المنہاج السوی من الحدیث النبوی

آداب اور معاملات

اَلْبَابُ الْخَامِسُ عَشَرَ: الآدَابُ وَالْمُعَامَلَةُ

(آداب اور معاملات)

1. فَصْلٌ فِي آدَابِ اللِّقَاءِ وَالسَّلَامِ

(ملاقات اور سلام کے آداب کا بیان)

2. فَصْلٌ فِي آدَابِ حُسْنِ الْکَلَامِ

(آدابِ گفتگو کا بیان)

3. فَصْلٌ فِي آدَابِ الشُّرْبِ وَالطَّعَامِ

(کھانے پینے کے آداب کا بیان)

4. فَصْلٌ فِي مُعَامَلَةِ الْمُؤْمِنِ بِالْمُؤْمِنِ

( مومن کے مومن کے ساتھ معاملات کا بیان)

5. فَصْلٌ فِي آدَابِ اللِّبَاسِ

(آدابِ لباس کا بیان)

6. فَصْلٌ فِي آدَابِ الْمَجْلِسِ وَالْجُلُوْسِ

(مجلس میں بیٹھنے کے آداب کا بیان)

7. فَصْلٌ فِي آدَابِ السَّفَرِ

(آدابِ سفر کا بیان)

8. فَصْلٌ فِي آدَابِ الْأَمْوَاتِ وَالْجَنَائِزِ

(مرحومین اور جنازہ کے آداب کا بیان)

9. فَصْلٌ فِي جَامِعِ الآدَابِ

(جامع آداب کا بیان)

فَصْلٌ فِي آدَابِ اللِّقَاءِ وَالسَّلَامِ

(ملاقات اور سلام کے آداب کا بیان)

935 / 1. عَنْ عَائِشَةَ رضی الله عنها أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ لَهَا: يَا عَائِشَةُ! هَذَا جِبْرِيْلُ يَقْرَأُ عَلَيْکِ السَّلَامُ. فَقَالَتْ: وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَکَاتُهُ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

الحديث رقم 1: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: بدء الخلق، باب: ذکر الملائکةِ، 3 / 1177، الرقم: 3045، وفي کتاب: فضائل الصحابة، باب: فضل عائشة رضی الله عنها، 3 / 1374، الرقم: 3557، وفي کتاب: الأدب، باب: مَن دعا صاحبه فنقص من اسمه حرفا، 5 / 2291، الرقم: 5848؛ وفي کتاب: الاستئذان، باب: تسليم الرجال علي النساء، والنساء علي الرجال، 5 / 2306، الرقم: 5895، وفي باب: إذا قال: فلانٌ يُقرئک السلام، 5 / 2307، الرقم: 5898، ومسلم في الصحيح، کتاب: فضائل الصحابة، باب: في فضل عائشة رضی الله عنها، 4 / 1895، الرقم: 2447، والترمذي في السنن، کتاب: المناقب عن رسول اللہ ﷺ، باب: فضل عائشة رضی الله عنها، 5 / 705، الرقم: 3882، وقال أبوعيسي: هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ، وأَبوداود في السنن، کتاب: الأدب، باب: في الرجل يقول فلان يقرئک السلام، 4 / 359، الرقم: 5232، والنسائي في السنن، کتاب: عشرة النساء، باب: حب الرجل بعض نسائه أکثر من بعض، 7 / 69، الرقم: 3953، وابن حبان في الصحيح، 16 / 11، الرقم: 7098، والدارمي في السنن، 2 / 359، الرقم: 2638.

’’حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ مجھے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ! یہ جبرئیل تمہیں سلام کہتے ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اور ان پر بھی سلام ہو اور اللہ تعالیٰ کی رحمت اور برکتیں نازل ہوں۔‘‘

936 / 2. عَنْ عَبْدِ اللهِ ابْنِ عَمْرٍو رضی الله عنهما أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ ﷺ: أَيُّ الإِسْلَامِ خَيْرٌ؟ قَالَ: تُطْعِمُ الطَّعَامَ، وَتَقْرَأُ السَّلَامَ عَلَی مَنْ عَرَفْتَ وَمَنْ لَمْ تَعْرِفْ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

الحديث رقم 2: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: الإيمان، باب: إطعام الطعام مِنَ الإسلام، 1 / 13، الرقم: 12، وفي باب: إفشاء السلام مِن الإسلام، 1 / 19، الرقم: 28، وفي کتاب: الاستئذان، باب: السلام للمعرفة وغير المعرفة، 5 / 2302، الرقم: 5882، ومسلم في الصحيح، کتاب: الإيمان، باب: بيان تفاضل الإسلام ونصف أموره أفضل، 1 / 65، الرقم: 39، وأبو داود في السنن، کتاب: الأدب، باب: في إفشاء السلام، 4 / 350، الرقم: 5194، والنسائي في السنن، کتاب: الإيمان وشرائعه، باب: أي الإسلام خير، 8 / 107، الرقم: 5000، وابن ماجه في السنن، کتاب: الأطعمة، باب: سنان الطعام، 2 / 1083، الرقم: 3253.

حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے سوال کیا: یا رسول اللہ! سب سے بہتر اسلام (میں عمل) کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (بہتر اسلام یہ ہے کہ) تم (دوسروں کو) کھانا کھلاؤ اور (ہر ایک کو) سلام کرو، خواہ تم اسے جانتے ہو یا نہیں جانتے۔‘‘

937 / 3. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه، قاَلَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: يُسَلِّمُ الرَّاکِبُ عَلَی الْمَاشِي، وَالْمَاشِي عَلَی الْقَاعِدِ، وَالْقَلِيْلُ عَلَی الْکَثِيرِ.

مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وفي رواية للبخاري: وَالصَّغِيْرُ عَلَی الْکَبِيْرِ.

الحديث رقم 3: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: الاستئذان، باب: تسليم القليل علي الکثير، 5 / 2301، الرقم: 5877 - 5878، وفي باب: يسلم الماشي علي القاعد، 15 / 2302، الرقم: 5879 - 5880، ومسلم في الصحيح، کتاب: السلام، باب: يسلم الراکب علي الماشي والقليل علي الکثير، 4 / 1703، الرقم: 2160، والترمذي في السنن، کتاب: الاستئذان والآداب عن رسول اللہ ﷺ، باب: ماجاء في تسليم الراکب علي الماشي، 5 / 61 - 62، الرقم: 2703 - 2705، وقال أبوعيسي: هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ، وأبو داود في السنن، کتاب: الأدب، باب: من أولي بالسلام، 4 / 351، الرقم: 5198 - 5199، وابن حبان في الصحيح، 2 / 251، الرقم: 498، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 / 325، الرقم: 8295.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سوار پیدل چلنے والے کو سلام کرے، پیدل چلنے والا بیٹھے ہوئے کو سلام کرے، اور تھوڑے آدمی زیادہ تعداد والوں کو سلام کریں۔‘‘

اور امام بخاری کی ایک اور روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں: ’’چھوٹا بڑے کو سلام کرے۔‘‘

938 / 4. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: لَا تَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ حَتَّی تُؤْمِنُوْا وَلَا تُؤْمِنُوْا حَتَّی تَحَابُّوْا، أَوَلَا أَدُلُّکُمْ عَلَی شَيءٍ إِذَا فَعَلْتُمُوْهُ تَحَابَبْتُمْ؟ أَفْشُوْا السَّلَامَ بَيْنَکُمْ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَالتِّرْمِذِيُّ.

وَقَالَ أَبُوْعِيْسَي: هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ.

الحديث رقم 4: أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب: الإيمان، باب: بيان أنه لا يدخل الجنة إلا المؤمنون وأن محبة المؤمنين من الإيمان وأن إفشاء السلام سبب لحصولها، 1 / 74، الرقم: 54، والترمذي في السنن، کتاب: الاستئذان والآداب عن رسول اللہ ﷺ، باب: ماجاء في إفشاء السلام، 5 / 52، الرقم: 2688، وأبوداود في السنن، کتاب: الأدب، باب: في إفشاء السلام، 4 / 350، الرقم: 5193، وابن ماجه في السنن، المقدمة، باب: في الإيمان، 1 / 26، الرقم: 68، وفي کتاب: الأدب، باب: إِفشاء السلام، 2 / 1217، الرقم: 3692، وابن حبان في الصحيح، 1 / 47، الرقم: 236، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 / 512، الرقم: 10658، وأبوعوانة في المسند، 1 / 38، الرقم: 83، وابن أبي شبية في المصنف، 5 / 248، الرقم: 25742، والبيهقي في شعب الإيمان، 6 / 423، الرقم: 8745، وابن منده في الإيمان، 1 / 463، الرقم: 330.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم جنت میں اس وقت تک داخل نہیں ہوگے جب تک تم ایمان نہ لاؤ، اور تم اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے جب تک تم ایک دوسرے سے محبت نہ کرو۔ کیا میں تمہیں ایک ایسی چیز نہ بتاؤں جس پر تم عمل کرو تو ایک دوسرے سے محبت کرنے لگو؟ (اور وہ عمل یہ ہے کہ) اپنے درمیان سلام کو پھیلایا کرو (یعنی کثرت سے ایک دوسرے کو سلام کیا کرو)۔‘‘

939 / 5. عَنْ جَابِرِ بْنِ سُلَيْمٍ رضی الله عنه قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ، فَقُلْتُ: عَلَيْکَ السَّلَامُ يَا رَسُوْلَ اللهِ! قَالَ: لَا تَقُلْ عَلَيْکَ السَّلَامُ، فَإِنَّ عَلَيْکَ السَّلَامُ تَحِيَةُ الْمَوْتَي. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْدَاوُدَ وَاللَّفْظُ لَهُ.

وَقَالَ أَبُوْعِيْسَي: هَذَا حَدَيْثٌ حَسَنٌصَحِيْحٌ.

الحديث رقم 5: أخرجه الترمذي في السنن، کتاب: الاستئذان والآداب عن رسول اللہ ﷺ، باب: ماجاء في کراهية أن يقول: عليک السلام مبتدئا، 5 / 71، الرقم: 2721، وأبوداود في السنن، کتاب: الأدب، باب: کراهية أن يقول عليک السلام، 4 / 353، الرقم: 5209، والنسائي في السنن الکبري، 6 / 87، الرقم: 10149، والحاکم في المستدرک، 4 / 206، الرقم: 7382، وقال: هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 482، وابن أبي شيبة في المصنف، 5 / 166، الرقم: 24822.

’’حضرت جابر بن سُلیم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: علیک السلام یارسول اللہ ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: علیک السلام نہ کہو، یہ مُردوں کا سلام ہے (بلکہ السلام علیکم کہا کرو)۔‘‘

940 / 6. عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: أَنَّ أَوْلَي النَّاسِ بِاللهِ تَعَالیٰ مَنْ بَدَأَهُمْ بِالسَّلاَمِ. رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَالْبَيْهَقِيُّ.

الحديث رقم 6: أخرجه أبوداود في السنن، کتاب: الأدب، باب: في فضل من بدأ بالسلام، 4 / 351، الرقم: 5197، والبيهقي في شعب الإيمان، 6 / 433، الرقم: 8787، والمنذري في الترغيب والترهيب، 3 / 286، الرقم: 4094.

’’حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں میں سے اللہ تعالیٰ کے زیادہ قریب وہ شخص ہے جو لوگوں کو سلام کرنے میں پہل کرے۔‘‘

941 / 7. عَنْ أُسَامَةَ رضی الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ مَرَّ عَلَی مَجْلِسٍ فِيْهِ أَخْلَاطٌ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ وَالْمُشْرِکِيْنَ . . . عَبْدَةِ الْأَوْثَانِ وَالْيَهُوْدِ . . . فَسَلَّمَ عَلَيْهِمُ النَّبِيُّ ﷺ . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

الحديث رقم 7: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: الاستئذان، باب: التسليم في مجلس فيه أخلاط من المسلمين والمشرکين، 5 / 2307، الرقم: 5899، وفي کتاب: تفسير آل عمران، باب: وَلَتَسْمَعُنَّ مِن الَّذِيْنَ أوتوُ الکِتَابَ مِنْ قَبْلِکُم وَمِنَ الَّذِيْنَ أَشْرَکُوْا أَذَي کَثِيرْاً: (186)، 4 / 1663، الرقم: 4290، وفي کتاب: المرضي، باب: عيادة المريض راکبا وماشيا وردفا علي الحمار، 5 / 2143، الرقم: 5339، وفي کتاب: الأدب، باب: کنية المشرک، 5 / 2292، الرقم: 5854، ومسلم في الصحيح، کتاب: الجهاد والسير، باب: في دعاء النبي ﷺ وصبره علي أذي المنافقين، 3 / 1422، الرقم: 1798، والترمذي في السنن، کتاب: الاستئذان والآداب عن رسول اللہ ﷺ، باب: ماجاء في السلام علي مجلس فيه المسلمون وغيرهم، 5 / 61، الرقم: 2702، وَقَالَ أَبوعِيسَي: هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ، والنسائي في السنن الکبري، 4 / 356، الرقم: 7502، وأحمد بن حنبل في المسند، 5 / 203، الرقم: 21815.

’’حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک ایسی مجلس کے پاس سے گزرے جس میں مسلمان، مشرک، بت پرست اور یہودی سبھی جمع تھے تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں سلام کیا۔‘‘

942 / 8. عَنْ کَلَدَةَ بْنِ حَنْبَلٍ رضی الله عنه، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ وَلَمْ أُسَلِّمْ، فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: ارْجِعْ، فَقُلْ: السَّلَامُ عَلَيْکُمْ أَ أَدْخُلُ؟

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْدَاوُدَ.

وَقَالَ أَبُوْعِيْسَي هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ.

الحديث رقم 8: أخرجه الترمذي في السنن، کتاب: الاستئذان والآداب عن رسول اللہ ﷺ، باب: ماجاء في التسليم قبل الاستئذان، 5 / 64، الرقم: 2710، وأبو داود في السنن، کتاب: الأدب، باب: کيف الاستئذان، 4 / 344، الرقم: 5176، والنسائي في السنن الکبري، 4 / 169، الرقم: 6735: 6 / 87، الرقم: 10147، والبخاري في الأدب المفرد، 1 / 371، الرقم: 1081، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 414، والبيهقي في السنن الکبري، 8 / 339، والشيباني في الآحاد والمثاني، 2 / 96، الرقم: 794.

’’حضرت کلدہ بن حنبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس اندر داخل ہوا اور سلام نہ کیا تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوٹ جاؤ اور کہو: السلام علیکم، کیا میں داخل ہو سکتا ہوں؟‘‘

943 / 9. عَنْ أَنَسٍ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ لِي رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: يَا بُنَيَّ! إِذَا دَخَلْتَ عَلَی أَهْلِکَ، فَسَلِّمْ، يَکُنْ بَرَکَةً عَلَيْکَ وَعَلَی أَهْلِ بَيْتِکَ.

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

وَقَالَ أَبُوْعِيْسَي: هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ.

الحديث رقم 9: أخرجه الترمذي في السنن، کتاب: الاستئذان والآداب عن رسول اللہ ﷺ، باب: ما جاء في التسليم إذا دخل بيته، 5 / 59، الرقم: 2698، والطبراني في المعجم الأوسط، 6 / 123، الرقم: 5991، وفي المعجم الصغير، 2 / 102، الرقم: 856، والمنذري في الترغيب والترهيب، 2 / 305، الرقم: 2409.

’’حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں فرمایا: بیٹے! جب گھر میں داخل ہو تو گھر والوں کو سلام کیا کرو، یہ تمہارے لئے اور تمہارے اہلِ خانہ کے لئے باعثِ برکت ہو گا۔‘‘

944 / 10. عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ ﷺ: إِذَا سَلَّمَ عَلَيْکُمْ أَهْلُ الْکِتَابِ فَقُوْلُوْا: وَعَلَيْکُمْ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

الحديث رقم 10: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: الاستئذان، باب: کيف الردّ علي أهل الذمة بالسلام، 5 / 2309، الرقم: 5903، ومسلم في الصحيح، کتاب: السلام، باب: النهي عن ابتداء أهل الکتاب بالسلام وکيف يرد عليهم، 4 / 1705، الرقم: 2163، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 99، الرقم: 11944، وأبو يعلي في المسند، 5 / 295، الرقم: 2916، والبيهقي في شعب الإيمان، 6 / 512، الرقم: 9102، والمنذري في الترغيب والترهيب، 3 / 292، الرقم: 4127.

’’حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اہل کتاب میں سے کوئی تمہیں سلام کہے تو تم یوں کہو: (وَ عَلَيْکُمْ) اور تم پر بھی۔‘‘

945 / 11. عَنْ جَرِيْرٍ رضی الله عنه قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ ﷺ عَلَی نِسْوَةٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِنَّ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ.

الحديث رقم 11: أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 3 / 358، الرقم: 19367: 3 / 363، الرقم: 19426، والطبراني نحوه في المعجم الأوسط، 4 / 118، الرقم: 3759، والخطيب التبريزي في مشکاة المصابيح، 2 / 164، الرقم: 4647.

’’حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کچھ عورتوں کے پاس سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں سلام کیا۔‘‘

946 / 12. عَنْ قَتَادَةَ قَالَ: قُلْتُ لِأَنَسٍ رضی الله عنه: أَکَانَتِ الْمُصَافَحَةُ فِي أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ؟ قَالَ: نَعَمْ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَابْنُ حِبَّانَ.

الحديث رقم 12: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: الاستئذان، باب: المصافحة، 5 / 2311، الرقم: 5908، وابن حبان في الصحيح، 2 / 245، الرقم: 492، وأبويعلي في المسند، 5 / 252، الرقم: 2871، والبيهقي في السنن الکبري، 7 / 99، الرقم: 13346، وفي شعب الإيمان، 6 / 471، الرقم: 8942، والمنذري في الترغيب والترهيب، 3 / 291، الرقم: 4121.

’’حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے عرض کیا: کیا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ میں مصافحہ مروّج تھا؟ انہوں نے فرمایا: ہاں۔‘‘

947 / 13. عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَلْتَقِيَانِ فَيَتَصَافَحَانِ، إِلاَّ غُفِرَ لَهُمَا قَبْلَ أَنْ يَفْتَرِقَا.

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْدَاوُدَ.

وَقَالَ أَبُوْعِيْسَي: هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ.

الحديث رقم 13: أخرجه الترمذي في السنن، کتاب: الاستئذان والآداب عن رسول اللہ ﷺ، باب: ماجاء في المصافحة، 5 / 74، الرقم: 2727، وأبوداود في السنن، کتاب: الأدب، باب: في المصافحة، 4 / 354، الرقم: 5211 - 5212، وابن ماجه في السنن، کتاب الأدب، باب: المصافحة، 2 / 1220، الرقم: 3703، وأحمد بن حنبل في المسند، 4 / 289، 303، وابن أبي شيبة في المصنف، 5 / 246، الرقم: 25717، والبيهقي في السنن الکبري، 7 / 99، الرقم: 13349، والمنذري في الترغيب والترهيب، 3 / 289، الرقم: 4110.

’’حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب بھی دو مسلمان آپس میں ملتے ہیں اور مصافحہ کرتے ہیں تو علیحدہ ہونے سے پہلے ہی ان کے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۔‘‘

948 / 14. عَنْ عَائِشَةَ رضی الله عنها قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ مُسْتَجْمِعًا قَطُّ ضَاحِکًا حَتَّی أَرَي مِنْهُ لَهَوَاتِهِ، إِنَّمَا کَانَ يَتَبَسَّمُ.

مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

الحديث رقم 14: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: الأدب، باب: التبسم والضَّحِکِ، 5 / 2261، الرقم: 5741، وفي کتاب: التفسير / الأحقاف، باب: قوله: فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًا مُسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِهِمْ قَالُوا هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا بَلْ هُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُمْ بِهِ رِيْحٌ فِيْهَا عَذَابٌ اِلَيْمٌ: (24، 4 / 1827، الرقم: 4551، ومسلم في الصحيح، کتاب: صلاة الاستسقاء، باب: التعوذ عند رؤية الريح والغيم والفرح بالمطر، 2 / 616، الرقم: 899، وأبوداود في السنن، کتاب: الأدب، باب: مايقول إذا هاجت الريح، 4 / 326، الرقم: 5098، والبخاري في الأدب المفرد، 1 / 97، الرقم: 251، وأحمد بن حنبل في المسند، 6 / 66، الرقم: 24414، والحاکم في المستدرک، 2 / 495، الرقم: 3700.

’’حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کبھی اس طرح کھل کر (یعنی قہقہ لگا کر) ہنستے نہیں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حلق مبارک بھی دیکھ لیتی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صرف مسکرایا کرتے تھے۔‘‘

949 / 15. عَنْ جَرِيْرٍ رضی الله عنه قَالَ: مَا حَجَبَنِي النَّبِيُّ ﷺ مُنْذُ أَسَلَمْتُ، وَلاَ رَآنِي إِلاَّ تَبَسَّمَ فِي وَجْهِي. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

الحديث رقم 15: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: الجهاد، باب: مَن لا يَثْبُتُ علي الخَيْلِ، 3 / 1104، الرقم: 2871، وفي کتاب: الأدب، باب: التبسم والضحک، 5 / 2260، الرقم: 5739، ومسلم في الصحيح، کتاب: فضائل الصحابةث، باب: من فضائل جرير بن عبد اللہ رضی الله عنه، 4 / 1925، الرقم: 2475، والترمذي في السنن، کتاب: المناقب عن رسول اللہ ﷺ، باب: مناقب جرير بن عبد اللہ البجلي رضی الله عنه، 5 / 679، الرقم: 3821، وقال أبوعيسي: هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ، وابن ماجه في السنن، المقدمة، باب: فضل جرير بن عبد اللہ البجلي، 1 / 56، الرقم: 159، والطبراني في المعجم الکبير، 2 / 293، الرقم: 2219.

’’حضرت جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب سے میں دائرہ اسلام میں داخل ہوا اس وقت سے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھ سے جب بھی پردہ میں ہوئے یا مجھے دیکھا، میرے سامنے ضرور مسکرائے۔ (یعنی کسی قسم کا کوئی حجاب نہیں رکھا، جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے دیکھتے تو چہرہ انور تبسم ریز ہو جاتا)۔‘‘

950 / 16. عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ رضی الله عنه قَالَ: مَا رَأَيتُ أَحَدًا أَکْثَرَ تَبَسُّمًا مِنْ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَحْمَدُ.

وَقَالَ أَبُوْعِيسَي: هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ.

الحديث رقم 16: أخرجه الترمذي في السنن، کتاب: المناقب عن رسول اللہ ﷺ، باب: في بشاشة النبي ﷺ، 5 / 601، الرقم: 3641، وأحمد بن حنبل في المسند، 4 / 191، والبيهقي في شعب الإيمان، 6 / 251، الرقم: 8047، والمقدسي في الأحاديث المختارة، 9 / 205، الرقم: 189، وابن المبارک في الزهد، 1 / 47، الرقم: 145.

’’حضرت عبد اللہ بن حارث بن جزء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے زیادہ (خوبصورت) مسکرانے والا کوئی نہیں دیکھا۔‘‘

فَصْلٌ فِي آدَابِ حُسْنِ الکَلَامِ

(آدابِ گفتگو کا بیان)

951 / 17. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَعَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ رضی الله عنهم قَالَا: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْکُهُ مَا لَايَعْنِيْهِ.

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه وَمَالِکٌ.

الحديث رقم 17: أخرجه الترمذي في السنن، کتاب: الزهد، باب: فيمن تکلم بکلمة يضحک بها الناس، 4 / 558، الرقم: 2317 - 2318، وابن ماجه في السنن، کتاب: الزهد، باب: کف اللسان في الفتنة، 2 / 1315، الرقم: 3976، ومالک في الموطأ، 2 / 903، الرقم: 1604، وابن حبان في الصحيح، 1 / 466، الرقم: 229، وأحمد بن حنبل في المسند، 1 / 201، الرقم: 1737.

’’حضرت ابوہریرہ اور حضرت علی بن حسین (یعنی امام زین العابدین) رضی اللہ عنھم روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی شخص کے اسلام کی خوبصورتی یہ ہے کہ وہ بے فائدہ چیزوں کو ترک کر دے۔‘‘

952 / 18. عَنْ عَبْدِ اللهِ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: لَيْسَ المُؤْمِنُ بِالطَّعَّانِ وَلَا اللَّعَّانِ وَلَا الْفَاحِشِ وَلَا الْبَذِيئِ.

رَوَهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ حِبَّانَ وَالْحَاکِمُ.

وَقَالَ أَبُوْعِيْسَي: هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ.

الحديث رقم 18: أخرجه الترمذي في السنن، کتاب: البر والصلة عن رسول اللہ ﷺ، باب: ما جاء في اللعنة، 4 / 350، الرقم: 1977، والبخاري في الأدب المفرد، 1 / 116، الرقم: 312، 332، وابن حبان في الصحيح، 1 / 421، الرقم: 192، والحاکم في المستدرک، 1 / 57، الرقم: 29: وَ قَالَ الْحَاکِمُ: هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ، والبزار في المسند، 4 / 330، الرقم: 1523، والبيهقي في السنن الکبري، 10 / 193.

’’حضرت عبد اللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی بھی مومن بہت زیادہ طعنہ زنی کرنے والا، بہت زیادہ لعنت کرنے والا، بہت زیادہ بداخلاق اور فحش گوئی کرنے والا نہیں ہوتا۔‘‘

953 / 19. عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضي اللهُ عنهما قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ ﷺ: لَا يَکُوْنُ الْمُؤْمِنُ لَعَّانًا. وفي رواية: لَا يَنْبَغِي لِلْمُؤْمِنِ أَنْ يَکُوْنَ لَعَّانًا.

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالْبُخَارِيُّ فِي الْأَدَب وَالْحَاکِمُ.

وَقَالَ أَبُوْعِيْسَي: هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ.

الحديث رقم 19: أخرجه الترمذي في السنن، کتاب: البر والصلة عن رسول اللہ ﷺ، باب: ما جاء في اللعن والطعن، 4 / 371، الرقم: 2019، والبخاري في الأدب المفرد، 1 / 116، الرقم: 309، والحاکم في المستدرک، 1 / 110، الرقم: 145، والبيهقي في شعب الإيمان، 4 / 293، الرقم: 5151، وابن أبي عاصم في السنة، 2 / 488.

’’حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مومن لعنت کرنے والا نہیں ہوتا۔ ایک روایت میں ہے کہ مومن کی یہ شان نہیں کہ وہ بہت زیادہ لعنت کرنے والا ہو۔‘‘

954 / 20. عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: إِذَا رَأَيْتُمُ الْمَدَّاحِيْنَ، فَاحْثُوْا فِي وُجُوْهِهِمُ التُّرَابَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَالتِّرْمِذِيُّ.

الحديث رقم 20: أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب: الزهد والرقائق، باب: النهي عن المدح إذا کان فيه إفراط وخيف منه فتنة علي الممدوح، 4 / 2297، الرقم: 3002، والترمذي في السنن، کتاب: الزهد عن رسول اللہ ﷺ، باب: ما جاء في کراهية المدحة والمداحين، 4 / 518، الرقم: 2393، وأبو داود في السنن، کتاب: الأدب، باب: في کراهية التمادح، 4 / 254، الرقم: 4804، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 / 94، الرقم: 5684، والبزار في المسند، 6 / 37، الرقم: 2106، وابن أبي شيبة في المصنف، 5 / 297، الرقم: 26260.

’’حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم خوشامد کرنے والوں کو دیکھو تو ان کے منہ میں مٹی ڈال دو۔‘‘

955 / 21. عَنْ أَنَسٍ رضی الله عنه عَنِ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّهُ کَانَ إِذَا تَکَلَّمَ بِکَلِمَةٍ أَعَادَهَا ثَلَاثًا حَتَّی تُفْهَمَ عَنْهُ، وَإِذَا أَتَي عَلَی قَوْمٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ ثَلَاثًا.

رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَالتِّرْمِذِيُّ.

وَقَالَ أَبُوْعِيْسَي: هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ.

الحديث رقم 21: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: العلم، باب: مَن أعاد الحديث ثلاثا لِيُفْهَمَ عَنه، 1 / 48، الرقم: (95)، وفي کتاب: الاستئذان، باب: التسليم والاستئذان ثلاثا، 5 / 2305، الرقم: 5890، والترمذي في السنن، کتاب: الاستئذان والآداب عن رسول اللہ ﷺ، باب: ماجاء في کراهية أن يقول عليک السلام مبتدئا، 5 / 72، الرقم: 2723، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 213، الرقم: 13244، والحاکم في المستدرک، 4 / 304، الرقم: 7716، وَقَالَ: هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ.

’’حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کلام فرماتے تو اپنی بات کو تین مرتبہ دہراتے تھے تاکہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات (اچھی طرح) سمجھ سکیں اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی جماعت کے پاس تشریف لے جاتے اور انہیں سلام کہتے تو تین مرتبہ سلام کہتے (یہ سلام گھر میں داخل ہونے کی اجازت لینے کے لئے ہوتا ویسے کسی شخص کو سلام کہنا ہو تو ایک مرتبہ ہی کافی ہے)۔‘‘

956 / 22. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ: لَا يَنْبَغِي لِصِدِّيْقٍ أَنْ يَکُوْنَ لَعَّانًا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَالتِّرْمِذِيُّ.

الحديث رقم 22: أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب: البر والصلة والآداب، باب: النهي عن لعن الدوابّ وغيرها، 4 / 2005، الرقم: 2597، والترمذي نحوه في السنن، کتاب: البر والصلة عن رسول اللہ ﷺ، باب: ما جاء في اللّعن والطّعن، 4 / 325، الرقم: 2019، والبيهقي في السنن الکبري، 10 / 193، وفي شعب الإيمان، 4 / 293، الرقم: 5151، والديلمي في مسند الفردوس، 5 / 136، الرقم: 7735، والمنذري في الترغيب والترهيب، 3 / 312، الرقم: 4211.

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی (اچھے) دوست کو بہت لعن طعن کرنے والا نہیں ہونا چاہئے۔‘‘

957 / 23. عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رضی الله عنه قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ يَقُوْلُ: إِنَّ اللَّعَّانِيْنَ لَا يَکُوْنُوْنَ شُهَدَاءَ وَلَا شُفَعَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.

رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَأَحْمَدُ.

الحديث رقم 23: أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب: البر والصلة والآداب، باب: النهي عن لعن الدواب وغيرها، 4 / 2006، الرقم: 2598، وأحمد بن حنبل في المسند، 6 / 448، الرقم: 27569، والبخاري في الأدب المفرد، 1 / 117، الرقم: 316، وابن حبان في الصحيح، 13 / 56، الرقم: 5746، والبيهقي في السنن الکبري، 10 / 193.

’’حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بہت زیادہ لعن طعن کرنے والے لوگ قیامت کے دن نہ گواہی دینے والے ہوں گے اور نہ شفاعت کرنے والے ہوں گے۔‘‘

958 / 24. عَنْ أُمِّ کُلْثُوْمٍ بِنْتِ عُقْبَةَ رضی الله عنها قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ: لَيْسَ الْکَذَّابُ الَّذِي يُصْلِحُ بَيْنَ النَّاسِ، فَيَنْمِي خَيْرًا أَوْ يَقُوْلُ خَيْرًا.

مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

الحديث رقم 24: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: الصلح، باب: ليس الکاذب الذي يصلح بين الناس، 5 / 958، الرقم: 2546، ومسلم في الصحيح، کتاب: البر والصلة والآداب، باب: تحريم الکذب وبيان المباح منه، 4 / 2011، الرقم: 2605، وابن حبان في الصحيح، 13 / 40، الرقم: 5733، وأحمد بن حنبل في المسند، 6 / 403، الرقم: 27313، والطبراني في المعجم الکبير، 25 / 76، الرقم: 188.

’’حضرت اُمّ کلثوم بنت عقبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ شخص جھوٹا نہیں جو (جھوٹ بول کر) لوگوں کے درمیان صلح کرواتا ہے پس (اس صلح کے لئے وہ فریقین کو ایک دوسرے کے بارے میں) بھلائی کی بات کہتا ہے۔‘‘

959 / 25. عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رضی الله عنه عَنْ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ قَالَ: مَنْ يَضْمَنْ لِي مَا بَيْنَ لَحْيَيْهِ وَمَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ أَضْمَنْ لَهُ الْجَنَّةَ.

رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَالتِّرْمِذِيُّ.

الحديث رقم 25: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: الرقاق، باب: حفظ اللسان، 5 / 2376، الرقم: 6109، والترمذي في السنن، کتاب: الزهد عن رسول اللہ ﷺ، باب: ماجاء في حفظ اللسان، 4 / 606، الرقم: 2408، ومالک في الموطأ، 2 / 987، الرقم: 1787، وأحمد بن حنبل في المسند، 5 / 333، الرقم: 22874.

’’حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو مجھے اپنے دونوں جبڑوں کے درمیان (یعنی اپنی زبان) اور دونوں ٹانگوں کے درمیان (یعنی اپنی شرم گاہ کی حفاظت) کی ضمانت دے تو میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔‘‘

960 / 26. عَنْ عَبْدِ اللهِ رضی الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوْقٌ، وَقِتَالُهُ کُفْرٌ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

الحديث رقم 26: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: الإيمان، باب: خوف المؤمن من أن يحبط عمله وهولا يشهر، 1 / 27، الرقم: 48، وفي کتاب: الأدب: باب: ما ينهي من السباب واللعن، 5 / 2247، الرقم: 5697، وفي کتاب: الفتن، باب: قول النبي ﷺ: لا ترجعوا بعدي کفارا يضرب بعضکم رقاب بعض، 6 / 2592، الرقم: 6665، ومسلم في الصحيح، کتاب: الإيمان، باب: بيان قول النبي ﷺ: سباب المسلم فسوق وقتاله کفر، 1 / 81، الرقم: 64، والترمذي في السنن، کتاب: البر والصلة عن رسول اللہ ﷺ، باب: ماجاء في الشتم، 4 / 353، الرقم: 1983، والنسائي في السنن، کتاب: تحريم الدم، باب: قتال المسلم، 7 / 121، الرقم: 4105، وابن ماجه في السنن، المقدمة، باب: في الإيمان، 1 / 27، الرقم: 69.

’’حضرت عبد اللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کو گالی دینا گناہ (کبیرہ) اور اسے قتل کرنا کفر ہے۔‘‘

961 / 27. عَنْ أَبِي ذَرٍّ رضی الله عنه أَنَّهُ سَمِعَ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ يَقُوْلُ: مَنْ دَعَا رَجُلًا بِالْکُفْرِ، أَوْ قَالَ: عَدُّوَ اللهِ، وَلَيْسَ کَذَلِکَ إِلاَّ حَارَ عَلَيْهِ.

رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَأَحْمَدُ.

الحديث رقم 27: أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب: الإيمان، باب: حال إيمان من رغب عن أبيه وهو يعلم، 1 / 79، الرقم: 61، وأحمد بن حنبل في المسند، 5 / 166، الرقم: 21503، والبخاري في الأدب المفرد، 1 / 155، الرقم: 433، والمنذري في الترغيب والترهيب، 3 / 51، الرقم: 3040.

’’حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس نے کسی شخص کو کافر یا دشمنِ خدا کہہ کر پکارا حالانکہ وہ ایسا نہیں ہے تو یہ کفر اس (کہنے والے) کی طرف لوٹ آئے گا۔‘‘

962 / 28. عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رضی الله عنهما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: مَنْ صَمَتَ نَجَا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ وَأَحْمَدُ.

الحديث رقم 28: أخرجه الترمذي في السنن، کتاب: صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول اللہ ﷺ، باب: (50)، 4 / 660، الرقم: 2501، والدارمي في السنن، 2 / 387، الرقم: 2712، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 / 159، الرقم: 6481، 6654، والطبراني في المعجم الأوسط، 2 / 264، الرقم: 1933، والبيهقي في شعب الإيمان، 4 / 254، الرقم: 4983.

’’حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے (بری بات سے) خاموشی اختیار کی وہ نجات پاگیا۔‘‘

963 / 29. عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رضی الله عنه قَالَ: قُلْتُ: يَارَسُوْلَ اللهِ! مَا النَّجَاةُ؟ قَالَ: أَمْسِکْ عَلَيْکَ لِسَانَکَ، وَلَْيَسَعْکَ بَيْتُکَ، وَابْکِ عَلَی خَطِيْئَتِکَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ.

وَقَالَ أَبُوْعِيْسَي: هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ.

الحديث رقم 29: أخرجه الترمذي في السنن، کتاب: الزهد عن رسول اللہ ﷺ، باب: ماجاء في حفظ اللسان، 4 / 605، الرقم: 2406، وأحمد بن حنبل في المسند، 5 / 259، الرقم: 22289، والطبراني في المعجم الکبير، 17 / 270، الرقم: 741.

’’حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! نجات کیا ہے؟ (یعنی کیسے ملتی ہے؟) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنی زبان کو (بری باتوں سے) روکے رکھو اور چاہیے کہ تمہارا گھر تم پر کشادہ ہو (یعنی اپنے گھر کو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول ہونے اور غیر اللہ سے خلوت اختیار کرنے کے لئے لازم پکڑو) اور اپنے گناہوں پر (نادم ہو کر) رویا کرو۔‘‘

964 / 30. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ: أَ تَدْرُوْنَ مَا الْغِيْبَةُ؟ قَالُوْا: اللهُ وَرَسُوْلُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: ذِکْرُکَ أَخَاکَ بِمَا يَکْرَهُ. قِيْلَ: أَفَرَأَيْتَ إِنْ کَانَ فِي أَخِي مَا أَقُوْلُ؟ قَالَ: إِنْ کَانَ فِيْهِ مَا تَقُوْلُ فَقَدِ اغْتَبْتَهُ. وَإِنْ لَمْ يَکُنْ فِيْهِ، فَقَدْ بَهَتَّهُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَالتِّرْمِذِيُّ.

وَقَالَ أَبُوْعِيْسَي: هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ.

الحديث رقم 30: أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب: البر والصلة والآداب، باب: تحريم الغيبة، 4 / 2001، الرقم: 2589، والترمذي في السنن، کتاب: البر والصلة عن رسول اللہ ﷺ، باب: ماجاء في الغيبة، 4 / 329، الرقم: 1934، وأبوداود في السنن، کتاب: الأدب، باب: في الغيبة، 4 / 269، الرقم: 4874، النسائي في السنن الکبري، 6 / 467، الرقم: 11518، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 / 230، الرقم: 7146، 8973، والدارمي في السنن، 2 / 387، الرقم: 2714.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم جانتے ہو کہ غیبت کیا ہے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے عرض کیا: اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (غیبت یہ ہے کہ) تم اپنے (مسلمان) بھائی کا اس طرح ذکر کرو کہ جسے وہ ناپسند کرتا ہے۔ عرض کیا گیا: (یا رسول اللہ !) اگر وہ بات میرے اس بھائی میں پائی جاتی ہو جو میں کہہ رہا ہوں (تو کیا پھر بھی غیبت ہے؟) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ بات اس میں ہے جو تم کہہ رہے ہو تو یہی تو غیبت ہے اور اگر (وہ بات) اس میں نہیں تب تو تم نے اس پر بہتان لگایا۔‘‘

965 / 31. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه قَالَ: سُئِلَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ عَنْ أَکْثَرِ مَا يُدْخِلُ النَّاسَ الْجَنَّةَ؟ فَقَالَ: تَقْوَي اللهِ، وَحُسْنُ الْخُلُقِ، وَسُئِلَ عَنْ أَکْثَرِ مَا يُدْخِلُ النَّاسَ النَّارَ؟ فَقَالَ: الْفَمُ وَالْفَرْجُ.

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه.

وَقَالَ أَبُوْعِيْسَي: هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ.

الحديث رقم 31: أخرجه الترمذي في السنن، کتاب: البر والصلة عن رسول اللہ ﷺ، باب: ماجاء في حُسْنِ الْخُلق، 4 / 363، الرقم: 2004، وابن ماجه في السنن، کتاب: الزهد، باب: ذکر الذنوب، 2 / 1418، الرقم: 4246، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 / 291، الرقم: 7894، وابن حبان في الصحيح، 2 / 224، الرقم: 476، والحاکم في المستدرک، 4 / 360، الرقم: 7919، والبخاري في الأدب المفرد، 1 / 110، الرقم: 294.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا گیا: (یا رسول اللہ !) کون سے اعمال ہیں جو لوگوں کو بکثرت جنت میں لے جائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا خوف (یعنی تقویٰ) اور اچھے اخلاق۔ (پھر) ان چیزوں کے بارے میں پوچھا گیا جو زیادہ لوگوں کو جہنم میں لے جانے کا باعث ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: منہ (یعنی زبان) اور شرمگاہ (یعنی ان دونوں کا غلط استعمال کرنا)۔‘‘

فَصْلٌ فِي آدَابِ الشُّرْبِ وَالطَّعَامِ

(کھانے پینے کے آداب کا بیان)

966 / 32. عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ رضی الله عنهما يَقُوْلُ: کُنْتُ غُلَامًا فِي حَجْرِ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ وَکَانَتْ يَدِي تَطِيْشُ فِي الصَّحْفَةِ، فَقَالَ لِي رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: يَا غُلَامُ! سَمِّ اللهَ وَکُلْ بِيَمِيْنِکَ وَکُلْ مِمَّا يَلِيْکَ فَمَا زَالَتْ تِلْکَ طِعْمَتِي بَعْدُ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

الحديث رقم 32: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: الأطعمة، باب: التسمية علي الطعام والأکل باليمين، 5 / 2056، الرقم: 5061 - 5063، ومسلم في الصحيح، کتاب: الأشربة، باب: آداب الطعام والشراب وأحکامهما، 3 / 1599، الرقم: 2022، وابن ماجه في السنن کتاب: الأطعمة، باب: الأکل باليمين، 2 / 1087، الرقم: 3267، والنسائي في السنن الکبري، 4 / 175، الرقم: 6759، وفي عمل اليوم والليلة، 1 / 259، الرقم: 274، وأحمد بن حنبل في المسند، 4 / 26، والبيهقي في السنن الکبري، 7 / 277، الرقم: 4389.

’’حضرت عمر بن ابوسلمہ رضی اللہ عنھما روایت کرتے ہیں کہ میں لڑکپن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زیرِکفالت تھا (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کھانا کھاتے وقت) میرا ہاتھ پیالے میں ہر طرف چلتا رہتا تھا۔ (ایک مرتبہ جب میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ دسترخوان پر بیٹھا تھا) تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: برخودار! بسم اللہ پڑھو، دائیں ہاتھ سے کھاؤ اور اپنے سامنے سے کھایا کرو۔ اس کے بعد میں اسی طریقہ سے کھاتا ہوں۔‘‘

967 / 33. عَنْ حُذَيْفَةَ رضی الله عنه قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ ﷺ يَقُوْلُ: لَا تَلْبَسُوا الْحَرِيْرَ وَلَا الدِّيْبَاجَ، وَلَا تَشْرَبُوْا فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ، وَلَا تَأْکُلُوْا فِي صِحَافِهَا، فَإِنَّهَا لَهُمْ فِي الدُّنْيَا وَلَنَا فِي الآخِرَةِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

الحديث رقم 33: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: الأطعمة، باب: الأکل في إناء مُفَضَّضٍ، 5 / 2069، الرقم: 5110، 5309 - 5310، وفي کتاب: اللباس، باب: لبس الحرير وافتراشه للرجال، وقدر ما يجوز، 5 / 2194، الرقم: 5493، 5499، ومسلم في الصحيح، کتاب: اللباس والزينة، باب: تحريم استعمال إناء الذهب والفضة، 3 / 1638، الرقم: 2067، 2069، وابن حبان في الصحيح، 12 / 155، الرقم: 5339، والنسائي في السنن، الکبري، 4 / 149، الرقم: 6631، وأحمد بن حنبل في المسند، 5 / 390، الرقم: 23362.

’’حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ریشم اور دیباج کے کپڑے نہ پہنو، سونے چاندی کے برتنوں میں نہ پیو اور نہ ہی سونے چاندی کی پلیٹوں میں کھاؤ کیونکہ یہ ان (کفار) کے لئے دنیا میں ہیں اور ہمارے لئے آخرت میں ہیں۔‘‘

968 / 34. عَنْ أَنَسٍ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: مَنْ أَکَلَ طَعَامًا فَقَالَ: (اَلْحَمْدُلِلهِ الَّذِي أَطْعَمَنِي هَذَا وَرَزَقَنِيْهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّي وَلَا قُوَّةٍ) غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَحْمَدُ وَالْحَاکِمُ.

وَقَالَ أَبُوْعِيْسَي: هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ. وَقَالَ الْحَاکِمُ: هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الإِسْنَادِ.

الحديث رقم 34: أخرجه الترمذي في السنن، کتاب: الدعوت عن رسول اللہ ﷺ، باب: ما يقول إذا فَرَغَ من الطعام، 5 / 508، الرقم: 3458، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 439، والحاکم في المستدرک، 4 / 213، الرقم: 7409، والطبراني في مسند الشاميين، 1 / 150، الرقم: 241، وفي المعجم الکبير، 20 / 181، الرقم: 389، وأبويعلي في المسند، 3 / 62، الرقم: 1488.

’’حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کھانا کھاکر یہ کلمات کہے: (اَلْحَمْدُلِلهِ الَّذِي أَطْعَمَنِي هَذَا وَرَزَقَنِيْهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّي وَلَا قُوَّةٍ) ’’تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لئے ہے جس نے مجھے یہ کھانا کھلایا اور کسی حرکت و قوت کے بغیر مجھے عطا فرمایا۔‘‘ اس شخص کے گزشتہ گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔‘‘

969 / 35. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي اللهَ عنهما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: لَا تَشْرَبُوْا وَاحِدًا کَشُرْبِ الْبَعِيْرِ، وَلَکِنِ اشْرَبُوْا مَثْنَي وَثُلَاثَ، وَسَمُّوْا إِذَا أَنْتُمْ شَرِبْتُمْ، وَاحْمَدُوْا إِذَا أَنْتُمْ رَفَعْتُمْ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالطَّبَرَانِيُّ.

الحديث رقم 35: أخرجه الترمذي في السنن، کتاب: الأشربة عن رسول اللہ ﷺ، باب: ماجاء في التنفس في الإناء، 4 / 302، الرقم: 1885، والطبراني في المعجم الکبير، 11 / 166، الرقم: 11378، والبيهقي في شعب الإيمان، 5 / 116، الرقم: 6015.

’’حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اونٹ کی طرح ایک ہی سانس میں (پانی) مت پیو، بلکہ دو یا تین مرتبہ (سانس لے کر) پیو اور پانی پینے سے قبل (بِسْمِ اللهِ) پڑھو اور فراغت پر (اَلْحَمْدُلِلهِ) کہا کرو۔‘‘

970 / 36. عَنْ مِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي کَرِبَ رضی الله عنه قَالَ: سًمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ يَقُوْلُ: مَا مَلَأَ آدَمِيٌّ وِعَاءً شَرًّا مِنْ بَطْنٍ بِحَسْبِ ابْنِ آدَمَ أُکُلَاتٌ يُقِمْنَ صُلْبَهُ، فَإِنْ کَانَ لَا مَحَالَةَ، فَثُلُثٌ لِطَعَامِهِ، وَثُلُثٌ لِشَرَابِهِ، وَثُلُثٌ لِنَفْسِهِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه.

وَقَالَ أَبُوْعِيْسَي: هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ.

الحديث رقم 36: أخرجه الترمذي في السنن، کتاب: الزهد عن رسول اللہ ﷺ، باب: ماجاء في کراهية کثرة الأکل، 4 / 590، الرقم: 2380، وابن ماجه في السنن، کتاب: الأطعمة، باب: الاقتصاد في الأکل وکراهة الشبع، 2 / 1111، الرقم: 3349، والنسائي في السنن الکبري، 4 / 177، الرقم: 6768، وأحمد بن حنبل في المسند، 4 / 132، والحاکم في المستدرک، 4 / 367، الرقم: 7139، 7145، وقال الحاکم: هذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ. وابن حبان في الصحيح، 2 / 449، الرقم: 674.

’’حضرت مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: انسان نے پیٹ سے زیادہ بُرا برتن نہیں بھرا۔ انسان کے لئے چند لقمے کھانا کافی ہے جو اس کی پیٹھ کو سیدھا رکھ سکے، اگر زیادہ کھانا ضروری ہو تو (پیٹ کے تین حصے کرے) ایک تہائی کھانے کے لئے، ایک پانی کے لیے اور ایک تہائی سانس لینے کے لیے رکھے۔‘‘

971 / 37. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضی الله عنهما قَالَ: لَمْ يَکُنْ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ يَنْفُخُ فِي طَعَامٍ وَلَا شَرَابٍ وَلَا يَتَنَفَّسُ فِي الإِنَاءِ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه وَأَحْمَدُ.

’’حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہ تو کھانے اور پانی میں پھونک مارتے تھے اور نہ برتن میں سانس لیتے تھے۔‘‘

972 / 38. وَفي رواية عنه: نَهَي رَسُوْلُ اللهِ ﷺ عَنِ النَّفْخِ فِي الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ.

وفي رواية: عَنْ عَائِشَةَ رضی الله عنها النَّفْخُ فِي الطَّعَامِ يَذْهَبُ بِالْبَرَکَةِ.

الحديث رقم 37 / 38: أخرجه ابن ماجه في السنن، کتاب: الأطمعة، باب: النفخ في الطعام، 2 / 1094، الرقم: 3288، وأحمد بن حنبل في المسند، 1 / 309، الرقم: 2818، 3366، وابن أبي شيبة في المصنف، 5 / 107، الرقم: 24180.

’’حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ہی مروی روایت میں ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھانے اور پینے کی اشیاء میں پھونک مارنے سے منع فرمایا کرتے تھے۔

اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ کھانے میں پھونک مارنا اس کی برکت کو ختم کر دیتا ہے۔‘‘

973 / 39. عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رضی الله عنه يَقُوْلُ: قَالَ: رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: کُلُوْا جَمِيْعًا وَلَا تَفَرَّقُوْا، فَإِنَّ الْبَرَکَةَ مَعَ الْجَمَاعَةِ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه.

الحديث رقم 39: أخرجه ابن ماجه في السنن، کتاب: الأطمعة، باب: الاجتماع علي الطعام، 2 / 1093، الرقم: 3387، والمنذري في الترغيب والترهيب، 3 / 97، الرقم: 3228.

’’حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مل کر کھایا کرو الگ الگ نہ کھاؤ کیونکہ برکت مل کر (اور اکٹھے) کھانے سے حاصل ہوتی ہے۔‘‘

فَصْلٌ فِي مُعَامَلَةِ الْمُؤْمِنِ بِالْمُؤْمِنِ

(مومن کے مومن کے ساتھ معاملات کا بیان)

974 / 40. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه عَنِ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّهُ قَالَ: لَا يُلْدَغُ الْمُؤْمِنُ مِنْ جُحْرٍ وَاحِدٍ مَرَّتَيْن. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

الحديث رقم 40: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: الأدب، باب: لا يلدغ المؤمن مِن جحر واحد مرتين، 5 / 2271، الرقم: 5752، ومسلم في الصحيح، کتاب: الزهد والرقائق، باب: لا يلدغ المؤمن من جحر مرتين، 4 / 2295، الرقم: 2998، وأبو داود في السنن، کتاب: الأدب، باب: في الحذر من الناس، 4 / 266، الرقم: 4862، وابن ماجه في السنن، کتاب: الفتن، باب: العزلة، 2 / 1318، الرقم: 3982 - 3983، وابن حبان في الصحيح، 2 / 437، الرقم: 663، والدارمي في السنن، 2 / 411، الرقم: 2781، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 / 115، الرقم: 5964.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مومن ایک سوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جاتا (یعنی ایک ہی معاملہ میں اسے دوبارہ دھوکہ نہیں دیا جا سکتا)۔‘‘

975 / 41. عَنْ عَمَّارٍ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: مَنْ کَانَ لَهُ وَجْهَانِ فِي الدُّنْيَا کَانَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لِسَانَانِ مِنْ نَارٍ.

رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَابْنُ حِبَّانَ وَالدَّارِمِيُّ.

الحديث رقم 41: أخرجه أبو داود في السنن، کتاب: الأدب، باب: في ذي وجهين، 4 / 268، الرقم: 4873، وابن حبان في الصحيح، 13 / 68، الرقم: 5756، والدارمي في السنن، 2 / 405، الرقم: 2764، وابن أبي شيبة في المصنف، 5 / 223، الرقم: 25463، والبيهقي في السنن الکبري، 10 / 246، وأبويعلي في المسند، 3 / 204، الرقم: 1637.

’’حضرت عمار (بن یاسر) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو دنیا میں دو منہ رکھے (یعنی جس میں دوغلاپن ہو) تو قیامت کے روز اس کے منہ میں دو آگ کی زبانیں ہوں گی۔‘‘

976 / 42. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه أَنَّهُ سَمِعَ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ يَقُوْلُ: إِنَّ شَرَّ النَّاسِ ذُو الْوَجْهَيْنِ، الَّذِي يَأْتِي هَؤُلَاءِ بِوَجْه وَهَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ.

مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

الحديث رقم 42: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: الأحکام، باب: ما يکره من ثناء السلطان، وإذا خرج قال غير ذلک، 6 / 2626، الرقم: 6757، وفي کتاب: المناقب، باب: قول اللہ تعالي: يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاکُمْ مِنْ ذَکَرٍ وَ أُنْثٰي وَ جَعَلْنَکُمْ شُعُوْبًا وَ قَبَاءِلَ لِتَعَارَفُوْا... الخ، 3 / 1288، الرقم: 3304، ومسلم في الصحيح، کتاب: البر والصلة والآداب، باب: ذم ذي الوجهين وتحريم فعله، 4 / 2011، الرقم: 2526، والترمذي في السنن، کتاب: البر والصلة عن رسول اللہ ﷺ، باب: ما جاء في ذي الوجهين، 4 / 374، الرقم: 2025، وأبوداود في السنن، کتاب: الأدب، باب: في ذي الوجهين، 4 / 268، الرقم: 4872، ومالک في الموطأ، 2 / 991، الرقم: 1797.

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دو منہ رکھنے والا شخص انتہائی برے لوگوں میں سے ہے جو ایک کے منہ پر کچھ کہتا ہے اور دوسرے کے منہ پر کچھ۔‘‘

977 / 43. عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ الْمُجَاشِعِيِّ رضی الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ: إِنَّ اللهَ أَوْحَي إِلَيَّ أَنْ تَوَاضَعُوْا حَتَّی لَا يَفْخَرَ أَحَدٌ عَلَی أَحَدٍ، وَلَا يَبْغِ أَحَدٌ عَلَی أَحَدٍ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَابْنُ مَاجَه.

الحديث رقم 43: أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب: الجنة وصفة نعيمها وأهلها، باب: الصفات التي يعرف بها في الدنيا أهل الجنة وأهل النار، 4 / 2198، الرقم: 2865، وابن ماجه في السنن، کتاب: الزهد، باب: البراء ة من الکبر والتواضع، 2 / 1399، الرقم: 4179، والبزار في المسند، 8 / 424، الرقم: 3495، والبيهقي في السنن الکبري، 10 / 234، والطبراني في المعجم الکبير، 17 / 364 الرقم: 1000.

’’حضرت عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی کی ہے کہ تواضع (و انکساری) اختیار کرو اور کوئی شخص (اپنے آپ کو بہتر سمجھتے ہوئے) کسی دوسرے پر فخر نہ کرے اور نہ کوئی کسی پر ظلم کرے۔‘‘

978 / 44. عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رضی الله عنه عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: حُبُّکَ الشَّيئَ يُعْمِي وَيُصِمُّ. رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَالطَّبَرَانِيُّ.

الحديث رقم 44: أخرجه أبو داود في السنن، کتاب: الأدب، باب: في الهوي، 4 / 334، الرقم: 5130، والطبراني في المعجم الأوسط، 4 / 334، الرقم: 4359، وفي مسند الشاميين، 2 / 340، الرقم: 1454، والبيهقي في شعب الإيمان، 1 / 368، الرقم: 411، والديلمي في مسند الفردوس، 2 / 143، الرقم: 2728.

’’حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہاری کسی شے سے محبت تمہیں اندھا اور بہرا کر دیتی ہے (یعنی اپنے محبوب کے خلاف انسان کچھ دیکھنا، سننا گوارا نہیں کرتا)۔‘‘

979 / 45. عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ رضی الله عنهما أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ: مَنْ نَظَرَ فِي کِتَابِ أَخِيْهِ بِغَيْرِ إِذْنِهِ فَإِنَّمَا يَنْظُرُ فِي النَّارِ.

وفي رواية عنه: مَنْ يَتَحَقَّقُ فِي کِتَابِ أَخِيْهِ بِغَيْرِ أَمْرِهِ فَکَأَنَّمَا يَتَحَقَّقَُ فِي النَّارِ. رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَالطَّبَرَانِيُّ وَالْحَاکِمُ.

وَقَالَ الْحَاکِمُ: هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ.

الحديث رقم 45: أخرجه أبوداود في السنن، کتاب: الوتر، باب: الدعاء، 2 / 78، الرقم: 1485، والحاکم في المستدرک، 4 / 300. 301، الرقم: 7706. 7707، والطبراني في مسند الشاميين، 2 / 328، الرقم: 1432، وفي المعجم الکبير، 10 / 320، الرقم: 10781، والقضاعي في مسند الشهاب، 1 / 284، الرقم: 464، وعبد بن حميد في المسند، 1 / 225، الرقم: 675.

’’حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنھما سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے بھائی کا خط اس کی اجازت کے بغیر (کھول کر) دیکھا تو بیشک اس نے (دوزخ کی) آگ میں دیکھا۔

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ہی مروی ایک اور روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو اپنے (مسلمان) بھائی کے خط میں اس کی اجازت کے بغیر غور و فکر کرتا ہے (یعنی اسے پڑھتا ہے یا اس کی جستجو کرتا ہے تو) وہ تو بس (دوزخ کی) آگ میں جھانک رہا ہے۔‘‘

فَصْلٌ فِي آدَابِ اللِّبَاسِ

(آدابِ لباس کا بیان)

980 / 46. عَنْ حُذَيْفَةَ رضی الله عنه قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ ﷺ يَقُوْلُ: لَا تَلْبَسُوا الْحَرِيْرَ وَلَا الدِّيْبَاجَ، وَلَا تَشْرَبُوْا فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ، وَلَا تَأْکُلُوْا فِي صِحَافِهَا، فَإِنَّهَا لَهُمْ فِي الدُّنْيَا وَلَنَا فِي الآخِرَةِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

الحديث رقم 46: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: الأطعمة، باب: الأکل في إناء مُفَضَّضٍ، 5 / 2069، الرقم: 5110، 5309 - 5310، وفي کتاب: اللباس، باب: لبس الحرير وافتراشه للرجال، وقدر ما يجوز، 5 / 2194، الرقم: 5493، 5499، ومسلم في الصحيح، کتاب: اللباس والزينة، باب: تحريم استعمال إناء الذهب والفضة، 3 / 1638، الرقم: 2067، 2069، وابن حبان في الصحيح، 12 / 155، الرقم: 5339، والنسائي في السنن، الکبري، 4 / 149، الرقم: 6631، وأحمد بن حنبل في المسند، 5، 390، الرقم: 23362.

’’حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ریشم اور دیباج کے کپڑے نہ پہنو، سونے چاندی کے برتنوں میں نہ پیو اور نہ ہی سونے چاندی کی پلیٹوں میں کھاؤ کیونکہ یہ ان (کفار) کے لئے دنیا میں ہیں اور ہمارے لئے آخرت میں ہیں۔‘‘

981 / 47. عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رضی الله عنه يَقُوْلُ: إِنَّ نَبِيَّ اللهِ أَخَذَ حَرِيْرًا فَجَعَلَهُ فِي يَمِيْنِهِ، وَأَخَذَ ذَهَبًا فَجَعَلَهُ فِي شِمَالِهِ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ هَذَيْنِ حَرَامٌ عَلَی ذُکُوْرِ أُمَّتِي. رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ بِإِسْنَادٍ جَيِدٍ.

982. / 48. وفي رواية: عَنْ أَبِي مُوْسَی الأَشْعَرِيِّ رضی الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ: حُرِّمَ لِبَاسُ الْحَرِيْرِ وَالذَّهَبِ عَلَی ذُکُوْرِ أُمَّتِي وَأُحِلَّ لِإِنَاثِهِمْ. رَوَاهُ التِّرمِذِيُّ.

وَقَالَ: أَبُوْعِيْسَي: حَدِيْثٌ حَسَنٌ.

الحديث رقم 47 / 48: أخرجه الترمذي في السنن، کتاب: اللباس عن رسول اللہ ﷺ، باب: ماجاء في الحرير والذهب، 4 / 217، الرقم: 1720، وأبوداود في السنن، کتاب: الحمام، باب: في الحرير للنساء، 4، 50، الرقم: 4057، والنسائي في السنن، کتاب: الزينة، باب: تحريم الذهب علي الرجال، 8 / 160، الرقم: 5144، وابن ماجه في السنن، کتاب: اللباس، باب: لبس الحرير والذهب للنساء، 2 / 1189، الرقم: 3595، 3597، وأحمد بن حنبل في المسند، 1 / 96، الرقم: 750: 4 / 394، وأبو يعلي في المسند، 1 / 235، الرقم: 272، 325، والطبراني في المعجم الکبير، 11 / 15، الرقم: 10889، 234، والبيهقي في شعب الإيمان 5 / 133، الرقم: 6082.

’’حضرت علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دائیں دستِ مبارک میں ریشمی کپڑا پکڑا اور بائیں دستِ مبارک میں سونا تھاما پھر فرمایا: یہ دونوں چیزیں میری امت کے مردوں پر حرام ہیں۔

اور ایک روایت میں حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ریشم کا لباس اور سونا میری امت کے مردوں پر حرام کردیا گیا ہے اور ان کی عورتوں پر حلال ہے۔‘‘

983 / 49. رَوَی أَبُوْحَنِيْفَةَ رضی الله عنه عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رِبَاحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه قَالَ: کَانَ لِرَسُوْلِ اللهِ ﷺ قَلَنْسُوَةٌ شَامِيَةٌ بَيْضَاءُ.

رَوَاهُ أَبُوْحَنِيْفَةَ.

الحديث رقم 49: أخرجه الخوارزمي في جامع المسانيد للإمام أبي حنيفة، 1 / 198.

’’امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ بواسطہ حضرت عطاء بن ابی رباح حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک سفید شامی ٹوپی مبارک تھی۔‘‘

984 / 50. عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضی الله عنهما قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ يَلْبَسُ قَلَنْسُوَةً بَيْضَاءَ. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ وَالطَّبًرَانِيُّ کَمَا قَالَ الْهَيْثَمِيُّ.

الحديث رقم 50: أخرجه البيهقي في شعب الإيمان، 5 / 175، الرقم: 6259، والهيثمي في مجمع الزوائد، 5 / 121، وقال: رواه الطبراني ورواته ثقات، والسيوطي في الجامع الصغير، 1 / 366، الرقم: 697.

’’حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفید ٹوپی مبارک پہنا کرتے تھے۔‘‘

985 / 51. عَنْ عَائِشَةَ رضی الله عنها قَالَتْ: کَانَ لِرَسُوْلِ اللهِ ﷺ قَلَنْسُوَةٌ بَيْضَاءُ لَاطِئَةٌ يَلْبَسُهَا. رَوَاهُ ابْنُ عَسَاکِرَ.

الحديث رقم 51: أخرجه ابن عساکر في تاريخ دمشق الکبير، 4 / 193، والهندي في کنز العمال، 7 / 121، الرقم: 18285.

’’حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سفید ٹوپی تھی جسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہنا کرتے تھے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سرِ اقدس پر جمی رہتی تھی۔‘‘

986 / 52. عَنْ سَعِيْدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ ضَرَارٍ، قَالَ: رَأَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ رضی الله عنه أَتَي الْخَلَاءَ ثُمَّ خَرَجَ وَعَلَيْهِ قَلَنْسُوَةٌ بَيْضَاءُ مَزْرُوْرَةٌ فَمَسَحَ عَلَی الْقَلَنْسُوَةِ . . . قَالَ الثَّوْرِيُّ: وَالْقَلَنْسُوَةُ بِمَنْزِلَةِ الْعِمَامَةِ.

رَوَاهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ.

الحديث رقم 52: أخرجه عبد الرزاق في المصنف، باب: المسح علي القلنسوة، 1 / 190، الرقم: 745.

’’سعید بن عبد اللہ بن ضرار سے روایت ہے کہ میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ بیت الخلاء میں داخل ہوئے پھر نکلے اور ان کے سر پر بٹن لگی ہوئی سفید ٹوپی تھی تو انہوں نے اپنی ٹوپی پر مسح کیا۔ امام سفیان ثوری رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ٹوپی بمنزلہ عمامہ ہے۔‘‘

987 / 53. عَنْ أَشْعَثَ عَنْ أَبِيْهِ أَنَّ أَبَا مُوْسَی رضی الله عنه خَرَجَ مِنَ الْخَلَاءِ وَعَلَيْهِ قَلَنْسُوَةٌ فَمَسَحَ عَلَيْهَا. رَوَاهُ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ.

الحديث رقم 53: أخرجه ابن أبي شيبة في المصنف، 5 / 170، الرقم: 24859.

’’حضرت اشعث اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابوموسیٰ (الاشعری) رضی اللہ عنہ بیت الخلاء سے باہر تشریف لائے اور انہوں نے ٹوپی پہنی ہوئی تھی، پھر انہوں نے اس ٹوپی پر مسح کیا۔‘‘

988 / 54. عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَعِيْدٍ رضی الله عنه قَالَ: رَأَيْتَ عَلَی عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ رضی الله عنهما قَلَنْسُوَةً بَيْضَاءَ مِصْرِيَةً. رَوَاهُ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ.

الحديث رقم 54: أخرجه ابن أبي شيبة في المصنف، 5 / 169، الرقم: 24855.

’’حضرت عبد اللہ بن سعید رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے امام علی بن حسین رضی اللہ عنہما (یعنی امام زین العابدین) کو سفید مصری ٹوپی پہنے ہوئے دیکھا۔‘‘

989 / 55. عَنْ هِشَامٍ، قَالَ: رَأَيْتُ عَلَی ابْنِ الزُّبَيْرِ رضی الله عنهما قَلَنْسُوَةً لَهَا رِبٌّ کَانَ يَسْتَظِلُّ بِهَا إِذَا طَافَ بِالْبَيْتِ. رَوَاهُ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ.

الحديث رقم 55: أخرجه ابن أبي شيبة في المصنف، 5 / 169، الرقم: 24856.

’’حضرت ہشام بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کوایک چھجے دار ٹوپی پہنے ہوئے دیکھا، بسا اوقات وہ بیت اللہ کا طواف کرتے وقت (آنکھوں کے سامنے) اس کا سایہ کر لیتے تھے۔‘‘

990 / 56. عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ رضی الله عنه عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: کَانَ عَلَی مُوْسَی عليه السلام يَوْمَ کَلَّمَهُ رَبُّهُ، کِسَاءُ صُوفٍ وَجُبَّةُ صُوْفٍ، وَکُمَّةُ صُوفٍ، وَسَرَاوِيْلُ صُوْفٍ، وَکَانَتْ نَعْلَاهُ مِنْ جِلْدِ حِمَارٍ مَيِتٍ. وَالْکُمَّةُ: الْقَلَنْسُوَةُ الصَّغِيْرَةُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

الحديث رقم 56: أخرجه الترمذي في السنن، کتاب: اللباس عن رسول اللہ ﷺ، باب: ما جاء في لبس الصوف، 4 / 224، الرقم: 1734، والمنذري في الترغيب والترهيب، 3 / 78، الرقم: 3154، وقال: رواه الحاکم وقال الحاکم: صَحِيْحٌ عَلَی شَرْطِ البُخَارِيِّ.

’’حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس دن حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے رب سے کلام کیا اس دن انہوں نے ایک اُون کی چادر، اُون کا جبُہ، اُون کی ٹوپی اور اُون کی شلوار پہنی ہوئی تھی اور ایک مردہ دراز گوش (یعنی گدھے) کی کھال سے بنے جوتے پہنے ہوئے تھے۔‘‘

991 / 57. عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رضی الله عنه يَقُوْلُ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ يَقُوْلُ: الشُّهَدَاءُ أَرْبَعَةٌ: رَجُلٌ مُؤْمِنٌ جَيِدُ الإِيْمَانِ لَقِيَ الْعَدُوَّ فَصَدَقَ اللهَ حَتَّی قُتِلَ، فَذَالِکَ الَّذِي يَرْفَعُ النَّاسُ إِلَيْهِ أَعْيُنَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ هَکَذَا وَرَفَعَ رَأْسَهُ حَتَّی وَقَعَتْ قَلَنْسُوَتُهُ، قَالَ: فَمَا أَدْرِي أَ قَلَنْسُوَةَ عُمَرَ أَرَادَ أَمْ قَلَنْسُوَةَ النَّبِيِّ ﷺ . . . الحديث.

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَحْمَدُ وَلَفْظُهُ: وَرَفَعَ رَأْسَهُ حَتَّی سَقَطَتْ قَلَنْسُوَةُ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ أَوْ قَلَنْسُوَةُ عُمَرَ رضی الله عنه.

وَقَالَ أَبُوْعِيْسَي: هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ.

الحديث رقم 57: أخرجه الترمذي في السنن، کتاب: الجهاد عن رسول اللہ ﷺ، باب: ما جاء في فضل الشهداء عند اللہ ، 4 / 177، الرقم: 1644، وأحمد بن حنبل في المسند، 1 / 23، الرقم: 150، وأبو يعلي في المسند، 1 / 216، الرقم: 252، والطيالسي في المسند، 1 / 10، 20، الرقم: 45، 133، والبزار في المسند، 1 / 366، الرقم: 246، وعبد بن حميد في المسند، 1 / 39، الرقم: 27، وابن المبارک في الجهاد، 1 / 105، الرقم: 126، والمنذري في الترغيب والترهيب، 2 / 212، الرقم: 2138.

’’حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: شہداء کی چار اقسام ہیں: وہ مومن شخص جس کا ایمان مضبوط ہو، وہ دشمن سے مقابلہ کرے اور اللہ تعالیٰ کی تصدیق کرے یہاں تک کہ شہید ہو جائے۔ یہی وہ شخص ہے کہ قیامت کے دن لوگ اس کی طرف آنکھ اٹھا اٹھا کر دیکھیں گے، آپ نے سر مبارک اوپر اٹھایا، یہاں تک کہ آپ کی ٹوپی گر گئی۔ راوی کہتے ہیں کہ مجھے معلوم نہیں اس سے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ٹوپی مراد ہے یا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی۔‘‘

’’امام احمد بن حنبل کی روایت کے الفاظ ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سر انور اتنا اوپر اٹھایا حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ٹوپی گر گئی یا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی۔‘‘

992 / 58. عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ رضی الله عنه قَالَ: قَدِمْتُ الرِّقَّةَ، فَقَالَ لِي بَعْضُ أَصْحَابِي: هَلْ لَکَ فِي رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ؟ قَالَ: قُلْتُ: غَنِيْمَةً. فَدَفَعْنَا إِلَي وَابِصَةَ، قُلْتُ لِصَاحِبِي: نَبْدَأُ فَنَنْظُرُ إِلَي دَلِّهِ، فَإِذَا عَلَيْهِ قَلَنْسُوَةٌ لَاطِيَةٌ ذَاتُ أُذُنَيْنِ وَبُرْنُسُ خَزٍّ أَغْبَرُ وَإِذَا هُوَ مُعْتَمِدٌ عَلَی عَصًا فِي صَلَاتِهِ. رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَالْحَاکِمُ وَالْبَيْهَقِيُّ.

وَقَالَ الْحَاکِمُ: هَذَاحَدِيْثٌ صَحِيْحٌ.

الحديث رقم 58: أخرجه أبوداود في السنن، کتاب: الصلاة، باب: الرجل يعتمد في الصلاة علي عصًا، 1 / 249، الرقم: 948، والحاکم في المستدرک، 1 / 397، الرقم: 975، والبيهقي في السنن الکبري، 2 / 288، الرقم: 3386.

’’حضرت ہلال بن یساف رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں (شام کے ایک شہر) رِقہ گیا، میرے کسی ساتھی نے کہا: تمہارا کیا خیال ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کسی صحابی سے ملاقات کریں؟ میں نے کہا: یہ تو بڑی غنیمت ہے۔ پھر ہم حضرت وابصہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے۔ میں نے اپنے ساتھی سے کہا: دیکھو پہلے ہم ان کے طور طریق دیکھتے ہیں۔ پھر ہم کیا دیکھتے ہیں کہ ان کے سر سے ایک دو کانوں والی ٹوپی چمٹی ہوئی ہے اور ایک اُونی غبار آلود لمبی ٹوپی (اس کے اوپر) پہنی ہوئی ہے اور وہ اپنے عصا کے سہارے نماز پڑھ رہے ہیں۔‘‘

993 / 59. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضی الله عنهما قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ يَلْبَسُ الْقَلَانِسَ تَحْتَ الْعَمَائِمِ وَبِغَيْرِ العَمَائِمِ وَيَلْبَسُ الْعَمَائِمَ بِغَيْرِ الْقَلَانِسِ وَکَانَ يَلْبَسُ الْقَلَانِسَ الْيَمَانِيَةَ وَيَلْبَسُ ذَوَاتَ الآذَانِ فِي الحَرْبِ وَکَانَ رُبَّمَا نَزَعَ قَلَنْسُوَتَهُ فَجَعَلَهَا سُتْرَةً بَيْنَ يَدَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي. . . الحديث.

رَوَاهُ السُّيُوْطِيُّ وَالْهِنْدِيُّ.

الحديث رقم 59: أخرجه السيوطي في الجامع الصغير، 1 / 367، والهندي في کنز العمال، 7 / 121، الرقم: 18286، والعظيم آبادي في عون المعبود، 11 / 88، والمبارکفوري في تحفة الأحوذي، 5 / 393، والمناوي في فيض القدير، 5 / 247، وعبدالحق محدث الدهلوي في شرح سفر السعادة، 1 / 436.

’’حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عمامہ کے نیچے ٹوپی پہنتے تھے اور عمامہ کے بغیر بھی ٹوپی پہنتے تھے اور عمامہ بغیر ٹوپی کے بھی پہنتے تھے اور آپ یمنی ٹوپی پہنتے تھے اور جنگ میں کانوں والی ٹوپی پہنتے تھے اور بعض اوقات اپنی ٹوپی اتار کر اس کو سُترہ بنا کر نماز ادا کرتے تھے۔‘‘

994 / 60. عَنْ نَافِعٍ رضی الله عنه قَالَ: رَآنِي ابْنُ عُمَرَ رضی الله عنهما وَأَنَا أُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ فَقَالَ: ألَمْ أَکْسُکَ قُلْتُ: بَلَي، قَالَ: فَلَوْ بَعَثْتُکَ کُنْتَ تَذْهَبُ هَکَذَا قُلْتُ: لَا، قَالَ: فَاللهُ أَحَقُّ أَنْ تَزَيَنَ لَهُ.

رَوَاهُ ابْنُ خُزَيْمَةَ وَالْبَيْهَقِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ.

الحديث رقم 60: أخرجه ابن خزيمة في الصحيح، 1 / 376، الرقم: 766، والبيقهي في السنن الکبري، 2 / 236، الرقم: 3089، والمقدسي في الأحاديث المختارة، 1 / 309، الرقم: 200، والطحاوي نحوه في شرح معاني الآثار، 1 / 377، وابن عبد البر في التمهيد، 6 / 371.

’’حضرت نافع رضی اللہ عنہ (حضرت عبد اللہ بن عمر کے آزاد کردہ غلام) بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھے ایک کپڑے میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے فرمایا: کیا میں نے تمہیں اور کپڑے نہیں پہنائے؟ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں۔ انہوں نے فرمایا: اگر میں تمہیں کسی (خاص) جگہ بھیجوں تو کیا تم اسی حالت میں چلے جاؤ گے؟ میں نے عرض کیا: نہیں، تو فرمایا: پھر اللہ تعالیٰ اس کا زیادہ حقدار ہے کہ اس کے لیے مزین (و تیار) ہوا جائے۔‘‘

995 / 61. عَنْ أَبِي سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ رضی الله عنه قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ إِذَا اسْتَجَدَّ ثَوْبًا سَمَّاهُ بِاسْمِهِ، إِمَّا قَمِيْصًا أَوْ عِمَامَةً، ثُمَّ يَقُوْلُ: (اللَّهُمَّ! لَکَ الْحَمْدُ، أَنْتَ کَسَوْتَنِيْهِ، أَسْأَلُکَ مِنْ خَيْرِهِ وَخَيْرِ مَا صُنِعَ لَهُ، وَأَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّهِ وَشَرِّ مَا صُنِعَ لَهُ). رَوَهُ أَبُوْدَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ.

الحديث رقم 61: أخرجه أَبو داود في السنن، کتاب: اللباس، باب: (1)، 4 / 41، الرقم: 4020، والترمذي في السنن، کتاب: اللباس عن رسول اللہ ﷺ، باب: ما يقول إذا لبس ثوبا جديدا، 4 / 239، الرقم: 1767، والبيهقي في شعب الإيمان، 5 / 180، الرقم: 6284، والعسقلاني في فتح الباري، 10 / 267، والسيوطي في الجامع الصغير، 1 / 78، الرقم: 93، والعظيم آبادي في عون المعبود، 11 / 43، والمناوي في فيض القدير، 5 / 98، والمبارکفوري في تحفة الأحوذي، 5 / 375.

’’حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوئی نیا کپڑا پہنتے تو (بسم اللہ ) پڑھتے خواہ قمیص ہو یا عمامہ، پھر عرض کرتے: (اللَّهُمَّ! لَکَ الْحَمْدُ، أَنْتَ کَسَوْتَنِيْهِ، أَسْأَلُکَ مِنْ خَيْرِهِ وَخَيْرِ مَا صُنِعَ لَهُ، وَأَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّهِ وَشَرِّ مَا صُنِعَ لَهُ) ’’اے اللہ ! تیرا شکر ہے کہ تو نے مجھے یہ کپڑا پہنایا، میں تجھ سے اس کی خیر اور جس لئے یہ بنایا گیا ہے اس کی خیر کا سوال کرتا ہوں اور اس کے شر اور جس کے لئے یہ بنایا گیا ہے اس کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔‘‘

996 / 62. عَنِ الْمُغِيْرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رضی الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ لَبِسَ جُبَّةً رُوْمِيَةً ضَيِقَةَ الْکُمَّيْنِ. رَوَاهُ أَبُوْحَنِيْفَةَ والتِّرْمِذِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ وَالنَّسَائِيُّ.

وَقَالَ أَبُوْعِيْسَي: هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ.

الحديث رقم 62: أخرجه أبو نعيم في مسند أبي حنيفة، 1 / 76.77، والترمذي في السنن، کتاب: اللباس عن رسول اللہ ﷺ، باب: ما جاء لُبْسِ الجبَّة والخُفَّيْن، 4 / 239، الرقم: 1768، والنسائي في السنن، کتاب: الطهارة، باب: المسح علي الخفين في السفر، 1 / 83، الرقم: 125، وفي السنن الکبري، 1 / 87، الرقم: 110، وأحمد بن حنبل في المسند، 4 / 255، والمبارکفوري في تحفة الأحوذي، 5 / 391.

’’حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بیشک حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تنگ آستینوں والا رومی جُبّہ زیب تن فرمایا۔‘‘

997 / 63. عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ سَمِعَ الْبَرَاءَ رضی الله عنه يَقُوْلُ: کَانَ النَّبِيُّ ﷺ مَرْبُوْعًا، وَقَدْ رَأَيْتُهُ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ، مَا رَأَيْتُ شَيْئًا أَحْسَنَ مِنْهُ.

مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ وَهَذَا لَفْظُ الْبُخَارِيِّ.

الحديث رقم 63: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: اللباس، باب: الثوب الأحمر، 5 / 2198، الرقم: 5510، ومسلم في الصحيح، کتاب: الفضائل، باب: في صفة النبي ﷺ أنه کان أحسن الناس وجها، 4 / 1818، الرقم: 2337، وأبو داود في السنن، کتاب: اللباس، باب: في الرخصة ذلک، 4 / 54، الرقم: 4072، والنسائي في السنن، کتاب: الزينة، باب: اتخاذ الجمة، 8 / 183، الرقم: 5232 - 5233، وفي السنن الکبري، 5 / 412، الرقم: 9328، وأحمد بن حنبل في المسند، 4 / 281، وأبو يعلي في المسند، 3 / 262، الرقم: 1714.

’’حضرت براء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قد مبارک متوسط تھا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سرخ رنگ کے حلّہ یعنی دو چادروں میں لپٹا ہوا دیکھا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے زیادہ کسی شے کو حسین نہیں دیکھا۔‘‘

998 / 64. عَنْ هِلَالِ بْنِ عَامِرٍ رضی الله عنه قَالَ: رَأَيْتُ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ، بِمِنًي يَخْطُبُ عَلَی بَغْلَةٍ وَعَلَيْهِ بُرْدٌ أَحْمَرُ وَعَلِيٌّ رضی الله عنه أَمَامَهُ يُعَبِّرُ عَنْهُ.

رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَالْبَيْهَقِيُّ.

الحديث رقم 64: أخرجه أبو داود في السنن، کتاب: اللباس، باب: في الرخصة ذلک، 4 / 54، الرقم: 4073، والبيهقي في السنن الکبري، 3 / 247، الرقم: 5777.

’’حضرت عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو منیٰ کے مقام پر ایک خچر پر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اوپر ایک سرخ چادر تھی اور حضرت علی رضی اللہ عنہ آپ کے آگے کھڑے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے الفاظ (لوگوں تک) پہنچا رہے تھے۔‘‘

999 / 65. عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رضی الله عنهما: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ . . . رَأَيْتُکَ تَصْبُغُ بِالصُّفْرَةِ. قَالَ: وَأَمَّا الصُّفْرَةُ، فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ يَصْبُغُ بِهَا، فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَصْبُغَ بِهَا.

مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

الحديث رقم 65: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: الوضوء، باب: غَسل الرِّجْلَين في النَّعلين ولا يمسح علي النعلين، 1 / 73، الرقم: 164، وفي کتاب: اللباس، باب: النعال السبتية وغيرها، 5 / 2199، الرقم: 5513، ومسلم في الصحيح، کتاب: الحج، باب: الإِهلال من حيث تنبعث الراحلة، 2 / 844، الرقم: 1187، وأبو داود في السنن، کتاب: المناسک، باب: في وقت الإحرام، 2 / 150، الرقم: 1772، ومالک في الموطأ، 1 / 333، الرقم: 733، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 / 66، الرقم: 5338، وابن حبان في الصحيح، 9 / 78، الرقم: 3763.

’’حضرت عبید بن جُریج بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا: اے ابو عبد الرحمن! میں نے آپ کو دیکھا ہے کہ آپ کپڑوں کو زرد رنگ سے رنگتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: زرد رنگ سے رنگنے کی وجہ یہ ہے کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو زرد رنگ سے رنگتے دیکھا ہے۔ سو میں بھی انہیں زرد رنگ میں رنگنا پسند کرتا ہوں۔‘‘

1000 / 66. عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُوْنٍ رضی الله عنه أَنَّ عُمَرَ رضی الله عنه کَانَ عَلَيْهِ يَوْمٌ أُصِيْبَ ثَوْبٌ أَصْفَرُ. رَوَاهُ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ.

1001 / 67. وفي رواية: عَنْ أَبِي ظِبْيَانَ قَالَ: رَأَيْتُ عَلَی عَلِيٍّ رضی الله عنه قَمِيْصًا وَإِزَارًا أَصْفَرَ. رَوَاهُ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ.

الحديث رقم 66 / 67: أخرجه ابن أبي شيبة في المصنف، 5 / 160، الرقم: 24751 - 24752.

’’حضرت عمرو بن میمون رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جس دن حضرت عمر رضی اللہ عنہ شہید ہوئے انہوں نے زرد رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔

ایک روایت میں ابو ظبیان بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو زرد رنگ کی قمیص اور ازار (تہبند) پہنے ہوئے دیکھا۔‘‘

1002 / 68. عَنْ أَبِي رِمْثَةَ رضی الله عنه قَالَ: رَأَيْتُ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ وَعَلَيْهِ بُرْدَانِ أَخْضَرَانِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْدَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ.

وَقَالَ أَبُوْعِيْسَي: هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ. وَقَالَ الْحَاکِمُ: هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الإِسْنَادِ.

الحديث رقم 68: أخرجه الترمذي في السنن، کتاب: الاداب عن رسول اللہ ﷺ، باب: ما جاء في الثوب الأخضر، 5 / 119، الرقم: 2812، وأبو داود في السنن، کتاب: الترجل، باب: في الخضاب، 4 / 86، الرقم: 4206، والنسائي في السنن، کتاب: صلاة العيدين، باب: الزينة للخطبة للعيدين، 3 / 185، الرقم: 1572، والحاکم في المستدرک، 2 / 664، الرقم: 4203، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 / 228، الرقم: 7117.

’’حضرت ابو رمثہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دو سبز چادریں زیب تن فرمائے ہوئے دیکھا۔‘‘

1003 / 69. عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللهِ رضی الله عنه قَالَ: أَدْرَکْتُ الْمُهَاجِرِيْنَ الْأَوَّلِيْنَ يَعْتَمُّوْنَ بِعَمَاءِمِ کَرَابِيْسَ سُوْدٌ وَبِيْضٌ وَحُمْرٌ وَخُضْرٌ وَصُفْرٌ يَضَعُ أَحَدُهُمَا الْعِمَامَةَ عَلَی رَأْسِهِ وَيَضَعُ الْقَلَنْسُوَةَ فَوْقَهَا ثُمَّ الْعِمَامَةَ هَکَذَا يَعْنِي عَلَی کُوْرِهِ. رَوَاهُ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ.

الحديث رقم 69: أخرجه ابن أبي شيبة في المصنف، 5 / 181، الرقم: 24987، وابن راهوية في المسند، 3 / 882، الرقم: 1556.

’’حضرت سلیمان بن ابی عبد اللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے مہاجرین اولین کو دیکھا ہے کہ وہ سیاہ، سفید، سرخ، سبز یا زرد رنگ کے کھردرے کپڑوں کے عمامے باندھتے تھے، ان میں سے کوئی عمامہ اپنے سر پر رکھتا اور اس کے اوپر ٹوپی رکھتا پھر ٹوپی کے گرد اس طرح عمامہ کو لپیٹ دیتے تھے۔‘‘

1004 / 70. عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدٍ رضی الله عنه قَالَ: اسْتَسْقَي رَسُوْلُ اللهِ ﷺ وَعَلَيْهِ خَمِيْصَةٌ لَهُ سَوْدَاءُ. رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَأَحْمَدُ.

الحديث رقم 70: أخرجه أبو داود في السنن، کتاب: صلاة الاستسقاء، باب: في أي وقت يحول رداء ه إذا استسقي، 1 / 302، الرقم: 1163، والنسائي في السنن، کتاب: الاستسقاء، باب: الحال التي يستحب للإمام أن يکون عليها إذا خرج، 3 / 156، الرقم: 1507، وأحمد بن حنبل في المسند، 4 / 4، وعبد الرزاق في المصنف، 1 / 201، الرقم: 786، والشافعي في المسند، 1 / 80، والمقدسي في الأحاديث المختارة، 9 / 360، الرقم: 225.

’’حضرت عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز استسقاء پڑھائی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی سیاہ چادر مبارک زیب تن کئے ہوئے تھے۔‘‘

1005 / 71. عَنْ أُمِّ خَالِدٍ بِنْتِ خَالِدٍ رضی الله عنها أُتِيَ النَّبِيُّ ﷺ بِثِيَابٍ فِيْهَا خَمِيْصَةٌ سَوْدَاءُ صَغِيْرَةٌ، فَقَالَ: مَنْ تَرَوْنَ أَنْ نَکْسُوَ هَذِهِ. فَسَکَتَ الْقَوْمُ: قَالَ: ائْتُوْنِي بِأُمِّ خَالِدٍ. فَأُتِيَ بِهَا تُحْمَلُ، فَأَخَذَ الْخَمِيْصَةَ بِيَدِهِ فَأَلْبَسَهَا، وَقَالَ أَبْلِي وَأَخْلِقِي. وَکَانَ فِيْهَا عَلَمٌ أَخْضَرُ أَوْ أَصْفَرُ، فَقَالَ: يَا أُمَّ خَالِدٍ. هَذَا سَنَاهْ. وَ سَنَاهْ بِالْحَبَشِيَةِ حَسَنٌ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

الحديث رقم 71: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: اللباس، باب: الخميصة السوداء، 5 / 2191، الرقم: 5485، وفي باب: ما يدعي لمن لبس ثوبا جديدا، 5 / 2198، الرقم: 5507، والبيهقي في شعب الإيمان، 5 / 182، الرقم: 6289، والحاکم في المستدرک، 2 / 72، الرقم: 2367، وقال الحاکم: هذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ.

’’حضرت اُمّ خالد بنت خالد رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس (مالِ غنیمت میں) کپڑے لائے گئے جن میں چھوٹی سیاہ چادر بھی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے خیال میں ہم کس کو یہ پہنائیں؟ صحابہ خاموش رہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: امّ خالد کو میرے پاس لاؤ، (فرماتی ہے) پھر انہیں سوار کرکے لایا گیا، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اپنے ہاتھوں سے وہ چادر پہنائی اور فرمایا (اسے استعمال کر کر کے) پرانا اور بوسیدہ کر دو۔ اس پر سبز اور زرد رنگ کے نقوش بنے ہوئے تھے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ام خالد! یہ ’’سَنَاہ‘‘ ہے۔ ’’سَنَاہ‘‘ حبشی زبان میں نہایت خوبصورت کو کہتے ہیں۔‘‘

1006 / 72. عَنْ أَبِي ذَرٍّ رضی الله عنه قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ وَعَلَيْهِ ثَوْبٌ أَبْيَضُ وَهُوَ نَائِمٌ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

الحديث رقم 72: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: اللباس، باب: الثياب البيض، 5 / 2193، الرقم: 5489، وابن منده في الإيمان، 1 / 224، الرقم: 87، وابن أبي عاصم في السنة، 2 / 464، الرقم: 957.

’’حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفید کپڑا اوڑھے ہوئے استراحت فرما رہے تھے۔‘‘

1007 / 73. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: الْبَسُوْا مِنْ ثِيَابِکُمُ الْبَيَاضَ فَإِنَّهَا مِنْ خَيْرِ ثِيَابِکُمْ، وَکَفِّنُوْا فِيْهَا مَوْتَاکُمْ.

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْدَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَه.

وَقَالَ أَبُوْعِيْسَي: هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ.

الحديث رقم 73: أخرجه الترمذي في السنن، کتاب: الجنائز عن رسول اللہ ﷺ، باب: ما يستحب من الأکفان، 3 / 319، الرقم: 994، وأبو داود في السنن، کتاب: الطب، باب: في الأمر بالکحل، 4 / 8، الرقم: 3878، وفي کتاب: اللباس، باب: في البياض، 4 / 51، الرقم: 4061، والنسائي في السنن، کتاب: اللباس، باب: الأمر يلبس البيض من الثياب، 8 / 205، الرقم: 5323، وابن ماجه في السنن، کتاب: الجنائز، باب: ما جاء فيها يستحب من الکفن، 1 / 473، الرقم: 1472، وفي کتاب: اللباس، باب: البياض من الثياب، 2 / 1181، الرقم: 3566، وأحمد بن حنبل في المسند، 1 / 247، الرقم: 2219، والحاکم في المستدرک، 1 / 206، الرقم: 1308، وقال: هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ.

’’حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سفید کپڑے پہنا کرو کیونکہ یہ تمہارا بہترین لباس ہے اور انہی کپڑوں میں اپنے مردوں کو بھی کفن دیا کرو۔‘‘

1008 / 74. عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: الْبَسُوا الْبَيَاضَ، فَإِنَّهَا أَطْهَرُ وَأَطْيَبُ، وَکَفِّنُوْا فِيْهَا مَوْتَاکُمْ.

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ.

وَقَالَ أَبُوْعِيْسَي: هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ.

الحديث رقم 74: أخرجه الترمذي في السنن، کتاب: الاداب عن رسول اللہ ﷺ، باب: ما جاء في لبس البياض، 5 / 117، الرقم: 2810، والنسائي في السنن، کتاب: الجنائز، باب: أي الکفن خيرا، 4 / 34، الرقم: 1896، وفي کتاب: اللباس، باب: الأمر يلبس البيض من الثياب، 8 / 205، الرقم: 5322 - 5323، وفي السنن الکبري، 1 / 621، الرقم: 2023، وعبد الرزاق في المصنف، 3 / 429، الرقم: 6199، والطبراني في المعجم الأوسط، 4 / 182، الرقم: 3919.

’’حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سفید لباس پہنا کرو کیونکہ یہ زیادہ صاف اور پاکیزہ ہے اور اسی میں اپنے مُردوں کو کفن دیا کرو۔‘‘

فَصْلٌ فِي آدَابِ الْمَجْلِسِ وَالْجُلُوْسِ

(مجلس میں بیٹھنے کے آداب کا بیان)

1009 / 75. عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضی الله عنهما عَنِ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّهُ نَهَي أَنْ يُقَامَ الرَّجُلُ مِنْ مَجلِسِهِ وَيَجْلِسَ فِيْهِ آخَرُ، وَلَکِنْ تَفَسَّحُوْا وَتَوَسَّعُوْا. وَکَانَ ابْنُ عُمَرَ رضی الله عنهما يَکْرَهُ أَنْ يَقُوْمَ الرَّجُلُ مِنْ مَجْلِسِهِ ثُمَّ يَجْلِسَ مَکَانَهُ.

مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

الحديث رقم 75: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: الاستئذان، باب: إذا قِيْلَ لَکُمْ تَفَسَّحُوا فِي المَجَالِسِ فَافْسَحُوا يَفْسَحِ اللهُ لَکُمْ وَإِذَا قِيْلَ انْشُزُوْا فَانْشُرُوا (المجادلة: 11)، 5 / 2313، الرقم: 5910. 5914، وفي کتاب: الجمعة، باب: لايقيم الرجل أخاه يوم الجمعة ويقعد مکانه، 1 / 309، الرقم: 869، ومسلم في الصحيح، کتاب: السلام، باب: تحريم إقامة الإنسان من موضعه المباح الذي سبق إليه، 4 / 1714، الرقم: 2177، والترمذي في السنن، کتاب: الأدب عن رسول اللہ ﷺ، باب: کراهية أن يقام الرجل من مجلسه ثم يجلس فيه، 5 / 88، الرقم: 2749. 2750، وَقَالَ أَبُو عِيْسَي: هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ، والبخاري في الأدب المفرد، 1 / 389، الرقم: 1140، وابن حبان في الصحيح، 2 / 349، الرقم: 587.

’’حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کسی شخص کو اس کی مجلس سے اٹھایا جائے اور کوئی اور اس کی جگہ پر بیٹھ جائے بلکہ کھل جایا کرو اور اپنی مجالس میں کشادگی پیدا کیا کرو اور حضرت عبدﷲ بن عمر رضی اللہ عنہما اس بات کو ناپسند فرماتے تھے کہ کوئی آدمی اپنی جگہ سے اٹھے اور وہ اس کی جگہ پر بیٹھیں۔‘‘

1010 / 76. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ: إِذَا قَامَ أَحَدُکُمْ (وفي حديث) مَنْ قَامَ مِنْ مَجْلِسِهِ ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ.

رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَالتِّرْمِذِيُّ.

وَقَالَ أَبُوْعِيْسَي: هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ.

الحديث رقم 76: أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب: السلام، باب: إذا قام من مجلسه ثم عاد فهو أحق به، 4 / 1715، الرقم: 2179، والترمذي نحو في السنن، کتاب: الأدب عن رسول اللہ ﷺ، باب: ما جاء إذا قام الرجل من مجلسه ثم رجع إليه فهو أحق به، 5 / 89، الرقم: 2751، وأبو داود في السنن، کتاب: الأدب، باب: إذا قام من مجلس ثم رجع، 4 / 264، الرقم: 4853، والبخاري في الأدب المفرد، 1 / 388، الرقم: 1138، وابن حبان في الصحيح، 2 / 349، الرقم: 588، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 / 263، الرقم: 7558، والطحاوي في مشکل الآثار، 2 / 110.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی (اپنی نشست سے) اٹھا (یا فرمایا: ) جو کوئی اپنی جگہ سے اٹھ کر گیا پھر لوٹ کر آیا تو وہ اس جگہ پر بیٹھنے کا زیادہ حق دار ہے (جہاں وہ پہلے بیٹھا ہوا تھا)۔‘‘

1011 / 77. عَنْ مُعَاوِيَةَ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَتَمَثَّلَ لَهُ الرِّجَالُ قِيَامًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْدَاوُدَ.

وَقَالَ أَبُوْعِيْسَي: هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ.

الحديث رقم 77: أخرجه الترمذي في السنن، کتاب: الآدب عن رسول اللہ ﷺ، باب: ما جاء في کراهية قيام الرجل للرجل، 5 / 90، الرقم: 2755، وأبو داود في السنن، کتاب: الأدب، باب: في قيام الرجل للرجل، 4 / 358، الرقم: 5229، وأحمد بن حنبل في المسند، 4 / 93، 100، والطبراني في المعجم الأوسط، 4 / 282، الرقم: 4208، وفي المعجم الکبير، 19 / 351، الرقم: 819، والبخاري في الأدب المفرد، 1 / 339، الرقم: 977.

’’حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جسے یہ بات پسند ہو کہ لوگ اس کے لئے بُت کی طرح (احترامًا) کھڑے ہوں تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں تیار رکھے۔‘‘

1012 / 78. عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ: لَا تَجْلِسْ بَيْنَ رَجُلَيْنِ إِلَّا بِإِذْنِهِمَا. رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ.

الحديث رقم 78: أخرجه أبوداود في السنن، کتاب: الأدب، باب: في الرجل يجلس بين الرجلين بغير إذنهما، 4 / 262، الرقم: 4844، والمنذري في الترغيب والترهيب، 4 / 26، الرقم: 4649، والخطيب التبريزي في مشکاة المصابيح، 2 / 173، الرقم: 4704.

’’حضرت عمرو بن شعیب بواسطہ اپنے والد اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دو آدمیوں کے درمیان ان کی اجازت کے بغیر نہ بیٹھو۔‘‘

1013 / 79. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ يَجْلِسُ مَعَنَا فِي الْمَسْجِدِ يُحَدِّثُنَا، فَإِذَا قَامَ قُمْنَا قِيَامًا حَتَّی نَرَاهُ قَدْ دَخَلَ بَعْضَ بُيُوْتِ أَزْوَاجِهِ. رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَالْبَيْهَقِيُّ.

الحديث رقم 79: أخرجه أبو داود في السنن، کتاب: الأدب، باب: في الحلم وأخلاق النبي ﷺ، 4 / 247، الرقم: 4775، والبيهقي في شعب الإيمان، 6 / 467، الرقم: 8930، والخطيب التبريزي في مشکاة المصابيح، 2 / 173، الرقم: 4705.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں ہمارے ساتھ گفتگو فرمانے کے لئے تشریف فرما ہوا کرتے تھے جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (تشریف لے جانے کے لئے) قیام فرما ہوتے تو ہم بھی (تعظیماً) کھڑے ہو جاتے (اور اس وقت تک کھڑے رہتے) یہاں تک کہ ہم دیکھتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی کسی زوجہ مطہرہ کے گھر میں داخل ہو گئے ہیں۔‘‘

1014 / 80. عَنْ أَبِي سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ رضی الله عنه قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ يَقُوْلُ: خَيْرُ الْمَجَالِسِ أَوْسَعُهَا. رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَأَحْمَدُ وَالْحَاکِمُ.

وَقَالَ: هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ.

الحديث رقم 80: أخرجه أبوداود في السنن، کتاب: الأدب، باب: في سعة المجلس، 4 / 257، الرقم: 4820، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 69، الرقم: 11681، 11153، والحاکم في المستدرک، 4 / 300، الرقم: 7705، 7704، والطبراني عن أنس رضی الله عنه في المعجم الأوسط، 1 / 255، الرقم: 836، والبيهقي في شعب الإيمان، 6 / 300، الرقم: 8250.

’’حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: بہترین مجلس وہ ہے جس میں بیٹھنے کی زیادہ سے زیادہ گنجائش ہو۔‘‘

فَصْلٌ فِي آدَابِ السَّفَرِ

(آدابِ سفر کا بیان)

1015 / 81. عَنْ أَبِي سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ رضی الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ: إِذَا خَرَجَ ثَلَاثَةٌ فِي سَفَرٍ فَلْيُؤَمِّرُوْا أَحَدَهُمْ. وفي رواية: فَلْيَؤُمَّهُمْ أَقْرَؤُهُمْ.

رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَابْنُ حِبَّانَ وَالْبَزَّارُ. إِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

الحديث رقم 81: أخرجه أبو داود في السنن، کتاب: الجهاد، باب: في القوم يسافرون يؤمرون أحدهم، 3 / 36، الرقم: 2608، وابن حبان في الصحيح، 5 / 504، الرقم: 2132، والبزار في المسند، 1 / 462، الرقم: 329، وعبد الرزاق في المصنف، 2 / 390، الرقم: 3812، 9256، والبيهقي في السنن الکبري، 3 / 119، الرقم: 5071، والطبراني في المعجم الأوسط، 8 / 99، الرقم: 8093، وفي المعجم الکبير، 9 / 185، الرقم: 8915، وأبو يعلي في المسند، 2 / 319، الرقم: 1054، والطيالسي في المسند، 1 / 286، الرقم: 2152، وابن الجعد في المسند، 1 / 78، الرقم: 430.

’’حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تین آدمی سفر پر روانہ ہوں تو اپنے میں سے ایک شخص کو امیر بنا لیں اور ایک روایت میں ہے کہ ان کی امامت وہ کرے جو ان میں سب سے زیادہ پڑھا ہوا ہو۔‘‘

1016 / 82. عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رضی الله عنهما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: خَيْرُ الْأَصْحَابِ عِنْدَ اللهِ خَيْرُهُمْ لِصَاحِبِهِ وَخَيْرُ الْجِيْرَانِ عِنْدَ اللهِ خَيْرُهُمْ لِجَارِهِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَحْمَدُ وَالدَّارِمِيُّ وَالْحَاکِمُ.

وَقَالَ أَبُوْعِيْسي: هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ. وَقَالَ الْحَاکِمُ: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيْحٌ.

الحديث رقم 82: أخرجه الترمذي في السنن، کتاب: البر والصلة عن رسول اللہ ﷺ، باب: ما جاء في حق الجوار، 4 / 333، الرقم: 1944، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 / 167، الرقم: 6566، والدارمي في السنن، 2 / 284، الرقم: 2437، والحاکم في المستدرک، 1 / 610، الرقم: 1620، وابن خزيمة في الصحيح، 4 / 140، الرقم: 2539، والبخاري في الأدب المفرد، 1 / 53، الرقم: 115.

’’حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ہاں بہترین ساتھی وہ ہے جو اپنے ساتھیوں کے حق میں بہتر ہے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں بہترین ہمسایہ وہ ہے جو اپنے ہمسائے کے حق میں بہتر ہے۔‘‘

1017 / 83. عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ رضی الله عنه عَنْ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ قَالَ: إِذَا أَرَادَ أَحَدُکُمْ سَفَرًا فَلْيُوَدِّعْ إِخْوَانَهُ، فَإِنَّ اللهَ عزوجل جَاعِلٌ لَهُ فِي دُعَائِهِمُ الْبَرَکَةَ. وفي رواية: خَيْرًا. رَوَاهُ الدَّيْلَمِيُّ.

الحديث رقم 83: أخرجه الديلمي في مسند الفردوس، 1 / 299، الرقم: 1181، والخطيب البغدادي في الجامع لأخلاق الراوي، 2 / 238، الرقم: 1720.

’’حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی سفر کا ارادہ کرے تو اسے چاہیے کہ اپنے بھائیوں کو الوداع کہے، (اور ان سے خیر و عافیت کی دعا کرائے) بے شک اللہ تعالیٰ ان کی دعاؤں سے اسے خیر و برکت سے نوازنے والا ہے۔‘‘

1018 / 84. عَنْ أَنْسِ بْنِ مَالِکٍ رضی الله عنه قَالَ: کَانَ النَّبِيُّ ﷺ لَا يَنْزِلُ (وفي رواية: لَا يَتْرُکُ) مَنْزِلًا إِلَّا وَدَّعَهُ بِرَکْعَتَيْنِ.

رَوَاهُ ابْنُ خُزَيْمَةَ وَالْحَاکِمُ.

وَقَالَ الْحَاکِمُ: هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ.

الحديث رقم 84: أخرجه ابن خزيمة، 2 / 248، الرقم: 1260، 2568، والحاکم في المستدرک، 1 / 460، الرقم: 1188، 1635، 2492، والسيوطي في الجامع الصغير، 1 / 259، الرقم: 454.

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی مقام پر قیام فرماتے تھے نہ کسی منزل سے رخصت ہوتے تھے جب تک وہاں دو رکعت نماز ادا نہ فرما لیتے۔‘‘

1019 / 85. عَنْ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ رضی الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ خَرَجَ يَوْمَ الْخَمِيْسِ فِي غَزْوَةِ تَبُوْکَ، وَکَانَ يُحِبُّ أَنْ يَخْرُجَ يَوْمَ الْخَمِيْسِ.

رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَأَبُوْدَاوُدَ.

1020 / 86. وفي رواية للبخاري: لَقَلَّمَا کَانَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ يَخْرُجُ إِذَا خَرَجَ فِي سَفَرٍ إِلَّا يَوْمَ الْخَمِيْسِ.

الحديث رقم 85 / 86: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: الجهاد، باب: من أراد غزوة فَوَرَّي بغيرها، ومن أحب الخروج يوم الخميس، 3 / 1078، الرقم: 2789 - 2790، وأبو داود في السنن، کتاب: الجهاد، باب: في أي يوم يستحب السفر، 3 / 35، الرقم: 2605، وابن حبان في الصحيح، 8 / 155، الرقم: 3370، وعبد الرزاق في المصنف، 5 / 169 - 170، الرقم: 9270، والطبراني في المعجم الأوسط، 2 / 74، الرقم: 1291: 8 / 181، الرقم: 8335، وفي المعجم الکبير، 19 / 42، الرقم: 90.

’’حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غزوہ تبوک کے لئے جمعرات کے دن روانہ ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمعرات کے دن سفر کے لئے روانہ ہونا پسند فرماتے تھے۔‘‘

اور امام بخاری کی بیان کردہ ایک اور روایت میں ہے: ’’بہت کم ایسا ہوا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمعرات کے علاوہ کسی اور دن (سفر کے لیے) روانہ ہوئے ہوں۔‘‘

1021 / 87. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: ثَلَاثُ دَعَوَاتٍ مُسْتَجَابَاتٌ لَا شَکَّ فِيْهِنَّ: دَعْوَةُ الْمَظْلُوْمِ وَدَعْوَةُ الْمُسَافِرِ وَدَعْوَةُ الْوَالِدِ عَلَی وَلَدِهِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْدَاوُدَ وَأَحْمَدُ.

وَقَالَ أَبُوْعِيْسَي: هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ.

الحديث رقم 87: أخرجه الترمذي في السنن، کتاب البر والصلة عن رسول اللہ ﷺ، باب: ما جاء في دعوةِ الوالدين، 4 / 314، الرقم: 1905، وفي کتاب: الدعوات عن رسول اللہ ﷺ، باب: ما ذکر في دعوة المسافر، 5 / 502، الرقم: 3448، وأبو داود في السنن، کتاب: الصلاة، باب: الدعاء بظهرالغيب، 2 / 89، الرقم: 1536، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 / 258، الرقم: 7501، 8564، 10199، 10719، 10781، وابن حبان في الصحيح، 6 / 416، الرقم: 2699، وابن أبي شيبة في المصنف، 6 / 105، الرقم: 29830، والبخاري في الأدب المفرد، 1 / 25، الرقم: 32، والطبراني في المعجم الأوسط، 1 / 12، الرقم: 24، والبيهقي في شعب الإيمان، 3 / 300، الرقم: 3594، والمنذري في الترغيب والترهيب، 4 / 43، الرقم: 4735.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین (قسم کے لوگوں کی) دعائیں بلا شک و شبہ مقبول ہیں: مظلوم کی دعا، مسافر کی دعا اور والد کی اپنی اولاد کے حق میں بددعا (سو والدین کی بددعا سے بچو)۔‘‘

فَصْلٌ فِي آدَابِ الْأَمْوَاتِ وَالْجَنَائِزِ

(مرحومین اور جنازہ کے آداب کا بیان)

1022 / 88. عَنْ أَنَسٍ رضی الله عنه قَالَ: مَرُّوْا بِجَنَازَةٍ فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا خَيْرًا، فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: وَجَبَتْ، ثُمَّ مَرُّوْا بِأُخْرَي فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا شَرًّا، فَقَالَ: وَجَبَتْ. فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رضی الله عنه: مَا وَجَبَتْ؟ قَالَ: هَذَا أَثْنَيْتُمْ عَلَيْهِ خَيْرًا، فَوَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ، وَهَذَا أَثْنَيْتُمْ عَلَيْهِ شَرًّا، فَوَجَبَتْ لَهُ النَّارُ، أَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللهِ فِي الْأَرْضِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

الحديث رقم 88: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: الجنائز، باب: ثناء الناس علي الميت، 1 / 460، الرقم: 1301، وفي کتاب: الشهادات، باب: تعديل کم يَجُوزُ، 2 / 934، الرقم: 2499، ومسلم في الصحيح، کتاب: الجنائز، باب: فيمن يثني عليه خير أو شر من الموتي، 2 / 655، الرقم: 949، والنسائي في السنن، کتاب: الجنائز، باب: الثناء، 4 / 49، الرقم: 1932، وفي السنن الکبري، 1 / 629، الرقم: 2059، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 186، الرقم: 12961، وابن أبي شيبة في المصنف، 3 / 46، الرقم: 11993، والبيهقي في السنن الکبري، 4 / 74، الرقم: 6974، والمنذري في الترغيب والترهيب، 4 / 181، الرقم: 5336.

’’حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ (کچھ لوگ) ایک جنازہ کے ساتھ (صحابہ کرام کے سامنے سے) گزرے تو انہوں نے اس (میت) کی تعریف کی، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: واجب ہو گئی۔ پھر (کچھ لوگ) دوسرے جنازہ کے ساتھ (صحابہ کرام کے سامنے سے) گزرے تو انہوں نے اس (میت) کی برائی بیان کی تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: واجب ہو گئی۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: (یا رسول اللہ !) کیا واجب ہو گئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کی تم نے تعریف کی ہے تو اس کے لئے جنت واجب ہو گئی اور جس کی تم نے برائی بیان کی تو اس کے لیے دوزخ واجب ہو گئی۔ تم زمین پر اللہ تعالیٰ کے گواہ ہو۔‘‘

1023 / 89. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: أَسْرِعُوْا بِالْجَنَازَةِ، فَإِنْ تَکُ صَالِحَةً فَخَيْرٌ تُقَدِّمُوْنَهَا، وَإِنْ يَکُ سِوَي ذَلِکَ، فَشَرٌّ تَضَعُوْنَهُ عَنْ رِقَابِکُمْ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وفي رواية لمسلم: فَخَيْرٌ تُقَدِّمُوْنَهَا عَلَيْهِ.

الحديث رقم 89: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: الجنائز، باب: السرعة بالجنازة، 1 / 442، الرقم: 1252، ومسلم في الصحيح، کتاب: الجنائز، باب: الإسراع في الجنازة، 2 / 651، الرقم: 944، وأبوداود في السنن، کتاب: الجنائز، باب: الإسراع بالجنازة، 3 / 205، الرقم: 3181، والنسائي في السنن، کتاب الجنائز، باب: السرعة بالجنازة، 4 / 41، الرقم: 1910، وفي السنن الکبري، 1 / 624، الرقم: 2037، وابن ماجه في السنن، کتاب: الجنائز، باب: ما جاء في شهود الجنازة، 1 / 474، الرقم: 1477، وابن أبي شيبة في المصنف، 2 / 479، الرقم: 11263، والبيهقي في السنن الکبري، 4 / 21، الرقم: 6635، والحميدي في المسند، 2 / 444، الرقم: 1022، والمنذري في الترغيب والترهيب، 4 / 179، الرقم: 331.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنازہ کو جلدی اُٹھاؤ کیونکہ اگر جنازہ نیک آدمی کا ہے تو یہ ایک خیر ہے جسے تم بھیج رہے ہو اور جنازہ اس کے سوا (یعنی کسی گنہگار شخص) کا ہے تو تم ایک برائی کو اپنی گردنوں سے اتار رہے ہو۔‘‘ اور مسلم کی ایک روایت کے الفاظ ہیں: تم اس پر بھلائی پیش کر رہے ہو۔

1024 / 90. عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الخُدْرِيِّ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: لَقِّنُوْا مَوْتَاکُمْ لَا إِلَهَ إِلاَّ اللهُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَالتِّرْمِذِيُّ.

وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ.

الحديث رقم 90: أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب: الجنائز، باب: تلقين الموتي لا إله إلا اللہ ، 2 / 631، الرقم: 916، والترمذي في السنن، کتاب: الجنائز عن رسول اللہ ﷺ، باب: ماجاء في تلقين المريض عند الموت والدعاء له عنده، 3 / 306، الرقم: 976، وأبو دواد في السنن، کتاب: الجنائز، باب: في التلقين، 3 / 190، الرقم: 3117، والنسائي في السنن، کتاب الجنائز، باب: تلقين الميت، 4 / 5، الرقم: 1826، وفي السنن الکبري، 1 / 601، الرقم: 1952، وابن ماجه في السنن، کتاب: الجنائز، باب: ماجاء في تلقين الميت لا إله إلا اللہ ، 1 / 464، 465، الرقم: 1444 - 1446، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 3، الرقم: 1006، والبزار في المسند، 6 / 208، الرقم: 2248.

’’حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے مرنے والوں کو (بوقت نزع) (لَا إِلَهَ إِلاَّ اللهُ) کی تلقین کیا کرو (یعنی ان کے پاس کلمہ طیبہ کا ورد کیا کرو)۔‘‘

1025 / 91. عَنْ عَائِشَةَ رضی الله عنها عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: مَا مِنْ مَيِتٍ تُصَلِّي عَلَيْهِ أُمَّةٌ مِنَ المُسْلِمِيْنَ يَبْلُغُوْنَ مِئَةً، کُلُّهُمْ يَشْفَعُوْنَ لَهُ إِلاَّ شُفِّعُوْا فِيْهِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَالتِّرْمِذِيُّ.

وَقَالَ أَبُوْعِيْسَي: هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ.

الحديث رقم 91: أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب: الجنائز، باب: من صلي عليه مائة شفعوا فيه، 2 / 654، الرقم: 947، والترمذي في السنن، کتاب: الجنائز عن رسول اللہ ﷺ، باب: ما جاء في الصلاة علي الجنازة والشفاعة للميت، 3 / 348، الرقم: 1029، والنسائي في السنن، کتاب: الجنائز، باب: فضل من صلي عليه مائة، 4 / 75، الرقم: 1991، وفي السنن الکبري، 1 / 644، الرقم: 2118، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 266، الرقم: 13830، والبيهقي في السنن الکبري، 4 / 30، الرقم: 6694، وفي شعب الإيمان، 7 / 4، الرقم: 9248، وأبو يعلي في المسند، 7 / 364، الرقم: 4398، 8 / 286، الرقم: 4874.

’’ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس میت پر بھی مسلمانوں کی ایک ایسی جماعت نماز جنازہ پڑھے جن کی تعداد سو تک پہنچتی ہو اور وہ تمام اس میت کی شفاعت (کی دعا) کریں تو اس (میت) کے حق میں ان کی شفاعت قبول ہوتی ہے۔‘‘

1026 / 92. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ يَقُوْلُ: إِذَا صَلَّيْتُمْ عَلَی الْمَيِتِ فَأَخْلِصُوْا لَهُ الدُّعَاءَ.

رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه وَصَحَّحَهُ ابْنُ حِبَّانَ.

الحديث رقم 92: أخرجه أبوداود في السنن، کتاب: الجنائز، باب: الدعاء للميت، 3 / 210، الرقم: 3199، وابن ماجه في السنن، کتاب: الجنائز، باب: ما جاء في الدعاء في الصلاة علي الجنازة، 1 / 480، الرقم: 1497، وابن حبان في الصحيح، 7 / 345، الرقم: 3076، والبيهقي في السنن الکبري، 4 / 40، الرقم: 6755.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: جب تم میت کی نماز جنازہ پڑھ چکو تو اس کے لئے خلوصِ دل سے (بخشش کی) دعا کیا کرو۔‘‘

1027 / 93. عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رضی الله عنه قَالَ: کَانَ النَّبِيُّ ﷺ إِذَا فَرَغَ مِنْ دَفْنِ الْمَيِتِ وَقَفَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: اسْتَغْفِرُوْا لِأَخِيْکُمْ وَسَلُوا لَهُ التَّثْبِيْتَ فَإِنَّهُ الآنَ يُسْأَلُ. رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَالْبَزَّارُ.

وَقَالَ الْحَاکِمُ: هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ.

الحديث رقم 93: أخرجه أبو داود في السنن، کتاب: الجنائز، باب الاستغفار عند القبر للميت في وقت الإنصراف، 3 / 215، الرقم: 3221، والبزار في المسند، 2 / 91، الرقم: 445، والحاکم في المستدرک، 1 / 526، الرقم: 1372، والمقدسي في الأحاديث المختارة، 1 / 522، الرقم: 378. وقال: إِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

’’حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کسی میت کی تدفین سے فارغ ہو جاتے تو اس کی قبر پر ٹھہرتے اور فرماتے: اپنے بھائی کے لئے مغفرت طلب کرو اور (اللہ تعالیٰ سے) اس کے لیے (حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ اقدس کے بارے میں پوچھے جانے والے سوالات میں) ثابت قدمی کی التجا کرو، کیونکہ اب اس سے سوال کئے جائیں گے۔‘‘

1028 / 94. عَنْ أَبِي رَافِعٍ أَسْلَمَ مَوْلَي رَسُوْلِ اللهِ ﷺ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ: مَنْ غَسَّلَ مَيِتًا فَکَتَمَ عَلَيْهِ، غَفَرَ اللهُ لَهُ أَرْبَعِيْنَ مَرَّةً.

رَوَاهُ الْحَاکِمُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ.

وَقَالَ الْحَاکِمُ: هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ عَلَی شَرْطِ مُسْلِمٍ.

الحديث رقم 94: أخرجه الحاکم في المستدرک، 1 / 505، الرقم: 1307، 1 / 516، الرقم: 1340، والطبراني في المعجم الکبير، 1 / 315، الرقم: 929: 8 / 281، الرقم: 8078، والبيهقي في شعب الإيمان، 2 / 9، الرقم: 9265، 9267، والمنذري في الترغيب والترهيب، 4 / 174، الرقم: 5305، والهيثمي في مجمع الزوائد، 3 / 21، وقال: رِجَالُهُ رِجَالُ الصحيح.

’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے (آزاد کردہ) غلام حضرت ابو رافع اسلم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی نے کسی میت کو غسل دیا اور اس کا (کوئی راز پایا اور پھر وہ) راز پوشیدہ رکھا تو اللہ تعالیٰ چالیس مرتبہ اس کی مغفرت فرمائے گا۔‘‘

فَصْلٌ فِي جَامِعِ الآدَابِ

(جامع آداب کا بیان)

1029 / 95. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: إِذَا عَطَسَ أَحَدُکُمْ، فَلْيَقُلِ: الْحَمْدُلِلهِ، وَلْيَقُلْ لَهُ أَخُوْهُ أَوْ صَاحِبُهُ: يَرْحَمُکَ اللهُ، فَإِذَا قَالَ لَهُ: يَرْحَمُکَ اللهُ، فَلْيًقُلْ: يَهْدِيْکُمُ اللهُ وَيُصْلِحُ بَالَکُمْ.

رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَالتِّرْمِذِيُّ.

الحديث رقم 95: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: الأدب، باب: إذا عطس کيف يُشَمِّتُ، 5 / 2298، الرقم: 5870، والترمذي في السنن، کتاب: الأدب عن رسول اللہ ﷺ، باب: ماجاء کيف تشميت العاطس، 5 / 83، الرقم: 2739.2741، وَ قَالَ أَبُوعِيسَي: هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ، وأبوداود في السنن، کتاب: الأدب، باب: ما جاء في تشميت العاطس، 4 / 307، الرقم: 5033، والنسائي في السنن الکبري، 6 / 61، الرقم: 10040، وابن ماجه في السنن، کتاب: الأدب، باب: تشميت العاطس، 2 / 1224، الرقم: 3715.

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص چھینکے تو (اَلحَمْدُلِلهِ) کہے، اور اس کا بھائی یا دوست (جو بھی سنے) وہ جواباً (يَرْحَمُکَ اللهُ) کہے اور جب اس کا بھائی (يَرْحَمُکَ اللهُ) کہے تو پھر وہ کہے (يَهْدِيْکُمُ اللهُ وَيُصْلِحُ بَالَکُمْ) ’’ اللہ تعالیٰ تمہیں ہدایت دے اور تمہارے حالات کو سنوارے۔‘‘

1030 / 96. عَنْ أَبِي مُوْسَی رضی الله عنه قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ يَقُوْلُ: إِذَا عَطَسَ أَحَدُکُمْ فَحَمِدَ اللهَ فَشَمِّتُوْهُ، فَإِنْ لَمْ يَحْمَدِ اللهَ فَلَا تُشَمِّتُوْهُ.

رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَأَحْمَدُ.

الحديث رقم 96: أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب: الزهد والرقائق، باب: تشميت العاطس وکراهة التثاؤب، 4 / 2292، الرقم: 2991، والبخاري في الأدب المفرد، 1 / 323، الرقم: 941، وأحمد بن حنبل في المسند، 4 / 412، والحاکم في المستدرک، 4 / 294، الرقم: 7690، وَقَالَ الحاکم: هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الإِسْنَادِ، والبزار في المسند، 8 / 121، الرقم: 3125، وابن أبي شيبة في المصنف، 5 / 268، الرقم: 9330 - 9331، والديلمي في مسند الفردوس، 1 / 297، الرقم: 1174.

’’حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جب تم میں سے کوئی شخص چھینکے اور (الْحَمْدُ لِلَّهِ) کہے تو تم اس کے لیے (يَرْحَمُکَ اللهُ) کہو اور اگر وہ (اَلحَمْدُلِلهِ) نہ کہے تو تم بھی (يَرْحَمُکَ اللهُ) نہ کہو۔‘‘

1031 / 97. عَنْ أَبِي مُوْسَی الأَشْعَرِيِّ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: الاِسْتِئْذَانُ ثَلَاثٌ، فَإِنْ أُذِنَ لَکَ وَإِلَّا فَارْجِعْ.

رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَالتِّرْمِذِيُّ وَمَالِکٌ.

الحديث رقم 97: أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب الآداب، باب: الاستئذان، 3 / 1694، الرقم: 2153، والترمذي في السنن، کتاب: الاستئذان والآداب عن رسول اللہ ﷺ، باب: ما جاء في الاستئذان ثلاثة، 5 / 54، الرقم: 2691، ومالک في الموطأ، 2 / 963، الرقم: 1730، 1731، وابن أبي شيبة في المصنف، 5 / 268، الرقم: 2597، والب

يهقي في شعب الإيمان، 6 / 441، الرقم: 8817، وأبو المحاسن في معتصر المختصر، 2 / 233.

’’حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (کسی گھر میں داخل ہونے کے لئے) تین مرتبہ اجازت طلب کرو، اگر اجازت مل جائے تو ٹھیک ہے وگرنہ واپس لوٹ جاؤ۔‘‘

1032 / 98. عَنْ ثَوْبَانَ رضی الله عنه مَوْلَي رَسُوْلِ اللهِ ﷺ عَنْ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ قَالَ: مَنْ عَادَ مَرِيْضًا، لَمْ يَزَلْ فِي خُرْفَةِ الْجَنَّةِ. قِيْلَ: يَا رَسُوْلَ اللهِ! وَمَا خُرْفَةُ الْجَنَّةِ؟ قَالَ: جَنَاهَا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَالتِّرْمِذِيُّ.

وَقاَلَ أَبُوْعِيْسَي: حَدِيْثُ ثَوْبَانَ حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ.

الحديث رقم 98: أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب: البر والصلة والآداب، باب: فضل عيادة المريض، 4 / 1989، الرقم: 2568، والترمذي في السنن، کتاب: الجنائز، باب: ما جاء في عيادة المريض، 3 / 299. 300، الرقم: 967. 968، والبخاري في الأدب المفرد، 1 / 184، الرقم: 521، وأحمد بن حنبل في المسند، 5 / 277، الرقم: 22443، وابن أبي شيبة في المصنف، 2 / 443، الرقم: 10832، والبيهقي في السنن الکبري، 3 / 380، الرقم: 6371، والطبراني في المعجم الکبير، 2 / 101، الرقم: 1445، والطيالسي في المسند، 1 / 132، الرقم: 988.

’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غلام حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے مریض کی عیادت کی وہ ہمیشہ خرفہ جنت میں رہے گا، عرض کیا گیا: یا رسول اللہ ! خرفہ جنت سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خرفہ جنت کا ایک باغ ہے۔‘‘

1033 / 99. عَنْ عَلِيٍّ رضی الله عنه قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ يَقُوْلُ: مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَعُوْدُ مُسْلِمًا غُدْوَةً إِلاَّ صَلَّي عَلَيْهِ سَبْعُوْنَ أَلْفَ مَلَکٍ حَتَّی يُمْسِيَ، وَإِنْ عَادَهُ عًشِيَةً إِلاَّ صَلَّي عَلَيْهِ سَبْعُوْنَ أَلْفَ مَلَکٍ حَتَّی يُصْبِحَ، وَکَانَ لَهُ خَرِيْفٌ فِي الْجَنَّةِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْدَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه.

وَقَالَ أَبُوْعِيْسَي: هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ.

الحديث رقم 99: أخرجه الترمذي في السنن، کتاب: الجنائز عن رسول اللہ ﷺ، باب: ما جاء في عيادة المريض، 3 / 300، الرقم: 969، وأبوداود في السنن، کتاب: الجنائز، باب: في فضل العيادة علي وضوء، 3 / 185، الرقم: 3098، وابن ماجه في السنن، کتاب: الجنائز، باب: ما جاء في ثواب من عاد مريضا، 1 / 463، الرقم: 1442، وابن حبان في الصحيح، 7 / 224، الرقم: 2958، وأحمد بن حنبل في المسند، 1 / 118، الرقم: 955، والبزار في المسند، 3 / 28، الرقم: 777، والطبراني في المعجم الأوسط، 7 / 266، الرقم: 7464، والمقدسي في الأحاديث المختارة، 2 / 319، الرقم: 698.

’’حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں: جو مسلمان بھی صبح کے وقت کسی مسلمان کی بیمار پرسی کرتا ہے تو ستر ہزار فرشتے شام تک اس کے لیے دعا کرتے رہتے ہیں اور اگر وہ شام کے وقت اس کی بیمار پرسی کرے تو ستر ہزار فرشتے صبح تک اس کے لیے دعا کرتے رہتے ہیں، اور جنت میں اس کے لئے باغ ہو گا۔‘‘

1034 / 100. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ إِذَا عَطَسَ وَضَعَ يَدَهُ أَوْ ثَوْبَهُ عَلَی فِيْهِ وَخَفَضَ أَوْ غَضَّ بِهَا صَوْتَهُ.

رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ.

وَقَالَ أَبُوْعِيْسَي: هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ.

الحديث رقم 100: أخرجه الترمذي في السنن، کتاب: الأدب عن رسول اللہ ﷺ، باب: ما جاء في خفض الصوت وتخمير الوجه عند العطاس، 5 / 86، الرقم: 2745، وأبو داود في السنن، کتاب: الأدب، باب: في العطاس، 4 / 307، الرقم: 5029، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 / 439، الرقم: 9660، والحاکم في المستدرک، 4 / 325، الرقم: 7796، وقال الحاکم: هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الإِسْنَادِ، ونحوه الطبراني في المعجم الأوسط، 2 / 237، الرقم: 1849، وأبو يعلي في المسند، 12 / 17، الرقم: 6663.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چھینک آتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنا دستِ مبارک یا کپڑا منہ مبارک پر رکھتے اور آواز کو (نہایت) پست رکھتے۔‘‘

1035 / 101. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ نَفْسُ الْمُؤْمِنِ مُعَلَّقَةٌ بِدَيْنِهِ، حَتَّی يُقْضَي عَنْهُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه.

وَقَالَ أَبُوْعِيْسَي: هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ. وَقَالَ الْحَاکِمُ: هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ.

الحديث رقم 101: أخرجه الترمذي في السنن، کتاب: الجنائز عن رسول اللہ ﷺ، باب: ما جاء عن النبي ﷺ أنه قال: إنَّ نفسَ المؤمن معلقة بدينه حتي يقضي عنه، 3 / 389، الرقم: 1078 - 1079، وابن ماجه في السنن، کتاب: الصدقات، باب: التشديد في الدين، 2 / 806، الرقم: 2413، والحاکم في المستدرک، 2 / 32، الرقم: 2219، وابن حبان في الصحيح، 7 / 331، الرقم: 3061، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 / 440، الرقم: 9677، والدارمي في السنن، 2 / 340، الرقم: 2591، والشافعي في المسند، 1 / 361، والبيهقي في السنن الکبري، 4 / 61، الرقم: 6891.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مومن کی روح قرض (کے بوجھ) کی وجہ سے لٹکی رہتی ہے یہاں تک کہ اس کا قرض ادا کر دیا جائے۔‘‘

1036 / 102. عَنْ أَبِي مُوْسَی رضی الله عنه عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: کُلُّ عَيْنٍ زَانِيَةٌ، وَالْمَرْأَةُ إِذَا اسْتَعْطَرَتْ، فَمَرَّتْ بِالْمَجْلِسِ، فَهِيَ کَذَا وَکَذَا، يَعْنِي زَانِيَةً. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

وَقَالَ أَبُوْعِيْسَي: هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

1037 / 103. وفي رواية عنه: أَيُّمَا امْرَأَةٍ اسْتَعْطَرَتْ فَمَرَّتْ عَلَی قَوْمٍ لِيَجِدُوْا مِنْ رِيْحِهَا فَهِيَ زَانِيَةٌ. رَوَاهُ النَّسَائِيُّ وَالْحَاکِمُ وَأَحْمَدُ.

وَقَالَ الْحَاکِمُ: حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الإِسْنَادِ.

الحديث رقم 102 / 103: أخرجه الترمذي في السنن، کتاب: الآداب عن رسول اللہ ﷺ، باب: ما جاء في کراهية المرأة متعطرة، 5 / 106، الرقم: 2786، والنسائي في السنن، کتاب: الزينة، باب: ما يکره للنساء من الطيب، 8 / 153، الرقم: 5126، وفي السنن الکبري، 5 / 430، الرقم: 9422، وأحمد بن حنبل في المسند، 4 / 413، والحاکم في المستدرک، 2 / 430، الرقم: 3497، وابن حبان في الصحيح، 10 / 270، الرقم: 4424، والبيهقي في السنن الکبري، 3 / 246، الرقم: 5769.

’’حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر وہ آنکھ (جو کسی غیر محرم کو دیکھتی ہے) زناکار ہے اور عورت جب خوشبو لگا کر کسی مجلس کے پاس سے گزرتی ہے تو وہ ایسی اور ایسی ہے یعنی زانیہ ہے۔‘‘

اور حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے ہی مروی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی عورت اس لئے خوشبو لگا کر (یعنی خود کو معطر کرکے) کسی مجلس کے پاس سے گزرتی ہے کہ لوگ اس کی خوشبو محسوس کریں تو وہ زانیہ ہے۔

1038 / 104. عَنْ أَبِي ذَرٍّ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: لَا عَقْلَ کَالتَّدْبِيْرِ. وَلَا وَرَعَ کَالْکَفِّ. وَلَا حَسَبَ کَحُسْنِ الْخُلُقِ.

رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه وَابْنُ حِبَّانَ وَالطَّبَرَانِيُّ.

الحديث رقم 104: أخرجه ابن ماجه في السنن، کتاب: الزهد، باب: الورع والتقوي، 2 / 1410، الرقم: 4218، وابن حبان في الصحيح، 2 / 79، الرقم: 361، والطبراني في المعجم الکبير، 2 / 157، الرقم: 1651، والبيهقي في شعب الإيمان، 4 / 157، الرقم: 4646، والقضاعي في مسند الشهاب، 2 / 39، الرقم: 837، والديلمي في مسند الفردوس، 5 / 179، الرقم: 7889.

’’حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تدبیر کے برابر کوئی عقل مندی نہیں، حرام سے اجتناب کرنے سے بڑھ کر کوئی پرہیز گاری نہیں اور عمدہ اخلاق سے اعلیٰ کوئی حسب و نسب نہیں۔‘‘

1039 / 105. عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی الله عنه عَنْ سَلْمَانَ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَدْخُلُ عَلَی أَخِيْهِ الْمُسْلِمِ فَيُلْقِي إِلَيْهِ وِسَادَةً إِکرَامًا لَهُ وَإِعْظَامًا لَهُ إِلَّا غَفَرَ اللهُ لَهُ. رَوَاهُ الْحَاکِمُ وَالطَّبَرَانِيُّ.

الحديث رقم 105: أخرجه الحاکم في المستدرک، 3 / 692، الرقم: 6542، والطبراني في المعجم الصغير، 2 / 50، الرقم: 761، وفي المعجم الکبير، 6 / 227، الرقم: 6068، والهيثمي في مجمع الزوائد، 8 / 174.

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی مسلمان اپنے مسلمان بھائی کے پاس جائے اور وہ اس کے اکرام اور تعظیم میں اسے (ٹیک لگانے کے لئے) تکیہ پیش کرے (اور اس کے ساتھ اچھا سلوک کرے) تو اللہ تعالیٰ اسی وقت اس کی مغفرت فرما دیتا ہے۔‘‘

1040 / 106. عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضی الله عنهما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: الاِقْتِصَادُ فِي النَّفَقَةِ نِصْفُ الْمَعِيْشَةِ، وَالتَّوَدُّدُ إِلَي النَّاسِ نِصْفُ الْعَقْلِ، وَحُسْنُ السُّؤَالِ نِصْفُ الْعِلْمِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ.

الحديث رقم 106: أخرجه الطبراني في المعجم الأوسط، 7 / 25، الرقم: 6744، والبيهقي في شعب الإِيمان، 5 / 254، الرقم: 6568، والديلمي في مسند الفردوس، 2 / 75، الرقم: 3421، والهيثمي في مجمع الزوائد، 1 / 160.

’’حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خرچ میں میانہ روی نصف معیشت ہے اور لوگوں سے محبت (سے پیش آنا) نصف عقل ہے اور اچھے طریقہ سے سوال کرنا بھی نصف علم ہے۔‘‘

Copyrights © 2020 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved