عالم ارواح کا میثاق اور عظمت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

پیش لفظ

وجہ تخلیقِ کائنات حضور ختمی مرتبت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بندہ مومن کے تعلقِ حُبّی کے بارے میں شریعت کے صریح احکامات موجود ہیں۔ صحیح حدیثِ مبارکہ میں ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ‘‘کوئی شخص اُس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اُسے اُس کے والدین، اُس کی اولاد اور تمام لوگوں سے بڑھ کر محبوب نہ ہو جاؤں۔ ’’ یہی اَصلِ ایمان ہے کہ روحِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اِنتہا درجے کا تعلقِ عشقی رکھا جائے۔ ربِ کائنات نے کائنات کے آغاز سے ہی تمام مخلوقات پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمت و رِفعت، شان و شوکت اور اعلیٰ مقام و مرتبت کو واضح کر دیا تھا۔ اِس پر قطعی دلیل وہ میثاقِ انبیاء ہے جس میں تمام انبیاء کرام سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت پر ایمان لانے کا عہد لیا گیا۔

اِقامت و اِحیاے دین کا دار و مدار ایمان پر اور پھر کامل ایمان کا اِنحصار حضور تاجدارِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عشق و محبت اور انتہا درجہ کی تعظیم و تکریم پر ہے۔ اگر ہم صحابہ کرامث کے شب و روز کا مطالعہ کریں تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاںہوجاتی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اُن کا جو تعلقِ عشقی تھا اُس نے خود ہی محبت و تعظیمِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آداب سکھا دیے تھے۔ صحابہ کرام ث ہر شان و شوکت اور بڑائی کی نسبت حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف ہی کرتے تھے۔ جس سے صحابہ کرام ث کے عقیدہ کا پتہ چلتا ہے کہ وہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کسی بھی مساوات اور مماثلت کے قائل نہ تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بے مثل مانتے تھے۔

اگر ہم تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ عشق و محبتِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ تسلسل صحابہ کرام ث سے لے کر تابعین، تبع تابعین اور اکابر ائمہ تک جاتا ہے۔ اَسلاف و اَخیار کے ادب و تکریمِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ حال تھا کہ ذکرِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سنتے ہی اُن کی آنکھیں چھم چھم برسنے لگتیں، اور وہ اتنا روتے کہ لوگ عیادت کے لیے آتے۔ بڑے بڑے اکابر ائمہ و اولیاء کرام جو اپنی معمول کی زندگی میں کثیر التبسم، انتہائی خوش مزاج اور ظریف الطبع تھے وہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عشق و محبت میں نہایت حزیں اور مغموم ہو جاتے۔

تحریکِ منہاجُ القرآن ایک رسول نما تحریک ہے۔ اس کے قائد شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری مدّ ظلّہ العالی ہمیشہ سے قرآن و حدیث کے مطابق صحیح عقائد کے اِحیا و اِبلاغ میں مصروفِ عمل ہیں۔ عالمی میلاد کانفرنس 2008ء کے موقع پر ہونے والے اِس خطاب میں شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری مدّ ظلّہ العالی نے میثاقِ انبیاء علیھم السلام سے لے کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور بعد کے اکابر اسلاف، پھر حیوانات، نباتات اور جمادات کا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حُبّی و عشقی تعلق بیان کر کے اُمتِ مسلمہ کو پیغام دیا ہے کہ اگر اُمت چاہتی ہے کہ اُن پر اﷲ تعالیٰ کا لطف و کرم اور احسان و اکرام ہو اور وہ پھر سے ترقی و کامیابی سے ہمکنار ہوں توضروری ہے کہ اَسلاف کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے سینے میں عشق و محبتِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چراغ فروزاں کیے جا سکتے ہیں۔ وہ ٹوٹا ہوا میثاق، جو اﷲ تعالیٰ نے انبیاء علیھم السلام سے لیا، اُنہوں نے اپنی اپنی اُمتوں سے اور رب تعالیٰ نے خود حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اُمت سے لیا، اُس کو جوڑا جائے۔ ہر سال آقا علیہ السلام کا یوم ِولادت اور ماہ ربیع الاول اِسی لئے آتا ہے کہ ادب و تعظیم اور تکریمِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وہ میراث جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ملی تھی، اُن سے تابعین میں منتقل ہوئی اور پھر دیگر ائمہ اور اسلاف کو حاصل ہوئی وہ ہمیں بھی نصیب ہو اور اُمتِ مسلمہ کا کھویا ہوا وقار بحال ہو۔ اﷲ تعالیٰ ہمیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حقیقی عشق اور لازوال محبت عطا فرمائے۔ (آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )

(محمد فاروق رانا)
ڈپٹی ڈائریکٹر رِیسرچ

Copyrights © 2020 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved