامَ وَالشَّهَوَاتِ بِالنَّهَارِ فشَفِّعْنِي فِيْهِ. وَيَقُولُ الْقُرْآنُ: مَنَعْتُهُ النَّومَ بِاللَّيْلِ فَشَفِّعْنِي فِيْهِ. قَالَ: فَيُشَفَّعَانِ. رواه أحمد والحاکم وابن المبارک. وقال الحاکم: هذا حديث صحيح علی شرط مسلم.
”حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے روز روزہ اور قرآن دونوں بندہ کے لیے شفاعت کریں گے۔ روزہ کہے گا: اے میرے رب! میں نے اس شخص کو دن کے وقت کھانے (پینے) اور (دوسری) نفسانی خواہشات سے روکے رکھا، پس تو اس شخص کے متعلق میری شفاعت قبول فرما۔ اور قرآن کہے گا: اے میرے رب! میں نے اس شخص کو رات کے وقت جگائے رکھا پس اس کے متعلق میری شفاعت کو قبول فرما۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پس ان دونوں کی شفاعت قبول کی جائے گی۔“

36. عَنْ حَفْصِ بْنِ غَيَاثٍ الْحَنَفِيِّ: أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رضي الله عنه کَانَ يَقُولُ: إِنَّ الْبَيْتَ لَيَتَّسِعُ عَلَی أَهْلِهِ وَتَحْضُرُهُ الْمَلَائِکَةُ وَتَهْجُرُهُ الشَّيَاطِيْنُ وَيَکْثُرُ خَيْرُهُ أَنْ يُقْرَأَ فِيْهِ الْقُرْآنُ، وَإِنَّ الْبَيْتَ لَيَضِيْقُ عَلَی أَهْلِهِ وَتَهْجُرُهُ الْمَلَائِکَةُ وَتَحْضُرُهُ الشَّيَاطِيْنُ وَيَقِلُّ خَيْرُهُ أَنْ لَا يُقْرَأَ فِيْهِ الْقُرْآنُ. رواه الدارمي والديلمي.
”حضرت حفص بن غیاث حنفی روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: بے شک گھر میں قرآن کے پڑھے جانے سے وہ گھر اپنے اہل کے لئے کشادہ ہوجاتا ہے اور اس میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور شیاطین اس کو چھوڑ جاتے ہیں اور اس کی خیر (و برکت) بہت زیادہ ہو جاتی ہے۔ اور بیشک وہ گھر جس میں قرآن نہیں پڑھا جاتا وہ اپنے اہل کے لیے تنگ ہو جاتا ہے اور فرشتے اس کو چھوڑ جاتے ہیں اور اس میں شیاطین حاضر ہوتے ہیں اور اس گھر میں خیر (و برکت) کم ہوجاتی ہے۔“

37. عَنْ عَبْدِ اﷲِ رضي الله عنه قَالَ: إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ مَأْدُبَةُ اﷲِ فَخُذُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ، فَإِنِّي لَا أَعْلَمُ شَيْئًا أَصْغَرَ مِنْ بَيْتٍ لَيْسَ فِيْهِ مِنْ کِتَابِ اﷲِ شَيئٌ، وَإِنَّ الْقَلْبَ الَّذِي لَيْسَ فِيْهِ مِنْ کِتَابِ اﷲِ شَيئٌ خَرِبٌ کَخَرَابِ الْبَيْتِ الَّذِي لَا سَاکِنَ لَهُ. رواه الدارمي وعبد الرزاق والطبراني بأسانيد، ورجال هذه الطريق رجال الصحيح.
”حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ بے شک یہ قرآن اللہ تعالیٰ کا دسترخوان ہے۔ سو تم جتنی استطاعت رکھتے ہو اس میں سے لو۔ بیشک میں اس گھر سے بڑھ کر جس میں کتاب اللہ میں سے کوئی شے بھی نہ ہو کوئی ایسی چیز نہیں جانتا جو خیر سے خالی ہو۔ اور بے شک وہ دل جس میں کتاب اللہ میں سے کوئی چیز بھی نہیں ہے وہ ویران ہے بالکل اس ویران گھر کی طرح جس میں کوئی رہنے والا ہی نہیں ہے۔“

38. عَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ عَمْرٍو رضي اﷲ عنهما، عَنْ رَسُولِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم أَنَّهُ قَالَ: الْقُرْآنُ أَحَبُّ إِلَی اﷲِ مِنَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيْهِنَّ. رواه الدارمي والديلمي.
”حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اﷲ عنہما حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ بے شک قرآن اللہ تبارک و تعالیٰ کو آسمانوں، زمین اور جو کچھ ان میں ہے سب سے زیادہ پیارا ہے۔“

39. عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ رضي الله عنه: أَنَّهُ کَانَ يَقْرَأُ وَهُوَ عَلَی ظَهْرِ بَيْتِهِ وَهُوَ حَسَنُ الصَّوْتِ، فَجَاءَ رَسُولُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم، فَقَالَ: بَيْنَا اقْرَأُ إِذْ غَشِيَنِي شَيئٌ کَالسَّحَابِ وَالْمَرْأَةُ فِي الْبَيْتِ وَالْفَرَسُ فِي الدَّارِ، فَتَخَوَّفْتُ أَنْ تَسْقُطَ الْمَرْأَةُ وَتَنْفَلِتُ الْفَرَسُ فَانْصَرَفْتُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم: اقرْأْ يَا أُسَيْدُ! فَإِنَّمَا هُوَ مَلَکٌ اسْتَمَعَ الْقُرْآنَ. رواه الحاکم والبزار وعبد الرزاق والطبراني. وقال الحاکم: هذا حديث صحيح الإسناد.
”حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ اپنے گھر کی چھت پر قرآن پڑھا کرتے تھے، اور وہ بہت خوبصورت آواز والے تھے۔ پس وہ (اسید) حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: (یا رسول اللہ!) جب میں قرآن پڑھتا ہوں تو بادلوں کی طرح کوئی چیز مجھے گھیر لیتی ہے، اور میرے گھر میں میری بیوی ہے اور ایک گھوڑا ہے۔ پس میں ڈر جاتا ہوں کہ میری بیوی (خوف سے) گر نہ پڑے اور گھوڑا (ڈر کر) بھاگ نہ جائے، لہذا میں جلدی سے (تلاوت سے) ہٹ جاتا ہوں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں فرمایا: اے اسید! تم اسے پڑھتے رہا کرو، بیشک یہ ایک فرشتہ ہے جو قرآن کو (بہت شوق سے) سنتا ہے۔“

40. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم: فَضْلُ الْقُرْآنِ عَلَی سَائِرِ الْکَلَامِ کَفَضْلِ الرَّحْمَنِ عَلَی سَائِرِ خَلْقِهِ. رواه أبو يعلی والبيهقي.
”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قرآن پاک کی فضیلت تمام کلاموں پر ایسے ہی ہے جیسے رحمان (اللہ تعالیٰ) کی فضیلت اس کی تمام مخلوقات پر ہے۔“

41. عَنِ الْحَسَنِ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم: لَا فَاقَةَ لِعَبْدٍ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَلَا غِنًی لَهُ بَعْدَهُ. رواه ابن أبي شيبة والقضاعي.
”حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کو (کبھی) فاقہ نہیں ہوگا جو قرآن پڑھتا ہے اور اس (قرآن) کے بعد اس کے لیے (اس سے بڑی) کوئی غنا نہیں ہے۔“

42. عَنْ عَائِشَةَ رضي اﷲ عنها قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم: عَدَدُ دَرَجِ الْجَنَّةِ عَلَی عَدَدِ آي الْقُرْآنِ، فَمَنْ دَخَلَ الْجَنَّةَ مِنْ أَهْلِ القُرْآنِ فَلَيْسَ فَوْقَهُ دَرَجَةٌ. رواه ابن أبي شيبة والبيهقي واللفظ له والديلمي.
”حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت کے درجات قرآن کی آیات کی تعداد کے برابر ہیں۔ پس جب اہل قرآن میں سے کوئی جنت میں داخل ہوگا تو اس کے اوپر کسی اور کا درجہ نہیں ہوگا۔“

43. عَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ مَسْعُودٍ رضي الله عنه قَالَ: إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ شَافِعٌ مُشَفَّعٌ، مَنِ اتَّبَعَهُ قَادَهُ إِلَی الْجَنَّةِ، وَمَنْ تَرَکَهُ أَوْ أَعْرَضَ عَنْهُ زُجَّ فِي قَفَاهُ إِلَی النَّارِ. رواه البزار هذا موقوفا علی ابن مسعود، رواه مرفوعا من حديث جابر، وإسناده المرفوع جيد کما قال المنذري والهيثمي.
”حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ یہ قرآن شفاعت کرنے والا ہے، اور اس کی شفاعت مقبول ہے۔ جو اس کی اتباع کرتا ہے یہ اسے سیدھا جنت میں لے جاتا ہے اور جو اس کو چھوڑ دیتا ہے یا اس سے نظریں پھیر لیتا ہے تو یہ اسے اپنی ہتھیلیوں پر اٹھا کر (دوزخ کی) آگ میں پھینک دیتا ہے۔“

44. عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضي اﷲ عنهما قَالَ: قَالَ رَسُولُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم: ثَلَاثَةٌ لَا يَهُولُهُمُ الْفَزَعُ الْأَکْبَرُ، وَلَا يَنَالُهُمُ الْحِسَابُ، هُمْ عَلَی کَثِيْبٍ مِنْ مِسْکٍ حَتَّی يُفْرَغَ مِنْ حِسَابِ الْخَلَائِقِ: رَجُلٌ قَرَأَ الْقُرْآنَ ابْتِغَاءَ وَجْهِ اﷲِ، فَأَمَّ بِهِ قَوْمًا، وَهُمْ رَاضُوْنَ بِهِ، وَدَاعٍ يَدْعُو إِلَی الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ ابْتِغَاءَ وَجْهِ اﷲِ وَعَبْدٌ أَحْسَنَ فِيْمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ مَوَالِيْهِ. رواه الطبراني في الأوسط والصغير بإسناد لا بأس به والبيهقي.
”حضرت (عبد اللہ) بن عمر رضی اﷲ عنھما سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین اشخاص ہیں جنہیں (قیامت کی) بڑی گھبراہٹ بھی خوف زدہ نہ کر سکے گی اور نہ انہیں حساب دینے میں دشواری ہوگی، وہ مخلوق کے حساب و کتاب سے فارغ ہونے تک مُشک کے ٹیلوں پر آرام کرتے رہیں گے: پہلا وہ شخص ہے جس نے اﷲ تعالیٰ کی رضا کے لئے قرآن پڑھا اور کسی قوم کی امامت کی جبکہ مقتدی لوگ اس سے خوش ہوں۔ دوسرا وہ آدمی جو صرف رضائے الٰہی کی خاطر لوگوں کو پانچ وقت کی نمازوں کی دعوت دیتا ہو اور تیسرا وہ غلام ہے جو اپنے پروردگار کے معاملات بھی درست رکھے (عبادت کرتا رہے) اور اپنے آقا کے کام بھی خوش اسلوبی سے انجام دے۔“

45. عَنْ عَبْدِ اﷲِ رضي الله عنه قَالَ: إِنَّ أَصْغَرَ الْبُيُوتِ بَيْتٌ لَيْسَ فِيْهِ مِنْ کِتَابِ شَيئٌ، فَاقْرَءُوْا القُرْآنَ فَإِنَّکُمْ تُوْجِرُوْنَ عَلَيْهِ بِکُلِّ حَرْفٍ عَشْرَ حَسَنَاتٍ، أَمَا إِنِّي لَا أَقُوْلُ: الم؛ وَلَکِنِّي أَلِفٌ وَلَامٌ وَمِيْمٌ. رواه الطبراني والحاکم موقوفا واللفظ له، وقال: رفعه بعضهم نحوه. وهذا حديث صحيح الإسناد.
”حضرت عبد اﷲ (بن مسعود) رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: گھروں میں سب سے حقیر گھر وہ ہے جس میں اﷲ کی کتاب (قرآن پاک) میں سے کچھ بھی نہیں پڑھا جاتا، سو تم قرآن پاک پڑھا کرو۔ بیشک تمہیں اس کے ایک حرف کی تلاوت پر دس نیکیوں کا اجر دیا جاتا ہے جبکہ میں یہ نہیں کہتا: الم ایک حرف ہے، بلکہ ”الف“ ایک حرف ہے، ”لام“ ایک حرف ہے اور ”میم“ ایک حرف ہے (یعنی صرف الم پڑھنے سے تیس نیکیوں کا ثواب مل جاتا ہے)۔“

46. عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْبَدْرِيِّ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم: الْآيَتَانِ مِنْ آخِرِ سُوْرَةِ الْبَقَرَةِ مَنْ قَرَأَهُمَا فِي لَيْلَةٍ کَفَتَاهُ. متفق عليه.
”حضرت ابو مسعود بدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے سورۃ بقرہ کی آخری دو آیتیں رات (کی تاریکی) میں پڑھیں تو وہ اسے (قبر کی تاریکی میں) کفایت کریں گی۔“

47. عَنْ مَعْقَلِ بْنِ يَسَارٍ رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم: اقْرَءُوْا يٰس عَلَی مَوْتَاکُمْ. رواه أبو داود وابن ماجة.
”حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے مُردوں کے پاس ”سورۃ یٰس“ پڑھا کرو۔“

48. عَنْ عَائِشَةَ رضي اﷲ عنها: أَنَّ النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم بَعَثَ رَجُلًا عَلَی سَرِيَّةٍ وَکَانَ يَقْرَأُ لِأَصْحَابِهِ فِي صَلَاتِهِمْ فَيَخْتِمُ بِقُلْ هُوَ اﷲُ أَحَدٌ. فَلَمَّا رَجَعُوْا ذَکَرُوْا ذَلِکَ لِلنَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم، فَقَالَ: سَلُوْهُ لِأَيِّ شَيْئٍ يَصْنَعُ ذَلِکَ، فَسَأَلُوْهُ، فَقَالَ: لِأَنَّهَا صِفَةُ الرَّحْمَنِ وَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَقْرَأَ بِهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم: أَخْبِرُوْهُ أَنَّ اﷲَ يُحِبُّهُ. متفق عليه.
وفي رواية للبخاري: قَالَ صلی الله عليه وآله وسلم: حُبَّکَ إِيَّاهَا أَدْخَلَکَ الْجَنَّةَ.
”حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو فوجی دستے کا امیر بنا کر بھیجا اور جب وہ اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھاتے تو اسے سورہء اخلاص پر ختم کرتے۔ جب وہ واپس ہوئے تو لوگوں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کا ذکر کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان سے پوچھو کہ وہ ایسا کیوں کرتے تھے؟ پس انہوں نے پوچھا تو اس نے جواب دیا کہ اس میں خدائے رحمان کی صفت ہے، اس لئے میں اس سورت کو پڑھنا پسند کرتا ہوں۔ چنانچہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے بتا دو کہ اﷲ تعالیٰ اس سے محبت کرتا ہے۔
”اور بخاری کی ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیری یہی محبت تجھے جنت میں لے جائے گی۔“

49. عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رضي الله عنه قَالَ: أَمَرَنِي رَسُولُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم أَنْ أَقْرَأَ بِالْمُعَوِّذَاتِ دُبُرَ کُلِّ صَلَاةٍ. رواه الترمذي وأبوداود والنسائي واللفظ لهما. وقال أبوعيسی: هذا حديث حسن صحيح.
”حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا: ہر نماز کے بعد معوذات (سورہ فلق اور سورہ ناس) پڑھا کرو۔“


حواشی

الحديث رقم 1: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: فضائل القرآن، باب: خيرکم من تعلم القرآن وعلمه، 4 / 1919، الرقم: 4739، 4741، والترمذي في السنن، کتاب: فضائل القرآن عن رسول اﷲ صلى الله عليه وآله وسلم، باب: ما جاء في تعليم القرآن، 5 / 173-175، الرقم: 2907-2909، وقال أبو عيسى: هذا حديث حسن صحيح، وأبو داود في السنن، کتاب: الصلاة، باب: في ثواب قراءة القرآن، 2 / 70، الرقم: 1452، والنسائي في السنن الکبرى، 5 / 19، الرقم: 8036-8038، وابن ماجة في السنن، المقدمة، باب: فضل من تعلم القرآن وعلمه، 1 / 76-77، الرقم: 211، 212.

الحديث رقم 2: أخرجه ابن ماجة في السنن، المقدمة، باب: من تعلم القرآن وعلمه، 1 / 77، الرقم: 213، وأحمد بن حنبل عن علي رضي الله عنه في المسند، 1 / 153، الرقم: 1317، والدارمي في السنن، 2 / 529، الرقم: 3339، وابن أبي شيبة في المصنف، 6 / 132، الرقم: 30071، 30072، وابن کثير الدورقي في مسند سعد، 1 / 104، الرقم: 50، وأبويعلى في المسند، 2 / 136، الرقم: 814.

الحديث رقم 3: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: التفسير، باب: سورة عبس، 4 / 1882، الرقم: 4653، ومسلم في الصحيح، کتاب: صلاة المسافرين وقصرها، باب: فضل الماهر في القرآن والذي يتتعتع فيه، 1 / 549، الرقم: 798، والترمذي في السنن، کتاب: فضائل القرآن عن رسول اﷲ صلى الله عليه وآله وسلم، باب: ما جاء في فضل قارئ القرآن، 5 / 171، الرقم: 2904، وقال أبو عيسي: هذا حديث حسن صحيح، وأبو داود في السنن، کتاب: الصلاة، باب: في ثواب قراءة القرآن، 2 / 70، الرقم: 1454، والنسائي في السنن الکبرى، 5 / 21، الرقم: 8046-8047، وابن ماجة في السنن، کتاب: الأدب، باب: ثواب القرآن، 2 / 1242، الرقم: 3779، وأحمد بن حنبل في المسند، 6 / 48، 94، الرقم: 24257، 24677.

الحديث رقم 4: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: فضائل القرآن، باب: فضل القرآن على سائر الکلام، 4 / 1917، الرقم: 4732، وفي کتاب: فضائل القرآن، باب: إثم من راءي بقراءة القرآن أو تأکل به أو فخر به، 4 / 1928، الرقم: 4772، وفي کتاب: الأطعمة، باب: ذکر الطعام، 5 / 2070، الرقم: 5111، وفي کتاب: التوحيد، باب: قراءة الفاجر والمنافق وأصواتهم وتلاوهتم لا تجاوز حناجرهم، 6 / 2748، الرقم: 7112، ومسلم في الصحيح، کتاب: صلاة المسافرين وقصرها، باب: فضيلة حافظ القرآن، 1 / 549، الرقم: 797، والترمذي في السنن، کتاب: الأمثال عن رسول اﷲ صلى الله عليه وآله وسلم، باب: ما جاء في مثل المؤمن القارئ القرآن وغير القارئ، 5 / 150، الرقم: 2865، وقال أبو عيسي: هذا حديث حسن صحيح، والنسائي فيالسنن، کتاب: الإيمان وشرائعه، باب: مثل الذي يقرأ القرآن من مؤمن ومنافق، 8 / 124، الرقم: 5038، وابن ماجة في السنن، المقدمة، باب: فضل من تعلم القرآن وعلمه، 1 / 77، الرقم: 214، وأحمد بن حنبل في المسند، 4 / 403.

الحديث رقم 5: أخرجه أبو داود في السنن، کتاب: الأدب، باب: من يؤمر أن يجالس، 4 / 259، الرقم: 4829، وأحمد بن حنبل في المسند، 4 / 408، وأبو يعلى في المسند، 7 / 274، الرقم: 4295، والقضاعي في مسند الشهاب، 2 / 289، الرقم: 1381، والمنذري في الترغيب والترهيب، 2 / 227، الرقم: 2191، والمقدسي في الأحاديث المختارة، 6 / 199، الرقم: 2215، والطيالسي في المسند، 1 / 70، الرقم: 515.

الحديث رقم 6: أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب صلاة المسافرين، باب فضل قراءة القرآن وسورة البقرة، 1 / 553، الرقم: 804، وأحمد بن حنبل في المسند، 5 / 254، الرقم: 22247، 22267، والطبراني في المعجم الأوسط، 1 / 150، الرقم: 48، وفي المعجم الکبير، 8 / 118، الرقم: 7546، وابن حبان في الصحيح، 1 / 322، الرقم: 116، والبيهقي في شعب الإيمان، 2 / 341، الرقم: 1980.

الحديث رقم 7: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: فضائل القرآن، باب: اغتباط صاحب القرآن، 4 / 1919، الرقم: 4738، ومسلم في الصحيح، کتاب: صلاة المسافرين وقصرها، باب: فضل من يقوم بالقرآن، 1 / 558، الرقم: 815، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 / 479، الرقم: 10218، والبيهقي في السنن الکبرى، 4 / 189، الرقم: 7616، والمنذري في الترغيب والترهيب، 2 / 229، الرقم: 2201، والهيثمي في مجمع الزوائد، 3 / 108، وقال رواه الطبراني في الأوسط ورجاله موثقون.

الحديث رقم 8: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: الجنائز، باب: الصلاة على الشهيد، 1 / 450، الرقم: 1278، وفي باب: من يقدم في اللحد، 1 / 452، الرقم: 1282-1283، والترمذي في السنن، کتاب: الجنائز عن رسول اﷲ صلى الله عليه وآله وسلم، باب: ما جاء في ترک الصلاة على الشهيد، 3 / 354، الرقم: 1036، وأبو داود في السنن، کتاب: الجنائز، باب: في الشهيد يغسل، 3 / 196، الرقم: 3138، والنسائي في السنن، کتاب: الجنائز، باب: ترک الصلاة عليهم، 4 / 62، الرقم: 1955، وابن ماجة في السنن، کتاب: ما جاء في الجنائز، باب: ما جاء في الصلاة على الشهداء ودفنهم، 1 / 485، الرقم: 1514.

الحديث رقم 9: أخرجه الترمذي في السنن، کتاب: فضائل القرآن عن رسول اﷲ صلى الله عليه وآله وسلم، باب: ماجاء فيمن قرأ حرفا من القرآن ما له من الأجر، 6 / 175، الرقم: 2910، وقال أبوعيسى: هذا حديث حسن صحيح، والبزار في المسند، 7 / 192، الرقم: 2761، وابن أبي شيبة في المصنف، 6 / 118، الرقم: 29933، والطبراني في المعجم الأوسط، 1 / 102، الرقم: 314، وفي المعجم الکبير، 18 / 76، الرقم: 141، والبيهقي في شعب الإيمان، 2 / 342، الرقم: 1983، والمنذري في الترغيب والترهيب، 2 / 225، الرقم: 2185.

الحديث رقم 10: أخرجه الترمذي في السنن، کتاب: فضائل القرآن عن رسول اﷲ صلى الله عليه وآله وسلم، باب: (25)، 5 / 184، الرقم: 2926، والدارمي في السنن، 2 / 533، الرقم: 3356، وعبد اﷲ بن أحمد في السنة، 1 / 149، الرقم: 128، والبيهقي في شعب الإيمان، 2 / 353، الرقم: 2015، وفي الإعتقاد، 1 / 102، والحکيم الترمذي في نوارد الأصول، 3 / 259، والمنذري في الترغيب والترهيب، 2 / 226، الرقم: 2189.

الحديث رقم 11: أخرجه الترمذي في فضائل القرآن عن رسول اﷲ صلى الله عليه وآله وسلم، باب: (18)، 5 / 177، الرقم: 2913، والدارمي في السنن، کتاب: فضائل القرآن، باب: فضل من قرأ القرآن، 2 / 521، الرقم: 3306، وأحمد بن حنبل في المسند، 1 / 223، الرقم؛ 1947، والحاکم في المستدرک، 1 / 741، الرقم: 2037، والبيهقي في شعب الإيمان، 2 / 328، الرقم: 1943، والمقدسي في الأحاديث المختارة، 9 / 537، الرقم: 525.

الحديث رقم 12: أخرجه الترمذي في السنن، کتاب فضائل القرآن عن رسول اﷲ صلى الله عليه وآله وسلم، باب (18)، 5 / 177، الرقم: 2914، وأبو داود في السنن، کتاب الصلاة، باب استحباب الترتيل في القراءة، 2 / 73، الرقم: 1464، وابن ماجة عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه في السنن، کتاب الأدب، باب ثواب القرآن، 2 / 1242، الرقم: 3780، وابن حبان في الصحيح، 3 / 43، الرقم: 766، والحاکم في المستدرک، 1 / 739، الرقم: 2030، والبيهقي في السنن الصغرى، 1 / 560، الرقم: 1030، وابن أبي شيبة في المصنف، 6 / 131، الرقم: 3056، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 / 192، الرقم: 6799.

الحديث رقم 13: أخرجه الترمذي في السنن، کتاب: فضائل القرآن عن رسول اﷲ صلى الله عليه وآله وسلم، باب: (18)، 5 / 178، الرقم: 2915، والحاکم في المستدرک، 1 / 738، الرقم: 2029، وابن أبي شيبة في المصنف، 6 / 130-131، الرقم: 30047-30048، 30058، والبيهقي في شعب الإيمان، 2 / 346، الرقم: 1996-1997، والمنذري في الترغيب والترهيب، 2 / 228، الرقم: 2198.

الحديث رقم 14: أخرجه أبو داود في السنن، کتاب: الصلاة، باب: في ثواب قرأة القرآن، 2 / 70، الرقم: 1453، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 440، والحاکم في المستدرک، 1 / 756، الرقم: 2085، وأبو يعلى في المسند، 3 / 65، الرقم: 1493، والبيهقي في شعب الإيمان، 2 / 329، الرقم: 1948، والمنذري في الترغيب والترهيب، 2 / 228، الرقم: 2196.

الحديث رقم 15: أخرجه الدارمي في السنن، 2 / 522، الرقم: 3311، والقضاعي في مسند الشهاب، 2 / 257، الرقم: 1310، والديلمي في الفردوس بمأثور الخطاب، 4 / 262، الرقم: 6772.

الحديث رقم 16: أخرجه الدارمي في السنن، 2 / 525، الرقم: 3323-3324، وابن منصور في السنن، 1 / 12، الرقم: 3، وابن أبي شيبة في المصنف، 6 / 133، الرقم: 30080.

الحديث رقم 17: أخرجه الدارمي في السنن، 2 / 525، الرقم: 3322، وابن المبارک في الزهد، 1 / 272، الرقم: 787، والطبراني في المعجم الکبير، 9 / 129، الرقم: 8642، وعبدالرزاق في المصنف، 3 / 368، الرقم: 5998، وابن منصور في السنن، 1 / 43، الرقم: 7، والهيثمي في مجمع الزوائد، 7 / 164.

الحديث رقم 18: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: فضائل القرآن، باب: فضل سورة الکهف، 4 / 1914، الرقم: 4724، ومسلم في الصحيح، کتاب: صلاة المسافرين وقصرها، باب: نزول السکينة لقراءة القرآن، 1 / 547، الرقم: 795، والنسائي في السنن الکبرى، 6 / 462، الرقم: 11503، وأحمد بن حنبل في المسند، 4 / 281، 293، وأبو يعلى في المسند، 3 / 267، الرقم: 1722، والبيهقي في شعب الإيمان، 2 / 473.

الحديث رقم 19: أخرجه الترمذي في السنن، کتاب: فضائل القرآن عن رسول اﷲ صلى الله عليه وآله وسلم، باب: (17)، 5 / 176، الرقم: 2911، وأحمد بن حنبل في المسند، 5 / 268، الرقم: 22360، والطبراني في المعجم الکبير، 8 / 151، الرقم: 7657، والمروزي في تعظيم قدر الصلاة، 1 / 208، الرقم: 178، والمنذري في الترغيب والترهيب، 2 / 228، الرقم: 2197.

الحديث رقم 20: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: فضائل القرآن، باب: نزول السکينة والملائکة عند قراءة القرآن، 4 / 1916، الرقم: 4730، ومسلم في الصحيح، کتاب: صلاة المسافرين وقصرها، باب: نزول السکينة لقراءة القرآن، 1 / 548، الرقم: 796، والنسائي في السنن الکبرى، 5 / 67، الرقم: 8244، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 81، الرقم: 11783، والحاکم في المستدرک، 1 / 740، الرقم: 2034، والبيهقي في شعب الإيمان، 2 / 584، الرقم: 8026، والمنذري في الترغيب والترهيب، 2 / 230، الرقم: 2602.

الحديث رقم 21: أخرجه الترمذي في السنن، کتاب: الدعوات عن رسول اﷲ صلى الله عليه وآله وسلم، باب: ما يقول في سجود القرآن، 2 / 472، الرقم: 579، وابن ماجة في السنن، کتاب: إقامة الصلاة والسنة فيها، باب: سجود القرآن، 1 / 334، الرقم: 1053، وابن خزيمة في الصحيح، 1 / 282، الرقم: 562، وابن حبان في الصحيح، 6 / 473، الرقم: 2768، والحاکم في المستدرک، 1 / 341، الرقم: 799، والطبراني في المعجم الکبير، 11 / 129، الرقم: 11262، وابن اسحاق في شعار أصحاب الحديث، 1 / 63، الرقم: 84، والمنذري في الترغيب والترهيب، 2 / 233، الرقم: 2219.

الحديث رقم 22: أخرجه الترمذي في السنن، کتاب: فضائل القرآن عند رسول اﷲ صلى الله عليه وآله وسلم، باب: (17)، 5 / 177، الرقم: 2912.

الحديث رقم 23: أخرجه ابن ماجة في السنن، کتاب: الأدب، باب: ثواب القرآن، 2 / 1242، الرقم: 3781، وأحمد بن حنبل في المسند، 5 / 348، الرقم: 23000، 5 / 352، الرقم: 23026، والدارمي في السنن، 2 / 543، الرقم: 3391، وابن أبي شيبة في المصنف، 6 / 129، الرقم: 30045، والطبراني في المعجم الأوسط، 6 / 51، الرقم: 5764، والبيهقي في شعب الإيمان، 2 / 344، الرقم: 1989.

الحديث رقم 24: أخرجه ابن ماجة في السنن، کتاب: الأدب باب: ثواب القرآن، 2 / 242، الرقم: 3780، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 40، الرقم: 11378، وأبو يعلى في المسند، 2 / 346، الرقم: 1094، والکتاني في مصباح الزجاجة، 4 / 125، الرقم: 1328.

الحديث رقم 25: أخرجه أبو داود في السنن، کتاب: الأدب، باب: في تنزيل الناس منازلهم، 4 / 261، الرقم: 4843، والبخاري في الأدب المفرد، 1 / 130، الرقم: 357، وابن أبي شيبة في المصنف، 6 / 421، الرقم: 32561، والبزار في المسند، 8 / 74، الرقم: 3070، والبيهقي في السنن الکبرى، 8 / 163، وفي شعب الإيمان، 2 / 550، الرقم: 2685.

الحديث رقم 26: أخرجه ابن خزيمة في الصحيح، 2 / 180، الرقم: 1142، والحاکم في المستدرک، 1 / 452، الرقم: 1160، وابن منصور في السنن، 2 / 427، الرقم: 136، وقال: سنده صحيح، وابن أبي شيبة في المصنف، 6 / 134، الرقم: 30084، والبيهقي في شعب الإيمان، 2 / 399، الرقم: 2191، والمنذري في الترغيب والترهيب، 2 / 232، الرقم: 2216.

الحديث رقم 27: أخرجه أبوداود في السنن، کتاب: الصلاة، باب: تحزيب القرآن، 2 / 57، الرقم: 1398، وابن حبان في الصحيح، 6 / 310، الرقم: 2572، والديلمي في الفردوس بمأثور الخطاب، 3 / 492، الرقم: 5528، والنووي في التبيان، 1 / 74، والمنذري في الترغيب والترهيب، 1 / 248، الرقم: 945.

الحديث رقم 28: أخرجه إبن ماجة في السنن، المقدمة، باب فضل من تعلم القرآن وعلمه، 1 / 78، الرقم: 152، والنسائي في السنن الکبرى، 5 / 17، الرقم: 8031، والحاکم في المستدرک، 1 / 743، الرقم: 2046، وقال الحاکم: وقد روي هذا حديث من ثلاثة أوجه عن أنس رضي الله عنه هذا أمثلها، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 127، الرقم: 12301، والحارث في المسند (زوائد الهيثمي)، 2 / 739، الرقم: 733.

الحديث رقم 29: أخرجه ابن حبان في الصحيح، 2 / 76-78، الرقم: 361، والطبراني في المعجم الکبير، 2 / 157، الرقم: 1651، والبيهقي في شعب الإيمان، 4 / 242، الرقم: 4942، والمنذري في الترغيب والترهيب، 2 / 227، الرقم: 2193، والديلمي في الفردوس بمأثور الخطاب، 3 / 31، الرقم: 4068، والهيثمي في موارد الظمآن، 1 / 53، الرقم: 94، وفي مجمع الزوائد، 4 / 216.

الحديث رقم 30: أخرجه الدارمي في السنن، باب: في تعاهد القرآن، 2 / 530، الرقم: 3342.

الحديث رقم 31: أخرجه الحاکم في المستدرک، 1 / 738، الرقم: 2028، والبيهقي في شعب الإيمان، 2 / 522، الرقم: 2591، والمنذري في الترغيب والترهيب، 2 / 229، الرقم: 2204.

الحديث رقم 32: أخرجه الحاکم في المستدرک، 1 / 741، الرقم: 2040، والدارمي في السنن، 2 / 523، الرقم: 3315، وابن أبي شيبة في المصنف، 6 / 125، الرقم: 30008، وعبد الرزاق في المصنف، 3 / 357، الرقم: 6017، والطبراني في المعجم الکبير، 9 / 130، الرقم: 8646، والبيهقي في السنن الصغرى، 1 / 541، الرقم: 983، وفي شعب الإيمان، 2 / 342، الرقم: 1985، والمنذري في الترغيب والترهيب، 2 / 231، الرقم: 2208.

الحديث رقم 33: أخرجه الطبراني في المعجم الأوسط، 9 / 115، الرقم: 9286، والمنذري في الترغيب والترهيب، 2 / 233، الرقم: 2221، والهيثمي في مجمع الزوائد، 2 / 285، وقال: رواه البزار ورجاله ثقات.

الحديث رقم 34: أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 2 / 146، الرقم: 1614، والهيثمي في مجمع الزوائد، 2 / 250.

الحديث رقم 35: أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 2 / 174، الرقم: 6626، والحاکم في المستدرک، 1 / 740، الرقم: 2036، وابن المبارک في الزهد، 1 / 114، الرقم: 385، والبيهقي في شعب الإيمان، 2 / 346، الرقم: 1994، والمنذري في الترغيب والترهيب، 2 / 50، 230، الرقم: 1455، 2205، وقال: رواه الطبراني ورجاله محتج بهم في الصحيح، والهيثمي في مجمع الزوائد، 3 / 181، وقال: ورجاله رجال الصحيح.

الحديث رقم 36: أخرجه الدارمي في السنن، 2 / 522، الرقم: 3309، والديلمي في الفردوس بمأثور الخطاب، 4 / 245، الرقم: 6725.

الحديث رقم 37: أخرجه الدارمي في السنن، 2 / 521، الرقم: 3307، وعبدالرزاق في المصنف، 3 / 368، الرقم: 5998، والطبراني في المعجم الکبير، 9 / 129، الرقم: 8645، والهيثمي في مجمع الزوائد، 7 / 164.

الحديث رقم 38: أخرجه الدارمي في السنن، 2 / 533، الرقم: 3358، والديلمي في الفردوس بمأثور الخطاب، 3 / 230، الرقم: 4679.

الحديث رقم 39: أخرجه الحاکم في المستدرک، 1 / 739، الرقم: 2033-2034، 3 / 326، الرقم: 5259، والبزار في المسند، 8 / 178، الرقم: 3209، وعبدالرزاق في المصنف، 2 / 486، الرقم: 4182، والطبراني في المعجم الکبير، 1 / 207، الرقم: 563، والحسيني في البيان والتعريف، 1 / 128، الرقم: 332.

الحديث رقم 40: أخرجه أبو يعلى في المعجم، 1 / 240، الرقم: 294، والبيهقي في شعب الإيمان، 2 / 404، الرقم: 2208، وعبداﷲ بن أحمد في السنة، 1 / 150، الرقم: 129.

الحديث رقم 41: أخرجه ابن أبي شيبة في المصنف، 6 / 120، الرقم: 29954، والقضاعي في مسند الشهاب، 2 / 46، الرقم: 855.

الحديث رقم 42: أخرجه ابن أبي شيبة موقوفا في المصنف، 6 / 120، الرقم: 29952، والبيهقي في شعب الإيمان، 2 / 347، الرقم: 1998، والديلمي في الفردوس بمأثور الخطاب، 3 / 58، الرقم: 4158، والمنذري في الترغيب والترهيب، 2 / 228، الرقم: 2199.

الحديث رقم 43: أخرجه المنذري في الترغيب والترهيب، 1 / 42، الرقم: 69، والهيثمي في مجمع الزوائد، 1 / 171.

الحديث رقم 44: أخرجه الطبراني في الأوسط، 9 / 113، الرقم: 9280، وفي المعجم الصغير، 2 / 252، الرقم: 1116، والبيهقي في شعب الإيمان، 2 / 348، الرقم: 2002، 3 / 119، الرقم: 3060، والمنذري في الترغيب والترهيب، 2 / 229، الرقم: 2202، والهيثمي في مجمع الزوائد، 1 / 327.

الحديث رقم 45: أخرجه الحاکم في المستدرک، 1 / 755، الرقم: 2080، والطبراني في المعجم الکبير، 9 / 129، الرقم: 8645، وابن راهوية في المسند، 1 / 379، الرقم: 402، والمنذري في الترغيب والترهيب، 2 / 234، الرقم: 2223.

الحديث رقم 46: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: المغازي، باب: شهود الملائکة بدر، 4 / 1472، الرقم: 3786، وفي کتاب: فضائل القرآن، باب: فضل سورة البقرة، 4 / 1914، الرقم: 4722، ومسلم في الصحيح، کتاب: صلاة المسافرين وقصرها، باب: فضل الفاتحة وخواتيم سورة البقرة، 1 / 554-555، الرقم: 807-808، والترمذي في السنن، کتاب: فضائل القرآن عن رسول اﷲ صلى الله عليه وآله وسلم، باب: ماجاء في آخر سورة القرآن، 5 / 159، الرقم: 2881، وقال: هذا حديث حسن صحيح، وأبوداود في السنن، کتاب: الصلاة، باب: تحزيب القرآن، 2 / 56، الرقم: 1397، وابن ماجة في السنن، کتاب: إقامة الصلاة والسنة فيها، باب: ماجاء فيما يرجي أن يکفي من قيام الليل، 1 / 435-436، الرقم: 1368-1369.

الحديث رقم 47: أخرجه أبو داود في السنن، کتاب: الجنائز، باب: القراءة عند الميت، 3 / 191، الرقم: 3121، وابن ماجة في السنن، کتاب: الجنائز، باب: ما جاء في ما يقال عند المريض إذا حضر، 1 / 466، الرقم: 1448، والحاکم في المستدرک، 1 / 753، الرقم: 2074، وابن أبي شيبة في المصنف، 2 / 445، الرقم: 10853، والبيهقي في السنن الکبرى، 3 / 383، الرقم: 6392، والمقدسي في فضائل الأعمال، 1 / 123/1، الرقم: 544.

الحديث رقم 48: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: التوحيد، باب: ما جاء في دعاء النبي صلى الله عليه وآله وسلم أمته إلي توحيد اﷲ تبارک وتعالي، 6 / 2686، الرقم: 6940، وفي کتاب: صفة الصلاة، باب: الجمع بين السورتين في الرکعة والقراءة، 1 / 268، الرقم: 741، ومسلم في الصحيح، کتاب: صلاة المسافرين، باب: فضل قرأة قل هو اﷲ أحد، 1 / 557، الرقم: 813، والنسائي في السنن، کتاب: الإفتتاح، باب: الفضل في قرأة قل هو اﷲ أحد، 2 / 170، الرقم: 993، وفي السنن الکبرى، 1 / 341، الرقم: 1065، والبيهقي في شعب الإيمان، 2 / 505، الرقم: 2539.

الحديث رقم 49: أخرجه الترمذي في السنن، کتاب: فضائل القرآن عن رسول اﷲ صلى الله عليه وآله وسلم، باب: ماجاء في المعوذتين، 5 / 170، الرقم: 2902، وأبوداود في السنن، کتاب: الصلاة، باب: في الإستغفار، 2 / 86، الرقم: 1523، والنسائي في السنن، کتاب: السهو، باب: الأمر بقراءة المعوذات بعد التسليم من الصلاة، 3 / 68، الرقم: 1336، وفي السنن الکبرى، 1 / 397، الرقم: 1259، وأحمد بن حنبل في المسند، 4 / 155، 201.

Copyrights © 2024 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved