عالم ارواح کا میثاق اور عظمت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

عالم ارواح کا میثاق

نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي وَنُسَلِّمُ عَلٰی سَيِّدِنَا وَمَوْلٰـنَا مُحَمَّدٍ رَّسُولِهِ النَّبِيِّ الْأَمِينِ الْمَکِينِ الْکَرِيْمِ الرَّؤُفِ الرَّحِيْمِ.

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوذُ بِاﷲِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِo
بِسْمِ اﷲِ الرَّحمٰنِ الرَّحِيمo

وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِن بَنِي آدَمَ مِن ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُواْ بَلَى شَهِدْنَا أَن تَقُولُواْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هَذَا غَافِلِينَ. صَدَقَ اﷲُ مَوْلٰـنَا الْعَظِيْم.

(الأعراف، 7 : 172)

اﷲ رب العزت کا شکر ہے، جس نے ہمیں اپنی خَلق کی سب سے بڑی نعمت حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ گرامی عطا کی اور ہمیں توفیق مرحمت فرمائی کہ ہم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ اقدس کے ساتھ اپنا رشتہ محبت، رشتہ اِتباع، رشتہ تعظیم اور رشتہ نصرت استوار کر سکیں۔ اور حضور علیہ الصلوۃ و السلام کی غلامی کی اس نسبت کے پیشِ نظر وہ عظیم شب عطا کی جو بارہ ربیع الاول کی شب میلادِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے تاکہ ہم روئے زمین پر آقا علیہ السلام کی ولادت کی خوشیاں منا سکیں، اور میلادِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ان خوشیوں کے ساتھ اپنی زندگی ظاہراً و باطناً حضور علیہ السلام کی غلامی، اطاعت اور اتباع میں گزار سکیں۔

عالمِ اَرواح کا میثاق

آج کی اس مبارک رات کی مناسبت سے میں نے جس موضوع کا انتخاب کیا ہے وہ ’’عالم اَرواح کا میثاق’’ ہے۔ میثاق سے مراد وہ عہد، پختہ وعدہ اور حلف ہے جو اﷲ تبارک و تعاليٰ نے اپنی مخلوق میں سے کبھی تمام افراد کی اَرواح سے اور کبھی صرف انبیاے کرام اور رُسل عظام کی اَرواح سے لیا۔

عالمِ اَرواح میں تین میثاق ہوئے تھے۔ ان میں سے ایک میثاق وہ ہے جس کا ذکر سورۃ الاعراف کی آیت نمبر 172 میں یوں کیا گیاہے :

وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِن بَنِي آدَمَ مِن ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُواْ بَلَى شَهِدْنَا أَن تَقُولُواْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هَذَا غَافِلِينَ.

’’اور (یاد کیجئے!) جب آپ کے رب نے اولادِ آدم کی پشتوں سے ان کی نسل نکالی اور ان کو انہی کی جانوں پر گواہ بنایا (اور فرمایا : ) کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ وہ (سب) بول اٹھے : کیوں نہیں؟ (تو ہی ہمارا رب ہے، ) ہم گواہی دیتے ہیں تاکہ قیامت کے دن یہ (نہ) کہو کہ ہم اس عہد سے بے خبر تھے۔‘‘

باقی دو کا ذکر اِن شاء اﷲ تعاليٰ ترتیب کے ساتھ آگے آئے گا۔ یہ تین میثاق جو اﷲ تبارک و تعالی نے عالم اَرواح میں لیے، کیا تھے؟

  1.  پہلا میثاق اللہ تبارک و تعالی نے تمام انسانوں کی روحوں سے اپنی توحید اور اُلوہیت کا لیا جس میں اللہ رب العزت نے ہر انسانی روح سے یہ عہد لیا کہ وہ اللہ تعاليٰ کو ایک مانے گا، اللہ تعاليٰ کی توحید پر ایمان لائے گا اور اُس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائے گا۔ اسے ’’میثاقِ اَلَسْت’’ بھی کہتے ہیں۔
  2. اس کے بعد دوسرا میثاق اللہ تبارک و تعاليٰ نے تمام انبیاء اور رسولوں کی روحوں سے لیا۔ یہ میثاقِ نبوت تھا، جو اِس اَمر کا اعلان تھا کہ تمہیں نبوت عطا کی جائے گی اور اپنی رسالت کا فریضہ ادا کرنے کے لیے تم اپنے اپنے وقت پر مبعوث کیے جاؤ گے اور تمہارے یہ فرائضِ نبوت و رسالت فروغِ دین کے لیے ہوں گے۔ جس طرح کسی شخص کو ایک عہدے پر فائز کیا جاتا ہے، تو اس appointment کے پہلے declaration کے طور پر ایک رسم حلف برداری (oath-taking ceremony) ہوتی ہے۔ اُسی طرح انبیاء کرام علیھم السلام کی حلف برداری کی یہ ایک روحانی تقریب (spiritual ceremony) تھی۔
  3. تیسرا میثاق بھی صرف انبیاء اور رُسل عظام علیھم السلام سے تھا اور وہ میثاق اُن سے نبوت و رسالتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لانے کا تھا۔ ہر نبی اور ہر رسول سے یہ وعدہ لیا گیا کہ وہ پیغمبر آخر الزماں سیدنا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت و رسالت پر ایمان لائیں گے اور ان کے پیغمبرانہ مشن کی مدد کریں گے۔

اَب ہم عالمِ اَرواح میں ہونے والے تینوں مواثیق کے مضامین کا تجزیہ کریں گے اور قرآن مجید اور حدیثِ مبارکہ کی روشنی میں اُن کا تقابلی مطالعہ اور باہمی موازنہ کریں گے۔

پہلا میثاق

پہلا میثاق اﷲ تبارک و تعاليٰ کا اپنی ذات، اپنی وحدانیت، اپنی توحید اور اپنی اُلوہیت کی نسبت سے تھا۔ اﷲ تبارک و تعاليٰ اپنی توحید کے لیے عہد لے رہا ہے کہ توحید پر ایمان لاؤ گے اور شرک نہیں کرو گے۔ اس کے لیے ارشاد فرمایا :

وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِن بَنِي آدَمَ مِن ظُهُورِهِمْ.

الأعراف، 7 : 172

’’اور (یاد کیجئے!) جب آپ کے رب نے اولادِ آدم کی پشتوں سے ان کی نسل نکالی۔‘‘

حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اور امام احمد بن حنبل نے بھی اپنی مسند میں روایت کیا ہے کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ یہ میثاق مقامِ عرفات میں لیا گیا۔ اُس وقت آدم علیہ السلام کی پشت مبارک سے تمام انسانوں کو جو قیامت تک اُن کی نسل سے اِس دنیا میں پیدا ہونے والے تھے روحوں کی شکل میں ان کے سامنے متشکل کیا گیا۔ اِرشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے :

أَخَذَ اﷲُ الْمِيثَاقَ مِنْ ظَهْرِ آدَمَ بِنَعْمَانَ يَعْنِي عَرَفَةَ، فَأَخْرَجَ مِنْ صُلْبِهِ کُلَّ ذُرِّيَّةٍ ذَرَأَهَا، فَنَثَرَهُمْ بَيْنَ يَدَيْهِ کَالذَّرِّ، ثُمَّ کَلَّمَهُمْ قِبَلًا.

احمد بن حنبل، المسند، 1 : 272

’’اللہ تعاليٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کی پشت (میں موجود انبیاء) سے مقامِ عرفہ پر میثاق لیا، پس آپ کی پشت سے تمام ذریت کو نکالا جسے اُس نے پیدا کیا تھا، پھر اُنہیں اپنے سامنے (سورج کی شعاعوں میں نظر آنے والے) ذرات کی شکل میں بکھیر دیا، پھر اُن کے ساتھ براہ راست کلام فرمایا۔‘‘

آدم علیہ السلام کی پشت سے ان تمام انسانوں کی روحوں کو نکالا گیا جو قیامت تک دنیا میں پیدا ہونے والے تھے اور اُنہیں روحوں کی شکل دے کر آدم علیہ السلام کے سامنے لایا گیا۔ پھر اﷲ تبارک و تعاليٰ نے آدم علیہ السلام کے سامنے اُن سب انسانی روحوں سے خطاب کیا اور فرمایا : اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ (کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں)؟ سب نے سر تسلیم خم کیا اور جواب دیا : بَلٰی (ہاں! باری تعاليٰ تو ہی ہمارا رب ہے)۔ جب سب نے اﷲ تبارک و تعاليٰ کی اُلوہیت، وحدانیت اور ربوبیت کا اقرار کر لیا تو آگے قرآن فرماتا ہے :

شَهِدْنَا أَن تَقُولُواْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هَذَا غَافِلِينَ.

الأعراف، 7 : 172

’’ہم گواہی دیتے ہیں تاکہ قیامت کے دن یہ (نہ) کہو کہ ہم اس عہد سے بے خبر تھےo‘‘

یہ عہد صرف انبیاء اور رسولوں سے نہیں تھا بلکہ پوری نسلِ بنی آدم اور تمام کائناتِ اِنسانی کے جملہ اَفراد سے تھا۔ جب انہوں نے قرار کر لیا تو حدیث میں آتا ہے کہ ملائکہ نے اس کے اوپر گواہی دی اور تمام فرشتوں کو اﷲ تبارک و تعاليٰ نے گواہ بنایا۔ (2) شَهِدْنَا کے کلمہ میں ملائکہ کی طرف اشارہ ہے کہ انہوں نے اﷲ تعاليٰ کی توحید اور ربوبیت کا اقرار کیا اور گواہ ہوگئے۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ اللہ تبارک و تعاليٰ نے پوری زمین و آسمان کو گواہ بنا دیا(3) تاکہ اپنے اپنے وقت پر جب یہ لوگ دُنیا میں پیدا ہو چکے ہوں گے، اور قوموں کی شکل میں موجود ہوں گے تب اللہ تبارک و تعاليٰ کے بھیجے ہوئے نبی اور رسول آئیں گے اور انہیں توحید کی دعوت دیں گے، تو ان میں سے بے شمار لوگ منکر ہوجائیں گے (جیسا کہ ہوتے رہے)۔ کئی ایمان لائیں گے اور کئی روحیں اپنا اقرار بھول جائیں گی۔ وہ کفر و شرک کریں گی، منکر ہو جائیں گی، انبیاء کو ردّ کریں گی، اُن کی دعوت قبول نہیں کریں گی۔ جب قیامت کے دن وہ اِس اَمر سے منکر ہوں گے تو اُن کے انکار کو ردّ کرنے کے لیے یہ گواہی دلوائی تاکہ وہ یہ نہ کہ سکیں کہ ہمیں اس کا پتہ ہی نہیں تھا۔

  1. طبری، جامع البيان فی تفسير القرآن، 9 : 113
  2. قرطبی، الجامع لأحکام القرآن، 7 : 318
  3. ابن کثير، تفسير القرآن العظيم، 2 : 262
  4. احمد بن حنبل، المسند، 1 : 127

امام احمد بن حنبل نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے یہ روایت بیان کی کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہ جو گواہی لی گئی، وہ یہ تھی کہ اﷲتعاليٰ فرمائے گا : اَلَّا تُشْرِکَ بِي شَيْئًا کہ اے انسان! تو میرے ساتھ، میری وحدانیت پر ایمان رکھے گا اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائے گا۔

احمد بن حنبل، المسند، 1 : 127

یہی مضمون حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے حضرت سعید بن جُبیر کے طریق پر مروی ہے۔ (1) یہی مضمون بخاری اور مسلم، دونوں کتبِ حدیث میں وارِد ہوا ہے۔ (2) پھر یہی مضمون امام نسائی نے السنن کی کتابُ التفسير میں روایت کیا ہے کہ اللہ تبارک و تعاليٰ نے ہر روح سے اپنی توحید پر ایمان لانے اور شرک نہ کرنے کا عہد لیا تھا۔ امام ابن جریر، امام ابن ابی حاتم رازی اور حافظ ابن کثیر نے بھی اسی کو روایت کیا ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے یہ روایت کیا :

(1) احمد بن حنبل، المسند، 1 : 272
(2) 1. بخاری، الصحيح، کتاب الأنبياء، 3 : 1213، رقم : 3156
2. مسلم، الصحيح، کتاب صفة القيامة، 4 : 2160، رقم : 2805
3. نسائی، السنن الکبريٰ، 6 : 347، رقم : 11190

إن اﷲ مَسَحَ صُلْبَ آدمَ فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ کُلَّ نَسَمَةٍ هُوَ خَالِقُهَا إلٰی يَوْمِ الْقِيَامَةِ.

  1. طبری، جامع البيان فی تفسير القرآن، 9 : 112
  2. ابن ابی حاتم رازی، تفسير القرآن العظيم، 5 : 1612-1616
  3. ابن کثير، تفسير القرآن العظيم، 2 : 262

’’اللہ تعاليٰ نے جب آدم علیہ السلام کی صلب پر اپنا دستِ قدرت پھیرا، اور اُس سے ہر وہ جاندار نکال دیا جسے وہ قیامت کے دن تک آپ کی اولاد میں سے پیدا کرنے والا تھا۔‘‘

اسی طرح جامع ترمذی میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان اقدس ہے :

لَمَّا خَلَقَ اﷲُ آدَمَ مَسَحَ ظَهْرَهُ فَسَقَطَ مِنْ ظَهْرِهِ کُلُّ نَسَمَةٍ هُوَ خَالِقُهَا مِنْ ذُرِّيَّتِهِ إِلَی يَوْمِ الْقِيَامَةِ.

  1. ترمذی، الجامع الصحيح، أبواب التفسير، باب ومن سورة الاعراف، 5 : 267، رقم : 3076
  2. حاکم، المستدرک، 2 : 355، رقم : 3257

’’اللہ تعاليٰ نے جب آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا تو ان کی صلب پر اپنا دستِ قدرت پھیرا۔ چنانچہ آپ کی پشت سے ہر وہ جاندار گر پڑا جسے اللہ تعاليٰ نے قیامت کے دن تک آپ کی اولاد میں پیدا کرنا تھا۔o‘‘

یعنی قیامت تک جس جس روح اور جس جس وجودِ بشری کو اللہ تبارک و تعاليٰ دنیا میں پیدا کرنے والا تھا، اُسے صلبِ آدم سے نکالا اور بصورتِ روح متشکل کر کے تمام ارواح سے یہ عہد لیا کہ وہ سارے کے سارے لوگ صرف اللہ تعاليٰ کی عبادت کریں گے اور اللہ تعاليٰ کے ساتھ کسی اور کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔ اس پر حضرت عبد اللہ بن عَمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آقا علیہ السلام نے فرمایا : جب اَلَستُ بِرَبِّکُمْ کا جواب بَلٰی دے چکے اور اقرارِ توحید و اقرارِ ربوبیت کرچکے تو پھر فرشتوں نے اپنی زبان سے کہا :

شَهِدْنَاج اَنْ تَقُوْلُوْا يَوْمَ الْقِيٰمَةِ اِنَّا کُنَّا عَنْ هٰذَا غٰفِلِيْنَ.

الأعراف، 7 : 172

’’ہم گواہی دیتے ہیں تاکہ قیامت کے دن یہ (نہ) کہو کہ ہم اس عہد سے بے خبر تھےo‘‘

ابن کثير، تفسير القرآن العظيم، 2 : 262

اب یہی مضمون حضرت سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔ تفصیل کے ساتھ اِس کا بیان ’’سنن ابی داؤد‘‘ میں بھی آیا ہے، (1) اور ’’جامع ترمذی‘‘ میں بھی ہے۔ (2) امام مالک بن انس رضی اللہ عنہ کے طریق سے بھی یہ مضمون بیان ہوا ہے(3)، اِس کو امام ابن ابی حاتم نے بھی روایت کیا ہے۔ (4) یعنی تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جہاں اِس مضمون کو بیان کیا وہ ایک ہی مضمون ہے کہ یہ میثاقِ توحید تھا اور اِس پر ملائکہ کی گواہی تھی۔ حضرت ابوجعفر الرازی نے اِس کو حضرت ابو العالیہ کے طریق سے، حضرت اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، ان کا مضمون بھی یہی ہے۔ اِن کے مضمون میں زمین و آسمان کی گواہی کا بھی ذکر آیا ہے۔ ارشاد فرمایا :

(1) أبو داود، السنن، کتاب السنة، باب فی القدر، 4 : 226، رقم : 4703
(2) ترمذی، الجامع الصحيح، أبواب التفسير، 5 : 266، رقم : 3075
(3) مالک بن أنس، المؤطا، کتاب القدر، 2 : 898، رقم : 1593
(4) ابن ابی حاتم رازی، تفسير القرآن العظيم، 5 : 1612، رقم : 8527

جَمَعَهُمْ لَهُ يَوْمَئِذٍ جَمِيْعاً مَا هُوَ کَائِنٌ مِنْهُ إِلٰی يَوْمِ الْقِيَامَةِ، فَجَعَلَهُمْ أرْوَاحاً، ثُمَّ صَوَّرَهُمْ، واسْتَنْطَقَهُمْ فَتَکَلَّمُوْا، وَأخَذَ عَلَيْهِمُ الْعَهْد وَالْمِيْثَاق مَا هُوَ کَائِنٌ مِنْهُ إِلٰی يَوْمِ الْقِيَامَةِ.

حاکم، المستدرک، 2 : 353، رقم : 3255

’’اللہ تبارک و تعاليٰ نے اپنے لیے اُس دن اُن تمام (اَرواح) کو جمع کیا جو نسل بنی آدم سے قیامت کے دن تک دنیا میں پیدا ہونے والے تھے۔ پھر اللہ تبارک و تعاليٰ نے ان سب کو روحوں کی شکل میں متشکل کیا اور ان کو قوتِ گویائی عطا کی، پھر وہ اﷲ تبارک و تعاليٰ سے کلام کرنے لگے تو اللہ تبارک و تعاليٰ نے ان سے عہد اور میثاق لیا، جو کہ قیامت تک باقی رہنے والا ہے، کہ میرے سوا کوئی معبود اور رب نہیں ہے، اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراؤ گے۔‘‘ ایک حدیث میں ہے کہ اِس کے اوپر اللہ تبارک وتعاليٰ نے فرمایا : میں ساتوں آسمانوں اور زمینوں کو تمہارے اوپر گواہ بناتا ہوں۔ (1) تو زمین و آسمان نے اپنی زبانِ حال سے اس پر گواہی دی۔

(1) احمد بن حنبل، المسند، 5 : 135

دوسرا میثاق : اَنبیاء کرام علیھم السلام سے پہلا میثاقِ نبوت

اب آتے ہیں دوسرے میثاق کی طرف جو کہ میثاقِ نبوت ہے۔ یہ میثاق صرف انبیاء علیھم السلام سے لیا گیا۔ اس لیے کہا گیا کہ یہ ان کی رسم حلفِ براداری (oath-taking ceremony) تھی۔ اﷲ رب العزت کا جن جن کو نبوت و رسالت کے اعزاز سے بہرہ یاب کرنے کا ارادہ اور اَمر ہو گیا تھا، ان انبیاء کی ارواح کو جمع کیا اور ان سے جو عہد و میثاق لیا وہ بشکل حلفِ نبوت تھا کہ تمہیں نبوت و رسالت سے سرفراز کروں گا اور تم نے اپنی نبوت و رسالت کے یہ فرائض ادا کرنے ہیں۔ اس میثاق کا ذکر سورہ احزاب کی آیت نمبر 7 اور 8 میں یوں ہوا ہے :

 وَإِذْ أَخَذْنَا مِنَ النَّبِيِّينَ مِيثَاقَهُمْ وَمِنكَ وَمِن نُّوحٍ وَإِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ وَأَخَذْنَا مِنْهُم مِّيثَاقًا غَلِيظًاo لِّيَسْأَلَ الصَّادِقِينَ عَن صِدْقِهِمْ وَأَعَدَّ لِلْكَافِرِينَ عَذَابًا أَلِيمًا.

الأحزاب، 33 : 7، 8

’’اور (اے حبیب! یاد کیجئے) جب ہم نے انبیاء سے اُن (کی تبلیغِ رسالت) کا عہد لیا اور (خصوصاً) آپ سے اور نوح سے اور ابراہیم سے اور موسيٰ سے اور عیسٰی ابن مریم (علیھم السلام) سے اور ہم نے اُن سے نہایت پختہ عہد لیاo تاکہ (اللہ) سچوں سے اُن کے سچ کے بارے میں دریافت فرمائے اور اس نے کافروں کے لیے درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہےo‘‘

آغازِ آیت میں’’اِذْ’’ لانے کی معنوی اَہمیت

یہاں ایک عمومیت کی شق ہے۔ اجمالی طور پر فرمایا : ’’اور یاد کریں۔‘‘ ایک قاعدہ یاد رکھ لیں کہ قرآن مجید کا نزول حضور علیہ الصلوۃ والسلام پر ہوا ہے اور جبرائیل امین براہِ راست آقا علیہ السلام کے قلبِ اَطہر پر وحی قرآن لے کر نازل ہوئے جس کے مخاطب اوّلین آقا علیہ الصلوۃ والسلام ہیں۔ اور جب بھی قرآن مجید میں لفظ ’’اِذْ‘‘ آتا ہے تو اس سے قبل اُذْکُرْ محذوف ہوتا ہے۔ اس لیے آپ قرآن مجید کا جو ترجمہ بھی اٹھا کے دیکھیں تو اُس میں لکھا جائے گا : اور یاد کرو جب آپ کے رب نے یہ کہا۔ اور یاد کیجئے جب ہم نے انبیاء سے یہ میثاق یا یہ عہد لیا۔ اور یاد کیجئے جب آپ کے رب نے فرشتوں سے یہ کہا۔ اور یاد کیجئے جب بنی اسرائیل سے ہم نے یہ کہا۔ تو جب لفظ ’’اِذْ‘‘ آتا ہے تو اس کے ساتھ ’’یاد کیجئے‘‘ کا امر ہوتا ہے۔ مگر وہ عبارتاً نہیں معناً ہوتا ہے۔ تو گویا جہاں جہاں قرآن مجید میں کلمہ ’’اِذْ‘‘ کے ساتھ کوئی آیت شروع ہوئی ہے، وہاں بیان کیا جانے والا واقعہ اللہ تبارک و تعاليٰ نے حضور علیہ السلام سے یوں بیان کیا ہے : میرے حبیبِ مکرم! یاد کریں وہ وقت، وہ واقعہ جب یہ بات ہوئی۔ تو جب کسی کو یہ کہا جائے کہ یاد کریں وہ واقعہ۔ تو کیا جو شخص اُس واقعہ کے وقت موجود ہی نہ تھا! اُس کو کوئی کہہ سکتا ہے کہ یاد کریں وہ وقت؟ وہ کہے گا : میں کیا یاد کروں، میں تو موجود ہی نہیں تھا، مجھے تو علم ہی نہیں ہے۔ تو یاد وہ بات کرائی جاتی ہے جو پہلے سے اُس کے علم میں اور اُس کے سامنے رونما ہو چکی ہو، وہ شخص خواہ جسمانی طور پر موجود ہو یا روحانی اور علمی طور پر موجود ہو؛ یعنی باعتبارِ خبر یا باعتبارِ علم یا باعتبارِ آگاہی موجود ہو۔ قرآن مجید نے آدم علیہ السلام کی تخلیق پر بھی اِذْ کہا ہے :

وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلاَئِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً.

البقرة، 2 : 30

’’اور (وہ وقت یاد کریں) جب آپ کے رب نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں زمین میں اپنا نائب بنانے والا ہوں۔‘‘

اور جب انبیاء علیھم السلام کی روحوں سے میثاق لیا جا رہا تھا تو اس کا ذکر بھی اِذْ کے ساتھ کیا :

وَإِذْ أَخَذْنَا مِنَ النَّبِيِّينَ مِيثَاقَهُمْ.

الأحزاب، 33 : 7

’’اور (اے حبیب! یاد کیجئے) جب ہم نے انبیاء سے اُن (کی تبلیغ رسالت) کا عہد لیا۔‘‘

اِس کا مطلب یہ ہے کہ آقا علیہ الصلوۃ والسلام تخلیقِ آدم اور میثاقِ انبیاء سے بھی پہلے موجود تھے، خواہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وجود بشری شکل میں تھا یا روحانی شکل میں۔ اس لیے اﷲ تبارک و تعاليٰ جس زمانے کی بھی بات کرتا ہے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یاد دلا کر بات کرتا ہے۔

اِستفہامِ اِنکاری کا مرادی مفہوم

اِسی طرح قرآن حکیم میں کہیں صیغہ بدل جاتا ہے :

اَلَمْ تَرَ کَيْفَ فَعَلَ رَبُّکَ بِاَصْحٰبِ الْفِيْلِ.

الفيل، 105 : 1

’’(اے میرے حبیب!) کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ آپ کے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا سلوک کیا؟o‘‘

عربی لغت کی رُو سے جب لَمْ سے پہلے ہمزہ استفہامیہ آجائے تو وہ استفہامِ انکاری ہو جاتا ہے۔ اور لَمْ چونکہ انکار کے لیے ہوتا ہے، لہٰذا منفی اور منفی دونوں مل کے اِثبات ہو جاتا ہے، یعنی جب ہمزہ استفہامیہ لَمْ پر یا لَا پر آئے گا تو وہ استفہامِ انکاری بنے گا اور اُس کا معنی و مفہوم اور مراد اِثبات ہوتا ہے۔

تو جب اَلَمْ تَرَ کَيْفَ (کیا آپ نے نہیں دیکھا؟) کہا تو اُردو، انگلش اور دنیا کی ہر زبان میں یہی طریقہ ہے کہ ’’کیا آپ نے نہیں دیکھا؟‘‘ کا مطلب ہوتا ہے : آپ نے دیکھا ہے یعنی آپ جانتے ہیں کہ ابرہہ کا لشکر حملہ آور ہوا۔ آقا علیہ السلام کی ولادت سے پہلے جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رحم مادر میں ہیں، ابرہہ کا لشکر حملہ آور ہوتا ہے۔ لیکن حضور علیہ السلام کو دورانِ وحی اللہ تعالی فرما رہا ہے : میرے محبوب! کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ آپ کے رب نے ابرہہ کے ہاتھیوں کے ساتھ کیا حشر کیا تھا؟ اور حضور علیہ الصلوۃ والسلام کو ولادت سے پہلے کے واقعات اللہ تعاليٰ یاد دلا رہا ہے جس کا مطلب ہے : ’’ہاں آپ نے دیکھا ہے۔‘‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ولادت سے پہلے بھی دیکھتے تھے اور کائناتِ بشریت کے آغاز سے پہلے بھی اُن انبیاء علیھم السلام کے میثاق پر گواہ تھے۔ لہٰذا آقا علیہ الصلوۃ والسلام کی موجودگی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا علم اور آپ کی خبر سارے زمانوں کو محیط ہے۔ اِس لیے قرآن مجید نے یہ اُسلوبِ بے ساختہ متعدد مقامات پر اپنایا ہے۔

پانچ عظیم المرتبت انبیاء علیھم السلام

اللہ تبارک و تعاليٰ نے ارشاد فرمایا :

وَإِذْ أَخَذْنَا مِنَ النَّبِيِّينَ مِيثَاقَهُمْ.

الأحزاب، 33 : 7

’’اور (اے حبیب! یاد کیجئے) جب ہم نے انبیاء سے اُن (کی تبلیغِ رسالت) کا عہد لیا۔‘‘

یہ تو اجمالی بات تھی۔ اب ایک لاکھ چوبیس ہزار یا کم و بیش جتنے انبیاء علیہم السلام تھے ان تمام انبیاء کرام سے ’’میثاقِ نبوت’’ لیا مگر کم و بیش سوا لاکھ میں سے سب سے اونچے درجے کے اُولوا العزم انبیاء کرام پانچ ہیں۔ اللہ تبارک و تعاليٰ نے پوری کائناتِ نبوت میں سے پانچ انبیاء کرام کو سب سے بلند رُتبہ نبی قرار دیا ہے۔ اب اجمالی طور پہ سب انبیاء کرام علیہم السلام سے جو میثاق لیا اس کا ذکر کرنے کے بعد بطور خاص اُن پانچ انبیاء کرام کا نام لیا۔ آقا علیہ الصلوۃ والسلام سب سے آخر میں مبعوث ہوئے ہیں لیکن قرآن مجید اُس دن کے میثاقِ نبوت کی بات کرتے ہوئے عمومی ذکر کر کے خصوصی ذکر کی طرف آتا ہے۔ یعنی general clause کے بعد specific clause بیان فرمائی ہے۔ فرمایا : سب انبیاء کرام سے عہد لیا، کون کون؟ اُن میں سے چند ایک کا نام بتاتے ہیں :

وَمِنْکَ وَمِنْ نُّوحٍ وَّاِبْرٰهِيْمَ وَمُوْسٰی وَعِيْسَی ابْنِ مَرْيَمَ ص وَاَخَذْنَا مِنْهُمْ مِّيْثَاقًا غَلِيْظًا.

الأحزاب، 33 : 7

’’اور (خصوصاً) آپ سے اور نوح سے اور ابراہیم سے اور موسيٰ سے اور عیسٰی ابن مریم (علیھم السلام) سے اور ہم نے اُن سے نہایت پختہ عہد لیاo‘‘

اب یہاں کتنی لطیف بات ہے کہ آقا علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت سب سے آخر میں ہوئی ہے مگر یہاں ذکر سب سے پہلے ہوا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اگر ذکر کرنا ہی تھا تو اس ترتیب سے کیا جاتا جس ترتیب سے وہ دنیا میں مبعوث ہوئے۔ مگر نہیں! آئے تو اپنی ترتیب کے ساتھ ہیں مگر رب کائنات ترتیبِ بعثت کو بدل کے ترتیبِ مرتبت قائم کر دیتا ہے۔ جو رتبے میں سب سے اونچا ہے اُس کا نام پہلے لیتا ہے اور پھر اگلی بات یہ کہ بعد ازاں رتبہ کی ترتیب بھی سارے پانچوں پر قائم نہیں رکھتا کیوں کہ رتبے میں دیکھیں تو ابراہیم علیہ السلام سب سے اولو العزم ہیں۔ چونکہ ملتِ ابراہیمی پر ہی آقا علیہ السلام آئے ہیں تو آقا علیہ السلام کا ذکر حسبِ مرتبہ سب سے پہلے کر دیا۔ اور اُس کے بعد پھر ترتیبِ مراتب نہیں رکھی، بلکہ بعد میں ترتیبِ بعثت لے آئے۔ صرف ایک single نام کی خاطر ترتیب بدل دی، جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام لے لیا تو پھر ترتیب وہی برقرار رکھی۔ اللہ رب العزت کے انداز دیکھیے۔ فرمایا : محبوب! آپ سے عہد لیا اور نوح سے لیا، اور ابراہیم سے لیا اور موسيٰ سے لیا اور عیسيٰ سے لیا، اور ہم نے ان سب انبیاء کرام سے بڑا پختہ میثاقِ نبوت لیا۔ اب یہ عہد کس چیز کا تھا، اس کے بارے میں حافظ ابن کثیر فرماتے ہیں :

أنهُ أخَذَ عَلَيْهِمُ الْعَهْدَ وَالْمِيْثَاقَ فِي إقَامَةِ دِينِ اﷲِ وَإبْلاغِ رِسَالَتِهِ.

ابن کثير، تفسير القرآن العظيم، 3 : 470

یہ اِس چیز کا عہد تھا کہ یہ تمام انبیاء کرام جب دنیا میں مبعوث ہوں گے تو اللہ تعاليٰ کے دین کی اقامت کریں گے، اللہ تعاليٰ کے دین کو فروغ دیں گے، اور اللہ تعاليٰ کا پیغام نسل بنی آدم تک اور اپنی اپنی اقوام تک پہنچائیں گے۔

ایک اور مقام پر سورہ شوريٰ میں بھی اس کا ذکر کیا :

 شَرَعَ لَكُم مِّنَ الدِّينِ مَا وَصَّى بِهِ نُوحًا وَالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِهِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى وَعِيسَى أَنْ أَقِيمُوا الدِّينَ وَلَا تَتَفَرَّقُوا فِيهِ.

الشوری، 42 : 13

’’اُس نے تمہارے لیے دین کا وہی راستہ مقرّر فرمایا جس کا حکم اُس نے نُوح (علیہ السلام) کو دیا تھا اور جس کی وحی ہم نے آپ کی طرف بھیجی اور جس کا حکم ہم نے ابراہیم اور موسيٰ و عیسيٰ (علیھم السلام) کو دیا تھا (وہ یہی ہے) کہ تم (اِسی) دین پر قائم رہو اور اس میں تفرقہ نہ ڈالو۔‘‘

حضرت نوح علیہ السلام کا ذکر چلا آ رہا تھا کہ ہم نے آپ کے لیے بھی اُسی دین کو منتخب کیا اور اُسی دین کو recommend کیا جو نوح علیہ السلام کو کیا تھا۔ اب ایک independent clause سے ایک نیا article شروع ہو رہا ہے۔ وہ کون سا دین ہے جو نوح علیہ السلام کو بھی دیا تھا؟ فرمایا : یہ وہی دین ہے جو محبوب! ہم نے آپ کی طرف بھی بھیجا ہے اور جو ہم نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف بھی بھیجا اور حضرت موسيٰ علیہ السلام کی طرف بھی بھیجا اور حضرت عیسيٰ علیہ السلام کی طرف بھی بھیجا؛ وہی پیغام ہے کہ اللہ تعاليٰ کے دین کو قائم کیا جائے۔

آپ نے دیکھا کہ یہاں حضرت نوح علیہ السلام کے ذکر میں جب آقا علیہ السلام کا ذکر ہوا تو حضرت ابراہیم، حضرت موسيٰ اور حضرت عیسٰی (علیھم السلام) سب اُولو العزم پیغمبروں کا ذکر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کر دیا۔ یہی ترتیب یہاں بھی ہے۔ تو آقا علیہ الصلوۃ والسلام آخر الانبیاء ہونے کے باوجود ذکر میں ان سب سے پہلے ہیں۔ ایسا کیوں ہے؟ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اﷲ تعاليٰ کے اس فرمان {وَاِذْ اَخَذْنَا مِنَ النَّبِيِّيْنَ مِيْثَاقَهُمْ} کی تفسیر میں روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

کُنْتُ أَوَّلَ النَّبِيِّيْنَ فِي الْخَلْقِ وَآخِرَهُمْ فِي الْبَعْثِ فَبَدَأَ بِي قَبْلَهُمْ.

  1. ابن سعد، الطبقات الکبری، 1 : 149
  2. ديلمي، مسند الفردوس، 3 : 282، الرقم : 4850
  3. ديلمي، مسند الفردوس، 4 : 411، الرقم : 7195
  4. بغوی، معالم التنزيل، 3 : 508
  5. قرطبي، الجامع لأحکام القرآن، 7 : 155

’’میں مخلوق میں پیدائش کے لحاظ سے سب سے پہلا اور بعثت کے لحاظ سے سب سے آخری نبی ہوں سو ان سب سے پہلے (نبوت) کی ابتدا مجھ سے ہی کی گئی۔‘‘

حدیث پاک میں یہ بھی آیا ہے کہ جب اﷲ تبارک و تعالی نے اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ؟ فرمایا تھا تو اس میں انبیاء و غیر انبیاء سب شریک تھے۔ حدیث پاک میں یہ بھی مذکور ہے کہ سب سے پہلے جس کی زباں سے بَلٰی کا کلمہ نکلا وہ تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے۔ (1) اور حدیث مبارکہ میں یہ بھی ہے کہ پھر جب آدم علیہ السلام کے سامنے ملائکہ نورِ محمدی کی تعظیم میں سجدہ ریز ہوئے تو سب سے پہلے سجدہ آدم کے لئے جس کی جبین زمیں پر جھکی وہ جبرائیل امین تھے۔ پس جنہوں نے نورِ محمدی کی تعظیم میں سب سے پہلے اپنی جبین حضرت آدم علیہ السلام کے سامنے سجدہ تعظیمی میں جھکا دی وہ حضرت جبرائیل علیہ السلام تھے اور اس امرِ الٰہی کی تعمیل میں تمام ملائکہ کے امام ہو گئے۔

(1) آلوسی، روح المعانی، 9 : 111

اُولو العزم انبیاء کرام علیھم السلام میں سب سے بلند مرتبہ

جس نے اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ کے جواب میں سب سے پہلے بَلٰی کہہ کر اپنی اپنی زبان کھولی، وہ تاجدارِ کائنات اور خاتم الانبیاء ہوئے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آقا علیہ السلام نے ارشاد فرمایا :

خِيَارُ وَلَدِ آدَم خَمْسَةٌ نُوْحٌ وّابْرَاهِيْم وعِيْسی ومُوْسی (عليهم السلام)، وَمُحَمَّد صلی الله عليه وآله وسلم.

هيثمی، مجمع الزوائد، 8 : 255

’’کل نسل بنی آدم میں سب سے بلند مرتبہ پانچ نفوسِ قدسیہ ہیں، وہ (اولو العزم انبیاء ) حضرت نوح، حضرت ابراہیم، حضرت موسيٰ، حضرت عیسيٰ (علیھم السلام) اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔‘‘

پوری کائناتِ نبوت میں سب سے بلند رتبہ رسالتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہے جس کے متعلق فرمایا :

وخيرهم محمد أجمعين.

بزار، المسند، 8 : 255، رقم : 2368

’’اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سب سے اعلی رتبے میں ہیں۔‘‘

فرمایا کہ یہ تمام انبیاء کرام بھی حضرت آدم علیہ السلام کی پشت (صلب) سے روحوں کی طرح نکالے گئے ہیں۔ تمام انبیاء علیھم السلام کی ارواح بھی اُسی طرح روحوں میں متمثل کر کے سامنے لائی گئیں تاکہ اﷲ تبارک و تعاليٰ ان سے عہد لے۔ اور حضرت آدم علیہ السلام نے انبیاء علیھم السلام کی ارواح کو روشن چراغوں کی شکل میں منور دیکھا، وَعَلَيْهِمْ کَالنُّور (4) اور ہر نبی کی روح نور کی طرح چمک رہی تھی اور ان سے اﷲ تبارک و تعاليٰ نے نبوت و رسالت کا میثاق لیا، (5) اور اس پرگواہ فرشتوں کو بنایا تھا یا زمین و آسماں کو بنایا تھا۔ جب تمام انبیاء کرام علیھم السلام سے ان کی نبوت و رسالت کے فرائض کی ادائیگی کی گواہی لی جا رہی ہے۔ تو فرمایا : لِّيَسْئَلَ الصّٰدِقِيْنَ عَنْ صِدْقِهِمْ ج وَاَعَدَّ لِلْکٰفِرِيْنَ عَذَابًا اَلِيْمًا (6) کہ قیامت کے دن وہ جو ان کی اُمت کے مبلغین اور علماء ہوں گے، جو ان انبیاء علیھم السلام اور رسولوں کا پہنچایا ہوا پیغام تصدیقاً اور تبلیغاً آگے امت کے افراد تک عمر بھر پہنچاتے رہے ہوں گے۔ قیامت کے دن جب ان انبیاء علیھم السلام سے سوال ہوگا کہ انہوں نے اﷲ تعاليٰ کا پیغام اپنی امتوں کو پہنچا دیا تھا یا نہیں اور کفار انکار کرنے لگیں گے تو ان انبیاء علیھم السلام کی اُمتوں کے علماء اور مبلغین کھڑے ہو کر اپنے نبیوں کے حق میں گواہی دیں گے۔ (7) لِّيَسْئَلَ الصّٰدِقِيْنَ. سچے لوگوں سے پوچھا جائے گا اور ان کے صدق اور ان کی سچائی پر گواہی لی جائے گی۔ تو امت کے سچے لوگ مبلغین وعلماءِ حق جو سچائی کے علم بردار ہیں وہ پیغمبروں کی نبوت و رسالت کے فریضے کی ادائیگی پر اپنی گواہی دیں گے۔ (8) تو گویا انبیاء علیھم السلام کے میثاقِ نبوت پر گواہ ان کی امت کے علماء کو بنایا اور پوری نسل بنی آدم کے میثاقِ توحید پر فرشتے گواہ ہوئے اور میثاق نبوت پر آقا علیہ السلام کی امت کے صادقین، اہل صدق یعنی سچائی کے علم بردار، اولیاء، علماء، صلحاء اور متقین ہوئے۔ دیگر امتوں کے صدق کے علمبردار اپنے اپنے انبیاء علیھم السلام کے اوپر گواہ ہوں گے۔ اور پھر جو کفار انکار کر رہے ہوں گے ان کے انکار کو اس گواہی کے ذریعے رد کر دیا جائے گا۔

(4) حاکم، المستدرک، 2 : 353، رقم : 3255
(5) احمد بن حنبل، المسند، 5 : 135
(6) الأحزاب، 33 : 8
(7) ابن کثير، تفسير القرآن العظيم، 3 : 469
(8) تفسير بغوی، 3 : 508، 509

تیسرا میثاق : نبوتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اَنبیاء کرام علیہم السلام سے میثاق

اب تیسرا میثاق جو آج کا موضوع ہے۔ میں نے دو میثاق کا ذکر پہلے کیا، اس لئے کہ آپ اس تیسرے کو evaluate کریں۔ میثاق توحید اﷲ رب العزت نے ان تمام انسانوں سے لیا اور اس پر گواہ ملائکہ بنے۔ اور میثاق نبوت سب انبیاء علیھم السلام سے لیا اور اس پر گواہ اُمت کے اہلِ صدق، اولیاء و صادقین بنے۔

تیسرا میثاق جس کا ذکر قرآن میں عالم اَرواح کے باب میں سورۃ آل عمران میں ہوا ہے۔ قرآن مجید کی ترتیب میں سب سے پہلے اس میثاق کا ذکر آیا ہے۔ اس کے بعد میثاقِ توحید کا ذکر سورۃ الاعراف میں اور اس کے بعد آخر میں میثاقِ نبوت کا ذکر سورۃ الاحزاب میں ہے۔ آلِ عمران میں جس میثاقِ نبوتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر ہے۔ یہ وہ میثاق ہے جو اﷲ تبارک و تعاليٰ نے سب انبیاء کرام علیھم السلام سے اور سب رسولوں سے لیا۔ ان کی اپنی نبوتوں کا میثاق تو ہوگیا تھا۔ اب ان سے یہ عہد لیا گیا کہ تم نبوت و رسالتِ محمدی کی اتباع میں اپنے سر نبوت و رسالتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آگے جھکا دو۔ یہ عہد تعظیم رسالتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، اتباعِ رسالت محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، آقا علیہ السلام پر ایمان لانے اور حضور علیہ السلام کے مشن کی نصرت کرنے کا لیا جا رہا ہے۔ اور نہ صرف اپنی ذات کی حد تک بلکہ ان سے یہ بھی عہد لیا جا رہا ہے کہ میرے محبوبِ آخر الزماں علیہ السلام کی بعثت کا ڈنکا بھی تم اپنے اپنے زمانے میں اپنی اپنی اُمت کے سامنے بجاتے جاؤ گے۔ ہر نبی کی ذمہ داری ہوگی کہ اپنی امت کو اپنی نبوت رسالت کے ذریعے میری توحید کا پیغام پہنچائے اور اپنی تعلیمات پہنچائے جو میں نے دی ہیں، مگر اصل آنے والا جس کی خاطر پوری بزمِ کائنات سجائی گئی ہے، اور تمہارے سروں پر نبوت و رسالت کا تاج رکھا گیا ہے، نعمت نبوت سے سرفراز کیا گیا اور تمہارے اعزازِ رسالت سے بہرہ یاب کیا گیا ہے، آنے والا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بعد میں آ رہا ہے۔ اگر کسی کو وہ زمانہ مل جائے تو ہر ایک کا فرض ہے کہ اس پر ایمان لائیں۔ ارشاد فرمایا :

وَإِذْ أَخَذَ اللّهُ مِيثَاقَ النَّبِيِّيْنَ لَمَا آتَيْتُكُم مِّن كِتَابٍ وَحِكْمَةٍ ثُمَّ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهِ وَلَتَنصُرُنَّهُ قَالَ أَأَقْرَرْتُمْ وَأَخَذْتُمْ عَلَى ذَلِكُمْ إِصْرِي قَالُواْ أَقْرَرْنَا قَالَ فَاشْهَدُواْ وَأَنَاْ مَعَكُم مِّنَ الشَّاهِدِينَ.

آل عمران، 3 : 81

’’اور (اے محبوب! وہ وقت یاد کریں) جب اﷲ نے انبیاء سے پختہ عہد لیا کہ جب میں تمہیں کتاب اور حکمت عطا کر دوں، پھر تمہارے پاس وہ (سب پر عظمت والا) رسول ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) تشریف لائے جو ان کتابوں کی تصدیق فرمانے والا ہو جو تمہارے ساتھ ہوں گی تو ضرور بالضرور ان پر ایمان لاؤ گے اور ضرور بالضرور ان کی مدد کرو گے، فرمایا : کیا تم نے اِقرار کیا اور اس (شرط) پر میرا بھاری عہد مضبوطی سے تھام لیا؟ سب نے عرض کیا : ہم نے اِقرار کر لیا، فرمایا کہ تم گواہ ہو جاؤ اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہوں میں سے ہوںo

آیت مبارکہ کے الفاظ لَتُؤْمِنُنَّ بِهِ کے ذریعے اﷲ تبارک و تعاليٰ نے انبیاء کرام علیھم السلام کی نبوتوں کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت پر ایمان کے ساتھ مشروط کر دیا اور ان کی رسالتوں کو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت پر ایمان اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت کی خدمت کے ساتھ مشروط کر دیا کہ تم سب اس نبی پر ایمان لاؤ گے اور ان کی نصرت ومدد کرو گے۔ یہاں تک مضمونِ میثاق کا بیان تھا۔ اب وہ بحث آگے آ رہی ہے جس کی خاطر تقابل مقصود ہے۔ یعنی ثُمَّ جَآءَ کُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَکُمْ (پھر تمہارے پاس وہ (سب پر عظمت والا) رسول ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) تشریف لائے جو ان کتابوں کی تصدیق فرمانے والا ہو جو تمہارے ساتھ ہوں گی)۔ اس سے ایک ختم نبوت کی بات بھی صراحتًا ثابت ہوگئی اور یہ بھی کہ نبی وہی حق تھے جو آقا علیہ السلام سے پہلے آچکے۔ چونکہ آقا علیہ السلام کے لئے اﷲ تعاليٰ نے ثُمَّ جَآءَ کُمْ فرمایا۔ جب آقا علیہ السلام کی بعثت ہوگئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمام انبیاء و رسل علیھم السلام جو پہلے آ چکے تھے سب کی تصدیق فرما دی تو اس کے بعد کوئی گنجائش کسی کے لئے نہیں ہے۔ پھر جو بھی آئے گا وہ جھوٹا مدعی ہوگا۔ تمہارے بعد وہ آئے گا اور تمہاری نبوتوں اور رسالتوں کی تصدیق فرما دے گا۔ اب تم اس بات کا عہد اور وعدہ کرو کہ اس پر ایمان بھی لاؤ گے اور اس کی مدد بھی کرو گے۔

میثاقِ نبوتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں اِقرار کا تقابلی فرق

اب سورۃ آل عمران کی اِسی آیت نمبر 81 کے اگلے الفاظ قَالَ ءَ اَقْرَرْتُمْ سے اقرار کا فرق بتایا جار ہا ہے۔ اب غور کریں کہ اُسلوب کتنا بدل گیا ہے۔ پہلے اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ قَالُوْا بَلٰی کے ذریعے اپنی توحید اور قطع شرک کا اقرار کروایا ہے۔ وہاں ایک جملے کا مضمون تھا۔ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ سب نے کہا : ہاں! ہمارا رب ہے؛ اور اس پر فرشتوں کو کہا کہ تم گواہی دو، خود نہیں گواہ بنا۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ خود گواہ نہیں بنا۔ فرشتے گواہ ہوگئے، انبیاء علیھم السلام کی باری آئی تو فقط ان سے نبوت کا میثاق لیا اور فقط اتنا کہا کہ ان کی اُمت کے اولیاء و صادقین قیامت کے دن اُن کے گواہ ہوں گے۔ بس اتنا مختصر مضمون تھا میثاقِ توحید اور میثاقِ نبوت کا۔

اب انبیاء اور رسل عظام علیھم السلام سے میثاقِ رسالتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جب وقت آیا تو ان سے جو اقرار کروانا تھا کروا لیا۔ فرمایا : ءَ اَقْرَرْتُمْ (کیا تم نے اِقرار کیا)؟ کیا یہ بات اپنی توحید کے میثاق کے وقت پوچھی تھی؟ نہیں، انہوں نے کہا تھا : بَلٰی (جی ہاں)۔ اس پر فرشتے گواہ ہوگئے۔ لیکن کیا ان سے تکرار کے ساتھ پوچھا تھا کہ کیا تم اقرار کرتے ہو؟ اِسی بَلٰی کو اقرار سمجھ لیا گیا۔ انبیاء علیھم السلام سے جب میثاقِ نبوت لیا گیا تو کیا ان سے دوبارہ کوئی بات پوچھی تھی؟ نہیں! ان کے میثاق پر کہا : ان کی امت کے اہل صدق قیامت کے دن گواہ ہوں گے۔ لیکن جب میثاقِ رسالتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات آئی تو چونکہ اس میں آقا علیہ السلام کی آمد، بعثت، میلاد اوردنیا میں تشریف آوری کی بات ہو رہی تھی تو فرمایا : ’’ءَ اَقْرَرْتُمْ : کیا تم اس بات کا اقرار کرتے ہو کہ میرے محبوب محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت پر ایمان بھی لاؤ گے اور ان کی رسالت کے مشن کی مدد بھی کرو گے؟‘‘ مزید پوچھا : وَاَخَذْتُمْ عَلٰی ذٰلِکُمْ إِصْرِی (اور اس (شرط) پر میرا بھاری عہد مضبوطی سے تھام لیا) کہ اس پر قائم رہو گے؟) اب بتایئے کیا کسی کے پھر جانے کا ڈر تھا؟ یہ عہد تو انبیاء علیھم السلام سے لیا جا رہا ہے کوئی عام نسل بنی آدم سے نہیں۔ پھر اس نے اپنی توحید کا اقرار لے کر اور انبیاء سے ان کی نبوتوں کا میثاق لے کر تکرار کے طور پر ان سے کوئی ایسی بات نہیں کہی۔ مگر جب میثاق رسالت محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی باری آئی ہے تو پوچھا : کیا، اقرار کرتے ہو؟ پہلا اقرار تو اس میثاق کے اندر آ ہی گیا تھا۔ دوسری بار پوچھا۔ کیا اس بات کا اعلان اور اقرار کرتے ہو؟ جواب دیا : جی ہاں! اقرار کرتے ہیں۔ پھر تیسری بار یہی پوچھا : کیا اس بات کا کہ میرے محبوب پر ایمان لاؤ گے اور ان کے پیغمبرانہ مشن کی مدد کرو گے اور ان کی نبوت و رسالت کی اتباع کرو گے اور اپنی امتوں میں ان کی آمد کے ڈنکے بجاؤ گے، کیا اس کا میرے ساتھ پختہ وعدہ کرتے ہو؟ انہوں نے کہا : باری تعاليٰ ہم اس بات کا اقرار کرتے ہیں، اعلان کرتے ہیں، تیری ذات کے ساتھ پختہ وعدہ کرتے ہیں۔ پھر فرمایا : تم خود گواہ ہو جاؤ۔ آپ غور فرمائیں کتنے غیر معمولی اقدام کیے جا رہے ہیں۔ کتنی شرائط عائد کی جا رہی ہیں اور اس کو کتنا پختہ بنایا جا رہا ہے۔ پھر فرمایا : فَاشْهَدُوْا اگر میرے ساتھ اقرار کرتے ہو اور اس بات کا اعلان کر کے پختہ وعدہ کرتے ہو تو پھر گواہ ہو جاؤ۔ سب نے کہا : باری تعاليٰ! ہم تیرے حضور اپنے قول اور اپنے اقرار پر خود گواہ ہو گئے۔ اور پھر اس نے کہا : وَاَنَا مَعَکُمْ مِّنَ الشّٰهِدِيْنَ، اب تمہاری گواہی پر میں خود گواہ بنتا ہوں۔ جب میثاق توحید اور انبیاء علیھم السلام سے میثاق نبوت کا وقت تھا تو رب ذوالجلال خود گواہ نہیں بنے مگر جب رسالتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد و میثاق کا وقت آیا تو ربِ کائنات نے سب نبیوں کو بھی گواہ بنایا اور پھر ان پر خود اپنی ذات کو اس میثاقِ نبوتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر گواہ بنایا۔ اور پھر اگلی آیت میں پوری نسلِ آدم کے لیے تنبیہاً فرمایا :

فَمَن تَوَلَّى بَعْدَ ذَلِكَ فَأُوْلَـئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ.

آل عمران، 3 : 82

’’پھر جس نے اِس (اِقرار) کے بعد روگردانی کی پس وہی لوگ نافرمان ہوں گےo‘‘

نبوتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور دیگر انبیاء علیھم السلام کی نبوت کا واسطہ

اب اس سے جو چیز میری سمجھ میں آئی ہے اور جو معنی و مفہوم اور مراد میں نے اخذ کیا ہے اور وہ بغیر کسی شک و شبہ کے عین سیاق و سباقِ قرآنی کے عین مطابق ہے۔ وہ یہ کہ اس آخری حصے کا اشارہ اِس اَمر کی طرف تھا کہ سن لو! تم نے جو مجھ سے رسالتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لانے اور رسالتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی متابعت کا وعدہ کیا ہے، یہ بتانا چاہتا ہوں کہ رسالتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایمان کے تصدق سے میں تمہیں نبی بنا رہا ہوں۔ رسالتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان کے وسیلے سے تمہیں رسول بنا رہا ہوں۔ اگر تم میرے محبوب کی نبوت و رسالت پر ایمان لانے کا وعدہ نہ کرو تو تم میں سے جو جو وعدہ نہیں کرے گا میں اُس کے سر پر نبوت کا تاج نہیں رکھوں گا۔ گویا سب انبیاء علیہم السلام کی نبوتیں نبوتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وساطت سے ہیں۔ سب رسولوں کی رسالتیں رسالتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے واسطے اور وسیلے سے ہیں۔ جو نظامِ رسالت بپا ہوا کائنات میں وہ بھی نبوت و رسالتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا واسطہ ہے۔ تو اگر واسطہ اور وسیلہ نبوتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نہ ہو تو نظامِ نبوت ہی بپا نہ ہوتا، نظامِ رسالت ہی بپا نہ ہوتا۔ تو اللہ تبارک و تعاليٰ نے اِس بات پر تاکید کے طور پر یہ کلمات ارشاد فرمائے۔ سیدنا مولی علی المرتضيٰ رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ دونوں سے یہ روایت مذکور ہے۔ فرمایا :

مَا بَعَثَ اﷲ نبيًّا مِنَ الأنبياءِ اِلَّا أخَذَ عَلَيْهِ الْمِيْثَاق، لئن بعث اﷲ محمدا وهو حي ليؤمنن به ولينصرنه، وأمره أن يأخذ الميثاق علی أمته، لئن بعث محمد وهم أحياء ليؤمنن به ولينصرنه.

  1. ابن جوزی، زاد المسير، 1 : 416
  2. ابن کثير، تفسير القرآن العظيم، 1 : 378

’’اللہ تبارک و تعاليٰ نے انبیاء کرام علیہم السلام میں سے جس بھی نبی کو دنیا میں مبعوث کیا، تو اُس کی بعثت سے پہلے اُس سے یہ عہد لیا کہ اگر تیری زندگی میں میرے محبوب محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آگئے تو تم ان پر ایمان لاو گے اور ان کے دین کی اتباع کرو گے۔ نیز ہر نبی کو یہ حکم دیا گیا کہ جب دنیا میں جائیں تو اپنی امت سے بھی یہ عہد لیں کہ اگر اُن کی زندگی میں نبی آخر الزماں محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت ہو جائے تو اُن پر ایمان لے آئیں اور ان کے دین کی پیروی کریں۔‘‘

علامہ ابن تیمیہ بھی ’’دقائق التفسير (1 : 334)‘‘ میں روایت کرتے ہیں کہ ہر نبی اپنے اپنے زمانے میں اپنی امت سے یہ عہد لیتا رہا کہ اگر تم لوگ زندہ ہوئے اور تمہارے زمانے میں نبی آخر الزماں محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آ گئے تو پھر میرے کلمے کے پیچھے نہ پڑے رہنا، پھر مصطفی ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کا امتی ہو جانا۔ اُن پر ایمان لے آنا کہ اُس میں ہماری نبوتوں کے سارے دھارے نبوت و رسالتِ محمدی کے سمندر میں ضم ہو جائیں گے۔

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ اس حدیث کے راوی ہیں، اور امام ابو یعلی نے اپنی مسند میں اِس حدیث کو روایت کیا ہے اور امام احمد بن حنبل نے مسند میں روایت کیا اور امام دارمی نے اپنی سنن میں روایت کیا۔ آقا علیہ السلام نے فرمایا :

لَا تَسْئَلُوْا اَهْلَ الْکِتَابِ عَنْ شَيْئٍ فَإِنَّهُمْ لَنْ يَهْدُوْکُمْ وَقَدْ ضَلُّوْا وَإِنَّکُمْ إِمَّا أَنْ تَصَدَّقُوْا بِبَاطِلٍ وَإِمَّا أَنْ تُکَذِّبُوْا بِحَقٍّ.

احمد بن حنبل، المسند، 3 : 338

’’اہل کتاب سے کسی ِچیز سے متعلق استفسار نہ کرو کیونکہ وہ تمھیں ہر گز صحیح رہنمائی نہیں کریں گے، وہ تو گمراہ ہو چکے ہیں، اور اب تم پر ہے کہ چاہے باطل کی تصدیق کرو، چاہے حق کی تکذیب کر دو۔‘‘

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

فإنه واﷲ! لو کان موسی حيًّا بين أظهُرِکم ما حل له إلا أن يتبعني.

  1. ابو يعلی، المسند، 4 : 102، رقم : 2135
  2. ابن الجوزی، الوفا بأحوال المصطفیٰ صلی الله عليه وآله وسلم : 361

’’خدا کی عزت کی قسم! اگر آج (جب میں مبعوث ہوا ہوں) تمہارے معاشرے میں موسی علیہ السلام بھی زندہ ہوتے تو اُن کے پاس کوئی اور راستہ نہ ہوتا سوائے میری اتباع کرنے کے۔‘‘

یہ حدیث صحیح ہے جس کو امام ابو یعلی، امام احمد بن حنبل، امام دارمی اور دیگر سب ائمہ نے، سندِ صحیح اور حسن کے ساتھ روایت کیا۔ امام بزار نے بھی اِس کو روایت کیا۔ پھر بعض احادیث میں یہ بھی ہے کہ آقا علیہ السلام نے فرمایا :

لَوْ کَانَ مُوْسَی وَ عَيْسَی حَيَّيْنِ لَمَا وَسِعَهُمَا إِلَّا اتِّبَاعِي.

ابن کثير، تفسير القرآن العظيم، 1 : 378

’’اگر حضرت موسی اور حضرت عیسی علیہما السلام حیات ہوتے تو ان کے لئے میری اتباع کے سوا کوئی راستہ نہ ہوتا۔‘‘

اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ عالمِ ارواح میں انبیاء علیہم السلام کے مبعوث ہونے سے پہلے انہوں نے اِس اقرار اور میثاق کے ذریعے آقا علیہ السلام کی نبوت و رسالت پر ایمان کا اقرارکر لیا تھا اور اس کا گواہ خود رب کائنات ہو گیا تھا۔ لہٰذا تاجدارِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم امام الانبیاء ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی امت کے بھی نبی ہیں اور کائناتِ انسانی کی سب امتوں کے بھی نبی ہیں اور سب انبیاء اور رسولوں کے بھی نبی ہیں۔ آقا علیہ السلام کی رسالت کا سائبان کل کائناتِ رسالت کے اوپر سایہ فگن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قیامت کے دن کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تبارک و تعاليٰ نے فرمایا :

ابن کثير، تفسير القرآن العظيم، 3 : 100

 فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِن كُلِّ أمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَـؤُلاَءِ شَهِيدًا.

النساء، 4 : 41

’’پھر اس دن کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت سے ایک گواہ لائیں گے اور (اے حبیب!) ہم آپ کو ان سب پر گواہ لائیں گےo‘‘

آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام چونکہ سب انبیاء علیہم السلام کے گواہ و امام اور سب انبیاء علیہم السلام کے نبی ہیں، سب امتوں کے نبی ہیں، اس لیے اللہ تبارک و تعاليٰ نے اس منظر کو عملاً بھی دو مرتبہ بپا کر دیا تاکہ وہ جو حقیقت ہے اُس کا ظہور دنیا میں بھی ہو جائے اور آخرت میں بھی ہو جائے۔ کُل انبیاء کی کثرت مبعوث ہوئی تھی بیت المقدس اور بلادِ شام، اُردن، فلسطین اور ملحقہ علاقوں میں۔ اکثریت انبیاء کی وہاں مبعوث ہوئی تھی اور انبیاء علیہم السلام کے دو گروہ ہوگئے تھے۔ وہ دو گروہ کس طرح؟ ا ن کے سفر کے اعتبار سے، ہجرتوں کے اعتبار سے، ابراہیم علیہ السلام نے جب سر زمین مکہ میں کعبہ تعمیر کر لیا تو چونکہ ہر نبی کو یہ بات معلوم تھی کہ نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لا رہے ہیں۔ اور ہر نبی اس بات کا عہد و پیماں کر چکا تھا۔ ہر نبی ان پر ایمان لانے کا اقرار کر چکا تھا۔ ہر نبی کے سامنے عظمتِ رسالتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اُجاگر تھی اور بہت سے انبیاء علیہم السلام ایسے گزرے جو آقا علیہ السلام کی اُمت میں ہونے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دیدار کی آرزو کرتے رہے۔ جیسا کہ قرآن مجید نے کہا :

اَلَّذِيْنَ يَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِيَّ الْاُمِّيَّ الَّذِيْ يَجِدُوْنَهُ مَکْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِی التَّوْرٰةِ وَ الْاِنْجِيْلِ.

الأعراف، 7 : 157

’’(یہ وہ لوگ ہیں) جو اس رسول ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی پیروی کرتے ہیں جو امی (لقب) نبی ہیں (یعنی دنیا میں کسی شخص سے پڑھے بغیر منجانب اللہ لوگوں کو اخبارِ غیب اورمعاش و معاد کے علوم و معارف بتاتے ہیں) جن (کے اوصاف و کمالات) کو وہ لوگ اپنے پاس تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں۔‘‘

یعنی آقا علیہ السلام کے تذکرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کا تذکرہ، ولادت کے شہر مکہ کا تذکرہ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہجرت کا تذکرہ، ہجرت کے شہر مدینہ کا تذکرہ، مدینہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر انور کے ہونے کا تذکرہ، اور مکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جوان ہونے کا تذکرہ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اوصاف، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کمالات، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معجزات، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سُنتیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خصائل حمیدہ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اوصاف، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طور طریقے ساری نعتیں، ساری صفتیں، سارے وصف، سارے تذکرے، تورات، انجیل سمیت ہر نبی کی کتاب میں موجود تھے۔ اور تمام انبیاء آقا علیہ السلام کے تذکرے پڑھ پڑھ کے اپنی اُمتوں کو بتاتے تھے۔ یہودیوں تک کو یاد تھے، وہ اپنے بچوں کو آقا علیہ السلام کی شان کے تذکرے یاد کراتے تھے۔ اور ان کا یہ خیال تھا کہ شاید حضور علیہ السلام بھی بنی اسرائیل سے آئیں گے چونکہ حضرت عیسيٰ علیہ السلام تک سب انبیاء بنی اسرائیل سے آ ر ہے تھے۔

مکہ مکرمہ میں انبیاء علیہم السلام کا قیام

انبیاء علیہم السلام کا ایک گروہ تو ایسا تھا جو یہ جان کر کہ تاجدارِ کائنات نبی آخر الزمان مکہ میں مبعوث ہوں گے سیکڑوں ہزاروں میل کا سفر کرتے کرتے دیدارِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شوق میں مکہ مکرمہ آ گیا تھا۔ اُنہوں نے عمریں مکہ میں گزار دی تھیں کہ کبھی رب کے محبوب اور اس کے حسن کے طلوع کا وقت آئے گا ہمیں دیدار کا موقع نصیب ہوگا اور ہم ان کا زمانہ پائیں گے۔ (1) بایں ہمہ تاجدار کائنات کے انتظار میں سینکڑوں انبیاء نے وادی مکہ میں عمریں گزار دیں۔ اور ان کے مزارات صحن کعبہ میں اور بعضوں کے حطیم کعبہ میں ہیں۔ تین سو یا سات سو انبیاء علیہم السلام ایسے ہیں کہ ان کی تو وفات بھی مکہ میں ہوئی اور ان کے مزارات کعبہ شریف کے مطاف میں صحن کعبہ کے اندر ہیں۔ (2) اور کل مخلوق اور اُمت جب کعبے کا حج کرنے جاتی ہے۔ اُنہیں ان انبیاء کے مزارات کی زیارت ہوتی ہے۔ وہ اس خیال سے یہاں قیام پذیر ہو گئے تھے کہ ہماری عمر میں ہماری زندگیوں میں اگر تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آ گئے تو حضور کی غلامی کا شرف ہوجائے گا۔ اور اگر ہماری زندگی میں مبعوث نہ ہوئے تو دفن ہونے کا اعزاز تو نصیب ہو جائے گا۔ جب زائرین اس کعبے کا طواف کریں گے تو ہم ان کے قدموں کے نیچے ہوں گے۔ یوں ان کے تلوں کے بوسے ہوتے رہیں گے۔ ستر کے قریب یا اُس سے زائد انبیاء تو منٰی میں مدفون ہیں۔ (3) ’’مسجد الخیف’’ میں سات سو انبیاء ہیں جہاں تین دن حاجی قیام کرتے ہیں ان کو خبر تھی کہ یہ حج کے راستے اور اس محبوبِ مکرم کے ٹھکانے ہونگے۔ عرفات، مزدلفہ، منی وغیرہ جو آقا کے راستے تھے ان پر یہ ٹھکانے کرتے گئے۔ انبیاء علیہم السلام کا ایک گروہ تو ادھر ہی آ کے آباد ہوگیا۔ اور کثیر تعداد میں انبیاء علیہم السلام ادھر ہی مبعوث ہوئے اور وہیں ان کے مزارات بنے۔ تو اللہ تبارک و تعاليٰ نے چاہا کہ محبوبِ مکرم کو چونکہ تمام انبیاء کا امام بنایا ہے لہٰذا اس کا ظہور بھی عملاً دنیا میں ہونا چاہیے اور آخرت میں بھی ہونا چاہیے، اس لیے آقا علیہ السلام کو مسجد حرام سے معراج کی رات مسجد اقصيٰ لے جایا گیا جہاں تمام انبیاء علیہم السلام کو صف در صف حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتدا میں کھڑا کیا گیا اور آقا علیہ السلام نے جمیع انبیاء و رُسل علیہم السلام کی امامت کرائی تو شبِ معراج جب سب انبیاء علیہم السلام حاضر ہوگئے تو ان کی خواہشِ دیدار، اﷲ تعاليٰ نے پوری کر دی۔ ہر نبی جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ڈنکے بجاتا، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد کے تذکرے کرتا، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اوصاف کے گُن گاتا تھا اور اپنی اُمت کو حضور تاجدارِ کائنات کی غلامی کی دعوتیں دیتا تھا، وہ منتظر تھا کہ جس کے تذکرے کرتے کرتے عمر بیت گئی کبھی ان کا دیدار بھی ہوگا۔

(1) أزرقی، اخبار مکة، 1 : 67، 68
(2) فاکهی، اخبار مکة، 4 : 191
(3) 1. طبرانی، المعجم الکبير، 12 : 413، رقم : 13525
2. ديلمی، الفردوس بماثور الخطاب، 2 : 28، رقم : 2177
3. فاکهی، أخبار مکة، 7 : 102، رقم : 2525

مراحلِ معراج میں عظمتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پُرشکوہ منظر

اللہ رب العزت نے فرمایا : اے ارواحِ انبیاء! تم نے عمر بھر میرے مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وفاداری کی ہے۔ آج میں تمہاری دیرینہ خواہش کو پوری کرنے کے لیے محبوب کو ادھر لا رہا ہوں۔ مسجد اقصيٰ میں صف در صف کل انبیاء علیہم السلام جمع ہوگئے۔ جبریل امین علیہ السلام نے عرض کیا : آقا! یہ کُل انبیاء ہیں جو کائناتِ انسانی میں آپ کی آمد کا ڈنکا بجاتے رہے ہیں، آج ان کو امامت کرا کے اپنا مقتديٰ بنا لیں۔ اِن کی آرزو تھی کہ حضور کے امتی ہو جائیں۔ تو آقا علیہ السلام نے انہیں اپنی اقتداء میں لے لیا۔ جب شبِ معراج سب انبیاء علیہم السلام کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتدا میں دے دیا گیا تو ملائکہ بولے : باری تعاليٰ تمام انبیاء علیہم السلام کو تو نے محبوب کی اقتداء اور دیدار عطا کر دیا۔ ہمارا کیا بنے گا؟ کبھی ہمیں بھی دیدار نصیب ہو جائے۔ تو فرمایا : اب معراج کا دوسرا سفر آسمانی کائنات میں اور عرش معلی پر جا کے سدرۃ المنتہی تک ہوگا۔ اے کل آسمانی کائنات کے فرشتو! سدرۃ المنتہيٰ پر جمع ہو جاؤ(1) جیسے کل انبیاء علیہم السلام مسجد اقصيٰ میں جمع ہو کر میرے محبوب کے دیدار سے بہرہ یاب ہو گئے تھے۔ میرے محبوب نے یہاں سے گزرنا ہے۔ میں تھوڑی دیر روک کر ان کو براق سے اُتاروں گا کہ آگے براق نہیں جاسکتا۔ تو یہاں سواری کی بدلی ہونی ہے، جس میں وقت لگے گا، تم سدرۃ المنتہيٰ پر بیٹھ جاؤ جتنی دیر میرے مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہاں قیام کریں تم جی بھر کے دیدار کر لینا۔ سورۃ النجم میں ارشاد ہوا :

(1) سيوطی، الدر المنثور، 7 : 651

اِذْ يَغْشَی السِّدْرَةَ مَا يَغْشٰی.

النجم، 53 : 16

’’اور جب سدرۃ المنتہيٰ کے درخت کو ڈھانپ لیا جس نے ڈھانپ لیاo‘‘

کُل کائنات کے ملائکہ اُس رات سدرۃ المنتہيٰ پہ جمع ہوگئے تھے تو ملائکہ کو سدرۃ المنتہيٰ پر دیدار کرا دیا۔ پھر ان کی ایک اور آرزو بھی تھی کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عمر بھر تو زمیں پہ رہیں گے، ہمارا کیا قصور ہے ہم آسمان پر ہیں۔ تو عمر بھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اُمت دیدار بھی کرتی رہے گی اور مدینہ پاک بھی جاتی رہے گی، اور صلوٰۃ و سلام بھی بھیجتی رہے گی۔ ہم کیوں محروم رہیں؟ کعبہ تو تو نے ہمیں بھی دیا؛ ایک کعبہ زمین پر ہے۔ کعبۃ اﷲ، اورعین اس کے اوپر آسمان پر بیت المعمور ہے جہاں ملائکہ طواف کرتے ہیں۔ بیت المعمور اسے کہتے ہی اس لیے ہیں کہ ملائکہ سے معمور سے رہتا ہے۔ جیسے کعبۃ اللہ انسانوں سے بھرا رہتا ہے، بیت المعمور ملائکہ سے بھرا رہتا ہے۔ وہاں تو نے کعبہ تو دے دیا مگر آقا علیہ السلام کا در اقدس کعبے کا کعبہ تو زمین پہ رکھا ہے۔ تو اُن کے لیے بھی اللہ پاک نے حاضری کی سبیل پیدا کر دی کہ ستر ہزار فرشتے اب ہر روز صبح اور ستر ہزار فرشتے شام کو آقا علیہ السلام کی بارگاہ میں حاضری دیتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر انور کو اپنے پر لگاتے ہیں، مس کرتے ہیں، (1) جیسے انسان جالی کو ہاتھ لگاتا ہے (2) ہم تو ادب سے ہاتھ نہیں لگاتے مگر ملائکہ تو نور ہیں وہ اپنے پر مس کرتے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر انور پر درود و سلام پیش کرتے ہیں۔ ستر ہزار ملائکہ دیدار مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے صبح آتے ہیں اور ستر ہزار ملائکہ شام کو آتے ہیں۔ (3) ہر روز دستہ تبدیل ہوتا ہے۔ ایک لاکھ چالیس ہزار ملائکہ کا۔ اور ستر ہزار کا ایک گروہ جو ایک بار آتا ہے قیامت تک اسے دوبارہ باری نہیں ملتی۔ اور حدیث پاک میں آتا ہے کہ جس دن قیامت بپا ہوگی تو یومِ قیامت آقا علیہ السلام جب قبر انور سے باہر تشریف لائیں گے تو اس دن بھی ستر ہزار ملائکہ کے جھرمٹ میں حضور باہر نکلیں گے۔ (4) حضرت کعب رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں :

(1) دارمی، السنن، 1 : 57، رقم : 94
(2) بيهقی، شعب الايمان، 3 : 492، رقم : 4170
(3) عبد اﷲ بن مبارک، الزهد : 558، رقم : 1600
(4) بيهقی، شعب الايمان، 3 : 492، رقم : 4170

إِذَا انْشَقَّتْ عَنْهُ الْأَرْضُ خَرَجَ فِي سَبْعِيْنَ أَلْفًا مِنَ الْمَلَائِکَةِ، يَزِفُّونَهُ.

  1. دارمی، السنن، المقدمة، باب ما أکرم اﷲ تعالی نبيه بعد موته، 1 : 57، رقم : 94
  2. ابن جوزی، الوفا بأحوال المصطفیٰ صلی الله عليه وآله وسلم : 833
  3. سيوطی، الخصائص الکبريٰ، 2 : 217
  4. صالحی، سبل الهديٰ والرشاد، 12 : 452

’’(روزِ محشر) جب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے زمین (قبر انور) شق ہوگی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ستر ہزار فرشتوں کے جھرمٹ میں باہر تشریف لائیں گے۔‘‘

70 ہزار ملائکہ جن کے جھرمٹ میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نکلیں گے وہ وہی خوش نصیب ہوں گے جن کی اس دن ڈیوٹی ہوگی۔

روزِ قیامت شانِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عملی مظاہرہ

ایک شرف اﷲ تعاليٰ نے انبیاء علیہم السلام کو دنیا میں عطا کردیا، اور ایک شرف انہیں قیامت کے دن عطا فرما دے گا۔ آقا علیہ السلام نے فرمایا :

أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ، وَأَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ، وَأَوَّلُ شَافِعٍ وَمُشَفَّعٍ، بِيَدِيْ لِوَاءُ الْحَمْدِ تَحْتِيْ آدَمُ فَمَنْ دُوْنَهُ.

  1. ابن حبان، الصحيح، 14 : 398، رقم : 6478
  2. أبو يعلی، المسند، 13 : 480، رقم : 7493
  3. ابن أبي عاصم، السنة، 2 : 369، رقم : 793
  4. مقدسی، الأحاديث المختارة، 9 : 455، رقم : 428
  5. هيثمي، موارد الظمآن، 1 : 523، رقم : 2127

’’میں ساری اولادِ آدم علیہ السلام کا سردار ہوں اور یہ بات فخریہ نہیں کہتا، اور سب سے پہلے میری زمین شق ہو گی، اور میں سب سے پہلے شفاعت کرنے والا ہوں اور سب سے پہلے میری شفاعت قبول کی جائے گی، میرے ہاتھ میں (اللہ تعاليٰ کی) حمد کا جھنڈا ہو گا جس کے نیچے حضرت آدم علیہ السلام اور تمام انبیاء علیہم السلام ہوں گے۔‘‘

صحیح بخاری اور مسلم کی متفق علیہ حدیث (73) ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کی بارگاہ میں شفاعت کریں گے۔ قیامت کے دن ہر اُمت ایک دوسرے کو کہے گی کہ مل کے سارے حضرت آدم علیہ السلام کے پاس جائیں۔ وہ کہیں گے : اِذْهَبُوا إلٰی غَيْرِی (آج میرے سوا کسی کے پاس جاو)’’(74) تو لوگ حضرت نوح علیہ السلام کے پاس آئیں گے وہ بھی کہیں گے : نہیں، أِذْهَبُوا إلٰی غَيْرِی (آج کسی اور کے پاس جاؤ)۔ چلتے چلتے وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت موسی علیہ السلام حتی کہ حضرت عیسی علیہ السلام کے پاس آ جائیں گے، آقا علیہ السلام کی بعثت سے پہلے آخری وہی تھے۔ اب یہ بھی تو ہو سکتا تھا کہ حضرت آدم علیہ السلام ہی سیدھا کہہ دیتے کہ ان کے پاس جاؤ۔ مگر حضرت عیسيٰ علیہ السلام کے پاس کُل سابقہ امتیں آئیں گی تو اس وقت وہ فرمائیں گے : إذهبوا إلی محمد (آقا علیہ السلام کے درِ دولت پر جاؤ)۔ آج ان کا دن ہے ان کے سوا کوئی اِس وقت لب نہیں کھول سکتا۔ یہ بات حضرت آدم علیہ السلام نے شروع میں کیوں نہ کہہ دی؟ اگر وہ شروع میں ہی کہہ دیتے تو حضرت آدم علیہ السلام کے بعد وہ براہِ راست آقا علیہ السلام کی بارگاہ میں آ جاتے۔ لیکن ایک ایک دروازے پر قیامت کے دن اللہ بھیج رہا ہے تاکہ یہ بھی پتا چل جائے کہ ہر امت اپنے نبی کے دروازے پر سائل بن کے جائے اور یہ بھی پتہ چل جائے کہ ہر دروازے سے جواب ملے : ’’نہیں! آگے جاؤ، آگے جاؤ۔‘‘ گھومتے گھومتے سب کو خبر ہو جائے اور پورے محشر میں اعلان ہو جائے کہ قیامت کے دن سب امتوں کا ملجا و ماويٰ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔ پھر جب آقا علیہ السلام کے پاس لوگ آئیں گے تو آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمائیں گے :

(73) بخاری، الصحيح، کتاب التفسير، 4 : 1746، رقم : 4435
(74) مسلم، الصحيح، کتاب الايمان، 1 : 185، رقم : 194

أَنَا لَهَا.

’’ہاں! اس شفاعت کے لیے تو میں ہی مخصوص ہوں۔‘‘

(75) بخاری، الصحيح، کتاب التوحيد، 6 : 2727، رقم : 7072

روزِ محشر عرش پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جلوسِ عظمت

اُس دن شان و شوکتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عملی مظاہرہ ہوگا۔ جب اللہ تعاليٰ کی بارگاہ میں حساب و کتاب شروع کرنے کے لیے آقا علیہ السلام لب کشائی فرمائیں گے۔ یہی ثابت کرنے کے لیے کہ آقا علیہ السلام جن کے اوپر سب کے ایمان کا مدارا ہے اس کا مقام و مرتبہ یہ ہے کہ جب حساب و کتاب شروع ہوجائے گا، تو اللہ پاک فرمائے گا : محبوب حساب و کتاب اب شروع ہے، اب عدالت قائم ہوگی تخت لگ جائے گا۔ تو اللہ تبارک و تعاليٰ سرِ عرش اپنی کرسی پر جو اللہ رب العزت کے لیے خاص ہوگی، (1) اپنی شان کے لائق جلوہ افروز ہوگا اور فرشتہ کو حکم دے گا : عرش پر میری کرسی کے دائیں جانب میرے مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کرسی بچھا دی جائے۔ تو قیامت کے دن عرش الٰہی پر دو کرسیاں رکھی جائیں گی۔ عرش پر ایک کرسی ہوگی رب کائنات کی وہ جو صدر بزم قیامت ہوگا، صدر یوم قیامت کے ساتھ دوسری کرسی اس دن کے مہمان خصوصی تاجدارِ کائنات کی ہوگی ’’عن يمين الرحمان يمين العرش‘ (2) عرش کی کرسی پر دائیں جانب تشریف فرما ہوں گے۔ یہ پھر demonstration ہوگا کہ جہاں ابتداء میں ہر نبی کو حضور کی متابعت میں دیا گیا تھا وہاں انتہا بھی ساری کائنات، ساری مخلوقات سمیت سب انبیاء علیہم السلام حضور کی متابعت میں ہو علیہ السلام گے۔ اس لیے اب یہ جو ہر پیغمبر کو تلاش تھی اور ہر پیغمبر نے اپنی ہر امت کو بتا دیا تھا کہ آنے والے جن کی خاطر بزم کائنات بنی ہے وہ آرہے ہیں تم ان پر ایمان لانا۔ ہر نبی نے اپنی امت کے اندر آقا علیہ السلام کی تلاش کی پیاس پیدا کردی تھی۔

(1) حاکم، المستدرک، 2 : 396، رقم : 3385
(2) حاکم، المستدرک، 2 : 396، رقم : 3385

آمدِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اِنتظار اور شہر مدینہ کا قیام

ایک عجیب واقعہ جو خالی از دلچسپی نہیں آپ کی نذر ہے۔ چونکہ اللہ تعاليٰ نے ہر نبی سے یہ وعدہ لیا اور ہر نبی نے اپنی اُمت کو یہ خبر دی۔ سو آقا علیہ السلام کی آمد، اس کی شہرت اتنی ہوچکی تھی کہ کوئی قوم ایسی نہ تھی جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد سے بے خبر ہو۔ امام ابو سعد الخرکوشی النیشاپوری، جو کہ حدیث کے بہت بڑے امام ہو گزرے ہیں اور اکثر ائمہ حدیث خواہ وہ امام عسقلانی ہوں، امام قسطلانی ہوں، امام عینی ہوں، قاضی عیاض ہوں، امام نووی ہوں، امام سیوطی ہوں یا امام قرطبی، وہ سب امام ابو سعد نیشاپوری کا حوالہ بطور حجت دیتے ہیں۔

وہ اپنی کتاب ’’شرف المصطفیٰ صلی الله عليه وآله وسلم (1 : 93-105، رقم : 1)’’ میں روایت(1) کرتے ہیں کہ آقا علیہ السلام کی بعثت سے ایک ہزار سال قبل یمن کی سر زمین کا بادشاہ تُبَّع الاوّل تھا۔ تاہم اِس کے بارے میں مختلف اقوال ہیں کہ یہ واقعہ (جو ہم بیان کرنے جارہے ہیں وہ) تُبَّع الاوّل کا ہے۔ امام ابو سعد النیشاپوری نے تُبَّع الاوّل ذکر کیا ہے جب کہ بعضوں نے کہا ہے کہ تُبَّع الاوسط تھا۔ جب کہ بعض کہتے ہیں کہ یہ سب سے بعد میں آنے والے تُبَّع الاصغر کا واقعہ ہے۔ دراصل تُبَّع ایک اصطلاح ہے جو دنیا کے ان پانچ بادشاہوں میں سے ایک ہے جنہوں نے پوری دنیا میں فتوحات کیں۔ جیسے روم کے بادشاہ کے لیے ’’قیصر‘‘ کی اصطلاح ہوتی تھی، ایران کے بادشاہ کے لیے ’’کسريٰ‘‘ کا لقب استعمال کیا جاتا تھا۔ اَسی طرح تُبَّع ایک اصطلاح ہے۔ یہ ان پانچ بادشاہوں میں سے ایک ہے جنہوں نے پوری دنیا میں فتوحات کیں۔ آقا علیہ السلام کے زمانے سے ایک ہزار سال قبل یہ روانہ ہوا۔ اس کے بارے میں کہتے ہیں کہ جس ملک اور جس شہر کو فتح کرتا وہاں سے دس اَفراد نہایت اعليٰ، صاحبانِ حکمت، صاحبانِ علم یعنی چوٹی کے دس بڑے زعماء کو چن لیتا اور اپنے لشکر میں بطور مشیر شامل کر لیتا۔ اس کا لشکر جب عالمی فتوحات کرنے کے لیے نکلا تو ایک لاکھ تینتیس ہزار گھوڑے اُس میں شامل تھے، ایک لاکھ تیرہ ہزار پیادہ سپاہی تھے، اور دس دس حکماء، زعما، دانش مند، اہل علم جو وہ شہر شہر اور ملک ملک سے جمع کرتا گیا اُس کے لشکر میں ان کی تعداد چار ہزار ہوگئی تھی۔ چونکہ پوری دنیا کی فتوحات کر رہا تھا، اس لیے چلتے چلتے وہ عرب پر حملہ کرنے کے لیے سر زمین مکہ کی سرحدوں پر پہنچا۔ وہ جس جگہ بھی جاتا تھا اُس کی طاقت اور قوت دیکھ کر اُس علاقے کے لوگ اُس کی بڑی تعظیم و تکریم کرتے اور خود سرنگوں ہوجاتے۔ لیکن جب وہ مکہ پہنچا تو اہل مکہ نے اس کی تعظیم و تکریم کی نہ اُس کے رعب و دبدبے سے مرعوب ہوئے۔

(1) امام ابو سعد اپنی کتاب ’’شرف المصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (1 : 93-105، رقم : 1)’’ کے اندر یہ روایت بڑی جید سند کے ساتھ لائے ہیں جس کو محمد بن سہل بن ہلال البستی روایت کرتے ہیں، اُن کو ابو الحسن محمد بن نافع الخزاعی مکہ میں روایت کرتے ہیں، انہوں نے یہ روایت ابو محمد اسحاق بن احمد سے لی، اُنہوں نے صاحبِ تاریخ مکۃ امام ابو الولید الازرقی سے روایت لی، انہوں نے آگے سعید بن سالم سے، انہوں نے عثمان بن ساج سے اور اُنہوں نے محمد بن اسحاق سے روایت لی۔
یہ تمام رُواۃ اَسماء الرجال کی کتب اور طبقات المحدثین کی کتب میں اس حدیث کی سند کو ثقہ مانتے ہیں۔ اِن کی روایت مقبول ہے۔ کثرت کے ساتھ ائمہ حدیث، ائمہ جرح و تعدیل نے ان کی تائید کی ہے۔

اُس نے عماریسا نامی اپنے وزیر خاص کو بلایا اور اہل مکہ کی بے التفاتی کی وجہ دریافت کی۔ وزیر نے کہا : آپ زیادہ غصے میں نہ آئیں۔ یہ عرب لوگ جاہل، ان پڑھ بدو ہیں۔ یہ اپنے حال میں مست رہنے والے بتوں کے پجاری ہیں۔ ان کے شہر میں ایک گھر ہے جسے کعبہ کہتے ہیں۔ یہ اس پر بڑا فخر کرتے ہیں اور یہ اُس کعبے کے مجاور ہیں، اور اس کا انہیں بڑا گھمنڈ ہے۔ اس وجہ سے کسی کی پروا نہیں کرتے۔ بادشاہ نے سوچا کہ اگر یہ بات ہے تو میں پھر اس گھر کو ہی (معاذ اللہ) مسمار کر دیتا ہوں۔ بس اس نے یہ ارادہ کیا ہی تھا کہ اس کے سر میں ناقابل برداشت قسم کا شدید درد شروع ہوگیا، اور ساتھ ہی اس کی آنکھوں، دونوں کانوں، ناک اور منہ سے بودار پانی پیپ کی مانند بہنے لگ گیا۔ جو اتنا بدبو دار تھا کہ کوئی شخص اُس کے پاس مجلس میں بیٹھنے کے لیے تیار نہ تھا۔ وہ سخت پریشان ہوا۔ جتنے حکماء و اطباء تھے ان کو بلایا۔ انہوں نے سر توڑ کوشش کی لیکن کسی سے اس کا علاج نہیں ہو سکا۔ وہ کہنے لگے کہ ہماری سمجھ میں یہ آتا ہے کہ یہ کوئی اَمر سماوی ہے، اَمرِ اَرضی نہیں۔ زمینی مرض ہوتا تو ہم میں سے کسی نہ کسی کی سمجھ میں اس کا علاج آ جاتا۔ یہ کہہ کر سب لوگ چلے گئے اور اس پر رات کا اندھیرا چھا گیا۔

اس کے چار ہزار بڑے چوٹی کے علماء بڑے متقی اور بڑے پرہیزگار عالم تھے۔ ان میں سے ایک نے عمار یسا سے کہا : میں ایک راز کی بات بادشاہ تُبَّع سے کرنا چاہتا ہوں مگر وہ خلوت میں مجھے ملے اس وقت جب کوئی اور شخص موجود نہ ہو تاکہ راز افشا نہ ہو۔ اس نے کہا کہ دوسری بات یہ کہ : میں اس کے مرض کا علاج کر سکتا ہوں۔ مگر شرط یہ ہے کہ جو کہوں وہ اس پر عمل کرے۔ وزیر نے بادشاہ سے آ کر یہ باتیں کیں۔ وہ اتنی سخت تکلیف میں تھا کہ دونوں باتیں مان گیا۔ چنانچہ رئیس العلماء رات کی تنہائی میں خلوت میں بادشاہ تُبَّع کے پاس آیا۔ اُس نے خلوت میں پوچھا : یہ بتائیے آپ نے ذہن میں کعبہ کو مسمار کرنے کا ارادہ کیا تھا؟ بادشاہ نے کہا : ہاں! یہ ارادہ میں نے کیا تھا، اور صرف اس کعبہ کو تباہ کرنے کا ارادہ ہی نہیں بلکہ یہاں کے باسیوں کو قتل کرنے اور پورے شہر کو تباہ وبرباد کرنے کا ارادہ کیا تھا۔ اُس نے کہا : بس یہی سبب ہے اور یہ مصیبت ٹل نہیں سکتی، جب تک تم اِرادہ نہ بدل لو اور توبہ کر لو۔ بادشاہ نے اُسی لمحے توبہ کر لی اور کہا کہ تم گواہ ہو جاؤ کہ ِاس کعبہ اور اہل مکہ کی نسبت میرے تمام مکروہ اِرادے میرے دل و دماغ سے نکل گئے۔ اُس کے توبہ کرنے کی دیر تھی کہ اُس عالم کے بادشاہ سے روانہ ہونے سے قبل ہی بادشاہ کی پیپ بھی بند ہوگئی اور درد سر بھی ٹھیک ہوگیا۔ وہ اﷲ تعاليٰ پر ایمان لے آیا اور اپنی قیام گاہ سے دین ابراہیمی کا پیروکار بن کر نکلا۔ اُس نے کعبے پر سات غلاف چڑھائے اور اپنے لشکر کو بلا کر اس گھر کی حفاظت کے احکامات جاری کیے۔ تو تُبَّعْ وہ پہلا شخص ہے جس نے کعبۃ اﷲ پر غلاف چڑھایا۔ (1)

ابن اسحاق، السيرة النبوية : 105

(1) یہ محض کوئی داستان نہیں۔ ایک تو امام ابو سعد النیشاپوری جیسے جلیل القدر امامِ حدیث نے اپنی کتاب شرف المصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں قوی اور جید سند کے ساتھ اسے روایت کیا ہے۔ یہ کتاب پہلے چھپی ہوئی نہیں تھی۔ چند سال پہلے تاریخ میں پہلی بار چھپی ہے اور جس سال پہلی مرتبہ چھپی راقم کویت میں تھا تو میں نے یہ نسخہ خرید لیا۔ اس سے پہلے اس کے مخطوطے تھے اور اَئمہ حدیث کے مخطوطوں کے ذریعے سے اس کتاب کے حوالے ملتے تھے۔
اس دلچسپ واقعے کو امام ابن اسحاق نے اپنی ’’السیرۃ النبویۃ (ص : 103-107)’’ میں روایت کیا جو سیرتِ طیبہ پر سب سے پہلی اور مستند ہے۔ امام ابن سعد نے اپنی ’’الطبقات الکبری (1 : 158، 159)’’ میں روایت کیا۔ امام ابو الولید الازرقی نے ’’اخبار مکۃ (1 : 132-134)‘‘ میں اسے روایت کیا۔ امام سعید بن منصور نے ’’السنن (2 : 400، رقم : 2978)‘‘ میں روایت کیا۔ امام بیہقی نے ’’دلائل النبوۃ (2 : 509) میں روایت کیا۔ حدیث کے جلیل القدر امام طبرانی نے ’’المعجم الاوسط (4 : 35، رقم : 3544)’’ میں روایت کیا۔ امام ماوردی نے ’’اعلام النبوۃ (ص : 199)’’ میں روایت کیا۔ امام طبری نے ’’تاریخ الامم والملوک (2 : 94۔ 99)‘‘ میں اپنے طرُق اور اپنی اسانید کے ساتھ اس کو روایت کیا ہے۔ ابن عساکر نے ’’تاریخ دمشق الکبیر (11 : 68-77)‘‘ میں بہت سارے طُرق کے ساتھ روایت کیا۔ امام سیوطی نے ’’الدر المنثور (7 : 417)‘‘ میں روایت کیا۔ امام ابو نعیم جو حدیث کے بڑے ثقہ امام ہیں انہوں نے دلائل النبوۃ میں اس کو روایت کیا۔ امام واقدی نے اس کو روایت کیا۔ امام ابن قُتَیبہ نے اس کو روایت کیا۔
اتنے ائمہ نے اپنے اپنے طُرق اور اسانید صحیحہ معتمدہ کے ساتھ اسے الگ الگ روایت کیا ہے۔

اِس کے بعد بادشاہ تُبَّع لشکر لے کر آگے چل پڑا۔ سفر کرتے کرتے وہ ایک جگہ پہنچے جہاں کوئی آبادی نہیں تھی۔ صرف پانی کا ایک چشمہ تھا، وہاں سارا لشکر رُک گیا کہ چلو پانی پی لیں اور تھوڑی دیر آرام کریں۔ بادشاہ نے جگہ کا نام پوچھا تو گرد و نواح میں سے اِکا دُکا لوگوں نے بتایا کہ اس سر زمین کو یثرب کہتے ہیں۔ وہاں اُس نے قیام کیا اور اعلان کیا کہ کل یہاں سے روانہ ہوں گے۔ اِس دوران میں لشکر میں موجود چار ہزار صاحبانِ علم کا اجلاس ہوا اور انہوں نے باہمی صلاح مشورہ کیا۔ وہ علماء سماوی کتب کا علم رکھنے والے اور صاحبانِ بصیرت تھے۔ وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد، بعثت، ولادت اور ہجرت کے تذکروں کی پوری پہچان رکھتے تھے۔ جن کے پاس یہ سارا علم تھا وہ جانتے تھے کہ وہ نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہجرت کر کے اِس یثرب نامی وادی میں تشریف لائیں گے اور اسے یثرب سے مدینہ بنا دیں گے۔

اب انہوں نے طے کر لیا کہ قسمت ہمیں یہاں لائی ہے، اگر ہم یہ سرزمین چھوڑ کر چلے گئے تو ہم سے بڑا بدقسمت کون ہوگا۔ اور ممکن ہے وہ ہمارے زمانے میں آ جائیں، ممکن ہے ہماری اولادوں کے زمانے میں آ جائیں۔ لہٰذا ان میں سے چار سو علماء نے یہ فیصلہ کیا کہ چاہے بادشاہ قتل بھی کر دے یا زندہ جلا دے، ہم یہاں سے نہیں جائیں گے۔ صبح بادشاہ نے روانگی کا اعلان کیا تو ان علماء نے اعلان کر دیا کہ ہم نہیں جا رہے۔ بادشاہ پریشان ہو گیا کہ یہ اہل علم و دانش اور اہل حکمت میرے مشیر ہیں، یہ کیوں نہیں جا رہے۔ پھر وزیر نے اُن علما سے آ کر بات کی تو اُنہوں نے کہا کہ وہ جو بادشاہ نے کعبے کو مسمار کرنے کا ارادہ کیا تھا اور اُسی وقت آسمانی مصیبت نے اِس کی گرفت کر لی تھی اور پھر جب اس نے ارادہ ترک کر دیا تو بچ گیا۔ وہ دراصل جو اُس کعبے کی حرمت تھی وہ صاحبِ کعبہ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صدقے سے تھی۔ اس کعبہ کے شہر میں اُس نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیدا ہونا ہے کہ یہ اُن کی ولادت کا شہر ہے اور اس کعبہ کو انہوں نے آباد کرنا ہے۔ لہٰذا آپ بادشاہ کو بتا دیں کہ ہم نے تمام آسمانی کتابوں میں یہ متفقہ طور پر پڑھ رکھا ہے کہ وہ رات اُس شہر مکہ میں ہوگی جب تاجدارِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہجرت کر کے اِس مقام یثرب پر آئیں گے۔ (1) اور اُن کا مزار اقدس بھی یہاں بنے گا۔ اب ہم اس یثرب کی سرزمین کو چھوڑ کر نہیں جانا چاہتے۔ یہ مبارک ہوگی اُن لوگوں کے لیے کہ جو اپنی زندگی میں اُن کا زمانہ پا لیں گے اور اُن پر ایمان لائیں گے، اور اگر وہ نہ پا سکے تو اُن کی اولادیں اُن کو پا لیں گی اور اُن پر ایمان لائیں گی۔ جب یہ بات وزیر نے بادشاہ کو بتائی تو بادشاہ نے کہا : اگر یہ بات حقیقت ہے تو اعلان کر دو کہ ایک سال تک میں خود اُن کی آمد کے انتظار میں یہیں رُکوں گا۔ اب اُس نے ایک سال وہاں قیام کیا اور چونکہ چار سو علماء نے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ تو یہاں سے نہیں جائیں گے۔ پس بادشاہ نے چار سو کے چار سو علماء کے لئے ایک ایک گھر بنا دیا۔ (2) اور جو باندیاں و لونڈیاں فتوحات کے نتیجے میں حاصل ہوئی تھیں اُس نے اُن میں سے چار سو کو آزاد کر کے اپنی موجودگی میں ایک ایک عالم کے ساتھ شادی کرائی اور ان کو ایک ایک گھر میں ٹھہرایا۔

(1) ابن سعد، الطبقات الکبری، 1 : 159
(2) ابن عساکر، تاريخ دمشق الکبير : 11 : 75

اس طرح چار سو جوڑے بنے اور چار سو گھر آباد ہوئے اور اس طرح تُبَّعْ کے ہاتھوں شہر مدینہ کی ابتداء ہوئی۔ یہ ہزار سال پہلے کا واقعہ ہے۔ (3) بعض ائمہ حدیث و تاریخ نے سات سو سال پہلے کا ذکر کیا ہے۔

(3) ازرقی، اخبار مکة، 1 : 134

جب ایک سال بعد بادشاہ یثرب سے روانہ ہونے لگا تو اُس نے رئیس العلماء کو بلایا؛ وہ رئیس العلماء جس نے اس کی ساری رہنمائی کی تھی اور جو اسے یثرب تک لایا تھا۔ اس کو بلا کر کہا : تم گواہ ہو جاؤ، ہمیں معلوم نہیں کتنا زمانہ پڑا ہے محمد مصطفی ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی آمد اور بعثت کا، مگر تم گواہ ہو جاؤ کہ میں ان پر ایمان لے آیا اور ان کی آمد سے پہلے، میں ان کا پہلا اُمتی بنتا ہوں۔ میں ایک خط لکھ کے تمہیں دیتا ہوں، اگر تمہاری زندگی میں آقا (علیہ السلام) آ جائیں تو ان کو میرا خط دے دینا اور اگر تمہاری زندگی میں نہ آئیں تو پھر نسل بعد نسل اپنی اولاد کو دیتے جانا، اور وصیت کرتے جانا کہ جس نسل میں جس زمانے میں آقا (علیہ السلام) تشریف لائیں، میرا خط انہیں دے دیا جائے۔ اُس نے خط میں لکھا :

اَمَّا بَعد يَا مُحَمَّد - صَلَّی اﷲُ عَلَيکَ - إِنِّي آمَنتُ بِکَ وَبِکِتَابِکَ الَّذِي أَنزَلَ اﷲُ عَلَيْکَ، وَأَنَا عَلَی دِينِکَ وَسُنَّتِکَ، وَآمَنتُ بِرَبِّکَ وَرَبِّ کُلِّ شَيئٍ.

ابو سعد خرکوشی، شرف المصطفی، 1 : 100، 101، رقم : 1

’’اما بعد! اے محمد (صلی اﷲ علیک وسلم)! میں آپ پر ایمان لایا اور آپ کی اُس کتاب پر ایمان لایا جو اﷲ تعاليٰ آپ پر نازل فرمائے گا۔ اور میں اعلان کرتا ہوں کہ آپ کے دین میں آ گیا ہوں اور آپ کی سنت پر جو آپ کا طریقہ ہوگا اس پر قائم ہوں۔ اور آپ کے رب اور ہر شے کے رب پر ایمان لے آیا ہوں۔‘‘

اس کے بعد وہ خط میں مزید بیان کرتا ہے :

وَإِنْ لَّمْ اُدْرِکک فَاشفع لِي يَومَ القِيَامَة، ولا تنسنی، فإنی من أمتک الأولين، وَبَايَعتُکَ قَبلَ مَجِيئِک، وقبل إرسال اﷲ إياک، وأنا علی ملتک وملة إبراهيم أبيک خليل اﷲ.

ابوسعد خرکوشی، شرف المصطفی، 1 : 101، رقم : 1

’’اور اگر میں (اپنی زندگی میں) آپ کو نہ پا سکوں تو میری التجا ہے کہ قیامت کے دن میری شفاعت فرما دیجیے گا اور مجھے فراموش مت کیجیے گا۔ کیوں کہ میں آپ کے پہلے امتیوں میں سے ہوں اور میں نے آپ کی آمد سے بھی پہلی آپ کی بیعت کی اور آپ کے ہماری طرف مبعوث کیے جانے سے بھی قبل آپ پر ایمان لے آیا۔ اور میں آپ کی ملت پر ہوں اور آپ کے والد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ملت پر ہوں۔‘‘

یہ خط لکھ کر اس نے آخر میں اپنی مہر لگا دی اور لکھا :

إلٰی مُحَمَّدِ بنِ عَبدِ اﷲِ خَاتَمِ النَّبِيِّنَ، ورَسُولِ رَبِّ العٰـلَمِين صلوات اﷲ عليه. مِن تُبَّعِ الأَوَّل الحِمْيَري.

ابوسعد خرکوشی، شرف المصطفی، 1 : 101، رقم : 1

’’تُبع الاول حِمَیري کی طرف سے خاتم النبیین اور رب العالمین کے پیغمبر محمد بن عبد اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں۔‘‘

بادشاہ یہ خط بطور امانت اُس رئیس العلماء کو دے کر روانہ ہوگیا۔ اب اس بات کو سات سو یا ایک ہزار برس گزر گئے۔ ان کی اولادیں بڑھتی رہیں اور قبیلے بنتے رہے اور مدینہ (یثرب) آباد ہوتا چلا گیا۔ دور دراز آبادیوں میں انہی چار سو علماء کی اولادیں آباد ہو گئیں۔ ان میں یہود بھی تھے اور کچھ نصاريٰ تھے۔ اس زمانے میں لوگ دین ابراہیم پر تھے جن کو قرآن نے اہل کتاب قرار دیا ہے۔ ان میں بیشتر کا تعلق بنی اسرائیل سے تھا۔ پھر جب آقا علیہ السلام کا زمانہ آ گیا اور 53 برس کی عمر مبارک میں آقا علیہ السلام نے ہجرت کا فیصلہ فرما لیا۔ جب یہ خبر پہنچ مدینہ پہنچی تو جو لوگ منيٰ میں بیعت کر آئے تھے، تو انہوں نے آقا علیہ السلام کو خط دینے کے لئے بندہ تلاش کیا۔ انہوں نے مشورہ کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد سے قبل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں خط پیش کر دیا جائے۔ عبد الرحمن بن عوف نے انہیں مشورہ دیا کہ اپنے میں سے ثقہ آدمی کو اپنا نمائندہ منتخب کر لو(1) اور اس کو خط دے کر بھیج دو کہ وہ راستے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خط پہنچا دے۔ انہوں نے انصار میں سے ابو لیلی نامی ایک معتمد اور معتبر شخص کو منتخب کیا اور تبع الاول کا خط دے کر روانہ کیا۔ (2) مکہ معظمہ سے آقا علیہ السلام نکلے ہی تھے کہ وہ خط لے کر وہ پہنچ گئے اور آقا علیہ السلام کو دیا۔ (ایک روایت میں ہے کہ آقا علیہ السلام نے لے کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دیا کہ علی! پڑھو کہ یہ کیا لکھا ہے۔ )

(1) ابوسعد خرکوشی، شرف المصطفی، 1 : 102، رقم : 1
(2) ابن عساکر، تاريخ دمشق الکبير، 11 : 76

اس روایت سے پتا چلتا ہے کہ آقا علیہ السلام کے مکہ معظمہ سے روانہ ہونے سے قبل خط پہنچ چکا تھا، اور بعض ائمہ نے جو اپنے طرق سے روایات لی ہیں ان میں لکھا ہے کہ آقا علیہ السلام نے صدیق اکبر کو خط دیا ہے۔ فرمایا : پڑھو، ابوبکر کیا لکھا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر ہجرت پر روانہ ہو چکے تھے۔ تاہم اُسی ایک دن کا واقعہ ہے کہ ابو لیلی وہ خط لے کر روانہ ہوا تو آقا علیہ السلام راستے میں پڑاؤ کئے ہوئے تھے۔ اس کی نظر آقا علیہ السلام پر پڑی، اسے معلوم نہیں تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کون ہیں۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ کون ہے۔ وہ تو اس خیال سے آ رہا تھا کہ مکہ پہنچ کر دریافت کروں گا اور پھر آپ کو خط دوں گا۔ مگر جب آقا علیہ السلام کے چہرے پر نگاہ پڑی تو وہ تکتا ہی رہ گیا۔ اتنے میں آقا علیہ السلام فرماتے ہیں :

أَنتَ أَبُو لَيلَی؟

’’اے شخص! تمہارا نام ابو لیليٰ ہے؟‘‘

اُس نے عرض کیا : جی میرا نام ابو لیلی ہے۔ آقا علیہ السلام نے فرمایا :

وَمَعَکَ کِتَابُ تُبَّع الاَوَّل.

’’اور تُبَّع الاَوَّل کا خط تمہارے پاس ہے؟‘‘

وہ شخص متفکر اور متحیر ہو گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے سے تو جادوگر ہونے کے آثار نظر نہیں آتے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کیسے پتا چل گیا کہ میں ابو لیليٰ ہوں اور میرے پاس تبع کا خط ہے؟ کیوں کہ ان کے ذہن میں تو یہ نہیں تھا کہ سوائے جادوگر کے اور کوئی بھی غیبی بات جان سکتا ہے۔ آقا علیہ السلام نے فرمایا :

أنا محمد رسول اﷲ، هات الکتاب.

ابو سعد خرکوشی، شرف المصطفی، 1 : 102، رقم : 1

’’میں محمد رسول اﷲ ہوں اور وہ خط (جو تُبَّعْ نے میرے لئے لکھا تھا) مجھے دے دو۔‘‘

بہر حال روایات میں اختلاف ہے کہ وہ خط سفر ہجرت پر روانہ ہونے سے قبل ملا یا سفر ہجرت کے دوران میں۔ تاہم خط آقا علیہ السلام نے رکھ لیا اور پھر سفر ہجرت مکمل کر کے یثرب پہنچے۔ سب نے استقبال کیا اور ہر شخص خواہش مند تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے گھر رکیں اور میرے گھر مہمان ہوں۔ آقا علیہ السلام نے ان کو فرما دیا کہ نہیں! نہ تم فیصلہ کرو گے نہ میں فیصلہ کروں گا، یہ اونٹنی مامور ہے۔ (1) اب کُل انصار مدینہ جلوس کی شکل میں دف بجاتے اور آقا علیہ السلام کے استقبال کے نغمے گاتے اور حبشہ سے آئے ہوئے حبشی رقص کرتے، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا استقبال کر رہے ہیں اور چھوٹی بچیاں دف بجا کے طَلَعَ البَدرُ عَلَينَا کے نغمے گا رہی ہیں۔ (2) اک سماں تھا اور سارا شہر اہل مدینہ کے پیچھے پیچھے تھا، آقا علیہ السلام اونٹنی پر سوار تھے اور دنیا کی نگاہیں اونٹنی پر جمی ہوئی تھیں کہ کس کے گھر جا کر بیٹھتی ہے۔ آقا علیہ السلام کو لے کر چلتے چلتے جب حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کا گھر آیا تو اُونٹنی اس کے آگے بیٹھ گئی۔ آقا علیہ السلام نے اُس کا شجرہ نسب پوچھا تو واضح ہوا کہ ابو ایوب انصاری اس رئیس العلماء کی اولاد میں سے تھے جو تُبَّعْ اَوَّل کے ساتھ ایمان لایا تھا اور جس نے دعوت دی تھی۔ (3) امام ابو سعد النیشاپوری کہتے ہیں کہ تُبَّعْ الاوَّل نے جو چار سو گھر بنا کر دیے تھے ان کے بارے میں رئیس العلماء کو بتا دیا تھا۔ لیکن ایک گھر اُس نے نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے تعمیر کروایا تھا۔ تو حقیقت میں جس گھر کے سامنے اونٹنی رکی وہ گھر ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کا بھی نہیں تھا، صرف ان کے کنٹرول اور تحویل میں تھا۔ اونٹنی وہیں بیٹھی جو ہزار سال پہلے تُبَّعْ کے حکم سے دارِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طور پر تعمیر ہوا تھا۔ (4)

(1) 1. طبرانی، المعجم الاوسط، 4 : 35، رقم : 35444
2. بيهقی، دلائل النبوة، 2 : 509


(2) 1. ابن ابی حاتم رازی، الثقات، 1 : 131
2. بيهقی، دلائل النبوة، 2 : 507
(3) ابو سعد نيشاپوری، شرف المصطفی، 1 : 104، رقم : 1
(4) ابن عساکر، تاريخ دمشق الکبير، 11 : 77

یہ علم تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اونٹنی کا ہے کہ ہر ایک نے کہا : میرے گھر ٹھہریں۔ آقا علیہ السلام کی اونٹنی نے کہا : ارے تم کون ہو کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمہارے گھر ٹھہریں، مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی کے مہمان نہیں بلکہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود میزبانِ کائنات ہیں۔ یہ اپنے گھر ٹھہریں گے جو ہزار سال پہلے ان کے لیے تعمیر کیا گیا تھا۔ (1)

(1) آج کی اس مبارک رات میں تحدیثِ نعمت کے طور پر ایک بات آپ کو بتا رہا ہوں۔ آج سے ساٹھ ستر سال پہلے جب سعودی حکومت آئی تو انہوں نے حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر کو ’’مدرسۃ العلوم الشرعیۃ’’ بنادیا۔ یہ گھر گنبد خضريٰ کے بالکل سامنے تھا۔ اللہ کی شان دیکھئے کہ کس جگہ وہ گھر اللہ نے بنوایا۔ عین اس مقام پر کہ جس کے بالکل سامنے صرف ایک چھوٹی سی گلی ہے، گلی کی اس دیوار میں ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر کا دروازہ ہے۔ اِس دیوار میں باب جبریل ہے اور باب جبریل کے ساتھ دائیں جانب آقا علیہ السلام کا مزارِ اقدس ہے۔ گھر بھی عین اس مقام پہ تعمیر کروایا گیا جہاں آقا علیہ السلام نے قیام بھی کرنا تھا اور جہاں مزار اقدس اور گنبد خضريٰ بھی بننا تھا۔ باب جبریل کے بالکل سامنے اُس زمانے میں یہ سیدنا ابو ایوب انصاری کا گھر دار ابی ایوب کہلاتا تھا۔ اب وہ جو زمانہ آپ نے دیکھا وہ مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اندر آگیا مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حصے میں آگیا، مگر 1963ء میں، جب میری عمر 12 سال تھی، میں وہاں گیا تھا تو اُس وقت مسجد نبوی کی توسیع نہیں ہوئی تھی۔ وہاں میری دینی تعلیم کا آغاز دار ابی ایوب - مدرسۃ العلوم الشرعیۃ - میں ہوا تھا۔ تاہم مدرسہ اور گھر بعد میں مسمار کر دیے گئے۔ اور مولانا ضیاء الدین مدنی رحمۃ اللہ علیہ جن کا گھر بابِ مجیدی کے سامنے اُس سمت تھا، تو انہوں نے مجھے بسم اللہ کرائی تھی۔

حیوانات میں معرفتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مظاہر

اندازہ کیجئے کہ تمام انبیاء اور رُسل علیہم السلام حضور علیہ السلام کی آمد کا ذکر کرتے اور اپنی اپنی اُمت کو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لانے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ادب اور تعظیم و تکریم کرنے کی ترغیب اور تعلیم دیتے رہے۔ انبیاء اور رُسل علیہم السلام کو تو پہچان تھی اور انہوں نے آقا علیہ السلام کی عظمت اور نبوت اور رسالت کی پہچان اپنی کُل امتوں کو کروا دی تھی۔ لیکن اللہ رب العزت نے اپنی مخلوقات میں خواہ کوئی بھی جاندار تھا، انسان تھا، حیوان تھا، درخت تھے، شجر تھے، حجر تھے، پتھر تھے، کائنات کے تمام حیوانات، نباتات، شجر و حجر کو تاجدارِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمت کی پہچان آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد سے بھی پہلے کروا دی تھی۔

کائنات کی کوئی شے، کوئی ذرہ ایسا نہ تھا جس کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پہچان نہ تھی۔

1۔ امام احمد بن حنبل نے اپنی ’’مسند‘‘ میں، دارمی نے اپنی ’’سنن‘‘ میں اور امام طبرانی نے سند حسن اور سند صحیح کے ساتھ روایت کیا ہے کہ کس کس کو پہچان تھی۔‘‘صحیح مسلم‘‘ میں اور ’’جامع ترمذی‘‘ میں حدیث ہے۔ حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

إِنِّي لَأَعْرِفُ حَجَرًا بِمَکَّةَ کَانَ يُسَلِّمُ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ أبْعَثَ، إِنِّي لَأَعْرِفُهُ الْآنَ.

  1. مسلم، الصحيح، کتاب الفضائل، بَابُ فَضْلِ نَسَبِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم وَتَسْلِيمِ الْحَجَرِ عَلَيْهِ قَبْلَ النُّبُوَّةِ، 4 : 1782، رقم : 2277
  2. ترمذی، السنن، کتاب المناقب، باب آيات إثبات نبوة النبي صلی الله عليه وآله وسلم وما قد خصه اﷲ، 5 : 592، رقم : 3624
  3. دارمي، السنن، 1 : 24، رقم : 20
  4. أحمد بن حنبل، المسند، 5 : 89، 95، رقم : 2277
  5. ابن حبان، الصحيح، 14 : 402، رقم : 6482
  6. ابن أبي شيبة، المصنف، 6 : 313، رقم : 31705
  7. طبراني، المعجم الأوسط، 2 : 291، رقم : 2012
  8. ديلمي، مسند الفردوس، 1 : 58، رقم : 161

’’میں مکہ کے اُس پتھر کو پہچانتا ہوں، جو اِعلانِ نبوت سے قبل بھی مجھے سلام کیا کرتا تھا، یقینا میں اس پتھر کو اب بھی پہچانتا ہوں۔‘‘

2۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :

کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم بِمَکَّةَ. فَخَرَجَ فِي بَعْضِ نَوَاحِيْهَا فَمَا اسْتَقْبَلَهُ شَجَرٌ وَلَا جَبَلٌ إِلَّا قَالَ : اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ، يَا رَسُوْلَ اﷲِ.

  1. ترمذی، السنن، کتاب المناقب، باب (6)، 5 : 593، رقم : 3626
  2. حاکم، المستدرک، 2 : 677، الرقم : 4238

’’ہم مکہ میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ کے گرد و نواح میں گئے تو راستے میں جو پتھر اور درخت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے آتا تو وہ کہتا : اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ، يَا رَسُولَ اﷲِ (یا رسول اللہ! آپ پر سلام ہو)۔‘‘

انسان تو انسان تھے، شجر و حجر اور جمادات، نباتات و حیوانات اور کائنات کی تمام مخلوقات اور ہر شے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پہچانتی تھی اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معرفت رکھتی تھی۔ بدقسمت ہیں وہ لوگ جو امتی ہو کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمت کی معرفت سے محروم ہیں۔

3۔ امام احمد بن حنبل، امام دارمی اور امام طبرانی سندِ حسن کے ساتھ روایت کرتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انصار صحابہ میں سے کسی انصاری کا اونٹ - جس کے ذریعے وہ کھیتی باڑی کرتے اور پانی بھر کے لاتے تھے - بے قابو ہو کر ان پر حملہ آور ہوگیا۔ کھیتی باڑی رک گئی اور ان کے سارے باغ اجڑ گئے۔ اونٹ نے کام کرنا چھوڑ دیا تو وہ پریشان ہو کر آقا علیہ السلام کی بارگاہ میں آئے۔ آقا علیہ السلام نے فرمایا : چلو! اُس اونٹ کے پاس۔ سارے اُٹھ کھڑے ہوئے۔ آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اُس انصاری کے گھر تشریف لے گئے، اُس کے احاطے میں پہنچے تو اونٹ ایک کونے میں بندھا ہوا تھا۔ آقا علیہ السلام اُس کی طرف چل پڑے تو انصار نے کہا : یا رسول اللہ! اس اونٹ کے قریب نہ جائیں، یہ باولے کتے کی طرح کاٹتا ہے، ہمیں خوف ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر حملہ آور نہ ہو جائے۔ آقا علیہ السلام نے فرمایا نہیں، مجھ پر حملہ نہیں کرتا۔ اب حدیث کے لفظ ہیں :

فَلَمَّا نَظَرَ الْجَمَلُ إِلَی رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم أَقْبَلَ نَحْوَهُ حَتَّی خَرَّ سَاجِدًا بَيْنَ يَدَيْهِ، فَأَخَذَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم بِنَاصِيَتِهِ أَذَلَّ مَا کَانَتْ قَطُّ حَتَّی أَدْخَلَهُ فِي الْعَمَلِ.

  1. أحمد بن حنبل، المسند، 3 : 158، رقم : 12635
  2. دارمی، السنن، باب (4)، ما أکرم اﷲ به نبيه من إيمان الشجر به والبهائم والجن، 1 : 22، رقم : 17
  3. طبرانی، المعجم الأوسط، 9 : 81، رقم : 9189
  4. عبد بن حميد، المسند، 1 : 320، رقم : 1053
  5. مقدسی، الأحاديث المختارة، 5 : 265، رقم : 1895

’’اُونٹ نے جیسے ہی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف بڑھا یہاں تک (قریب آ کر) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے سجدہ میں گر پڑا۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے پیشانی سے پکڑا اور حسبِ سابق دوبارہ کام پر لگا دیا۔‘‘

اب حدیث کے اگلے الفاظ کے مطابق صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جب یہ منظر دیکھا کہ اونٹ نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سجدہ کیا ہے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بول اٹھے : یا رسول اﷲ!

يَا رَسُوْلَ اﷲِ! هَذِهِ بَهِيْمَةٌ لَا تَعْقِلُ تَسْجُدُ لَکَ وَنَحْنُ نَعْقِلُ فَنَحْنُ أَحَقُّ أَنْ نَسْجُدَ لَکَ؟

’’یا رسول اﷲ! یہ تو بے عقل جانور ہوتے ہوئے بھی آپ کو سجدہ کر رہا ہے اور ہم تو عقلمند ہیں۔ لہٰذا ہم اس سے زیادہ حقدار ہیں کہ آپ کو سجدہ کریں۔‘‘

ایک روایت میں ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا :

يَا رَسُوْلَ اﷲِ! نَحْنُ أَحَقُّ بِالسُّجُوْدِ لَکَ مِنَ الْبَهَائِمِ.

’’یا رسول اﷲ! ہم جانوروں سے زیادہ آپ کو سجدہ کرنے کے حقدار ہیں۔‘‘

لیکن آقا علیہ السلام نے اِس سے منع فرما دیا۔ اِنسان، انسان کو سجدہ نہیں کر سکتا۔ اس سے منع کر دیا۔

بعض لوگ یہ تصور کرتے ہیں کہ نبی کا کام تو صرف فرائض اور شریعت کے احکام انسانوں تک پہنچانا ہے۔ لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اونٹوں کے ساتھ نبی کا کیا تعلق؟ اونٹوں کو تو کوئی شریعت نہیں پہنچانی، نہ اونٹ، گائے اور بکریاں مکلف ہیں نہ ان کو حلال و حرام سکھانا ہے۔ اگر آقا علیہ السلام کی نبوت و رسالت کو اسی ایک محدود معنی میں لے لیا تو پھر بقایا جو ساری مخلوق جو مکلف نہیں ہے ان کا آقا علیہ السلام کے ساتھ کیا رشتہ ہے؟ انہیں جو معرفت کرائی گئی وہ کس لیے کرائی گئی؟

4۔ اگلی حدیث جس کو امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ نے روایت کیا اور حافظ ابن کثیر نے بیان کیا کہ یہ حدیث بھی ابو داؤد، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ کی اسناد کی ہے جو صحیح احادیث کی شرائط پوری کرتی ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ آقا علیہ السلام مہاجرین اور انصار کے گھروں میں ایک جماعت میں تشریف فرما تھے۔ ایک اونٹ آیا اور زمین پر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدموں کے سامنے سجدہ ریز ہوگیا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا :

يَا رَسُوْلَ اﷲِ! تَسْجُدُ لَکَ الْبَهَائِمُ وَالشَّجَرُ فَنَحْنُ أَحَقُّ أَنْ نَسْجُدَ لَکَ.

  1. أحمد بن حنبل، المسند، 6 : 76، رقم : 24515
  2. بيهقی، السنن الکبری، 7 : 291، رقم : 14482
  3. مقدسي، الأحاديث المختارة، 5 : 265، 266، رقم : 1895
  4. منذری، الترغيب والترهيب، 3 : 35، رقم : 2977
  5. ابن کثير، شمائل الرسول : 326
  6. هيثمي، مجمع الزوائد، 4 : 310

’’یا رسول اللہ! آپ کو جانور اور درخت سجدہ کرتے ہیں جبکہ ہم آپ کو سجدہ کرنے کے زیادہ حقدار ہیں۔‘‘

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : نہیں، شریعت میں منع کر دیا گیا ہے۔

یہاں صرف حدیثیں مختلف حوالوں سے ذکر کی جا رہی ہیں۔ ورنہ اس قسم کے کتنے ہی دیگر مواقع پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمت کی معرفت بہائم نے دیکھی، شجر و حجر نے دیکھی تو صحابہ نے سوال کیا۔ اندازہ کریں کہ انہیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمت کا کتنا ادراک تھا۔

5۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں جسے امام طبرانی نے بیان کیا ہے۔ فرمایا کہ ایک انصاری شخص کے پاس دو اونٹ تھے وہ دونوں سرکش ہو گئے۔ اس نے ان دونوں کو ایک باغ کے اندر قید کر دیا اور پھر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے لیے دعا فرمائیں۔ (وہ جب حاضر ہوا تو) حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انصار کے ایک گروہ میں تشریف فرما تھے۔ اس نے عرض کیا : یا رسول اللہ! میں آپ کے پاس ایک حاجت لے کر حاضر ہوا ہوں۔ میرے دو اُونٹ ہیں جو سرکش ہو گئے ہیں۔ میں نے انہیں باغ میں داخل کر کے دروازہ بند کر دیا ہے۔ آپ سے درخواست ہے کہ آپ میرے لیے دعا کریں کہ اللہ تعاليٰ انہیں میرا فرماں بردار بنا دے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا : اُٹھو، میرے ساتھ آو۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چلے یہاں تک کہ اس باغ کے دروازے پر تشریف لے آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : دروازہ کھولو۔ اس شخص کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے سے خدشہ تھا (کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ جانور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر حملہ کر دیں)۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا : دروازہ کھولو۔ اس نے دروازہ کھول دیا۔ دونوں اُونٹوں میں سے ایک دروازہ کے قریب ہی کھڑا تھا۔ جب اس نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو فوراً آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سجدہ کیا۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میرے پاس کوئی چیز لاو جس کے ساتھ باندھ کر میں اسے تمہارے حوالے کر دوں۔ وہ صحابی ایک نکیل لے آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے اس کو باندھ دیا اور اسے صحابی کے حوالے کر دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باغ کے دوسرے حصے کی طرف چلے جہاں دوسرا اُونٹ تھا۔ اس نے بھی جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس صحابی سے کہا : مجھے کوئی چیز لا دو جس سے میں اس کا سر باندھ دوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا سر باندھ کر اسے صحابی کے حوالے کر دیا اور فرمایا : جاو اب یہ تمہاری نافرمانی نہیں کریں گے۔ جب صحابہ کرام نے یہ سارا واقعہ دیکھا تو عرض گزار ہوئے : یا رسول اللہ! یہ اونٹ جو کہ بے عقل ہیں آپ کو سجدہ کرتے ہیں تو کیا ہم بھی آپ کو سجدہ نہ کریں؟

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بار بھی فرمایا : میں کسی انسان کو یہ حکم نہیں دیتا کہ وہ کسی دوسرے انسان کو سجدہ کرے۔

  1. طبراني، المعجم الکبير، 11 : 356، رقم : 12003
  2. هيثمي، مجمع الزوائد، 9 : 4

6۔ اسی طرح بکریوں کے بارے میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ امام مقدسی اور امام ابونعیم روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے آقا علیہ السلام کو سجدہ کیا۔ اُس وقت حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر فاروق اور چند دیگر انصار صحابہ رضی اللہ عنہم ہمراہ تھے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ! ان بکریوں سے زیادہ ہمارا حق بنتا ہے کہ ہم آپ کو سجدہ کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کسی انسان کے لئے جائز نہیں کہ وہ کسی دوسرے انسان کو سجدہ کرے۔

  1. مقدسي، الأحاديث المختارة، 6 : 130، 131، رقم : 2129، 2130
  2. أبو نعيم، دلائل النبوة، 2 : 379، رقم : 276

نباتات میں معرفتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مظاہر

یہ جانوروں کی محبت تھی۔ پھر محبت کا یہی عالم درختوں کا تھا، اور کیا محبت تھی اُس درخت کی جو کھجور کا خشک تنا تھا۔ یہ حدیث متعدد مقامات پر امام بخاری نے بطور حدیث صحیح روایت کی ہے۔ اس کو امام ترمذی، امام ابن ماجہ، امام ابو یعليٰ، امام ابن حبان، امام طبرانی اور امام دارمی نے روایت کیا ہے۔ صحاح ستہ کے علاوہ لا تعداد ائمہ سے مروی ہے۔ کیا معرفت ہے! وہ تو جانور تھے جانور کو پھر بھی کہیں کہ چلو اس کو کامل شعور نہیں ہے تو جانور ہے، بہر صورت اُسے اپنے حساب سے کچھ سوجھ بوجھ تو ہے۔

1۔ بخاری شریف میں حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اﷲ عنھما بیان کرتے ہیں :

کَانَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم يَخْطُبُ إِلَی جِذْعٍ، فَلَمَّا اتَّخَذَ الْمِنْبَرَ تَحَوَّلَ إِلَيْهِ فَحَنَّ الْجِذْعُ. فَأَتَاهُ فَمَسَحَ يَدَهُ عَلَيْهِ.

  1. بخاری، الصحيح، کتاب المناقب، باب علامات النبوة في الإسلام، 3 : 1313، رقم : 3390
  2. ابن حبان، الصحيح، 14 : 435، رقم : 6506
  3. لالکائي، اعتقاد أهل السنة، 4 : 797، الرقم : 1469

’’حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک درخت کے تنے کے ساتھ ٹیک لگا کر خطاب فرمایا کرتے تھے۔ جب منبر بنا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پر جلوہ افروز ہوئے تو لکڑی کا وہ ستون (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہجر و فراق میں )گریہ و زاری کرنے لگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے پاس تشریف لائے او راس پر اپنا دستِ شفقت پھیرا (تو وہ پرسکون ہو گیا)۔‘‘

2۔ امام ترمذی کی روایت میں ہے :

فَحَنَّ الْجِذْعُ حَنِيْنَ النَّاقَةِ. فَنَزَلَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم فَمَسَّهُ فَسَکَنَ.

ترمذی، السنن، کتاب المناقب، باب فيآيات إثبات نبوة النبي صلی الله عليه وآله وسلم وما قد خصه اﷲ به، 5 : 594، الرقم : 3627

’’پس وہ تنا اس طرح رونے لگا جس طرح اُونٹنی اپنے بچے کی خاطر روتی ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر سے نیچے تشریف لائے اور اس پر ہاتھ پھیرا تو وہ خاموش ہوگیا۔‘‘

3۔ سنن ابن ماجہ کی روایت میں ہے :

فَحَنَّ الْجِذْعُ فَأَتَاهُ فَاحْتَضَنَهُ فَسَکَنَ. فَقَالَ صلی الله عليه وآله وسلم : لَوْ لَمْ أَحْتَضِنْهُ لَحَنَّ إِلَی يَوْمِ الْقِيَامَةِ.

  1. ابن ماجه، السنن، کتاب إقامة الصلاة والسنة فيها، باب ما جاء في بدء شأن المنبر، 1 : 454، رقم : 1415
  2. بخاری، التاريخ الکبير، 7 : 26، رقم : 108
  3. أبو يعلی، المسند، 6 : 114، رقم : 3384
  4. عبد بن حميد، المسند، 1 : 396، رقم : 1336
  5. مقدسي، الأحاديث المختارة، 5 : 37، رقم : 1643

’’پس وہ ستون (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جدائی کی وجہ سے) رونے لگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے پاس تشریف لائے اور اسے سینہ سے لگایا تو وہ پر سکون ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اگر میں اسے سینہ سے نہ لگاتا تو یہ قیامت تک روتا رہتا۔‘‘

4۔ حضرت جابر بن عبد اﷲ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :

حَتَّی سَمِعَهُ أَهْلُ الْمَسْجِدِ حَتَّی أَتَاهُ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم فَمَسَحَهُ فَسَکَنَ. فَقَالَ بَعْضُهُمْ : لَوْ لَمْ يَأْتِهِ، لَحَنَّ إِلَی يَوْمِ الْقِيَامَةِ.

ابن ماجه، السنن، کتاب إقامة الصلاة والسنة فيها، باب ما جاء في بدء شأن المنبر، 1 : 454، رقم : 1415

’’(ستون کے رونے کی) آواز تمام اہلِ مسجد نے سنی۔ (اس کا رونا سن کر) حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے پاس تشریف لائے اور اس پر اپنا دستِ شفقت پھیرا تو وہ پرسکون ہو گیا۔ بعض صحابہ کہنے لگے : اگر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے پاس تشریف نہ لاتے تو یہ قیامت تک روتا رہتا۔‘‘

5۔ ایک روایت میں ہے جو مبارک بن فضالہ کے طریق سے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آقا علیہ السلام نے جب اسے سینے سے لگایا تو جس طرح معصوم بچہ زور سے رو رہا ہو اور ماں اس کو سینے سے لگا لے تو وہ چپ ہو جاتا ہے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس کا رونا سنا اور سسکیوں کے ساتھ ماں کے سینے سے لگتے ہوئے بچہ جس طرح چپ کرتا ہے اُسی ڈھنگ میں اس کا چپ کرنا دیکھا ہے۔

  1. ابن حبان، الصحيح، 14 : 436، 437، رقم : 6507
  2. طبراني، المعجم الأوسط، 2 : 108، 109، رقم : 1409
  3. ابن الجعد، المسند : 466، رقم : 3219
  4. أبو يعلی، المسند، 5 : 142، رقم : 2756

6. اور جب وہ چپ کروایا گیا تو امام دارمی نے روایت کیا ہے کہ آقا علیہ السلام نے اُس سے پوچھا : (یہ معرفت بتا رہا ہوں کہ کس کس کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمتِ نبوت رسالت کی معرفت تھی۔ ) تو کیا چاہتا ہے۔ اگر تو چاہتا ہے تو تجھے دوبارہ اِسی دنیا میں تر و تازہ کر دوں اور تو پھلوں سے لد جائے۔ اور اگر تو چاہے تو تجھے جنت میں لگا دوں اور وہاں تجھ پہ پھل لگیں۔ اور حدیث کے لفظ ہیں، امام دارمی نے روایت کیا کہ جنت میں اولیاء تیرے پھل کھائیں گے۔ تو اُن دو باتوں میں سے کیا چاہتا ہے؟ اُس نے عرض کیا : یا رسول اللہ! مجھے جنت میں لگا دیں۔ تو آقا علیہ السلام نے حکم دیا کہ اس کو یہیں میرے منبر کے نیچے دفن کر دیا جائے۔

دارمی، السنن، 1 : 29، رقم : 32

اِحیاے موتيٰ کا بلند ترین تصور

اب بعض لوگ سوال کرتے ہیں کہ عیسيٰ علیہ السلام نے تو مردے زندہ کیے۔ اگر سب انبیاء علیھم السلام سے آقا علیہ السلام کی افضلیت ہے تو آقا علیہ السلام نے کیا کوئی مردہ زندہ کیا؟ امام شافعی رضی اللہ عنہ نے اس کا جواب دیا، جسے امام جلال الدین سیوطی نے رقم کیا اور امام دارمی نے روایت کیا۔ امام شافعی نے فرمایا کہ عیسيٰ علیہ السلام نے تو زندہ اِنسان جو مردہ ہو گئے، اُن کو زندہ کیا، تو آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو خشک لکڑی کے تنوں کو زندگی عطا کر دی۔ اور اب میں تھوڑی اس کی تفصیل میں جاتا ہوں۔ مُردے کو زندہ کرنا اور تنے کو رُلانا اور سینے سے لگا کر چپ کرانا اور اس سے کلام کرنے میں بڑا فرق ہے؟ انسان کے کان بھی ہیں، سماعت بھی ہے، بصارت بھی ہے، قوتِ گویائی بھی ہے۔ انسان سنتا بھی ہے، بولتا بھی ہے، عقل رکھتا ہے، سمجھتا بھی ہے، اُس کا احساس بھی ہے۔ ساری چیزیں اس کے حواس خمسہ میں ہیں مگر جب روح قفس عنصری سے پرواز کر جاتی ہے تو سارے قويٰ اور ساری حسیں اس کی معطل ہو جاتی ہیں۔ نتیجتاً جب عیسيٰ علیہ السلام نے مردے زندہ کئے تو ان کا مردہ زندہ کرنا فقط اتنا تھا کہ نکلی ہوئی روح کو قُمْ باذن اﷲ کے ذریعے اس جسم میں دوبارہ لوٹا دیا۔ اُس انسان میں قوتِ گویائی پہلے تھی، عقل و فہم اور شعور بھی تھا، نطق بھی تھی، سماعت بھی تھی، بصارت بھی تھی، احساس بھی تھا اور اُس کے اندر تمام جذبات بھی تھے۔ فقط روح پلٹا دی تو ہر چیز پھر چلنے لگ گئی اور مردہ بولنے لگ گیا۔

مگر تاجدارِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مردوں کو کبھی زندہ کیا، الگ مردے بھی زندہ کیے۔ یہ جو اُستن حنانہ کا مردہ تنا زندہ کیا، ارے یہ تو انسان نہ تھا۔ اس کی تو آنکھیں ہی نہ تھی۔ اس کے کان ہی نہ تھے، اس کی عقل بھی نہ تھی، نہ اس کی زبان اور منہ تھا، نہ اس کی قوتِ گویائی تھی نہ اس میں اَوَّلًا شعور تھا، نہ سماعت تھی، نہ بصارت تھی، نہ اس میں احساس تھا، نہ اس کے جذبات تھے۔ یہ تو بالکل ایک خشک تنا تھا جس میں کچھ بھی نہ تھا۔ عیسيٰں نے فقط انسان کے مردہ جسم میں روح لوٹائی۔ باقی سب کچھ پہلے سے موجود تھا اور تاجدارِ کائنات نے جب اپنا جسم اس تنے سے مس کیا، جس کی آنکھ نہ تھی، مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آنکھیں بھی عطا کر دیں۔ اُس کو کیسے پتہ چلا کہ آج حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھ پہ نہیں منبر پہ ٹیک لگا کے کھڑے ہیں۔ اُس نے دیکھ بھی لیا، اُس نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خطبہ بھی سن لیا اور پھر وہ رو پڑا۔ اُس میں احساس بھی آ گیا۔ اُس میں ہجر اور فراق اور جدائی کا غم بھی آ گیا، اُس میں درد و سوز بھی آ گیا، اُس میں عشق بھی آ گیا۔ سارے احساسات بھی آ گئے۔ اُس کو حیات بھی دی، زندگی بھی دی، شعور بھی دیا، سماعت بھی دی، بصارت بھی دی، نطق بھی دیا۔ سارے احساسات دے کر پھر جب اس سے اترے تو اس کو سسکیاں بھی سکھائیں۔ اور پھر اُس سے پوچھا کہ کہاں دفن کردوں؟ کلام کرنا بھی سکھایا۔ عیسيٰ علیہ السلام کا معجزہ فقط رَدِّ روح ہے، روح کا لوٹانا ہے باقی سب قويٰ پہلے سے موجود تھے جسم انسانی میں اور تاجدارِ کائنات نے روح لوٹائی نہیں، روح ڈالی ہے۔ اور سارے حواس بھی دیئے ہیں، عقل بھی دی ہے شعور بھی دیا ہے جذبات بھی دیئے ہیں۔ آقا علیہ السلام کا احیاے موتيٰ کا تصور کائنات میں سب انبیاء علیھم السلام سے بلند ہے۔

معجزہ دکھانے یا نہ دکھانے کا اختیار

آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کہنے سے جس طرح ہاتھ میں پتھر کلمہ پڑھتے اور پتھروں کو زندگی اور قوتِ گویائی ملتی اُسی طرح درخت ہیں۔ حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں۔ امام ابن حبان رضی اللہ عنہ، امام ابو یعلی رضی اللہ عنہ، امام طبرانی سب نے روایت کی ہے کہ آقا علیہ السلام کے پاس بنی عامر میں سے ایک شخص آیا۔ وہ شخص علاج معالجہ کرنے والا (حکیم) دکھائی دیتا تھا۔ پس اس نے کہا : اے محمد! آپ بہت سی (نئی) چیزیں (امورِ دین میں سے) بیان کرتے ہیں۔ (پھر اس نے اَز راہِ تمسخر کہا : ) کیا آپ کو اس چیز کی حاجت ہے کہ میں آپ کا علاج کروں؟ راوی بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اللہ تعاليٰ کے دین کی دعوت دی پھر فرمایا : کیا تم چاہتے ہو کہ میں تمہیں کوئی معجزہ دکھاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کھجور اور کچھ اور درخت تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھجور کی ایک شاخوں والی ٹہنی کواپنی طرف بلایا۔

فَأَقْبَلَ إِلَيْهِ وَهُوَ يَسْجُدُ، وَيَرْفَعُ رَأسَهُ وَيَسْجُدُ، وَيَرْفَعُ رَأسَهُ حَتَّی انْتَهَی إِلَيْه ِ صلی الله عليه وآله وسلم فَقَامَ بَيْنَ يَدَيْهِ.

’’وہ ٹہنی کھجور سے جدا ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سجدہ کرتے اور سر اٹھاتے، سجدہ کرتے اور پھر سر اٹھاتے ہوئے بڑھی یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب پہنچ گئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کھڑی ہو گئی۔‘‘

پھر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ وہ اپنی جگہ واپس چلی جائے۔ یہ واقعہ دیکھ کر قبیلہ بنو عامر کے اس شخص نے کہا : خدا کی قسم! میں کبھی بھی کسی شے میں بھی آپ کی تکذیب نہیں کروں گا جو آپ فرماتے ہیں۔ پھر اس نے برملا اعلان کر کے کہا : اے آلِ عامر بن صعصعہ! اللہ کی قسم! میں انہیں (یعنی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو) آئندہ کسی چیز میں نہیں جھٹلاؤں گا۔

  1. ابن حبان، الصحيح، 14 : 454، رقم : 6523
  2. أبو يعلی، المسند، 4 : 237، رقم : 2350
  3. طبراني، المعجم الکبير، 12 : 100، رقم : 12595

یہ حدیث مبارکہ ہمیں بتلاتی ہے کہ آقا علیہ السلام نے اس کافر کی بات سن کر غصہ نہیں کیا۔ یہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت ہے کہ اتنی بڑی بات سن کر غصہ نہیں کیا۔ اور پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود پوچھا کہ چاہو تو معجزہ بھی دکھاؤں۔ اب آقا علیہ السلام کے معجزات کی حقیقت بھی واضح ہوگئی کہ وہ صرف اِجراء نہیں ہوتا تھا دستِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر، جب پوچھنا ہے چاہو تو معجزہ دکھاؤں۔ یہ معجزہ بھی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی منشاء پر منحصر تھا۔ یہ آقا علیہ السلام کی یہ پہچان تھی۔ اور یہی حکم اب امت کو دیا گیا۔

ایک قابل توجہ نکتہ

سورۃ آل عمران کی آیت نمبر 81 میں لَتُؤْمِنُنَّ بِهِ وَلَتَنْصُرُنَّهُ (تو ضرور بالضرور ان پر ایمان لاؤ گے اور ضرور بالضرور ان کی مدد کرو گے) کا جو حکم ایزدی انبیاء کرام علیھم السلام کو دیا گیا اور پھر یہی معرفت کا ئنات کی ہر شے کو عطا کی گئی۔ یہی معرفت سمجھانے کے لیے اللہ تعاليٰ نے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کو حکم دیا :

فَالَّذِينَ آمَنُواْ بِهِ وَعَزَّرُوهُ وَنَصَرُوهُ وَاتَّبَعُواْ النُّورَ الَّذِي أُنزِلَ مَعَهُ .

الأعراف، 7 : 157

’’پس جو لوگ اس (برگزیدہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) پر ایمان لائیں گے اور ان کی تعظیم و توقیر کریں گے اور ان (کے دین) کی مدد و نصرت کریں گے اور اس نور (قرآن) کی پیروی کریں گے جو ان کے ساتھ اتارا گیا ہے۔‘‘

جس طرح تمام انبیاء علیھم السلام کو دو تین قسم کے حق پر مامور کیا گیا : ایک یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لانا، دوسرا یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دین، مشن اور نبوت و رسالت کی مدد کرنا اور تیسرا حق اپنی اپنی امتوں کو اس کی ترغیب اور حکم دینا۔ اِسی طرح آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت پر جو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معرفت کے باب میں حق دیے گئے، وہ یہ کہ آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت وہی قابلِ فلاح اور وہی قابلِ نجات ہوگی جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت اور تعظیم و تکریم اور اتباع کا حق ادا کرے گی اور نصرت کرے گی۔

اب بہت سی احادیث اور واقعات بخاری، مسلم، ترمذی، ابوداؤد، نسائی، ابن ماجہ اور کتب احادیث صحابہ کی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت و تعظیم کے مذکور ہیں۔ لیکن آج کی گفتگو کے اختتامی حصے میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے باب میں احادیث سے کچھ ایسے شواہد دینا مقصود ہیں جن کا تذکرہ غالباً پہلے نہیں ہوا۔ آقا علیہ السلام کے ساتھ اُن کی محبت و تعظیم کے کچھ نئے رُخ اور چند نمونے دکھانا چاہتے ہیں۔ ایک اصول کی بات سمجھا دوں۔ بعض لوگ اگر یہ سوال کریں کہ آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ادب اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعظیم و تکریم کے معیار، اُس کے اصول اور پیمانے کیا ہیں؟ تو یاد رکھیں! ادب اور تعظیم کے لیے ہر چند کہ اﷲ تبارک وتعاليٰ نے معیار، پیمانے اور اصول بے شمار دیے ہیں۔ قرآن مجید میں جابجا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعظیم و تکریم کے پیمانے اور آداب اﷲ تعاليٰ نے سکھائے ہیں۔ سورۃ الحجرات کا پہلا پورا باب ہی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ادب و تعظیم و تکریم کے پیمانے اور آدابِ بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سکھانے کے لئے وقف ہے۔

محبت تعظیم و تکریم کے پیمانے خود وضع کرتی ہے

پتے کی بات یہ ہے کہ تعظیم و تکریم اور ادب کا اصول کوئی نہیں سکھاتا، محبت خود سکھا دیتی ہے۔ محبت خود تعظیم و تکریم کے پیمانے وضع کر دیتی ہے۔ جتنے پیمانے صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم کے ہاں تعظیم رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اَدبِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تکریمِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ملتے ہیں اُن کا کوئی حکم قرآن میں تھا نہ آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث میں تھا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جو جو تعظیم کی ہے، جس جس رنگ سے تعظیم کی ہے اُس کا حکم کہیں نہیں دیا گیا تھا۔

1۔ صحیح بخاری اور مسلم کی متفق علیہ حدیث ہے۔ حضرت انس بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ جو کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خادمِ خاص تھے - فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مرض الموت میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ لوگوں کو نماز پڑھاتے تھے۔ چنانچہ پیر کے روز لوگ صفیں بنائے نماز ادا کر رہے تھے کہ اتنے میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجرہ مبارک کا پردہ اُٹھایا اور کھڑے کھڑے ہم کو دیکھنے لگے۔ اس وقت حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ انور قرآن کے اَوراق کی طرح (تاباں و درخشاں) معلوم ہوتا تھا۔ جماعت کو دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکرائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دیدار پُر اَنوار کی خوشی میں قریب تھا کہ ہم نماز توڑ دیں۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو خیال ہوا کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کے لیے تشریف لا رہے ہیں۔

فَنَکَصَ أَبُوْ بَکْرٍ عَلَی عَقِبَيْهِ لِيَصِلَ الصَّفَّ وَظَنَّ أَنَّ النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم خَارِجٌ إِلَی الصَّلَاةِ. فَأَشَارَ إِلَيْنَا النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم : أَنْ أَتِمُّوْا صَلَاتَکُمْ. وَأَرْخَی السِّتْرَ، فَتُوُفِّيَ مِنْ يَوْمِهِ.

  1. بخاری، الصحيح، کتاب الأذان، باب أهل العلم والفضل أحق بالإمامة، 1 : 240، رقم : 648
  2. بخاری، الصحيح، کتاب الأذان، باب هل يلتفت لأمر ينزل به، 1 : 262، رقم : 721
  3. بخاری، الصحيح، کتاب التهجد، باب من رجع القهقري في صلاته، 1 : 403، رقم : 1147
  4. بخاری، الصحيح، کتاب المغازي، باب مرض النبي صلی الله عليه وآله وسلم ووفاقه، 4 : 1616، رقم : 4183
  5. مسلم، الصحيح، کتاب الصلاة، باب استخلاف الإمام إذا عرض له عذر من مرض وسفر وغيرهما من يصلي بالناس، 1 : 316، رقم : 419

’’اِس لئے انہوں نے ایڑیوں کے بل پیچھے ہٹ کر صف میں مل جانا چاہا، لیکن حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اشارہ سے فرمایا کہ تم لوگ نماز پوری کرو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پردہ گرا دیا اور اُسی روز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال ہو گیا۔‘‘

یہ بات ذہن نشین رہے کہ امت اُس وقت تک زندہ رہے گی جب تک اُس کا ایمان زندہ ہو گا، اور ایمان اُس وقت تک زندہ رہے گا جب تک تاجدارِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عشق و محبت اور ادب اور تعظیم و تکریم کو امت اپنے ایمان کا مدار بنائے گی۔ محبت اور تعظیم کے بغیر کبھی ایمان، ایمان نہیں بنتا اور اس ادب اور تعظیم و تکریم کے لیے محبت ہی خود اس کے آداب سکھاتی ہے۔ تو جب آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پردہ ہٹایا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو کس نے کہا کہ حالتِ نماز میں چہرے پھیر کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تک لو؟ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو کس نے کہا کہ مصليٰ چھوڑ کر نماز کی حالت میں پیچھے آ جائیں؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ادب میں مصليٰ چھوڑ کے پیچھے آنا کس نے سکھایا؟ کیا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ایسا کرو؟ نہیں۔ آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُس دن بھی روک دیا، اندر چلے گئے۔ یہ محبت نے سکھایا تھا۔

2۔ یہ سہل بن سعد ساعدی کی روایت جو بخاری اور مسلم میں متفق علیہ ہے جس میں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نماز پڑھا رہے ہیں اور آقا علیہ السلام کسی قبیلے میں صلح کا معاملہ طے کرانے کے بعد تشریف لائے اور صفیں چیرتے ہوئے آگے پہنچے۔ جب آگے جارہے ہیں تو صحابہ رضی اللہ عنہم سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد کی خبر دینے کے لیے تالیاں بجانے لگ گئے۔

اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ اُنہیں حالتِ نماز میں تَصفیق (تالیاں بجانا) کس نے سکھایا؟ اور جب اُن کو خبر ہوئی تو مُڑ کے دیکھا کہ آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آ گئے ہیں تو مصليٰ چھوڑ کر پیچھے ہٹنے لگے۔ حالتِ نماز میں یہ کس نے ادب سکھایا؟ ایک سماں بدل گیا۔ آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اشارہ فرمایا کہ ابو بکر اپنی جگہ پر کھڑے رہو۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے دعا کی : اے اﷲ! تیرا شکر ہے کہ تیرے محبوب نے مجھے اس قابل جانا۔ دعا کر کے مصليٰ چھوڑ کے واپس آ گئے، رُکے نہیں۔ پھر آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آگے بڑھ کر نماز مکمل کرا دی اور بعد میں استفسار فرمایا :

يَا أَبَابَکْرٍ! مَا مَنَعَکَ أَنْ تَثْبُتَ إِذْ أَمَرْتُکَ.

’’اے ابو بکر! جب میں نے حکم دیا تھا تو تم مصلّہ پر کیوں نہیں ٹھہرے رہے؟’’

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا :

مَا کَانَ لِابْنِ أَبِي قُحَافَةَ أَنْ يُصَلِّيَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُوْلِ اﷲِ!

  1. بخاری، الصحيح، کتاب الأذان، باب من دَخَلَ لِيَؤمَّ النَّاسَ فجاء الإمام الأول فَتَأَخَّرَ الْأَوّلُ أو لَمْ يَتَأَخَّرْ، 1 : 242، رقم : 652
  2. بخاری، الصحيح، أبواب العمل فی الصلاة، باب ما يجوز من التسبيح والحمد فی الصلاة للرجال، 1 : 402، رقم : 1143
  3. بخاری، الصحيح، أبواب العمل فی الصلاة، باب التصفيق للنساء، 1 : 403، رقم : 1146
  4. بخاری، الصحيح، أبواب العمل فی الصلاة، باب الأيدی فی الصلاة، 1 : 407، رقم : 1160
  5. بخاری، الصحيح، أبواب السهو، باب الإشارة فی الصلاة، 1 : 414، رقم : 1177، 2544، 2547، 6767
  6. مسلم، الصحيح، کتاب الصلاة، باب تقديم الجماعة من يصلی بهم إذا تأخر الإمام، 1 : 316، رقم : 421

’’(یا رسول اﷲ!) ابو قحافہ کے بیٹے کی کیا مجال کہ وہ حضور کے سامنے اِمامت کرائے۔‘‘

بتائیں! ادب کا یہ قرینہ کس نے سکھایا؟ قرآن کی کس آیت میں ہے؟ حضور نے کب منع کیا تھا؟ یہ وہ قرینہ ادب تھا جو محبت نے خود سکھا دیا تھا۔

3۔ صحیح بخاری میں مِسور بن محزمہ کی روایت ہے۔ جب عروہ اہل مکہ کا نمائندہ بن کر حدیبیہ کے میدان میں جاتا ہے کہ جا کے دیکھوں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ اور لشکر اسلام کے کیا حال احوال ہیں؟ تاکہ فیصلہ کیا جائے کہ آیا جنگ کریں یا نہ کریں۔ عروہ اس وقت مسلمان نہیں تھا۔ وہ آ کر کہتا ہے کہ خدا کی قسم! اس لشکر سے جنگ نہ کرنا۔ میں نے قیصرِ روم، کسریِ ایران اور نجاشیِ حبشہ کے دربار بھی دیکھے ہیں، دنیا کے کسی بادشاہ کی اس کے درباری اس طرح تعظیم نہیں کرتے جس طرح اَصحابِ محمد، محمد کی تعظیم کرتے ہیں۔ اﷲ کی عزت کی قسم! میں نے آنکھوں سے دیکھا کہ اگر وہ لعابِ دہن پھینکتے ہیں تو ان کے اَصحاب زمین پر نہیں گرنے دیتے، اٹھا کر چہروں پر مل لیتے ہیں۔ اگر وضو کرتے ہیں تو ایک قطرہ زمین پر نہیں گرنے دیتے، چہروں پر مل لیتے ہیں اور جس کو حضور کے پانی کا قطرہ نہیں ملتا وہ لوگوں کے گیلے ہاتھوں سے ہاتھ رگڑ کے چہرے پہ مل لیتا ہے۔

  1. بخاری، الصحيح، کتاب الشروط، باب الشروط فی الجهاد والمصالحة مع أهل الحرب وکتابة، 2 : 974، رقم : 2581
  2. أحمد بن حنبل، المسند، 4 : 329
  3. ابن حبان، الصحيح، 11 : 216، رقم : 4872
  4. طبرانی، المعجم الکبير، 20 : 9، رقم : 13
  5. بيهقی، السنن الکبری، 9 : 220

اگر آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی حجامت کرواتے ہیں تو بال نیچے نہیں گرنے دیتے اٹھا کے سنبھال لیتے ہیں۔ نگاہیں جھکائے رکھتے ہیں۔ اس طرح بیٹھتے ہیں جسے ساکت و صامت سر پہ پرندے ہیں۔ جب اُن کے ادب کا یہ عالم ہے تو اُن کے جذبہ ایمانی کی کیفیت کیا ہو گی کہ ان کے ساتھ کبھی جنگ لڑنے کی کوشش نہ کرنا۔

4۔ عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کو کس نے سکھایا؟ اُسی حدیبیہ کے موقع پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں مذاکرات کے لیے بھیجا تو کفارِ مکہ نے انہیں پیش کش کی کہ تم طوافِ کعبہ کر لو مگر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اجازت نہیں۔ وہ چھ سال بعد کعبہ کے صحن میں کھڑے تھے مگر عثمان غنی رضی اللہ عنہ کعبہ صحن سے طواف کیے بغیر مڑ آئے اور کہا :

کُنْتُ لَا أَطُوْفُ بِهِ حَتَّی يَطُوْفَ بِهِ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم.

  1. بيهقي، السنن الکبری، 9 : 221
  2. أبو المحاسن، معتصر المختصر، 2 : 369
  3. قاضي عياض، الشفا، 2 : 593

’’اﷲ کی قسم! میں اس وقت تک طواف نہیں کروں گاجب تک رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طواف نہیں کر لیتے۔‘‘

اورپھر احترامِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں بغیر طواف کیے پلٹ کر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آ گئے۔ کس نے سکھایا یہ ادب؟ کیا کہیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بغیر طواف کرنا منع تھا؟

5۔ پھر علی شیر خدا رضی اللہ عنہ کو کس نے سکھایا کہ آپ رضی اللہ عنہ نے عصر کی نماز نہیں پڑھی کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جھولی میں سرِ انور رکھ کر لیٹے ہیں حالاں کہ غروبِ آفتاب کے باعث نماز کا وقت بھی جا رہا ہے۔ (1) کس نے سکھایا کہ نماز قربان کر دو مگر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بے آرام نہ کرو؟ یہ سارے آدابِ تعظیم و تکریم محبت سکھاتی تھی، عشق سکھاتا تھا۔

(1) طبرانی، المعجم الکبير، 24 : 147، رقم : 390

6۔ اور پھر صحابہ کا کتنا لطیف ادب اور تعظیم و تکریم کا کتنا لطیف حال تھا۔ حضرت قیس بن مخرمہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عام الفیل میں پیدا ہوئے۔ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے بنی یعمر بن لیث کے بھائی قباث بن اشیم سے پوچھا : آپ بڑے ہیں یا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بڑے ہیں؟ تو انہوں نے کہا :

رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم أَکْبَرُ مِنِّي وَأَنَا أَقْدَمُ مِنْهُ فِي الْمِيْلاَدِ.

  1. ترمذی، السنن، کتاب المناقب، باب ما جاء في ميلاد النبی صلی الله عليه وآله وسلم 5 : 589، رقم : 3619
  2. حاکم، المستدرک، 3 : 724، رقم : 6624
  3. طبرانی، المعجم الکبير، 19 : 37، رقم : 75
  4. شيبانی، الآحاد والمثانی، 1 : 407، رقم : 566

’’رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھ سے بڑے ہیں اور میری تو (صرف) ولادت پہلے ہے۔‘‘

اب ایک تذکرہ عمر میں سالوں کی بات ہو رہی ہے کہ بڑا کون ہے۔ کون پہلے پیدا ہوا۔ مگر اُس میں بھی لفظ بڑا استعمال کرنے کی اُن کا ادب اجازت نہیں دیتا۔ یہ سلیقہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سکھا رہے ہیں۔ اور یہ صرف روز مرہ کی گفتگو ہے لیکن اس میں احتراماً بڑائی اور عظمت کی ہر نسبت حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف ہی کی گئی ہے۔

7۔ امام ابن عساکر اور ابن نجار بیان کرتے ہیں کہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا ہیں، آپ رضی اللہ عنہ سے بھی یہ سوال پوچھا گیا :

أَيُمَا أَکْبَرُ أَنْتَ أَمِ النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم ؟

’’کون بڑا ہے : آپ یاحضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ؟‘‘

تو انہوں نے فرمایا :

هُوَ أَکْبَرُ مِنِّي وَأَنَا وَلِدْتُ قَبْلَهُ.

  1. حاکم، المستدرک، 3 : 362، رقم : 5398
  2. ابن أبي شيبة، المصنف، 5 : 296، رقم : 26256
  3. شيبانی، الآحاد والمثانی، 1 : 269، رقم : 350

’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھ سے بڑے ہیں اور میری تو (صرف) پیدائش آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے ہوئی ہے۔‘‘

کتنے صحابہ سے ایک سوال مختلف مواقع پر ہوا ہے مگر کسی ایک صحابی نے بھی بڑے ہونے کی اتنی بات کی نسبت بھی اپنی طرف حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقابلہ میں گوارا نہیں کی۔ یہ کتنا لطیف ادب ہے! اُن کے ایمان کا عالم کیا ہے! اس کو امام احمد بن حنبل نے بھی روایت کیا اور اپنی تاریخ میں ابن عساکر نے بھی روایت کیا۔

8۔ پھر آگے اس سے لطیف بات جسے عبد بن فیروز روایت کرتے ہیں کہ جب براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ قربانی کے جو جانور ہیں ان میں سے کون کون سے ہیں جو جائز نہیں؟ اب وہ جواب میں یہ بتانا چاہ رہے ہیں کہ آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پہ قیام فرما تھے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس طرح چار انگلیوں کا اشارہ کر کے فرمایا کہ یہ چار جانور یعنی فلاں فلاں فلاں فلاں کی قربانی جائز نہیں۔ وہ حدیث دوبارہ بیان کر رہے ہیں۔ انہوں نے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث سنانے کے لیے ہاتھ اٹھائے اور ساتھ ہی براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے پوچھا۔ وہ فرماتے ہیں کہ یہ جو انگلیوں کا اشارہ کر دیا آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی ایسے کیا تھا۔ لیکن میری انگلیاں چھوٹی ہیں۔ یہ جملہ کہا کہ آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ یہ یہ چار جانور ناجائز ہیں۔ چونکہ انگلیوں کی ایک شکل بن رہی تھی اُسی طرح جس طرح آقا علیہ السلام نے چار انگلیاں کھڑی کر کے بتایا تھا دیکھا کہ ایک مماثلت بن رہی ہے تو اُس مماثلت کی نفی کے لیے کہہ دیا کہ میری انگلیاں اُن جیسی نہیں ہیں۔

  1. نسائی، السنن، کتاب الضحايا، 7 : 214، رقم : 4369
  2. ابن ماجه، السنن، کتاب الأضاحی، 2 : 1050، رقم : 3144

آپ اندازہ کریں کہ ایک عام گفتگو اور تبادلہ خیال ہے۔ اُس میں نہ مماثلت ثابت ہے نہ مساوات، نہ بے ادبی اور گستاخی ہو رہی ہے مگر جہاں ہلکا سا شائبہ بھی مماثلت کا نظر آتا ہے وہاں بھی وہ سوے ادب سمجھتے ہیں۔ اور ایک جملہ اِضافتاً کہ کر اپنی محبت اور ادب کا اظہار کرتے ہیں۔

9۔ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ شہادت کے قریب کے زمانے میں فرمانے لگے۔ اپنا ہاتھ دکھا کر کہ خدا کی قسم! دیکھو میرا ہاتھ، میں نے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دستِ اقدس پر بیعت کی تھی اور جس دن سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دستِ اقدس میں اپنا دایاں ہاتھ دے کر بیعت کی وہ دن اور آج کا دن، مگر آج کے دن تک میں نے غسل اور طہارت کے لیے بھی اِسے استعمال نہیں کیا کہ یہ ہاتھ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ سے مس ہوا تھا۔

طبرانی، المعجم الکبير، 1 : 85، رقم : 124

آپ بتائیں کہیں قرآن میں ایک شق بھی ہے؟ کہیں حدیث میں ہے؟ کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہو کہ یہ آداب ملحوظ رکھے جائیں۔ اس درجے کے لطیف آداب تعظیم و تکریم کے کون سکھاتا تھا؟ یہ محبت خود سکھاتی تھی۔ محبت جو عشق کی استاد ہے۔

10۔ بخاری شریف کی حدیث ہے حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ مجھے غسل کی حاجت تھی اور میں ایک گلی میں جا رہا تھا، آگے اتفاق سے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نشست تھی تو میں وہیں سے مڑ کے کسی اور راستے پر چلا گیا۔ چونکہ اب وہاں بیٹھنا تھا اس لیے گھر جا کر غسلِ طہارت کیا۔ اُس کے بعد پہنچے تو آقا علیہ السلام نے پوچھا کہ ابو ہریرہ تم نظر نہیں آئے، دیر سے آئے ہو، کہاں تھے؟ عرض کیا : یا رسول اﷲ! میں نے ابھی غسل کرنا تھا۔ میں پانی کی تلاش میں تھا تو آگے اتفاق سے نشست دیکھی تو کسی اور راستے کو مڑ گیا تاکہ غسل اور وضو کروں تو پھر آؤں۔

صحيح بخاری، کتاب الغسل، 1 : 109، رقم : 281

آقا علیہ السلام کی مجلس میں یا آقا علیہ السلام جس راستے سے گزر رہے ہیں اُن کے سامنے سے گزرنا گوارا نہیں کیا کہ اِس حال میں آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نگاہ نہ پڑے۔

11۔ المواہب اللدنیۃ میں اسی طرح کی روایت ہے کہ ایک صحابی اصلح بن شریک رضی اللہ عنہ کی ڈیوٹی یہ تھی کہ جب آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہیں سفر پر جانا ہوتا تو وہ آقا علیہ السلام کی اونٹنی پر کجاوہ لگاتے تھے۔ اُن کی اس دن ڈیوٹی تھی۔ علی الصبح آقا علیہ السلام نے سفر پر جانا تھا انہوں نے غسل کرنا تھا، بیمار تھے، صحت اچھی نہیں تھی، پانی موجود نہیں تھا یا بہت ٹھنڈا پانی تھا۔ بخار کی حالت میں پریشان تھے۔ آقا علیہ السلام کے سفر کا وقت شروع ہو گیا تو انہوں نے اونٹنی پر کجاوہ نہیں لگایا بلکہ ایک اور صحابی کو ذمہ داری سونپ دی اور خود تیزی سے غسل اور وضو کر کے قافلے سے مل گئے۔ آقا علیہ السلام نے پوچھا : اصلح بن شریک! کیا بات ہے آج تم نے کجاوہ نہیں باندھا؟ عرض کیا : یا رسول اﷲ! آپ کو کیسے پتہ چلا؟ آقا علیہ السلام نے فرمایا : کجاوہ اُس طرح نہیں کَسا گیا جیسے تو کیا کرتا ہے۔ اُنہوں نے عرض کیا : آقا! میں نے غسل کرنا تھا اور میری طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔ میں نے دوسرے صحابی کو یہ کام کرنے کے لیے بھیجا۔ آقا علیہ السلام کو اس کے ادب کا یہ انداز اتنا پسند آیا کہ اُسی لمحے اﷲ نے تیمم کی آیت بھیج دی۔ کہ اگر آپ بیمار ہیں، مریض ہیں اور آپ وضو نہیں کر سکتے، توآپ تیمم کر لیا کریں، یہ آیت جو امت کو بطورِ نعمت نصیب ہوئی وہ اصلح بن شریک کے ادبِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صدقے سے نصیب ہوئی۔

طبرانی، المعجم الکبير، 1 : 298، رقم : 875

محبت خود ادب اور تعظیم و تکریم کے آداب ایجاد کر لیتی ہے۔ اور آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر اپنی سنت کے ساتھ اپنی حیاتِ طیبہ میں اس کے راستے متعین کیے۔ ادب، تعظیم و تکریم اور محبت بنیاد ایمان ہے اور یہی سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔ یہ سارے آداب تعظیم و تکریم کے طریقے جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے وضع کئے ہیں اُن کی اصل اور اساس حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے۔

12۔ حدیث پاک میں ہے کہ آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں۔ سنن ابی داؤد میں یہ حدیث آئی ہے، کتاب الحدود، حدیث نمبر ہے 4449۔ عبد اﷲ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یہود کا ایک گروہ تھا۔ اُن کی مدینہ کے قریب ایک بستی تھی جس میں بدکاری کا ایک واقعہ ہوا۔ وہ آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں آئے اور انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں تشریف لائیے اور مقدمہ کی سماعت کر کے بدکاری کی سزا جاری فرمائیے۔ آقا علیہ السلام تشریف لے گئے، یہودیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے مسند بچھا دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسند پہ تشریف فرما ہوئے۔ بدکاری کا مقدمہ پیش ہوا۔ انہوں نے پوچھا : اس کی سزا کیا ہے؟ آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تورات لے آؤ۔ اب دیکھیے اسلام کتنا پر امن مذہب ہے! کتنی وسعت ہے دین میں! اپنے اسلام اور قرآن کی سزا نافذ نہیں کی۔ یہود سے فرمایا : جو تمہاری کتاب تورات کا قانون ہے وہی تم پر نافذ کروں گا۔ آپ کے حکم سے تورات لائی گئی۔ اب یہ وہی تورات تھی جس کے لیے قرآن میں جابجا آیا کہ کہ اُس کے اندر تحریف کر دی گئی، الفاظ بدل دیے گئے۔ یہ تحریف شدہ تورات تھی، اصل تورات جو موسيٰ علیہ السلام پہ نازل ہوئی اس کا ذکر تو قرآن میں ہے مگر ان کے ہاں وہی تورات تھی جو بدل دی گئی تھی۔ مگر جب وہ تورات لائی گئی تو آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تورات کو دیکھ کر مسند سے اٹھ گئے۔ اب آقا علیہ السلام سلیقے اور قرینے سکھا رہے ہیں، تورات کو دیکھ کر اٹھ گئے۔ اُس مسند سے اٹھ کر فرمایا : اس تورات کو اِس مسند پر رکھ دو خود اٹھ گئے اور تورات ایک مسند پر رکھ دی۔ حدیث کے لفظ ہیں :

فَنزَعَ الوِسَادَةَ مِنْ تَحْتِهِ، وَوَضَعَ التَّوَرَاة عَلَيْهَا وَقَالَ : آمَنْتُ بِکَ وَبِمَنْ أَنْزَلَکَ.

ابو داؤد، السنن، کتاب الحدود، 4 : 155، رقم : 4449

’’اپنے نیچے سے جو مسند تھی وہ نکال دی اور اُس کے اوپر تورات رکھ دی، اور تورات کو خطاب کر کے فرمایا : اے تورات! میں تجھ پر ایمان رکھتا ہوں اور جس نے تجھے ناز ل کیا اُس رب پر ایمان رکھتا ہوں۔‘‘

وہ تورات جو تحریف شدہ ہے، ترمیم شدہ ہے، مگر چونکہ وحی الٰہی تھی۔ سارا کچھ تو نہیں بدل گیا تھا کچھ نہ کچھ تو اس میں تھا۔ وہ چند کلمات تورات میں بچ گئے تھے۔ صاحبِ قرآن پیغمبر، اﷲ کی اُس وحی کے چند کلمات کی بھی تعظیم کر کے اسے مسند پر رکھ رہے ہیں۔

تو آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ادب کے یہ طریق سکھائے تھے کہ دوسرے کے دین و مذہب کا احترام کرو چاہے اس میں تحریف اور تبدیلیاں ہی کیوں نہ ہو چکی ہوں۔

پھر آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک یہودی عالم کو بلا کر اس سے فرمایا : پڑھو، رجم کی سزا کیا لکھی ہے؟ آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تورات کے عالم سے احکام پڑھوا کے سنانا چاہتے تھے۔ تو جب اس نے پڑھا تو اس میں رجم کی سزا وہی تھی جو تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی امت کو بتا چکے تھے۔ تو فرمایا : میں وہ سزا سناتا تو تم کہتے کہ اسلام کی سزا نافذ کر رہا ہوں۔ اس لئے تورات منگوائی، یہودی عالم بلوایا اور اس سے پڑھوا کر آقا علیہ السلام نے رجم کی سزا دے دی۔

13۔ اور دوسرا بڑا عجیب واقعہ جو آقا علیہ السلام کی سنتِ ادب سے ثابت ہوتا ہے وہ مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے۔ امام ابن ابی شیبہ روایت کرتے ہیں اور کنز العمال میں جابر بن عبد اﷲ روایت کرتے ہیں کہ جب مکہ فتح ہوا اور فتح مکہ کے دن آقا علیہ السلام حرم کعبہ میں داخل ہوئے جہاں 360 بت تھے جن کی پوجا کی جاتی تھی تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بتوں کو گرا دینے کا حکم دیا۔ بت گراتے جاتے اور فرماتے جاتے :

وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا.

بنی اسرائيل، 17 : 81

’’اور فرما دیجئے : حق آ گیا اور باطل بھاگ گیا، بے شک باطل نے زائل و نابود ہی ہو جانا ہےo‘‘

چھڑی کا اشارہ کرتے اور بت گرتے جاتے۔ بتوں کو گراتے ہوئے کعبہ میں تشریف لے گئے جہاں مزید بت رکھے ہوئے تھے۔

ثُمَّ دَخَلَ رَسُوْلُ اﷲِ الْبَيْتَ فَصَلّٰی فِيْهِ رَکْعَتَيْنِ، فَرَأَء فِيْهِ تِمْثَالَ إِبْرَاهِيمَ وَ إِسْمَاعِيْلَ وَ إِسْحَاقَ.

’’پھر کعبۃ اﷲ کے اندر داخل ہوئے تو آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو رکعت نماز ادا کی۔ پس اندر آقا علیہ السلام نے دیکھا کہ سیدنا ابراہیم، سیدنا اسماعیل اور سیدنا اسحاق علیہم السلام کے بھی (بت اور) تصویریں رکھی ہوئی ہیں۔‘‘

آقا علیہ السلام نے انہیں پہچان لیا اور پہچان لینے کے بعد انہوں نے دیکھا کہ ان کے ہاتھ میں تیر دیئے ہوئے تھے جس سے وہ قسمتوں کا حال معلوم کرتے تھے۔ یہ اُن کفارِ مکہ کے اپنے مشرکانہ عقائد تھے۔ ہر بت کو چھڑی سے گرایا۔ یہ بھی بت تھے جو شریعت میں حرام تھے۔ شریعت اور اسلام ان کو گوارا نہیں کرتا مگر سارے حقائق جاننے کے باوجود چونکہ وہ اسماء انبیاء علیہم السلام پر بنائے گئے تھے ان کو چھڑی سے نہیں گرایا۔ ہر بت کو چھڑی سے مگر سیدنا ابراہیم علیہ السلام سیدنا اسماعیل علیہ السلام اور سیدنا اسحاق علیہ السلام کے جو بت اور تمثال تھے ان کے بارے میں حکم فرمایا :

ثُمَّ دَعَا رَسُوْلُ اﷲِ بِزَعْفَرَانَ فَلَطَخَهُ بِتِلْکَ التَّمَاثِيْل.

ابن ابی شيبة، المصنف، 7 : 403، رقم : 36905

پھر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زعفران منگوایا اور زعفران پانی میں حل کر کے ان کے اوپر زعفران لگا دیا تاکہ ان کی پہچان نہ رہے۔

یہ مشرکانہ عقائد کی علامتیں تھیں مگر چونکہ اُن کی انبیاء کرام علیہم السلام کے نام کی طرف نسبت تھی ان کو بھی چھڑی سے گرانا گوارا نہیں کیا۔

14۔ مصنف عبد الرزاق کی ایک روایت میں ہے، امام ابن ابی حاتم اور امام طبری بیان کرتے ہیں۔ سراقہ بن مالک نے رفع حاجت کے بارے میں پوچھا : یا رسول اﷲ! رفع حاجت کے وقت کیا کروں؟ کس طرف رُخ کروں؟ اِسی طرح صحیح بخاری میں حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

إِذَا أَتَيْتُمْ الْغَائِطَ فَلَا تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ وَلَا تَسْتَدْبِرُوهَا، وَلَکِنْ شَرِّقُوا أَوْ غَرِّبُوا.

بخاری، الصحيح، ابواب القبلة، بَاب قِبْلَةِ اهلِ الْمَدِينَةِ وَأَهْلِ الشَّأْمِ، 1 : 154، رقم : 386

’’جب تم قضاے حاجت کے لیے جاو تو قبلہ کی طرف رُخ کرو نہ پشت کرو بلکہ مشرق یا مغرب کو منہ رکھو۔‘‘

اب اڑھائی سو میل دور بیٹھے ہیں مدینہ میں، تو آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کہ رفع حاجت جب کرنے کے لئے بیٹھو تو سیکڑوں میل دور ہی کیوں نہ ہو، قبلہ کی سمت کبھی منہ نہ کریں۔

وہ کعبہ جو نگاہوں کے سامنے نہیں ہے۔ رفع حاجت کے وقت سیکڑوں میل دور اس کی سمت کا ادب ہے حتی کہ اسلامی فقہ میں کعبہ کی طرف منہ کر کے تھوکنا بھی منع ہے۔ سیکڑوں میل دور کعبہ کی طرف منہ کر کے تھوکنا منع ہے یعنی جس سمت قابل ادب وجود ہے اس کی سمت کا بھی احترام اور ادب ہے۔ آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ادب و تعظیم کا یہ معیار عطا کیا تھا اور یہی معیار محبت کا تھا۔ اسی معیارِ ادب کو صحابہ کرام نے سامنے رکھا۔ اس کو جاری کیا اور یہی معیار ادب اور معیار تعظیم اپنا لیا گیا۔

اَئمہ و اَسلاف کا ادب و تعظیمِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

تابعین اور تبع تابعین، اَئمہ و اَکابرینِ اسلام، اَعلامِ اُمت الغرض تمام اسلاف کا عقیدہ بھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے طرز عمل پر مبنی ہے۔ یہی طریقہ تابعین اور تبع تابعین نے اختیار کیا اور امام مالک اور دیگر ائمہ و اولیاء نے بھی۔

1۔ قاضی عیاض الشفا میں اس کو اپنی سند کے ساتھ تحقیق سے روایت کرتے ہیں، ایک دفعہ خلیفہ اور بادشاہِ وقت ابو جعفر المنصور مسجد نبوی میں آیا۔ وہ تھوڑی اونچی آواز سے بات کرنے لگا۔ امام مالک رضی اللہ عنہ پاس کھڑے تھے۔ فرمایا : اے خلیفہ وقت!

لا ترفع صوتک في هذا المسجد.

’’یہ مسجد نبوی ہے اس میں آواز بلند نہ کرنا۔‘‘

اب عام مسجد بھی اﷲ تعاليٰ کا گھر ہے، مگر فرمایا : اس مسجد میں آواز بلند نہ کرنا۔

فإن اﷲ ل أدّب قوما : {لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ}.

الحجرات، 49 : 2

اﷲ تعاليٰ نے اُمت کو ادبِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ درس دیا ہے : خبردار! اپنی آوازیں مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آوازوں سے اونچی نہ کرنا۔

آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال بھی ہو گیا مگر بعد از وصال بھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ادب ویسے ہی ہے جو ظاہری حیات میں تھا۔

امام مالک رضی اللہ عنہ نے ادب سکھاتے ہوئے یہ فرمایا۔ جس قوم نے اپنی آوازیں ادبِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں پست کر لیں، اﷲ نے ان کی مدح اور تعریف کی۔ پھر یہ آیت تلاوت کی :

 إِنَّ الَّذِينَ يَغُضُّونَ أَصْوَاتَهُمْ عِندَ رَسُولِ اللَّهِ أُوْلَئِكَ الَّذِينَ امْتَحَنَ اللَّهُ قُلُوبَهُمْ لِلتَّقْوَى.

الحجرات، 49 : 3

’’بے شک جو لوگ رسول اﷲ ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی بارگاہ میں (ادب و نیاز کے باعث) اپنی آوازوں کو پست رکھتے ہیں، یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو اﷲ نے تقويٰ کے لیے چُن کر خالص کر لیا ہے۔‘‘

گویا تقويٰ، ادب و تعظیمِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نصیب ہوتا ہے۔ اور پھر فرمایا : جنہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بے ادبی کی اﷲ تعاليٰ نے اُن کی مذمت کی ہے :

اِنَّ الَّذِيْنَ يُنَادُوْنَکَ مِنْ وَّرَآءِ الْحُجُرٰتِ اَکْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُوْنَ.

الحجرات، 49 : 4

’’بے شک جو لوگ آپ کو حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں سے اکثر (آپ کے بلند مقام و مرتبہ اور آدابِ تعظیم کی) سمجھ نہیں رکھتےo‘‘

خلیفہ ابو جعفر منصور کو یہ آیات سنا کر نصیحت کی گئی۔

قاضی عياض، الشفاء : 520

2۔ اس کے بعد خلیفہ نے پوچھا کہ اب دعا کا وقت ہے۔ اے امام مالک! بتائیے کیا میں دعا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر انور کی طرف چہرہ کر کے کروں یا ادھر پشت کر کے قبلہ رُخ ہو کر دعا کروں؟ امام مالک نے جواب دیا :

لم تصرف وجهک عنه وهو وسليتک ووسيلة أبيک آدم إلی اﷲ يوم القيامة.

قاضی عياض، الشفاء : 520

’’تم اُس ہستی سے اپنا چہرہ کیوں پھیرتے ہو جو تمہارا بھی وسیلہ ہے اور تمہارے باپ حضرت آدم علیہ السلام کا بھی قیامت تک وسیلہ ہے۔‘‘

آپ اندازہ کریں اُن کے یہ آداب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے بعد تھے۔

3۔ حضرت ایوب السختیانی ایک امام جلیل القدر راوی ہیں۔ اکثر کتب حدیث میں ان سے روایات مروی ہیں۔ وہ امام مالک کے شیوخ اور آپ کے اساتذہ میں تھے۔ امام مالک سے پوچھا گیا کہ ان کا درجہ حدیث میں کیا ہے؟ آپ نے فرمایا : خدا کی قسم! میں نے جتنے شیوخ اور اساتذہ سے حدیث روایت کی ہے۔ میں نے ایوب السختیانی سے بہتر اور افضل کوئی شخص نہیں پایا۔ پوچھا گیا : ان کی فضلیت کا سبب کیا ہے؟ فرمانے لگے :

حج حجتين، فکنت أرمقه ولا أسمع منه، غير أنه کان إذا ذکر النبی صلی الله عليه وآله وسلم بکی حتی أرحمه، فلما رأيت منه ما رأيت، وإجلاله للنبی صلی الله عليه وآله وسلم کتبت عنه.

قاضی عياض، الشفا : 521

میں ان کے پاس رہتا تھا اور میں نے ان کے ساتھ دو حج کئے۔ وہ حدیث بیان کرتے۔ میں پہلے نہیں لکھتا تھا۔ لیکن خدا کی قسم! میں نے دیکھا ہے کہ جب بھی تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر آتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام سنتے، اُن کی آنکھیں چھم چھم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عشق میں رونے لگ جاتیں۔ وہ اتنا روتے کہ ان کی حالتِ زار پر ہمیں رحم آ جاتا۔ جب میں نے انہیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عشق میں اتنا غرق دیکھا تو اﷲ تعاليٰ کی عزت کی قسم! حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اِسی تعظیم اور عشق کو دیکھ کر میں نے ان سے حدیث لکھنا شروع کی۔ تو میں نے جو ان سے حدیث روایت کی اس کا سبب بھی ان کا عشق اور تعظیم مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔

4۔ حضرت مصعب بن عبد اﷲ جلیل القدر تابعین میں سے ہیں۔ حضرت امام مالکص فرماتے ہیں کہ جب کبھی ان کے سامنے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر ہو جاتا، ان کا رنگ تبدیل ہو جاتا، زار و قطار رونے لگ جاتے، اتنا روتے کہ ان کی حالت غیر ہو جاتی حتی کہ لوگ اُنہیں اِسی حالت میں چھوڑ کر چلے جاتے۔ مگر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام اور ذکر سن کر ان کا گریہ و بکا نہ رکتا۔

قاضی عياض، الشفا : 521

5۔ مصعب بن عبد اﷲ رحمۃ اﷲ علیہ بیان کرتے ہیں کہ بیشک میں نے امام جعفر بن محمد الصادق کو دیکھا ہے- حالانکہ

وکان کثير الدعابة والتبسم، فإذا ذکر عنده النبي صلی الله عليه وآله وسلم اصفرّ.

قاضی عياض، الشفا : 521

’’وہ انتہائی خوش مزاج اور ظریف الطبع تھے - لیکن جب بھی ان کے سامنے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر جمیل کیا جاتا تو ان کا چہرہ زرد ہو جاتا تھا۔‘‘

6۔ حضرت عبد الرحمن بن قاسم بن محمد بن ابی بکر کے بارے میں قاضی عیاض روایت کرتے ہیں کہ جب کبھی مجلس میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر ہو جاتا تو خدا کی قسم ان کے چہرے کا رنگ اس طرح ہو جاتا کہ جیسے کسی نے خون نچوڑ لیا ہو اور زبان گنگ ہو جاتی۔ ان کی زبان سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عشق اور محبت اور ہیبت، ہیبت و جلال محمدی میں کوئی کلمہ نہیں نکلتا تھا۔

قاضی عياض، الشفا : 522

7۔ قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ مزید فرماتے ہیں : میں نے عامر بن عبد اﷲ بن زبیر کو دیکھا کہ اگر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر ہو جاتا تو نام سن کر زار و قطار رو پڑتے اور چیخ نکل جاتی۔

قاضی عياض، الشفا : 522

8۔ قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : میں نے امام زہری کو دیکھا کہ جب آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر آ جاتا ان کی حالت اتنی غیر ہو جاتی کہ سامنے بیٹھے ہوئے دوست کو بھی پہچان نہ سکتے اور نہ کوئی ان کو پہچان سکتا کہ یہ امام زہری ہیں۔

قاضی عياض، الشفا : 522

9۔ قاضی عیاض فرماتے ہیں : میں نے امام صفوان بن سلیم کو دیکھا کہ آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر ہوتا تو نام سنتے ہی ان کی چیخ و پکار نکل جاتی، اتنا روتے کہ آہ و بکا کی آواز بلند ہو جاتی تھی۔

قاضی عياض، الشفا : 522

10۔ قاضی عیاض، امام ابن سیرین کے بارے میں فرماتے ہیں : وہ کثیر التبسم تھے، مسکرانا ان کا معمول تھا مگر ادھر آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث بیان کرنے کا وقت آتا تو سارا جسم لرزا براندام ہو جاتا اور کانپنے لگ جاتے۔

قاضی عياض، الشفا : 522

11۔ امام مالک رضی اللہ عنہ کے محبت و ادب کے بارے میں قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ نقل کرتے ہیں :

قال مطرف : کان إذا أتی الناس مالکاً خرجت إليهم الجارية وتقول لهم : يقول لکم الشيخ : تريدون الحديث أو المسائل؟ فإن قالوا : المسائل. خرج إليهم، وإن قالوا : الحديث. دخل مغتسله، واغتسل وتطيب، ولبس ثياباً جدداً، ولبس ساجه وتعمم، ووضع علی رأسه رداء، وتلقی له منصة، فيخرج فيجلس عليها وعليه الخشوع، ولا يزال يبخر بالعود حتی يفرغ من حديث رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم قال : ولم يکن يجلس علی تلک المنصة إلا إذا حدث عن رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم .

قال ابن أبي أويس : فقيل لمالک في ذلک، فقال : أحب أن أعظم حديث رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم ولا أحدث به إلا علی طهارة متمکناً. وقال : وکان يکره أن يحدث في الطريق، أو وهو قائم، أو مستعجل. وقال : أحب أن أفهم حديث رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم.

قاضي عياض، الشفا : 524، 525

’’مُطَرِّفْ فرماتے ہیں کہ جب لوگ حضرت امام مالک کے پاس آتے تو پہلے آپ کی خادمہ آتی اور ان سے کہتی کہ حضرت امام رحمۃ اﷲ علیہ نے دریافت فرمایا ہے کہ کیا تم حدیث کی سماعت کرنے آئے ہو یا مسلہ دریافت کرنے؟ اگر وہ کہتے کہ مسلہ دریافت کرنے آئے ہیں تو آپ فوراً باہر تشریف لے آتے اور اگر وہ کہتے کہ حدیث کی سماعت کرنے آئے ہیں تو آپ(اہتماماً) پہلے غسل خانہ جاتے، غسل کرتے، خوشبو لگاتے اور عمدہ لباس پہنتے۔ عمامہ باندھتے، پھر اپنے سر پر چادر لپیٹتے، تخت بچھایا جاتا پھر آپ باہر تشریف لاتے اور اس تخت پر جلوہ افروز ہوتے۔ اس طرح پر کہ آپ پر انتہائی عجز و انکساری طاری ہوتی جب تک درس حدیث سے فارغ نہ ہوتے برابر اَگر کی خوشبو سلگائی جاتی رہتی۔ دیگر راویوں نے کہا کہ اس تخت پر آپ جب ہی تشریف فرما ہوتے جبکہ آپ کو حدیث رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیان کرنی ہوتی۔

’’حضرت ابن ابی اویس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس بارے میں حضرت امام مالک رحمۃ اللہ علیہ سے کسی نے دریافت کیا تو آپ نے فرمایا : ’’میں اسے بہت محبوب رکھتا ہوں کہ حدیث رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوب تعظیم کروں۔ میں با وضو بیٹھ کر حدیث بیان کرتا ہوں۔ فرمایا میں اسے مکروہ جانتا ہوں کہ راستہ میں یا کھڑے کھڑے یا جلدی میں حدیث بیان کی جائے اور فرمایا کہ میں یہ پسند کرتا ہو ں کہ حدیث رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خوب سمجھا کر بیان کروں۔‘‘

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث کو اتنا مقام و مرتبہ دینے کا یہ عالم ہے توان کے ہاںصاحب حدیث کے مرتبہ کا عالم کیا ہوگا۔ یہ عزت وہی دے سکتا ہے جس کے دل میں تعظیم و تکریم محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سمندر موجزن ہو اور عشق مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سینہ لبریز ہو۔ جب تک عشق، محبت، ادب اور تعظیم و تکریم اپنے کمال کو نہیں پہنچتا اُس وقت تک ان نسبتوں ان حدیثوں کی ایسی عزتیں اور ایسی تکریمیں نہیں ہوتیں۔ قاضی عیاض چونکہ خود مالکی المذہب ہیں وہ تو کثرت سے امام مالک کا ذکر لائے ہیں۔ عاشق رسول ہونے کی حیثیت میں ان کا حق بھی ہے۔ امام مالک ان عاشقان رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں سے ہیں کہ 94 ہجری میں پیدا ہوئے اور 180 ہجری میں وفات ہوئی۔ یعنی 86 برس یا 87 برس عمر پائی۔ لیکن انہوں نے پوری زندگی میں صرف دو حج کیے اور ستر برس یا ساٹھ برس گزار دیے۔ حج کرنے، نفلی حج کرنے یا عمرے کے لیے بھی نہیں گئے۔ کسی نے پوچھا : سارا جہاں جاتا ہے آپ کیوں نہیں جاتے؟ انہوں نے کہا : فرض ادا کر چکا، اب معلوم نہیں کہاں موت آ جائے، میں حضور کے شہر سے باہر موت گوارا نہیں کرتا۔

12۔ امام مالک مدینہ کی گلیوں میں نہیں بلکہ دیواروں کے ساتھ گھسیٹ گھسیٹ کر چلتے کہ جن گلیوں پر حضور کے قدم لگے ہیں، ابھی تک وہی گلیاں ہیں۔ میں گوارا نہیں کرتا کہ میرے قدم وہاں ان جگہوں پر لگ جائیں، جہاں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قدم رنجہ فرمایا۔ قاضی عیاض نقل کرتے ہیں :

کان مالک لا يرکب بالمدينة دابةً، وکان يقول : أستحي من اﷲ أن أطأ تربة فيها رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم بحافر دابة.

قاضي عياض، الشفا : 540

’’حضرت امام مالک مدینہ منورہ میں جانور پر سوار ہو کر نہ چلتے اور فرماتے کہ مجھے خدا سے شرم آتی ہے کہ میں سواری کے جانور سے اِس اَرضِ مقدس کو پامال کروں جہاں اللہ عزوجل کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جلوہ فرما ہیں۔‘‘

13۔ امام عبد اللہ بن المبارک روایت کرتے ہیں کہ میں آپ کی مجلس میں تھا اور آپ حدیث بیان کر رہے تھے۔ حدیث کو بیان کرتے ہوئے ایک بچھو نے سولہ مرتبہ آپ کو ڈس لیا۔ ہر دفعہ آپ کے چہرے کا رنگ متغیر ہوتا۔ لیکن وَلَا يَقْطَعُ حديثَ رَسُولُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث بغیر توقف کے بیان کرتے رہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر بیان کرتے ہوئے کوئی آواز نہیں لگائی۔ جب فارغ ہوئے تو میں نے پوچھا :

يَا اَبَا عَبدِ اﷲِ! قَد رَأَيْتُ مِنکَ اَليَومَ عَجَبَا.

’’اے ابو عبد اﷲ! آج آپ کا عجب حال دیکھا ہے۔‘‘

آپ کے چہرے کا رنگ زرد ہوگیا اور عجیب تکلیف کی کیفیت محسوس ہوئی مگر آپ نے حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روایت اور بیان کو منقطع نہیں کیا۔ کیا وجہ ہے؟ کہنے لگے : ’’عبد اللہ بن مبارک! سولہ مرتبہ بچھو نے مجھے ڈسا ہے۔‘‘ تو آپ اسے جھٹک دیتے؟ فرمایا :

اِنَّمَا صَبَرتُ اِجْلَالاً لِحَدِيْثِ رَسُولِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم.

قاضی عياض، الشفا : 526

’’لیکن میں نے حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمت و جلال کی بنا پر صبر کیا۔‘‘

14۔ ہشام بن غازی نے ایک مرتبہ راستے میں چلتے ہوئے امام مالک سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث پوچھ لی۔ امام مالک کے ہاتھ میں چھوٹی سی ایک چھڑی تھی۔ راستے میں کھڑے ہوئے آپ نے اس چھوٹی چھڑی سے بیس ضربیں ہشام بن غازی کو ماریں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث راستے میں چلتے ہوئے نہیں پوچھتے، یہ بے ادبی ہے۔ بیس ضربیں لگا کر پھر اس کو مناسب جگہ پر بٹھایا اور بدلے میں 20 حدیثیں سنائیں۔ ہشام بن غازی فرمایا کرتے تھے : میری خواہش تھی کہ مجھے ضربیں لگاتے جاتے اور حدیثیں سناتے جاتے۔

قاضی عياض، الشفا : 526

15۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ان کا ایک اونٹ تھا، ایک جگہ چٹیل میدان میں گھما رہے ہیں۔ کسی نے پوچھا : یہ کیا کر رہے ہیں؟ اُنہوں نے کہا : مجھے اور کچھ معلوم نہیں۔

إلا أنی رَأَيتُ رَسُولُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم فعله، ففعلته.

قاضی عياض، الشفا : 487، 488

سوائے اس کے کہ میں نے تو ایک دن دیکھا تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اونٹ کو یہاں اسی طرح چکر لگوا رہے تھے۔ بس میں تو یار کی ادا نبھا رہا ہوں۔ اور کوئی کام نہیں ہے۔

16۔ سونا مردوں کے لیے حرام ہے۔ آقا علیہ السلام نے ایک صحابی کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی دیکھی تو اُس کے ہاتھ سے چھین کر پھینک دی، بعد ازاں جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجلس سے تشریف لے گئے تو صحابی بھی اُٹھ کر چل پڑے۔ یعنی اُن کی اتباع میں بھی عشق تھا۔ کسی نے روک لیا، اور کہا کہ عورتوں کے لیے تو سونا حلال ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اُتار کر پھینکنے کا مطلب یہ تھا کہ تمہارے لیے حرام ہے۔ اُٹھا کر لے جاؤ اور جا کر بیوی کو دے دینا۔ اُس نے کہا کہ یہ مسئلہ مجھے بھی معلوم ہے کہ عورتوں کے لیے حلال ہے۔ مگر جس شے کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک بار نفرت سے پھینک دیا ہو میں اس کو ہاتھ بھی نہیں لگا سکتا۔

مسلم، الصحيح، کتاب اللباس والزينة، 3 : 1655، رقم : 2090

یہ تابعین کا عالم تھا اور تبع تابعین تسلسل کے ساتھ ان کے نقش قدم پر تھے۔ امت کا وہ تسلسل کہاں گیا؟ آج آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عشق اور محبت کو کچھ اور نام دیا جاتا ہے۔ یہ وہ وراثت اور میراث ہے جو اﷲ رب العزت نے پتھروں کے اندر، درختوں میں، جانوروں میں، شجر و حجر میں رکھی تھی۔ یہ میراث صحابہ کے ایمان کو ملی تھی۔ ان سے تابعین میں آئی۔ تبع تابعین میں آئی۔ امت میں جب تک ایمان زندہ و سلامت رہا اس عشق اور ادب و تعظیم کی انتہا کے ساتھ سلامت رہا۔ آج امت نے اپنا رشتہ اس سے کاٹ ڈالا ہے۔

آقا علیہ السلام کے عشق و محبت اور تعظیم کا یہ حال پیدا کرنے کے لئے امت کو اس رشتے کو دوبارہ بحال کرنا ہوگا۔ اس عقیدہ اس نسبت، اس فہم، اس شعور کو دوبارہ بحال کرنا ہوگا۔ ان کی اتباع میں بھی عشق و ادب مضمر ہے۔

یہ محبت کے پیمانے اور قرینے تھے۔ یہ ہر سال آقا علیہ السلام کا جو یومِ ولادت اور ماہ ربیع الاول اسی لیے آتا ہے کہ آقا علیہ السلام کے ساتھ اس نسبت کو پھر سے زندہ اور تازہ کیا جائے۔ اور وہ ٹوٹا ہوا عہد و پیمان جو اللہ نے انبیاء سے لیا تھا، پھر ان کی امتوں سے نبیوں نے لیا تھا، اور پھر حضور کی امت سے رب نے خود لیا :

فَالَّذِينَ آمَنُواْ بِهِ وَعَزَّرُوهُ وَنَصَرُوهُ وَاتَّبَعُواْ النُّورَ الَّذِي أُنزِلَ مَعَهُ أُوْلَـئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ.

الأعراف، 7 : 157

’’پس جو لوگ اس (برگزیدہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) پر ایمان لائیں گے اور ان کی تعظیم و توقیر کریں گے اور ان (کے دین) کی مدد و نصرت کریں گے اور اس نور (قرآن) کی پیروی کریں گے جو ان کے ساتھ اتارا گیا ہے، وہی لوگ ہی فلاح پانے والے ہیںo‘‘

ایک عہد اللہ تعاليٰ نے انبیاء کرام علیھم السلام سے لیا تھا میثاقِ رسالتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا؛ پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اُمت سے رب نے خود قرآن میں لیا کہ وہی لوگ فلاح پائیں گے جو میرے محبوب سے محبت کریں گے، ادب کریں گے، ان کی تعظیم و تکریم کریں گے اور میرے مصطفی کا حد سے بڑھ کر ادب کریں گے۔ اللہ پاک نے یہ جو عہد وپیمان لیا اس رشتہ محبت کو، رشتہ تعظیم و ادب کو، رشتہ اتباع کو آقا علیہ السلام کی پیروی کو مستحکم کرنے کے لئے ہر سال بدل بدل کہ جو یہ مہینہ آتا ہے یہ یاد دلاتا ہے کہ ہم اس رشتے کو دوبارہ زندہ اور تازہ کریں۔ امت بہت دور چلی گئی ہے۔ ہم دنیا میں، مال و دولت کمانے میں کھوگئے۔ دنیاوی جاہ و منصب میں کھوگئے۔ عیش و آرام میں کھوگئے۔ لطف و آسائش میں کھوگئے۔ جوں جوں دن آگے گزرتے جا رہے ہیں۔ ہمارے ایمان سے روحانیت نکلتی جا رہی ہے اور مادیت غالب تر ہوتی چلی جا رہی ہے۔ ہماری ترجیحات بدل گئی ہیں، ہم اپنی پوری زندگیاں دنیا کے عیش و آرام اور آسائش میں گنوا رہے ہیں اور جوں جوں مادیت چھا رہی ہے روحانیت کم ہو رہی ہے اور عشق و محبت ادب تعظیم و تکریم کا عقیدہ فنا ہو رہا ہے۔ نتیجتاً اللہ رب العزت کا لطف و کرم اس کے انعام و احسان بھی ہاتھ سے جا رہا ہے۔ اس کا وعدہ تو ان لوگوں کو کامیابی، کامرانی، ابدی عزت اور فلاح دینے کا ہے جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت تعظیم و تکریم اور اتباع کا حق ادا کریں گے۔ اگر ہم اپنا حق ادا نہیں کرتے تو پھر اللہ رب العزت کا وعدہ تو ہمارے ساتھ نہیں رہے گا۔

حرفِ آخر

آج پھر ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم پلٹ کر اس نسبت کو زندہ اور تازہ کریں۔ ہم چاہے جس دنیا میں بھی رہیں مگر روحیں چودہ سو سال قبل حضور کی اس دنیا میں چلی جائیں۔ وہ رنگ و سلیقہ و قرینہ ادب کا عشق کا، پلٹا کے دوبارہ لے آئیں جو ابو بکر، عمر، عثمان، علی رضی اللہ عنہم نے دنیا کو دکھایا جو تابعین تبع تابعین ائمہ و اولیاء کا صلحاء اور پندرہ صدیوں سے اکابرین اور اسلاف اور اولیاء کارہا ہے۔

ہر چیز نئی اچھی ہے۔ گاڑی نئے ماڈل کی آجائے اور سہولت ہو تو بے شک لے لیں۔ نئے گھر، نئی نئی تکنیک، نئے نئے تعمیراتی ڈیزائن لے لیں، کوئی گناہ نہیں۔ ہر حلال چیز سے حلال طریقے سے آپ استفادہ کریں۔ تعلیم جتنی نئی ملے لے لو، ٹیکنالوجی نئی لے لو۔ کپڑے نئے نئے لے لو۔ گھر بار، سفر کی سہولتیں، ہر چیز بشرطیکہ وہ حلال ہو، لے لو۔ جدید سے جدید تر لے لو، کوئی مضائقہ نہیں، مگر ایمان و عقیدہ کبھی نیا نہ لو، وہی پرانا رکھو۔ زندگی کی ہر آسائش نئی مگر عقیدہ اور ایمان پرانا، اور جتنا پرانا رکھو گے اتنا اعليٰ، اتنا قیمتی ہوگا۔ اس میں اتنا نور، اتنی روشنی، اتنی کشش ہوگی، عقیدہ نیا نہ لو۔ ہر نیا عقیدہ فتنہ ہے، ہر نیا عقیدہ بدعت ہے ہر نیا عقیدہ گمراہی اور ضلالت ہے اور ہر نیا عقیدہ دہلیز مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دور لے جا رہا ہے۔

ہرشے کو عقل کے پیمانے پر قبول کرو، ہر علم سے، ہر ٹیکنالوجی سے، ہر فکر سے، ہر تحقیق سے، ہر شے سے عقل کا تعلق اور رشتہ رکھو۔ مگر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں عقل کا چراغ کبھی نہ جلاؤ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تعلق دل کا رکھو عقل کا نہیں۔ وہاں جھکے رہو، عاشق لوگ محبوب کی باتوں کو عقل کے پیمانے پر نہیں پرکھتے۔ جہاں عقل کا دخل ہوا وہاں تنقید آتی ہے، جہاں تنقید آئی وہاں ایمان گیا۔ اللہ رب العزت نے سورۃ البقرۃ کی آیت نمبر 3 میں پہلا سبق ہی یہ دیام : يُؤْمِنُوْنَ بِالْغَيْبِ یعنی بن دیکھنے والے ماننے والے ایمان دار۔ اور بن دیکھے ماننا عشق کا شیوہ ہے عقل کا شیوہ نہیں۔

آقا علیہ السلام سے تعلق، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کی اتباع کرو بغیر عقل کے، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عشق میں غرق ہو جاؤ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کی اتباع کرو۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کرو عشق کے طریق سے۔ ادب اور تعظیم کرو۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جس جس شے کو نسبت ہے اس کا ادب کرو۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی محبت ایمان ہے اور ان کا ادب و تعظیم واجب ہے، صرف اس لیے کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جان نثار ہیں، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب ہیں۔ اہل بیت اطہار کی محبت ایمان ہے، اس لیے کہ حضور نے کندھوں پر حسن و حسین علیہ السلام کو اٹھایا اور کھلایا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو ان سے محبت کرے گا وہ مجھ سے محبت کرے گا۔ (1) ہر شے کی نسبت حضور سے ہے۔

(1) 1. أحمد بن حنبل، المسند، 2 : 400، رقم : 9671

2. حاکم، المستدرک، 3 : 182، رقم : 4777

حرمین سے محبت ہے تو اس لیے کہ حضور کا وطن ہے۔ آقا نے ان نسبتوں کا لحاظ رکھا ہے۔ سارے شہر خدا کے، مگر کیوں کہ آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن جب میں اٹھوں گا تو میرے ساتھ سب سے پہلے اہل جنت بقیع اٹھیں گے؟ پھر اہل مکہ اٹھیں گے۔ پھر دنیا اٹھے گی۔ یعنی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جو اَبدی آرام کر رہے ہیں، پہلے مدینہ والے اٹھیں گے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : باری تعاليٰ! ہمارے لیے مدینے کی محبت مکہ سے بھی زیادہ کر دے۔ یہ صحیحین بخاری، مسلم کی حدیث ہے۔

  1. بخاری، الصحيح، کتاب الحج، 2 : 667، رقم : 1790
  2. مسلم، الصحيح، کتاب الحج، 2 : 994، رقم : 1369

فرمایا : باری تعاليٰ! ہمارے لیے مدینہ کی محبت مکہ جیسی، اور پھر فرمایا : اس سے بھی زیادہ کردے۔ شدید تر کر دے مدینہ کی محبت مکہ سے زیادہ۔ کیوں؟ اس لیے کہ وہاں خدا کا گھر ہے، اور یہاں خدا کے مصطفی کا در ہے۔ گھر خدا کا وہاں ضرور ہے مگر خدا کی محبت کا مرکز و محور بھی مصطفی کا در ہے۔ اس لیے جہاں حضور آرام فرما ہیں لاکھ کعبے بھی اس خطہ زمین پر قربان ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی دعا کی : باری تعاليٰ! مدینہ کی برکت کو بڑھا دے۔ اور حدیث پاک میں ہے، بخاری و مسلم کی متفق علیہ حدیث ہے، اتنی بڑھا دے کہ مکہ کی برکت سے بھی دوگنا کر دے۔

اس فضیلت کا جو فرق رکھا اس کا مدار کیا ہے؟ حج تو مکہ میں ہوتا ہے، مدینہ کی زیادہ برکت کیوں؟ محبت مدینہ کی زیادہ کیوں؟ سوائے اس کے کیا کوئی اور سبب ہے کہ مدینہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مسکن ہے اور مدفن ہے۔ اس لیے آقا علیہ السلام نے یہ بھی فرمایا کہ قیامت کے دن ساری دنیا کا ایمان سکڑ کر مدینہ میں آ جائے گا۔ (1) جیسے سانپ ہر طرف سے بھاگ کر اپنے بل میں جا کر چھپ جاتا ہے (2) اور محفوظ ہو جاتا ہے۔ جب پوری دنیا پر ایک وقت آئے گا کفر چھا جائے گا تو ایمان سکڑ کر مدینہ میں آ جائے گا۔

(1) بخاری، الصحيح، کتاب فضائل المدينة، 2 : 663، رقم : 1777
(2) مسلم، الصحيح، کتاب الايمان، 1 : 131، رقم : 147

آقا علیہ السلام نے بار بار ان چیزوں کی نشان دہی کی اور فرمایا :

مَا بَينَ منبري وروضتي روضة من رياض الجنة.

بخاری، الصحيح، کتاب الجمعة، 1 : 399، رقم : 1138

میرے گھر - جہاں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر انور ہے، مزار اقدس - اور میرے منبر کے درمیان جنت کا باغ ہے۔ یہ ساری باتیں اس دوسرے شہرکے لیے تو نہیں کہی۔ جو بیت اللہ اور مسجد الحرام، مسجد حرام کا شہر ہے۔ حج وہیں ہے۔ مگر آقا علیہ السلام کی رغبتیں، جب مدینہ آ گئے تو ساری محبتیں مدینہ میں سما گئیں۔ یہ اشارہ اُمت کو ایک سمتِ محبت دینے کے لئے تھا کہ مکہ سے محبت بھی اسی کی معتبر ہوگی جس کی کثرت کے ساتھ محبت مدینہ سے ہو۔

مدینہ کے بارے میں آقا علیہ السلام نے فرمایا : جس نے اہل مدینہ کے ساتھ برائی کا ارادہ رکھا، وہ دوزخ کی آگ میں اس طرح پگھل جائے گا جس طرح نمک پانی میں پگھل جاتا ہے۔

مسلم، الصحيح، کتاب الحج، 2 : 992، رقم : 1363

یہ اہل مدینہ کا اعزاز ہے۔ یعنی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سمت محبت سکھا رہے ہیں آقا علیہ السلام کا ارشاد ہے : اے میرے امتیو! تمہاری محبت کا رخ یہ ہونا چاہیے، کہ محبت اور عشق کی سمت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدم ہوں، مصطفی کی جگہ اور ذات ہو۔ اگر یہ محبت نصیب ہوگئی تو اس کے صدقے کعبہ کی محبت بھی نصیب ہو جائے گی۔ اسلام کی محبت، دین کی محبت اور ایمان کی محبت بھی مل جائے گی۔ اس رشتے کو دوبارہ زندہ کر لیں، پھر اپنی نسلوں میں اپنی اولادوں کو سکھائیں، یہ وراثت ان کو منتقل کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم بہت بڑی غلطی کرتے ہیں کہ ان کو بچپن میں نظر انداز کرتے رہتے ہیں اور جب عمر کے اس حصے میں جا پہنچتے ہیں تو وہ نئی بات سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہوتے تو پھر ہم شکوہ کرتے ہیں۔ اس شیوہ ایمان کو خود بھی اپنائیں اور اپنی اولادوں کو یہ ساری وراثت منتقل کریں۔ تب جا کے ہم اس قابل ہوں گے کہ آقا علیہ السلام کی بارگاہ میں جب قیامت کے دن پیش ہوں تو سرخ رُو ہو سکیں۔

اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی سَيِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِهِ وَصَحْبِهِ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ.

Copyrights © 2020 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved