نماز

قضائے عمری

مقررہ اوقات میں پڑھی جانے والی نماز ادا کہلاتی ہے جب کہ وقت گزرنے کے بعد پڑھی جانے والی نماز قضا کہلاتی ہے۔ اگر کسی شخص کی بہت سی نمازیں قضاہو چکی ہوں جن کے بارے میں اسے علم نہ ہو کہ کس وقت کی نمازیں زیادہ قضا ہوئیں اور کس وقت کی کم تو اسے چاہیے کہ اوقاتِ ممنوعہ کے علاوہ بقیہ اوقات میں ان نمازوں کو ادا کرے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ نوافل و سنن کی بجائے صرف فرض اور واجب رکعتیں ادا کرے۔ اسی کو قضاے عمری کہتے ہیں۔

بعض لوگوں میں یہ مغالطہ پایا جاتا ہے کہ رمضان کے آخری جمعہ کو ایک دن کی پانچ نمازیں مع وتر پڑھ لی جائیں تو ساری عمر کی قضا نمازیں ادا ہو جائیں گی. یہ قطعاً باطل خیال ہے۔ رمضان کی خصوصیت، فضیلت اور اجر و ثواب کی زیادتی اپنی جگہ لیکن ایک دن کی قضا نمازیں پڑھنے سے ایک دن کی ہی نمازیں ادا ہوں گی، ساری عمر کی نہیں۔

اگر کسی شخص نے بلوغت کے کافی عرصہ گزر جانے کے بعد نمازپڑھنا شروع کی ہو یا کبھی پڑھتا ہو اور کبھی چھوڑ دیتا ہو تو اس پر لازم ہے کہ زندگی سے متعلقہ ضروری کاموں کے علاوہ سب کام چھوڑ کر نمازوں کی قضا شروع کر دے۔ وہ اس وقت تک قضاء نمازیں ادا کرتا رہے جب تک اس کے غالب گمان کے مطابق تمام قضا نمازیں ادا نہ ہو جائیں۔ اگر کوئی شخص ایسا نہ کرسکے تو اس سے کم درجہ یہ ہے کہ ہر نماز کے ساتھ ایک یا جس قدر ممکن ہو، قضا نماز پڑھتا رہے۔

قضا نماز کی معافی

حالتِ جنون یا مرض (جس میں اشارہ سے بھی نماز نہ پڑھی جا سکے) مسلسل چھ نمازوں کے وقت میں رہا یا جو شخص معاذاﷲ مرتد ہو گیا پھر اسلام لایا تو زمانہ اِرتداد کی نمازیں، ان تمام صورتوں میں نماز کی قضا نہیں ہوگی، یہ نمازیں معاف ہیں۔

سفر میں قضا ہونے والی نماز کی ادائیگی

اگر کسی کی نمازیں سفر میں قضا ہوگئیں تو گھر پہنچ کر بھی چار رکعت والی نمازوں (ظہر، عصر اور عشاء) کی دو دو رکعتیں قصر کے ساتھ قضا پڑھے۔ اور اگر سفر سے پہلے ان میں سے کوئی نماز قضا ہو گئی تھی تو سفر کی حالت میں چار رکعتیں قضا پڑھے (اور دونوں صورتوں میں عشاء کے تین وتر بھی پڑھے)۔

Copyrights © 2024 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved