Shaykh-ul-Islam: Tanqeed - Karnamy - Taasuraat

پیش لفظ

پیش لفظ

سنی سنائی بات پر یقین کرنا اور اُسے آگے پھیلانا ہماری قومی عادت ہے، حالاں کہ ہم جس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کلمہ گو ہیں، اُن کی حدیث مبارکہ ہے کہ ’’کسی کے جھوٹا ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ سنی سنائی بات بلاتحقیق آگے بیان کرنے لگے۔‘‘ ہم اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت کا دَم بھی بھرتے ہیں اور اپنا طرزعمل تبدیل کرنے کے لئے آمادہ بھی نہیں ہوتے۔

ہمارا یہ قومی وطیرہ ہے کہ ایک طرف ہم محض سنی سنائی بات پر ہی بلاتحقیق ساری زندگی یقین کئے رکھتے ہیں اور دُوسرے ہم کسی کی شخصیت میں موجود تمام تر خوبیوں سے صرفِ نظر کر کے ساری زِندگی محض کسی ایک آدھ خامی کو ہی کوستے رہتے ہیں۔ یوں بہت سی عظیم شخصیات ہمارے درمیان موجود ہوتی ہیں اور ہم اُن کی زندگی میں اُن سے قومی سطح پر کوئی فائدہ حاصل نہیں کر پاتے، اَلبتہ اُن کے وفات پا جانے کے بعد اُن کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے۔

عمر بھر سنگ زنی کرتے رہے اہلِ وطن
یہ الگ بات کہ دفنائیں گے اِعزاز کے ساتھ

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی مخالفتوں کا ناقدانہ جائزہ، آپ کے عظیم تاریخ ساز کارناموں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی کی اہم شخصیات کے تاثرات پر مشتمل یہ تعارُفی کتابچہ آپ کی خدمت میں اِس لئے پیش کیا جا رہا ہے کہ شیخ الاسلام کی شخصیت، صلاحیت اور قیادت بارے حتمی رائے قائم کرنے میں آسانی ہو۔ اپنے قیمتی وقت میں سے کچھ لمحے نکال کر اِسے مکمل پڑھ لیں، جس کے بعد آپ اِس نتیجے پر پہنچیں گے کہ

  1. شیخ الاسلام نے حکومت سے باہر رہ کر حکومتوں سے زیادہ مؤثر اور منظم طریقے سے قوم کی خدمت کی ہے۔
  2. شیخ الاسلام نہ صرف پاکستان کی ڈوبتی ہوئی کشتی کو پار لگانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، بلکہ عالمی سطح پر اِسلام کے پیغامِ اَمن کو عام کرتے ہوئے دہشت گردی اور ظلم سے معمور دُنیا کو اَمن و سلامتی کا گہوارہ بنانے کا عزم بھی رکھتے ہیں۔

شیخ الاسلام نے ایسی سائنسی بنیادوں پر اِسلام کا پیغام مغربی دُنیا کے سامنے پیش کیا کہ محترمہ بینظیر بھٹو جیسے لوگوں کو یہ کہنا پڑا کہ ’’جب ڈاکٹر طاہرالقادری جیسی شخصیت اِسلام کے حوالے سے اپنا نقطۂ نظر دُنیا کے سامنے رکھتی ہے تو مجھے اِطمینان، خوشی اور فخر محسوس ہوتا ہے کہ ہم اِسلام جیسے آفاقی مذہب کے پیروکار ہیں۔‘‘

شیخ الاسلام کی تجدِیدی حکمتوں کے نتائج دیکھ کر اِسلام دُشمن طاقتیں فکر میں پڑ چکی ہیں اور وہ مسلسل نام نہاد مولویوں اور بکاؤ مال قسم کے لوگوں کو خرید کر شیخ الاسلام کے خلاف پروپیگنڈا کر کے اُنہیں ناکام کرنے کی کوشش میں لگی ہوئی ہیں، مگر اُنہیں آگاہ رہنا چاہیئے کہ اگر شیخ الاسلام کا مشن گزشتہ 30 سال سے جاری مخالفتوں کے طوفانوں میں بھی روز بروز آگے بڑھتا چلا جا رہا ہے تو یقینا اِس میں اَﷲ ربّ العزت کی مدد و نصرت اور تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خیرات شاملِ حال ہے۔ چنانچہ تحریکِ منہاج القرآن کی مخالفت میں اُنہیں اپنی عاقبت برباد نہیں کرنی چاہیئے۔

مذہبی و سیاسی ہر قسم کی رکاوٹوں کے باوُجود تحریکِ منہاج القرآن کی عالمی اُٹھان سے حسد کرنے والوں کی طرف سے بھی شیخ الاسلام کی ذات پر ملکی و غیرملکی سطح پر مخالفانہ پروپیگنڈا کی کمی نہیں۔ بقول جسٹس نسیم حسن شاہ: ’’ہمارے ملک کی یہ بہت بڑی خامی ہے کہ یہاں پڑھے لکھے اور مشنری جذبے سے کام کرنے والے اِنسانوں کی قدر نہیں ہوتی۔ اگر ڈاکٹر طاہرالقادری جیسا کوئی شخص باہر کی دُنیامیں موجود ہوتا تو اُس کا شمار صدی کے عظیم ترین لوگوں میں ضرور ہوتا، لیکن ہمارے یہاں پر جب اِنسان گزر جاتا ہے تواُس کی قدر ہوتی ہے۔‘‘

ستیزہ کار رہا ہے اَزل سے تا اِمروز
چراغِ مصطفوِی سے شرارِ بولہبی

اِس کتابچہ کو پڑھنے کے بعد اَپنے کسی عزیز کو گفٹ کر دیں۔

آپ کا یہ عمل اِحیائے اِسلام کی عالمگیر تحریک میں آپ کا حصہ تصور ہوگا۔ شکریہ

Copyrights © 2020 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved