المنہاج السوی من الحدیث النبوی

امت محمدیہ کا عز و شرف

اَلْبَابُ الثَّانِي عَشَرَ: شَرَفُ هَذِهِ الْأُمَّةِ

(اُمتِ محمدیہ کا عِزّ و شرف)

1. فَصْلٌ فِي شَرَفِ الْأُمَّةِ الْمُحَمَّدِيَةِ

(اُمتِ محمدیہ کے شرف کا بیان)

2. فَصْلٌ فِي فَضْلِ آخِرِالْأُمَّةِ المُحَمَّدِيَةِ

(آخری زمانہ میں امت محمدیہ کی فضیلت کا بیان)

3. فَصْلٌ فِي أَنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ لَا تَجْتَمِعُ عَلَی الضَّلَالَةِ

(اس اُمت کے کبھی بھی گمراہی پر جمع نہ ہونے کا بیان)

4. فَصْلٌ فِي أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ کَانَ لَا يَخْشَي عَلىٰ أُمَّتِهِ أَنْ تُشْرِکَ بَعْدَهُ

(حضور ﷺ کو اپنے بعد اُمت کے شرک میں مبتلا ہونے کا اندیشہ نہ تھا)

5. فَصْلٌ فِي بَعْثِ الْأَئِمَّةِ الْمُجَدِّدِيْنَ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ

(اس اُمت میں اَئمہ مجددین کے بھیجے جانے کا بیان)

فَصْلٌ فِي شَرَفِ الْأُمَّةِ الْمُحَمَّدِيَةِ

(اُمتِ محمدیہ کے شرف کا بیان)

801 / 1. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضی الله عنهما قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ ﷺ: عُرِضَتْ عَلَيَّ الْأُمَمُ، فَأَجِدُ النَّبِيَّ يَمُرُّمَعَهُ الْأُمَّةُ، وَالنَّبِيُّ يَمُرُّمَعَهُ النَّفَرُ، وَالنَّبِيُّ يَمُرُّ مَعَهُ الْعَشَرَةُ، وَالنَّبِيُّ يَمُرُّمَعَهُ الْخَمْسَةُ، وَالنَّبِيُّ يَمُرُّ وَحْدَهُ، فَنَظَرْتُ فَإِذَا سَوَادٌ کَثِيْرٌ، قُلْتُ: يَا جِبْرِيْلُ، هَؤُلَاءِ اُمَّتِي؟ قَالَ: لَا، وَلَکِنِ انْظُرْ إِلَي الْأُفُقِ، فَنَظَرْتُ فَإِذَا سَوَادٌ کَثِيْرٌ، قَالَ: هَؤُلَاءِ أُمَّتُکَ، وَهَؤُلَاءِ سَبْعُوْنَ الْفًا قُدَّامَهُمْ لَا حِسَابَ عَلَيْهِمْ وَلَا عَذَابَ، قُلْتُ: وَلِمَ؟ قَالَ: کَانُوْ لَا يَکْتَوُوْنَ، وَلَا يَسْتَرْقُوْنَ، وَلَا يَتَطَيَرُوْنَ وَعَلىٰ رَبِّهِمْ يَتَوَکَّلُوْنَ. فَقَامَ إِلَيْهِ عُکَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ فَقَالَ: ادْعُ اللهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، قَالَ: اًللَّهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْهُمْ. ثُمَّ قَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ آخَرُ قَالَ: زادْعُ اللهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ قَالَ: سَبَقَکَ بِهَا عُکَّاشَةُ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

الحديث الرقم 1: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: الرقاق، باب: يدخل الجنَّة سبعون أَلفا بغير حسابٍ، 5 / 2396، الرقم: 6175، وفي کتاب: الطب، باب: مَنِ اکْتَوَي أَو کَوَي غيرَهُ، وفضل من لم يَکْتَوِ، 5 / 2157، الرقم: 5378، وفي کتاب: الطب، باب: من لَمْ يَرْقِ، 5 / 2170، الرقم: 5420، وفي کتاب: الأنبياء، باب: وفاة موسي وذکرِهِ بعدُ، 3 / 1251، الرقم: 3229، ومسلم في الصحيح، کتاب: الإيمان، باب: الدليل علي دخول طوائف من المسلمين الجنة بغير حساب ولا عذاب، 1 / 179. 199، الرقم: 216. 220، والترمذي في السنن، کتاب: صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول اللہ ﷺ، باب: (16)، 4 / 631، الرقم: 2446، والنسائي في السنن الکبري، 4 / 378، الرقم: 7604، وابن حبان في الصحيح، 13 / 447. 448، الرقم: 6084، 6430، والدارمي في السنن، 2 / 422، الرقم: 2807، وأحمد بن حنبل في المسند، 1 / 271، الرقم: 2448، وأبو يعلي في المسند، 9 / 233، الرقم: 5340، والطبراني في المعجم الکبير، 18 / 241، الرقم: 605.

’’حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مجھ پر (تمام) امتیں پیش کی گئیں پس ایک نبی گزرنے لگا اور اس کے ساتھ اس کی امت تھی ایک نبی ایسا بھی گزرا کہ اس کے ساتھ چند افراد تھے، ایک نبی کے ساتھ دس آدمی، ایک نبی کے ساتھ پانچ آدمی، ایک نبی صرف تنہا، میں نے نظر دوڑائی تو ایک بڑی جماعت نظر آئی میں نے پوچھا: اے جبرئیل! کیا یہ میری امت ہے؟ عرض کیا: نہیں، بلکہ (یا رسول اللہ!) آپ افق کی جانب توجہ فرمائیں، میں نے دیکھا تو وہ بہت ہی بڑی جماعت تھی۔ عرض کیا: یہ آپ کی امت ہے اور یہ جو ستر ہزار ان کے آگے ہیں ان کے لئے نہ حساب ہے نہ عذاب، میںنے پوچھا: کس وجہ سے؟ انہوں نے کہا: یہ لوگ داغ نہیں لگواتے تھے، غیر شرعی جھاڑ پھونک نہیں کرتے تھے، شگون نہیں لیتے تھے اور اپنے رب پر (کامل) بھروسہ رکھتے تھے۔ حضرت عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر عرض کیا: (یا رسول اللہ!) اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے بھی ان لوگوں میں شامل فرما لے۔ آپ ﷺ نے دعا فرمائی: اے اللہ، اسے ان لوگوں میں شامل فرما۔ پھر دوسرا آدمی کھڑا ہو کر عرض گزار ہوا: (یا رسول اللہ!) اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ مجھے بھی ان میں شامل فرما لے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: عکاشہ تم سے سبقت لے گیا۔ ‘‘

802 / 2. عَنْ عَبْدِ اللهِ رضى الله عنه قَالَ: کُنَّا مَعَ النَّبِيِّ ﷺ فِي قُبَّةٍ، فَقَالَ: أَتَرْضَوْنَ أَنْ تَکُوْنُوْا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ. قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، إِنِّي لَأَرْجُوْ أَنْ تَکُوْنُوْا نِصْفَ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَذَلِکَ أَنَّ الْجَنَّةَ لَا يَدْخُلُهَا إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ، وَمَا أَنْتُمْ فِي أَهْلِ الشِّرْکِ إِلَّا کَالشَّعْرَةِ الْبَيْضَاءِ فِي جِلْدِ الثَّوْرِ الْأَسْوَدِ، أَوْ کَالشَّعْرَةِ السَّوْدَاءِ فِي جِلْدِ الثَّوْرِ الْأَحْمَرِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

الحديث الرقم 2: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: الرقاق، باب: کيف الحشر، 5 / 2392، الرقم: 6163، وفي کتاب: الأيمان والنذور، باب: کيف کانت يمين النبي ﷺ، 6 / 2448، الرقم: 6266، ومسلم في الصحيح، کتاب: الإيمان، باب: کون هذه الأمة نصف أهل الجنة، 1 / 200، الرقم: 221، والترمذي في السنن، کتاب: صفة الجنة عن رسول اللہ ﷺ، باب: ما جاء في صف أهل الجنة، 4 / 684، الرقم: 2547، وَ قَالَ: هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْح، وابن ماجه في السنن، کتاب: الزهد، باب: صفة أمة محمد ﷺ، 2 / 1432، الرقم: 4283، والنسائي في السنن الکبري، 6 / 409، الرقم: 11339، وأحمد بن حنبل في المسند، 1 / 386، الرقم: 3661، والبزار في المسند، 5 / 237، الرقم: 1850.

’’حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ ہم ایک قبہ (یعنی مکان) میں تھے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تم اس بات پر راضی ہو کہ اہلِ جنت کا تہائی حصہ تم (میں سے) ہو؟ ہم نے عرض کیا: ہاں۔ فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں محمد مصطفیٰ کی جان ہے! مجھے امید ہے کہ تم (تعداد میں) اہل جنت میں سے نصف ہو گے اور وہ یوں کہ جنت میں مسلمان کے سوا کوئی داخل نہیں ہو گا اور مشرکوں کے مقابلے میں تم یوں ہو جیسے کالے بیل کی جلد پر ایک سفید بال یا سرخ بیل کی جلد پر ایک کالا بال۔ ‘‘

803 / 3. عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ رضی الله عنهما عَنْ أَبِيْهِ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: أَهْلُ الْجَنَّةِ عِشْرُوْنَ وَمِائَةُ صَفٍّ، ثَمَانُوْنَ مِنْهَا مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ، وَأَرْبَعُوْنَ مِنْ سَائِرِ الْأُمَمِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه.

وَقَالَ أَبُوْعِيْسَي: هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ. وَقَالَ الْحَاکِمُ: هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ.

الحديث الرقم 3: أخرجه الترمذي في السنن، کتاب: صفة الجنة عن رسول اللہ ﷺ، باب: ما جاء في کم صَفّ أهل الجنّة، 4 / 683، الرقم: 2546، وابن ماجه في السنن، کتاب: الزهد، باب: صفة أمة محمد ﷺ، 2 / 1434، الرقم: 4289، وأحمد بن حنبل في المسند، 5 / 347، الرقم: 22990، 23052، 23111، والدارمي في السنن، 2 / 434، الرقم: 2835، وابن حبان في الصحيح، 16 / 498، الرقم: 7459، والبزار في المسند، 5 / 368، الرقم: 1999، وابن أبي شيبة في المصنف، 6 / 315، الرقم: 31713، والحاکم في المستدرک، 1 / 155، الرقم: 273، والطبراني في المعجم الصغير، 1 / 67، الرقم: 82، في المعجم الأوسط، 2 / 77، الرقم: 1310، وفي المعجم الکبير، 10 / 184، الرقم: 10398، وأبويعلي في المعجم، 1 / 183، الرقم: 211.

’’حضرت سلیمان بن بریدہ رضی اللہ عنھما نے اپنے والد سے روایت کیا ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جنتیوں کی ایک سو بیس صفیں ہوں گی جن میں سے اسی (80) صفیں میری اُمت کی ہوں گی اور باقی تمام امتوں کی صرف چالیس (40) صفیں ہوں گی۔ ‘‘

804 / 4. عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رضى الله عنه عَنْ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ قَالَ: الْجَنَّةُ حُرِّمَتْ عَلىٰ الْأَنْبِيَاءِ حَتَّي أَدْخُلَهَا‘ وَحُرِّمَتْ عَلىٰ الْأُمَمِ حَتَّي تَدْخُلَهَا أُمَّتِي. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

الحديث الرقم 4: أخرجه الطبراني في المعجم الأوسط، 1 / 289، الرقم: 942، والهيثمي في مجمع الزوائد، 10 / 69، والهندي في کنزل العمال، 11 / 416، الرقم: 31953.

’’حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جنت تمام انبیاء کرام علیھم السلام پر اس وقت تک حرام کر دی گئی ہے جب تک میں اس میں داخل نہ ہو جاؤں اور تمام اُمتوں پر اس وقت تک حرام ہے جب تک کہ میری امت اس میں داخل نہ ہو جائے۔ ‘‘

805 / 5. عَنْ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ رضى الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: إِنَّ اللهَ تَجَاوَزَ عَنْ أُمَّتِي الْخَطَأَ وَالنِّسْيَانَ، وَمَا اسْتُکْرِهُوْا عَلَيْهِ.

رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه وَابْنُ حِبَّانَ وَالْبَيْهَقِيُّ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الثَلَاثَةِ.

وَقَالَ الْحَاکِمُ: هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ.

الحديث الرقم 5: أخرجه ابن ماجه في السنن، کتاب: الطلاق، باب: طلاق المکره والناسي، 1 / 659، الرقم: 2043، وابن حبان عن بن عباس رضی الله عنهما في الصحيح، 16 / 202، الرقم: 7219، والحاکم في المستدرک، 2 / 216، الرقم: 2801، والدارقطني في السنن، 4 / 170، الرقم: 33، وابن أبي شيبة في المصنف، 4 / 172، الرقم: 204، وعبد الرزاق نحوه في المصنف، 6 / 410، الرقم: 11417، والطحاوي في شرح معاني الآثار، 3 / 95، والبيهقي في السنن الکبري، 7 / 356، الرقم: 14871، والطبراني في المعجم الصغير، 2 / 52، الرقم: 766 وفي المعجم الأوسط، 8 / 161، الرقم: 8273، وفي المعجم الکبير، 2 / 97، الرقم: 1430، وفي مسند الشاميين، 2 / 152، الرقم: 1090.

’’حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے میری امت سے خطا، نسیان اور جبر و اکراہ معاف فرما دیا ہے۔ ‘‘

806 / 6. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضى الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: إِنَّ اللهَ عزوجل تَجَاوَزَ لِأُمَّتِي عَمَّا حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسُهَا مَا لَمْ تَعْمَلْ أَوْ تَکَلَّمْ بِهِ.

رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَه.

الحديث الرقم 6: أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب: الإيمان، باب: تجاوز اللہ عن حديث النفس والخواطر بالقلب إذا لم تستقر، 1 / 116، الرقم: 127، وابن ماجه في السنن، کتاب: الطلاق، باب: من طلّق في نفسه ولم يتکلم به، 1 / 658، الرقم: 2040، والنسائي في السنن الکبري، 3 / 360، الرقم: 5628، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 / 255، الرقم: 7464، وابن خزيمة في الصحيح، 2 / 52، الرقم: 898، وابن حبان في الصحيح، 10 / 179، الرقم: 4335، وابن أبي شيبة في المصنف، 4 / 85، وأبويعلي في المسند، 11 / 276، الرقم: 6389، والبيهقي في شعب الإيمان 1 / 299، الرقم: 332.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے میری امت سے ان کی دل کی باتوں (یعنی وساوس و خیالات) کو معاف فرما دیا ہے جب تک وہ اس پر عمل نہ کرے یا زبان سے نہ کہے۔ ‘‘

807 / 7. عَن مِحْجَنِ بْنِ الْأَدْرَعِ السُّلَمِيِّ رضى الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: إِنَّ اللهَ رَضِيَ لِهَذِهِ الأُمَّةِ الْيُسْرَ وَکَرِهَ لَهَا الْعُسْرَ قَالَهَا ثَلَاثًا.

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِرِجَالِ الصَّحِيْحِ.

الحديث الرقم 7: أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 20 / 298، الرقم: 707، والهيثمي في مجمع الذوائد، 4 / 15، والحارث في المسند (زوائد الهيثمي)، 1 / 343، الرقم: 237.

’’حضرت محجن بن ادرع سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اس امت (محمدیہ) کے لئے آسانی کو پسند فرمایا ہے اور (اس کے لئے) تنگی کو ناپسند فرمایا ہے۔ آپ ﷺ نے یہ جملہ تین مرتبہ بیان فرمایا۔ ‘‘

808 / 8. عَنْ حُذَيْفَةَ رضى الله عنه قَالَ: يَوْمًا سَجَدَ النَّبِيُّ ﷺ فَلَمْ يَرْفَعْ رَأْسَهُ حَتَّي ظَنَنَّا أَنْ نَفْسَهُ قُبِضَتْ فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ: رَبِّي اسْتَشَارَنِي. . . وَفِيْهِ: وَأَحَلَّ لَنَا کَثِيْرًا مِمَّا شَدَّدَ عَلىٰ مَنْ قَبْلَنَا وَلَمْ يَجْعَلْ عَلَيْنَا فِي الدُّنْيَا مِنْ حَرَجٍ. رَوَاهُ أَحْمَدُ.

الحديث الرقم 8: أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 5 / 393، الرقم: 23384، والهيثمي في مجمع الزوائد، 5 / 393.

’’حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک روز حضور نبی اکرم ﷺ نے اتنا طویل سجدہ فرمایا کہ ہم نے گمان کیا شاید آپ ﷺ کا وصال اقدس ہو گیا ہے پھر جب آپ ﷺ سجدہ سے فارغ ہوئے تو فرمایا: میرے رب نے مجھ سے میری امت کے بارے میں مشورہ طلب کیا۔ ۔ ۔ اس میں بیان فرمایا: اور ہمارے لئے وہ بہت سی چیزیں حلال کر دیں جو ہم سے قبل (امتوں پر) ممنوع تھیں اور ہم پر اس دنیا میں کوئی تنگی (روا) نہیں رکھی۔ ‘‘

809 / 9. عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رضى الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: أَنَا أَوَّلُ مَنْ يُؤْذَنُ لَهُ بِالسُّجُوْدِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ يُؤْذَنُ لَهُ أَنْ يَرْفَعَ رَأْسَهُ، فَأَنْظُرَ إِلَي بَيْنَ يَدَيَّ، فَأَعْرِفَ أُمَّتِي مِنْ بَيْنِ الْأُمَمِ، وَمِنْ خَلْفِي مِثْلُ ذَلِِکَ، وَعَنْ يَمِيْني مِثْلُ ذَلِکَ. فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا رَسُوْلَ اللهِ! کَيْفَ تَعْرِفُ أُمَّتَکَ مِنْ بَيْنِ الْأُمَمِ فِيْمَا بَيْنَ نُوْحٍ إِلَي أُمَّتِکَ؟ قَالَ: هُمْ غُرٌّ مُحَجَّلُوْنَ مِنْ أَثَرِ الْوُضُوْءِ، لَيْسَ أَحَدٌ کَذَلِکَ غَيْرُهُمْ، وَأَعْرِفُهُمْ أَنَّهُمْ يُؤْتُوْنَ کُتُبَهُمْ بِأَيْمَانِهِمْ، وَأَعْرِفُهُمْ يَسْعَي بَيْنَ أَيْدِيْهِمْ ذُرِّيَتُهُمْ.

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْحَاکِمُ وَالْبَيْهَقِيُّ.

وَقَالَ الْحَاکِمُ: هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الإِسْنَادِ.

الحديث الرقم 9: أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 5 / 199، الرقم: 21785، والحاکم في المستدرک، 2 / 520، الرقم: 3784، وابن حبان نحوه في الصحيح، 3 / 324، الرقم: 1049، والبيهقي في شعب الإيمان، 3 / 17، الرقم: 2745، والطيالسي في المسند، 1 / 48، الرقم: 361، والمنذري في الترغيب والترهيب، 1 / 91، الرقم: 286، والهيثمي في مجمع الزوائد، 1 / 225: 2 / 250: 10 / 344 وقال: رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

’’حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میں ہی سب سے پہلا شخص ہوں گا جسے قیامت کے دن (بارگاہِ الٰہی میں) سجدہ کرنے کی اجازت دی جائے گی اور میں ہی ہوں گا جسے سب سے پہلے سر اٹھانے کی اجازت ہو گی۔ سو میں اپنے سامنے دیکھوں گا اور اپنی امت کو دوسری امتوں کے درمیان بھی پہچان لوں گا۔ اسی طرح اپنے پیچھے اور اپنی داہنی طرف بھی انہیں دیکھ کر پہچان لوں گا۔ ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ اپنی امت کو دوسری امتوں کے درمیان کیسے پہچانیں گے جبکہ ان میں حضرت نوح علیہ السلام کی امت سے لے کر آپ ﷺ امت تک کے لوگ ہوں گے؟۔ ۔ ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ان کے اعضاء وضو کے اثر سے چمک رہے ہوں گے اور ان کے سوا کسی اور(امت) کے ساتھ ایسا نہیں ہو گا اور میں انہیں پہچان لوں گا کہ ان کا نامہ اعمال ان کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا اور انہیں پہچان لوں گا کہ ان کے آگے ان کی اولاد دوڑتی ہو گی۔ ‘‘

810 / 10. عَنْ أَبِي ذَرٍّ وَأَبِي الدَّرْدَاءِ رضی الله عنهما أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ: إِنِّي لأَعْرِفُ أُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ بَيْنِ الْأُمَمِ. قَالُوْا: يَا رَسُوْلَ اللهِ، وَکَيْفَ تَعْرِفُ أُمَّتَکَ؟ قَالَ: أَعْرِفُهُمْ يُؤْتَوْنَ کُتُبَهُمْ بِأَيْمَانِهِمْ. وَأَعْرِفُهُمْ بِسِيْمَاهُمْ فِي وُجُوْهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُوْدِ، وَأَعْرِفُهُمْ بِنُوْرِهِمْ يَسْعَي بَيْنَ أَيْدِيْهِمْ. رَوَاهُ أَحْمَدُ بِإِسْنَادٍ جَيِدٍ.

الحديث الرقم 10: أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 5 / 199، الرقم: 21788.

’’حضرت ابوذر اور حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہما سے مروی ایک روایت میں ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میں قیامت کے روز ضرور اپنی امت کو دوسری امتوں کے درمیان پہچان لوں گا۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ اپنی امت کو کیسے پہچانیں گے؟ فرمایا: میں انہیں پہچان لوں گا کہ ان کا نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا اور ان کی پیشانیوں پر سجدوں کا اثر ہوگا اور میں انہیں ان کے نور سے پہچان لوں گا جو ان کے آگے آگے دوڑ رہا ہو گا۔ ‘‘

811 / 11. عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ رضى الله عنه يَقُوْلُ: تَخْرُجُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثُلَّةٌ غُرٌّ مُحَجَّلُوْنَ يَسُدُّ الأُفُقَ نُوْرُهُمْ مِثْلُ الشَّمْسِ فَيُنَادِي مُنَادٍ: النَّبِيُّ الْأُمِّيُّ فَيَتَحَسَّسُ لَهَا کُلُّ نَبِيٍّ أُمِّيٍّ، فَيُقَالُ: مُحَمَّدٌ وَأُمَّتُهُ، فَيَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ لَيْسَ عَلَيْهِمْ حَسَابٌ وَلَا عَذَابٌ، ثُمَّ تَخْرُجُ ثُلَّةٌ أُخْرَي غُرٌّ مُحَجَّلُوْنَ نُوْرُهُم مِثْلُ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ يَسُدُّ الْأُفُقَ نُوْرُهُمْ، فَيُنَادِي مُنَادٍ: النَّبِيُّ الْأُمِّيُّ فَيَتَحَسَّسُ لَهَا کُلُّ نَبِيٍّ أُمِّيٍّ، فَيُقَالُ: مُحَمَّدٌ وَأُمَّتُهُ، فَيَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَلَا عَذَابٍ، ثُمَّ تَخْرُجُ ثُلَّةٌ أُخْرَي غُرٌ مُحَجَّلُوْنَ نُوْرُهُمْ مِثْلُ أَعْظَمِ کَوْکَبٍ فِي السَّمَاءِ يَسُدُّ الْأُفُقَ نُوْرُهُمْ، فَيُنَادِي مُنَادٍ: النَّبِيُّ الأُمِيُّ، فَيَتَحَسَّسُ لَهَا کُلُّ نَبِيٍّ أُمِّيٍّ فَيُقَالُ: مُحَمَّدٌ وَأُمَّتُهُ فَيَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَلَا عَذَابٍ، ثُمَّ يَجِيئُ رَبُّکَ عزوجل ثُمَّ يُوْضَعُ الْمِيْزَانُ وَالْحِسَابُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

الحديث الرقم 11: أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 8 / 173، الرقم: 7723، وفي مسند الشاميين، 2 / 201، الرقم: 1185، والهيثمي في مجمع الزوائد، 10 / 409.

’’حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ قیامت کے روز روشن پیشانیوں اور چمکتے ہاتھ پاؤں والے لوگوں کی ایک جماعت نمودار ہوگی جو افق پر چھا جائے گی ان کا نور سورج کی طرح ہوگا سو ایک ندا دینے والا ندا دے گا ’’نبی اُمِّی‘‘ پس اس نداء پر ہر امی نبی متوجہ ہوگا لیکن کہا جائے گا (کہ اس سے مراد) محمد ﷺ اور ان کی امت ہے سو وہ جنت میں داخل ہوں گے ان پر کوئی حساب اور عذاب نہیں ہو گا پھر اس طرح کی ایک اور جماعت نمودار ہوگی جن کی پیشانیاں اور ہاتھ پاؤں چمک رہے ہوں گے۔ ان کا نور چودھویں کے چاند کی طرح کا ہوگا اور ان کا نور افق پر چھا جائے گا سو پھر ندا دینے والا ندا دے گا اور کہے گا ’’نبی اُمّی‘‘ پس اس ندا پر ہر امّی نبی متوجہ ہو جائے گا لیکن کہا جائے گا: اس ندا سے مراد حضور نبی اکرم ﷺ اور ان کی امت ہے پس وہ بغیر حساب و عذاب کے جنت میں داخل ہو جائیں گے پھر اسی طرح کی ایک اور جماعت نمودار ہوگی ان کی (بھی) پیشانیاں اور ہاتھ پاؤں چمکتے ہوں گے۔ ان کا نور آسمان میں بڑے ستارے کی طرح ہوگا ان کا نور افق پر چھا جائے گا پس ندا دینے والا آواز دے گا: ’’نبی اُمّی‘‘، پس اس پر ہر امی نبی متوجہ ہوجائے گا، کہا جائے گا: (اس سے مراد بھی) محمد اور ان کی امت ہے۔ پس وہ بغیر حساب و عذاب کے جنت میں داخل ہو جائیں گے پھر آپ ﷺ کا رب (اپنی شان کے لائق) تشریف لائے گا پھر میزان و حساب قائم کیا جائے گا۔ ‘‘

812 / 12. عَنْ بَهْزِ بْنِ حَکِيْمٍ، عَنْ أَبِيْهِ عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ ﷺ يَقُوْلُ فِي قَوْلِهِ تَعَالَي: (کُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ) (آل عمران، 3: 110)، قَالَ: إِنَّکُمْ تُتِمُّوْنَ سَبْعِيْنَ أُمَّةً، أَنْتُمْ خَيْرُهَا وَأَکْرَمُهَا عَلىٰ اللهِ.

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه وَأَحْمَدُ.

وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ. وَقَالَ الْحَاکِمُ: هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الإِسْنَادِ.

الحديث الرقم 12: أخرجه الترمذي في السنن، کتاب: تفسير القرآن عن رسول اللہ ﷺ، باب: ومن سورةِ آلِ عمران، 5 / 226، الرقم: 3001، وابن ماجه في السنن، کتاب: الزهد، باب: صفة أمة محمد ﷺ، 2 / 1433، الرقم: 4287، 4288، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 61، الرقم: 11604: 4 / 447: 5 / 3، والحاکم في المستدرک، 4 / 94، الرقم: 6987، والبيهقي في السنن الکبري، 9 / 5، والطبراني في معجم الکبير، 19 / 419، الرقم: 1012، 1023، وعبد بن حميد في المسند، 1 / 156، الرقم: 411، والروياني في المسند، 2 / 115، الرقم: 924، وابن المبارک في الزهد، 1 / 114، الرقم: 382.

’’حضرت بہز بن حکیم بواسطہ اپنے والد اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمان الٰہی: ’’تم بہترین امت ہو جو سب لوگوں (کی رہنمائی) کے لئے ظاہر کی گئی ہے۔ ‘‘ کے بارے میں فرمایا: تم ستر (70) اُمتوں کو مکمل کرنے والے ہو اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان سب سے بہتر اور معزز ہو۔ ‘‘

813 / 13. عَنْ بَهْزِ بْنِ حَکِيْمٍ، عَنْ أَبِيْهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ، نُکَمِّلُ، يَوْمَ الْقِيَامَةِ، سَبْعِيْنَ أُمَّةً. نَحْنُ آخِرُهَا وَخَيْرُهَا.

رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه.

الحديث الرقم 13: أخرجه ابن ماجه في السنن، کتاب: الزهد، باب: صفة أمة محمد ﷺ، 2 / 1433، الرقم: 4287.

’’حضرت بہز بن حکیم بواسطہ اپنے والد اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ہم قیامت کے دن ستر (70) اُمتوں کی تکمیل کریں گے اور ہم سب سے آخری اور سب سے بہتر ہوں گے۔ ‘‘

814 / 14. عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رضى الله عنه يَقُوْلُ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: أُعْطِيْتُ مَا لَمْ يُعْطَ أَحَدٌ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ. فَقُلْنَا: يَا رَسُوْلَ اللهِ! مَا هُوَ؟ قَالَ: نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ وَأُعْطِيْتُ مَفَاتِيْحَ الْأَرْضِ وَسُمِّيْتُ أَحْمَدَ وَجُعِلَ التُّرَابُ لِي طَهُوْرًا وَجُعِلَتْ أُمَّتِي خَيْرَ الْأُمَمِ.

رَوَاهُ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَحْمَدُ بِإِسْنَادٍ جَيِدٍ.

الحديث الرقم 14: أخرجه ابن أبي شيبة في المصنف، 6 / 304، الرقم: 31647، وأحمد بن حنبل في المسند، 1 / 98، الرقم: 763، 1361، والبيهقي في السنن الکبري، 1 / 213، الرقم: 965، واللالکائي في اعتقاد أهل السنة، 4 / 783، الرقم: 1443، 1447، والمقدسي في الأحاديث المختارة، 2 / 348، الرقم: 728. 729، والهيثمي في مجمع الزوائد، 1 / 260، 8 / 269.

’’حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مجھے وہ کچھ عطا کیا گیا جو (سابقہ) انبیاء کرام علیھم السلام میں سے کسی کو نہیں عطا کیا گیا۔ ہم نے عرض کیا: (یا رسول اللہ!) وہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: میرے رعب و دبدبہ سے مدد کی گئی اور مجھے زمین (کے تمام خزانوں) کی کنجیاں عطا کی گئیں اور میرا نام احمد رکھا گیا اور مٹی کو بھی میرے لئے پاکیزہ قرار دیا گیا اور میری امت کو بہترین امت بنایا گیا۔ ‘‘

815 / 15. عَنْ ثَوْبَانَ رضى الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: إِنَّ اللهَ زَوَي لِيَ الْأَرْضَ. فَرَأَيْتُ مَشَارِقَهَا وَمَغَارِبَهَا. وَإِنَّ أُمَّتِي سَيَبْلُغُ مُلْکُهَا مَا زُوِيَ لِي مِنْهَا وَأُعْطِيْتُ الْکَنْزَيْنِ الْأَحْمَرَ وَالْأَبْيَضَ. وَإِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي لِأُمَّتِي أَنْ لَا يُهْلِکَهَا بِسَنَةٍ عَامَّةٍ، وَأَنْ لَا يُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ سِوَي أَنْفُسِهِمْ، فَيَسْتَبِيْحَ بَيْضَتَهُمْ وَإِنَّ رَبِّي قَالَ: يَا مُحَمَّدُ! إِنِّي إِذَا قَضَيْتُ فَإِنَّهُ لَا يُرَدُّ وَإِنِّي أَعْطَيْتُکَ لِأُمَّتِکَ أَنْ لَا أَهْلِکَهُمْ بِسَنَةٍ عَامَّةٍ وَأَنْ لَا أُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ سِوَي أَنْفُسِهِمْ يَسْتَبِيْحُ بَيْضَتَهُمْ وَلَو اجْتَمَعَ عَلَيْهِمْ مَنْ بِأَقْطَارِهَا أَوْ قَالَ: مَنْ بَيْنَ أَقْطَارِهَا حَتَّي يَکُوْنَ بَعْضُهُمْ يُهْلِکُ بَعْضًا وَيَسْبِي بَعْضُهُمْ بَعْضًا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْدَاوُدَ.

وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ. وَقَالَ الْحَاکِمُ: هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ.

الحديث الرقم 15: أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب: الفتن وأشراط الساعة، باب: هلاک هذه الأمة بعضهم ببعض، 4 / 2215، الرقم: 2889، والترمذي في السنن، کتاب: الفتن عن رسول اللہ ﷺ، باب: ما جاء في سوال النبي ﷺ ثلاثا في أمته، 4 / 472، الرقم: 2176، وأبو داود في السنن، کتاب: الفتن والملاحم، باب: ذکر الفتن ودلائلها، 4 / 97، الرقم: 4252، وأحمد بن حنبل في المسند، 5 / 278، الرقم: 22448، 22505، والبزار في المسند، 8 / 413، الرقم: 3487، والحاکم في المستدرک، 4 / 496، الرقم: 8390، وابن أبي شيبة في المصنف، 6 / 311، الرقم: 31694، وابن حبان في الصحيح، 15 / 109، الرقم: 6714، والبيهقي في السنن الکبري، 9 / 181، والديلمي في مسند الفردوس، 2 / 296، الرقم: 3347.

’’حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے زمین کو میرے لئے لپیٹ دیا اور میں نے اس کے مشارق و مغارب کو دیکھا۔ عنقریب میری حکومت وہاں تک پہنچے گی جہاں تک میرے لئے زمین لپیٹی گئی۔ مجھے (قیصر و کسریٰ کے) دو خزانے سرخ اور سفید دیئے گئے۔ میں نے اپنے رب سے اپنی امت کے بارے میں سوال کیا کہ انہیں قحط سالی سے ہلاک نہ کیا جائے اور نہ ان پر ان کے غیر سے دشمن مسلط کرے جو انہیں مکمل طور پر نیست و نابود کر دے اور بے شک میرے رب نے مجھے فرمایا: اے محمد مصطفیٰ! میں جب ایک فیصلہ کر لیتا ہوں تو اس کو واپس نہیں لوٹایا جاسکتا اور بیشک میں نے آپ کو آپ کی امت کے لئے یہ چیز عطا فرما دی ہے کہ میں انہیں قحط سالی سے نہیں ماروں گا اور نہ ہی ان کے علاوہ کسی اور کو ان پر دشمن مسلط کروں گا جو انہیں مکمل طور پر نیست و نابود کر دے اگرچہ (وہ دشمن ان کے خلاف ہر طرف سے اکٹھے) ہو جائیں یہاں تک کہ ان میں سے خود بعض بعض کو ہلاک نہ کریں اور بعض بعض کو قیدی نہ بنائیں۔ ‘‘

816 / 16. عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ رضى الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ: إِنَّ اللهَ أَدْرَکَ بِيَ الْأَجَلَ الْمَرْحُومَ وَاخْتَصَرَ لِي اخْتِصَارًا، فَنَحْنُ الْآخِرُوْنَ وَنَحْنُ السَّابِقُوْنَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَإِنِّي قَائلٌ قَوْلًا غَيْرَ فَخْرٍ، إِبْرَاهِيْمُ خَلِيْلُ اللهِ وَمُوْسَي صَفِيُّ اللهِ وَأَنَا حَبِيْبُ اللهِ وَمَعِي لِوَاءُ الْحَمْدِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ. وَإِنَّ اللهَ وَعَدَنِي فِي أُمَّتِي وَأَجَارَهُمْ مِنْ ثَلَاثٍ: لَا يَعَمُّهُمْ بِسَنَةٍ وَلَا يَسْتَأْصِلُهُمْ عَدُوٌّ، وَلَا يَجْمَعُهُمْ عَلىٰ ضَلَالَةٍ. رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ.

الحديث الرقم 16: أخرجه الدارمي في السنن، باب: (8)، مَا أُعطِيَ النَّبِيُّ ﷺ مِنَ الفَضْلِ، 1 / 42، الرقم: 54، والمبارکفوري في تحفة الأحوذي، 6 / 323.

’’حضرت عمرو بن قیس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے میری امت کو مرحوم قرار دیا اور اس کی عمر مختصر رکھی۔ سو ہم ہی آخری ہیں اور ہم ہی قیامت کے دن اول ہوں گے۔ اور میں بغیر کسی فخر کے یہ بات کہہ رہا ہوں کہ حضرت ابراہیم خلیل اللہ ہیں اور حضرت موسیٰ صفی اللہ ہیں اور میں ہی حبیب اللہ ہوں اور روزِ قیامت میرے پاس ہی حمد کا جھنڈا ہوگا اور اللہ تعالیٰ نے میری امت کے بارے میں مجھ سے تین وعدے فرمائے اور تین چیزوں سے انہیں نجات عطا کی۔ ان پر عام قحط سالی مسلط نہیں کرے گا اور کوئی دشمن انہیں ختم نہیں کر سکے گا اور انہیں گمراہی پر کبھی جمع نہیں کرے گا۔ ‘‘

817 / 17. عَنْ أَبِي مَالِکٍ الْأَشْعَرِيِّ رضى الله عنه قَالَ: قالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: إِنَّ اللهَ أَجَارَکُمْ مِنْ ثَلَاثِ خِلَالٍ: أَنْ لَا يَدْعُوَ عَلَيْکُمْ نَبِيُّکُمْ فَتَهْلِکُوْا جَمِيْعًا، وَأَنْ لَا يَظْهَرَ أَهْلُ الْبَاطِلِ عَلىٰ أَهْلِ الْحَقَّ، وَأَنْ لَا تَجْتَمِعُوْا عَلىٰ ضَلَالَةٍ. رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَالطَّبَرَانِيُّ.

الحديث الرقم 17: أخرجه أبو داود في السنن، کتاب: الفتن، باب: ذکر الفتن ودلائلها، 4 / 98، الرقم: 4253، والطبراني في المعجم الکبير، 3 / 292، الرقم: 3440، وفي مسند الشاميين، 2 / 442، الرقم: 1663.

’’حضرت ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے تمہیں تین آفتوں سے بچا لیا: ایک یہ کہ تمہارا نبی تمہارے لئے ایسی بد دعا نہ کرے گا کہ تم سارے ہلاک ہو جاؤ دوسرا یہ کہ (مجموعی طور پر) اہلِ باطل اہلِ حق پر غالب نہ ہوں۔ تیسرا یہ کہ تم (مجموعی طور پر کبھی) گمراہی پر جمع نہیں ہو گے۔ ‘‘

818 / 18. عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضى الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ ﷺ: إِنَّ هَذِهِ الأُمَّةَ مَرْحُومَةٌ. عَذَابُهَا بِأَيْدِيْهَا. فَإِذَا کَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ، دُفِعَ إِلَي کُلِّ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِکِيْنَ. فَيُقَالُ: هَذَا فِدَاؤُکَ مِنَ النَّارِ. رَوَاهُ أَبُوْحَنِيْفَةَ وَابْنُ مَاجَه وَاللَّفْظُ لَهُ.

الحديث الرقم 18: أخرجه ابن ماجه في السنن، کتاب: الزهد، باب: في صفة أمة محمد ﷺ، 2 / 1434، الرقم: 4292، وأبوحنيفة عن أبي موسي رضى الله عنه في المسند، 1 / 155، وعبد بن حميد في المسند، 1 / 190، الرقم: 537، والمروزي في الفتن، 2 / 618، الرقم: 1722.

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: (امت مسلمہ) وہ (خوش نصیب) امت ہے جس پر (اللہ تعالیٰ کی خصوصی) رحمت نازل کی گئی ہے۔ اس کا عذاب اس کے ہاتھ میں ہے جب قیامت کا دن ہو گا تو ہر ایک مسلمان کو ایک کافر دے کر کہا جائے گا یہ تمہارا دوزخ کا فدیہ ہے۔ ‘‘

فَصْلٌ فِي فَضْلِ آخِرِ الْأُمَّةِ الْمُحَمَّدِيَةِ

(آخری زمانہ میں اُمتِ محمدیہ کی فضیلت کا بیان)

819 / 19. عَنْ مُعَاوِيَةَ رضى الله عنه، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ ﷺ يَقُوْلُ: لَا يَزَالُ مِنْ أُمَّتِي أُمَّةٌ قَاءِمَةٌ بِأَمْرِاللهِ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَذَلَهُمْ وَلَا مَنْ خَالَفَهُمْ حَتَّي يَأْتِيَهُمْ أَمْرُ اللهِ وَهُمْ عَلىٰ ذَلِکَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ وَهَذَا لَفْظُ الْبُخَارِيِّ.

الحديث رقم 19: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: المناقب، باب: سؤال المشرکين أن يريهم النبي ﷺ آية فآراهم انشقاق القمر، 3 / 1331، الرقم: 3442، وفي کتاب: التوحيد، باب: قول اللہ تعالي: إنما قولنا لشيء، 6 / 2714، الرقم: 7022، ومسلم في الصحيح، کتاب: الإمارة، باب: قوله ﷺ: لا تزال طائفة من أمتي ظاهرين علي الحق لا يضرهم من خالفهم، 3 / 1524، الرقم: 1037، وأحمد بن حنبل في المسند، 4 / 101، وأبو يعلي في المسند، 13 / 375، الرقم: 7383، والطبراني في المعجم الکبير، 19 / 380، الرقم: 893، واللالکائي في اعتقاد أهل السنة، 1 / 110، الرقم: 144.

’’حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضور نبی اکرم ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے ہیں: میری امت میں سے ایک جماعت ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے حکم پر قائم رہے گی جو اُن کی مدد نہیں کرے گا یا اُن کی مخالفت کرے گا وہ انہیں کچھ نقصان نہیں پہنچا سکے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا امر (یعنی روزِ قیامت) آئے گا اور وہ اسی حالت پر ہوں گے۔ ‘‘

820. / 20. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضى الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَيَأْتِيَنَّ عَلىٰ أَحَدِکُمْ يَوْمٌ وَلَا يَرَانِي، ثُمَّ لَأَنْ يَرَانِي أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ أَهْلِهِ وَمَالِهِ مَعَهُمْ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ وَهَذَا لَفْظُ مُسْلِمٍ.

الحديث رقم 20: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: المناقب، باب: علاماتِ النبوة في الإسلام، 3 / 315، الرقم: 3394، ومسلم في الصحيح، کتاب: الفضائل، باب: فضل النظر إليه ﷺ وتمنيه، 4 / 1836، الرقم: 2364، وابن حبان في الصحيح، 15 / 167، الرقم: 6765، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 / 313، الرقم: 8126، والعسقلاني في فتح الباري، 6 / 607، والنووي في شرحه علي صحيح مسلم، 15 / 118، والسيوطي في الديباج، 6 / 348، الرقم: 2364.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد مصطفیٰ کی جان ہے! تم لوگوں پر ایک دن ایسا ضرور آئے گا کہ تم مجھے دیکھ نہیں سکو گے، لیکن میری زیارت کرنا (اس وقت) ہر مومن کے نزدیک اس کے اہل اور مال سے زیادہ محبوب ہو گی۔ ‘‘

821 / 21. عَنْ بَهْزِ بْنِ حَکِيْمٍ، عَنْ أَبِيْهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ ﷺ: يَقُوْلُ فِي قَوْلِهِ تَعَالَي: (کُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ) (آل عمران، 3: 110)، قَالَ: إِنَّکُمْ تُتِمُّوْنَ سَبْعِيْنَ أُمَّةً أَنْتُمْ خَيْرُهَا وَأَکْرَمُهَا عَلىٰ اللهِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه وَأَحْمَدُ وَالْحَاکِمُ.

وَقَالَ الْحَاکِمُ: هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الإِْسْنَادِ.

الحديث رقم 21: أخرجه الترمذي في السنن، کتاب: التفسير عن رسول اللہ ﷺ، باب: ومن سورة آل عمران، 5 / 226، الرقم: 3001، وابن ماجه في السنن، کتاب: الزهد، باب: صفة أمّة محمد ﷺ، 2 / 1433، الرقم: 4288، وأحمد بن حنبل في المسند، 5 / 3، والحاکم في المستدرک، 4 / 94، الرقم: 6987، والطبراني في المعجم الکبير، 19 / 422، الرقم: 1023، والبيهقي في السنن الکبري، 9 / 5، والروياني في المسند، 2 / 115، الرقم: 924، وعبد بن حميد في المسند، 1 / 156، الرقم: 411، وابن المبارک في الزهد، 1 / 114، الرقم: 382، والحکيم الترمذي في نوادر الأصول، 1 / 153.

’’حضرت بہز بن حکیم رضی اللہ عنہ بواسطہ اپنے والد، اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: ’’تم بہترین امت ہو جو سب لوگوں (کی رہنمائی) کے لئے ظاہر کی گئی ہے۔ ‘‘ کے بارے میں فرمایا: تم ستّر (70) اُمتوں کو مکمل کرنے والے ہو اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان سب سے بہتر اور معزز ہو۔ ‘‘

822 / 22. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضى الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ: مِنْ أَشَدِّ أُمَّتِي لِي حُبًّا، نَاسٌ يَکُوْنُوْنَ بَعْدِي، يَوَدُّ أَحَدُهُمْ لَوْ رَآنِي، بِأَهْلِهِ وَمَالِهِ.

رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَأَحْمَدُ.

الحديث رقم 22: أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب: الجنة وصفة نعيمها وأهلها، باب: فيمن يود رؤية النبي ﷺ بأهله وماله، 4 / 2178، الرقم: 2832، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 / 417، الرقم: 9388، وابن حبان في الصحيح، 16 / 214، الرقم: 7231.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میری امت میں سے میرے ساتھ شدید محبت کرنے والے وہ لوگ ہیں جو میرے بعد آئیں گے اور ان میں سے ہر ایک کی تمنا یہ ہوگی کہ کاش وہ اپنے سب اہل و عیال اور مال و اسباب کے بدلے میں مجھے (ایک مرتبہ) دیکھ لیں۔ ‘‘

823 / 23. عَنْ أَنَسٍ رضى الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: مَثَلُ أُمَّتِي مَثَلُ الْمَطَرِ، لَا يُدْرَي أَوَّلُهُ خَيْرٌ أَمْ آخِرُهُ.

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَحَسَّنَهُ وَأَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ.

الحديث رقم 23: أخرجه الترمذي في السنن، کتاب: الأمثال عن رسول اللہ ﷺ، باب: مثل الصلوات الخمس، 5 / 152، الرقم: 2869، والبزار في المسند، 9 / 23، الرقم: 3527، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 130، 143، الرقم: 12349، 12483، والطيالسي في المسند، 1 / 90، ، الرقم: 647، والقضاعي في مسند الشهاب، 2 / 277، الرقم: 1352، وأبو يعلي في المسند، 6 / 380، الرقم: 3717.

’’حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میری اُمت کی مثال بارش کی مانند ہے معلوم نہیں اس کا اوّل بہتر ہے یا آخر۔ ‘‘

824 / 24. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضى الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: إِنَّ أُنَاسًا مِنْ أُمَّتِي يَأْتُوْنَ بَعْدِي يَوَدُّ أَحَدُهُمْ لَوِ اشْتَرَي رُؤْيَتِي بِأَهْلِهِ وَمَالِهِ.

رَوَاهُ الْحَاکِمُ.

وَقَالَ الْحَاکِمُ: هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الْإِسْنَادِ.

الحديث رقم 24: أخرجه الحاکم في المستدرک، 4 / 95، الرقم: 6991.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: یقیناً میری اُمت میں میرے بعد ایسے لوگ بھی آئیں گے جن میں سے ہر ایک کی خواہش یہ ہوگی کہ وہ اپنے اہل و مال کے بدلے (اگر) میرا دیدار (ملے تو وہ) خرید لے (یعنی اپنے اہل و مال کی قربانی دے کر ایک مرتبہ مجھے دیکھ لے)۔ ‘‘

825 / 25. عَنْ عَمَرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيْهِ، عَنْ جدِّهِ رضى الله عنهم قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: أَيُّ الْخَلْقِ أَعْجَبُ إِلَيْکُمْ إِيْمَانًا؟ قَالُوْا: الْمَلَائِکَةُ. قَالَ: وَمَا لَهُمْ لاَ يُؤْمِنُوْنَ وَهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ؟ قَالُوْا: فَالنَّبِيُّوْنَ. قَالَ: وَمَا لَهُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ وَالْوَحْيُ يَنْزِلُ عَلَيْهِمْ؟ قَالُوْا: فَنَحْنُ. قَالَ: وَمَا لَکُمْ لَا تُؤْمِنُوْنَ وَأَنَا بَيْنَ أَظْهُرِکُمْ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: إِنَّ أَعْجَبَ الْخَلْقِ إِلَيَّ إِيْمَانًا لَقَوْمٌ يَکُوْنُوْنَ مِنْ بَعْدِي يَجِدُوْنَ صُحُفًا فِيْهَا کِتَابٌ يُؤْمِنُوْنَ بِمَا فِيْهَا.

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَأَبُوْيَعْلَي وَالْحَاکِمُ.

وَقَالً الْحَاکِمُ: هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ.

الحديث رقم 25: أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 12 / 87، الرقم: 12560، وأبو يعلي عن عمر بن الخطاب رضى الله عنه في المسند، 1 / 147، الرقم: 160، و الحاکم في المستدرک، 4 / 96، الرقم: 6993، والخطيب التبريزي في مشکاة المصابيح، 3 / 403، الرقم: 6288، والحسيني في البيان والتعريف، 1 / 130، الرقم: 346، والهيثمي عن عمر بن الخطاب رضى الله عنه في مجمع الزوائد، 8 / 330، 6 / 65، وقال: رواه البزار وأحمد .

’’حضرت عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ بواسطہ اپنے والد، اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے صحابہ کرام سے فرمایا: کون سی مخلوق تمہارے نزدیک ایمان کے لحاظ سے سب سے عجیب تر ہے؟ صحابہ نے عرض کیا: فرشتے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: فرشتے کیوں ایمان نہ لائیں جبکہ وہ ہر وقت اپنے رب کی حضوری میں رہتے ہیں۔ انہوں نے عرض کیا: پھر انبیاء کرام علیہم السلام۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اور انبیاء کرام علیہم السلام کیوں ایمان نہ لائیں جبکہ ان پر تو وحی نازل ہوتی ہے۔ انہوں نے عرض کیا: تو پھر ہم (ہی ہوں گے)۔ فرمایا: تم ایمان کیوں نہیں لاؤ گے جبکہ بنفس نفیس میں خود تم میں جلوہ افروز ہوں۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مخلوق میں میرے نزدیک پسندیدہ اور عجیب تر ایمان ان لوگوں کا ہے جو میرے بعد پیدا ہوں گے۔ کئی کتابوں کو پائیں گے مگر (صرف میری) کتاب میں جو کچھ لکھا ہو گا (بن دیکھے) اس پر ایمان لائیں گے۔ ‘‘

826 / 26. عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضى الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: وَدِدْتُ أَنِّي لَقِيْتُ إِخْوَانِي، قَالَ: فَقَالَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ ﷺ: أَوَ لَيْسَ نَحْنُ إِخْوَانَکَ؟ قَالَ: أَنْتُمْ أَصْحَابِي، وَلَکِنْ إِخْوَانِي الَّذِيْنَ آمَنُوْا بِي وَلَمْ يَرَوْنِي. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ.

الحديث رقم 26: أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 3 / 155، الرقم: 12601، والطبراني في المعجم الکبير، 1 / 212، الرقم: 576، والهيثمي في مجمع الزوائد، 10 / 67، والحسيني في البيان والتعريف، 1 / 32، الرقم: 60: 2 / 94، الرقم: 1161.

’’حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میں نے یہ خواہش کی کہ میں اپنے بھائیوں سے ملوں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے عرض کیا: (یا رسول اللہ!) کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تم میرے صحابہ ہو لیکن میرے بھائی وہ ہوں گے جو مجھ پر ایمان لائیں گے حالانکہ انہوں نے مجھے دیکھا بھی نہیں ہو گا۔ ‘‘

827 / 27. عَنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عُمْرَةَ الْأَنْصَارِيِّ رضى الله عنه عَنْ أَبِيْهِ أَنَّهُ قَالَ لِرَسُوْلِ اللهِ ﷺ: (يَارَسُوْلَ الله) أَ رَأَيْتَ مَنْ آمَنَ بِکَ وَلَمْ يَرَکَ وَصَدَّقَکَ وَلَمْ يَرَکَ؟ قَالَ: طُوْبَي لَهُمْ طُوْبَي لَهُمْ أُوْلئِکَ مِنَّا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

الحديث رقم 27: أخرجه الطبراني في المعجم الأوسط، 8 / 276، الرقم: 8624.

’’حضرت عبدالرحمن بن ابی عمرہ انصاری رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرنے ہیں کہ انہوں نے بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں عرض کیا: (یا رسول اللہ!) آپ ان لوگوں کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جو آپ پر ایمان لائے حالانکہ انہوں نے آپ کو دیکھا تک نہیں، آپ کی تصدیق کی حالانکہ آپ کو دیکھا تک نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ان کے لئے خوشخبری ہے ان کے لئے خوشخبری ہے وہ ہم میں سے ہی ہیں۔ ‘‘

828 / 28. عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رضى الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ: طُوْبَي لِمَنْ رَآنِي وَآمَنَ بِي وَطُوْبَي سَبْعَ مَرَّاتٍ لِمَنْ لَمْ يَرَنِي وَآمَنَ بِي.

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْنُ حِبَّانَ.

الحديث رقم 28: أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 5 / 257، الرقم: 22268، 22192، 22331، وابن حبان في الصحيح، 16 / 216، الرقم: 7233، والحاکم عن عبداللہ بن بُسر رضى الله عنه، في المستدرک، 4 / 96، الرقم: 6994، والطبراني في المعجم الکبير، 8 / 259، الرقم: 8009، وفي المعجم الصغير، 2 / 104، الرقم: 858، وأبويعلي عن أنس بن مالک رضى الله عنه في المسند، 6 / 119، الرقم: 3391، والمقدسي في الأحاديث المختارة، 9 / 99، الرقم: 87، والروياني في المسند، 2 / 311، الرقم: 1266.

’’حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: خوشخبری اور مبارک باد ہو اس کے لئے جس نے مجھے دیکھا اور مجھ پر ایمان لایا اور سات بار خوشخبری اور مبارک باد ہو اس کے لئے جس نے مجھے دیکھا بھی نہیں اور مجھ پر ایمان لایا۔ ‘‘

829 / 29. عَنْ أَبِي جُمْعَةَ رضى الله عنه قَالَ: تَغَدَّيْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ وَ مَعَنَا أَبُوْ عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ، قَالَ: قَالَ: يَا رَسُوْلَ اللهِ! هَلْ أَحْدٌ خَيْرٌ مِنَّا؟ أَسْلَمْنَا مَعَکَ، وَجَاهَدْنَا مَعَکَ، قَالَ: نَعَمْ، قَوْمٌ يَکُوْنُوْنَ مِنْ بَعْدِکُمْ يُؤْمِنُوْنَ بِي وَلَمْ يَرَوْنِي. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالدَّارِمِيُّ وَالطَّبَرَانِيُّ.

وَقَالَ الْهَيْثَمِيُّ: رِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

الحديث رقم 29: أخرجه الدارمي في السنن، 2 / 398، الرقم: 2844، وأحمد بن حنبل في المسند، 4 / 106، الرقم: 17017، والطبراني في المعجم الکبير، 4 / 22، الرقم: 3537، وأبويعلي في المسند، 3 / 128، الرقم: 1559، وابن منده في الإيمان، 1 / 372، الرقم: 210، والهيثي في ممجع الزوائد، 10 / 66.

’’حضرت ابوجمعہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم نے ایک مرتبہ حضور نبی اکرم ﷺ کے ساتھ دن کا کھانا کھایا ہمارے ساتھ حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم سے بھی کوئی بہتر ہو گا؟ ہم آپ کی معیت میں ایمان لائے، اور آپ کی ہی معیت میں ہم نے جہاد کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں وہ لوگ جو تمہارے بعد آئیں گے وہ مجھ پر ایمان لائیں گے حالانکہ انہوں نے مجھے دیکھا بھی نہیں ہو گا (وہ اس جہت سے تم سے بھی بہتر ہوں گے)۔ ‘‘

830 / 30. عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْعُلاءِ الْحَضَرَمِيِّ رضى الله عنه قَالَ: حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ النَّبِيَّ ﷺ يَقُوْلُ: إِنَّهُ سَيَکُوْنُ فِي آخِرِ هَذِهِ الْأُمَّةِ قَوْمٌ لَهُمْ مِثْلُ أَجْرِ أَوَّلِهِمْ، يَأْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ، وَيُقَاتِلُوْنَ أَهْلَ الْفِتَنِ.

رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ .

الحديث رقم 30: أخرجه البيهقي في دلائل النّبوّة، 6 / 513، والسّيوطي في مفتاح الجنة، 1 / 68.

’’حضرت عبد الرحمن بن علاء حضرمی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ مجھے اس (صحابی) نے بتایا جس نے حضور نبی اکرم ﷺ سے سنا کہ آپ ﷺ فرماتے ہیں: بے شک اس امت کے آخر (دور) میں ایسے لوگ ہوں گے جن کے لئے اجر اس امت کے اولین (دور کے لوگوں) کے برابر ہو گا، وہ نیکی کا حکم دیں گے اور برائی سے روکیں گے اور فتنہ پرور لوگوں سے جہاد کریں گے۔ ‘‘

فَصْلٌ فِي أَنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ لَا تَجْتَمِعُ عَلَی الضَّلَالَةِ

(اس اُمت کے کبھی بھی گمراہی پر جمع نہ ہونے کا بیان)

831 / 31. عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضی الله عنهما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: إِنَّ اللهَ لَا يَجْمَعُ أُمَّتِي (أَوْ قَالَ أَمَّةَ مُحَمَّدٍ) عَلىٰ ضَلَالَةٍ، وَيَدُ اللهِ مَعَ الْجَمَاعَةِ، وَمَنْ شَذَّ شَذًّ إِلَي النَّارِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالْحَاکِمُ.

الحديث رقم 31: أخرجه الترمذي في السنن، کتاب: الفتن عن رسول اللہ ﷺ، باب: ما جاء في لزوم الجماعة، 4 / 466، الرقم: 2167، والحاکم في المستدرک، 1 / 201، الرقم: 397، والمناوي في فيض القدير، 2 / 271.

’’حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ میری امت کو گمراہی پر جمع نہیں کرے گا (یا فرمایا: امتِ محمدیہ کو گمراہی پر جمع نہیں کرے گا) اور جماعت پر اللہ تعالیٰ (کی حفاظت) کا ہاتھ ہے اور جو شخص جماعت سے جدا ہوا وہ آگ کی طرف جدا ہوا۔ ‘‘

832 / 32. عَنِ الْحَارِثِ الْأَشْعَرِيِّ رضى الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: بِخَمْسِ کَلِمَاتٍ أَمَرَنِيَ اللهُ بِهِنَّ: الْجَمَاعَةِ وَالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ وَالْهِجْرَةِ وَالْجِهَادِ فِي سَبِيْلِ اللهِ، فَمَنْ خَرَجَ مِن الْجَمَاعَةِ قِيْدَ شِبْرٍ فَقَدْ خَلَعَ رَبْقَةَ الإِْسْلَامِ مِنْ رَأْسِهِ إِلاَّ أَنْ يَرْجِعَ. رَوَاهُ الْحَاکِمُ وَابْنُ خُزَيْمَةَ.

وَقَالَ الْحَاکِمُ: هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ.

الحديث رقم 32: أخرجه الحاکم في المستدرک، 1 / 204، 582، الرقم: 404، 1534، وابن خزيمة في الصحيح، 3 / 195، الرقم: 1895، والبيهقي في السنن الکبري، 8 / 157، والطبراني في المعجم الکبير، 3 / 286، 287، 289، الرقم: 3427، 3430، 3431، وأبو يعلي في المسند، 3 / 140، الرقم: 1571.

’’حضرت حارث اَشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے پانچ باتوں کا حکم دیا ہے (اور وہ پانچ باتیں یہ ہیں: ) جماعت کے ساتھ ہونے، نصیحت سننے، فرمانبرداری اختیار کرنے، ہجرت کرنے اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے کا۔ پس جو جماعت سے ایک بالشت برابر بھی الگ ہوا پس اس نے اسلام کا قلادہ (یعنی پٹہ) اپنے گلے سے اتار دیا جب تک کہ وہ (جماعت کی طرف) لوٹ نہیں آتا۔ ‘‘

833 / 33. عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضی الله عنهما في رواية طويلة قَالَ: خَطَبَنَا عُمَرُ بِالْجَابِيَةِ فَقَالَ: يَأَيَهَا النَّاسُ، إِنِّي قُمْتُ فِيْکُمْ کَمَقَامِ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ فِيْنَا فَقَالَ: عَلَيْکُمْ بِالْجَمَاعَةِ، وَإِيَاکُمْ وَالْفُرْقَةَ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ مَعَ الْوَاحِدِ، وَهُوَ مِنْ الاِثْنَيْنِ أَبْعَدُ مَنْ أَرَادَ بُحْبُوْحَةَ الْجَنَّةِ فَلْيَلْزَمِ الْجَمَاعَةَ، مَنْ سَرَّتْهُ حَسَنَتُهُ وَسَاءَتْهُ سَيِئَتُهُ فَذَلِکُمُ الْمُؤْمِنُ.

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَأَحْمَدُ.

وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ.

الحديث رقم 33: أخرجه الترمذي في السنن، کتاب: الفتن عن رسول اللہ ﷺ، باب: ماجاء في لزوم الجماعة، 4 / 465، الرقم: 2165، والنسائي في السنن الکبري، 5 / 388، الرقم: 9225، وأحمد بن حنبل في المسند، 5 / 370، الرقم: 23194، وابن أبي عاصم في السنة، 1 / 42، الرقم: 88، والعسقلاني في فتح الباري، 13 / 316، والمبارکفوري في تحفة الأخوذي، 6 / 320.

’’حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جابیہ کے مقام پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطاب فرمایا کہ میں تمہارے درمیان اس جگہ پر کھڑا ہوں جہاں حضور نبی اکرم ﷺ نے ہمارے درمیان قیام فرماتے پھر فرمایا: جماعت کو لازم پکڑو اور علیحدگی سے بچو کیونکہ شیطان ایک کے ساتھ ہوتا ہے اور دو آدمیوں سے دور رہتا ہے جو شخص جنت کا وسط چاہتا ہے اس کے لیے جماعت سے وابستگی لازمی ہے جس شخص کو اس کی نیکی خوش کرے اور برائی پریشان کرے پس وہی مومن ہے۔ ‘‘

834 / 34. عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضی الله عنهما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: لَا يَجْمَعُ اللهُ هَذِهِ الْأُمَّةَ عَلىٰ الضَّلَالَةِ أَبَدًا وَقَالَ: يَدُ اللهِ عَلىٰ الْجَمَاعَةِ فَاتَّبِعُوْا السَّوَادَ الْأَعْظَمَ فَإِنَّهُ مَنْ شَذَّ شُذَّ فِي النَّارِ.

رَوَاهُ الْحَاکِمُ وَابْنُ أَبِي عَاصِمٍ.

الحديث رقم 34: أخرجه الحاکم في المستدرک، 1 / 199.201، الرقم: 391. 397، وابن أبي عاصم في کتاب السنة، 1 / 39، الرقم: 80، واللالکائي في اعتقاد أهل السنة، 1 / 106، الرقم: 154، وأبو نعيم في حلية الأولياء، 3 / 37، والديلمي في مسند الفردوس، 5 / 258، الرقم: 8116، والحکيم الترمذي في نوادر الأصول، 1 / 4222، والمناوي في فيض القدير، 2 / 271.

’’حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس امت کو کبھی بھی گمراہی پر اکٹھا نہیں فرمائے گا اور فرمایا: اللہ تعالیٰ کا دستِ قدرت جماعت پر ہوتا ہے۔ پس سب سے بڑی جماعت کی اتباع کرو اور جو اس جماعت سے الگ ہوتا ہے وہ آگ میں ڈال دیا گیا۔ ‘‘

835 / 35. عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضى الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: إِنَّ أُمَّتِي لَا تَجْتَمِعُ عَلىٰ ضَلَالَةٍ فَإِذَا رَأَيْتُمُ اخْتِلَافًا فَعَلَيْکُمْ بِالسَّوَادِ الْأَعْظَمِ.

رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه وَالطَّبَرَانِيُّ.

الحديث رقم 35: أخرجه ابن ماجه في السنن، کتاب: الفتن، باب: السَّوَادِ الأعْظَمِ، 4 / 367، الرقم: 3950، والطبراني في المعجم الکبير، 12، 447، الرقم: 13623، والکناني في مصابح الزجاجة، 4 / 169، الرقم: 1395، .

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: بے شک میری امت (مجموعی طور پر) کبھی گمراہی پر جمع نہیں ہو گی پس اگر تم ان میں اختلاف دیکھو تو تم پر لازم ہے کہ سب سے بڑی جماعت (کا ساتھ) اختیار کرو۔ ‘‘

836 / 36. عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضى الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيْلَ افْتَرَقَتْ عَلىٰ إِحْدَي وَسَبْعِيْنَ فِرْقَةً. وَإِنَّ أُمَّتِي سَتَفْتَرِقُ عَلىٰ ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِيْنَ فِرْقَةً. کُلُّهَا فِي النَّارِ، إِلَّا وَاحِدَةً. وَهِيَ الْجَمَاعَةُ.

رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه وَأَحْمَدُ وَأَبُوْيَعْلَي.

الحديث رقم 36: أخرجه ابن ماجه في السنن، کتاب: الفتن، باب: افتراق الأمم، 2 / 1322، الرقم: 3991 - 3993، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 145، الرقم: 12501، وأبويعلي في المسند، 7 / 36، الرقم: 3944، والمقدسي في الأحاديث المختارة، 7 / 90، الرقم: 2499، وابن أبي عاصم في السنة، 1 / 32، الرقم: 64، والمروزي في السنة، 1 / 21، الرقم: 53.

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: یقیناً بنی اسرائیل اکتہّر (71) فرقوں میں تقسیم ہو گئے تھے اور میری امت یقیناً بہتّر (72) فرقوں میں تقسیم ہو جائے گی۔ وہ سب کے سب دوزخ میں جائیں گے سوائے ایک کے اور وہ جماعت ہے۔ ‘‘

837 / 37. عَنْ أَبِي ذَرٍّ رضى الله عنه عَنِ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّهُ قَالَ: اثْنَانِ خَيْرٌ مِنْ وَاحِدٍ، وَثَلاثَةٌ خَيْرٌ مِنِ اثْنَيْنِ، وَأَرْبَعَةٌ خَيْرٌ مِنْ ثَلَاثَةٍ، فَعَلَيْکُمْ بِالْجَمَاعَةِ، فَإِنَّ اللهَ عزوجل لَنْ يَجْمَعَ أُمَّتِي إِلاَّ عَلىٰ هُدًي. رَوَاهُ أَحْمَدُ.

الحديث رقم 37: أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 5 / 145، الرقم: 21331، والهيثمي في مجمع الزوائد، 1 / 177: 5 / 218، والمبارکفوري في تحفة الأحوذي، 6 / 323.

’’حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: دو (شخص) ایک سے بہتر ہیں اور تین (شخص) دو سے بہتر ہیں، اور چار (اشخاص) تین سے بہتر ہیں، پس تم پر لازم ہے کہ جماعت کے ساتھ رہو، یقیناً اللہتعالیٰ میری امت کو کبھی ہدایت کے سوا کسی شے پر اکٹھا نہیں کرے گا۔ ‘‘

فَصْلٌ فِي أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ کَانَ لَا يَخْشَي عَلىٰ أُمَّتِهِ أَنْ تُشْرِکَ بَعْدَهُ

(حضور ﷺ کو اپنے بعد اُمت کے شرک میں مبتلا ہونے کا اندیشہ نہ تھا)

838 / 38. عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رضى الله عنه، قَالَ: صَلَّي رَسُوْلُ اللهِ ﷺ عَلىٰ قَتْلَي أُحُدٍ، بَعْدَ ثَمَانِيَ سِنِينَ کَالْمُوَدِّعِ لِلأَحْيَاءِ وَالْأَمْوَاتِ، ثُمَّ طَلَعَ الْمِنْبَرَ، فَقَالَ: إِنِّي بَيْنَ أَيْدِيکُمْ فَرَطٌ وَأَنَا عَلَيْکُمْ شَهِيدٌ، وَإِنَّ مَوْعِدَکُمُ الْحَوْضُ، وَإِنِّي لَأَنْظُرُ إِلَيْهِ مِنْ مَقَامِي هَذَا، وَإِنِّي لَسْتُ أَخْشَي عَلَيْکُمْ أَنْ تُشْرِکُوْا، وَلَکِنِّي أَخْشَي عَلَيْکُمُ الدُّنْيَا أَنْ تَنَافَسُوْهَا قَالَ: فَکَانَتْ آخِرَ نَظْرَةٍ نَظَرْتُهَا إِلَي رَسُوْلِ اللهِ ﷺ . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ وَاللَّفْظُ لِلْبُخَارِيِّ.

الحديث رقم 38: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: المغازي، باب: غزوة أحد، 4 / 1486، الرقم: 3816، ومسلم في الصحيح، کتاب: الفضائل، باب: إثبات حوض نبينا ﷺ وصفاته، 4 / 1796، الرقم: 2296، وأبوداود في السنن، کتاب: الجنائز، باب: الميت يصلي علي قبره بعد حين، 3 / 216، الرقم 3224، وأحمد بن حنبل في المسند، 4 / 154، والطبراني في المعجم الکبير، 17 / 279، الرقم: 768، والبيهقي في السنن الکبري، 4 / 14، الرقم: 6601، والشيباني في الآحاد والمثاني، 5 / 45، الرقم: 2583.

’’حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے شہداءِ اُحد پر (دوبارہ) آٹھ سال بعد اس طرح نماز پڑھی گویا زندوں اور مُردوں کو الوداع کہہ رہے ہوں۔ پھر آپ ﷺ منبر پر جلوہ افروز ہوئے اور فرمایا: میں تمہارا پیش رو ہوں، میں تمہارے اُوپر گواہ ہوں، ہماری ملاقات کی جگہ حوضِ کوثر ہے اور میں اس جگہ سے حوضِ کوثر کو دیکھ رہا ہوں اور مجھے تمہارے متعلق اس بات کا ڈر نہیں ہے کہ تم (میرے بعد) شرک میں مبتلا ہو جاؤ گے بلکہ تمہارے متعلق مجھے دنیاداری کی محبت میں مبتلا ہو جانے کا اندیشہ ہے۔ حضرت عقبہ فرماتے ہیں کہ یہ میرا حضور نبی اکرم ﷺ کا آخری دیدار تھا (یعنی اس کے بعد جلد ہی آپ ﷺ کا وصال ہو گیا)۔ ‘‘

839 / 39. عَنْ عُقَبَةَ بْنِ عَامِرٍ رضى الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ إِنِّي فَرَطٌ لَکُمْ وَأَنَا شَهِيدٌ عَلَيْکُمْ وَإِنِّي وَاللهِ لَأَنْظُرُ إِلَي حَوْضِي الآنَ، وَإِنِّي أُعْطِيْتُ مَفَاتِيحَ خَزَآئِنِ الْأَرْضِ، أَوْمَفَاتِيحَ الْأَرْضِ، وَإِنِّي وَاللهِ مَا أَخَافُ عَلَيْکُمْ أَنْ تَُشْرِکُوْا بَعْدِي وَلَکِنْ أَخَافُ عَلَيْکُمْ أَنْ تَتَنَافَسُوْا فِيهَا.

مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

الحديث رقم 39: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: المناقب، باب: علامات النَّبُوَّةِ فِي الإِسلام، 3 / 1317، الرقم: 3401، وفي کتاب: الرقاق، باب: مَا يُحْذَرُ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا وَالتَّنَافُسِ فِيها، 5 / 2361، الرقم: 6061، ومسلم في الصحيح، کتاب: الفضائل، باب: إثبات حوض نبينا ﷺ وصفاته، 4 / 1795، الرقم: 2296 وأحمد بن حنبل في المسند، 4 / 153.

’’حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: بے شک میں تمہارا پیش رو اور تم پر گواہ ہوں۔ بیشک خدا کی قسم! میں اپنے حوض (کوثر) کو اس وقت بھی دیکھ رہا ہوں اور بیشک مجھے زمین کے خزانوں کی کنجیاں (یا فرمایا: زمین کی کنجیاں) عطا کر دی گئی ہیں اور خدا کی قسم! مجھے یہ ڈر نہیں کہ میرے بعد تم شرک کرنے لگو گے بلکہ مجھے ڈر اس بات کا ہے کہ تم دنیا کی محبت میں مبتلا ہو جاؤ گے۔ ‘‘

840 / 40. عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رضى الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: إنِّي لَسْتُ أَخْشَي عَلَيْکُمْ أَنْ تُشْرِکُوْا بَعْدِي، وَلَکِنِّي أَخْشَي عَلَيْکُمُ الدُّنْيَا أَنْ تَنَافَسُوْا فِيْهَا، وَتَقْتَتِلُوْا فَتَهْلِکُوْا کَمَا هَلَکً مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ قَالَ عُقْبَةُ: فَکَانَ آخِرَ مَا رَأَيْتُ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ عَلىٰ الْمِنْبَرِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

الحديث رقم 40: أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب: الفضائل، باب: اثبات حوض نبينا ﷺ وصفاته، 4 / 1796، الرقم: 2296، والطبراني في المعجم الکبير، 17 / 279، الرقم: 769، والشيباني في الآحاد والمثاني، 5 / 45، الرقم: 2583.

’’حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مجھے تمہارے متعلق اس بات کا تو ڈر ہی نہیں ہے کہ تم میرے بعد شرک کرو گے بلکہ مجھے ڈر ہے کہ تم دنیا کی محبت میں گرفتار ہو جاؤ گے اور آپس میں لڑو گے اور ہلاک ہو گے جیسا کہ تم سے پہلے لوگ ہوئے۔ حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ آخری بار تھی جب میں نے حضور نبی اکرم ﷺ کو منبر پر جلوہ افروز دیکھا (یعنی اس کے بعد جلد ہی آپ ﷺ کا وصال ہو گیا)۔ ‘‘

فَصْلٌ فِي بَعْثِ الْأَئِمَّةِ الْمُجَدِّدِيْنَ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ

(اس اُمت میں اَئمہ مجددین کے بھیجے جانے کا بیان)

841 / 41. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضى الله عنه فِيْمَا أَعْلَمُ عَنْ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ قَالَ: إِنَّ اللهَ عزوجل يَبْعَثُ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ عَلىٰ رَأْسِ کُلِّ مِائَةِ سَنَةٍ مَنْ يُّجَدِّدُ لَهَا دِيْنَهَا. رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَالْحَاکِمُ وَالطَّبَرَانِيُّ.

الحديث رقم 41: أخرجه أبوداود في السنن، کتاب: الملاحم، باب: مايذکر في قرن المائة، 4 / 109، الرقم: 4291، والحاکم في المستدرک، 4 / 567، 568، الرقم: 8592، 8593، والطبراني في المعجم الأوسط، 6 / 223، الرقم: 6527، والديلمي في مسند الفردوس، 1 / 148، الرقم: 532، والمقرئ في السنن الوردة في الفتن، 3 / 742، الرقم: 364، وابن عساکر في تاريخ دمشق الکبير، 51 / 388، 341، والخطيب البغدادي في تاريخ بغداد، 2 / 61.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اس (علم) میں سے جو انہوں نے حضور نبی اکرم ﷺ سے سیکھا روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس امت کے لئے ہر صدی کے آخر میں کسی ایسے شخص (یا اشخاص) کو پیدا فرمائے گا جو اس (امت) کے لئے اس کے دین کی تجدید کرے گا۔ ‘‘

842 / 42. عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رضى الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: إِنَّ أَدْنَي الرِّيَاءِ شِرْکٌ وَأَحَبَّ الْعَبِيْدِ إِلَي اللهِ تَبَارَکَ وَتَعَالَي الْأَتْقِيَاءُ الْأَخْفِيَاءُ الَّذِيْنَ إِذَا غَابُوْا لَمْ يُفْتَقَدُوْا وَإِذَا شَهِدُوْا لَمْ يُعْرَفُوْا أُوْلَئِکَ أَئِمَّةُ الْهُدَي وَمَصَابِيْحُ الْعِلْمِ. رَوَاهُ الْحَاکِمُ وَالطَّبَرَانِيُّ.

وَقَالَ الْحَاکِمُ: هَذَاحَدِيْثٌ صَحِيْحٌ.

الحديث الرقم 42: أخرجه الحاکم في المستدرک، 3 / 303، الرقم: 5182، والطبراني في المعجم الأوسط، 5 / 163، الرقم: 4950، وفي المعجم الکبير، 20 / 36، الرقم: 53، والقضاعي في مسند الشهاب، 2 / 252، الرقم: 1298، والبيهقي في کتاب الزهد، 2 / 112.

’’حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: معمولی سا دکھاوا بھی شرک ہے اور بندوں میں سے محبوب ترین بندے اللہ تعالیٰ کے نزدیک متقی اور خشیت الٰہی رکھنے والے وہ لوگ ہیں جو موجود نہ ہوں تو تلاش نہ کیے جائیں اور موجود ہوں تو پہچانے نہ جائیں، وہی لوگ ہدایت کے اِمام اور علم کے چراغ ہیں۔ ‘‘

843 / 43. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضی الله عنهما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: مَنْ تَمَسَّکَ بِسُنَّتِي عِنْدَ فَسَادِ أُمَّتِي فَلَهُ أَجْرُ مِائَةِ شَهِيْدٍ.

رَوَاهُ أَبُوْنُعَيْمٍ وَالْبَيْهَقِيُّ وَالدَّيْلَمِيُّ.

الحديث الرقم 43: أخرجه أبونعيم في حلية الأولياء، 8 / 200، والبيهقي في کتاب الزهد الکبير، 2: 118، الرقم: 207، والديلمي في مسند الفردوس، 4 / 198، الرقم: 6608، والمنذري في الترغيب والترهيب، 1: 41 / الرقم: 65، والمزي في تهذيب الکمال، 24 / 364، والذهبي في ميزان الاعتدال، 2 / 270.

’’حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے اس وقت میری سنت کو مضبوطی سے تھاما جب میری امت فساد میں مبتلا ہو چکی ہو گی تو اس کے لئے سو شہیدوں کے برابر ثواب ہے۔ ‘‘

844 / 44. عَنِ الْحَسَنِ بِنْ عَلِيٍّ رضي اللهُ عنهما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: مَنْ جَاءَهُ الْمَوْتُ وَهُوَ يَطْلُبُ الْعِلْمَ لِيُحْيِي بِهِ الإِسْلَامَ فَبَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّبِيِيْنَ دَرَجَةٌ وَاحِدَةٌ فِي الْجَنَّةِ.

رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ وَالطَّبَرَانِيُّ.

الحديث الرقم 44: أخرجه الدارمي في السنن، باب: في فضل العلم والعالم، 1 / 112، الرقم: 354، والطبراني في المعجم الأوسط، 9 / 174، الرقم: 9454، وابن عساکر في تاريخ دمشق الکبير، 51 / 61، والهيثمي في مجمع الزوائد، 1 / 123، وابن عبد البر في جامع بيان العلم وفضله، 1 / 46، والزبيدي في اتحاف سادة المتقين، 1 / 100، والمنذري في الترغيب والترهيب، 1 / 53، الرقم: 110.

’’حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: دورانِ حصولِ علم اگر کسی شخص کو موت آ جائے اور وہ اس لئے علم حاصل کر رہا ہو کہ اس کے ذریعہ سے اسلام کو زندہ کرے گا تو اس کے اور انبیاءِ کرام کے درمیان جنت میں صرف ایک درجے کا فرق ہو گا۔ ‘‘

845 / 45. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضى الله عنه، عَنْ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ أَنَّهُ قَالَ: لَا نَبِيَّ بَعْدِي. قَالُوْا: فَمَا يَکُوْنُ يَا رَسُوْلَ اللهِ، قَالَ: يَکُوْنُ خُلَفَاءٌ بَعْضُهُمْ عَلىٰ أَثْرِ بَعْضٍ فَمَنِ اسْتَقَامَ مِنْهُمْ فَفُوْا لَهُمْ بَيْعَتَهُمْ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَقِمْ فَأَدُّوْا إِلَيْهِمْ حَقَّهُمْ وَسَلُوا ﷲَ الَّذِي لَکُمْ. رَوَاهُ ابْنُ رَاهَوَيْهِ.

الحديث الرقم 45: أخرجه ابن راهويه في المسند، 1 / 257، الرقم: 223.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: (جان لو!) میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے عرض کیا: تو یا رسول اللہ کون ہو گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: (میرے) خلفاء ہوں گے اور پھر ان کے خلفاء ہوں گے۔ سو جسے تم سیدھے راستہ پر پاؤ اس کے ساتھ بیعت (عہد وفا) نبھاؤ، اور جو سیدھی راہ پر نہ رہیں انہیں ان کا حق دے دو اور اپنا حق اللہ تعالیٰ سے مانگو۔ ‘‘

846 / 46. عَنْ کَثِيْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيِّ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ جَدِّهِ رضى الله عنهم قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: إِنَّ الدِّيْنَ (أَوْ قَالَ: إِنَّ الإِسْلَامَ) بَدَأَ غَرِيْبًا وَسَيَعُوْدُ غَرِيْبًا کَمَا بَدَأَ فَطُوْبَي لِلْغُرَبَاءِ قِيْلَ: يَا رَسُوْلَ اللهِ! مَنِ الْغُرَبَاءُ؟ قَالَ: الَّذِيْنَ يُحْيُوْنَ سُنَّتِي وَيُعَلِّمُوْنَهَا عِبَادَ اللهِ. رَوَاهُ الْقُضَاعِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ.

الحديث الرقم 46: أخرجه القضاعي في مسند الشهاب، 2 / 138، الرقم: 1052. 1053، والبيهقي في کتاب الزهد الکبير، 2 / 117، الرقم: 205، والسيوطي في مفتاح الجنة، 1 / 67.

’’حضرت کثیر بن عبد اللہ مزنی رضی اللہ عنہ بواسطہ اپنے والد اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: بیشک دین (یا فرمایا: اسلام) کی ابتداء غریبوں سے ہوئی اور غریبوں میں ہی لوٹے گا جس طرح کہ اس کا آغاز ہوا تھا، سو غریبوں کو مبارک ہو۔ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! غرباء کون ہیں؟ فرمایا: وہ لوگ جو میری سنتوں کو زندہ کرتے اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کو ان کی تعلیم دیتے ہیں۔ ‘‘

847 / 47. عَنْ سَعِيْدِ بْنِ الْمُسَيَبِ رضى الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ: مَنْ تَعَلَّمَ الْعِلْمَ يُحْيِي بِهِ الإِسْلَامَ لَمْ يَکُنْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْأَنْبِيَاءِ إِلَّا دَرَجَةٌ.

رَوَاهُ ابْنُ عَبْدِ الْبَرِّ.

الحديث الرقم 47: أخرجه ابن عبدالبر في جامع بيان العلم وفضله، 1 / 46.

’’حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے علم حاصل کیا تاکہ اس سے اسلام کو زندہ کر سکے تو اس کے اور انبیاء کرام کے درمیان سوائے ایک درجہ کے کوئی فرق نہیں ہو گا۔ ‘‘

848 / 48. عَنِ الْحَسَنِ ابْنِ عَلِيٍّ رضی الله عنهما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: رَحْمَةُ اللهِ عَلىٰ خُلَفَائِي ثلَاَثَ مَرَّاتٍ، قَالُوْا: وَمَنْ خُلَفَاؤُکَ يَا رَسُوْلَ اللهِ؟ قَالَ: الَّذِيْنَ يُحْيُوْنَ سُنَّتِي وَيُعَلِّمُوْنَهَا النَّاسَ.

رَوَاهُ ابْنُ عَسَاکِرَ وَابْنُ عَبْدِ الْبَرِّ وَالْهِنْدِيُّ.

الحديث الرقم 48: أخرجه ابن عساکر في تاريخ دمشق الکبير، 51 / 61، وابن عبد البر في جامع بيان العلم وفضله، 1 / 46، والهندي في کنز العمال، 10 / 229، الرقم: 29209.

’’حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے تین مرتبہ یہ فرمایا: میرے خلفاء پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو۔ صحابہ کرام نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کے خلفاء کون لوگ ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ (لوگ) جو میری سنتوں کو زندہ کرتے ہیں اور (دوسرے) لوگوں کو بھی ان کی تعلیم دیتے ہیں (میرے خلفاء ہیں)۔ ‘‘

849 / 49. عَنْ أَبِي سَعِيْدٍ الْفَرْيَابِيِّ رضى الله عنه قَالَ: قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ رضى الله عنه: إِنَّ اللهَ يُقَيِضُ لِلنَّاسِ فِيکُلِّ رَأْسِ مِائَةِ سَنَةٍ مَنْ يُعَلِّمُهُمُ السُّنَنَ وَيَنْفِي عَنْ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ الْکِذْبَ. رَوَاهُ الْمِزِّيُّ وَالْخَطِيْبُ وَالْعَسْقَلَانِيُّ.

الحديث الرقم 49: أخرجه المزي في تهذيب الکمال، 24 / 365، والعسقلاني في تهذيب التهذيب، 9 / 25، والخطيب البغدادي في تاريخ بغداد، 2 / 62، والعظيم آبادي في عون المعبود، 11 / 261.

’’حضرت ابو سعید فریابی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ہر صدی کے آخر پر لوگوں کے لئے ایک ایسی شخصیت کو بھیجتا ہے جو لوگوں کو سنت کی تعلیم دیتی ہے اور حضور نبی اکرم ﷺ کی طرف منسوب جھوٹ کی نفی کرتی ہے۔ ‘‘

Copyrights © 2020 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved