المنہاج السوی من الحدیث النبوی

حضور نبی اکرم ﷺ کا طریقۂ نماز

اَلْبَابُ الرَّابِعُ: کَيْفِيَةُ صَلَاةِ النَّبِيِّ ﷺ

(حضور نبی اکرم ﷺ کا طریقۂ نماز)

1. فَصْلٌ فِي الإِمَامَةِ وَعَدْمِ الْجَهْرِ بِبِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ

( امامت کرانے اور بلند آواز سے تسمیہ نہ پڑھنے کا بیان)

2. فَصْلٌ فِي عَدْمِ رَفْعِ الْيَدَيْنِ إِلَّا فِي أَوَّلِ مَرَّةٍ

( تکبیرِ اُولیٰ کے علاوہ نماز میں رفع یدین نہ کرنے کا بیان)

3. فَصْلٌ فِي تَرْکِ الْقِرَاءَةِ خَلْفَ الإِمَامِ

( اِمام کے پیچھے قرات نہ کرنے کا بیان)

4. فَصْلٌ فِي عَدْمِ الْجَهْرِ بِالتَّأْمِيْنِ

(بلند آواز سے آمین نہ کہنے کا بیان)

فَصْلٌ فِي الْإِمَامَةِ وَعَدْمِ الْجَهْرِ بِبِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ

(اِمامت کرانے اور بلند آواز سے تسمیہ نہ پڑھنے کا بیان)

235 / 1. عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ الْأَنْصَارِيِّ رضي الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ رَکِبَ فَرَسًا فَجُحِشَ شِقُّهُ الْأَيْمَنُ. قَالَ أَنَسٌ رضي الله عنه: فَصَلَّي لَنَا يَوْمَئِذٍ صَلَاةً مِنَ الصَّلَوَاتِ، وَهُوَ قَاعِدٌ، فَصَلَّيْنَا وَرَاءَهُ قُعُوْدًا، ثُمَّ قَالَ لَمَّا سَلَّمَ: إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِذَا صَلَّي قَائِمًا فَصَلُّوْا قِيَامًا، وَإِذَا رَکَعَ فَارْکَعُوا وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوْا. وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوْا، وَإِذَا قَالَ: (سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ)، فقُوْلُوْا: (رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ). مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

الحديث رقم 1: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: صفة الصلاة، باب: إيجاب التکبير وافتتاح الصلاة، 1 / 257، الرقم: 699، وفي کتاب: الجمعة، باب: صلاة القاعد، 1 / 375، الرقم: 1063، ومسلم في الصحيح، کتاب: الصلاة، باب: ائتمام المأموم بالإمام، 1 / 308، الرقم: 411، وأبوداود في السنن، کتاب: الصلاة، باب: الإمام يصلي من قعود، 1 / 164، الرقم: 601، والنسائي في السنن، کتاب: الإمامة، باب: الإئتمام بالإمام يصلي قاعدا، 2 / 98، الرقم: 832، وابن ماجه في السنن، کتاب: إقامة الصلاة والسنة فيها، باب: ماجاء في إنما جعل الإمام ليؤتم به، 1 / 392، الرقم: 1238، ومالک في الموطأ، 1 / 135، الرقم: 304، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 / 411، الرقم: 9318، والشافعي في المسند، 1 / 58، وابن حبان في الصحيح، 5 / 461، الرقم: 2103، 5 / 469، الرقم: 2108، والنسائي في السنن الکبري، 1 / 292، الرقم: 906، وابن أبي شيبة في المصنف، 7 / 286، الرقم: 36134، وعبد الرزاق في المصنف، 2 / 460، الرقم: 4078، والطحاوي في شرح معاني الآثار، 1 / 403، وأبويعلي في المسند، 6 / 283، الرقم: 3595، وأبوعوانة في المسند، 1 / 436، الرقم: 1619، والبيهقي في السنن الصغري، 1 / 320، الرقم: 546، وفي السنن الکبري، 2 / 97، الرقم: 2451، والطبراني في مسند الشاميين، 1 / 62، الرقم: 66.

’’حضرت انس بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ گھوڑے پر سوار ہوئے اور آپ ﷺ کا دایاں پہلو مبارک زخمی ہو گیا سو آپ ﷺ نے ہمیں ایک نماز بیٹھ کر پڑھائی اور ہم نے بھی آپ ﷺ کے پیچھے بیٹھ کر نماز پڑھی پھر آپ ﷺ نے سلام پھیر کر فرمایا: امام تو بنایا ہی اس لیے جاتا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے۔ جب وہ کھڑا ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر پڑھو اور جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو اور جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی اٹھاؤ اور جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو اور جب وہ (سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ) کہے تو تم (رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ) کہو۔‘‘

236 / 2. عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضي الله عنه أَنَّهُ قَالَ: خَرَّ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ عَنْ فَرَسٍ فَجُحِشَ، فَصَلَّي لَنَا قَاعِدًا، فَصَلَّيْنَا مَعَهُ قُعُوْدًا، ثُمَّ انْصَرَفَ فَقَالَ: إِنَّمَا الإِمَامُ (أَوْ إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ) لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا کَبَّرَ فَکَبِّرُوْا، وَإِذَا رَکَعَ فَارْکَعُوْا، وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوْا، وَإِذَا قَالَ: (سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ)، فَقُوْلُوْا: (رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ)، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوْا. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

الحديث رقم 2: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: صفة الصلاة، باب: إيجاب التکبير وافتتاح الصلاة، 1: 257، الرقم: 700، وفي کتاب: الجمعة، باب: صلاة القاعد، 1 / 375، الرقم: 1063، ومسلم في الصحيح، کتاب: الصلاة، باب: ائتمام المأموم بالإمام، 1 / 308، الرقم: 411، والترمذي في السنن، کتاب: الصلاة عن رسول اللہ ﷺ، باب: ماجاء إذا صلي الإمام قاعدا فصلوا قعودا، 2 / 194، الرقم: 361، وقال أبوعيسي: هذا حديث حسن صحيح، وأبوداود في السنن، کتاب: الصلاة، باب: الإمام يصلي من قعود، 1 / 164، الرقم: 601، والنسائي في السنن، کتاب: التطبيق، باب: ما يقول المأموم، 2 / 195، الرقم: 1061، وابن ماجه في السنن، کتاب: إقامة الصلاة والسنة فيها، باب: ماجاء في إنما جعل الإمام ليؤتم به، 1 / 393، الرقم: 1238، والشافعي في المسند، 1 / 58، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 110، الرقم: 12095، وابن حبان في الصحيح، 5 / 477، الرقم: 2113.

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ گھوڑے سے نیچے تشریف لے آئے تو خراش آ گئی، آپ ﷺ نے ہمیں بیٹھ کر نماز پڑھائی اور ہم نے بھی آپ ﷺ کے ساتھ بیٹھ کر نماز پڑھی، پھر فارغ ہوئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: امام اسی لئے بنایا جاتا ہے کہ اُس کی پیروی کی جائے جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو، جب رکوع کرے تو رکوع کرو، جب سر اٹھائے تو سر اٹھاؤ اور جب وہ (سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ) کہے تو تم (رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ) کہو اور جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو۔‘‘

237 / 3. عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضي الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: أَقِيْمُوا الرُّکُوْعَ وَالسُّجُوْدَ، فَوَاللهِ إِنِّي لَأَرَاکُمْ مِنْ بَعْدِي (وَرُبَّمَا قَالَ: مِنْ بَعْدِ ظَهْرِي) إِذَا رَکَعْتُمْ وَسَجَدْتُمْ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

الحديث رقم 3: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: صفة الصلوة، باب: الخشوع في الصلاة، 1 / 259، الرقم: 709، ومسلم في الصحيح، کتاب: الصلاة، باب: الأمر بتحسين الصلاة وإتمامها والخشوع فيها، 1 / 319، الرقم: 425، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 130، الرقم: 12343.

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: رکوع اور سجدے پورے کیا کرو، خدا کی قسم! میں تمہیں اپنے بعد بھی دیکھتا ہوں (اور کبھی فرمایا: پیٹھ پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں) جب تم رکوع اور سجدہ کرتے ہو۔‘‘

238 / 4. عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رضي الله عنه قَالَ: کَانَ النَّاسُ يُؤْمَرُوْنَ أَنْ يَضَعَ الرَّجُلُ الْيَدَ الْيُمْنَي عَلَي ذِرَاعِهِ الْيُسْرَي فِي الصَّلَاةِ. وَقَالَ أَبُوْحَازِمٍ: لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا يَنْمِي ذَلِکَ إِلىٰ النَّبِيِّ ﷺ.

رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمَالِکٌ.

الحديث رقم 4: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: صفة الصلاة، باب: وضع اليمني علي اليسري في الصلوة، 1 / 259، الرقم: 707 ومالک في الموطأ، 1 / 159، الرقم: 376، وأبو عوانة في المسند، 1 / 429، الرقم: 1597، والطبراني في المعجم الکبير، 6 / 140، الرقم: 5772.

’’حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لوگوں سے کہا جاتا تھا کہ نمازی حالت نماز میں اپنے دائیں ہاتھ کو اپنی بائیں کلائی پر رکھے۔ ابوحازم نے فرمایا کہ مجھے تو یہی معلوم ہے کہ حضرت سہل اس بات کو نبی کریم ﷺ کی طرف منسوب کرتے تھے۔‘‘

239 / 5. عَنْ عِمْرَانَ ابْنِ حُصَيْنٍ رضي الله عنه قَالَ: صَلَّي مَعَ عَلِيٍّ رضي الله عنه بِالْبَصْرَةِ، فَقَالَ: ذَکَّرَنَا هَذَا الرَّجُلُ صَلَاةً، کُنَّا نُصَلِّيْهَا مَعَ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ فَذَکَرَ اَنَّهُ کَانَ يُکَبِّرُ کُلَّمَا رَفَعَ وَکُلَّمَا وَضَعَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

الحديث رقم 5: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: الأذان، باب: إتمام التکبير في الرکوع، 1 / 271، الرقم: 751، والبزار في المسند، 9 / 26، الرقم: 3532، والبيهقي في السنن الکبري، 2 / 68، الرقم: 2326.

’’حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اُنہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ بصرہ میں نماز پڑھی تو اُنہوں نے ہمیں وہ نماز یاد کروا دی جو ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ پڑھا کرتے تھے۔ بتایا کہ آپ جب بھی اُٹھتے اور جھکتے تو تکبیر کہا کرتے تھے۔‘‘

240 / 6. عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرِيْرَةَ رضي الله عنه أَنَّهُ کَانَ يُصَلِّي بِهِمْ، فَيُکَبِّرُ کُلَّمَا خَفَضَ وَرَفَعَ فَإِذَا انْصَرَفَ قَالَ إِنِّي لَأَشْبَهُکُمْ صَلَاةً بِرَسُوْلِ اللهِ ﷺ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

الحديث رقم 6: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: صفة الصلاة، باب: إتمام التکبير في الرکوع، 1 / 272، الرقم: 752، ومسلم في الصحيح، کتاب: الصلاة، باب: إثبات التکبير في کل خفض ورفع في الصلاة، 1 / 293، الرقم: 392، والنسائي في السنن، کتاب: التطبيق، باب: التکبير للنهوض، 2 / 235، الرقم: 1155، والشافعي في المسند، 1 / 38، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 / 236، الرقم: 7219، ومالک في الموطأ، 1 / 76، الرقم: 166، والطحاوي في شرح معاني الآثار، 1 / 221، وابن الجارود في المنتقي، 1 / 57، الرقم: 191، وابن حبان في الصحيح، 5 / 62، الرقم: 1766.

’’حضرت ابوسلمہ سے روایت ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ انہیں نماز پڑھایا کرتے تھے وہ جب بھی جھکتے اور اٹھتے تو تکبیر کہتے۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: میری نماز تم سب سے زیادہ رسول اللہ ﷺ کی نماز کے ساتھ مشابہت رکھتی ہے۔‘‘

241 / 7. عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضي الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ وَأَبَابَکْرٍ وَعُمَرَ رضي اللہ عنهما کَانُوْا يَفْتَتِحُوْنَ الصَّلَاةَ: بِ (الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ).

رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

الحديث رقم 7: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: صفة الصلاة، باب: ما يقول بعد التکبير، 1 / 259، الرقم: 710، والشافعي في السنن المأثورة، 1 / 135.138.

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ، حضرت ابو بکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما نماز کو (الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ) سے شروع کیا کرتے تھے۔‘‘

242 / 8. عَنْ أَنَسٍ رضي الله عنه قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ، وَأَبِي بَکْرٍ، وَعُمَرَ، وَعُثْمَانَ رضي الله عنهم فَلَمْ أَسْمَعْ أَحَدًا مِنْهُمْ يَقْرَأُ: (بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ). رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

الحديث رقم 8: أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب: الصلاة، باب: حجة من قال لا يجهر بالبسملة، 1 / 299، الرقم: 399، والنسائي في السنن، کتاب: الافتتاح، باب: ترک الجهر ببسم اللہ الرحمن الرحيم، 2 / 99، الرقم: 907، والنسائي في السنن الکبري، 1 / 315، الرقم: 979، وابن حبان في الصحيح، 5 / 103، الرقم: 1799، وابن خزيمة في الصحيح، 1 / 249، 250، الرقم: 495 - 497، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 176، 275، 278، وابن أبي شيبة في المصنف 1 / 360، الرقم: 4144، والدارقطني في السنن، 1 / 314، 315، وأبو عوانة في المسند، 1 / 448، الرقم: 1656، وابن الجعد في المسند، 1 / 146، 293، الرقم: 922، 1986، وعبد بن حميد في المسند، 1 / 359، الرقم: 1191، والبيهقي في السنن الکبري، 2 / 51، الرقم: 2243، والطحاوي في شرح معاني الآثار، 1 / 261، الرقم: 1166.

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم ﷺ، حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنھم کی اقتداء میں نماز پڑھی، مگر میں نے ان میں سے کسی کو (بسم اللہ الرحمن الرحیم) پڑھتے نہ سنا۔‘‘

243 / 9. عَنِ ابْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُغَفَّلٍ رضي الله عنه، قَالَ: سَمِعَنِي أَبِي وَأَنَا فِي الصَّلَاةِ، أَقُوْلُ: (بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ)، فَقَالَ لِي: أَي بُنَيَّ! مُحْدَثٌ إِيَاکَ وَالْحَدَثَ، قَالَ: وَلَمْ أَرَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ کَانَ أَبْغَضَ إِلَيْهِ الْحَدَثُ فِي الإِسْلَامِ يَعْنِي: مِنْهُ. قَالَ: وَقَدْ صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ ﷺ. وَمَعَ أَبِيْ بَکْرٍ، وَمَعَ عُمَرَ، وَمَعَ عُثْمَانَ رضي الله عنهم فَلَمْ أَسْمَعْ أَحَدًا مِنْهُمْ يَقُوْلُهَا، فَلَا تَقُلْهَا، إِذَا أَنْتَ صَلَّيْتَ، فَقُلِ: (الْحَمْدُلِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ) (الفاتحة، 1: 1). رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

وَقَالَ أَبُوْعِيْسَي: حَدِيْثُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُغَفَّلٍ حَدِيْثٌ حَسَنٌ وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَکْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ مِنْهُمْ: أَبُوبَکْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ، وَعَلِيٌّ، وَغَيْرُهُمْ رضی الله عنهم، وَمَنْ بَعْدَهُمْ مِنَ التَّابِعِيْنَ. وَبِهِ يَقُوْلُ: سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَابْنُ الْمُبَارَکِ، وَأَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ: لَا يَرَوْنَ أَنْ يَجْهَرَ بِ ( بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ) قَالُوْا: وَيَقُوْلُهَا فِي نَفْسِهِ.

الحديث رقم 9: أخرجه الترمذي في السنن، کتاب: الصلاة عن رسول اللہ ﷺ، باب: ما جاء في ترک الجهرببسم اللہ الرحمن الرحيم، 2 / 12، الرقم: 244، وابن قدامة في المغني، 1 / 284.

’’حضرت عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میرے والد نے مجھے نماز میں (بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ) پڑھتے ہوئے سنا تو فرمایا: اے بیٹے! یہ بدعت ہے بدعت سے بچو۔ نیز فرمایا: میں نے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کو اس سے زیادہ کسی اور بدعت کو اتنا ناپسند کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ اور یہ بھی کہا کہ میں نے حضور نبی اکرم ﷺ، حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنھم کے ساتھ نماز پڑھی لیکن ان میں سے کسی کو یہ (بِسْمِ اللهِ) جہراً کہتے ہوئے نہیں سنا لہٰذا تم بھی بلند آواز سے نہ کہو اور جب نماز پڑھو تو صرف (الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ) سے (قرات) شروع کرو۔

’’امام ترمذی فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مغفل کی حدیث حسن ہے اور اکثر اصحاب رسول جن میں حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت علی رضی اللہ عنھم اور ان کے علاوہ کئی صحابہ کرام شامل ہیں اسی پر عمل پیرا رہے اور تابعین کا بھی اسی پر عمل ہے۔ سفیان ثوری، ابن مبارک، احمد اور اسحق (بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ) کو اونچی آواز سے پڑھنا جائز نہیں قرار دیتے بلکہ فرماتے ہیں کہ آہستہ پڑھنی چاہئے۔‘‘

244 / 10. عَنْ عَبْدِ ﷲِ بْنِ مُغَفَّلٍ رضي الله عنه، قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ وَخَلْفَ أَبِي بَکْرٍ، وَخَلْفَ عُمَرَ رضي اللہ عنهما، فَمَا سَمِعْتُ أَحَدًا مِنْهُمْ قَرَأَ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ. رَوَاهُ أَبُوْحَنِيْفَةَ وَالنَّسَائِيُّ.

الحديث رقم 10: أخرجه الخوارزمي في جامع المسانيد للإمام أبي حنيفة 1 / 318، 323، والنسائي في السنن، کتاب: الافتتاح، باب: ترک الجهر ببسم اللہ الرحمن الرحيم، 2 / 99، الرقم: 908، والنسائي في السنن الکبري، 1 / 315، الرقم: 980، وأحمد بن حنبل في المسند، 5 / 54 - 55، والطحاوي في شرح معاني الآثار، 1 / 260، 261، الرقم: 1161، والبيهقي في السنن الکبري، 2 / 52، الرقم: 2248.

’’حضرت عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضور نبی اکرم ﷺ کے پیچھے اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے پیچھے نماز پڑھی اور کسی کو بھی (بلند آواز سے) (بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ) پڑھتے ہوئے نہ سنا۔‘‘

245 / 11. عَنْ أَنَسٍ رضي الله عنه قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ وَخَلْفَ أَبِي بَکْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ رضی الله عنهم، وَکَانُوْا لَا يَجْهَرُوْنَ بِ (بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ). رَوَاهُ أَبُوْحَنِيْفَةَ وَأَحْمَدُ.

الحديث رقم 11: أخرجه الخوارزمي في جامع المسانيد للإمام أبي حنيفة، 1 / 322، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 179، 275، وابن حبان في الصحيح، 5 / 105، الرقم: 1802، وابن الجعد في المسند، 1 / 146، الرقم: 923، والبيهقي في السنن الکبري، 2 / 52، الرقم: 2249، والطحاوي في شرح معاني الآثار، 1 / 262، الرقم: 1167.

’’حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم ﷺ، ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنھم کی اِقتداء میں نماز پڑھی، یہ تمام حضرات (بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ) بلند آواز سے نہیں پڑھتے تھے۔‘‘

246 / 12. عَنْ أَبِي وَائِلٍ رضي الله عنه: أَنَّ عَلِيَا وَعَمَّارًا رضي اللہ عنهما کَانَا لَا يَجْهَرَانِ بِ (بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ). رَوَاهُ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ.

الحديث رقم 12: أخرجه ابن أبي شيبة في المصنف، 1 / 361، الرقم: 4149.

’’حضرت ابو وائل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی اور حضرت عمار رضی اللہ عنہما (نماز میں) (بسم اللہ الرحمن الرحیم) پڑھتے وقت آواز بلند نہیں کرتے تھے۔‘‘

247 / 13. قَالَ إِبْرَاهِيْمُ النَّخَعِيُّ رضي الله عنه: جَهْرُ الإِمَامِ (بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ) بِدْعَةٌ. رَوَاهُ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ.

الحديث رقم 13: أخرجه ابن أبي شيبة في المصنف، 1 / 360، الرقم: 4138.

’’حضرت ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ امام کا بلند آواز سے (بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ) پڑھنا بدعت ہے۔‘‘

فَصْلٌ فِي عَدْمِ رَفْعِ الْيَدَيْنِ إِلَّا فِي أَوَّلِ مَرَّةٍ

(تکبیرِ اُولیٰ کے علاوہ نماز میں رفع یدین نہ کرنے کا بیان)

248 / 14. عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رضي الله عنه قَالَ: صَلَّي مَعَ عَلِيٍّ رضي الله عنه بِالْبَصْرَةِ، فَقَالَ: ذَکَّرَنَا هَذَا الرَّجُلُ صَلَاَةً، کُنَّا نُصَلِّيهَا مَعَ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ، فَذَکَرَ أَنَّهُ کَانَ يُکَبِّرُ کُلَّمَا رَفَعَ وَکُلَّمَا وَضَعَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

الحديث رقم 14: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: صفة الصلاة، باب: إتمام التکبير في الرکوع، 1 / 271، الرقم: 751، والبيهقي في السنن الکبري، 2 / 78، الرقم: 2326، والبزار في المسند، 9 / 26، الرقم: 3532.

’’حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے فرمایا: انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ بصرہ میں نماز پڑھی تو انہوں نے ہمیں وہ نماز یاد کروا دی جو ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ پڑھا کرتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ (یعنی حضرت علی رضی اللہ عنہ) جب بھی اٹھتے اور جھکتے تو تکبیر کہا کرتے تھے۔‘‘

249 / 15. عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه أَنَّهُ کَانَ يُصَلِّي لَهُمْ، فَيُکَبِّرُ کُلَّمَا خَفَضَ وَرَفَعَ، فَإِذَا انْصَرَفَ قَالَ: إِنِّي لَأَشْبَهُکُمْ صَلَاةً بِرَسُوْلِ اللهِ ﷺ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

الحديث رقم 15: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: صفة الصلاة، باب: إتمام التکبير في الرکوع، 1 / 272، الرقم: 752، ومسلم في الصحيح، کتاب: الصلاة، باب: اثبات التکبير في کل خفض ورفع في الصلاة، 1 / 293، الرقم: 392، والنسائي في السنن، کتاب: التطبيق، باب: التکبير للنهوض، 2 / 235، الرقم: 1155، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 / 236، الرقم: 7219، ومالک في الموطأ، 1 / 76، الرقم: 166، والطحاوي في شرح معاني الآثار، 1 / 221.

’’حضرت ابو سلمہ سے روایت ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ انہیں نماز پڑھایا کرتے تھے، وہ جب بھی جھکتے اور اٹھتے تو تکبیر کہتے۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: تم میں سے میری نماز رسول اللہ ﷺ کی نماز سے زیادہ مشابہت رکھتی ہے۔‘‘

250 / 16. عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رضي الله عنه قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رضي الله عنه، أَنَا وَعِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ، فَکَانَ إِذَا سَجَدَ کَبَّرَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ کَبَّرَ، وَإِذَا نَهَضَ مِنَ الرَّکْعَتَيْنِ کَبَّرَ، فَلَمَّا قَضَي الصَّلَاةَ، أَخَذَ بِيَدِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ فَقَالَ: قَدْ ذَکَّرَنِي هَذَا صَلَاةَ مُحَمَّدٍ ﷺ، أَوْ قَالَ: لَقَدْ صَلَّي بِنَا صَلَاةَ مُحَمَّدٍ ﷺ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

الحديث رقم 16: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: صفة الصلاة، باب: إتمام التکبير في السجود، 1 / 272، الرقم: 753، ومسلم في الصحيح، کتاب: الصلاة، باب: إثبات التکبير في کل خفض ورفع في الصلاة، 1 / 295، الرقم: 393، وأحمد بن حنبل في المسند، 4 / 444.

’’حضرت مطرف بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے اور حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی جب انہوں نے سجدہ کیا تو تکبیر کہی جب سر اٹھایا تو تکبیر کہی اور جب دو رکعتوں سے اٹھے تو تکبیر کہی۔ جب نماز مکمل ہو گئی تو حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑ کر فرمایا: انہوں نے مجھے محمد مصطفیٰ ﷺ کی نماز یاد کرا دی ہے (یا فرمایا: ) انہوں نے مجھے محمد مصطفیٰ ﷺ کی نماز جیسی نماز پڑھائی ہے۔‘‘

251 / 17. عَنْ أَبِي بَکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رضي الله عنه يَقُولُ: کَانَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ إِذَا قَامَ إِلىٰ الصَّلَاةِ، يُکَبِّرُ حِينَ يَقُوْمُ، ثُمَّ يُکَبِّرُ حِينَ يَرْکَعُ، ثُمَّ يَقُوْلُ: (سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ). حِينَ يَرْفَعُ صُلْبَهُ مِنَ الرَّکْعَةِ. ثُمَّ يَقُوْلُ وَهُوَ قَائِمٌ: (رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ). قَالَ عَبْدُ اللهِ: (وَلَکَ الْحَمْدُ). ثُمَّ يُکَبِّرُ حِينَ يَهْوِي، ثُمَّ يُکَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، ثُمَّ يُکَبِّرُ حِينَ يَسْجُدُ، ثُمَّ يُکَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، ثُمَّ يَفْعَلُ ذَلِکَ فِي الصَّلَاةِ کُلِّهَا حَتَّى يَقْضِيَهَا، وَ يُکَبِّرُ حِينَ يَقُوْمُ مِنَ الثِّنْتَيْنِ بَعْدَ الْجُلُوْسِ.

مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

الحديث رقم 17: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: صفة الصلاة، باب: التکبير إذا قام من السجود، 1 / 272، الرقم: 756، ومسلم في الصحيح، کتاب: الصلاة، باب: إثبات التکبير في کل خفض ورفع في الصلاة، 1 / 293، الرقم: 392.

’’حضرت ابوبکر بن عبدالرحمن نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو کھڑے ہوتے وقت تکبیر کہتے پھر رکوع کرتے وقت تکبیر کہتے پھر (سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ) کہتے جب کہ رکوع سے اپنی پشت مبارک کو سیدھا کرتے پھر سیدھے کھڑے ہوکر (رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ) کہتے۔ پھر جھکتے وقت تکبیر کہتے۔ پھر سر اٹھاتے وقت تکبیر کہتے۔ پھر سجدہ کرتے وقت تکبیر کہتے پھر سجدے سے سر اٹھاتے وقت تکبیر کہتے۔ پھر ساری نماز میں اسی طرح کرتے یہاں تک کہ پوری ہوجاتی اور جب دو رکعتوں کے آخر میں بیٹھنے کے بعد کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے۔‘‘

252 / 18. عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رضي الله عنه کَانَ يُکَبِّرُ فِي کُلِّ صًلَاةٍ مِنَ الْمَکْتُوبَةِ وَغَيْرِهَا، فِي رَمَضَانَ وَغَيْرِهِ، فَيُکَبِّرُ حِينَ يَقُوْمُ، ثُمَّ يُکَبِّرُ حِينَ يَرْکَعُ، ثُمَّ يَقُوْلُ: (سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ)، ثُمَّ يَقُوْلُ: (رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ)، قَبْلَ أَنْ يَسْجُدَ، ثُمَّ يَقُوْلُ: (اللهُ أَکْبَرُ)، حِينَ يَهْوِي سَاجِدًا، ثُمَّ يُکَبِّرُ حِيْنَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُوْدِ، ثُمَّ يُکَبِّرُ حِيْنَ يَسْجُدُ، ثُمَّ يُکَبِّرُ حِيْنَ يَرْفَعُ رأْسَهُ مِنَ السُّجُوْدِ، ثُمَّ يُکَبِّرُ حِينَ يَقُوْمُ مِنَ الْجُلُوْسِ فِي الاِثْنَتَيْنِ، وَيَفْعَلُ ذَلِکَ فِي کُلِّ رَکْعَةٍ، حَتَّى يَفْرُغَ مِنَ الصَّلَاةِ، ثُمَّ يَقُوْلُ حِينَ يَنْصَرِفُ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنِّي لَأَقْرَبُکُمْ شَبَهًا بِصَلَاةِ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ، إِنْ کَانَتْ هَذِهِ لَصَلَاتَهُ حَتَّى فَارَقَ الدُّنْيَا.

رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَأَبُوْدَاوُدَ.

الحديث رقم 18: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: صفة الصلاة، باب: يهوي بالتکبير حين يسجد، 1 / 276، الرقم: 770، وأبوداود في السنن، کتاب: الصلاة، باب: تمام التکبير، 1 / 221، الرقم: 836.

’’ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے روایت ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہر نماز میں تکبیر کہتے خواہ وہ فرض ہوتی یا دوسری، ماہِ رمضان میں ہوتی یا اس کے علاوہ جب کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے اور جب رکوع کرتے تو تکبیر کہتے۔ پھر (سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ) کہتے۔ پھر سجدہ کرنے سے پہلے (رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ) کہتے۔ پھر جب سجدے کے لئے جھکتے تو (اللهُ اَکْبَرُ) کہتے۔ پھر جب سجدے سے سر اٹھاتے تو تکبیر کہتے، پھر جب (دوسرا) سجدہ کرتے تو تکبیر کہتے، پھر جب سجدے سے سر اٹھاتے تو تکبیر کہتے، پھر جب دوسری رکعت کے قعدہ سے اٹھتے تو تکبیر کہتے، اور ہر رکعت میں ایسا ہی کرتے یہاں تک کہ نماز سے فارغ ہو جاتے۔ پھر فارغ ہونے پر فرماتے: قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! تم سب میں سے میری نماز رسول اللہ ﷺ کی نماز کے ساتھ زیادہ مشابہت رکھتی ہے۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے تادمِ وِصال اسی طریقہ پر نماز ادا کی۔‘‘

253 / 19. عَنْ أَبِي قِلَابَةَ أَنَّ مالِکَ ابْنَ الْحُوَيْرِثِ رضي الله عنه قَالَ لِأَصْحَابِهِ: أَلَا أُنَبِّئُکُمْ صَلَاةَ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ؟ قَالَ: وَذَاکَ فِي غَيْرِ حِينِ صَلَاةٍ، فَقَامَ، ثُمَّ رَکَعَ فَکَبَّرَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَامَ هُنَيَةً، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ هُنَيَةً، فَصَلَّي صَلَاةَ عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ شَيْخِنَا هَذَا. قَالَ أَيُّوْبُ: کَانَ يَفْعَلُ شَيْئًا لَمْ أَرَهُمْ يَفْعَلُونَهُ، کَانَ يَقْعُدُ فِي الثَّالِثَةِ وَالرَّابِعَةِ. قَالَ: فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ ﷺ فَأَقَمْنَا عِنْدَهُ، فَقَالَ: لَوْ رَجَعْتُمْ إِلىٰ أَهْلِيکُمْ، صَلُّوْا صَلَاةَ کَذَا فِي حِينٍ کَذَا، صَلُّوْا صَلَاةَ کَذَا فِي حِينٍ کَذَا، فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ، فَلْيُؤَذِّنْ أَحَدُکُمْ، وَلْيَؤُمَّکُمْ أَکْبَرُکُمْ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

الحديث رقم 19: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: صفة الصلاة، باب: المکث بين السجدتين إتمام التکبير في الرکوع، 1 / 282، الرقم: 785.

’’حضرت ابوقلابہ سے روایت ہے کہ حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا: کیا میں تمہیں رسول اللہ ﷺ کی نماز نہ بتاؤں؟ اور یہ نماز کے معینہ اوقات کے علاوہ کی بات ہے۔ سو انہوں نے قیام کیا، پھر رکوع کیا تو تکبیر کہی پھر سر اٹھایا تو تھوڑی دیر کھڑے رہے۔ پھر سجدہ کیا، پھر تھوڑی دیر سر اٹھائے رکھا پھر سجدہ کیا۔ پھر تھوڑی دیر سر اٹھائے رکھا۔ انہوں نے ہمارے ان بزرگ حضرت عمرو بن سلمہ کی طرح نماز پڑھی۔ ایوب کا بیان ہے وہ ایک کام ایسا کرتے جو میں نے کسی کو کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ وہ دوسری اور چوتھی رکعت میں بیٹھا کرتے تھے۔ فرمایا: ہم حضور نبی اکرم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ کے پاس ٹھہرے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: جب تم اپنے گھر والوں کے پاس واپس جاؤ تو فلاں نماز فلاں وقت میں پڑھنا۔ جب نماز کا وقت ہو جائے تو تم میں سے ایک اذان کہے اور جو بڑا ہو وہ تمہاری امامت کرے۔‘‘

254 / 20. عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُوْدٍ رضي الله عنه: أَلاَ أُصَلِّي بِکُمْ صَلَاةَ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ ؟ قَالَ: فَصَلَّي فَلَمْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ إِلَّا مَرَّةً.

رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ، وَالنَّسَائِيُّ وَزَادَ: ثُمَّ لَمْ يُعِدْ.

وَقَالَ أَبُوْعِيْسَي: هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ.

الحديث رقم 20: أخرجه أبوداود في السنن، کتاب: التطبيق، باب: من لم يذکر الرفع عند الرکوع، 1 / 286، الرقم: 748، والترمذي في السنن، کتاب: الصلاة عن رسول اللہ ﷺ، باب: رفع اليدين عند الرکوع، 1 / 297، الرقم: 257، والنسائي في السنن، کتاب: الافتتاح، باب: ترک ذلک، 2 / 131، الرقم: 1026، وفي السنن الکبري، 1 / 221، 351، الرقم: 645، 1099، وأحمد بن حنبل في المسند، 1 / 388، 441، وابن أبي شيبة في المصنف، 1 / 213، الرقم: 2441.

’’حضرت علقمہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا میں تمہیں رسول اکرم ﷺ کی نماز نہ پڑھاؤں؟ راوی کہتے ہیں: پھر اُنہوں نے نماز پڑھائی اور ایک مرتبہ کے سوا اپنے ہاتھ نہ اٹھائے۔‘‘ امام نسائی کی بیان کردہ روایت میں ہے: ’’پھر انہوں نے ہاتھ نہ اٹھائے۔‘‘

255 / 21. حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ وَخَالِدُ بْنُ عَمْرٍو وَ أَبُوْحُذَيْفَةَ رضي الله عنهم، قَالُوْا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بِإِسْنَادِهِ بِهَذَا، قَالَ: فَرَفَعَ يَدَيْهِ فِي أَوَّلِ مَرَّةٍ، وَ قَالَ بَعْضُهُمْ: مَرَّةً وَاحِدَةً. رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ.

الحديث رقم 21: أخرجه أبوداود في السنن، کتاب: التطبيق، باب: من لم يذکر الرفع عند الرکوع، 1 / 286، الرقم: 749.

’’حضرت حسن بن علی، معاویہ، خالد بن عمرو اور ابو حذیفہ رضی اللہ عنھم روایت کرتے ہیں کہ سفیان نے اپنی سند کے ساتھ ہم سے حدیث بیان کی (کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے) پہلی دفعہ ہی ہاتھ اٹھائے، اور بعض نے کہا: ایک ہی مرتبہ ہاتھ اٹھائے۔‘‘

256 / 22. عَنِ الْبَرَاءِ رضي الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ کَانَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ إِلىٰ قَرِيْبٍ مِنْ أُذُنَيْهِ ثُمَّ لَا يَعُوْدُ. رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ.

الحديث رقم 22: أخرجه أبوداود في السنن، کتاب: الصلاة، باب: من لم يذکر الرفع عند الرکوع، 1 / 287، الرقم: 750، وعبد الرزاق في المصنف، 2 / 70، الرقم: 2530، وابن أبي شيبة في المصنف، 1 / 213، الرقم: 2440، والدارقطني في السنن، 1 / 293، والطحاوي في شرح معاني الآثار، 1 / 253، الرقم: 1131.

’’حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ جب نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ کانوں تک اٹھاتے، اور پھر ایسا نہ کرتے۔‘‘

257 / 23. عَنِ الْأَسْوَدِ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُوْدٍ رضي الله عنه کَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي أَوَّلِ التَّکْبِيْرِ، ثُمَّ لَا يَعُوْدُ إِلىٰ شَيءٍ مِنْ ذَلِکَ. وَيَأْثِرُ ذَلِکَ عَنْ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ. رَوَاهُ أَبُوْحَنِيْفَةَ.

الحديث رقم 23: أخرجه الخوارزمي في جامع المسانيد، 1 / 355.

’’حضرت اسود روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ صرف تکبیر تحریمہ کے وقت ہاتھ اُٹھاتے تھے، پھر نماز میں کسی اور جگہ ہاتھ نہ اٹھاتے اور یہ عمل حضور نبی اکرم ﷺ سے نقل کیا کرتے۔‘‘

258 / 24. عَنْ عَبْدِ اللهِ رضي الله عنه قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ وَأَبِي بَکْرٍ وَعُمَرَ رضي اللہ عنهما، فَلَمْ يَرْفَعُوْا أَيْدِيَهِم إِلَّا عِنْدَ اسْتِفْتَاحِ الصَّلَاةِ.

رَوَاهُ الدَّارُقُطْنِيُّ.

الحديث رقم 24: أخرجه الدارقطني في السنن، 1 / 295، وأبويعلي في المسند، 8 / 453، الرقم: 5039، والبيهقي في السنن الکبري، 2 / 79، والهيثمي في مجمع الزوائد، 2 / 101.

’’حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم ﷺ اور ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ نماز پڑھی، یہ سب حضرات صرف نماز کے شروع میں ہی اپنے ہاتھ بلند کرتے تھے۔‘‘

259 / 25. عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيْهِ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: حَذْوَ مَنْکَبَيْهِ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْکَعَ، وَبَعْدَ مَا يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ الرُّکُوْعِ، لَا يَرْفَعُهُمَا، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: وَلَا يَرْفَعُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ. رَوَاهُ أَبُوْعَوَانَةَ.

الحديث رقم 25: أخرجه أبو عوانة في المسند، 1 / 423، الرقم: 1572.

’’حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ نے نماز شروع کرتے وقت اپنے ہاتھوں کو کندھوں تک اٹھایا، اور جب آپ ﷺ رکوع کرنا چاہتے اور رکوع سے سر اٹھاتے تو ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے، اور بعض نے کہا دونوں سجدوں کے درمیان (ہاتھ) نہیں اٹھاتے تھے۔‘‘

260 / 26. عَنِ الْأَسْوَدِ، قَالَ: رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رضي الله عنه يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي أَوَّلِ تَکْبِيْرَةٍ، ثُمَّ لَا يَعُوْدُ. رَوَاهُ الطَّحَاوِيُّ.

الحديث رقم 26: أخرجه الطحاوي في شرح معاني الآثار، 1 / 294، الرقم: 1329.

’’حضرت اسود بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو نماز ادا کرتے دیکھا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ تکبیر تحریمہ کہتے وقت دونوں ہاتھ اٹھاتے، پھر (بقیہ نماز میں ہاتھ) نہیں اٹھاتے تھے۔‘‘

261 / 27. عَنْ عَاصِمِ بْنِ کُلَيْبٍ عَنْ أَبِيْهِ أَنَّ عَلِيًا رضي الله عنه کَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ، ثُمَّ لَا يَعُوْدُ. رَوَاهُ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ.

الحديث رقم 27: أخرجه ابن أبي شيبة في المصنف، 1 / 213، الرقم: 2444.

’’عاصم بن کلیب اپنے والد کلیب سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ صرف تکبیر تحریمہ میں ہی ہاتھوں کو اٹھاتے تھے پھر دورانِ نماز میں ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے۔‘‘

فَصْلٌ فِي تَرْکِ الْقِرَاءَةِ خَلْفَ الإِمَامِ

(اِمام کے پیچھے قراءت نہ کرنے کا بیان)

262 / 28. عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رضي اللہ عنهما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: مَنْ صَلَّي خَلْفَ الإِمَامِ فَإِنَّ قِرَاءَةَ الإِمَامِ لَهُ قِرَاءَةٌ.

رَوَاهُ أَبُوْحَنِيْفَةَ.

الحديث رقم 28: أخرجه الخوارزمي في جامع المسانيد، 1 / 331، والإمام محمد في الموطأ، باب: القراءة في الصلاة خلف الإمام، 1 / 96، وعبد بن حميد في المسند، 1 / 320، الرقم: 1050، والطبراني في المعجم الأوسط، 8 / 43، الرقم: 7903، والبيهقي في السنن الکبري، 2 / 160.

’’حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو شخص امام کے پیچھے نماز پڑھے تو امام کا پڑھنا ہی اس کا پڑھنا ہے۔‘‘

263 / 29. عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رضي اللہ عنهما قَالَ: صَلَّي رَسُوْلُ اللهِ ﷺ بِالنَّاسِ، فَقَرَأَ رَجُلٌ خَلْفَهُ، فَلَمَّا قَضَي الصَّلَاةَ، قَالَ: أَيُّکُمْ قَرَأَ خَلْفِي؟ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ، فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا يَا رَسُوْلَ اللهِ! فَقَالَ ﷺ: مَنْ صَلَّي خَلْفَ الإِمَامِ فَإِنَّ قِرَاءَةَ الإِمَامِ لَهُ قِرَاءَةٌ. رَوَاهُ أَبُوْحَنِيْفَةَ.

الحديث رقم 29: أخرجه الحصکفي في مسند الإمام الأعظم: 61.

’’حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے لوگوں کو نماز پڑھائی، تو ایک شخص نے حضور نبی اکرم ﷺ کے پیچھے قراءت کی۔ آپ ﷺ نے نماز سے فارغ ہو کر فرمایا: تم میں سے کس نے میرے پیچھے قراءت کی تھی؟ (لوگ حضور نبی اکرم ﷺ کی ناراضگی کے ڈر سے خاموش رہے، یہاں تک کہ) تین بار آپ ﷺ نے بتکرار یہی استفسار فرمایا۔ آخر ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: جو امام کے پیچھے ہو تو امام کی قراءت ہی اس کی قراءت ہے۔‘‘

264 / 30. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ ﷺ: إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِذَا کَبَّرَ فَکَبِّرُوْا وَإِذَا رَکَعَ فَارْکَعُوْا وَإِذَا قَالَ: (سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ) فَقُوْلُوْا: (رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ)، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوْا، وَاِذَا صَلَّي جَالِسًا، فَصَلُّوْا جُلُوْسًا أَجْمَعُوْنَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

الحديث رقم 30: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: صفة الصلاة، باب: إيجاب التکبير وافتتاح الصلاة، 1 / 257، الرقم: 701، ومسلم في الصحيح، کتاب: الصلاة، باب: إئتمام المأموم مع الإمام، 1 / 309، الرقم: 414، وأبوداود في السنن، کتاب: الصلاة، باب: الإمام يصلي من قعود، 1 / 164، الرقم: 602، وابن ماجه في السنن، کتاب: إقامة الصلاة والسنة فيها، باب: إذا قرأ الإمام فأنصتوا، 1 / 276، الرقم: 846، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 / 341، الرقم: 8483، والدارمي في السنن، 1 / 343، الرقم: 1311.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: امام اس لیے بنایا جاتا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے۔ جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو۔ جب رکوع کرے تو تم رکوع کرو، جب (سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ) کہے تو تم (رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ) کہو، جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم سب بھی بیٹھ کر پڑھو۔‘‘

265 / 31. عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّهُ سَأَلَ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ رضي الله عنه عَنِ الْقِرَاءَةِ مَعَ الإِمَامِ، فَقَالَ: لَا قِرَاءَةَ مَعَ الإِمَامِ فِي شَيءٍ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَالنَّسَائِيُّ.

الحديث رقم 31: أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب: المساجد ومواضع الصلاة، باب: سجود التلاوة، 1 / 406، الرقم: 577، والنسائي في السنن، کتاب: الافتتاح، باب: ترک السجود في النجم، 2 / 160، الرقم: 960، وفي السنن الکبري، 1 / 331، الرقم: 1032، وأبو عوانة في المسند، 1 / 522، الرقم: 1951، والبيهقي في السنن الکبري، 2 / 163، الرقم: 2738.

’’عطاء بن یسار روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے امام کے ساتھ قراءت کے متعلق سوال کیا تو حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: امام کے ساتھ کسی چیز میں قراءت نہیں۔‘‘

266 / 32. عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ الرَّقَاشِيِّ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ أَبِي مُوْسَى الْأَشْعَرِيِّ رضي الله عنه صَلَاةً. فَلَمَّا کَانَ عِنْدَ الْقَعْدَةِ قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أُقِرَّتِ الصَّلَاةُ بِالْبِرِّ وَالزَّکَاةِ. قَالَ: فَلَمَّا قَضَي أَبُوْ مُوْسَى الصَّلَاةَ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ فَقَالَ: أَيُّکُمُ الْقَائِلُ کَلِمَةَ کَذَا وَکَذَا؟ قَالَ: فَأَرَمَّ الْقَوْمُ. ثُمَّ قَالَ: أَيُّکُمُ الْقَائِلُ کَلِمَةَ کَذَا وَکَذَا؟ فَأَرَمَّ الْقَوْمُ. فَقَالَ: لَعَلَّکَ يَاحِطَّانُ قُلْتَهَا؟ قَالَ: مَا قُلْتُهَا. وَلَقَدْ رَهِبْتُ أَنْ تَبْکَعَنِي بِهَا. فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أَنَا قُلْتُهَا. وَلَمْ أُرِدْ بِهَا إِلاَّ الْخَيْرَ. فَقَالَ أَبُوْ مُوْسَى: أَمَا تَعْلَمُوْنَ کَيْفَ تَقُوْلُوْنَ فِي صَلَاتِکُمْ؟ إِنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ خَطَبَنَا فَبَيَنَ لَنَا سُنَّتَنَا وَعَلَّمَنَا صَلَاتَنَا. فَقَالَ: إِذَا صَلَّيْتُمْ فَأَقِيْمُوْا صُفُوْفَکُمْ. ثُمَّ لْيَؤُمَّکُمْ أَحَدُکُمْ. فًإِذَا کَبَّرَ فَکَبِّرُوْا. وَإِذَا قَالَ: (غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّآلِّيْنَ). فَقُوْلُوْا: (آمِيْنَ). يُجِبْکُمُ اللهُ. فَإِذَا کَبَّرَ وَرَکَعَ فَکَبِّرُوْا وَارْکَعُوْا فَإِنَّ الإِمَامَ يَرْکَعُ قَبْلَکُمْ وَيَرْفَعُ قَبْلَکُمْ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: تِلْکَ بِتِلْکَ. وَإِذَا قَالَ: (سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ). فَقُوْلُوْا: (اَللَّهُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ). يَسْمَعُ اللهُ لَکُمْ. فَإِنَّ اللهَ عزوجل قَالَ: عَلَي لِسَانِ نَبِيِهِ ﷺ: (سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ). وَإِذَا کَبَّرَ وَسَجَدَ فَکَبِّرُوْا وَاسْجُدُوْا. فَإِنَّ الإِمَامَ يَسْجُدُ قَبْلَکُمْ. فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: فَتِلْکَ بِتِلْکَ. وَإِذَا کَانَ عِنْدَ الْقَعْدَةِ فَلْيَکُنْ مِنْ أَوَّلِ قَوْلِ أَحَدِکُمْ: (التَّحِيَاتُ الطَّيِبَّاتُ الصَّلَوَاتُ لِلهِ . السَّلَامُ عَلَيْکَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَکَاتُهُ. السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَي عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِيْنَ. أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُوْلُهُ). رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَابْنُ حِبَّانَ.

الحديث رقم 32: أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب: الصلاة، باب: التشهد في الصلاة، 1 / 303، 304، الرقم: 404، وابن حبان في الصحيح، 5 / 541، الرقم: 2167، والدارمي في السنن، 1 / 363، الرقم: 1358.

’’حضرت حطّان بن عبداللہ رقاشی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ کے ساتھ نماز پڑھی، جب وہ قعدہ کے قریب تھے تو ایک شخص نے کہا: یہ نماز نیکی اور پاکیزگی کے ساتھ پڑھی گئی ہے، جب وہ نماز سے فارغ ہو گئے تو انہوں نے مڑ کر دیکھا اور پوچھا تم میں سے کس نے یہ بات کی تھی؟ سب خاموش رہے، انھوں نے پھر دوبارہ پوچھا کہ تم میں سے کس نے یہ بات کہی تھی؟ سب خاموش رہے، کہ آپ میری پٹائی کریں گے (یا ناراض ہوں گے) اس موقع پر حضرت موسیٰ نے مجھ سے کہا: اے حطّان! شاید تم نے یہ کلمہ کہا ہے؟ میں نے کہا: میں نے نہیں کہا، مجھے تو آپ کا ڈر تھا، پھر لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا: میں نے یہ کلمہ کہا تھا اور میری نیت سوائے بھلائی کے اور کچھ نہ تھی، حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا تم نہیں جانتے نماز میں کیا کہنا چاہیے؟ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطبہ دیا اور ہمیں نماز کا مکمل طریقہ بتلا دیا، آپ ﷺ نے فرمایا: جب تم نماز پڑھنے لگو تو سب سے پہلے اپنی صفیں درست کرو پھر تم میں سے کوئی شخص امامت کرے جب امام تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو۔ جب وہ (غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ) کہے تو تم آمین کہو، اللہتعالیٰ تمہاری اس دعا کو قبول فرمائے گا، پھر جب وہ تکبیر کہہ کر رکوع کرے تو تم بھی تکبیر کہہ کر رکوع کرو، امام تم سے پہلے رکوع کرے گا اور تم سے پہلے رکوع سے سر اٹھائے گا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس طرح تمہارا عمل اس کے مقابلے میں ہو جائے گا اور جب امام (سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدْهُ) کہے تو تم (اَللّٰهُمَّ رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ) کہو۔ اللہتعالیٰ تمہارا قول سنتا ہے اور تمہارے نبی کی زبان پر اللہتعالیٰ نے (سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ) جاری کردیا، پھر جب امام تکبیر کہہ کر سجدہ کرے تو تم بھی تکبیر کہہ کر سجدہ کرو، امام تم سے پہلے سجدہ کرے گا اور تم سے پہلے سجدہ سے سر اٹھائے گا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہارا یہ عمل امام کے مقابلہ میں ہو گا اور جب امام قعدہ میں بیٹھ جائے تو تم سب سے پہلے یہ کلمات: (التَّحِيَاتُ الطَّيِبَّاتُ الصَّلَوَاتُ لِلهِ . السَّلَامُ عَلَيْکَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَکَاتُهُ. السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَی عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِيْنَ. أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُوْلُهُ) پڑھو۔‘‘

267 / 33. عَنْ قَتَادَةَ رضي الله عنه (مِنَ الزِّيَادَةِ): وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوْا. (وفي حديث) أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه: وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوْا.

أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ وَقَالَ: هُوَ عِنْدِي صَحِيْحٌ.

الحديث رقم 33: أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب: الصلاة، باب: التشهد في الصلاة، 1 / 304، الرقم: 404، والبيهقي في السنن الکبري، 2 / 155، الرقم: 2709.

’’حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی روایت میں یہ الفاظ زیادہ ہیں: جب امام قراءت کرے تو تم خاموش رہو۔ اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں بھی یہ الفاظ ہیں: اور جب امام قراءت کرے تو تم خاموش رہو۔‘‘

امام مسلم نے فرمایا کہ یہ روایت میرے نزدیک صحیح ہے۔

268 / 34. عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ وَهْبِ بْنِ کَيْسَانَ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ رضي اللہ عنهما يَقُوْلُ: مَنْ صَلَّي رَکْعَةً لَمْ يَقْرَأْ فِيْهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَلَمْ يُصَلِّ اِلَّا أَنْ يَکُوْنَ وَرَاءَ الإِمَامِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَمَالِکٌ.

وَقَالَ أَبُوْعِيْسَي: هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ.

الحديث رقم 34: أخرجه الترمذي في السنن، کتاب: الصلاة عن رسول اللہ ﷺ، باب: ما جاء في ترک القراءة خلف الإمام إذا جهر الإمام بالقراءة، 1 / 346، 347، الرقم: 312، 313، ومالک في الموطأ، کتاب: الصلاة، باب: ما جاء في القرآن، 1 / 84، الرقم: 187، وعبد الرزاق في المصنف، 2 / 121، الرقم: 2745، وابن أبي شيبة في المصنف، 1 / 317، الرقم: 3621، والبيهقي في السنن الکبري، 2 / 160، الرقم: 2725، والطحاوي في شرح معاني الآثار، 1 / 282، الرقم: 1265.

’’حضرت ابونعیم وہب بن کیسان سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنھما کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس نے کوئی رکعت پڑھی اور اس میں سورہ فاتحہ نہیں پڑھی تو گویا اس نے نماز ہی نہیں پڑھی، سوائے اس کے کہ وہ امام کے پیچھے ہو۔‘‘

269 / 35. عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رضي الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ صَلَّي الظُّهْرَ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَرَأَ خَلْفَهُ: (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْأَعْلَي)، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ: أَيُّکُمْ قَرَأَ؟ قَالُوْا: رَجُلٌ، قَالَ: قَدْ عَرَفْتُ أَنَّ بَعْضَکُمْ خَالَجَنِيْهَا.

رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ.

الحديث رقم 35: أخرجه أبوداود في السنن، کتاب: الصلاة، باب: من رأي الفداء ة إِذا لم يجهر، 1 / 219، الرقم: 828.

’’حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے ظہر کی نماز پڑھائی۔ ایک شخص آیا اور اس نے آپ ﷺ کے پیچھے سورت: (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى) پڑھی۔ جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: تم میں سے قراءت کس نے کی؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے عرض کیا: ایک آدمی نے۔ فرمایا: میں جان گیا تھا کہ تم میں سے کوئی مجھ سے جھگڑ رہا ہے۔‘‘

270 / 36. عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رضي الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ صَلَّي بِهِمُ الظُّهْرَ فَلَمَّا انْفَتَلَ قَالَ: أَيُّکُمْ قَرَأَ: (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْأَعْلَي)؟ فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا. فَقَالَ: عَلِمْتُ أَنَّ بَعْضَکُمْ خَالَجَنِيهَا. رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ.

الحديث رقم 36: أخرجه أبوداود في السنن، کتاب: الصلاة، باب: من رأي القراءة إذا لم يجهر، 1 / 219، الرقم: 829.

’’حضرت عمران بن حُصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے انہیں نماز پڑھائی۔ جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: تم میں سے سورہء: (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى) کس نے پڑھی؟ ایک آدمی نے عرض کیا: میں نے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: میں جان گیا تھا کہ تم میں سے کوئی مجھ سے جھگڑ رہا ہے۔‘‘

271 / 37. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ انْصَرَفَ مِنْ صَلَاةٍ جَهَرَ فِيْهَا بِالْقِرَاءَةِ، فَقَالَ: هَلْ قَرَأَ مَعِي أَحَدٌ مِنْکُمْ آنِفاً؟ فَقَالَ رَجُلٌ: نَعَمْ، يَا رَسُوْلَ اللهِ! قَالَ: إِنِّي أَقُوْلُ مَالِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ. قَالَ: فَانْتَهَي النَّاسُ عَنِ الْقِرَاءَةِ مَعَ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ فِيْمَا جَهَرَ فِيْهِ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ مِنَ الصَّلَوَاتِ بِالْقِرَاءَةِ، حِيْنَ سَمِعُوْا ذَلِکَ مِنْ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَه وَمَالِکٌ.

وَقَالَ أَبُوْعِيْسَي: هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ.

الحديث رقم 37: أخرجه الترمذي في السنن، کتاب: الصلاة عن رسول اللہ ﷺ، باب: ما جاء في ترک القراءة خلف الإمام إذا جهر الإمام بالقراءة، 1 / 344، 345، الرقم: 312، وأبوداود في السنن، کتاب: الصلاة، باب: من کره القراءة بفاتحة الکتاب إذا جهر الإمام، 1 / 313، الرقم: 826، والنسائي في السنن، کتاب: الافتتاح، باب: ترک القراءة خلف الإمام فيما جهر به، 2 / 103، الرقم: 919، وابن ماجه في السنن، کتاب: إقامة الصلاة والسنة فيها، باب: إذا قرأ الإمام فأنصتوا، 1 / 459، الرقم: 848، ومالک في الموطأ، کتاب: الصلاة، باب: ترک القراءة خلف الإمام فيما الرجعة فيه، 1 / 86، الرقم: 193، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 / 240، 284، 285، 301، 487، والطحاوي في شرح معاني الآثار، 1 / 280، 281، الرقم: 1255.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے ایک جہری نماز سے فارغ ہوکر فرمایا: کیا تم میں سے کسی نے اب میرے ساتھ قراءت کی تھی؟ ایک شخص نے عرض کیا: جی ہاں! یا رسول اللہ! آپ ﷺ نے فرمایا: میں بھی کہہ رہا تھا کہ کیا ہوگیا ہے کہ مجھ سے قرآن میں جھگڑاکیا جا رہا ہے راوی بیان کرتے ہیں کہ یہ سننے کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنھم حضور نبی اکرم ﷺ کے ساتھ جہری نمازوں میں قراءت سے رک گئے تھے۔‘‘

272 / 38. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا کَبَّرَ فَکَبِّرُوْا وَ إِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوْا.

رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه وَأَبُوْدَاوُدَ وَأَحْمَدُ.

هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ.

الحديث رقم 38: أخرجه ابن ماجه في السنن، کتاب: إقامة الصلاة والسنة فيها، باب: إذا قرأ الإمام فأنصتوا، 1 / 458، الرقم: 846، وأبوداود في السنن، کتاب: الصلاة، باب: الإمام يصلي من قعود، 1 / 237، الرقم: 604، والنسائي في السنن الکبري، 1 / 320، الرقم: 993، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 / 376، 420، وابن أبي شيبة في المصنف، 1 / 331، الرقم: 3799، 2 / 115، الرقم: 7137، والطحاوي في شرح معاني الآثار، 1 / 281، الرقم: 1257.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: امام اسی لیے بنایا جاتا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، جب وہ اللہ اکبر کہے تو تم لوگ بھی اللہ اکبر کہو، اور جب قراءت کرے تو چپ رہو۔‘‘

273 / 39. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا کَبَّرَ فَکَبِّرُوْا، وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا، وَإِذَا قَالَ: (سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ) فَقُوْلُوْا: (اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ).

رَوَاهُ النَّسَائِيُّ.

الحديث رقم 39: أخرجه النسائي في السنن، کتاب: الافتتاح، باب: تأويل قولهل: وإذا قريء القرآن فاستمعوا له وأنصتوا لعلکم ترحمون، 2 / 141، الرقم: 921.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: امام اسی لئے بنایا جاتا ہے کہ اُس کی پیروی کی جائے۔ جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو اور جب وہ قراءت کرے تو تم خاموش رہو اور جب وہ (سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ) کہے تو تم (اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ) کہو۔‘‘

274 / 40. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ انْصَرَفَ مِنْ صَلَاةٍ جَهَرَ فِيْهَا بِالْقِرَاءَةِ. فَقَالَ: هَلْ قَرَأَ مَعِيَ اَحَدُکُمْ اٰنِفًا؟ قَالَ رَجُلٌ: نَعَمْ، يَا رَسُوْلَ اللهِ! قَالَ: إِنِّي أَقَوْلُ مَالِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ، فَانْتَهَي النَّاسُ عَنِ الْقِرَاءَةِ فِيْمَا جَهَرَ فِيْهِ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ بِالْقِرَاءَةِ مِنَ الصَّلَاةِ حِيْنَ سَمِعُوْا ذَلِکَ. رَوَاهُ النَّسَائِيُّ.

الحديث رقم 40: أخرجه النسائي في السنن، کتاب: الافتتاح، باب: قراءة أم القرآن خلف الإمام فيما جهر به الإمام، 2 / 140، الرقم: 919.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور سرورِ کائنات ﷺ ایک ایسی نماز سے فارغ ہوئے جس میں آپ ﷺ نے بلند آواز سے قرات فرمائی تھی۔ تو آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: کیا تم میں سے اب کسی شخص نے میرے ساتھ قرآن پڑھا؟ ایک شخض نے کہا: جی ہاں! یا رسول اللہ! میں نے پڑھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اسی لیے تو میں بھی کہہ رہا تھا کیا ہو گیا ہے کہ کوئی شخص مجھ سے قرآن میں جھگڑ رہا ہے۔ جب سے لوگوں نے یہ سنا تو جس نماز میں آپ ﷺ بآواز بلند قراءت فرماتے تھے کوئی شخص آپ ﷺ کے پیچھے قراءت نہ کرتا۔‘‘

275 / 41. عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رضي الله عنه قَالَ: صَلَّي النَّبِيُّ ﷺ الظُّهْرَ فَقَرأَ رَجُلٌ خَلْفَهُ: (سَبِّحْ اسْمَ رَبِّکَ الْأَعْلَي) فَلَمَّا صَلَّي قَالَ: مَنْ قَرَأَ: (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْأَعْلىٰ)؟ قَالَ رَجُلٌ: أَنَا. قَالَ: قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ بَعْضَکُمْ قَدْ خَالَجَنِيْهَا. رَوَاهُ النَّسَائِيُّ وَالطَّحَاوِيُّ.

الحديث رقم 41: أخرجه النسائي في السنن، کتاب: الافتتاح، باب: ترک القراءة خلف الإمام فيما لم جهر به، 2 / 141، الرقم: 917، والطحاوي في شرح معاني الآثار، 1 / 207.

’’حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور سرکارِ دوعالم ﷺ نے نمازِ ظہر ادا فرمائی ایک شخص نے آپ ﷺ کے پیچھے (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى) پڑھا۔ جب آپ ﷺ نماز ادا فرما چکے تو آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: اس سورۂ کو کس شخص نے پڑھا، ایک شخص نے عرض کیا: میں نے! آپ ﷺ نے فرمایا: مجھے ایسا معلوم ہوا گویا کوئی شخص مجھ سے قرآن میں جھگڑ رہا ہے۔‘‘

276 / 42. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِذَا کَبَّرَ فَکَبِّرُوْا. وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوْا. وَإِذَا قَالَ: (غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّيْنَ)، فَقُوْلُوْا: (آمِينَ). وَإِذَا رَکَعَ فَارْکَعُوْا. وَإِذَا قَالَ: (سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ)، فَقُوْلُوْا: (اَللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ). وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجَدُوْا. وَإِذَا صَلَّي جَالِسَاً فَصَلُّوْا جُلُوْسًا أَجْمَعِيْنَ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه.

الحديث رقم 42: أخرجه ابن ماجه في السنن، کتاب: إقامة الصلاة والسنة فيها، باب: إذا قرأ الإمام فأنصتوا، 1 / 276، الرقم: 846.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: امام اس لیے ہوتا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے۔ جب وہ (اللہ اکبر) کہے تو تم (اللہ اکبر) کہو جب وہ قراءت کرے تو خاموش رہو جب وہ (ولاالضالین) کہے تو تم (آمین) کہو جب وہ رکوع کرے تم رکوع کرو جب وہ (سمع اللہ لمن حمدہ) کہے تو تم (اللھم ربنا ولک الحمد) کہو جب وہ سجدہ کرے تو تم سجدہ کرو، اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھائے تو تم سب بیٹھ کر نماز پڑھو۔‘‘

277 / 43. عَنْ أَبِي مُوْسَى الْأَشْعَرِيِّ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: إِذَا قَرَأَ الإِمَامُ فَأَنْصِتُوْا، فَإِذَا کَانَ عِنْدَ الْقَعْدَةِ فَلْيَکُنْ أَوَّلَ ذِکْرِأَحَدِکُمُ التَّشَهُدُ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه.

الحديث رقم 43: أخرجه ابن ماجه في السنن، کتاب: إقامة الصلاة والسنة فيها، باب: إذا قرأ الإمام فأنصتوا، 1 / 276، الرقم: 847.

’’حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب امام قراءت کرے تو تم خاموش رہو، اور جب وہ قعدہ میں ہو تو تم پہلے التحیات پڑھا کرو۔‘‘

278 / 44. عَنْ نَافِعٍ رضي الله عنه أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ رضي اللہ عنهما کَانَ إِذَا سُئِلَ: هَلْ يَقْرَأُ أَحَدٌ خَلْفَ الإِمَامِ. قَالَ: إِذَا صَلَّي أَحْدُکُمْ خَلْفَ الإِمَامِ فَحَسْبُهُ قِرَاءَةُ الإِمَامِ، وَ إِذَا صَلَّي وَحْدَهُ فَلْيَقْرَأْ. قَالَ: وَکَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ رضي اللہ عنهما لَا يَقْرَأُ خَلْفَ الإِمَامِ. رَوَاهُ مَالِکٌ وَالطَّحَاوِيُّ.

الحديث رقم 44: أخرجه مالک في الموطأ، کتاب: النداء بالصلاة، باب: القراءة خلف الإمام فيما لايجهرفيه بالقراءة، 1 / 86، الرقم: 192، والطحاوي في شرح معاني الآثار، 1 / 284، الرقم: 1283.

’’حضرت نافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے جب مقتدی کی قرات کے بارے میں سوال کیا گیا کہ کیا مقتدی بھی امام کے پیچھے قراءت کرے گا؟ تو اُنہوں نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی امام کے پیچھے نماز پڑھے تو اسے امام کی قراءت کافی ہے اور جب اکیلا پڑھے تو خود قراءت کرے۔ نافع فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما خود بھی امام کے پیچھے قراءت نہیں کرتے تھے۔‘‘

279 / 45. عَنْ أَبِي مُوْسَى رضي الله عنه، قَالَ: عَلَّمَنَا رَسُوْلُ اللهِ ﷺ، قَالَ: إِذَا قُمْتُمْ إِلىٰ الصَّلَاةِ فَلْيَؤُمَّکُمْ أَحَدُکُمْ، وَ إِذَا قَرَأَ الإِمَامُ فَأَنْصِتُوْا.

رَوَاهُ أَحْمَدُ.

الحديث رقم 45: أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 4 / 415.

’’حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے ہمیں تعلیم دیتے ہوئے فرمایا: جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو کوئی ایک تمہارا امام بن جائے اور جب اِمام قراءت کرے تو تم خاموش رہا کرو۔‘‘

280 / 46. عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ رضي الله عنه، قَالَ: نَهَي رَسُوْلُ اللهِ ﷺ عَنِ الْقِرَاءَةِ خَلْفَ الإِمَامِ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَشْيَاخُنَا أَنَّ عَلِيًا رضي الله عنه قَالَ: مَنْ قَرَأَ خَلْفَ الإِمَامِ فَلَا صَلَاةَ لَهُ. قَالَ: وَأَخْبَرَنِي مُوْسَى بْنُ عُقْبَةَ رضي الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ وَأَبَابَکْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ رضي الله عنهم کَانُوْا يَنْهَوْنَ عَنِ الْقِرَاءَةِ خَلْفَ الإِمَامِ. رَوَاهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ.

الحديث رقم 46: أخرجه عبد الرزاق في المصنف، 2 / 139، الرقم: 2810، والإمام محمد في الموطأ، باب: القراءة في الصلوة خلف الإمام، 1 / 98.

’’حضرت زید بن اسلم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ امام کی اقتداء میں قراءت کرنے سے منع فرمایا کرتے تھے، اور ہمارے مشائخ نے مجھے بتایا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اُس شخص کی نماز ہی نہیں جو امام کی اقتداء میں قراءت کرے اور حضرت موسیٰ بن عقبہ رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا ہے کہ رسول اللہ ﷺ، حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنھم امام کے پیچھے قراءت کرنے سے منع فرمایا کرتے تھے۔‘‘

281 / 47. عَنْ أَبِي وَائِلٍ رضي الله عنه قَالَ: سُئِلَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُوْدٍ رضي الله عنه عَنِ الْقِرَاءَةِ خَلْفَ الإِمَامِ. قَالَ: أَنْصِتْ فَإِنَّ فِي الصَّلَاةِ شُغْلاً سَيَکْفِيْکَ ذَاکَ الإِمَامُ. رَوَاهُ الإِمَامُ مُحَمَّدٍ فِي الْمُوَطَأ.

الحديث رقم 47: أخرجه الإمام محمد في الموطأ، باب: القراءة في الصلاة خلف الإمام: 96، والطحاوي في شرح معاني الآثار، 1 / 284، الرقم: 1273.

’’حضرت ابووائل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے امام کی اقتداء میں قراءت کرنے کے بارے میں پوچھا گیا، تو انہوں نے فرمایا: خاموش رہو کہ نماز میں مصروفیت ہے تجھے امام اس (قراءت) کی کفایت کر دے گا۔‘‘

282 / 48. عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ: أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُوْدٍ رضي الله عنه کَانَ لَا يَقْرَأُ خَلْفَ الإِمَامِ، فِيْمَا يَجْهَرُ فِيْهِ وَ فِيْمَا يُخَافِتُ فِيْهِ.

رَوَاهُ الإِمَامُ مُحَمَّدٍ فِي الْمُوَطَّأ.

الحديث رقم 48: أخرجه الإمام محمد في الموطأ، باب: القراءة في الصلاة خلف الإمام: 96.

’’حضرت علقمہ بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جہری (جن میں آواز سے قراءۃ ہوتی ہے) اور سری (جن میں قراءۃ آہستہ ہوتی ہے) دونوں طرح کی نمازوں میں امام کے پیچھے قراءت نہیں کرتے تھے۔‘‘

283 / 49. أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ الْقَيْسِ الْفَرَّاءُ الْمَدَنِيُّ أَخْبَرَنِي بَعْضُ وَلَدِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رضي الله عنه أَنَّهُ ذُکِرَ لَهُ أَنَّ سَعْدًا قَالَ: وَدِدْتُ أَنَّ الَّذِي يَقْرَءُ خَلْفَ الإِمَامِ فِي فِيْهِ جَمْرَةٌ. رَوَاهُ الإِمَامُ مُحَمَّدٍ فِي الْمُوَطَّأ.

الحديث رقم 49: أخرجه الإمام محمد في الموطأ، باب: القراءة في الصلاة خلف الإمام: 98.

’’داود بن قیس فراء مدنی کہتے ہیں کہ مجھے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے کسی نے بتایا کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: میں یہ پسند کرتا ہوں کہ جو شخص امام کے پیچھے قراءت کرے اس کے منہ میں انگارہ ہو۔‘‘

284 / 50. عَنْ عَبْدِ اللهِ بْن أَبِي لَيْلَي أَنَّ عَلِيًا رضي الله عنه کَانَ يَنْهَي عَنِ الْقِرَاءَةِ خَلْفَ الإِمَامِ. رَوَاهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ.

الحديث رقم 50: أخرجه عبد الرزاق في المصنف، 2 / 138، الرقم: 2805.

’’عبداللہ بن ابی لیلیٰ روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ امام کی اقتداء میں قراءت کرنے سے منع فرمایا کرتے تھے۔‘‘

285 / 51. عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُجْلَانَ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رضي الله عنه: وَدِدْتُ أَنَّ الَّذِي يَقْرَأُ خَلْفَ الإِمَامِ فِي فِيْهِ حَجْرٌ. رَوَاهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ.

الحديث رقم 51: أخرجه عبد الرزاق في المصنف، 2 / 138، الرقم: 2806.

’’امام محمد بن عجلان سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میری یہ خواہش ہے کہ جو شخص امام کے پیچھے قراءت کرے اس کے منہ میں پتھر ہو۔‘‘

286 / 52. عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، قَالَ: قَلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ رضي اللہ عنهما: أَقْرَأُ وَ الإِمَامُ بَيْنَ يَدَيَّ؟ قَالَ: لَا. رَوَاهُ الطَّحَاوِيُّ.

الحديث رقم 52: أخرجه الطحاوي في شرح معاني الآثار، 1 / 284، الرقم: 1282.

’’حضرت ابوحمزہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا: کیا میں قراءت کروں جبکہ امام میرے سامنے ہو؟ تو انہوں نے فرمایا: نہیں۔‘‘

فَصَلٌ فِي عَدْمِ الْجَهْرِ بِالتَّأْمِيْنِ

(بلند آواز سے آمین نہ کہنے کا بیان)

287 / 53. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ: إِذَا قَالَ الإِمَامُ: (غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّآلِّيْنَ) فَقُوْلُوْا: آمِيْنَ. فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ قَوْلُهُ قَوْلَ الْمَلَائِکَةِ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

الحديث رقم 53: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: صفة الصلاة، باب: جهر المأموم بالتأمين، 1 / 271، الرقم: 749، ومسلم في الصحيح، کتاب: الصلاة، باب: التسميع والتحميد والتأمين، 1 / 307، الرقم: 410، وأبوداود في السنن، کتاب: الصلاة، باب: التأمين وراء الإمام، 1 / 354، الرقم: 935، والنسائي في السنن، کتاب: الافتتاح، باب: جهر الإمام بآمين، وباب: الأمر بالتأمين خلف الإمام، 2 / 105، الرقم: 927، 929، وابن حبان في الصحيح، 5 / 106، الرقم: 1804، والحاکم في المستدرک، 1 / 340، الرقم: 797.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب اِمام (غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ) کہے تو تم کہو: آمین۔ جس کا کہنا فرشتوں کے کہنے کے موافق ہوگیا تو اس کے سابقہ گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔‘‘

288 / 54. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ يُعَلِّمُنَا، يَقُوْلُ: لَا تُبَادِرُوا الإِْمَامَ. إِذَا کَبَّرَ فَکَبِّرُوْا. وَإِذَا قَالَ: (وَلَا الضَّالِّيْنَ)، فَقُوْلُوْا: (آمِيْنَ). وَإِذَا رَکَعَ فَارْکَعُوا. وَإِذَا قَالَ: (سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ)، فَقُوْلُوْا: (اَللَّهُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ). رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَابْنُ خُزَيْمَةَ.

الحديث رقم 54: أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب: الصلاة، باب: النهي عن مبادرة الإمام بالتکير وغيره، 1 / 310، الرقم: 415، وابن خزيمة في الصحيح، 3 / 34، الرقم: 1576، والبيهقي في السنن الکبري، 2 / 92، الرقم: 2424.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں تعلیم دیتے تھے کہ امام پر سبقت نہ کرو، جب امام تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو، اور جب وہ (وَلا الضَّالِّينَ) کہے تو تم آمین کہو، اور جب وہ رکوع کرے تو تم رکوع کرو اور جب وہ (سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ) کہے تو تم (اللّٰهُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ) کہو۔‘‘

289 / 55. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ: إِذَا قَالَ الْقَارِءُ: (غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّيْنَ) فَقَالَ مَنْ خَلْفَهُ: آمِيْنَ. فَوَافَقَ قَوْلُهُ قَوْلَ أَهْلِ السَّمَاءِ. غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

الحديث رقم 55: أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب: الصلاة، باب: التسميع والتحميد والتأمين، 1 / 307، الرقم: 410، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 / 449، الرقم: 9803، وأبوعوانة في المسند، 2 / 456، الرقم: 1689.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب امام (غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ(َ کہے اور اس کے پیچھے مقتدی آمین کہیں اور آمین پڑھنے والوں کا قول فرشتوں کے قول کے موافق ہو جائے تو نمازی کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔‘‘

290 / 56. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: إِذَا قَالَ الإِمَامُ: (غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّيْنَ) فَقُوْلُوْا: (آمِينَ)، فَإِنَّ الْمَ.لَاءِکَةَ تَقُوْلُ: (آمِيْنَ). وَإِنَّ الإِمَامَ يَقُوْلُ: (آمِيْنَ). فَمَنْ وَافَقَ تَأْمِيْنُهُ تَأْمِيْنَ الْمَلَائِکَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ. رَوَاهُ النَّسَائِيُّ.

الحديث رقم 56: أخرجه النسائي في السنن، کتاب: الافتتاح، باب: جهر الإمام بآمين، 1 / 144، الرقم: 927.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب امام (غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ) کہے تو تم آمین کہو۔ بے شک فرشتے بھی آمین کہتے ہیں اور امام بھی آمین کہتا ہے۔ تو جس کی آمین فرشتوں کی آمین کے ساتھ مل جائے گی اس کے سابقہ گناہ بخش دیئے جائیں گے۔‘‘

291 / 57. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ: إِذَا قَالَ الإِمَامُ: (غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّيْنَ)، فَقُوْلُوْا: (آمِيْنَ)، فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ قَوْلُهُ قَوْلَ الْمَلَائِکَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ.

رَوَاهُ النَّسَائِيُّ.

الحديث رقم 57: أخرجه النسائي في السنن، کتاب: الافتتاح، باب: الأمر بالتأمين خلف الإمام، 2 / 144، الرقم: 929.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب امام (غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ) کہہ چکے تو تم آمین کہو کیونکہ جس شخص کا آمین کہنا فرشتوں کے آمین کہنے کے موافق ہو جائے گا اس کے سابقہ گناہ معاف فرما دیئے جائیں گے۔‘‘

292 / 58. عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ رضي الله عنه قَالَ: سَمِعْتُ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَرَأَ: (غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّيْنَ) فَقَالَ: (آمِيْنَ)، وَخَفَضَ بِهَا صَوْتَهُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَحْمَدُ وَالْحَاکِمُ.

وَقَالَ أَبُوْعِيْسَي: هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ.

الحديث رقم 58: أخرجه الترمذي في السنن، کتاب: الصلاة عن رسول اللہ ﷺ، باب: ما جاء في التأمين، 1 / 289، الرقم: 248، وأحمد بن حنبل في المسند، 4 / 316، والحاکم في المستدرک، 2 / 253، الرقم: 2913، والطيالسي في المسند: 138، الرقم: 1024.

’’حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے (غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ) پڑھا تو کہا: آمین۔ اور آپ ﷺ نے آمین کی آواز کو پست کیا۔‘‘

293 / 59. عَنْ أَبِي وَائِلٍ رضي الله عنه، قَالَ: کَانَ عَلِيٌّ وَابْنُ مَسْعُوْدٍ رضي اللہ عنهما لَا يَجْهَرَانِ بِ (بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ)، وَلَا بِالتَّعَوُّذِ، وَلَا بِ (آمِيْنَ). رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

الحديث رقم 59: أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 9 / 263، الرقم: 9304، والهيثمي في مجمع الزوائد، 2 / 108.

’’حضرت ابو وائل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی اور حضرت عبد اللہ بن مسعود رضي اللہ عنہما تسمیہ (بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ) ، تعوذ (أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ)، اور تامین (آمین) بلند آواز سے نہیں کہتے تھے۔‘‘

294 / 60. عَنْ إِبْرَاهِيْمَ رضي الله عنه قَالَ: خَمْسٌ يُخْفَيْنَ: (سُبْحَانَکَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِکَ)، وَالتَّعَوُّذَ، وَ (بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ)، وَ (آمِيْنَ)، وَ (اللَّهُمَّ! رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ). رَوَاهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ.

الحديث رقم 60: أخرجه عبد الرزاق في المصنف، 2 / 87، الرقم: 2597.

’’حضرت ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: پانچ چیزوں میں اِخفاء کیا جائے گا: ثناء (سُبْحَانَکَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِکَ) ، تعوذ (أَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ) ، تسمیہ (بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ) ، تامین (آمین) اور تحمید (اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ).‘‘

295 / 61. عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: کَانَ عُمَرُ وَعَلِيٌّ رضي اللہ عنهما لَا يَجْهَرَانِ بِ (بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ)، وَلَا بِالتَّعَوُّذِ، وَلَا بِالتَّأْمِيْنِ.

رَوَاهُ الطَّحَاوِيُّ.

الحديث رقم 61: أخرجه الطحاوي في شرح معاني الآثار، 1 / 263، الرقم: 1173.

’’حضرت ابووائل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر اور حضرت علی رضی اللہ عنہما تسمیہ (بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ) ، تعوذ (أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ) اور تامین (آمین) بلند آواز سے نہیں کہتے تھے۔‘‘

296 / 62. عَنْ إِبْرَاهِيْمَ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ رضي الله عنه: أَرْبَعٌ يُخْفَيْنَ عَنِ الإِمَامِ: التَّعَوُّذِ، وَبِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ، وَآمِيْنَ، وَاللَّهُمَّ! رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدَ. رَوَاهُ الْهِنْدِيُّ.

الحديث رقم 62: أخرجه الهندي في کنز العمال، 8 / 274، الرقم: 22894.

’’امام ابراہیم روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: چار چیزوں کو امام سے آہستہ کہا جائے گا: تعوذ (أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ)، تسمیہ (بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ) ، تامین (آمین) اور تحمید (اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ.‘‘

Copyrights © 2020 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved