باب 6 :قرآنی سورتوں کے خاص وظائف

باب ششم: وظائف السُّوَر

(قرآنی سورتوں کے خاص وظائف)

1۔ سورۃ الفاتحہ کا وظیفہ

وظیفۂ شفاء

سورۃ فاتحہ کے مختلف اسماء ہیں جن سے اس کے متعدد فضائل و برکات اور کمالات و تاثیرات کا بخوبی اندازہ ہو سکتا ہے، دیگر کسی بھی سورت کے اس قدر اسماء اور فضائل بیان نہیں کئے گئے۔ یہ سورت چونکہ ظاہری و باطنی علوم و معارف اور فوائد و برکات کی جامع ہے، اس لئے اسی کو قرآن کی افتتاحی سورت ہونے کا شرف عطا کیا گیا۔

اس کے متعدد ناموں میں سے ایک نام ’’سورۃ الشفاء‘‘ اور ’’سورۃ الشافیۃ‘‘ ہے۔

  1. امام دارمیؒ نے اپنی ’مسند‘ اور بیہقیؒ نے ’شعب الایمان‘ میں صحیح اسناد کے ساتھ روایت کیا ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

فاتحة الکتاب شفاء من کل دآء.

’’فاتحۃ الکتاب (سورۃ الفاتحہ میں) ہر مرض کے لیے شفاء ہے۔‘‘

  1. اسی طرح حضرت عبداللہ بن جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں:

قال رسول الله ﷺ: فاتحة الکتاب فیها شفاء من کل دآء. (ابن کثیر، 1: 10)

’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: فاتحۃ الکتاب میں ہر مرض کے لئے شفاء ہے۔‘‘

  1. بیہقی حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کرتے ہیں:

فاتحة الکتاب شفاء من السم.

’’فاتحۃ الکتاب زہر کے لئے شفاء ہے۔‘‘

  1. صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سورۃ فاتحہ کو آنحضرت ﷺ کے حکم کے مطابق فی الواقعہ شفاء سمجھتے اور کئی امراض کا علاج اس سورہ کے ذریعے کرتے تھے۔ صحیح مسلم، سنن نسائی اور دیگر کتب حدیث میں منقول ہے کہ صحابہ کرام ث سانپ اور بچھو کے کاٹے پر، مجنون اور اہل صرع (یعنی مرگی کے مریض) پر سورت فاتحہ پڑھ کر دم کرتے تھے جس سے مریض اسی وقت تندرست ہو جاتا تھا۔ بزرگوں نے بھی مختلف امراض کے لئے سورۃ فاتحہ کو مخصوص اوقات میں یا مخصوص تعداد میں پڑھ کر دم کرنے کی وہی تاثیر بیان کی ہے۔

امام بخاریؒ نے صحیح میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے کہ بعض صحابہ ث سفر میں تھے، دریں اثناء کسی عورت نے ان سے سانپ کے ڈسے کے لئے تریاق کے بارے میں دریافت کیا۔ جس پر ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے سورۃ فاتحہ پڑھ کر دم کیا تو وہ شخص وہیں ٹھیک ہو گیا، پھر یہ ماجرا حضور نبی اکرم ﷺ کی خدمت اقدس میں عرض کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا:

ما کان یدریه أنها رقیة.

’’کیا وہ نہیں جانتا تھا کہ یہ سورت تریاق ہے۔‘‘

اس وجہ سے اس کا ایک نام سورۃ الرقیۃ بھی ہے جو خود حضور نبی اکرم ﷺ کا تجویز کردہ ہے۔

  1. یہ سورۃ اپنے خصوصی اثرات و برکات کے باعث انسان کو شدائد و مصائب سے بھی بچاتی ہے، اس کی تلاوت سے انسان شیطانی فتن و شرور اور مصائب و آلام سے محفوظ و مامون ہو جاتا ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

إذا وضعت جنبک علیٰ الفراش و قرأت فاتحة الکتاب و قل هو الله أحد، فقد أمنت کل شی إلا الموت. (ابن کثیر، 1: 12)

’’اگر تم بستر پر دراز ہوتے وقت سورۃ فاتحہ اور سورہ اخلاص پڑھ لیا کرو تو سوائے موت کے تم ہر شے سے محفوظ و مامون ہو جاؤ گے۔‘‘

اسی تاثیر کے باعث اس کانام سورۃ الواقیۃ بھی ہے۔

  1. سورۃ الفاتحہ کی تاثیر و برکات میں یہ بھی ہے کہ یہ مشکلوں کو آسانیوں اور تنگیوں کو فراوانیوں میں بدل دیتی ہے۔ اس سے انسان پر حقیقی برکت و سعادت کا راستہ کھلتا ہے، ذہنی کرب، فکری الجھنوں اور پریشانیوں سے نجات ملتی ہے۔ رنج و الم اور غم و اندوہ رفع ہوتے ہیں۔ بیمار کو تندرستی ملتی ہے، تنگدست کو فراخی رزق عطا ہوتی ہے، محروم کو فتح نصیب ہوتی ہے اور سب غموں اور دکھوں کا مداوا ہو جاتا ہے۔

فتحِ مشکلات اور روحانی برکات کے لئے، ہر قسم کی مہمات میں کامیابی کے لئے، آفات و بلیّات سے حفاظت، جملہ امراض سے شفایابی اور الله کی خاص مدد و نصرت کے لئے یہ وظیفہ مؤثر ہے۔

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِO {اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَO الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِO مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِO اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُO اِہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَO صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَ لَا الضَّآلِّیْنَO} (الفاتحة، 1: 1۔7)

اسے 11 مرتبہ پڑھیں، 10 بار پڑھ لینے کے بعد جب 11ویں مرتبہ پڑھنے لگیں اور اس آیت پر پہنچیں:

’’اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُO‘‘

تو اسی ایک آیت کی ایک تسبیح (100 مرتبہ) کریں اور پھر بقیہ سورت مکمل کر لیں۔

  • اول و آخر 11، 11 مرتبہ درود شریف پڑھیں۔
  • پانی دم کر کے پئیں۔
  • اس وظیفہ کو کم از کم 40 دن یا حسب ضرورت جاری رکھیں۔
  • سادہ طریق سے فقط ’’سورت‘‘ کا 3 بار، 7 بار، 11 بار، 40 بار یا 100 بار حسب ضرورت پڑھنا بھی کثیر فوائد و برکات کا باعث ہے۔

2۔ وظیفۂ آیۃ الکرسی

وظیفۂ حفاظت

شرِ حاسدین، شرِ اعداء اور جملہ خطرات و پریشانیوں سے حفاظت اور دیگر روحانی خیرات و برکات کے لئے یہ وظیفہ مفید و مؤثر ہے:

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِO {اللهُ لَآ إِلٰہَ إِلَّا ھُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ لَا تَاْخُذُهٗ سِنَةٌ وَّ لاَ نَوْمٌ ط لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ ط مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَهٗٓ إِلَّا بِإِذْنِهٖ ط یَعْلَمُ مَا بَیْنَ أَیْدِیْھِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ ج وَلَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْئٍ مِّنْ عِلْمِہٖٓ إِلَّا بِمَا شَآءَ ج وَسِعَ کُرْسِیُّهُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ ج وَلَا یَؤُوْدُهٗ حِفْظُھُمَا ج وَ ھُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُO} (البقرة، 2: 255)

  • آیۃ الکرسی 11 بار پڑھیں، جب 11ویں بار پڑھتے ہوئے

’’وَسِعَ کُرْسِیُّهُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَلَایَؤُوْدُهٗ حِفْظُھُمَا وَ ھُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ‘‘

پر پہنچیں تو فقط اسی حصہ کو 100 مرتبہ پڑھیں۔

  • اول و آخر 11، 11 مرتبہ درود شریف اور 11، 11 مرتبہ استغفار پڑھیں۔
  • اس وظیفہ کو کم از کم 40 دن یا حسب ضرورت جاری رکھیں۔
  • پوری آیۃ الکرسی کو سادہ طریق سے اعداد کے ساتھ یا کثرت کے ساتھ پڑھنا بھی نہایت مفید اور باعثِ برکات ہے۔

3۔ وظیفۂ حوامیم

وظیفۂ خلاصی جہنم

قرآن مجید کی وہ سورتیں جن کی ابتداء حٰمٓ سے ہوتی ہے حوامیم کہلاتی ہیں ان کی تعداد سات (7) ہے۔ حضور نبی اکرم ﷺ کے معمولات میں سورۃ الملک کے علاوہ ان سات سورتوں کی تلاوت بھی شامل تھی۔ آپ ﷺ نے ان کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ جہنم کے سات دروازے ہیں قیامت کے دن ہر ہر سورۃ حٰمٓ جہنم کے ایک ایک دروازے پر کھڑی ہو جائے گی اور ان کی تلاوت کرنے والے قاری کو جہنم سے نجات دلائے گی۔ ان حوامیم کی ابتداء اس طرح ہوتی ہے:

  1. حٰمٓO تَنْزِیْلُ الْکِتٰبِ مِنَ اللهِ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِO (المؤمن، 40)
  2. حٰمٓO تَنْزِیْلٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِO (حم السجدۃ، 41)
  3. حٰمٓO عٓسٓقٓO کَذٰلِکَ یُوْحِیْٓ اِلَیْکَ وَ اِلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکَ اللهُ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُO (الشوریٰ، 42)
  4. حٰمٓO وَالْکِتٰبِ الْمُبِیْنِO (الزخرف، 43)
  5. حٰمٓO وَالْکِتٰبِ الْمُبِیْنِO (الدخان، 44)
  6. حٰمٓO تَنْزِیْلُ الْکِتٰبِ مِنَ اللهِ الْعَزِیْزِ الْحَکِیْمِO (الجاثیہ، 45)
  7. حٰمٓO تَنْزِیْلُ الْکِتٰبِ مِنَ اللهِ الْعَزِیْزِ الْحَکِیْمِO (الاحقاف، 46)

حضرت عبدالله بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: یہ حوامیم قرآن کی زینت و آرائش ہیں۔ حضرت عبدالله بن عباس رضی الله عنہما فرماتے ہیں: ہر شے کا ایک خلاصہ ہوتا ہے قرآن کا خلاصہ یہی حوامیم ہیں۔

الغرض حوامیم کی تلاوت کا معمول کثیر روحانی خیرات و برکات کا باعث ہے۔

4۔ وظیفۂ مفصّلات

وظیفۂ مدد و نصرت الٰہی

یوں تو الله رب العزت کا سارا کلام ہی باعث خیرو برکت ہے مگر ان میں سے بعض سورتوں اور آیات کی مخصوص فضیلتیں احادیث میں بیان ہوئی ہیں اگر کوئی شخص ان فضائل و اثرات کے مطابق ان سورتوں کی تلاوت کو اپنا معمول بنائے تو اسے دیگر فوائد و برکات کے علاوہ الله رب العزت کی طرف سے خاص تائید اور مدد و نصرت بھی نصیب ہو گی۔

قرآنی سورتوں کی چار اقسام پر مشتمل تقسیم میں چوتھی قسم مفصلات ہیں، یہ سورۃ ق سے شروع ہو کر اختتام قرآن حکیم تک کل 65 سورتیں بنتی ہیں۔

ان کے بارے میں حضور نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: مجھے ان سورتوں کی وجہ سے تمام انبیاء پر فضیلت عطا کی گئی ہے۔

حضرت عرباض بن ساریہ اور حضرت خالد بن معدان رضی الله عنھما سے مروی ہے حضور نبی اکرم ﷺ کے معمولات میں سے تھا کہ آپ رات کو استراحت فرمانے سے قبل مفصلات میں سے مسبحات کو پڑھتے اور آپ ﷺ نے فرمایا کہ ان میں ایک ایسی آیت بھی ہے جو ثواب اور درجے کے اعتبار سے ایک ہزار آیتوں کے برابر ہے مسبحات سے مراد وہ سورتیں ہیں جن کی ابتدا سَبَّحَ یا یُسَبِّحُ سے ہوتی ہے ان کی تعداد چھ (6) ہے۔ ان مسّبحات کی ابتداء اس طرح ہوتی ہے:

  1. سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ج وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُO (الحدید، 57)
  2. سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ ج وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُO (الحشر، 59)
  3. سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ ج وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُO (الصف، 61)
  4. یُسَبِّحُ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ الْمَلِکِ الْقُدُّوْسِ الْعَزِیْزِ الْحَکِیْمِO (الجمعة، 62)
  5. یُسَبِّحُ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ لَهٗ الْمُلْکُ وَ لَهُ الْحَمْدُ وَ هُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌO (التغابن، 64)
  6. سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلٰیO (الاعلی، 87)

5۔ وظیفۂ سورۃ الفیل

وظیفہ برائے دفعِ شرِ اعداء

دشمن کے شر سے محفوظ رہنے، اس کی تدبیروں کو ناکام کرنے اور حملہ آور کے شر و نقصان سے بچنے کے لئے اس سورت کا وظیفہ نہایت مفید اور موثر ہے:

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِO { اَلَمْ تَرَ کَیْفَ فَعَلَ رَبُّکَ بِاَصْحٰبِ الْفِیْلِO اَلَمْ یَجْعَلْ کَیْدَھُمْ فِیْ تَضْلِیْلٍO وَّ اَرْسَلَ عَلَیْھِمْ طَیْرًا اَبَابِیْلَO تَرْمِیْھِمْ بِحِجَارَةٍ مِّنْ سِجِّیْلٍO فَجَعَلَھُمْ کَعَصْفٍ مَّاْکُوْلٍO}

یہ وظیفہ 11 بار، 40 بار یا حسب ضرورت 100 بار پڑھیں۔

  • اوّل و آخر 11، 11 مرتبہ درود شریف اور 11، 11 مرتبہ استغفار پڑھیں۔
  • اس وظیفہ کا بہتر وقت بعداز نماز فجر طلوع آفتاب سے پہلے اور بعد نمازِ عصر غروبِ آفتاب سے پہلے کا ہے۔

اس وظیفہ کو 7 دن، 11 دن، 40 دن یا حسب ضرورت جاری رکھیں۔

اگر گیارہ یا چالیس بار پڑھتے ہوئے آخری بار پڑھنے لگیں تو آخری آیت ’’فَجَعَلَھُمْ کَعَصْفٍ مَّاْکُوْلٍ‘‘ کی 100 بار ایک تسبیح کر لیں تو اس کی تاثیر مزید زیادہ ہو گی۔ انشاء الله دشمن سے نقصان پہنچانے کی توفیق سلب ہو جائے گی۔

6۔ وظیفۂ سورۃ القریش

وظیفہ برائے وسعتِ رزق، خلاصی از قرض و حصولِ امان

وسائل رزق اور کاروبار میں وسعت و برکت کے لئے، بالخصوص قرض سے خلاصی اور خطرات سے امان پانے کے لئے یہ وظیفہ پڑھیں:

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِO {لِاِیْلٰفِ قُرَیْشٍO اٖلٰـفِھِمْ رِحْلَةَ الشِّتَآءِ وَالصَّیْفِO فَلْیَعْبُدُوْا رَبَّ هٰذَا الْبَیْتِO الَّذِیْٓ اَطْعَمَھُمْ مِّنْ جُوْعٍ وَّ اٰمَنَھُمْ مِّنْ خَوْفٍO}

11 بار، 40 بار یا حسب ضرورت 100 مرتبہ پڑھیں۔

  • اوّل و آخر 11، 11 مرتبہ درود شریف اور 11، 11 مرتبہ استغفار پڑھیں۔
  • اس وظیفہ کا بہتر وقت بعد از نماز فجر طلوع آفتاب سے پہلے اور بعد نماز عصر غروبِ آفتاب سے پہلے ہے۔

اس وظیفہ کو کم از کم 40 دن یا حسب ضرورت جاری رکھیں۔

7۔ وظیفۂ سورۃ الماعون

وظیفہ برائے ادائے قرض

رزق کی تنگی کو دور کرنے اور قرض سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے، علاوہ ازیں بخل و کنجوسی سے نجات کے لئے یہ وظیفہ مفید اور موثر ہے:

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِO {اَرَئَیْتَ الَّذِیْ یُکَذِّبُ بِالدِّیْنِO فَذٰلِکَ الَّذِیْ یَدُعُّ الْیَتِیْمَO وَلَا یَحُضُّ عَلٰی طَعَامِ الْمِسْکِیْنِO فَوَیْلٌ لِّلْمُصَلِّیْنَO الَّذِیْنَ ھُمْ عَنْ صَلَاتِھِمْ سَاھُوْنَO الَّذِیْنَ ھُمْ یُرَآئُوْنَO وَ یَمْنَعُوْنَ الْمَاعُوْنَO}

11 بار، 40 بار یا حسب ضرورت 100 بار پڑھیں۔

  • اوّل و آخر 11، 11 مرتبہ درود شریف اور 11، 11 مرتبہ استغفار پڑھیں۔
  • اس وظیفہ کا بہتر وقت بعد از نمازِ فجر طلوع آفتاب سے پہلے اور بعد نمازِ عصر غروبِ آفتاب سے پہلے ہے۔

اس وظیفہ کو کم از کم 40 دن یا حسب ضرورت جاری رکھیں۔

8۔ وظیفۂ سورۃ الکوثر

وظیفہ برائے کثرتِ رزق و رحمت و کثرتِ خیرات و برکات

ہر قسم کی خیر و برکت، رزق و رحمت کی کثرت اور انعاماتِ الٰہیہ کے لئے یہ وظیفہ نہایت مفید اور مؤثر ہے:

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِO {اِنَّآ اَعْطَیْنٰـکَ الْکَوْثَرَO فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْO اِنَّ شَانِئَکَ ھُوَ الْاَبْتَرُO

11 بار، 40 بار یا 100 بار پڑھیں۔

  • اول و آخر 11، 11 مرتبہ درود شریف اور 11، 11 مرتبہ استغفار پڑھیں۔
  • اس وظیفہ کا بہتر وقت بعداز نماز فجر طلوع آفتاب سے پہلے، بعد نماز عصر غروبِ آفتاب سے پہلے یا بعد نماز عشاء سونے سے پہلے ہے۔

اس وظیفہ کو کم از کم 40 دن یا حسب ضرورت جاری رکھیں۔

9۔ وظیفۂ سورۃ الکافرون

وظیفہ برائے رغبت و ذوقِ عبادت

عبادت گذاری اور اس میں رغبت اور ذوق و شوق کے لئے یہ وظیفہ مفید اور مؤثر ہے:

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِO { قُلْ یٰٓاَیُّهَا الْکٰفِرُوْنَO لَآ اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَO وَ لَآ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَآ اَعْبُدُO وَ لَآ اَنَا عَابِدٌ مَّا عَبَدْتُّمْO وَ لَآ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَآ اَعْبُدُO لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَ لِیَ دِیْنِO}

فضیلت:

سورۃ قُلْ یٰٓاَیُّهَا الْکٰفِرُوْنَ کے بارے میں حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ یہ چوتھائی قرآن کے برابر ہے۔ اس کی تلاوت سے شرک سے نجات نصیب ہوتی ہے اور توحید میں پختگی آتی ہے۔

40 مرتبہ یا حسب ضرورت 100 مرتبہ پڑھیں۔

  • اوّل و آخر 11، 11 مرتبہ درود شریف اور 11، 11 مرتبہ استغفار پڑھیں۔

اس وظیفہ کو کم از کم 40 دن یا حسب ضرورت جاری رکھیں۔

10۔ وظیفۂ سورۃ النصر

وظیفہ برائے فتح و نصرتِ الٰہی

کسی بھی قسم کی رکاوٹ کو دور کرنے، الله کی مدد و نصرت اور فتح و کامرانی حاصل کرنے اور مشکل صورتحال سے نکلنے کے لئے یہ وظیفہ مفید اور مؤثر ہے:

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِO {اِذَآ جَآءَ نَصْرُ اللهِ وَ الْفَتْحُO وَ رَاَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِیْ دِیْنِ اللهِ اَفْوَاجًاO فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَ اسْتَغْفِرْهُ ط اِنَّهٗ کَانَ تَوَّابًاO}

فضیلت:

سورۃ النصر کے بارے میں حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اس کا ثواب چوتھائی قرآن کے برابر ہے۔

11 مرتبہ، 40 مرتبہ یا حسب ضرورت 100 مرتبہ پڑھیں۔

  • اوّل و آخر 11، 11 مرتبہ درود شریف اور 11، 11 مرتبہ استغفار پڑھیں۔
  • اس وظیفہ کا بہتر وقت بعد از نماز فجر طلوع آفتاب سے پہلے یا بعد نماز عصر غروبِ آفتاب سے پہلے ہے۔

اس وظیفہ کو 40 دن یا حسب ضرورت جاری رکھیں۔

11۔ وظیفۂ سورۃ اللہب

وظیفہ برائے نجات از شر و مکرِ اعداء

دشمن کی مکاری اور اس کے شر و نقصان سے بچاؤ کے لئے یہ وظیفہ مفید اور مؤثر ہے:

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِO {تَبَّتْ یَدَآ اَبِیْ لَهَبٍ وَّتَبَّO مَآ اَغْنٰی عَنْهُ مَالُهٗ وَمَا کَسَبَO سَیَصْلٰی نَارًا ذَاتَ لَهَبٍO وَّامْرَاَتُهٗ ط حَمَّالَۃَ الْحَطَبِO فِیْ جِیْدِهَا حَبْلٌ مِّنْ مَّسَدٍO}

11 مرتبہ، 40 مرتبہ یا حسب ضرورت 100 مرتبہ پڑھیں۔

  • اول و آخر 11، 11 مرتبہ درود شریف اور 11، 11 مرتبہ استغفار پڑھیں۔
  • اس وظیفہ کا بہتر وقت بعد از نماز فجر طلوع آفتاب سے پہلے یا بعد نماز عصر غروبِ آفتاب سے پہلے ہے۔

اس وظیفہ کو 7 دن، 11 دن، 40 دن یا حسب ضرورت جاری رکھیں۔

12۔ وظیفۂ سورۃ الاخلاص

وظیفہ برائے حصولِ اخلاص و نورِ توحید و حصولِ یقین و قوتِ ایمانی

من أراد الخلاص فعلیہ بالإخلاص

جسے خلاصی درکار ہو وہ سورۃ اخلاص کو لازم کرے

اگر دل میں حبِ دنیا ہو، غم و اندوہ کا غلبہ ہو، طبیعت میں اخلاص پیدا نہ ہوتا ہو، کاروبار میں نقصان یا دیگر خطرات کا اندیشہ ہو اور بندہ چاہے کہ دل کو ان پریشانیوں، غموں، خواہشات اور وساوس و خطرات سے خلاصی مل جائے، الله کے لئے اخلاص پیدا ہو جائے، نورِ توحید اور نورِ اخلاص نصیب ہو جائے تو اس کے لئے اس سورۃ کا وظیفہ نہایت مفید اور مؤثر ہے:

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِO {قُلْ ھُوَ اللهُ اَحَدٌo اللهُ الصَّمَدُO لَمْ یَلِدْ5 وَ لَمْ یُوْلَدْO وَ لَمْ یَکُنْ لَّهٗ کُفُوًا اَحَدٌO}

حضرت ابوہریرہ اور حضرت معاذ بن انس الجہنی رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ جس نے سورۃ اخلاص کو 10 یا 11 مرتبہ پڑھا اس کے بدلے میں الله تعالیٰ اس کے لئے جنت میں محل بنا دیتا ہے اور جو اس سے زیادہ مرتبہ پڑھے تو الله اس سے زیادہ عطا کرنے پر قادر ہے۔

سورۃ الاخلاص کے بارے میں حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: یہ ثلث قرآن یعنی تیسرے حصے کے برابر ہے اس کی تلاوت سے الله تعالیٰ کی محبت نصیب ہوتی ہے اور اس سے محبت رکھنے والے کے لئے جنت واجب ہو جاتی ہے۔

11 بار، 40 بار یا حسب ضرورت 100 بار پڑھیں۔

  • اوّل و آخر 11، 11 مرتبہ درود شریف اور 11، 11 مرتبہ استغفار پڑھیں۔
  • حسب سہولت بعد نماز فجر، بعد مغرب، بعد عشاء یا بعد تہجد کسی وقت بھی پڑھ سکتے ہیں یا تہجد کے نوافل میں 11، 11 بار پڑھیں۔

اس وظیفہ کو 7 دن، 11 دن، 40 دن یا حسب ضرورت جاری رکھیں۔

13/14۔ وظیفۂ معوّذتین

وظیفہ برائے ردِ شرّو سحر و دفعِ آفات و بلیّات

شر نظر و حسد، جادو ٹونہ، آسیب، وسوسہ، خیالات فاسدہ اور دیگر آفات و بلیّات سے بچاؤ اور برکات الہٰیہ کے حصول کے لئے معوذتین کا وظیفہ نہایت مفید اور مؤثر ہے:

اَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمO بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِO {قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِO مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَO وَ مِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَO وَ مِنْ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِی الْعُقَدِO وَ مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَO}

اَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمO {قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِO مَلِکِ النَّاسِO اِلٰہِ النَّاسِO مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ5 الْخَنَّاسِO الَّذِیْ یُوَسْوِسُ فِیْ صُدُوْرِ النَّاسِO مِنَ الْجِنَّۃِ وَ النَّاسِO}

فضیلت:

حضرت عبدالله بن حبیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول الله ﷺ نے فرمایا: جو قل ہوالله احد اور معوذتین (آخری دونوں سورتیں) صبح و شام تین تین مرتبہ پڑھے تو یہ اس کے لئے ہر قسم کی آفات و بلیّات سے حفاظت اور نجات کے لئے کافی ہے۔ ان تین سورتوں کے مثل کوئی سورت سابقہ کتب سماوی میں کسی اور نبی پر نازل نہیں ہوئی۔

حضور نبی اکرم ﷺ ہر رات سوتے وقت معوذتین پڑھ کر اپنے ہاتھوں پر پھونک کر جسم مبارک پر مسح فرماتے تھے۔

(ابن ماجہ، السنن، 2: 1275، رقم: 3875، عن عائشہ رضی الله عنہا)

11 مرتبہ، 40 مرتبہ یا حسب ضرورت 100 مرتبہ پڑھیں۔

  • اوّل و آخر 11، 11 مرتبہ درود شریف اور 11، 11 مرتبہ استغفار پڑھیں۔
  • اس وظیفہ کا بہتر وقت بعداز نماز فجر طلوع آفتاب سے پہلے تک اور بعد نماز عشاء سونے سے پہلے کا ہے۔

اس وظیفہ کو 7 دن، 11 دن، 40 دن یا حسب ضرورت جاری رکھیں۔

نوٹ: ہر رات سونے سے قبل آخری تین سورتوں (تین قل) یا چہار قل کا پڑھنا بھی موجبِ برکتِ کثیرہ ہے۔

Copyrights © 2024 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved