المنہاج السوی من الحدیث النبوی

فرض نمازوں کے بعد دعا کرنا

اَلْبَابُ السَّادِسُ: الدُّعَاءُ بَعْدَ الصَّلَوَاتِ الْمَکْتُوْبَةِ

(فرض نمازوں کے بعد دعا کرنا)

1. فَصْلٌ فِي فَضْلِ الدُّعَاءِ

(فضیلتِ دعا کا بیان)

2. فَصْلٌ فِي الدُّعَاءِ بَعْدَ الصَّلَوَاتِ الْمَکْتُوْبَةِ

(فرض نمازوں کے بعد دعا کرنے کا بیان)

3. فَصْلٌ فِي رَفْعِ الْيَدَيْنِ فِي الدُّعَاءِ

(دعا میں ہاتھ اٹھانے کا بیان)

فَصْلٌ فِي فَضْلِ الدُّعَاءِ

(فضیلتِ دُعا کا بیان)

327 / 1. عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيْرٍ رضي الله عنهما قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيِّ ﷺ يَقُوْلُ: الدُّعَاءُ هُوَ الْعِبَادَةُ ثُمَّ قَرَأَ: (وَقَالَ رَبُّکُمُ ادْعُوْنِي أَسْتَجِبْ لَکُمْ إِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَکْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دَاخِرِيْنَ) (غافر، 40: 60). رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَصَحَّحَهُ وَأَبُوْدَاوُدَ.

وَقَالَ الْحَاکِمُ: هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الإِسْنَادِ.

الحديث رقم 1: أخرجه الترمذي في السنن، کتاب: التفسير عن رسول الله ﷺ، باب: ومن سورة المؤمن، 5 / 374، الرقم: 3247، وفي باب: ومن سورة البقرة، 5 / 211، الرقم: 2969، وفي کتاب: الدعوات عن رسول الله ﷺ، باب: ماجاء في فضل الدعاء، 5 / 456، الرقم: 3372، وأبو داود في السنن، کتاب: الصلاة، باب: الدعاء، 2 / 76، الرقم: 1479، وابن ماجه في السنن، کتاب: الدعاء، باب: فضل الدعاء، 2 / 1258، الرقم: 3828، والنسائي في السنن الکبري، سورة غافر، 6 / 450، الرقم: 11464، وأحمد بن حنبل في المسند، 4 / 267، 271، 276، وابن حبان في الصحيح، 3 / 172، الرقم: 890، والحاکم في المستدرک، 1 / 667، الرقم: 1802، وأبو يعلي في المعجم، 1 / 262، الرقم: 328، والطيالسي في المسند، 1 / 108، الرقم: 801.

’’حضرت نعمان بن بشیر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: دعا عین عبادت ہے پھر آپ ﷺ نے (بطور دلیل) یہ آیت تلاوت فرمائی: ’’اور تمہارے رب نے فرمایا ہے تم لوگ مجھ سے دعا کیا کرو میں ضرور قبول کروں گا، بیشک جو لوگ میری بندگی سے سرکشی کرتے ہیں وہ عنقریب دوزخ میں ذلیل ہو کر داخل ہوں گے۔‘‘

328 / 2. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: لَيْسَ شَيئٌ أَکْرَمَ عَلَي اللهِ تَعَالىٰ مِنَ الدُّعَاءِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَحَسَّنَهُ وَابْنُ مَاجَه.

وَقَالَ الْحَاکِمُ: هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الإِسْنَادِ.

الحديث رقم 2: أخرجه الترمذي في السنن، کتاب: الدعوات عن رسول الله ﷺ، باب: ماجاء في فضل الدعاء، 5 / 455، الرقم: 3370، وابن ماجه في السنن، کتاب: الدعاء، باب: فضل الدعاء 2 / 1258، الرقم: 3829، وابن حبان في الصحيح، 3 / 151، الرقم: 870، والحاکم في المستدرک، 1 / 666، الرقم: 1801، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 / 362، 2523، والبيقهي في شعب الإيمان، 2 / 38، الرقم: 1106، والبخاري في الأدب المفرد، 1 / 249، الحدث رقم: 712.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا سے زیادہ کوئی چیز محترم و مکرّم نہیں ہے۔‘‘

329 / 3. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ: مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَسْتَجِيْبَ اللهُ لَهُ عِنْدَ الشَّدَائِدِ وَالْکَرْبِ فَلْيُکْثِرِ الدُّعَاءَ فِي الرَّخَاءِ.

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْدَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه.

وَقَالَ الْحَاکِمُ: صَحِيْحُ الإِسْنَادِ.

الحديث رقم 3: أخرجه الترمذي في السنن، کتاب: الدعوات عن رسول الله ﷺ، باب: ماجاء أن دعوة المسلم مستجاب، 5 / 462، الرقم: 3382، وأبو داود في السنن، کتاب: الصلاة، باب: الدعاء، 2 / 76، الرقم: 1479، وابن ماجه في السنن، کتاب: الدعاء، باب: فضل الدعاء، 2 / 1258، الرقم: 3828، والنسائي في السنن الکبري، باب: سورة غافر، 6 / 450، الرقم: 11464، وابن حبان في الصحيح، 3 / 172، الرقم: 890، والحاکم في المستدرک، 1 / 667، الرقم: 1802، وأحمد بن حنبل في المسند، 4 / 267، 271، 276، وأبو يعلي في المعجم، 1 / 262، الرقم: 328، والطيالسي في المسند، 1 / 108، الرقم: 801.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جسے پسند ہو کہ اللہ تعالیٰ مشکلات اور تکالیف کے وقت اس کی دعا قبول کرے، وہ خوشحالی کے اوقات میں زیادہ سے زیادہ دعا کیا کرے۔‘‘

330 / 4. عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضي الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ: الدُّعَاءُ مُخُّ الْعِبَادَةِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

الحديث رقم 4: أخرجه الترمذي في السنن، کتاب: الدعوات عن رسول الله ﷺ، باب: ماجاء في فضل الدعاء، 5 / 456، الرقم: 3371، والديلمي في مسند الفردوس، 2 / 224، الرقم: 3087، والحکيم الترمذي في نوادر الأصول، 2 / 113، وابن رجب في جامع العلوم والحاکم، 1 / 191، والمنذري في الترغيب والترهيب، 2 / 317، الرقم: 2534.

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: دعا عبادت کا بھی مغز (یعنی خلاصہ اور جوہر) ہے۔‘‘

331 / 5. عَنْ سَلْمَانَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: لَا يَرُدُّ الْقَضَاءَ إِلَّا الدُّعَاءُ وَلَا يَزِيْدُ فِي الْعُمْرِ إِلَّا الْبِرُّ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَحْمَدُ.

وَقَالَ أَبُوْعِيْسَي: هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ.

الحديث رقم 5: أخرجه الترمذي في السنن، کتاب: القدر عن رسول الله ﷺ، باب: ماجاء لا يرد القدر إلا الدعاء، 4 / 448، الرقم: 2139، وأحمد بن حنبل في المسند، 5 / 277، 280، 282، الرقم: 22440، 22466، 22491، والحاکم في المستدرک، 1 / 670، الرقم: 1814، وابن أبي شيبة في المصنف، 6 / 109، الرقم: 29867، والطبراني في المعجم الکبير، 2 / 100، الرقم: 1442، أخرجه أحمد والطبراني عن ثوبان رضي الله عنه والبزار في المسند، 6 / 501 الرقم: 2540.

’’حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: دعا کے علاوہ کوئی چیز تقدیر کو ردّ نہیں کر سکتی اور نیکی کے علاوہ کوئی چیز عمر میں اضافہ نہیں کر سکتی۔‘‘

332 / 6. عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ الله ﷺ: الدُّعَاءُ لَا يُرَدُّ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالإِقَامَةِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ.

وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: حَدِيْثُ أَنَسٍ حَدِِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ.

الحديث رقم 6: أخرجه الترمذي في السنن، کتاب: الصلاة عن رسول الله ﷺ، باب: ماجاء في أَنَّ الدُّعَاءَ لَا يُرَدُّ بينَ الأَذَانِ وَالإقامَةِ، 1 / 415، الرقم: 212، وفي کتاب: الدعوات عن رسول الله ﷺ، باب: في العَفْوِ وَالْعافِيةِ، 5 / 576، الرقم: 3594 - 3595، والنسائي في السنن الکبري، 6 / 22، الرقم: 9895 - 9897، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 119، الرقم: 12221، 12606، 13693، وابن أبي شيبة في المصنف، 6 / 31، الرقم: 29247، وأبويعلي في المسند، 6 / 363، الرقم: 3679، والمقدسي في الأحاديث المختارة، 4 / 392، الرقم: 1562، والمنذري في الترغيب والترهيب، 4 / 138، الرقم: 5139، والهيثمي في مجمع الزوائد، 1 / 334، وابن کثير في تفسير القرآن العظيم، 4 / 102.

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اذان اور اقامت کے درمیان مانگی جانے والی دعا ردّ نہیں ہوتی۔‘‘

333 / 7. عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضي الله عنه قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ يَقُوْلُ: قَالَ اللهُ تَبَارَکَ وَتَعَالَى: يَا ابْنَ آدَمَ إِنَّکَ مَا دَعَوْتَنِي وَرَجَوْتَنِي غَفَرْتُ لَکَ عَلَي مَا کَانَ فِيْکَ وَلَا أُبَالِي. يَا ابْنَ آدَمَ لَوْ بَلَغَتْ ذُنُوْبُکَ عَنَانَ السَّمَاءِ ثُمَّ اسْتَغْفَرْتَنِي غَفَرْتُ لَکَ وَلَا أُبَالِي. يَا ابْنَ آدَمَ إِنَّکَ لَوْ أَتَيْتَنِي بِقُرَابِ الْأَرْضِ خَطَايَا ثُمَّ لَقِيْتَنِي لَا تُشْرِکُ بِي شَيْئًا لَأَتَيْتُکَ بِقُرَابِهَا مَغْفِرَةً.

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ وَأَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الثَلَاثَةِ.

وَقَالَ أَبُوْعِيْسَي: هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ.

الحديث رقم 7: أخرجه الترمذي في السنن، کتاب: الدعوات عن رسول الله ﷺ، باب: في فضل التوبة والاستغفار وَ مَا ذُکِرَ مِن رحمة اللهِ لِعِبَادِه، 5 / 548، الرقم: 3540، والدارمي في السنن، 2 / 414، الرقم: 2788، وأحمد بن حنبل في المسند، 5 / 167، الرقم: 21510 - 21544، والطبراني عن ابن عباس رضي الله عنهما في المعجم الکبير، 12 / 19، الرقم: 12346، وفي المعجم الأوسط، 5 / 337، الرقم: 5483، وفي المعجم الصغير، 2 / 82، الرقم: 820، والبيهقي عن أبي ذرٍ رضي الله عنه في شعب الإيمان، 2 / 17، الرقم: 1042، والهيثمي في مجمع الزوائد، 10 / 216.

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے حضور نبی اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: الله تعالیٰ نے فرمایا: اے ابن آدم! جب تک تو مجھ سے دعا کرتا رہے گا اور امید رکھے گا جو کچھ بھی تو کرتا رہے میں تجھے بخشتا رہوں گا اور مجھے کوئی پروا نہیں۔ اے ابن آدم! اگر تیرے گناہ آسمان کے بادلوں تک پہنچ جائیں پھر بھی تو بخشش مانگے تو میں بخش دوں گا مجھے کوئی پرواہ نہیں۔ اے ابن آدم! اگر تو زمین بھر کے برابر گناہ بھی لے کر میرے پاس آئے پھر مجھے اس حالت میں ملے کہ تو نے میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرایا ہو تو یقینا میں زمین بھر کے برابر تجھے بخشش عطا کروں گا۔‘‘

334 / 8. عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يَدْعُوْ لِأَخِيْهِ بِظَهْرِ الْغَيْبِ، إِلَّا قَالَ الْمَلَکُ: وَلَکَ بِمِثْلٍ.

رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

الحديث رقم 8: أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب: الذکر والدعاء والتوبة والاستغفار، باب: فضل الدعاء للمسلمين بظهر الغيب، 4 / 2094، الرقم: 2732، وأحمد بن حنبل في المسند، 6 / 452، الرقم: 37598، وابن حبان في الصحيح، 3 / 268، الرقم: 989، وابن أبي شيبة في المصنف، 6 / 21، الرقم: 29158 - 29161.

’’حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب کوئی مسلمان اپنے مسلمان بھائی کے لئے اس کی عدم موجودگی میں دعا کرتا ہے تو (مقرر کردہ) فرشتہ کہتا ہے تیرے لیے بھی ایسا ہی ہو (جو تو نے اپنے بھائی کے لئے دعا کی ہے)۔‘‘

335 / 9. عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ قَالَتْ: إِنَّ النَّبِيَّ ﷺ کَانَ يَقُوْلُ: دَعْوَةُ الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ لِأَخِيْهِ، بِظَهْرِ الْغَيْبِ مُسْتجَابَةٌ. عِنْدَ رَأْسِهِ مَلَکٌ مُوَکَّلٌ. کُلَّمَا دَعَا لِأَخِيْهِ بِخَيْرٍ، قَالَ الْمَلَکُ الْمُوَکَّلُ بِهِ: آمِينَ. وَلَکَ بِمِثْلٍ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

الحديث رقم 9: أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب: الذکر والدعاء والتوبة والاستغفار، باب: فضل الدعاء للمسلمين بظهر الغيب، 4 / 2094، الرقم: 2733، وأحمد بن حنبل في المسند، 6 / 452، الرقم: 27599، والبيهقي في السنن الکبري، 3 / 353، وابن غزوان في کتاب الدعاء، 1 / 234، الرقم: 63.

’’حضرت ام درداء رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ فرمایا کرتے تھے: مسلمان کی اپنے بھائی کے لئے اس کی عدم موجودگی میں کی جانے والی دعا مقبول ہوتی ہے۔ اس کے سر کے پاس ایک فرشتہ مقرر ہوتا ہے جب بھی وہ اپنے اس بھائی کے لئے نیک دعا کرتا ہے، تو فرشتہ کہتا ہے آمین اور تجھے بھی ایسے ہی نصیب ہو (جیسے کہ تو نے اپنے بھائی کے لئے دعا کی ہے)۔‘‘

336 / 10. عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رضي الله عنهما أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ: إِنَّ أَسْرَعَ الدُّعَاءِ إِجَابَةً دَعْوَةُ غَائِبٍ لِغَائِبٍ.

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْدَاوُدَ.

الحديث رقم 10: أخرجه الترمذي في السنن، کتاب: البر والصلة عن رسول الله ﷺ، باب: ما جاء في دعوة الأخ لأخيه بظهر الغيب، 4 / 352، الرقم: 1980، وأبو داود في السنن، کتاب: الصلاة، باب: الدعاء بظهر الغيب، 2 / 89، الرقم: 1535، وابن أبي شيبة في المصنف، 6 / 21، الرقم: 29159، والديلمي في الفردوس بما ثور الخطاب، 1 / 369، الرقم: 1490، وعبد بن حميد في المسند، 1 / 1331، الرقم: 327، 331، والقضاعي في مسند الشهاب، 2 / 265، الرقم: 1328 - 1330، والمنذري في الترغيب والترهيب، 4 / 43، الرقم: 4734.

’’حضرت عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: دعاؤں میں سب سے جلدی قبول ہونے والی دعا وہ ہے جو ایک غائب شخص (اخلاص کے ساتھ) دوسرے غائب شخص کے لئے کرے۔‘‘

337 / 11. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: ثَلَاثُ دَعَوَاتٍ مُسْتَجَابَاتٌ لَا شَکَّ فِيْهِنَّ: دَعْوَةُ الْمَظْلُوْمِ وَدَعْوَةُ الْمُسَافِرِ وَدَعْوَةُ الْوَالِدِ عَلَي وَلَدِهِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْدَاوْدَ وَأَحْمَدُ.

وَقَالَ أَبُوْعِيْسَي: هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ.

الحديث رقم 11: أخرجه الترمذي في السنن، کتاب: البر والصلة عن رسول الله ﷺ، باب: ما جاء في دعوةِ الوالدين، 4 / 314، الرقم: 1905، وفي کتاب: الدعوات عن رسول الله ﷺ، باب: ما ذکر في دعوة المسافر، 5 / 502، الرقم:

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تین (قسم کے لوگوں کی) دعائیں بلاشک و شبہ مقبول ہیں، مظلوم کی دعا، مسافر کی دعا اور والد کی اپنی اولاد کے لئے کی گئی بد دعا۔‘‘

فَصْلٌ فِي الدُّعَاءِ بَعْدَ الصَّلَوَاتِ الْمَکْتُوبَةِ

(فرض نمازوں کے بعد دعا کرنے کا بیان)

338 / 12. عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رضي الله عنه قَالَ: قِيْلَ: يَا رَسُوْلِ اللهِ، أَيُّ الدُّعَاءِ أَسْمَعُ؟ قَالَ: جَوْفَ اللَّيْلِ الآخِرِ، وَدُبُرَ الصَّلَوَاتِ الْمَکْتُوْبَاتِ.

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ.

وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ.

الحديث رقم 12: أخرجه الترمذي في السنن، کتاب: الدعوات عن رسول الله ﷺ، باب: (79)، 5 / 526، الرقم: 3499، والنسائي في السنن الکبري، 6 / 32، الرقم: 9936، وعبد الرزاق في المصنف، 2 / 424، الرقم: 3944، والنسائي في عمل اليوم والليلة، 1 / 186، الرقم: 108، والطبراني في المعجم الأوسط، 3 / 370، الرقم: 3428، وفي مسند الشاميين، 1 / 454، الرقم: 803، والبيهقي في السنن الصغري، 1 / 477، الرقم: 839 - 840، وابن رجب في جامع العلوم والحکم، 1 / 273، والمنذري في الترغيب والترهيب، 2 / 321، الرقم: 2550، والعسقلاني في فتح الباري، 11 / 134.

’’حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں عرض کیا گیا: کس وقت کی دعا زیادہ سنی جاتی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: رات کے آخری حصے میں (کی گئی دعا) اور فرض نمازوں کے بعد (کی گئی دعا جلد مقبول ہوتی ہے)۔‘‘

339 / 13. عَنْ مُغِيْرَةَ بْنِ شُعْبَةَ رضي الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ کَانَ يَقُوْلُ فِي دُبُرِ کُلِّ صَلَاةٍ مَکْتُوبَةٍ. وفي رواية للبخاري: أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ کَانَ يَقُوْلُ فِي دُبُرِ کُلِّ صَلَاةٍ إِذَا سَلَّمَ. وفي رواية مسلم: کَانَ إِذَا فَرَغَ مِنَ الصَّلَاةِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلاَّ اللهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيْکَ لَهُ لَهُ الْمُلْکُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَي کُلِّ شَيءٍ قَدِيْرٌ. اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا يَنْفَعُ ذَالْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُّ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

الحديث رقم 13: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: صفة الصلاة، باب: الذکر بعد الصلاة، 1 / 289، الرقم: 808، وفي کتاب: الدعوات، باب: الدعاء بعد الصلاة، 5 / 2332، الرقم: 5971، وفي کتاب: القدر، باب: لا مانع لما أعطي الله، 6 / 2439، الرقم: 6341، وفي کتاب: الاعتصام بالکتاب والسنة، باب: مايکره من کثرة السؤال وتکلف مالا يعنيه، 6 / 2659، الرقم: 6862، ومسلم في الصحيح، کتاب: المساجد ومواضع الصلاة، باب: استحباب الذکر بعد الصلاة وبيان صفة، 1 / 414، الرقم: 593، والترمذي نحوه في السنن، کتاب: الصلاة عن رسول الله ﷺ، باب: مايقول إذا أسلم من الصلاة، 2 / 96، الرقم: 299، وأبوداود في السنن، کتاب: الصلاة، باب: ما يقول الرجل إذا سلم، 2 / 82، الرقم: 1505، والنسائي في السنن، کتاب: السهو، باب: نوع آخر من الدعاء عند الانحراف من الصلاة، 3 / 70، الرقم: 1341 - 1342، وأحمد بن حنبل في المسند، 4 / 97، 245 - 247، 250، 254 - 255، وابن خزيمة في الصحيح، 1 / 365، الرقم: 742، وابن حبان في الصحيح، 5 / 345، الرقم: 2005، 2007، وابن أبي شيبة في المصنف، 1 / 269، الرقم: 3096، 6 / 32، الرقم: 29260، وعبد الرزاق في المصنف، 2 / 244، الرقم: 3224، والبيهقي في السنن الکبري، 2 / 185، الرقم: 2840، والطبراني في المعجم الکبير، 20 / 388، الرقم: 914.

’’حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ ہر فرض نماز کے بعد یوں کہا کرتے تھے اور بخاری کی روایت میں ہے: حضور نبی اکرم ﷺ ہر نماز کے بعد جب سلام پھیرتے تو یوں کہا کرتے تھے اور مسلم کی روایت میں ہے: جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوتے اور سلام پھیرتے تو اس کے بعد یوں فرماتے: نہیں ہے کوئی معبود مگر الله تعالیٰ، وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہی ہے اور اسی کے لئے سب تعریفیں ہیں اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ اے الله! جسے تو دے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جسے تو روکے اسے کوئی دینے والا نہیں اور کسی دولت مند کو تیرے مقابلے میں دولت نفع نہیں دے گی۔‘‘

340 / 14. عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُوْنٍ الْأَوْدِيَّ قَالَ: کَانَ سَعْدٌ رضي الله عنه يُعَلِّمُ بَنِيْهِ هَؤُلاءِ الْکَلِمَاتِ کَمَا يُعلِّمُ الْمُعَلِّمُ الْغِلْمَانَ الْکِتَابَةَ وَيَقُوْلُ: إِنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ کَانَ يَتَعَوَّذُ مِنْهُنَّ دُبُرَ الصَّلَاةَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْجُبْنِ وَأَعُوْذُبِکَ أَنْ أَرُدَّ إِلَي أَرْذَلِ الْعُمْرِ وَأَعُوْذُ بِکَ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنْيَا، وَأَعُوْذُبِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ. فَحَدَّثْتُ بِهِ مُصْعَبًا فَصَدَّقَهُ.

رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَالتِّرْمِذِيُّ.

وَقَالَ أَبُوْعِيْسَي: هَذَا حَدِيْثٌ حَسْنٌ صَحِيْحٌ.

الحديث الرقم 14: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: الجهاد والسير، باب: مايتعوذ من الجبن، 3 / 1038، الرقم: 2667، وفي کتاب: الدعوات، باب: التعوذ من عذاب القبر، 5 / 2341، الرقم: 6004، والترمذي في السنن، کتاب: الدعوات عن رسول الله ﷺ، باب: في دعاء النبي وتعوذه في دبر کل صلاة، 5 / 562، الرقم: 3567، والنسائي في السنن، کتاب: الاستعاذة، باب: الاستعاذة من العجل، 8 / 267، الرقم: 5447، وأحمد بن حنبل في المسند، 1 / 186، الرقم: 1621، وابن خزيمة في الصحيح، 1 / 367، الرقم: 746، وابن حبان في الصحيح، 5 / 371، الرقم: 2024، والبزار في المسند، 3 / 343، الرقم: 1144، وابن أبي شيبة في المصنف، 6 / 18، الرقم: 29130، وأبويعلي في المسند، 2 / 110، الرقم: 771، والنسائي في عمل اليوم والليلة، 1 / 198، الرقم: 131.

’’حضرت عمرو بن میمون الاودی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اپنے صاحبزادوں کو ان کلمات کی ایسے تعلیم دیتے جیسے استاد بچوں کو لکھنا سکھاتا ہے اور فرماتے: بیشک رسول الله ﷺ ہر نماز کے بعد ان کلمات کے ذریعے الله تعالیٰ کی پناہ طلب کیا کرتے تھے (آپ ﷺ فرماتے: ) اے الله! میں بزدلی سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور میں ذلت کی زندگی کی طرف لوٹائے جانے سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور دنیا کے فتنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور عذابِ قبر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ (حضرت عمرو بن میمون بیان کرتے ہیں) جب میں نے یہ حدیث حضرت مصعب (بن سعد) کے سامنے بیان کی تو انہوں نے بھی اس کی تصدیق کی۔‘‘

341 / 15. عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رضي الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ أَخَذَ بِيَدِهِ يَوْمًا ثُمَّ قَالَ: يَا مُعَاذُ، إِنِّي لَأُحِبُّکَ فَقَالَ لَهُ مُعَاذٌ: بِأَبِي أَنْتَ وَأَمِّي وَأَنَا أُحِبُّکَ قَالَ: أُوْصِيْکَ يَا مُعَاذُ لاَ تَدَعَنَّ فِي دُبُرِ کُلِّ صَلَاةٍ أَنْ تَقُوْلَ: اَللَّهُمُّ أَعِنِّي عَلَي ذِکْرِکَ وَشُکْرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ قَالَ: وَأَوْصَي بِذَالِکَ مُعَاذٌ الصُّنَابِحِيَّ وَأَوْصَي بِهِ الصُّنَابِحِيُّ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ.

رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ وَأَحْمَدُ وَابْنُ حِبَّانَ وَالْحَاکِمُ.

وَقَالَ الْحَاکِمُ: هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ عَلَي شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ.

الحديث الرقم 15: أخرجه أبوداود في السنن، کتاب: الصلاة، باب: في الاستغفار، 2 / 86، الرقم: 1522، والنسائي في السنن الکبري، باب: ما يستحب من الدعاء دبر الصلوات المکتوبات، 6 / 32، الرقم: 9937، وأحمد بن حنبل في المسند، 5 / 244، الرقم: 22172، وابن حبان في الصحيح، 5 / 365، الرقم: 2021، والحاکم في المستدرک، 1 / 407، الرقم: 1010، والبزار في المسند، 7 / 104، الرقم: 2661، والبيهقي في السنن الصغري، 1 / 27، الرقم: 17، والطبراني في المعجم الکبير، 20 / 60، الرقم: 110، والنسائي في عمل اليوم والليلة، 1 / 187، الرقم: 109، وابن السني في عمل اليوم والليلة، 1 / 45، الرقم: 119، والمنذري في الترغيب والترهيب، 2 / 300، الرقم: 2475.

’’حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ نے ایک دن ان کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا: اے معاذ! میں تم سے محبت کرتا ہوں حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: (یا رسول الله!) میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں میں بھی آپ سے محبت کرتا ہوں۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: اے معاذ! میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ ہر نماز کے بعد یہ دعا مانگنا ہرگز نہ چھوڑنا: اے الله! اپنے ذکر، شکر اور اچھی طرح عبادت کی ادائیگی میں میری مدد فرما۔ پھر حضرت معاذ نے صنابحی کو اس دعا کی نصیحت کی اور انہوں نے ابوعبدالرحمن کو نصیحت کی (کہ ہر نماز کے بعد یہ دعا ضرور مانگنا)۔

342 / 16. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: أَتَانِي اللَّيْلَةَ رَبِّي تَبَارَکَ وَ تَعَالىٰ فِي أَحْسَنِ صُوْرَةٍ. . . فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، إِذَا صَلَّيْتَ فَقُلْ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُکَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ وَتَرْکَ الْمُنکَرَاتِ وَحُبَّ الْمَسَاکِيْنَ وَإِذَا أَرَدْتَ بِعِبَادِکَ فِتْنَةً فَاقْبِضْنِي إِلَيْکَ غَيْرَ مَفْتُوْنٍ. . . الحديث. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَمَالِکٌ وَأَحْمَدُ.

وَقَالَ أَبُوْعِيْسَي: هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ، وَقَالَ الْحَاکِمُ: هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ.

الحديث رقم 16: أخرجه الترمذي في السنن، کتاب: تفسير القرآن عن رسول الله ﷺ، باب: ومن سورة رضي الله عنه، 5 / 366، 368، الرقم: 3233، 3235، ومالک في الموطأ، کتاب: القرآن، باب: العمل في الدعاء، 1 / 218، الرقم: 508، وأحمد بن حنبل في المسند، 1 / 368، الرقم: 3484، 5 / 243، الرقم: 22162، والحاکم في المستدرک، 1 / 708، الرقم: 1932، والطبراني في المعجم الکبير، 20 / 109، الرقم: 216، وعبد بن حميد في المسند، 1 / 228، الرقم: 682، والمنذري في الترغيب والترهيب، 1 / 159، الرقم: 591، والهيثمي في مجمع الزوائد، 7 / 177.

’’حضرت عبدالله بن عباس رضی الله عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا: آج رات میرا رب میرے پاس نہایت احسن صورت میں آیا اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا: اے محمد! جب آپ نماز ادا کر چکیں تو یہ دعا مانگیں: اے الله! میں تجھ سے اچھے اعمال کے اپنانے، برے اعمال کو چھوڑنے اور مساکین کی محبت کا سوال کرتا ہوں اور جب تو اپنے بندوں کو آزمانے کا ارادہ کرے تو مجھے اس سے پہلے ہی بغیر آزمائے اپنے پاس بلا لے۔‘‘

343. / 17. عَنْ أَبِي أَيُّوْبَ رضي الله عنه قَالَ: مَا صَلَّيْتُ خَلْفَ نَبِّيِکُمْ ﷺ إِلاَّ سَمِعْتُهُ حِيْنَ يَنْصَرِفُ يَقُوْلُ: اللَّهُمَّ اغْفِرْلِي خَطَايَايَ وَذُنُوْبِي کُلَّهَا، اَللَّهُمَّ وَأَنْعِشْنِي وَاجْبُرْنِي وَاهْدِنِي لِصَالِحِ الْأَعْمَالِ وَالْأَخْلاَقِ، إِنَّهُ لَا يَهْدِي لِصَالِحِهَا، وَلَا يَصْرِفُ سَيِئَهَا إِلاَّ أَنْتَ.

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي مُعَاجِمِهِ الثَلَاثَةِ وَالْحَاکِمُ.

والطبراني في الکبير عن أبي أمامة رضي الله عنه ولفظه: قَالَ سَمِعْتُهُ ﷺ يَقُوْلُ فِي دُبُرِ کُلِّ صَلَاةٍ: اللَّهُمَّ اغْفِرْلِي خَطَايَايَ وَذُنُوْبِي. . . فذکر الدعاء المذکورهنا.

الحديث رقم 17: أخرجه الطبراني في المعجم الصغير، 1 / 365، الرقم: 610، وفي المعجم الأوسط، 4 / 362، الرقم: 4442، وفي المعجم الکبير، 4 / 125؛ الرقم: 3875، 8 / 227، الرقم: 7893، والحاکم في المستدرک، 3 / 522، الرقم: 5942، والديلمي في مسند الفردوس، 1 / 475، الرقم: 1935، وابن السني في عمل اليوم والليلة، 1 / 45، الرقم: 117، والهيثمي في مجمع الزوائد، 10 / 173، وقال: ورجاله وثقوا.

’’حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے جب بھی حضور نبی اکرم ﷺ کی اقتداء میں نماز پڑھی تو دیکھا کہ آپ ﷺ جب نماز سے فارغ ہوتے تو میں آپ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنتا: اے میرے الله! میری تمام خطائیں اور گناہ بخش دے، اے میرے الله! مجھے (اپنی عبادت و اطاعت کے لئے) ہشاش بشاش رکھ اور مجھے اپنی آزمائش سے محفوظ رکھ اور مجھے نیک اعمال اور اخلاق کی رہنمائی عطا فرما، بیشک نیک اعمال اور اخلاق کی ہدایت تیرے سوا کوئی نہیں دیتا اور بُرے اعمال اور اخلاق سے تیرے سوا کوئی نہیں بچاتا۔

344 / 18. عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضي الله عنه قَالَ: کَانَ مَقَامِي بَيْنَ کَتَفَي رَسُوْلِ اللهِ ﷺ فَکَانَ إِذَا سَلَّمَ قًالَ: اللَّهُمَّ اجْعَلْ خَيْرَ عُمُرِي آخِرَهُ، اللَّهُمَّ اجْعَلْ خَوَاتِيْمَ عَمَلِي رِضْوَانَکَ. اللَّهُمَّ اجْعَلَ خَيْرَ أَيَامِي يَوْمَ أَلْقَاکَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَابْنُ السُّنِّيِّ وَالدَّيْلَمِيُّ.

الحديث رقم 18: أخرجه الطبراني في المعجم الأوسط، 9 / 157، الرقم: 9411، وابن السني في عمل اليوم واللية، 1 / 46، الرقم: 122، والديلمي في مسند الفردوس، 1 / 480، الرقم: 1962، والهيثمي في مجمع الزوائد، 10 / 110.

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں (نماز میں) حضور نبی اکرم ﷺ کے عین پیچھے کھڑا ہوتا تھا۔ پس آپ ﷺ جب سلام پھیرتے تو فرماتے: اے میرے الله! میری عمر کا آخری حصہ بہترین بنا دے، اے میرے الله! میرے اعمال کا خاتمہ اپنی رضا پر کر، اے میرے الله! میرے دنوں میں سے بہترین دن اس کو بنا جس دن میں تیرے ساتھ ملاقات کروں۔‘‘

345 / 19. عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رضي الله عنه قَالَ: مَا دَنَوْتُ مِنْ نَبِيِکُمْ ﷺ فِي صَلَاةٍ مَکْتُوْبَةٍ أَوْ تَطَوُّعٍ إِلاَّ سَمِعْتُهُ يَدْعُوْ بِهَؤُلَاءِ الْکَلِمَاتِ الدَّعْوَاتِ لَا يَزِيْدُ فِيْهِنَّ وَلَا يَنْقُصُ مِنْهُنَّ: اللَّهُمَّ اغْفِرْلِي ذُنُوبِي وَخَطَايَايَ اللَّهُمَّ أَنْعِشْنِي وَاجْبُرْنِي وَاهْدِنِي لِصَالِحِ الْأَعْمَالِ وَالأَخْلَاقِ فَإِنَّهُ لَا يَهْدِي لِصَالِحِهَا وَلَا يَصْرِفُ سَيِئَهَا إِلاَّ أَنْتَ.

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالدَّيْلَمِيُّ وَرِجَالُهُ رِجَالُ ثِقَاتٍ.

الحديث رقم 19: أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 8 / 200، 251، الرقم: 7811، 7982، والديلمي في مسند الفردوس، 1 / 475، الرقم: 1935، والهيثمي في مجمع الزوائد، 10 / 112، وقال: رواه الطبراني ورجاله رجال الزبير بن خريق وهو ثقة، والمبارکفوري في تحفة الأحوذي، 2 / 170، والقزويني في التدوين، 3 / 252.

’’حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں جب بھی فرض نماز یا نفل نماز میں حضور نبی اکرم ﷺ کے پیچھے کھڑا ہوا تو میں نے آپ ﷺ کو ان کلمات سے دعا فرماتے ہوئے سنا جن میں آپ ﷺ نہ اضافہ فرماتے تھے اور نہ کمی (وہ کلمات یہ ہیں: ) اے میرے الله! میری خطائیں اور گناہ بخش دے، اے میرے الله! مجھے (اپنی عبادت اور اطاعت کے لئے) ہشاش بشاش کر دے اور مجھے اپنی آزمائش سے محفوظ رکھ اور مجھے نیک اعمال اور اخلاق کی رہنمائی عطا فرما۔ پس بیشک تیرے سوا ان نیک اعمال کی رہنمائی کوئی نہیں فرماتا اور نہ ہی تیرے سوا برے اعمال و اخلاق سے کوئی بچاتا ہے۔

346 / 20. عَنْ أَبِي مَرْوَانَ أَنَّ کَعْبً (الْأَحْبَارَ) رضي الله عنه حَلَفَ لَهُ بِاللهِ الَّذِي فَلَقَ الْبَحْرَ لِمُوْسَى عليه السلام إِنَّا لَنَجِدُ فِي التَّوْرَاةِ أَنَّ دَاوُدَ نَبِيَّ اللهِ عليه السلام کَانَ إِذَا انْصَرَفَ مِنْ صَلَاتِهِ قَالَ: اَللَّهُمَّ أَصْلِح لِي دِيْنِي الَّذِي جَعَلْتَهُ لِي عِصْمَةً وَأَصْلِحْ لِي دُنْيَايَ الَّتِي جَعَلْتَ فِيْهَا مَعَاشِي، اَللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوْذُ بِرِضَاکَ مِنْ سَخَطِکَ، وَأَعُوْذُ بِعَفْوِکَ مِنْ نِقْمَتِکَ وَأَعُوْذُ بِکَ مِنْکَ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا يَنْفَعُ ذَالْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُّ وَحَدَّثَنِي کَعْبٌ أَنَّ صُهَيْبًا حَدَّثَهُ أَنَّ مُحَمَّدًا ﷺ کَانَ يَقُوْلُهُنَّ عِنْدَ انْصِرَافِهِ مِنْ صَلَاتِهِ.

رَوَاهُ النَّسَائِيُّ وَابْنُ حُزَيْمَةَ وَالطَّبَرَانِيُّ. إِسْنَادُهُ صَحِيْحٌ.

الحديث رقم 20: أخرجه النسائي في السنن، کتاب: السهو، باب: نوع آخر من الدعاء وعند الانصراف من الصلاة، 3 / 73، الرقم: 1346، وفي السنن الکبري، 1 / 400، الرقم: 1269، وابن خزيمة في الصحيح، 1 / 366، الرقم: 745، والطبراني في المعجم الکبير، 8 / 33، الرقم: 7298، والمقدسي في الأحاديث المختارة، 8 / 65، الرقم: 59، وقال: إسناده صحيح.

’’مروان سے روایت ہے کہ ان کی موجودگی میں حضرت کعب (احبار) رضی اللہ عنہ نے حلف اٹھایا کہ اس ذات کی قسم جس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لیے دریا کو چیر دیا! ہم نے تورات میں دیکھا ہے کہ حضرت داودں جب نماز سے فارغ ہوتے تو وہ (یعنی حضرت داود علیہ السلام) یوں دعا کرتے۔ ’’اے اللہ! وہ دین جس سے میرا بچاؤ ہے اسے درست فرما دے۔ اور میری دنیا جس میں میرا رزق ہے اس کی اصلاح فرما۔ اے اللہ! میں تیرے غضب سے تیری رضامندی کی پناہ طلب کرتا ہوں۔ اور تیرے عذاب سے تیری معافی کی پناہ مانگتا ہوں۔ تو جو کچھ عطا کرے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جو تو روک لے اسے کوئی دینے والا نہیں ہے۔ اور مال دار کا مال تیرے نزدیک کسی کام نہ آئے گا۔ حضرت مروان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھ سے حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور حضرت صہیب رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا کہ حضور نبی اکرم ﷺ جب نماز ادا فرما لیتے تو آپ ﷺ بھی یہ کلمات ارشاد فرماتے۔‘‘

347 / 21. عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ: کَانَ ابْنُ الزُّبَيْرِ رضي الله عنه يَقُوْلُ فِي دُبُرِ کُلِّ صَلَاةٍ حِيْنَ يُسَلِّمُ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيْکَ لَهُ، لَهُ الْمُلْکُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَي کُلِّ شَيءٍ قَدِيْرٌ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَلَا نَعْبُدُ إِلَّا إِيَاهُ لَهُ النِّعْمَةُ وَلَهُ الْفَضْلُ وَلَهُ الثَّنَاءُ الْحَسَنُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ وَلَوْ کَرِهَ الْکَافِرُوْنَ. وَقَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ يُهَلِّلُ بِهِنَّ دُبُرَ کُلِّ صَلَاةٍ.

رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَالنَّسَائِيُّ وَأَحْمَدُ وَالشَّافِعِيُّ وَلَفْظُهُ: کَانَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ إِذَا سَلَّمَ مِنْ صَلَاتِهِ يَقُوْلُ بِصَوْتِهِ الْأَعْلَي . . . فذکر الحديث.

الحديث رقم 21: أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب: المساجد ومواضع الصلاة، باب: استحباب الذکر بعد الصلاة وبيان صفته، 1 / 415، الرقم: 594، وأبو داود في السنن، کتاب: الوتر، باب: ما يقول الرجل إذا سلم، 2 / 82، الرقم: 1506.1507، والنسائي في السنن، کتاب: السهو، باب: عدد التهليل والذکر بعد التسليم، 3 / 70، الرقم: 1340، وفي السنن الکبري، 1 / 398، الرقم: 1263، 6 / 38، الرقم: 9956، والشافعي في المسند، 1 / 44، وأحمد بن حنبل في المسند، 4 / 4، وابن أبي شيبة في المصنف، 6 / 33، الرقم: 29262، وأبو يعلي في المسند، 12 / 184، الرقم: 6811، والبيهقي في السنن الکبري، 2 / 184، الرقم: 2839، والطبراني في کتاب الدعا، 1 / 216، الرقم: 681.

’’حضرت ابوزبیر سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ حضرت عبد الله بن زبیر رضی اللہ عنہ ہر نماز میں سلام پھیرنے کے بعد (دعا میں) کہا کرتے تھے: اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لئے بادشاہی ہے، اور اسی کے لئے تمام تعریفیں ہیں اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی غالب آنے والا اور قوت رکھنے والا نہیں اور ہم سوائے اس کے کسی کی عبادت نہیں کرتے اس کے لئے تمام نعمتیں ہیں اور اسی کے لیے فضل اور تمام اچھی تعریفیں ہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اسی کا دین خالص ہے اگرچہ کافروں کو یہ ناگوار گزرے۔‘‘

اور امام شافعی رضی اللہ عنہ کی روایت کے الفاظ ہیں: رسول اللہ ﷺ ان کلمات کو ہر نماز کے بعد بلند آواز سے ادا فرماتے تھے پھر آگے اسی طرح حدیث ذکر کی۔‘‘

348 / 22. عَنِ الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ رضي الله عنه قَالَ: صَلَّي بِنَا إِمَامٌ لَنَا يُکْنَي أَبَا رِمْثَةَ فَقًالَ: صَلَّيْتُ هَذِهِ الصَّلَاةَ أَوْ مِثْلَ هَذِهِ الصَّلَاةِ مَعَ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: وَکَانَ أَبُوبَکْرٍ وَعُمَرُ رضي الله عنهما يَقُوْمَانِ فِي الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ عَنْ يَمِيْنِهِ وَکَانَ رَجُلٌ قَدْ شَهِدَ التَّکْبِيْرَةَ الْأُوْلَي مِنَ الصَّلَاةِ فَصَلَّي نَبِيُّ اللهِ ﷺ ثُمَّ سَلَّمَ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ حَتَّي رَأَيْنَا بَيَاضَ خَدَّيْهِ ثُمَّ انْفَتَلَ کَانْفِتَالِ أَبِي رِمْثَةَ يَعْنِي نَفْسَهُ فَقَامَ الرَّجُلُ الَّذِي أَدْرَکَ مَعَهُ التَّکْبِيْرَةَ الْأُوْلَي مِنَ الصَّلَاةِ يَشْفَعُ فَوَثَبَ إِلَيْهِ عُمَرُ فَأَخَذَ بِمَنْکِبِهِ فَهَزَّهُ ثُمَّ قَالَ: اِجْلِسْ فَإِنَّهُ لَمْ يَهْلِکْ أَهْلَ الْکِتَابِ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَکُنْ بَيْنَ صَلَوَاتِهِمْ فَصْلٌ فَرَفَعَ النَّبِيُّ ﷺ بَصَرَهُ فَقَالَ: أَصَابَ اللهُ بِکَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ.

رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَالْحَاکِمُ وَالْبَيْهَقِيُّ وَالطَّبَرَانِيُّ.

وَقَالَ الْحَاکِمُ: هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ عَلَي شَرْطِ مُسْلِمٍ.

الحديث رقم 22: أخرجه أبوداود في السنن، کتاب: الصلاة، باب: في الرجل يتطوع في مکانه الذي صلي فيه المکتوبة، 1 / 264، الرقم: 1007، والحاکم في المستدرک، 1 / 403، الرقم: 996، والبيهقي في السنن الصغري، 1 / 395، الرقم: 675، وفي السنن الکبري، 2 / 190، الرقم: 2867، والطبراني في المعجم الأوسط، 2 / 316، الرقم: 2088.

’’حضرت ارزق بن قیس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ایک امام نے ہمیں نماز پڑھائی جن کی کنیت ابو رمثہ رضی اللہ عنہ تھی، انہوں نے فرمایا کہ میں نے یہ نماز یا اس جیسی نماز حضور نبی اکرم ﷺ کے ساتھ پڑھی ہے۔ فرمایا کہ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی الله عنہما پہلی صف میں دائیں جانب کھڑے تھے اور ایک آدمی نماز کی تکبیر اولیٰ میں آ شامل ہوا۔ جب حضور نبی اکرم ﷺ نے نماز پڑھالی تو دائیں جانب سلام پھیرا، یہاں تک کہ آپ ﷺ کے رخساروں کی سفیدی ہم نے دیکھی۔ پھر ایسے ہی مڑے جیسے ابو رمثہ مڑے ہیں یعنی وہ خود۔ پس جو شخص تکبیر اولیٰ میں آ کر شامل ہوا تھا کھڑا ہو کر دوگانہ پڑھنے لگا پس حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس کی طرف جھپٹے اور اسے کندھوں سے پکڑ کر ہلایا پھر فرمایا کہ بیٹھ جاؤ کیونکہ اہلِ کتاب صرف اس وجہ سے ہلاک ہوئے کہ ان کی نمازوں کے درمیان وقفہ نہیں رہتا تھا۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے نگاہ مبارک اٹھائی اور فرمایا: اے ابن خطاب! اللہ تعالیٰ نے تمہیں صحیح بات کی توفیق مرحمت فرمائی ہے۔‘‘

349 / 23. وَقَدْ أَخْرَجَ عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، وَابْنُ جَرِيْرٍ وَابْنُ الْمُنْذِرِ وَابْنُ أَبِي حَاتِمٍ وَابْنُ مَرْدَوْيَه مِنْ طُرُقٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما فِي قَوْلِهِ تَعَالَي: (فَإِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ) (الم نشرح، 94: 7) قَالَ: إِذَا فَرَغْتَ مِنَ الصَّلَاةِ فَانْصَبْ فِي الدُّعَاءِ وَاسْأَلِ اللهَ وَارْغَبْ إِلَيْهِ.

ذَکَرَهُ ابْنُ جَرِيْرٍ وَالسُّيُوطِيُّ.

الحديث رقم 23: أخرجه ابن جرير الطبري في جامع البيان، 30 / 236، والسيوطي في الدر المنثور، 8 / 551، والبيضاوي في أنوار التنزيل، 5 / 506، والشوکاني في فتح القدير، 5 / 463، وابن الجوزي في زاد المسير، 9 / 166، والآلوسي في روح المعاني، 30 / 172.

’’امام عبد بن حمید، امام ابن جریر، امام ابن منذر، امام ابن ابی حاتم اور امام ابن مردویہ نے حضرت عبداللہ بن عباس رضي الله عنہما کے طرف سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: (فَإِذَا فَرَغْتَ فَانصَبْ) میں روایت کیا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ ’’اے محبوب! جب آپ نماز سے فارغ ہو جائیں تو دعا میں مشغول ہو جایا کریں اور اللہ تعالیٰ سے مانگا کریں اور اسی کی طرف (کامل یکسوئی سے) راغب ہوا کریں۔‘‘

350 / 24. عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رضي الله عنه (فَإِذَا فَرَغْتَ) مِنَ الصَّلَاةِ (فَانْصَبْ) إِلَي الدُّعَاءِ (وَإِلَي رَبِّکَ فَارْغَبْ) (الم نشرح، 94: 7 - 8) فِي الْمَسْأَلَةِ.

ذَکَرَهُ السُّيُوْطِيُّ وَقَالَ: أَخْرَجَهُ ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا فِي الذِّکْرِ.

الحديث رقم 24: أخرجه السيوطي في الدر المنثور، 8 / 551، والشوکاني في فتح القدير، 5 / 463.

’’حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ (فَإِذَا فَرَغْتَ) یعنی جب آپ نماز سے فارغ ہوجائیں (فَانصَبْ) تو دعا میں مشغول ہوجائیں (وَإِلَى رَبِّكَ فَارْغَبْ) اور سوال کرنے میں اپنے رب کی طرف ہی راغب ہوا کریں۔‘‘

351 / 25. وَأَخْرَجَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَعَبْدُ بْنُ حَمَيْدٍ وَابْنُ جَرِيْرٍ وَابْنُ الْمُنْذِرِ عَنْ قَتَادَةَ: (فَإِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ) (الم نشرح، 94: 7) قَالَ: إِذَا فَرَغْتَ مِنْ صَلَاتِکَ فَانْصَبْ فِي الدُّعَاءِ. ذَکَرَهُ السُّيُوطِيُّ وَالْجَصَّاصُ.

الحديث رقم 25: أخرجه السيوطي في الدر المنثور، 8 / 552، والجصاص في أحکام القرآن، 5 / 373، والنحاس في الناسخ والمنسوخ، 1 / 773.

’’امام عبدالرزاق اور امام عبد بن حمید، امام ابن جریر اور امام ابن منذر نے حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے: (فَإِذَا فَرَغْتَ فَانصَبْ) سے مراد یہ ہے کہ جب اپنی نماز سے فارغ ہو جائیں تو خود کو دعا میں مشغول کر لیں۔‘‘

352 / 26. عَنْ قَتَادَةَ وَالضَّحَاکِ وَمَقَاتِلَ في قَوْلِهِ تَعَالَي: (فَإِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ) أَي إِذَا فَرَغْتَ مِنَ الصَّلَاةِ الْمَکْتُوبَةِ فَانْصَبْ إِلَي رَبِّکَ فِي الدُّعَاءِ وَارْغَبْ إِلَيْهِ فِي الْمَسَأَلَةِ يُعْطِکَ.

رَوَاهُ فَخْرُ الدِّيْنِ الرَّازِيُّ وَالسُّيُوْطِيُّ.

الحديث رقم 26: أخرجه الرازي في التفسير الکبير، 32 / 8، والسيوطي في الدر المنثور، 8 / 55، والبغوي في معالم التنزيل، 4 / 503، والسمعاني في تفسيره، 6 / 252، وابن الجوزي في زاد المسير، 9 / 166، والشوکاني في فتح القدير، 5 / 462.

’’حضرت قتادہ ضحاک اور مقاتل اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: (فَإِذَا فَرَغْتَ فَانصَبْ) کی تفسیر میں بیان کرتے ہیں کہ اس سے مراد ہے کہ جب آپ ﷺ فرض نماز سے فارغ ہو جائیں تو خود کو اپنے رب کی طرف دعا کرنے میں مشغول کریں اور سوال کرنے (یعنی مانگنے) میں اسی کی طرف راغب ہوں وہ آپ کو عطا فرمائے گا۔‘‘

353 / 27. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: مَنْ لَمْ يَسْأَلِ اللهَ عزوجل يَغْضَبْ عَلَيْهِ.

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالْحَاکِمُ وَأَبُوْيَعْلَي وَالْبُخَارِيُّ فِي الْأَدَبِ.

الحديث رقم 27: أخرجه الترمذي في السنن، کتاب: الدعوات عن رسول الله ﷺ، باب: منه (2)، 5 / 456، الرقم: 3373، والحاکم في المستدرک، 1 / 667 - 668، الرقم: 1806 - 1807، وأبويعلي في المسند، 12 / 10، الرقم: 6655، والبخاري في الأدب المفرد، 1 / 229، الرقم: 658، وابن رجب في جامع العلوم والحکم، 1 / 191.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو شخص الله تعالیٰ سے (دعا) نہیں مانگتا الله تعالیٰ اس پر غضب فرماتا ہے۔‘‘

354 / 28. عَنْ عَبْدِ اللهِ رضي الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ کَانَ يُعْجِبُهُ أَنْ يَدْعُوَ ثَلَاثًا وَيَسْتَغْفِرَ ثَلَاثًا. رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَأَحْمَدُ.

الحديث رقم 28: أخرجه أبو داود في السنن، کتاب: الصلاة، باب: في الاستغفار، 2 / 86، الرقم: 1524، والنسائي فيالسنن الکبري، 6 / 119، الرقم: 10291، وأحمد بن حنبل فيالمسند، 1 / 394، 397، الرقم: 3744، 3769 - 3770، والطبراني في المعجم الکبير، 10 / 159، الرقم: 10317، والشاشي في المسند، 2 / 138، الرقم: 677، والنسائي في عمل اليوم والليلة، 1 / 331، الرقم: 457، وأبونعيم في حلية الأولياء، 4 / 348.

’’حضرت عبدالله (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول الله ﷺ تین دفعہ دعا اور تین دفعہ استغفار کرنا پسند فرمایا کرتے تھے۔‘‘

فَصْلٌ فِي رَفْعِ الْيَدَيْنِ فِي الدُّعَاءِ

(دعا میں ہاتھ اٹھانے کا بیان)

355 / 29. قَالَ أَبُوْمُوْسَى الْأَشْعَرِيُّ رضي الله عنه: دَعَا النَّبِيُّ ﷺ ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ، وَرَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

الحديث رقم 29: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: الدعوات، باب: رَفْعِ الأيدي في الدُّعاءِ، 5 / 2335، وفي کتاب: المغازي، باب: غَزَوْةِ أَوْطاسٍ، 4 / 1571، الرقم: 4068.

’’حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے دعا کی اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے، یہاں تک کہ میں نے آپ ﷺ کے مبارک بغلوں کی سفیدی دیکھی۔‘‘

356 / 30. عَنْ أَنَسٍ رضي الله عنه عَنِ النَّبِيِّ ﷺ: رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّي رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

الحديث رقم 30: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: الدعوات، باب: رَفْعِ الأيدي في الدُّعاءِ، 5 / 2335، وفي کتاب: الاستسقاء، باب: رفع الإمامِ يَدَه في الاسْتِسْقَاءِ، 1 / 349، الرقم: 984، وفي کتاب: المناقب، باب: صفة النبي ﷺ، 3 / 1307، الرقم: 3372.

’’حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے (دعا کے لیے) ہاتھ اٹھائے یہاں تک کہ میں نے آپ ﷺ کی بغل مبارک کی سفیدی دیکھی۔‘‘

357 / 31. قَالَ ابْنُ عُمَرَ رضي الله عنهما: رَفَعَ النَّبِيُّ ﷺ يَدَيْهِ وَقَالَ: اَللَّهُمَّ إِنِّي أَبْرَأُ إِلَيْکَ مِمَّا صَنَعَ خَالِدٌ.

الحديث رقم 31: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: الدعوات، باب: رَفْعِ الأيدي في الدُّعاءِ، 5 / 2335، وفي باب: بَعْثِ النَّبِيِ ﷺ خالد بن الوليد إلي بني جَذِيْمَةِ، 4 / 1577، الرقم: 4084، وفي کتاب: الأحکام، باب: إذا قضي الحاکم بجور، أو خلاف أهل العلم فهو ردّ، 6 / 2628، الرقم: 6766، والنسائي في السنن، کتاب: آداب القضاة، باب: الردّ علي الحاکم إذا قضي بغير الحق، 8 / 236، الرقم: 5405، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 / 150، الرقم: 6382، وابن حبان في الصحيح، 11 / 53، الرقم: 4749، والبيهقي في السنن الکبري، 9 / 115، وعبد الرزاق في المصنف، 5 / 221، الرقم: 9434.

حضرت عبد الله بن عمر رضی الله عنہما فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے اپنے ہاتھ اٹھائے عرض کیا: اے اللہ! جو خالد نے کیا میں تیری بارگاہ میں اس سے بری ہوں۔

358. / 32. عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رضي الله عنه، قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللهُ ﷺ إِذَا رَفَعَ يَدِيْهِ فِي الدُّعَاءِ، لَمْ يَحُطَّهُمَا حَتَّي يَمْسَحَ بِهِمَا وَجَهَهُ.

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالْحَاکِمُ وَالْبَزَّارُ.

وَقَالَ أَبُوْعِيْسَي: هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ.

الحديث رقم 32: أخرجه الترمذي في السنن، کتاب: الدعوات عن رسول الله ﷺ، باب: ما جاء في رفع الأيدي عند الدعاء، 5 / 463، الرقم: 3386، وعبد الرزاق في المصنف، 2 / 247، الرقم: 3234، والحاکم في المستدرک، 1 / 719، الرقم: 1967، والبزار في المسند، 1 / 243، الرقم: 129، والطبراني في المعجم الأوسط، 7 / 124، الرقم: 7053، وعبد بن حميد في المسند، 1 / 44، الرقم: 39، والسيوطي في الجامع الصغير، 1 / 156، الرقم: 236، والمناوي في فيض القدير، 5 / 138.

’’حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ دعا کے لئے ہاتھ اٹھاتے تو اپنے چہرہ اقدس پر پھیرنے سے پہلے (ہاتھ) نیچے نہ کرتے تھے۔‘‘

359. / 33. عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيْدَ عَنْ أَبِيْهِ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ کَانَ إِذَا دَعَا فَرَفَعَ يَدَيْهِ مَسَحَ وَجْهَهُ بِيَدَيْهِ. رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَأَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ.

الحديث الرقم 33: أخرجه أبوداود في السنن، کتاب: الصلاة، باب: الدعاء، 2 / 79، الرقم: 1492، وأحمد بن حنبل في المسند، 4 / 221، والطبراني في المعجم الکبير، 22 / 241، الرقم: 631، والبيهقي في شعب الإيمان، 2 / 45، والسيوطي في الجامع الصغير، 1 / 145، الرقم: 216، والمقريزي في مختصر کتاب الوتر، 1 / 152.

’’حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ جب دعا فرماتے تو (اس کے لئے) اپنے دونوں ہاتھ مبارک اٹھاتے (پھر دعا کے بعد) اپنے چہرہ انور پر ہاتھ پھیرتے۔‘‘

360 / 34. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: مَا مِنْ عَبْدٍ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّي يَبْدُوَ إِبِطُهُ يَسْأَلُ اللهَ مَسْأَلَةً إِلَّا آتَاهَا إِيَاهُ مَالَمْ يَعْجَلْ. قَالُوْا: يَا رَسُوْلَ اللهِ، وَکَيْفَ عَجَلَتُهُ؟ قَالَ: يَقُوْلُ: قَدْ سَأَلْتُ وَسَأَلْتُ وَلَمْ أُعْطَ شَيْئًا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

الحديث رقم 34: أخرجه الترمذي في السنن، کتاب: الدعوات عن رسول الله ﷺ، باب: (138)، الرقم: 3608 / 3969.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا: جب بھی کوئی شخص دعا کے لئے ہاتھ اٹھاتا ہے (اور اتنے بلند کرتا ہے) یہاں تک کہ اس کی بغل (کی سفیدی) ظاہر ہو جاتی ہے پھر وہ جو کچھ الله تعالیٰ سے مانگتا ہے الله تعالیٰ اسے عطا فرما دیتا ہے جب تک کہ وہ جلدی نہ کرے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے عرض کیا: یا رسول الله! جلدی سے کیا مراد ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اس طرح کہے: میں نے مانگا، میں نے مانگا لیکن مجھے کچھ نہ دیا گیا۔‘‘

361 / 35. عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضي الله عنهما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: إِنَّ رَبَّکُمْ حَيْيٌّ کَرِيْمٌ، يَسْتَحِيِّ أَنْ يَرْفَعَ الْعَبْدُ يَدَيْهِ، فَيَرُدَّهُمَا صِفْرًا لَا خَيْرَ فِيْهِمَا، فَإِذَا رَفَعَ أَحَدُکُمْ يَدَيْهِ فَلْيَقُلْ: (يَا حَيُّ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ) ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ اِذَا رَدَّ يَدَيْهِ فَلْيُفْرِغَ ذَلِکَ الْخَيْرَ عَلَي وَجْهِهِ. رَوَاهُ ابْنُ حِبَّانَ وَأَبُوْيَعْلَي وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ.

الحديث رقم 35: أخرجه ابن حبان في الصحيح، 3 / 106، الرقم: 876، وأبو يعلي في المسند، 3 / 391، الرقم: 1867، والبزار عن سلمان رضي الله عنه في المسند، 6 / 478، الرقم: 2511، والطبراني في المعجم الکبير، 12 / 423، الرقم: 13557، والديلمي في مسند الفردوس، 1 / 221، الرقم: 847، وابن راشد في الجامع، 10 / 443، والقضاعي في مسند الشهاب، 2 / 165، الرقم: 1111، والمنذري في الترغيب والترهيب، 2 / 315، الرقم: 2527، والهيثمي في مجمع الزوائد، 10 / 169، والهندي في کنز العمال، 2 / 87، الرقم: 3266، 3268.

’’حضرت عبد الله بن عمر رضی الله عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا: بیشک تمہارا رب بڑا حیادار اور کریم ہے وہ اس بات سے حیا محسوس کرتا ہے کہ اس کا کوئی بندہ (اس کے سامنے دعا کے لئے) ہاتھ اٹھائے اور وہ انہیں خالی لوٹا دے پس جب بھی تم میں سے کوئی دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے تو یوں کہے: (يا حي لا إله إلا أنت يا أرحم الرحمين)  یہ کلمات تین بار دہرائے پھر جب وہ اپنے ہاتھوں کو (واپس) ہٹائے تو وہ انہیں اپنے چہرہ پر پھیر لے۔

362. / 36. عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ يَرْفَعُ يَدَيْهِ عِنْدَ صَدْرِهِ فِي الدُّعَاءِ، ثُمَّ يَمْسَحُ بِهِمَا وَجْهَهُ.

رَوَاهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَقَالَ: وَرُبَّمَا رَأَيْتُ مَعْمَرًا يَفْعَلُهُ وَأَنَا أَفْعَلُهُ.

الحديث رقم 36: أخرجه عبد الرزاق في المصنف، 2 / 247، الرقم: 3234 - 3235، 3 / 123، الرقم: 5003.

’’امام زہری فرماتے ہیں کہ رسول الله ﷺ دعا میں اپنے ہاتھ مبارک سینہ اقدس تک بلند فرماتے اور پھر دعا کے بعد ان کو اپنے چہرہ انور پر پھیر لیتے۔‘‘

اس حدیث کو امام عبدالرزاق نے روایت کیا ہے اور وہ فرماتے ہیں کہ میں نے امام معمر کو اکثر (دعا میں) ایسے کرتے دیکھا اور میرا اپنا معمول بھی یہی ہے۔‘‘

363 / 37. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ إِذَا دَعَا جَعَلَ بَاطِنَ کَفِّهِ إِلَي وَجْهِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

الحديث رقم 37: أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 11 / 435، الرقم: 12234، وفي المعجم الأوسط، 5 / 250، الرقم: 5226، والسيوطي في الجامع الصغير، 1 / 145، الرقم: 217، والمناويفي فيض القدير، 5 / 133.

’’حضرت عبدالله بن عباس رضی الله عنہما فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ جب دعا فرماتے تو اپنی مبارک ہتھیلیوں کو اپنے رخِ زیبا کی طرف فرما لیتے۔‘‘

364 / 38. عَنْ خَلَّادِ بْنِ السَّائِبِ الْأَنْصَارِيِّ رضي الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ کَانَ إِذَا دَعَا جَعَلَ بَاطِنَ کَفَّيْهِ إِلَي وَجْهِهِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ.

الحديث رقم 38: أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 4 / 56، والسيوطي في الجامع الصغير، 1 / 146، الرقم: 217، 247، والمزي في تهذيب الکمال، 7 / 77، الرقم: 1418، والعسقلاني في تلخيص الحبير، 2 / 100، الرقم: 723، والشوکاني في نيل الأوطار، 4 / 35.

’’حضرت خلاد بن سائب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ جب دعا فرماتے تو اپنی ہتھیلیوں کو اپنے چہرہ انور کے سامنے کر لیتے۔‘‘

365 / 39. عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضي الله عنه رَأَيْتُ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ يَدْعُو هَکَذَا بِبَاطِنِ کَفَّيْهِ وَظَاهِرِهِمَا. رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَأَحْمَدُ نَحْوَهُ.

الحديث رقم 39: أخرجه أبوداود في السنن، کتاب: الصلاة، باب: الدعاء، 2 / 78، الرقم: 1487، وأحمد بن حنبل في المسند، 5 / 427، الرقم: 23670، والشيباني في المبسوط، 1 / 102، والقرطبي في الجامع لأحکام القرآن، 11 / 337، وابن عدي في الکامل، 5 / 32، الرقم: 1202.

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم ﷺ کو دعا کرتے ہوئے دیکھا اور آپ ﷺ نے اپنی ہتھیلیوں کے باطن اور (نماز استسقاء میں) ظاہر کو یوں کیا ہوا تھا۔‘‘

366 / 40. عَنْ سَلْمَانَ رضي الله عنه عَنِ النَّبِيِّ ﷺ، قَالَ: إِنَّ اللهَ عزوجل لَيَسْتَحْيِي إِذَا رَفَعَ الْعَبْدُ يَدَيْهِ أَنْ يَرُدَّهُمَا صِفْرًا لَا شَيئَ فِيْهِمَا.

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

الحديث رقم 40 / 41 / 42: أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 6 / 256، الرقم: 6148، وفي کتاب الدعاء، 1 / 84، الرقم: 203، 205، والهندي في کنز العمال، 2 / 87، الرقم: 3267.

’’حضرت سلمان رضی اللہ عنہ حضور نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: بیشک اللہ عزوجل کو اس بات سے حیا آتی ہے کہ اس کا بندہ دعا کے لئے (اس کے سامنے) ہاتھ اٹھائے اور وہ انہیں خالی بغیر ان میں کچھ ڈالے لوٹا دے۔‘‘

367 / 41. عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: إِذَا دَعَا الْعَبْدُ فَرَفَعَ يَدَيْهِ فَسَأَلَ، قَالَ اللهُ عزوجل: إِنِّي لَأَسْتَحْيِي مِنْ عَبْدِي أَنْ أَرُدَّهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الدُّعَاءِ.

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب کوئی بندہ دعا کرتا ہے اور اپنے ہاتھ کو اٹھاتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے مانگتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: بیشک میں اپنے اس بندے سے حیا کرتا ہوں کہ میں اس کی دعا کو رد کردوں۔‘‘

368 / 42. عَنْ عَلِيٍّ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: إِنَّ رَبَّکُمْ حَيِيٌ کَرِيْمٌ، يَسْتَحْيِي إِذَا رَفَعَ الْعَبْدُ يَدَيْهِ أَنْ يَرُدَّهُمَا صِفْرًا لَا خَيْرَ فِيْهِمَا.

رَوَاهُ الدَّار قُطْنِيُّ فِي الْأَفْرَادِ کَمَا قَالَ الْهِنْدِيُّ.

’’حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بیشک تمہارا رب بڑا حیادار اور سخی ہے۔ اسے اس بات سے حیا آتی ہے کہ کوئی بندہ (دعا کے لئے اس کے سامنے) اپنے ہاتھ اٹھائے اور وہ انہیں خالی، ان میں خیرات ڈالے بغیر واپس لوٹا دے۔‘‘

369 / 43. عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ: لَا تَسْتُرُوا الْجُدُرَ مَنْ نَظَرَ فِي کِتَابِ أَخِيْهِ بِغَيْرِ إِذْنِهِ فَإِنَّمَا يَنْظُرُ فِي النَّارِ سَلُوا اللهَ بِبُطُوْنِ أَکُفِّکُمْ وَلَا تَسْأَلُوهُ بِظُهُورِهِمَا فَإِذَا فَرَغْتُمْ فَامْسَحُوْا بِهَا وُجُوْهَکُمْ.

رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَالْحَاکِمُ وَابْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَالْبَيْهَقِيُّ وَالطَّبَرَانِيُّ. وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

الحديث رقم 43: أخرجه أبوداود في السنن، کتاب: الصلاة، باب: الدعاء، 2 / 78، الرقم: 1485، والحاکم في المستدرک، 1 / 719، الرقم: 1968، وابن أبي شيبة في المصنف، 6 / 52، الرقم: 29405، والبيهقي في السنن الکبري، 2 / 212، الرقم: 2969، والطبراني في المعجم الکبير، 10 / 319، الرقم: 10779، وفي مسند الشاميين، 2 / 432، الرقم: 1639، والشيباني في الأحاد والمثاني، 4 / 410، الرقم: 2459، والديلمي في مسند الفردوس، 2 / 306، الرقم: 3383، والمقريزي في مختصر کتاب الوتر، 1 / 152، والهيثمي في مجمع الزوائد، 10 / 169، وقال: رجاله ثقات، والقرطبي في الجامع لأحکام القرآن، 11 / 337.

’’حضرت عبدالله بن عباس رضی الله عنہما سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: دیواروں کو (پردوں سے) نہ چھپایا کرو اور جو شخص اپنے بھائی کے خط میں بغیر اس کی اجازت کے دیکھتا ہے بیشک وہ جہنم کی آگ میں دیکھتا ہے۔ الله تعالیٰ سے ہتھیلیاں اوپر کر کے سوال کیا کرو اور ہاتھوں کی پشت اوپر نہ رکھا کرو اور جب فارغ ہو جاؤ تو انہیں چہروں پر مل لیا کرو۔‘‘

370 / 44. عَنِ الْأَسْوَدِ الْعَامِرِيِّ عَنْ أَبِيْهِ رضي الله عنه قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ، الْفَجْرَ سَلَّمَ، انْحَرَفَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ وَدَعَا.

رَوَاهُ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ.

الحديث رقم 44: أخرجه ابن أبي شيبة في المصنف، 1 / 269، الرقم: 3093، والمبارکفوري في تحفة الأحوذي، 2 / 171، وقال: رواه ابن أبي شيبة في مصنفه، وابن القدامة في المغني، 1 / 328.

’’اسود عامری اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم ﷺ کی معیت میں نماز فجر ادا کی پس جب آپ ﷺ نے سلام پھیرا تو ایک طرف رخ انور موڑ کر اپنے دونوں مبارک ہاتھ اٹھائے اور دعا فرمائی۔‘‘

371 / 45. عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَحْيَي قَالَ: رَأَيْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ الزُّبَيْرَ رضي الله عنهما وَرَأَي رَجُلًا رَافِعًا يَدَيْهِ يَدْعُو قَبْلَ أَنْ يَفْرُغَ مِنْ صَلَاتِهِ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْهَا قَالَ: لَهُ إِنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ لَمْ يَکُنْ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّي يَفْرُغَ مِنْ صَلَاتِهِ. رَوَاهُ الْمَقْدَسِيُّ وَالطَّبَرَانِيُّ کًمَا قَالَ الْهَيْثَمِيُّ. وَقَالَ: وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

الحديث رقم 45: أخرجه المقدسي في الأحاديث المختارة، 9 / 336، الرقم: 303، والهيثمي في مجمع الزوائد، 10 / 169، وقال: رواه الطبراني وترجم له فقال محمد بن يحيي الأسلمي عن عبدالله بن الزبير ورجاله ثقات، والمبارکفوري فيتحفة الأحوذي، 2 / 100، وقال: رواه الطبراني ورجاله ثقات.

’’محمد بن ابی یحییٰ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عبدالله بن زبیر رضی الله عنہما کو دیکھا اور انہوں نے ایک آدمی کو نماز سے فارغ ہونے سے قبل ہاتھ اٹھائے دعا مانگتے ہوئے دیکھا پس جب وہ نماز سے فارغ ہوا تو حضرت عبد الله بن زبیر رضی اللہ عنہ نے اسے فرمایا: بیشک حضور نبی اکرم ﷺ (دعا کے لئے) ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے یہاں تک کہ وہ نماز سے فارغ نہ ہو جائیں۔‘‘

372 / 46. عَنْ أَنَسٍ رضي الله عنه عَنِ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّهُ قَالَ: مَا مِنْ عَبْدٍ بَسَطَ کَفَّيْهِ فِي دُبُرِ کُلِّ صَلَاةٍ ثُمَّ يَقُوْلُ: (اللَّهُمَّ إِلهِي وَإِلَهَ إِبْرَاهِيْمَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوْبَ، وَإِلَهَ جِبْرِيْلَ وَمِيْکَائِيْلَ وَإِسْرَافِيْلَ عليهم السلام أَسْأَلُکَ: أَنْ تَسْتَجِيْبَ دَعْوَتِي فَإِنِّي مُضْطَرٌّ، وَتَعْصِمَنِي فِي دِيْنِي، فَإِنِّي مُبْتَلًي، وَتَنَالَنِي بِرَحْمَتِکَ، فَإِنِّي مُذْنِبٌ، وتَنْفِيَ عَنِّي الْفَقْرَ، فَإِنِّي مُتَمَسْکِنٌ) إِلاَّ کَانَ حَقًّا عَلَي اللهِ عزوجل أَنْ لَا يَرُدَّ يَدَيْهِ خَائِبَتَيْنِ.

رَوَاهُ ابْنُ عَسَاکِرَ وَابْنُ السُّنِّيِّ وَاللَّفْظُ لَهُ وَالدَّيْلَمِيُّ وَالْهِنْدِيُّ.

الحديث رقم 46: أخرجه ابن عساکر، 16 / 383، وابن السني في عمل اليوم والليلة، 1 / 52، الرقم: 139؛ والديلمي في مسند الفردوس، 1 / 481، الرقم: 1970، والهندي في کنز العمال، 2 / 134، الرقم: 3475، والمبارکفوري في تحفة الأحوزي، 2 / 171.

’’حضرت انس رضی اللہ عنہ نے حضور نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: کوئی بھی بندئہ (مومن) ایسا نہیں جو ہر نماز کے بعد اپنی ہتھیلیاں (دعا کے لئے) پھیلاتا ہے پھر یہ کہتا ہے: ’’اے میرے الله! اے میرے اور ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب علیہھم السلام کے معبود اور جبرائیل اور میکائیل اور اسرافیل علیہھم السلام کے معبود میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو میری دعا کو قبول فرما کیونکہ میں مجبور ہوں اور تو مجھے میرے دین میں مضبوط رکھ کیونکہ میں آزمائش میں ہوں اور تو مجھے اپنی رحمت سے حصہ وافر عطا فرما کیونکہ میں گنہگار ہوں اور مجھ سے فقر کو دور فرما کیونکہ میں ایک مسکین ہوں۔‘‘ پھر الله تعالیٰ اپنے ذمہ کرم پر لے لیتا ہے اور اس کے ہاتھوں کو ناکام واپس نہیں لوٹاتا۔‘‘

373 / 47. عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضي الله عنه قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ مِنَ الْبَيْتِ إِلَي الْمَسْجِدِ، وَقَوْمٌ فِي الْمَسْجِدِ رَافِعِي أَيْدِيَهُمْ يَدْعُوْنَ اللهَ عزوجل، فَقَالَ لِي رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: هَلْ تَرَي مَا أَرَي بِأَيْدِيِ الْقَوْمِ؟ فَقُلْتُ: مَا تَرَي فِي أَيْدِيْهِمْ؟ فَقَالَ: نُورٌ قُلْتُ: أُدْعُ اللهَ أَنْ يُرِيَنِيْهِ، قَالَ: فَدَعَا، فَرَأَيْتُهُ، فَقَالَ: يَا أَنَسُ، اسْتَعْجَلْ بِنَا حَتَّي نُشْرِکَ الْقَوْمَ، فَأَسْرَعْتُ مَعَ نَبِيِّ اللهِ ﷺ فَرَفَعْنَا أَيْدِيَنَا.

رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الْکَبِيْرِ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الدُّعَاءِ وًاللَّفْظُ لَهُ.

الحديث رقم 47: أخرجه البخاري في التاريخ الکبير، 3 / 202، الرقم: 692، والطبراني في کتاب الدعاء، 1 / 85، الرقم: 206.

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی معیت میں گھر سے مسجد کی طرف نکلا اور کچھ لوگ مسجد میں اپنے ہاتھوں کو اٹھائے اللہ عزوجل سے دعا مانگ رہے تھے تو مجھے حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کیا تم وہ چیز دیکھ رہے ہو جو ان کے ہاتھوں میں ہے؟ تو میں نے عرض کیا: آپ ان کے ہاتھوں میں کیا دیکھ رہے ہیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: (میں ان کے ہاتھوں میں) نور (دیکھ رہا ہوں) میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیں کہ وہ مجھے بھی یہ نور دکھائے، حضرت انس بیان کرتے ہیں پھر آپ ﷺ نے فرمایا: اے انس! جلدی کرو یہاں تک کہ ہم بھی ان لوگوں کے ساتھ (دعا میں) شریک ہو سکیں۔ پس میں نے حضور نبی اکرم ﷺ کے ساتھ جلدی جلدی ان لوگوں کی طرف گیا پھر ہم نے بھی دعا کے لیے ہاتھ اٹھا لئے۔‘‘

374 / 48. عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: الصَّلَاةُ مَثْنَي، مَثْنَي تَشَهَدُ فِي کُلِّ رَکْعَتَيْنِ، وَتخَشَّعُ وَتَضَرَّعُ، وَتَمَسْکَنُ وَتَذَرَّعُ وَتُقْنِعَ يَدَيْکَ تَقُوْلُ تَرْفَعُهُمَا إِلَي رَبِّکَ مُسْتَقْبِلاً بِبُطُوْنِهِمَا وَجْهَکَ وَتَقُوْلُ: يَا رَبِّ يَا رَبِّ، وَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِکَ فَهُوَ کَذَا وَکَذَا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَأَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ.

الحديث رقم 48: أخرجه الترمذي في السنن، کتاب: الصلاة عن رسول الله ﷺ، باب: ماجاء في التخشع في الصلاة، 2 / 225، الرقم: 385، والنسائي في السنن الکبري، 1 / 212، 450، الرقم: 615، 1440، وأحمد بن حنبل في المسند، 4 / 167، والطبراني في المعجم الکبير، 18 / 295، الرقم: 757، والمنذري في الترغيب والترهيب، 1 / 203، الرقم: 770، وأبو المحاسن في المعتصر المختصر، 1 / 38، وابن رجب في جامع العلوم والحکم، 1 / 106، وابن قتيبة في تأويل مختلف الحديث، 1 / 168.

’’حضرت فضل بن عباس رضي الله عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نماز (نفل) دو دو رکعتیں ہیں ہر دو رکعت کے بعد تشہد ہے، خشوع و خضوع سکون اور اپنے رب کی طرف ہاتھوں کو (دعا میں) اس طرح اٹھانا کہ ان کا اندرونی حصہ منہ کی جانب رہے اور پھر کہنا: اے رب! اے رب! جس نے ایسا نہ کیا وہ ایسا ہے وہ ایسا ہے۔‘‘

375 / 49. عَنِ الْمُطَّلِبِ رضي الله عنه عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: الصَّلَاةُ مَثْنَي مَثْنَي أَنْ تَشَهَدَ فِي کُلِّ رَکْعَتَيْنِ وَأَنْ نَبْأَسَ وَتَمَسْکَنَ وَتُقْنِعَ بِيَدَيْکِ وَتَقُوْلُ: اللَّهُمَّ اللَّهُمَّ فَمَنْ لَمْ يَفْعَلُ ذَلِکَ فَهِيَ خِدَاجٌ.

رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ خُزَيْمَةَ.

وقال الإمام ابن خزيمة بعد تخريج الحديث المذکور: في هذا الخبر زيادة شرح ذکر رفع اليدين ليقول: اللَّهُمَّ اللَّهُمَّ، وفي خبر الليث ترفعهما إلي ربک تستقبل بهما وجهک وتقول: يا ربّ يا ربّ، ورفع اليدين وتشهد قبل التسليم ليس من سنة الصلاة، وهذا دالُّ علي أنه إنما أمره برفع اليدين والدعا والمسألة بعد التسليم من المثني.

الحديث رقم 49: أخرجه أبوداود في السنن، کتاب: الصلاة، باب: في صلاة النهار، 2 / 29، الرقم: 1296، وابن ماجه في السنن، کتاب: إقامة الصلاة والسنة فيها، باب: ماجاء في صلاة الليل والنهار مثني مثني، 1 / 419، الرقم: 1325، والنسائي في السنن الکبري، 1 / 212، 451، الرقم: 616، 1441، وابن خزيمة في الصحيح، 2 / 220 - 221، الرقم: 1212 - 1213، وأحمد بن حنبل في المسند، 4 / 167، والدارقطني في السنن، 1 / 418، الرقم: 4، والبيهقي في السنن الکبري، 2 / 488، الرقم: 4354، والديلمي في مسند الفردوس، 2 / 407، الرقم: 3811، والمنذري في الترغيب والترهيب، 1 / 203، الرقم: 770.

’’حضرت مطلب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: نماز کی دو دو رکعتیں ہیں ہر دو رکعت پر تشہد ہے اور (نماز سے فراغت کے بعد بندہ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں اپنی) مصیبت و غربت کا حال عرض کرتا ہے دونوں ہاتھ پھیلا کر کہتا ہے، یا اللہ! (یہ عطا فرما وہ عطا فرما) یا الله! جو ایسا نہ کرے اس کی نماز نامکمل ہے۔‘‘

امام ابن خزیمہ اپنی صحیح میں اس حدیث کی تخریج کے بعد بیان فرماتے ہیں: اس حدیث میں دعا میں ہاتھ اٹھانے کی مزید شرح ہے اور یہ کہ دعا مانگنے والے کو کہنا چاہیے: اے میرے اللہ! اے میرے اللہ! اور لیث کی روایت میں ہے کہ دعا مانگنے والا اپنے دونوں ہاتھ اللہ کی طرف اٹھائے اور انہیں اپنے چہرہ کے سامنے رکھے اور یہ کہے: اے میرے رب! اے میرے رب! اور رفع یدین اور سلام سے پہلے تشہد سنت نماز میں سے نہیں ہے اور یہ چیز اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ رفع یدین، اور دعا، اور سوال کرنا سلام کے بعد ہے یعنی دونوں طرف سلام پھیرنے کے بعد (اور نماز مکمل کرنے کے بعد) دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا کرنی چاہیے۔‘‘

376 / 50. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما قَالَ: الْمَسْأَلَةُ أَنْ تَرْفَعَ يَدَيْکَ حَذْوَ مَنْکِبَيْکَ أَوْ نَحْوَهُمَا وَالْاِسْتِغْفَارُ أَنْ تُشِيْرَ بِإِصْبَعٍ وَاحِدٍ وَالابْتِهَالُ أَنْ تَمُدَّ يَدَيْکَ جَمِيْعًا.

وفي رواية: عَنْ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهم بِهَذَا الْحَدِيْثِ قَالَ فِيْهِ وَالابْتِهَالُ هَکَذَا وَرَفَعَ يَدَيْهِ وَجَعَلَ ظُهُوْرَهُمَا مِمَّا يَلِي وَجْهَهُ. رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ وَالطَّبَرَانِيُّ.

الحديث رقم 50: أخرجه أبوداود في السنن، کتاب: الصلاة، باب: الدعاء، 2 / 79، الرقم: 1489 - 1490، وعبد الرزاق في المصنف، 2 / 250، الرقم: 3247، والطبراني في کتاب الدعاء، 1 / 86، الرقم: 208، والمقدسي في الأحاديث المختارة، 9 / 486، الرقم: 468 - 469، والعسقلاني في فتح الباري، 11 / 143، وقال: أخرجه أبوداود والحاکم، وفي الدراية في تخريج أحاديث الهداية، 2 / 17، الرقم: 426، والزيلعي في نصب الراية، 3 / 51، والصنعاني في سبل السلام، 4 / 219، والزرقاني في شرح الموطأ، 2 / 59، الرقم: 123، والمناوي في فيض القدير، 1 / 184، والعظيم آبادي في عون المعبود، . 4 / 253.

’’حضرت عبدالله بن عباس رضی الله عنہما فرماتے ہیں: مانگنے کا طریقہ یہ ہے کہ اپنے دونوں ہاتھ اپنے کندھوں تک اٹھاؤ یا ان کے برابر اور استغفار ایک انگلی سے اشارہ کرنا ہے اور اظہارِ عجز دونوں ہاتھوں کا اکٹھے پھیلانا ہے۔

اور حضرت عباس بن عبدالله بن معبد بن عباس رضی اللہ عنہ اسی حدیث کی روایت میں فرماتے ہیں کہ اظہارِ عجز اس طرح ہے: پھر انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور ان کی پشت اپنے چہرے کے سامنے رکھی۔‘‘

377 / 51. عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ رضي الله عنهما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: إِذَا دَعَوْتَ اللهَ، فَادْعُ بِبُطُوْنِ کَفَّيْکَ. وَلَا تَدْعُ بِظُهُوْرِهِمَا. فَإِذَا فَرَغْتَ فَامْسَحْ بِهِمَا وَجْهَکَ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه.

الحديث رقم 51: أخرجه ابن ماجه في السنن، کتاب: الدعاء، باب: رفع اليدين في الدعاء، 2 / 1272، الرقم: 3866، وفي کتاب: إقامة الصلاة والسنة فيها، 1 / 373، الرقم: 1181، والکناني في مصباح الزجاجة، 1 / 141، الرقم: 422، والمقريزي في مختصر کتاب الوتر، 1 / 151، الرقم: 65، والسيوطي في شرح سنن ابن ماجه، 1 / 275، الرقم: 3866.

’’حضرت عبد الله بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب الله عزوجل سے دعا کرو تو اپنے ہاتھ کی ہتھیلیوں سے دعا کیا کرو نہ کہ ان کی پشت سے اور جب دعا سے فارغ ہو جاؤ تو اپنے ہاتھوں کو منہ پر مل لو۔‘‘

378 / 52. وقال الإمام البيهقي (384 - 458ه) في الشعب وأما آدابه:

فَمِنْهَا: الْمُحَافَظَةُ عَلَي الدُّعَاءِ فِي الرَّخَاءِ دُوْنَ تَخْصِيْصِ حَالِ الشِّدَّةِ وَالْبَلَاءِ.

وَمِنْهَا: افْتِتَاحُ الدُّعَاءِ وَخَتْمُهُ بِالصَّلَاةِ عَلَي رَسُوْلِ اللهِ ﷺ .

وَمِنْهَا: أَنْ يَدْعُوَ فِي دُبُرِ صَلَوَاتِهِ.

وَمِنْهَا: أَنْ يَرْفَعَ الْيَدَيْنِ حَتَّي يُحَاذِيَ بِهِمَا الْمَنْکَبَيْنِ إِذَا دَعَا.

وَمِنْهَا: أَنْ يَمْسَحَ وَجْهَهُ بِيَدَيْهِ إِذَا فَرَغَ مِنَ الدُّعَاءِ.

الحديث رقم 52: أخرجه البيهقي في شعب الإيمان، 2 / 45.

’’امام بیہقی رضی اللہ عنہ نے ’’شعب الایمان‘‘ میں فرمایا: آداب دعا میں سے ہے:

(انسان کا) ہمیشہ دعا پر استقامت اختیار کرنا خواہ وہ خوشحالی میں ہو اور دعا کو صرف سختی اور مصیبت کے (وقت کے) ساتھ خاص نہ کرنا۔

اور یہ کہ دعا کے آغاز اور آخر میں حضور نبی اکرم ﷺ پر درود بھیجنا۔

اور یہ کہ اپنی (تمام) نمازوں کے بعد دعا کرنا۔

اور یہ کہ (دونوں) ہاتھوں کو دعا میں اپنے کندھوں کے برابر بلند کرنا۔

اور یہ کہ دعا سے فارغ ہو کر اپنے ہاتھوں کو چہرے پر پھیرنا۔‘‘

379 / 53. وقال الإمام أبوزکريا يحيي بن شرف النووي (631 - 676ه): قَالَ جَمَاعَةٌ مِنْ أَصْحَابِنَا وَغَيْرِهِمُ السُّنَّةُ فِي کُلِّ دُعَاءٍ لِرَفْعِ بَلاَءٍ کَالْقَحْطِ وَنَحْوِهِ أَنْ يَرْفَعَ يَدَيْهِ وَيَجْعَلَ ظَهْرَ کَفَّيْهِ إِلَي السَّمَاءِ احْتَجُّوْا بِهَذَا الْحَدِيْثِ قوله: عَنْ أَنَسٍ رضي الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ کَانَ لَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَيءٍ مِنْ دُعَائِهِ إِلاَّ فِي الاسْتِسْقَاءِ حَتَّي يُرَي بَيَاضُ ابْطَيْهِ، هَذَا الْحَدِيْثُ يُوْهِمُ ظَاهِرُهُ أَنَّهُ لَمْ يَرْفَعْ ﷺ إِلاَّ فِي الاسْتِسْقَاءِ وَلَيْسَ الْأَمْرُ کَذَلِکَ بَلْ قَدْ ثَبَتَ رَفْعُ يَدَيْهِ ﷺ فِي الدُّعَاءِ فِي مَوَاطِنَ غَيْرَ الاسْتِسْقَاءِ وَهِيَ أَکْثَرُ مِنْ أَنْ تُحْصَرَ وَقَدْ جَمَعْتُ مِنْهَا نَحْوًا مِنْ ثَلَاثِيْنَ حَدِيْثًا مِنَ الصَّحِيْحَيْنِ أَوْ أَحَدِهِمَا.

الحديث رقم 53: أخرجه النووي في شرحه علي صحيح مسلم، 6 / 190.

’’امام ابوزکریا یحییٰ بن شرف نووی نے فرمایا: ہمارے علمائے کرام اور بعض دیگر نے کہا ہے کہ ہر دعا میں جو کسی مصیبت جیسے قحط وغیرہ کے ٹالنے کے لئے ہو ہاتھ اٹھانا سنت ہے اور وہ اس طرح کہ اپنی ہتھیلیوں کی پشت آسمان کی طرف کرے۔ اس حدیث کو دلیل بناتے ہوئے بعض لوگوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کا قول بیان کیا ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نماز استسقاء کے علاوہ دعا میں ہاتھ بلند نہیں فرماتے تھے حتی کہ (جب آپ ہاتھ بلند فرماتے تو) آپ ﷺ کی بغلوں کی سفیدی مبارک نظر آتی تھی۔ اس حدیث کا ظاہر یہ وہم ڈالتا ہے کہ آپ نماز استسقاء کے علاوہ ہاتھ بلند نہیں فرماتے تھے جبکہ درحقیقت معاملہ ایسا ہرگز نہیں بلکہ یہ بات ثابت ہے کہ آپ ﷺ نے نماز استسقاء کے علاوہ دیگر مواقع پر بھی ہاتھ اٹھا کر دعا مانگی ہے اور یہ مواقع بے شمار ہیں اور میں نے صحیحین یا ان دونوں میں کسی ایک میں سے اس طرح کی تیس احادیث جمع کی ہیں۔‘‘

380 / 54. قال الإمام ابن تيمية (661 - 728ه) في الفتاوي: وَإِنْ أَرَادَ أَنَّ مَنْ دَعَا اللهَ لاَ يَرْفَعُ إِلَيْهِ يَدَيْهِ فَهَذَا خِلَافُ مَا تَوَاتَرَتْ بِهِ السُّنَنُ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ، وَمَا فَطَرَ اللهُ عَلَيْهِ عِبَادَهُ مِنْ رَفْعِ الْأَيْدِي إِلَي اللهِ فِي الدُّعَاءِ.

الحديث رقم 54: أخرجه ابن تيمية في مجموع فتاوي، 5 / 265.

’’شیخ ابن تیمیہ نے اپنے فتاوی میں بیان کیا کہ حضور نبی اکرم ﷺ سے ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنا اس کثرت سے ثابت ہے کہ اس کا شمار نہیں کیا جا سکتا۔ نیز فرماتے ہیں کہ اس کی احادیث متواتر ہیں اور اگر اس سے کسی نے یہ مراد لیا ہے کہ دعا کرنے والا اپنے ہاتھ نہ اٹھائے تو یہ حضور نبی اکرم ﷺ سے منقول سنن متواترہ کے خلاف ہے اور اس (انسانی) فطرت کے بھی خلاف ہے جس پر الله تعالیٰ کے بندے ہیں (یعنی مانگنے والا ہمیشہ ہاتھ بڑھاتا ہے) اور وہ یہ ہے کہ دعا میں الله تعالیٰ کی طرف ہاتھ بلند کئے جائیں۔‘‘

381 / 55. وأخرج الإمام ابن رجب الحنبلي (736 - 795ه): مَدَّ يَدَيْهِ إِلَي السَّمَاءِ وَهُوَ مِنْ آدَابِ الدُّعَاءِ الَّتِي يُرْجَي بِسَبَبِهَا إِجَابَتُهُ.

الحديث رقم 55: أخرجه ابن رجب في جامع العلوم والحکم، 1 / 105.

’’امام ابن رجب حنبلی نے ایک طویل حدیث میں (حضور نبی اکرم ﷺ کے ایک صحابی کی کیفیتِ دعا بیان کرتے ہوئے) بیان کیا: انہوں نے اپنے ہاتھ آسمان کی طرف بلند کئے اور یہ آدابِ دعا میں سے جس کے سبب امیدِ قبولیت رکھی جاتی ہے۔‘‘

382 / 56. وقال الإمام جلال الدين السّيوطي (849 - 911ه): أَحَادِيْثُ رَفْعِ الْيَدَيْنِ فِي الدُّعَاءِ فَقَدْ وَرَدَ عَنْهُ ﷺ نَحْوُ مِائَةِ حَدِيْثٍ فِيْهِ رَفْعَ يَدَيْهِ فِي الدُّعَاءِ وَقَدْ جَمَعْتُهَا فِي جُزْءٍ (فض الوعا في أحاديث رفع اليدين في الدعاء) لَکِنَّهَا فِي قَضَايَا مُخْتَلِفَةٍ فَکُلُّ قَضْيَةٍ مِنْهَا لَمْ تَتَوَاتَرْ وَالْقَدْرُ الْمُشْتَرَکُ فِيْهَا وَهُوَ الرَّفْعُ عِنْدَ الدُّعَاءِ تَوَاتَرَ بِاعْتَبَارِ الْمُجْمُوْعِ.

الحديث رقم 56: أخرجه السيوطي في تدريب الراوي، 2 / 180.

’’امام جلال الدین سیوطی نے فرمایا: دعا کے لئے ہاتھ اٹھانے کے بارے میں حضور نبی اکرم ﷺ سے تقریبًا سو کے قریب احادیث منقول ہیں جن میں یہ مذکور ہے کہ آپ ﷺ نے دعا میں ہاتھ بلند فرمائے ہیں ان تمام احادیث کو میں نے ایک مستقل کتاب (فض الوعا في احادیث رفع الیدین في الدعاء) میں جمع کر دیا ہے اگرچہ یہ دعائیں مختلف قضایا سے متعلق ہیں مگر ان میں ہاتھ اٹھانا چونکہ قدر مشترک ہے اس لئے یہ (ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا) مجموعی اعتبار سے احادیث متواتر (سے ثابت) ہو گیا۔‘‘

Copyrights © 2020 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved