Takhliq-e-Kainat:

فصل چہارم :سات آسمانوں کی سائنسی تعبیر

قرآنِ مجید سات آسمانوں کی موجودگی اور اُن کے مابین ہم آہنگی کا تصوّر پیش کرتا ہے۔ یہی بات اِن آیات میں واضح کی گئی ہے :

الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا.

(الملک، 67 : 3)

اُسی نے سات آسمانی طبقات اُوپر تلے پیدا کئے ہیں۔

ثُمَّ اسْتَوٰی إِلَی السَّمَآءِ فَسَوّٰهُنَّ سَبْعَ سَمٰوٰتٍط وَ هُوَ بِکُلِّ شَئٍ عَلِيْمٌO

(البقرہ، 2 : 29)

پھر وہ (کائنات کے) بالائی حصوں کی طرف متوجہ ہوا تو اُسے درُست کر کے اُن کے سات آسمانی طبقات بنا دیئے، اور وہ ہر چیز کا جاننے والا ہےo

أَلَمْ تَرَوْا کَيْفَ خَلَقَ اﷲُ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًاO

(نوح، 71 : 15)

کیا تم اِس حقیقت سے آگاہ نہیں ہو کہ اﷲ تبارک و تعالیٰ نے کس طرح سات آسمانی طبقات اُوپر تلے پیدا کر رکھے ہیںo

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا فَوْقَکُمْ سَبْعَ طَرَائِقَ وَ مَا کُنَّا عَنِ الْخَلْقِ غَافِلِينَO

(المؤمنون، 23 : 17)

اور بیشک ہم نے تمہارے اُوپر (کرّۂ ارضی کے گِرد فضائے بسیط میں نظامِ کائنات کی حفاظت کے لئے) سات راستے (یعنی سات مِقناطیسی پٹیاں یا میدان) بنائے ہیں اور ہم (کائنات کی) تخلیق (اور اُس کی حفاظت کے تقاضوں) سے بے خبر نہ تھے۔

اگرچہ سات آسمانوں کے کچھ رُوحانی معانی اور توجیہات بھی بہت سی تفاسیر میں پیش کئے گئے ہیں۔ ۔ ۔ اور ہم اُن کی تائید کرتے ہیں۔ ۔ ۔ مگر اُس کے ساتھ ساتھ طبیعی کائنات، اُس کے خلائی طبقات، اَجسامِ سماوِی اور خلاء اور کائنات سے متعلقہ کچھ سائنسی اور فلکیاتی توضیحات بھی ہمارے علم میں آئی ہیں۔ یہ طبیعی موجودات رُوحانی اور مابعد الطبیعی موجودات کے عینی شواہد بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔ اَب دونوں میں کسی قسم کا کوئی تضاد نہیں ہونا چاہیئے۔ (اور واقعی اِن دونوں میں کوئی تضاد نہیں ہے)

پہلی وضاحت: کائنات سے متعلق سات آسمانوں کا تصوّر

قرآنِ حکیم نے اپنی بہت سی آیات میں سات آسمانوں کا ذِکر کیا ہے۔ گزشتہ 200سال سے کائنات سے متعلق تحقیقات کے باوُجود سائنس ابھی اِس بارے میں حتمی معلومات حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ صرف آخری چند عشروں میں فلکی طبیعیات کے سلسلے میں چند اِنتہائی دِلچسپ دریافتیں ہوئی ہیں اور (اُن سے) معجزۂ قرآن کی حقانیت ثابت ہو گئی ہے۔ سائنس نے جو کچھ بھی دریافت کیا ہے وہ سمندر میں سے فقط ایک قطرہ (کی حیثیت رکھتا) ہے، لیکن پھر بھی اُس نے کم از کم اپنی پچھلی دو صدیوں کی خطاؤں کو تسلیم کرنا شروع کر دِیا ہے۔

(ترکی کے نامور)ڈاکٹر ہلوک نور باقی کے مطابق کائنات متنوّع اور ہم مرکز مقناطیسی تہوں کی عکاسی کرتی ہے۔ (پہلی اور) مرکزی تہہ بے شمار ستاروں سے بننے والی کہکشاؤں اور اُن کے گروہوں پر مشتمل ہے۔ اُس کے اُوپر واقع دُوسری تہہ بہت سی مِقناطیسی خصوصیات کی حامل ہے، جو قواسرز (ستاروں کے بیجوں) پر مشتمل ہے۔ اُس کے گِرد تیسری مِقناطیسی پٹی ہے جو کائنات کے سِفلی مقامات کو اپنے حلقے میں لئے ہوئے ہے۔

سب سے اندرونی دائرہ اور خاص طور پر ہمارا اپنا نظامِ شمسی اپنے تمام سیاروں کے خاندان سمیت آسان ترین قابلِ مُشاہدہ علاقہ ہے۔ اس نظام کی اندرونی ساخت تین الگ الگ مِقناطیسی میدانوں پر مُشتمل ہے۔

سب سے پہلے تو ہر سیارہ ایک مِقناطیسی میدان کا مالک ہے، وہ۔ ۔ ۔ اگر ہو تو۔ ۔ ۔ اُس کی فضا ہوتی ہے۔ وہ سیارے سے متّصل اَطراف سے متعلق ہوتی ہے۔ پھر اُس کے بعد نظامِ شمسی کے اِمتزاج سے تمام سیارے ایک دُوسری مقناطیسی پٹی تشکیل دیتے ہیں۔ مزید برآں ہر نظامِ شمسی اپنی کہکشاں کے ساتھ ایک الگ (وسیع و عریض) مِقناطیسی علاقے کی بنیاد رکھتا ہے۔ (واضح رہے کہ) کم از کم ایک کھرب ستارے یا سورج تو صرف ہماری مِلکی وے نامی کہکشاں میں شامل ہیں۔ مزید اعلیٰ سطح پر آس پاس واقع کہکشائیں کلسٹرز (کہکشاؤں کے گروہ) کے ایک اور مِقناطیسی میدان کا باعث بن جاتی ہیں۔ تبھی تو جب آپ زمین یا کسی دُوسرے سیارے سے آسمان کی طرف نظر کرتے ہیں تو سات (ایسی) مِقناطیسی پٹیوں میں گِھرے ہوئے ہوتے ہیں، جو خلاء کی بیکرانی میں پسپائی اِختیار کر چکی ہوں۔ اگر ہم زمین سے کائنات کی وُسعتوں کی طرف نظر دَوڑائیں تو (سات آسمان اِس ترتیب سے واقع ہیں) :

  1. پہلا آسمان : وہ خلائی میدان، جس کی بنیاد ہم اپنے نظامِ شمسی کے ساتھ مل کر رکھتے ہیں۔
  2. دُوسرا آسمان : ہماری کہکشاں کا خلائی میدان ہے۔ یہ وہ مِقناطیسی میدان ہے جسے مِلکی وے کا مرکز تشکیل دیتا ہے اور وہ حال ہی میں دریافت ہوا ہے۔
  3. تیسرا آسمان : ہمارے مقامی کلسٹر ( کہکشاؤں کے گروہ) کا خلائی میدان ہے۔
  4. چوتھا آسمان : کائنات کا مرکزی مِقناطیسی میدان ہے، جو کہکشاؤں کے تمام گروہوں کے مجموعے سے تشکیل پاتا ہے۔
  5. پانچواں آسمان : کائناتی پٹی (پر مشتمل ہے) جو قواسرز (Quasars) بناتے ہیں۔
  6. چھٹا آسمان : پھیلی ہوئی کائنات کا میدان ہے، جسے رِجعتِ قہقری کی حامل (پیچھے ہٹتی ہوئی) کہکشائیں بناتی ہیں۔
  7. ساتواں آسمان : سب سے بیرونی میدان ہے، جو کہکشاؤں کی غیر محدود بیکرانی سے تشکیل پاتا ہے۔

اِن سات تہہ در تہہ آسمانوں کا ذِکر قرآنِ مجید نے (آج سے) 14صدیاں پہلے واشگاف اَنداز میں کر دِیا تھا۔ (سات آسمانوں سے متعلقہ آیاتِ مبارکہ سابقہ صفحات میں گزر چکی ہیں)

دُوسری وضاحت: فلکیاتی تہوں کے تناسُب میں سات آسمانوں کا ذِکر

سات آسمانوں کے تصوّر کو اچھے انداز میں سمجھنے کے لئے ہم فلکی طبیعیات سے متعلقہ چند مزید معلومات کا مختصر ذِکر کرنا پسند کریں گے۔

مذکورہ بالا آسمانی تہوں کے درمیان ناقابلِ تصوّر فاصلے حائل ہیں۔

  1. پہلی آسمانی تہہ۔ ۔ ۔ کم و بیش 65کھرب کلومیٹر تک پھیلی ہوئی ہے۔
  2. دُوسری آسمانی تہہ۔ ۔ ۔ جو ہماری کہکشاں کا قطر بھی ہے۔ ۔ ۔ ایک لاکھ 30ہزار نوری سال (وسیع) ہے۔
  3. تیسری آسمانی تہہ۔ ۔ ۔ جو ہمارا مقامی کلسٹر ہے۔ ۔ ۔ 20لاکھ نوری سال کی حدُود میں پھیلی ہوئی ہے۔
  4. چوتھی آسمانی تہہ۔ ۔ ۔ جو کہکشاؤں کے تمام گروہوں کے مجموعہ ہے، اور کائنات کا مرکز تشکیل دیتی ہے۔ ۔ ۔ 10کروڑ نوری سال قطر پر محیط ہے۔
  5. پانچویں آسمانی تہہ۔ ۔ ۔ ایک ارب نوری سال کی مسافت پر واقع ہے۔
  6. چھٹی آسمانی تہہ۔ ۔ ۔ 20ارب نوری سال دُور ہے۔
  7. ساتویں آسمانی تہہ۔ ۔ ۔ اُس سے بھی کئی گنا آگے ہے(جس کا اَندازہ لگانا محال ہے۔)

ایک آسمان سے دُوسرے آسمان تک کا جسمانی سفر ناممکن ہے، جس کا پہلا سبب بے تحاشا رفتار کا عدم حصول اور دُوسرا سبب مِقناطیسی قوّتوں پر (نوعِ اِنسانی کا) حاوِی نہ ہو سکنا ہے۔ اِن آسمانوں کی حدُود سے گزرنے کے لئے ضروری ہے کہ رَوشنی سے زیادہ رفتار حاصل کی جائے، (روشنی کی رفتار کا حصول چونکہ مادّی اَجسام کے لئے قطعاً ناممکن ہے اِس لئے) اِس کا دُوسرا مطلب یہ ہوا کہ ’مادّے کی دُنیا سے نجات‘ حاصل کی جائے۔

تیسری وضاحت۔ ۔ ۔ لامُتناہی اَبعاد کا تصوّر

سات آسمانوں سے متعلقہ تصوّر لامتناہی اَبعاد کا بھی ہے۔ مختلف آسمانوں میں موجود عالمِ مکاں مختلف اَبعاد کا حامل ہوتا ہے۔ اِس لحاظ سے سات آسمانوں کا تصوّر سات جدا جدا خلائی تسلسلوں کے تصوّر کو بھی شامل ہے۔ چونکہ ہم ابھی تک (وقت سمیت) چار سے زیادہ اَبعاد کو محسوس نہیں کر سکتے لہٰذا ہمارے لئے فی الحال اِن لامتناہی اَبعاد کو ( کاملاً) سمجھ سکنا ممکن نہیں۔

Copyrights © 2024 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved