Islam Din-e-Amn ya Din-e-Fasad?

پیش لفظ

جبر و اِستبداد اور ناحق قتل و غارت گری اِسلام میں نہ صرف حرام بلکہ بارگاہِ الٰہ میں نہایت قبیح جرم ہے۔ یہ ظلم اگر اجتماعی شکل اختیار کر لے تو معاشرہ جہنم زار بن جاتا ہے۔ دہشت گردی بھی وحشت و بربریت کی ایک انتہائی صورت ہے جس میں بسا اوقات دہشت گرد کو یہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ اس کے ہاتھ سے کون کون اور کس گناہ کے عوض موت کے گھاٹ اُترے گا۔ دہشت گردی کسی ایک ملک، قوم، خطے یا مذہب کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ آج یہ دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔

گزشتہ دو دہائیوں کے دوران پوری دنیا کے ممالک بالعموم اور مسلمان ممالک بالخصوص اس دہشت گردی کا شکار رہے ہیں۔ شومئیِ قسمت کہ دہشت گردی کا یہ مکروہ عمل اسلام کا لبادہ اُوڑھے چند درندہ صفت لوگوں کی وجہ سے دینِ اَمن و سلامتی کے لیے بدنامی کا باعث بن رہا ہے، حالاں کہ کسی فرد یا گروہ کے ذاتی عمل کو اس کی قوم، مذہب یا ملک سے ہرگز نہیں جوڑا جا سکتا۔ لیکن نہایت افسوس بلکہ نا اِنصافی کی بات ہے کہ جہالت یا محرومیوں کی کوکھ سے جنم لینے والے اِس عملِ بد کو اِسلام سے نتھی کیا جا رہا ہے۔

اِس سے بھی اَلم ناک بات یہ ہے کہ اِسلام جس کا معنی ہی سلامتی والا دین ہے، جس کے پیغمبر کا لقب ہی رحمت للعالمین ﷺ ہے اور جس کے پیروکار کو مسلمان یعنی سلامتی دینے والا کہا جاتا ہے، اُسے محض مٹھی بھر شرپسند عناصر کی حماقتوں کی بنا پر دہشت گردی کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے۔

حاسدین و معاندین اور اسلام دشمن قوتوں کی طرف سے لگائے گئے اِس بدنما دھبے کو صاف کرنے کے لیے متعدد اَفراد اور اِدارے اپنے اپنے انداز میں کام کر رہے ہیں۔ مگر اللہ رب العزت کی کرم نوازی اور آقائے دو جہاں ﷺ کے نعلین پاک کے تصدق سے جو عملِ خیر تحریکِ منہاج القرآن کے حصے میں آیا ہے، وہ باعثِ تشکر و اِمتنان ہے۔ یہ تحریک اسلام کے اَمن پسندی، رواداری اور تحمل مزاجی کے حقیقی تاثر کو دنیا بھر میں اُجاگر کر رہی ہے۔ عصرِ حاضر کی یہ تجدیدی تحریک دنیا بھر میں فکری و نظریاتی محاذ پر دفاعِ اسلام کی جنگ لڑ رہی ہے اور اس صدی کے سب سے بڑے فتنے کو کچلنے میں کوشاں ہے۔

زیر نظر تالیف - ’اِسلام: دینِ اَمن یا دینِ فساد‘ - بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اسے دہشت گردی کے خلاف تحریر کیے گئے متبادل بیانیہ (Counter-Narrative) میں اہم حیثیت اور مقام حاصل ہے۔ اس کی خاص بات یہ ہے کہ اسے آسان، عام فہم اور سلیس انداز میں سوالاً جواباً تیار کیا گیا ہے۔ بنیادی طور پر اسے دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے: پہلے حصے میں دہشت گردی کے حوالے سے ذہن میں اُبھرنے والے عمومی سوالات کے جوابات قرآن مجید، احادیث نبویہ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم و ائمہ سلف کے اقوال کے ذریعے دیے گئے ہیں تاکہ یہ تصور واضح ہو جائے کہ اسلام کاملاً امن و سلامتی اور انسان دوستی کے تصور پر مبنی دین ہے اور اس میں کسی بھی قسم کے دہشت گردانہ افکار اور اعمال کی قطعا کوئی گنجائش نہیں ہے۔

کتاب کا دوسرا حصہ عصر حاضر کے خوارج کی بدترین شکل یعنی فتنۂ داعش (ISIS) سے متعلق ہے۔ ابتداء میں داعش کا بھیانک کردار احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں واضح کیا گیا ہے۔ بعد ازاں اِن کی علامات، ان کے ظہور کے علاقے، ان کے ہاتھوں بپا ہونے والی تباہی، اِن کے خلاف جہاد کرنے اور اِنہیں نیست و نابود کر دینے سے متعلق تفصیل احادیثِ مبارکہ سے بیان کی گئی ہے، تاکہ یہ بات واضح ہو جائے کہ اسلام کا لبادہ اوڑھے یہ درندے ہرگز اسلام کے پیروکار نہیں بلکہ اسلام اور انسانیت کے دشمن ہیں۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق ایسے شر پسند عناصر کا خاتمہ نہایت ضروری ہے۔

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی مختلف کتب اور خطابات سے تیار کردہ اِس تالیف میں دہشت گردی کے حوالے سے عوام کے ذہن میں اُبھرنے والے سوالات کے جوابات اِسلام کی حقیقی تعلیمات کی روشنی میں کچھ ایسے بیان کیے گئے ہیں کہ کتاب کے مطالعے کے بعد قاری کو نفسِ مسئلہ پر اِنشراح و اِنفتاحِ صدر حاصل ہو جاتا ہے۔

زیرِ بحث مسئلہ پر تفصیلی مطالعہ کے لیے شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کا پیش کردہ ’فروغِ اَمن اور اِنسدادِ دہشت گردی کا اِسلامی نصاب‘ اور بالخصوص دہشت گردی اور فتنہ خوارج پر جاری کردہ مبسوط تاریخی فتویٰ اور ’مسلمانوں اور غیر مسلموں کے باہمی تعلقات‘ کو ملاحظہ کیا جائے۔ (نصاب کی تمام کتب کی فہرست آخر میں درج کی گئی ہے۔)

اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ اِس کاوش کو اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت بخشے، اُمتِ مسلمہ کو دین کا حقیقی فہم عطا فرمائے اور اسے صراطِ مستقیم پر چلنے کی توفیق مرحمت فرمائے۔ (آمین بجاہ سید المرسلین ﷺ)

(اَجمل علی مجددی)
رِیسرچ اسکالر، FMRi
یکم رمضان 1438ھ

Copyrights © 2020 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved